تجھے دل میں چھپائے پھرتا ہوں

اردو شاعری

تجھے دل میں چھپائے پھرتا ہوں
سینہ مسجد بنائے پھرتا ہوں

نہ کریدو کہ مختصر نہیں بات
داستانیں چھپائے پھرتا ہوں

کچھ تو منکر نکیر جانے بھی دیں
بوجھ بھی تو اٹھائے پھرتا ہوں

میں نے کب بندگی کا وعدہ کیا
میں مکرتا ہوں ہائے پھرتا ہوں

میں کہاں میں رہا ہوں اب لوگو
خود کو خود سا بنائے پھرتا ہوں

دل کہاں رہ گیا ہے سینے میں
آگ سی اک لگائے پھرتا ہوں

وہی نکلی ہے داستاں سب کی
میں جو اپنی بنائے پھرتا ہوں

بھولنے والے وہ نہیں راحیلؔ
انھیں عمداً بھلائے پھرتا ہوں

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ