عاشق گلہ کرے تو کرے کیوں سماج کا

اردو شاعری

عاشق گلہ کرے تو کرے کیوں سماج کا
خود کام کا نہ کاج کا دشمن اناج کا

لت شاعری میں پڑ گئی ہے اقتدار کی
ورنہ ہمیں دماغ کہاں تخت و تاج کا

چارہ گراں امید کا دامن نہ چھوڑیے
بیمار کو تو چاؤ بہت تھا علاج کا

مجھ کو تو آب و ناں ہی بہت ہے جہاں پناہ
پیاسا ہوں خون کا نہ میں بھوکا خراج کا

جو جی میں آئے ہانکیے جدت کے نام پر
کچھ ذوق سے نہیں ہے تعلق رواج کا

کہنے کو آج ہجر سہا کل وصال ہے
راحیلؔ اختیار نہ کل کا نہ آج کا

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ