در سے جو دار تک نہیں پہنچا

اردو شاعری

در سے جو دار تک نہیں پہنچا
تیری سرکار تک نہیں پہنچا

اس گنہگار تک نہیں پہنچا
نور بھی نار تک نہیں پہنچا

اشک رخسار تک نہیں پہنچا
ابر گلزار تک نہیں پہنچا

میرے اشعار تک نہیں پہنچا
شاہ شہکار تک نہیں پہنچا

زلزلے آ گئے لبوں پہ مگر
عشق اظہار تک نہیں پہنچا

شہر خاموش ہو گیا لیکن
شور سردار تک نہیں پہنچا

شاید امید نے فریب دیا
غم خریدار تک نہیں پہنچا

حسن کی قیمتیں بلند سہی
عشق بازار تک نہیں پہنچا

پاؤں میں اس نے رول دی جس کا
ہاتھ دستار تک نہیں پہنچا

دشت پر دشت طے کیے دل نے
در و دیوار تک نہیں پہنچا

عشق اس تک پہنچ گیا راحیلؔ
اس کے اسرار تک نہیں پہنچا

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ