ہم نہائیں تو کیا تماشا ہو

29 جنوری 2017 ء

(ساغرؔ صدیقی کی اور اپنی روح سے معذرت کے ساتھ)

ہم نہائیں تو کیا تماشا ہو
مر نہ جائیں تو کیا تماشا ہو

غسل خانے میں ٹھنڈے پانی میں
مسکرائیں تو کیا تماشا ہو

نام اللہ کا لے کے گھس تو گئے
نکل آئیں تو کیا تماشا ہو

بے حجابانہ با حجابانہ
ہل ہی پائیں تو کیا تماشا ہو​

ناچ اٹھیں یار دوست اور ہم بھی
کپکپائیں تو کیا تماشا ہو

پھر نہانے سے فرق بھی ایسا
کچھ نہ پائیں تو کیا تماشا ہو

باہر آ کر تری غزل راحیلؔ
گنگنائیں تو کیا تماشا ہو

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ