سمجھے گا سوچ کر کیا جو دیکھ کر نہ سمجھا

7 جنوری 2021 ء

سمجھے گا سوچ کر کیا جو دیکھ کر نہ سمجھا
ہستی کو فلسفی نے سمجھا مگر نہ سمجھا

دل نے کبھی ضروری زادِ سفر نہ سمجھا
صحرا کو کیا سمجھتا جب گھر کو گھر نہ سمجھا

سمجھا کہ کچھ نہ سمجھا کچھ بھی نہ ورنہ سمجھا
عاقل ہے عقل کو بھی جو معتبر نہ سمجھا

صورت بتا رہی ہے جو تو چھپا رہا ہے
میں سب سمجھ رہا ہوں اے نامہ بر نہ سمجھا

اکیسویں صدی ہے اور آدمی دکھی ہے
لعنت ہے اس سمجھ پر اب بھی اگر نہ سمجھا

اب کیا گلہ کہ کوئی اہلِ نظر نہیں ہے
اہلِ نظر کو تو نے اہلِ نظر نہ سمجھا

پہنچی تو تھی حدیثِ حیرت شعور تک بھی
وہ بے خبر نہ سمجھا وہ بے خبر نہ سمجھا

کچھ ناسمجھ تھے ہم بھی کچھ وہ بھی تھا سمجھدار
سمجھاتے رہ گئے ہم دل عمر بھر نہ سمجھا

راحیلؔ شاعری میں نشتر سی بن گئی ہیں
جن خود کلامیوں کو تم نے ہنر نہ سمجھا

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ
عید مبارک - اردو گاہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!