کلامِ دسمبر کی ایسی کی تیسی

اردو شاعری

(سچے عاشقوں سے معذرت کے ساتھ)

کلامِ دسمبر کی ایسی کی تیسی
اور اس کے سخن ور کی ایسی کی تیسی

دسمبر کے اندر کی ایسی کی تیسی
دسمبر کے باہر کی ایسی کی تیسی

یہ چخ چخ اگر میں نے دوبارہ سن لی
تو قندِ مکرر کی ایسی کی تیسی

جو گرما میں حاضر ہو سرما میں چمپت
اس آوارہ دلبر کی ایسی کی تیسی

اسی ماہ محبوبہ بھاگی سبھی کی
تمھارے مقدر کی ایسی کی تیسی

محرم میں کرنا جو کرنا ہے ماتم
دسمبر میں ٹرٹر کی ایسی کی تیسی

ق

دعا ہے بدل جائے محور زمیں کا
اس اب والے محور کی ایسی کی تیسی

ہر اک سال راحیلؔ *اپریل دو ہوں
دسمبر کے چکر کے ایسی کی تیسی

۱۲ دسمبر ۲۰۱۶ء

* اپریل مصنف کا ماہِ پیدائش ہے۔

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ