دل کی تکرار پہ تکرار نہیں کر پائے

16 اپریل 2021 ء

دل کی تکرار پہ تکرار نہیں کر پائے
تم نے مانگا تو ہم انکار نہیں کر پائے

توڑنا دل کا کوئی کھیل نہیں بچوں کا
وہ کیا تم نے جو اغیار نہیں کر پائے

شیخ صاحب نے بڑی داد تو منصور کو دی
پر یہی بات سرِ دار نہیں کر پائے

عرضِ حال اس سے زیادہ تو نہ ہو پائے گی
نہیں کر پائے تو سرکار نہیں کر پائے

تم نے ہر بات میں وہ بات سمجھ لی ہو گی
ہم تو وہ بات بھی دلدار نہیں کر پائے

آنکھ والوں کو ہے دیدار نہ ہونے کا گلہ
آنکھ والے ہی تو دیدار نہیں کر پائے

رند مسجد سے نکالے گئے رسوا کر کے
ایک ہی سجدہ کئی بار نہیں کر پائے

ہم ترے سامنے رہنے کے تمنائی تھے
ہم ترے سامنے اصرار نہیں کر پائے

کر لیا دل نے ہمیں مرنے پہ تیار مگر
دل کو ہم جینے پہ تیار نہیں کر پائے

یہی مقطع ہے کہ راحیلؔ غزل ختم ہوئی
اعتراف اب بھی مگر یار نہیں کر پائے

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!