جہاں نیک نامی کی حد ہو گئی

اردو شاعری

جہاں نیک نامی کی حد ہو گئی
سمجھ، تشنہ کامی کی حد ہو گئی

روا نا روا میں پھنسے رہ گئے
غلامو! غلامی کی حد ہو گئی

اُدھر ذرہ ذرہ ہوا آفتاب
اِدھر ناتمامی کی حد ہو گئی

وہی ایک خامی جنوں کی رہی
اور اس ایک خامی کی حد ہو گئی

فغاں قریہ قریہ، غزل شہر شہر
پریشاں کلامی کی حد ہو گئی

صبا ہو گئی قاصدوں میں شمار
شگفتہ پیامی کی حد ہو گئی

بہت راہ دیکھا کیے منتظر
تری خوش خرامی کی حد ہو گئی

خفا کس سے راحیلؔ صاحب نہیں؟
مزاجِ گرامی کی حد ہو گئی

پس نوشت: یہ غزل زار میں شامل تھی اور نظر ثانی کے بعد دوبارہ یہاں پیش کی گئی ہے۔

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ