جذبہ ان کا پیام ہے گویا

10 اپریل 2019 ء

جذبہ ان کا پیام ہے گویا
دل علیہ السلام ہے گویا

ایک چپ صبح و شام ہے گویا
خامشی خود کلام ہے گویا

مقتدی خود امام ہے گویا
عشق میرا ہی نام ہے گویا

تنگ دستی میں ہوں کشادہ دل
یہ مرا انتقام ہے گویا

ہم تو مرنے کے انتظار میں تھے
زندہ رہنا بھی کام ہے گویا

کعبہ سے قبر تک فقط مٹی
مرجعِ خاص و عام ہے گویا

بولتی بند کیجیے دل کی
ورنہ ترکی تمام ہے گویا

کُن تو ہم نے سنی نہیں راحیلؔ
شعر میں وہ دوام ہے گویا

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

اردو شاعری

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!