عشق ہارا مگر لڑا تو سہی

7 نومبر 2010 ء

عشق ہارا مگر لڑا تو سہی
نہ سہی بامراد تھا تو سہی

اس کے بارے میں سوچتا ہوں میں
میرے بارے میں سوچتا تو سہی

کچھ نہ دیکھا ہو دہر میں لیکن
یارِ دل دار کی جفا تو سہی

تیری باتوں سے کیا مراد نہ لوں
بولنے والے کچھ بتا تو سہی

جانِ راحیلؔ میں جیا نہ جیا
عشق زندہ ہے دیکھنا تو سہی

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!