سیلاب ہی سیلاب ہیں ساحل نہیں رکھتے

19 جولائی 2018 ء

سیلاب ہی سیلاب ہیں ساحل نہیں رکھتے
ہم درد تو رکھتے ہیں مگر دل نہیں رکھتے

آوارہ مزاجوں کو فقیروں کی دعا ہے
منزل نہیں رکھتے غمِ منزل نہیں رکھتے

کشکول نہ شایاں سہی دہلیزِ حرم کے
کیا کاسۂِ سر بھی ترے سائل نہیں رکھتے

آنکھوں ہی سے وہ کھینچتے ہیں دل کی طنابیں
بازو مری گردن میں حمائل نہیں رکھتے

لیلٰی کی طرح چھپ کے تماشا نہیں کرتے
پردے کی طرح پردۂِ محمل نہیں رکھتے

ہر جوہرِ قابل کو وہ سرکار میں اپنی
رکھتے ہیں مگر پھر کسی قابل نہیں رکھتے

راحیلؔ میاں شمع نہیں شعلہ ہیں شعلہ
محشر تو بپا رکھتے ہیں محفل نہیں رکھتے

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!