سینائے بام سے جو صدا دی گئی ہمیں

11 اکتوبر 2018 ء

سینائے بام سے جو صدا دی گئی ہمیں
ایک آگ تھی کہ رات دکھا دی گئی ہمیں

وہ چاہتے تو پھول بھی ایسے گراں نہ تھے
کانٹے بچھا کے راہ سجھا دی گئی ہمیں

کیا عشق میں وصال گناہِ کبیرہ ہے
پھر ہجر کی وعید سنا دی گئی ہمیں

واعظ تری بہشت کا نقشہ ہے ہوبہو
شاید تری شراب پلا دی گئی ہمیں

اچھا تو ہر خطا کی سزا آخرت میں ہے
آخر یہ کس خطا کی سزا دی گئی ہمیں

جس چیز کی تھی چاہ تڑپ بن کے رہ گئی
جو شے طلب نہ کی تھی وہ لا دی گئی ہمیں

یہ درد یہ ملال یہ آزردگی یہ حال
قیمت ہمارے دل کی چکا دی گئی ہمیں

پہلے بھی سر طبیب پٹکتے رہے تھے لاکھ
جب دی گئی شفا تو دوا دی گئی ہمیں

راحیلؔ شکریہ بھی نہیں شکر چاہیے
نیکی وہ کیا تھی جو نہ جتا دی گئی ہمیں

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!