بات جب تک سنی نہیں جاتی

5 جنوری 2021 ء

بات جب تک سنی نہیں جاتی
ہو نہیں سکتی کی نہیں جاتی

قبر میں زندگی نہیں جاتی
بےوفا ساتھ بھی نہیں جاتی

آپ آتے ہیں آپ جاتے ہیں
آپ کی دلبری نہیں جاتی

عشق میں جان دی تو جاتی ہے
عشق میں جان لی نہیں جاتی

جانے والے تو جا چکے کب کے
ان کی امید ہی نہیں جاتی

یاد آئے تو اس کی کیوں آئے
نہیں جاتی کبھی نہیں جاتی

گو مسیحا جِلائے جاتا ہے
زندگی ہے کہ جی نہیں جاتی

جان جاتی ہے عشق کی راحیلؔ
حسن کی بے رخی نہیں جاتی

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ