ہاتھ جس کام میں ڈالیں برَکت ہوتی ہے

اردو شاعری

ہاتھ جس کام میں ڈالیں بَرَکَت ہوتی ہے
یہ ہمارے ہی رقیبوں کی صِفَت ہوتی ہے

آپ سودا گری آسان سمجھتے ہوں گے
حسن والوں کو رعایات کی لت ہوتی ہے

مٹھی بھر قبر کی مٹی کے سوا کیا دو گے
خاک ہی خاک نشینوں کی دِیَت ہوتی ہے

ایسے زندان کو زندانِ وفا کہتے ہیں
بیڑی ہوتی ہے نہ پیروں میں سکت ہوتی ہے

اس کی عریانئِ مطلق کی تمنا ہے ہمیں
جس کا پردہ بھی تجلی کی پَرَت ہوتی ہے

میں نے پائے ہیں غلامی سے جو آقا وہ تو دیکھ
کسی بیوپار میں کب اتنی بچت ہوتی ہے

ہائے ہم کیوں ترے کوچے کو پکاریں جنت
اس طرح کی تو فقیہوں کی لُغت ہوتی ہے

کس رفو گر سے ہے  نسبت ترے دل کو راحیلؔ
تیرے شعروں کی جدا سب سے بُنت ہوتی ہے

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ