فسانۂ عجائب

مجلسِ برقی اشاعتِ ادبیاتِ عالیہ

بسلسلۂ اردو ادبِ عالیہ

فسانۂ عجائب

فہرست

آغازِ کتاب

فسانۂ عجائب
(دوسرا حصہ: شگوفۂ محبت)

 

مقدمہ

 

از مخمور اکبرآبادی

 

فسانۂ عجائب جس کے مصنف مرزا رجب علی بیگ سرورؔ تھے، اردو زبان کی ایک نہایت مشہور و معروف کتاب ہے۔ ہر چند یہ کتاب اُس طرز تحریر کا ایک مکمل نمونہ ہے جس کی بنیاد محض آوُرد اور تصنّع پر قائم ہے اور جس کے موضوع میں بھی کوئی خاص دلکشی نہیں مگر آج تک یہ کتاب نہایت مقبول ہے اور باوجود اُن تمام باتوں کے جو بظاہر معائب معلوم ہوتی ہیں، اس کتاب کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ باتیں جو عام نظروں کو معائب معلوم ہوتی ہیں ایک نقّادِ سخن کے نزدیک معائب نہیں بلکہ ان میں سے ہر ایک اپنے اندر ایک تاریخی خصوصیت پنہاں رکھتی ہے۔

فسانۂ عجائب کی اصلی اہمیت اردو زبان کی تاریخ کے سلسلہ میں معلوم ہوتی ہے۔ اس زبان نے موجودہ حالت تک پہنچنے کے لیے مختلف مدارج طے کیے ہیں اور ان میں ہر درجہ اپنے مقام پر ایک مستقل حیثیت رکھتا ہے اور ارتقائے زبان کا مطالعہ کرنے والوں کے لیے بیش از بیش دلچسپیوں کا حامل ہے۔ ہر ایسے عہد کو جس کی زبان گذشتہ عہد کی زبان سے مُمَیَّز کی جا سکے ارتقا کی ایک کڑی کہا جاتا ہے اور ان تمام کڑیوں کے مجموعہ کا نام تاریخ ہے؛ اگر ایک بھی کڑی کھو جائے یا اس کی بابت پورے حالات مہیا نہ ہو سکیں تو تاریخ نا مکمل رہ جائے گی۔ چنانچہ اردو کی تدریجی ترقیوں کے زمانہ میں ایک وقت ایسا بھی گذرا ہے جب فارسی کا بہت چرچا تھا اور اہل علم اردو میں تصنیف و تالیف حتی کہ مراسلت کرنا بھی اپنے لیے باعث لذت سمجھتے تھے۔ آخر جب اردو کی جانب میلان ہوا تو نثر مقفیٰ اور دوسری قسم کی نثروں کو جس میں نثر معریٰ شامل نہ تھی اظہار خیال کا وسیلہ قرار دیا۔ رفتہ رفتہ یہ طرز تحریر باوجود نہایت محدود و مصنوعی ہونے کے نہ صرف رائج بلکہ مقبول ہو گیا۔ سرور نثر مُقفّیٰ کے بہترین لکھنے والے تھے اور فسانۂ عجائب ان کا شہ پارہ خیال کیا جاتا ہے۔ تاریخی حیثیت سے اس کتاب کی نہایت عزت کی جاتی ہے مگر اس سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ صرف یہی ایک سبب اس کے اعزاز کا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کتاب ادبی محاسن کا ایک مجموعہ ہے، جن کی ساری خوبیوں کو تفصیل کے ساتھ ظاہر کرنے کے لیے ایک مستقل تصنیف کی ضرورت ہے۔

سرور کے والد کا نام مرزا اصغر علی بیگ تھا اور وہ ایک نہایت معزز خاندان کے ایک فرد تھے۔ سرور کا سنہ پیدائش ۱۲۰۱؁ھ یا ۱۲۰۲؁ھ خیال کیا جاتا ہے سرور کے وطن کے متعلق بڑا اختلاف ہے۔ زیادہ لوگوں کا فیصلہ تو یہی ہے کہ سرور لکھنؤ کے باشندے تھے مگر واقعہ اس کے خلاف ہے۔ سرور کی تصانیف میں اس قسم کی شہادت موجود ہے کہ وہ لکھنؤ کے باشندے نہیں تھے اس لیے ظاہر ہے کہ ان کا آبائی وطن اکبر آباد تھا۔ چونکہ یہ مقام اس بحث کے لیے مناسب نہیں ہے اس لیے صرف یہ بتا کر کہ سرور کا وطن آگرہ تھا، یہ بات ختم کی جاتی ہے۔ سرور فارسی اور عربی میں دستگاہ کامل رکھتے تھے اور ان کی تربیتِ ذوق لکھنؤ کی رنگین و ادبی فضا میں ہوئی تھی۔ شاعری کی طرح سرور کو خطاطی میں بھی کمال حاصل تھا اور اس فن میں وہ محمد ابراہیم کے شاگرد تھے جن کا ذکر فسانۂ عجائب میں نہایت عزت کے ساتھ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سرور کو موسیقی کے علم و فن دونوں شعبوں میں پورا کمال حاصل تھا مگر اس علم پر انھوں نے کوئی تصنیف نہیں چھوڑی۔ فن شعر میں سرور، آغا نوازش حسین عرف مرزا خانی متخلص بہ نوازش کے شاگرد تھے جن کا ذکر فسانۂ عجائب میں نہایت احترام کے ساتھ موجود ہے۔

سرور لکھنؤ کے قدیم نثر نگاروں میں ایک نہایت بلند پایہ استاد سمجھے جاتے ہیں اور نثر مقفّیٰ کے بڑے زبردست ماہر تھے۔ غالباً یہ کہنا مبالغہ نہیں کہ اس طرز کے لکھنے والوں میں کوئی دوسرا نثّار، ایسا پیش نہیں کیا جا سکتا جو سرور سے دعوائے ہمسری رکھتا ہو۔ ایک انسان کی حیثیت سے سرور نہایت خوش مزاج، زندہ دل اور صحبت پسند آدمی تھے۔ اس کے علاوہ خوش گفتار اور حسین بھی تھے۔ ان خصوصیات کی بنا پر لوگوں کا ان کی جانب میلان تھا۔ شرف الدین میرٹھی اور غالب کے ساتھ ان کے خاص تعلقات تھے۔ غالب نے گلزار سرور پر ایک تبصرہ بھی لکھا ہے اور فسانۂ عجائب کے ذکر میں سرور کو اپنے عہد کا بہترین نثر نگار تسلیم کیا ہے۔

۱۲۴۰؁ھ میں سرور کانپور میں وارد ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ نواب غازی حیدر کے حکم سے جلا وطن کر کے سرور کو کانپور بھیجا گیا تھا۔ فسانۂ عجائب میں، صاف الفاظ میں، کانپور کی ہجو کی گئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سرور کو اس مقام سے کس قدر نفرت تھی۔

فسانۂ عجائب سرور نے یہیں تصنیف کیا اور ایک قصیدہ نواب غازی الدین حیدر کی شان میں اس امید پر لکھا کہ وطن عزیز کو واپس جانے کی اجازت مل جائے۔ آخر غازی الدین کے مر جانے کے بعد ایک قصیدہ نواب نصیر الدین حیدر کی شان میں اضافہ کیا اور مسودہ لے کر لکھنؤ آئے۔ ۱۸۲۴؁ء میں سرور نے اپنی نہایت مشہور و معروف کتاب فسانۂ عجائب تصنیف کی۔ ١٨٤٦؁ء میں ان کی زوجہ نے انتقال کیا مگر اسی سال واجد علی شاہ والیٔ اودھ نے سرور کو اپنے شعرائے دربار میں داخل کر کے پچاس روپے ماہوار تنخواہ مقرر کر دی۔ اس تقرر کا باعث بادشاہ کے ایک دوست قطب الدین مفتاح الملک قطب علی شاہ تھے جن کے ذریعہ سے پہلی مرتبہ سرور نے تاج پوشی کا قطعہ تاریخ پیش کر کے بادشاہ کے مزاج میں درخور حاصل کیا۔ ۱۸۴۷؁ء سے ۱۸۵۱؁ء تک سرور نے مختلف تصانیف کیں جن میں “شررِ عشق” سب سے زیادہ مشہور فسانہ ہے۔ یہ فسانہ نواب سکندر بیگم والیٔ بھوپال کے حکم سے لکھا گیا۔ ۱۸۵۶؁ء میں امجد علی خاں رئیس سندیلہ کی فرمائش سے “شگوفۂ محبت” تصنیف کی گئی۔ اسی سال اودھ کا الحاق اور واجد علی شاہ کی جلا وطنی عمل میں آئی اور واجد علی شاہ کو کلکتہ جانا پڑا۔

اب سرور پھر بے یار و مدد گار ہوگئے اور ان کی پہلی سی عسرت و تنگ دستی عود کر آئی۔ چنانچہ سید قربان علی سرشتہ دار مسٹر کارینگی اور منشی شیو نرائن ملازم کمشنریٹ سے انھوں نے مدد چاہی۔ مگر ۵۷ء کے عذر نے سرور کو اس مدد سے بھی محروم کر دیا۔ لیکن سرور کی قسمت میں ابھی اچھا زمانہ باقی تھا۔ مہاراجا ایشری پرشاد نرائن سنگھ والیٔ بنارس نے ۱۸۵۹؁ء میں انھیں بنارس بلا لیا اور بہت عزّت و اقتدار کے ساتھ اپنے یہاں رکھا۔ “گلزار سرور”، “شبستان سرور” اور دیگر کتب شعر و نثر یہاں کے قیام کے زمانے کی تصانیف ہیں۔ مہاراجا شیودان سنگھ والیٔ سلور نے بھی سرور کو اپنے یہاں دعوت دی۔ مہاراجا پٹیالہ نے ان کی لیاقت کا اعتراف جواہر نگار چوڑیوں کا ایک جوڑا بھیج کر کیا۔ سرور نے دہلی، لکھنؤ، میرٹھ اور راجپوتانہ کا بھی سفر کیا تھا۔ اپنے سفر کی تکالیف کا حال ایک خط میں درج کیا ہے جو انشائے سرور میں موجود ہے۔ یہ کتاب دلچسپ واقعات کا ایک نہایت دلکش مجموعہ ہے جس سے سرور کی زندگی کے بہت سے تفصیلات اور معاصرانہ واقعات پر روشنی پڑتی ہے۔ ۱۸۶۳؁ء میں سرور آنکھوں کا علاج کرانے کی غرض سے کلکتہ گئے اور وہاں مٹیا برج پر واجد علی شاہ سے ملاقات کی۔ مگر وہاں ان کی آنکھوں کو کوئی فائدہ نہ ہوا اور نا امید ہو کر واپس آنا پڑا۔ آخر لکھنؤ کے کسی مقامی ڈاکٹر سے آپریشن کرایا۔ اس کے بعد سرور بنارس گئے اور ۱۲۸۴؁ھ میں غالب کی موت سے ایک سال قبل انتقال کیا۔

سرور کو لکھنؤ سے نہایت محبت تھی۔ اِس محبت کا اظہار اُس ذکر سے بخوبی ہوتا ہے جو “فسانۂ عجائب” میں لکھنؤ کا کیا گیا ہے۔ بنارس کے قیام کے زمانے میں بھی سرور لکھنؤ کو اسی بے تابی سے یاد کرتے تھے جس طرح قفس میں کوئی بلبل اپنے آشیانۂ چمن کو یاد کرتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس عہد میں لکھنؤ کی محبت شعرا کا تمغائے امتیاز سمجھی جاتی تھی۔ ناسخ اور ناسخ کے شاگرد نواب مہر کے کلام میں بھی اس قسم کے اشعار پائے جاتے ہیں۔

سرور کا بہترین کارنامہ جس نے ان کے نام کو صفحات اردو پر غیر فانی کر دیا ہے “فسانۂ عجائب” ہے۔ یہ کتاب اپنے موضوع و اسلوب کے اعتبار سے فرسودہ انداز پر لکھی گئی ہے اور فارسی کی عامۃ الورود کہانیوں کے رنگ میں ہے۔ اس کا قصہ محض خیالی ہے اور سحر بستہ صحراؤں، جادوگروں کی لڑائیوں اور اسی قسم کی بہت سی غیر فطری اور دور از قیاس مہمات کا ذکر کثرت سے موجود ہے۔ جہاں تک قصہ کا تعلق ہے اس کتاب میں سوائے بچوں کے، بڑوں کے لیے کوئی دلچسپی نہیں۔ بڑوں کی دلچسپی صرف اس کی زبان، مقفیٰ عبارت اور دیگر خصوصیات تک، جو بے شمار ہیں، محدود ہے۔ لکھنؤ کے رسم و رواج اور معاشرت کی جو تصویریں فسانۂ عجائب میں ملتی ہیں، دوسری جگہ دستیاب نہیں ہوتیں۔ سرور کا طرز تحریر اپنے رنگ میں نہایت مکمل ہے۔ گو یہ طرز نہایت مصنوعی ہے اور اس میں علمی تصانیف برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں، مگر اس طرز کے محدود دائرے کے اندر رہ کر بھی سرور نے فصاحت و بلاغت کے دریا بہا دیے ہیں۔ بعض مقامات پر ایسی ایسی خوبیاں پیدا ہو گئی ہیں جن کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے اور سرور کی استادی کا قائل ہو جانا پڑتا ہے۔ مگر یہ رنگ اس زمانے کی ضروریات کے منافی ہے۔ پہلے زمانہ میں اس قسم کی نثر جو فارسی الفاظ اور تراکیب سے مزین نہ ہو نفرت کی نظر سے دیکھی جاتی تھی۔ مگر غالب نے اس جال سے نکلنے کی کوشش کی اور اس کی جرات نہایت قابل تحسین ہے۔

فسانۂ عجائب کا ابتدائی حصہ نہایت دلچسپ ہے اس لیے کہ اس میں اس زمانہ کی لکھنؤ کی زندگی کا حال درج ہے اور وہاں کے میلوں اور ادبی و دیگر تفریحات کا ذکر موجود ہے۔ سرور کی ایک یہ بات قابل توجہ ہے کہ ان کے یہاں انسانوں کا ذکر نہیں بلکہ اشیا کا ذکر ہے۔ ان کی تصویریں اصلی نہیں بلکہ خیالی ہیں، یہ خصوصیت ذکر لکھنؤ میں بدرجہ اتم موجود ہے۔

سرور اپنے ہی اسلوب تحریر کے جال میں گرفتار ہو کر رہ گئے۔ نثر مقفیٰ کی دشواریاں حد سے زیادہ ہیں۔ اس لیے زبان کی خاطر، قصہ کو قربان کرنا پڑتا تھا۔ ایک طرف تو ان دشواریوں کا سامنا تھا جن کا مقابلہ کرنا دشوار تھا۔ دوسری طرف ان کا ترک کر دینا مقابلہ سے دشوار تر تھا۔ اس لیے چار و نا چار ان کا مقابلہ کرنا ہی پڑا اور جس قدر ممکن ہوا، دلچسپ بنا کر پیش کیا گیا۔ سرور کی تحریر میں عام طور پر روزمرہ کا لطف نہیں۔ قافیہ کی قید عبارت کی سلاست کو غارت کر دیتی ہے اور توجہ محض عبارت کی پیچیدگیوں میں گم ہو کر رہ جاتی ہے۔ لکھنؤ کی محبت میں سرور نے میر اَمّن پر حملہ کر دیا ہے جو ایک نامناسب بات ہے۔ اس قسم کی کہانیوں میں کیریکٹر کا وجود عنقا ہوتا ہے مگر فسانۂ عجائب میں ملکہ مہر نگار کا کیریکٹر محبت، وفا داری، جرات، ذہانت اور عزم و استقلال کے اعتبار سے نہایت ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ انگریزی کے بہت سے الفاظ جا بجا استعمال کیے گئے ہیں جو غالباً سب سے پہلے اردو میں داخل ہوئے۔ دنیا کی ناپائیداری کے متعلق جو خطبہ بندر کی زبان سے بیان کرایا ہے وہ نہایت معنی خیز، پر اثر اور بلند مرتبہ چیز ہے۔ سرور کی تقلید میں دو کتابیں اور بھی لکھی گئیں۔ ایک جس کا نام “سروش سخن” ہے سید فخر الدین حسین خان سخنؔ دہلوی نے ۱۸۶۰؁ء میں لکھی اور اس میں سر سید پر تمسخر کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔ دوسری “طلسم حیرت” ہے جسے محمد جعفر علی شیون لکھنوی نے ۱۸۷۲؁ء میں لکھا ہے، اس میں سرور اور لکھنؤ کی عزت و اقتدار کو برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

۱۸۴۷؁ء میں سرور نے “سرور سلطانی” لکھی جو شمشیر خانی کا ترجمہ ہے۔(١) اس کتاب میں فردوسی کے شاہنامہ کو مختصر طور پر فسانۂ عجائب کے طرز میں لکھنے کی کوشش کی گئی ہے، حالانکہ یہ طرز تاریخی واقعات لکھنے کے لیے نہایت ناموزوں ہے۔ اس کتاب میں ایک مقام نہایت دلچسپ ہے جو ہندوستان کی تعریف میں لکھا گیا ہے اور اس سے حب وطن کی بو آتی ہے۔ ۱۸۵۱؁ء میں سرور نے ایک دوسری کتاب جس کا نام “شرر عشق” ہے، تصنیف کی۔ اس میں ایک واقعہ جو بھوپال کے کسی صحرا میں پیش آیا، درج ہے۔ سارس کا ایک جوڑا جو باہمی محبت کے لیے مشہور ہے ایک جنگل میں پھر رہا تھا۔ نر کو کسی نے مار ڈالا۔ مادہ نے یہ دیکھ کر لکڑیاں جمع کر کے ان میں آگ لگا دی اور خود بھی ستی ہو گئی۔

۱۸۵۱؁ء میں ایک دوسری کہانی “شگوفہ محبت” ناظم اودھ کی فرمائش سے لکھی گئی۔ اس میں مہر چند کھتری کی پرانی کہانی نئے لباس میں پیش کی گئی ہے۔ اس میں واجد علی شاہ کی جلا وطنی اور کلکتہ کے سفر کا حال بھی درج ہے۔ بنارس میں سرور نے گلزار سرور مرتب کی جو فارسی کی حدائق العشاق کا ترجمہ ہے۔ اس میں عشق و روح کے مناقشے اور روح کی فوقیت کا ذکر ہے۔ اس کتاب کا موضوع مذہبی ہے مگر سرور کے اصلی رنگ میں لکھی گئی ہے۔

ایک صحیفہ میں غالب پر تبصرہ ہے اور یہ بھی مقفیٰ زبان اور قدیم مشرقی تبصرہ نگاروں کے انداز پر ہے۔ دوسری مشہور کتاب شبستان ہے جو الف لیلیٰ سے ملخص کی گئی ہے۔ یہ بہت رنگیں و مرصع کتاب ہے اور اس میں جا بجا اشعار کا استعمال ہے جو اسے اور بھی دلکش بناتا ہے۔ سرور کا ایک صحیفہ شہزادہ ایڈورڈ (بعدہٗ شہنشاہ ایڈورڈ ہفتم) کی شادی کی مبارکباد پر ہے۔ اس میں برطانوی حکومت کی برکات نہایت پسندیدہ الفاظ میں درج کی گئی ہیں۔ سرور کے خطوط بھی جو انشائے سرور کے نام سے طبع ہوئے ہیں مقفیٰ عبارت میں ہیں۔

قدیم رنگ کے ایک مشہور انشا پرداز کی حیثیت سے سرور کی عظمت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اپنے مخصوص دائرہ عمل میں سرور ایک ممتاز شخصیت کا مالک ہے اور اس کا مرتبہ کسی دوسرے سے کم نظر نہیں آتا۔ مقفیٰ طرز عبارت جو پیچیدہ فقروں، مصنوعی ترکیبوں اور فارسی کے متعلق و غیر مانوس الفاظ سے لبریز ہوتا ہے کاروباری زمانے میں پسند نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے اس کا متروک ہونا لازمی ہے مگر اس کے متروک ہونے پر سرور کی شہرت اور کمال انشا پردازی پر جو مستقل اور غیر فانی چیزیں ہیں کوئی اثر نہیں پڑتا۔ سرور نے پرانے ہتھیار کا استعمال نہایت خوبی کے ساتھ کیا اور ایسے قوی اثرات چھوڑے ہیں جن کا محو کرنا نا ممکنات سے ہے۔ لکھنؤ، ارباب لکھنؤ اور معاشرت لکھنؤ کے جو مرقعے سرور نے چھوڑے ہیں وہ مستقل یادگار ہیں جو اصلی مٹ جانے کے بعد بحمد اللہ آج تک قائم ہیں اور انشاء اللہ ہمیشہ قائم رہیں گی۔ سرور کی شہرت انشا پردازی نے ان کی شاعری اور خوش نویسی کی شہرت کو گھن لگا دیا اور یہی حال موسیقی کا ہوا۔ ان کا دیوان تو اب دستیاب نہیں ہوتا مگر جستہ جستہ اشعار اور غزلیں خود ان ہی کی تصانیف نثر اور مختلف گلدستوں میں نظر آ جاتی ہیں جن سے ان کی شاعرانہ حیثیت معلوم ہو جاتی ہے۔ فی الجملہ سرور ایک بلند شخصیت کا مالک تھا اور اردو علم ادب کی تاریخ میں اس کا نام زریں حروف سے ثبت ہے۔

 

                                                           سید محمد محمود رضوی            مخمور اکبر آبادی

                                                        بی۔ اے۔ ایل۔ ایل۔ بی              ۷ مارچ ۱۹۲۸؁ء

 

 

 

حمد

 

 

الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ خَلَقَ مِنَ الْمَــــآءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّصِہْرًاؕ وَکَانَ رَبُّكَ قَدِیْرًا۝

 

سزا وارِ حمد و ثنا خالقِ اَرض و سَما، جَلَّ وَ عَلا، صانِعِ بے چون و چِرا ہے، جس نے رنگِ بے ثَباتی سے، بہ ایں رنگارنگی، تختۂ چمنِ دنیا پُر از لالہ و گل جُزو کُل بنایا۔ اور باوجودِ تَرسِ باغبان و بیم صیاد، وَلوَلہ رُخِ گُل بلبل کو دے کر دامِ محبت میں پھنسایا۔ اور عاشقِ با وفا و معشوقِ پُر دغا کو ایک آبِ گِل سے خمیر کر کے، پردہ غیب سے بہ عرصۂ شہود لایا۔ ایک خلقت سے دو طرح کا جلوہ دکھایا اور انسانِ ضعیف بُنیان کو اشرف المخلوقات فرمایا۔

جلوۂ حُسنِ بُتاں بخدا شیفتگی کا بہانہ ہے۔ نالۂ بلبلِ شیدا گوشِ گلِ رعنا کا ترانہ ہے۔ اُس کی نیرنگیوں کے مشہور فسانے ہیں، ہم اس کی قدرتِ کامِلہ کے دیوانے ہیں۔ صفت اس کی محال ہے، زبان اس تقریر سے لال ہے۔ جس کی شان میں مخبر صادقؑ یہ فرمائے، دوسرا اِس عُہدے سے کب بَر آئے: مَا عَرَفنَاك حَقَّ مَعرِفَتِك۔

 

نعت

 

عِناں تابِی اَشہبِ خامہ وادیٔ نعتِ رسولِ مجتبی،
محمدِ مُصطفیٰ سزا وارِ اُلوف تَحِیَّت و ثنا میں

بعدِ حمدِ خالقِ جِن و بَشَر، حاکم قضا و قَدَر، مبدِءِ شام، طالعِ سحر، نعت سیدِ کائنات، خلاصہ موجودات، بہترینِ عالَم، برگزیدہ نوعِ بنی آدم کی ہے؛ جس کے چراغ ہدایت کی روشنی سے تیرہ بخت، گم گشتۂ کوچۂ ضلالت بہ راہ راست آئے۔ بہ تَوفیق رفیق اور مدارج تحقیق کیا کیا مرتبے بلند پائے۔ اور مُنحَرِف کور باطنوں کو فہمِ ناقص کی کجی اور زعمِ فاسِد، وہمِ باطل نے کیسے کیسے روز سیاہ دکھائے۔ اس کے حق میں یہ حکمِ حق آیا ہے، بہ چشمِ غور دیکھو تو، کسی اور نے ایسا رتبہ رفیع اِس خاکدانِ پست بنیاد میں پایا ہے:لَولَاكَ لَمَا خَلَقتُ الاَفلَاك۔

سر حلقہ اَولین، خاتمُ المرسلین، مظہر صنعتِ کریم، احمدِ بے میم، شفیعِ عرصۂ جزا محمد مصطفیٰ صَلَی اللہُ عَلَیهِ وَ آلِهِ الطَّاھرِین وَ اَصحَابِهِ المُکَرَّمِین وَسَلَّم۔ کوئی شاعر اس کی شان میں کہتا ہے، لا اَعلَم:

پیش از ہمہ شاہان غیور آمدہ
اے ختم رسل! قرب تو معلومم شد
ہر چند کہ آخر بہ ظہور آمدہ
دیر آمدہ، ز راہِ دور آمدہ

اس مُشتِ خاک کا کیا فہم و اِدراک، جو شِمہ صِفاتِ ذاتِ با برکات زبان پر لائے، جو عَجز میں در نہ آئے۔ کام و زباں ناکامی سے فوراً جل جائے۔

اور منقبتِ امیر المومنین، امامُ المتقین، یَکَّہ تازِ میدانِ لافتیٰ، خلاصہ مضمون سورہ ھل اَتیٰ یہی کافی ہے جسے پیمبر نے کہا ہے:لَحمُكَ لَحمِی وَ دَمُكَ دَمِی۔ عَلِــيٌّ مِنـّـِي وَ اَنَا مِنهُ۔

اور مدح اہل بیت رسالت کہ وِلا اُن کی، ایمان کی دلیل ہے اور محبت ان کی، ہر فرد بشر کو واجب بہ ایں حدیث جلیل ہے، حدیث:

مَثَلُ اھلِ بَیتِی کَمَثَلِ سَفِینَةِ نوح، مَن رَکَبَھا نَجیٰ ومَن تَخلَّفَ عَنها غَرَقَ وَھویٰ۔

 

زمزمہ پردازی عندلیب نغمہ سرا کی

 

گلشنِ حال سلطان ابو المظفر، شاہِ زمن، قُباد شوکت،

وارثِ دودمانِ سعادت میں

 

پس از حمدِ خدا و نعت سرور انبیا، لازم و ضرور ہے کہ مدحِ والیٔ ملک بیان کرے۔ قَولُهُ تَعالی:أَطِیعُواْ اللهَ وَأَطِیعُواْ الرّسُولَ وَأُوْلِی الأَمْرِ مِنکُمْ۝ اگرچہ صفتِ شاہ گدا کی زبان بہ مَعرِضِ بیاں لائے تو “چھوٹا منہ بڑی بات” تمام کائنات کہنے لگے، مگر نامِ نامی، توصیفِ ذاتِ گرامی اس کی، وسیلہ تَوقیر اس تحریر کا اور مِفتاح باب اس پریشاں تقریر کا جان کر، شِمہ از شمائل و ذرہ از خورشیدِ خَصائل رقم کرتا ہوں۔

شاہِ کَیواں بارگاہ، بلند مرتبہ، عالی جاہ، سرحلقہ شاہانِ والا تَبار، جَم شوکت، فَریدوں فَر، سلیمانِ اقتدار، کشور گیر، مُلک سِتاں، خَدیو گیہاں، ابو المظفر، مُعِز الدین، شاہِ زَمَن غازی الدین حیدر بادشاہ خلد اللہ ملکه و سلطنته وأیدہُ اللہ بالنصر والظفر جلَّ جلالهٗ۔

اگر معرکہ رزم یا صحبتِ بزم اس کی افشا کروں، صفحہ دنیا پر نہ لکھ سکوں۔ دمِ رزم رستم و سام و نریمان مثلِ پیر زال لرزاں اور وقت سخا اور عطائے زر و مال حاتم کے ہاتھ میں کاسہ سوال۔ بزم طرب میں زہرہ اور مشتری سرگرمِ نغمہ پردازی و عَربدہ سازی۔ ہنگامِ عتاب و خشم مریخ مستعد جلادی و بیدادی۔ یہ ادنیٰ عنایت ہے۔ بیت:

چناں بموسم سرما دوشالہ ہا بخشیدکہ گرم شد ہمہ بنگالہ، سرد شد کشمیر

بس کہ سحاب بخشش اس بحر عطا کا روز و شب مزرعۂ کہ و مِہ پر بارش رکھتا ہے، شہر میں سالہا کان مشتاق سائل کی صدا کا اور دیدہ ندیدہ صورتِ گدا کا رہتا ہے۔ بحر موّاجِ فیض دن رات بہتا ہے۔ عدل یہ کہ ہاتھی، چیونٹی سے ڈرتا ہے۔ شیر، بکری کی اطاعت کا دم بھرتا ہے۔ بچشم اس کے عہد دولت میں ہزاروں نے دیکھا ہے: بکری شیر کے بچے کو شِیر پلاتی تھی، کنار میں شفقت سے سلاتی تھی۔ باز تیز پرواز بچۂ کُنجشک کا دَم ساز اور نگہباں۔ بلی کی عادت جبلّی یہ کہ کبوتر سے ہراساں۔ دودِ دلِ اندوہ ناک روزنِ ہر خانہ سے مسدود۔ شحنہ داد رخنہ بندیٔ فساد کو موجود۔ اللہ تعالیٰ اس امیدگاہ عالم اور عالمیاں کو اپنے حفظ و امان میں سلامت رکھے۔ دولت خواہ اس والا جاہ کے بہ عیش و شادی مدام اور دشمنِ رو سیاہ بہ رنج نامرادی گرفتارِ آلام رہیں، بہ حقِ ربِ ذُو المنَن، بہ تصدّق پنجتن۔

 

کیفیت شہر بے نظیرکی (بیان لکھنؤ)

 

تقریر مورخِ دلپذیر کی، کیفیت شہر بے نظیر کی

ذکرِ صنعتِ کاملینِ علم و فن، واقفانِ رموزِ سخن

و تذکرہ اہلِ حرفہ، دکان دار بہ طرزِ یادگار

 

یہ پُنبہ دَہاں، ہیچمداں، محرّر داستاں، مقلّد گذشتگاں، سراپا قصور مرزا رجب علی، تخلص سرور، متوطن خِطۂ بے نظیر، دل پذیر، رشک گلشنِ جِناں، مَسکَنِ حور و غِلماں۔ جائے مردمِ خیز، باشِندے یہاں کے ذکی، فہیم، عقل کے تیز۔ اگر دیدۂ انصاف و نظرِ غَور سے اِس شہر کو دیکھے تو جہان کی دید کی حسرت نہ رہے، ہر بار یہ کہے، شعر:

سنا، رِضواں بھی جس کا خوشہ چیں ہے
وہ   بے  شک   لکھنؤ  کی  سر  زَمیں  ہے

سُبحَانَ اللہِ وَ بِحَمدِہ! عجب شہر گلزار ہے۔ ہر گلی دلچسپ؛ جو کوچہ ہے، باغ و بہار ہے۔ ہر شخص اپنے طور کا با وَضع، قَطع دار ہے۔ دو رویہ بازار کس انداز کا ہے! ہر دکان میں سرمایہ ناز و نِیاز کا ہے۔ گو ہر محلے میں جہان کا ساز و ساماں مُہیا ہے، پر اکبری دروازے سے جِلو خانے اور پکے پُل تک، کہ صراط مستقیم ہے، کیا جلسہ ہے! نان بائی خوش سلیقہ۔ شیر مال، کباب، نان، نہاری، بلکہ جہان کی نعمت اِس آب داری کی، جس کی بو باس سے دل طاقت پائے، دماغ معطر ہو جائے۔ فرشتہ گزرے تو سونگھے، مست ہو جائے، غُنودگی میں اونگھے۔ کیسا ہی سیر ہو، ذرا نہ دیر ہو، دیکھنے سے بھوک لگ آئے۔ وہ سرخ سرخ پیاز سے نہاری کا بگھار، سریلی چھنکار۔ شیرمال شَنگَرف کے رنگ کی خستہ، بھربھری، ایک بار کھائے، نان نعمت کا مزہ پائے، تمام عمر ہونٹ چاٹتا رہ جائے۔

کباب اس آب و تاب کے کہ مُرغانِ ہوا، ماہیانِ دریا کا دل سیخِ آہ پر مُتصل حسرتِ محرومی سے کباب۔ ادرک کا لچھا میاں خیرُ اللہ کی دکان کا بال سے باریک کَترا، ہاضم، نایاب۔ حسینی کے حلوا سُوہن پر عجیب جوبن۔ اس کی شیرینی کی گفتگو میں لب بند، جہان کو پسند۔ پپڑی لذیذ، دبیز، بسی بسائی، پستہ و بادام کی ہوائی، ہونٹ سے چبائے، دانت کا اس پر تمام عمر دانت رہے، لگانے کی نوبت نہ آئے۔ جوزی خوب۔ حبشی اہل ہند کو مرغوب۔ دودھیا شیر خوارہ نوش کر جائے۔

ہر کنجڑن کی وہ تیکھی چتون آدمی صورت دیکھتا رہے، رعب حسن سے بات نہ کر سکے۔ سُنکَرنِیں پری زاد، سرو قامت، رشکِ شمشاد۔ دکانوں میں انواع اقسام کے میوے قرینے سے چنے۔ روزمرے محاورے ان کے دیکھے نہ سنے۔ کبھی کوئی پکار اٹھی، بیٹھے بٹھائے قہقہہ مار اٹھی کہ ٹکے کو ڈھیر لگا دیا ہے۔ کھانے والو زور مزہ ہے! کوئی مَوزوں طبیعت یہ فقرۂ برجستہ سناتی، جوبن کی جھمک دکھاتی: مزہ انگور کا ہے رَنگتَروں میں! کسی طرف سے یہ صدا آتی گنڈیریاں ہیں یہ پونڈے کی! ایک طرف تنبولی سرخ روئی سے یہ رمز و کنایہ کرتے، بولی ٹھولی میں چبا چبا کر ہر دم یہ دم بھرتے: مگہ کا منہ کالا، مَہُوبا گَرد کر ڈالا! کیا خوب ڈھولی ہے، ابھی کھولی ہے۔ عبیر ہے نہ گلال ہے، اَدّھی میں مکھڑا لال ہے۔

گلیوں میں گَجَر دَم یہ آواز آتی: شیرمال ہے گھی اور دودھ کی! مفلس کا دل اچاٹ ہے، ٹکوں کی چاٹ ہے۔ کدھر لینے والے ہیں، نَمَش کی قُفلِیاں، کھیر کے پیالے ہیں! کیا خوب بھنے، بھربھرے ہیں؛ چنے، پَرمَل اور مُرمُرے ہیں! جیٹھ بیساکھ کی وہ گرمی جس میں چیل انڈا چھوڑتی، دو پیسے کو برف کی قفلی جمی دو کھائے، بدن تھرّائے۔ زیادہ ہَوکا کرے، لَقوے، فالج میں مرے۔

سَرِ چَوک ہمیشہ شانے سے شانہ چِھلا، نسیم و صبا کو سیدھا رستہ نہ ملا۔ شیخ کولی کی مٹھائی جس نے کھائی جہان کی شیرینی سے دل کھٹا ہوا، بنارس کا کھجلا بھولا، متھرا کے پیڑے کا ٹھٹھا ہوا۔ برفی کی نَفاست، بو باس، کھوئے نے ہوش کھوئے۔ وہ اس کا دَردَرا پن، نُقرئی ورق کا جوبن، کسی اور شہر کا رَکاب دار اگر دیکھ پائے، یا ذائقہ لب پر آئے زندگی تلخ ہو، جب تک جیتا رہے، ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھائے۔ اِمَرتیٔ مسلسل کا ہر پیچ ذائقہ کو پیچ تاب دیتا، یاقوتئ مُفَرّح کا جواب دیتا۔ جب منہ میں رکھا اصل تو یہ ہے عسلِ مُصَفی جنت کی نہر کا حلق سے اترا۔ پراچیوں کی گلی کا کھجور: لذت ٹپکتی، ذائقے میں چور، بہتر از انگور، نہایت آب و تاب، ہم خرما ہم ثواب۔

نورا کی دکان کی بالائی جب نظر آئی، بلور کی صفا سے دل مُکدر ہوا، نورٌ علیٰ نور کہہ کر، بے قند و شکر، شُکرِ خدا کر کر چھری سے کاٹی اور کھائی۔ مداریے حقے وہ ایجاد ہوئے، کسگر ایسے استاد ہوئے کہ جب تڑاقا ان کا سنا، پیچوان کا دم بند ہوا، سب کو پسند ہوا۔ پیسے کا مداریا کہیں دنیا میں مدِ نظر نہ ہو، دو روپے کو میسر نہ ہو۔ پٹھانا کا تنباکو مشک و عنبر کی خوش بو، جس نے ایک گھونٹ کھینچا، اسی کا دم بھرنے لگا۔ آغا باقر کے امام باڑے سے متصل جو تنباکو کی دکان ہے، شائق اس کا سب جہان ہے۔ محمدی اس کا نام ہے، تبرک سمجھ کر لے جاتے ہیں، زبان زَدِ خاص و عام ہے۔

رنگ ریز سبک دست، طبیعت کے تیز۔ جو پھول دکھایا، انھوں نے کپڑے پر اس سے ڈہڈہا گُل کھلایا، نقل کو اصل میں ملایا۔

علی الخصوص مرد تماش بیں کے واسطے یہ شہر خَراد ہے، ہر فن کا یہاں استاد ہے۔ سیکڑوں گھامڑ، بد گِل،کُندۂ نا تراش زعم باطل میں عیاش، اطراف و جوانب سے آ، ہفتے عشرے میں چھل چھلا وضع دار ہو گئے۔ گومتی میں غوطہ لگایا، دیہاتی پن کے دھبے دھو گئے، آدمی ہو گئے۔ ابو تراب خان کے کٹرے میں جا، میاں خیراتی سے کسی کی خیرات میں خط بنوایا، بارہ برس کے سِن کی گالوں میں لوچ آئی، گو گردن میں موچ آئی۔ چار پہر کھونٹی ٹٹولی، پتا نہ پایا۔ کاتبِ قدرت کا لکھا مٹاتا ہے، ایسا خط بناتا ہے۔

سید حسین خاں کے کٹرے کے دروازے پر عبد اللہ عطر فروش کی دکان، جائے نشست ہر وضع دار جوان ہے۔ دو پیسے میں بیلے، چنبیلی یا حنا کا تیل، ریل پیل، فتنہ بپا کرنے والا ایسا مَلا کہ سہاگ کا عطر گرد ہو گیا، جون پور سے دل سرد ہو گیا۔ عطر کی روئی رکھی کان میں، جا بیٹھا کس افیونی کی دکان میں۔ سفید سفید چینی کی پیالیاں خوبصورت رنگتیں نرالیاں۔ افیون فیض آبادی گلاب باڑی والے لالے کی وہ رنگین جس نے تریاک مصر کے نشے کِرکِرے کیے۔ جھمکڑا بادہ ارغوانی و زعفرانی کا پیدا، یاقوت رشک سے ہیرا کھاتا۔ تبدیلِ ذائقے کو فرنی کے خونچے، نقرئی ورق جمے، پستے کی ہوائی پر بادام کا دل دو ٹکڑے ہو کر پستا۔ یا بنبئی کا پونڈا نرم، گُندہ، قند و شہد کا سینچا۔ اگر پوپلا مسوڑھوں سے چبائے، شربت کا گھونٹ حلق سے اتر جائے۔ ادھر چسکی پی، یا اشک بلبل کا دور تسلسل ہوا، آنکھوں میں گل کھلا۔ پھر ایک دم کے بعد حقے کا دم کھینچا، حجاب کا پردہ اٹھ گیا۔ وہاں سے بڑھا، کان میں آواز آئی: بیلے کے ہار ہیں شوقین البیلے کو، پہن لے، چلا جا فرنگی کے میلے کو! جب یہ سج بنی، بگڑا، پنجوں کے بل چلا۔ یہ پھولا، وطن کی چال ڈھال، رہ و رسم بھولا۔ اکثر باہر سے آ، یہ دھج بنا، جون پور کے قاضی ہونے کو مفتی میں راضی ہو گئے ہیں۔ جمع پونجی، پریشان ہو کے کھو گئے ہیں۔

اگر برسات کا موسم ہے تو شہر کا یہ عالم ہے: ادھر مینہ برسا، پانی جا بہ جا سے بہہ گیا، گلی کوچہ صاف رہ گیا۔ ساون بھادوں میں زر دوزی جوتا پہن کر پھرے، سلیقہ شرط ہے، کیچڑ تو کیا مٹی نہ بھرے۔ باغ بہار کے صنعت پروردگار کے۔ رضوان جن کا شائق، دیکھنے کے لائق۔ روز عیش باغ میں تماشے کا میلا، ہر وقت چَین کا جلسہ۔ موتی جھیل کا پانی چشمہ زندگانی کی آب و تاب دکھاتا، پیاسوں کا دل لہراتا۔ سڑک کے درختوں کی فضا، جدھا، کھجوا موجیں مارتا۔ ہار سنگار کے جنگل میں لوگوں کا جمگھٹا۔ رنگارنگ کی پوشاک، آپس کی جھانک تاک، تختہ لالہ و نافرمان جن پر قربان۔ بندہ ہائے خاص کی سبک روی، خِرامِ ناز۔ ہر قدم پر کَبْکِ دَری، چال بھول کر جَبینِ نیاز رگڑتے۔ شاخِ سَرو شمشاد قامتوں کے رو بہ رو نہ اکڑتی۔ شائق ہزار در ہزار، شمع پروانوں کا عالم، غول کے غول باہم۔ آم کے درختوں میں ٹَپکا لگا، خاص جھولا وہیں پڑا۔ جھولنے والوں پر دل ٹپکا پڑتا۔ محبت کے پینگ بڑھتے، دیکھنے والے درود پڑھتے۔ باغ میں کوئل، پپیہے، مور کا شور۔ جھولے پر گھٹا رہی اوٗ بھی گھنگھور۔ ساون بھادوں کے جھالے، وہ رنگین جھولنے والے!

دشت غربت میں یہ جلسہ جو یاد آ جاتا ہے، دل پاش پاش ہو کر کلیجا منہ کو آتا ہے۔ نہ کہ کان پور کی برسات، ہیہات! ہیہات! دخل کیا دروازے سے باہر قدم رکھے اور پھسل نہ پڑے۔ گلی میں پاؤں رکھا، کیچڑ کا چھپکا سرپر پہنچا۔ دو اس فصل میں باہم نہ دیکھے، مگر چہلے کے پھنسے۔ اور جنھیں سواری کا مقدور نہیں، دخل کیا جو وہ جائیں کہیں۔ ان کے حق میں ناحق برسات: حوالات، گھر: جہل خانہ۔ کیچڑ کے مُقیّد، کہیں جانا نہ آنا۔ اگر خواب میں کہیں نکل گئے تو چونک پڑے کہ پھسل گئے۔ اور جو بازاری، کاروباری، ان کا یہ نقشہ دیکھا ہاتھ میں جوتیاں، پائینچا چڑھا، کیچڑ میں لت پت، یہاں گرے، وہاں گرے، خدا خدا کر جیتے گھر پھرے۔ اور جو شیخی کے مارے ننگے پاؤں نہ نکلے تو، شعر:

دیکھی ہے یہ رسم اس نگر میںجوتا ہے گلی میں، آپ گھر میں

پھر بر سر مطلب آیا: خاص بازار کہ شہر وسیع و خوش قطع ہے، اس کے نقشے سے مانی و بہزاد نے خار کھایا۔ شبیہ کشی تو کیا، خاکہ خاک نہ کھنچا، ہاتھ تھرّایا۔ کوٹھیاں فرح بخش و دل کشا۔ برج ہر ایک جہاں نما، سلطان منزل اور اِستری منجن نشاط افزا، توبہ شکن۔ انسان کو، دیکھ کر سکتہ ہو جائے۔ کام ان کا وہم و قیاس میں نہ آئے۔ سر راہ کی بارہ دری جواہر سے جڑی۔ پری کی صورت کے قریب نہر جاری، تکلف کی تیاری، پائیں باغ اس کا جس نے دیکھا، باغِ ارم سمجھا، سُوسن نَمَط ہزار زبانیں بہم پہنچیں، تعریف نہ کر سکا، گونگے کا سپنا ہوا۔

رومی دروازہ اس رفعت و شان کا ہے، گذر گاہ ایک جہان کا ہے۔ اگر اس پر چڑھ جائے، بامِ فلک پست معلوم ہو، فرشتوں کا مشورہ کان میں آئے۔ سپہر اولیں اس کی زمیں ہے۔ شش جہت میں دوسرا نہیں ہے۔ مسجد انتخاب ہے۔ امام باڑہ لا جواب ہے۔ مقبرے عالیشان، وہ نادر مکان کہ فلک بہ دیدۂ انجم نگراں ہے، ان کے نظیر کی جستجو میں، مشعلِ مہ و خورشید روز و شب روشن کیے، کوٗ بہ کوٗ سرگرداں ہے، اگر پاؤں پھیلانے کی جگہ ان میں ہاتھ آئے، سر دست مر جانے کو جی چاہے۔ گومتی کے انداز سے نہر کی کیفیت نظر آتی ہے، طبیعت لہراتی ہے، دو رویہ آبادی، عمارت۔ کہیں رَمنے، کسی جا باغ بنے، صبح و شام وہ بہار ہے کہ شامِ اودھ اور بنارس کی سحر نثار ہے۔

شہر نفیس، مجمع رئیس، ہر فن کا کامل یہاں حاصل ہے۔ خوش نویس حافظ ابراہیم صاحب سا۔ اس قطع کا قطعہ لکھا، جو میر علی یا آغا جیتے ہوتے، اپنے لکھے کو روتے، اشکِ حسرت سے وَصلیاں دھوتے۔ مرزائی صاحب کی مشق کا کوئی پرچہ اگر نظر پڑ جاتا، نَیریز بِرِیز بِرِیز کہتا، یاقوت رقم ہیرا کھاتا۔

مرثیہ خواں جناب میر علی صاحب نے وہ طرز نَو مرثیہ خوانی کا ایجاد کیا کہ چرخ کہن نے مُسَلّمُ الثبوت استاد کیا۔ علم موسیقی میں یہ کمال بہم پہنچایا، اس طرح کا دُھرپَت، خیال ٹپّا گایا اور بنایا کہ کبھی کسی نائک کے وہم و خیال میں نہ آیا۔ ایک رنگین احاطہ کھینچا ہے، جو اس میں آیا، پھولا پھلا، وہ ان کا پَیرو ہوا۔ اور جس نے ڈھنگ جدا کیا، وہ ٹکسال باہر، بد رنگ ہوا۔ اگر تان سین جیتا ہوتا، ان کے نام پر کان پکڑتا، بھیک مانگ کھاتا، مگر نہ گاتا۔ ہزاروں شاگرد، جَگت اُستاد ہوا، مولوی سب میں پری زاد ہوا۔ امیروں میں حُسین علی خاں بلبلِ ہزار داستاں، خوش اِلحاں۔ مرثیہ گو بے نظیر میاں دلگیرؔ۔ صاف باطن، نیک ضمیر، خلیق، فصیح، مردِ مِسکیں۔ مَکروہاتِ زمانہ سے کبھی اَفسُردہ نہ دیکھا۔ اللہ کے کرم سے ناظمِ خوب، دبیرِ مرغوب۔ سکندر طالع، بہ صورت گدا۔ بارِ احساں اہلِ دَوَل کا نہ اٹھایا۔ عرصۂ قلیل میں مرثیے، سلام کا دیوانِ کثیر فرمایا۔ شہر میں جتنے رئیس تھے، اُن کے انیس، جلیس تھے۔

طبیب ہر ایک مسیحائی کرتا ہے، قُم بِإذني کا دم بھرتا ہے۔ جسے دیکھا بُقراط، سُقراط، جالینوسِ زماں ہے۔ اِس معنی میں یہ خِطّہ، رشکِ زمینِ یونان ہے۔ میرکؔ جان صاحب پَیرنے کے فن سے ایسے آشنا ہوئے کہ مَردُمِ برّ و بَحر سَرگرمِ ثَنا ہوئے۔ شاعر، زبان داں ایسے کہ عُرفی و خاقانی کی غلطی بتائی، فِردوسی و اَنوری کی یاد بھلائی۔ شیخ امام بخش ناسخ نے یہ ہندی کی چِندی کی اور روزمرے کو ایسا فصیح و بلیغ کیا کہ کلامِ سابقیں منسوخ ہوا۔ فُصحائے شیراز و اِصفہاں اِس سیف زبان کا جوہر دیکھ کے لوہا مان گئے۔ اپنے قبح پر منفعل ہوئے، اس زبان کا حُسن جان گئے۔ زمینِ شعر کو آسمان پر پہنچایا، سیکڑوں کو اُستاد بنایا۔ خواجہ حیدر علی کی آتش بیانی، شرر افشانی سے دل جلوں کے سینے میں سوز و گداز ہے۔ مردِ قانع، شاعرِ مُمتاز ہے۔

فَرنگی محل کا حال کیا لکھوں! کہاں زبان و دست کا یارا، جو شِمّہ لکھتا۔ مولوی، فاضل، عدیم المثال۔ ہر شخص جمیع علوم کا استاد۔ کتبِ درسی ابتدا سے انتہا تک یاد۔ منقول و معقول میں دقیقہ باقی نہ رہا۔ رِیاضی کے رِیاض سے آسمان کو زمین کر دیا۔ مولوی انوار کی تجلی اور پَرتَوِ فیض سے جہاں روشن۔ مولوی مبین دور بیں، سِراج انجمن، بحرُ العلوم۔ مولوی سید مخدوم جامع ہر علوم۔ مولوی ظہور اللہ سبحان اللہ! ایسے فقیہ، محقق کہاں ہوتے ہیں! یہی لوگ نادِرُ الزّماں ہوتے ہیں۔

اُدھر رُکنِ دیں بِلا کَد میر سید محمد مجتہد مستند۔ مرزا کاظم علی متقی۔ آخوند محمد رضا رَضائے خُدا کا جویا۔ حاملِ قرآں، ہمہ داں، کسی علم میں عاری نہیں، روئے زمیں پر آقا محمد تبریزی سا قاری نہیں۔

مگر وہ جو مَثل ہے نیک اندر بد، یہ اصل ہے۔ لبِ معشوق مولویوں سے، یعنی ہم پہلو لُعبَتانِ مَہ رو، پری شَمائل، زُہرہ جبیں، ہر زَن رہزَنِ دیں، مشتری خصائل۔ ستم ناز، غضب انداز، سحر کرشمہ، طلسم غمزہ، آفت عشوہ، قہر ادا، قیامت گات، کرامت بات کی، کہ ہاروت و ماروت تو کیا، مَعاذ اللہ! اگر سب فرشتے عرش سے فرشِ خاک پر آئیں، اُن کی چاہ میں لکھنؤ کے کنویں بھر جائیں۔ گھڑی بھر اُن سے زانو بہ زانو بیٹھے، توبۂ نَصوحا ٹوٹے، اُن کا دروازہ نہ چھوٹے۔ لولیٔ چرخ بلا گَرداں، اُن پر نثار ہے۔ ہر ایک حور وَش، آفتِ روزگار ہے۔ خوش مزاج، مردُم شناس۔ روزمرہ شستہ۔ دمِ تقریر رَمز و کِنایہ۔ اِسی کوچے کے فیض سے انسان آدمیت بَہَم پہنچاتا ہے۔ تَراش خَراشِ اَثَرِ صحبت سے کچھ کا کچھ ہو جاتا ہے۔

کَلانوَت، قَوال بے مثال۔ چھجّو خاں، غلام رسول، سب کو موسیقی میں کمال حصول۔ شوری کے زور شور کی دنیا میں دھوم ہے۔ ٹپّے کا موجِد ہوا، سب کو معلوم ہے۔ بخشو اور سَلاری نے طبلہ ایسا بجایا کہ پَکھاوَج کو شرمایا۔

پتنگ ایسا بنا، ایسا لڑا کہ نزدیک و دور مشہور ہے۔ ستّر پچہتّر تار ڈور، اس کا پتنگ خیراتی یا چھنگا کے ہاتھ کا، لڑائی کی گھات کا، رُستم کی عافیت تنگ کرنے والا، مُنحَنی ہاتھ پاؤں پر مولوی عَمدو نے ایسا لڑایا، عَمداً اِتنا بڑھایا کہ کَرّوبِیوں سے اِس پیچ میں عِبادت چھوٹی، دوڑ دوڑ کر ڈور لوٹی۔ آنکھ بچا کر پیٹا توڑا، فرشتے خان کا پتنگ نہ چھوڑا۔ مرزا نظر علی نے ہاتھ اور نظر میں یہ زور بَہَم پہنچایا کہ ساٹھ تار کا پتنگ، مُڈھا پھینک کر بڑھایا۔ چھ سات سیر ڈور پر گھٹ بَڑھ دیکھی، کَنّا کسی کے ہاتھ نہ آیا۔ مَردان بیگ مانجھا دینے والا دیکھا نہ سنا۔

غرض یہ کہ جو چیزیں یہاں نئی بنیں اور ایجاد، طبیعت سے کاریگروں نے نکالی، سلف سے آج تک نہ ہوئی تھی۔ زَر دُوزی ایسی بنی، یہ باریکی چھنی کہ بَاہر بَندو، اَورگی کی پَنِّی جو پائیں، بجائے جیغہ و سَرپیچ، اپنے سر پر لگائیں۔ انتہائے حیرت کی بات ہے، ستّر اسّی روپے کی سادی کلابتوں کی اَورگی۔ اور جوتا گھیتلا خُرد نوک کا ببر علی نے اِس نوک جھوک کا بنایا کہ جہان کو پسند آیا۔ آرام پائی جس کے ہاتھ آئی، دل نے چَین پایا۔ پانچ اشرفی دھنیا کہاری نے دے کر جوتا سجوایا۔

چالیس سال جہان کی دیکھ بھال کی؛ ایسا شہر، یہ لوگ نظر سے نہ گزرے چنانچہ میاں محمد اشرف، نواب معتمد الدولہ بہادر کے زمانے میں باورچی خانے کے داروغہ تھے۔ آدمیت، مروت، ہمت۔ ہزاروں مرد آدمی ان کی ذات سے فیض پاتا تھا، جہان کی نعمت کھاتا تھا۔ کاریگر ایسے: معتمد الدولہ بہادر کے دستر خوان پر سَو امرا ہوتے تھے؛ چھ مہینا تک جو چیز ایک دن رو بہ رو آئی، دوسرے دن تکرار نہ ہونے پائی۔ پُلاؤ سے قَلیہ، روٹی تک روز نئی صورت کی تمام شے دستر خوان پر چُنی، ذائقے میں دیکھی نہ سنی۔ اور یہ قول تھا: جو ارشاد ہو، برس دن تک ہر روز جو چیز رو بہ رو آئے، دوسرے دن ممکن نہیں جو اس کی بو آئے۔ کاریگر ایسے تھے؛ ہمت میں امیر نہ ہوں گے، جیسے تھے۔

اور تو اور ؛ شہدا پیر بخارا کا ، ٹِمّا سا، سید الشہدا کا شیدا؛ برس روز میں جو پیدا کیا، عشرہ محرم میں محتاجوں کو نذر حسین کھلا دیا۔ یہ اک رنگی مزاج میں سمائی تمام سِن جُوا کھیلا، دُوِے کے داؤں پر ادّھی نہ لگائی۔ ایک روپیہ ہوا خواہ سو، کہہ دیا: پَو۔ سیکڑوں داؤں منجے گئے، منہ سے نہ پنجے گئے، وہاں بھی ایک چَوک لگا رہتا ہے، آدمی کے چھکّے چھٹ جاتے ہیں۔ جب وہ لوگ نظر آتے ہیں۔

مَشائخ، فقیروں کے مزار خوب۔ خواب راحت میں آسودہ سالک و مجذوب۔ شاہ مینا، شاہ پیر محمد، شاہ خیر اللہ، ایک سے ایک سبحان اللہ۔ بہ ظاہر مُردہ، حقیقت میں جیتے ہیں۔ اشیائے لطیف کھاتے پیتے ہیں۔ مولوی عبد الرحمٰن برگزیدہ یزداں، عالم با عمل، درویشِ کامل۔ خواجہ باسط اور میر نصیر، جن کا عدیل نہ نظیر۔ خواجہ حُسین و حَسَن سرگروہِ انجمن۔ طبیعت بس کہ مصروف بہ اختصار ہے، ایک ایک فقرہ لکھا ہے، وگرنہ اِن بزرگواروں کی صفت میں کتابیں تحریر کرے تو بجا ہے۔ مگر، شعر:

کارِ  دنیا  کسے  تمام نہ  کرد
ہرچہ گیرید، مختصر گیرید

اِس پر عمل کیا، مُنصِف سے انصاف طَلَب ہیں، ہَٹ دھرم سے کیا کہیں، جھوٹے کے رو بہ رو سچا رو دیتا ہے، بالفرض معترض کہے یہ لوگ کہاں کے تھے؟ تو یہ جواب شافی کافی ہے کہ یہ شہر ایسا تھا، جیتے جی یہاں سے نہ نکلے، مر گئے پر یہیں رہے۔ اور یوں تو ؏

کس نگوید کہ دُوغِ من تُرش است

جو گفتگو لکھنؤ میں کو بہ کو ہے، کسی نے کبھی سنی ہو سنائے۔ لکھی دیکھی ہو، دِکھائے۔ عہدِ دَولتِ بابر شاہ سے تا سلطنتِ اکبر ثانی کہ مَثل مشہور ہے: نہ چولھے آگ، نہ گھڑے میں پانی؛ دہلی کی آبادی ویران تھی، خَلقت مُضطر و حیراں تھی۔ سب بادشاہوں کے عَصر کے روزمَرّے، لہجے، اردوئے مُعلّیٰ کی فصاحت تصنیفِ شعرا سے معلوم ہوئی۔ یہ لطافت اور فصاحت و بلاغت کبھی نہ تھی، نہ اب تک وہاں ہے۔

قَطع نظر اِس سے، لوگ اِس خلقت کے گرہ سے کھوئیں اور جلسہ کریں۔ چنانچہ ایک بندے کے شفیق، جَگَت آشنا جناب مرزا محمد رضا، مجمع خوبی از پا تا فَرق، تخلص برق۔ فی الحقیقت کلامِ بلاغت نظام اُن کا صاعِقۂ خِرمنِ ہستیٔ حاسِد ہے۔ بھائی بند شاعروں کا بازار اُن کے رو بہ رو کاسِد ہے۔ جوانِ خوش رو، بہادر، آشنائے بامزہ، نیک خو، شبِ ماہ صحبت مشاعرہ بہ دولت خانۂ مرزا مُعیّن ہے۔ رئیس، امیر، صغیر و کبیر تشریف لاتے ہیں۔ اُس مکان وسیع میں آدمیوں کی کثرت سے جگہ کی قلت ہوتی ہے۔ ہوا کشمکش سے بار پاتی ہے، جب پنکھے کی سعی اٹھاتی ہے۔ سخن سنجِ بے رنج، خوش گو، نازک فہم، باریک بیں، نیک خو جمع ہوتے ہیں۔ لوگ اُن سے، وہ لوگوں سے لطف اٹھاتے ہیں۔ تلامذۂ مرزائے ممدوح خدمت کو حاضر۔ کورے کورے مداریے دم بہ دم۔ گِلوریاں ورق لگی، کتھا بسا، چونا سنگ مرمر کا متواتر۔ قبل از غزل خوانی افیون کا چرچا ہو جاتا ہے، کوئی پیتا ہے، کوئی کھاتا ہے۔ اگر چاہ کسی کو چائے کی ہوئی، دودھ پیتے بچے تک شیر چائے موجود کر دی۔ ہمیشہ صبح اُس شام کے جلسے کی ہو جاتی ہے۔ طبیعت گھبراتی نہیں۔ گھر جانے والوں کو صدائے مُرغ سحر، ندائے اَللّٰہُ اَکبَر آتی ہے۔ ہرچند سب لوگ یہاں کے قَہر ہیں مگر یہ بزرگوار زینتِ شہر ہیں۔

اور لکھنؤ کے جیسے بازاری ہیں، کسی شہر کے ایسے ہَفت ہَزاری ہیں۔ دَلال مُرفَّہ حال، خوش پُوشاک، چمکے چمکائے۔ اور ملکوں کے سیٹھ، کروڑ پتی لاکھ اَلسِیٹھ سے گانّڑ میں لنگوٹی یا دھوتی۔ جب بڑا تکلّف کیا گاڑھے کا مِرزائی پہن لیا۔ کلمۂ حق کہنے والے کا مَدار دار پر ہوتا ہے، منصور نگر اُس کا محلّہ ہے۔ یہ نکتہ بہ گوشِ دل و جان سُن: اَلحَقُّ مُرٌّ۔ حاسِدوں کے خوف سے یہ مذکور، مختصر کیا۔ اگر زیادہ لکھتا، قصہ ہوتا۔ کُوتَہ بیں لکھنؤ کے نام سے چِڑ جاتے ہیں، رشک کھاتے ہیں، اِفتِرا پَردازی کرتے ہیں، کھپ کر جَل مرتے ہیں۔

اچّھے آغاز کا انجام بہ خیر ہوتا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ مشقت کسی کی بے کار نہیں کھوتا ہے۔ یہ فسانہ شُروع زمانۂ غازی الدّین حیدر بادشاہ میں ہوا۔ اور تمام عَصرِ سُلطان بن سُلطان، اَبو النَّصر نصیر الدّین حیدر دَامَ مُلکُہ کے ہُوا۔

اللّٰہ اللّٰہ! یہ عجب شاہِ جمَ جاہ اَریِکہ نَشیِن ہوا کہ حاتِم کا نام، صَفحۂ سَخا سے مثلِ حرفِ غَلَط مِٹا دیا۔ فقیروں کو امیر بنا دیا۔ عیش و نَشاط کی طرف طبیعت جو آئی، ایک ایک ادنیٰ کُنجڑن، ہَفت ہزاریوں سے اعلیٰ بنائی۔ شہ زادیوں کو کہاریوں پر رشک آیا۔ خَواصوں کو صاحبِ نَوبت کیا،چَنڈول، سُکھپال میں چڑھایا۔ ہاتھی، پالکی کو جِلَو میں پھرایا۔ ہزار بارہ سَے جلسے والی حور وش، برق کِردار کَبْک رفتار، نَغز گُفتار، اَز پا تا فَرْق دریائے جواہِر میں غَرْق، ہر دم دست بَستہ رو بہ رو کھڑی رہی۔ جہان کی نعمت اُن کے سامنے پڑی رہی۔ اَصیلوں کو کروروں روپے دیے۔ پیش خدمتوں نے بادشاہت کے چَین کیے۔ قدسیہ محل پر طبیعت جو آئی، مَعاً رِفعت و شان فلکِ ہَفتُم پر پہنچائی۔ کئی کروڑ روپے اس منظورِ نظر نے صَرْف کیے۔ خزانے خالی کر، محتاجوں کے گھر بھر دیے۔ تجربہ کاروں کا قول تھا کہ ان کے بعد یہ شہر ویران اور تباہ ہو گا۔ نہ اس ہمت کی بیگم نہ اس حوصلے کا بادشاہ ہو گا۔ ہر وقت راجا اِنْدَر کی صحبت سے بہتر جلسہ رہا۔ نہروں میں عِطْر بہا۔ مکان اِس طرح کے بنوائے کہ فلکِ گرداں نے صدقے ہو کر چکّر کھائے۔ اِندراسن، گلشنِ اِرم، کس کس کا نام لوں! یہ باغ، یہ کوٹھیاں چشم و گوشِ سِنمار نے دیکھیں نہ سنیں۔ دُوازْدَہ اِمام کی درگاہ ایسی بنائی کہ چرخِ گرداں کو اور خواب میں نظر نہ آئی۔ اِندراسن میں عِطْر کا حوض چھلکتا رہا، تمام شہر مہکتا رہا۔

مُغلانیوں نے گوٹے کناری کی کَتْرَنوں سے چاندی سونے کے محل اُٹھائے۔ خاصے والیوں نے لَونگ، اِلائچی زعفران کے اپنے گھروں میں خاصے ڈھیر لگائے۔ مَکّا خَیّاط مالِ دنیا سے مالا مال ہے، اِستغنا کا دم بھرتا ہے سینا تو کیا، ٹانکا کم بھرتا ہے۔

بجز غمِ حسین، شہر یار کو اندُوہ و غم نہیں۔ کون ہے جو اِس زمانے میں شاد و خُرّم نہیں۔ اَربعین تک عَزَا داری ہوتی ہے۔ خَلقِ خدا ماتم حسین میں روتی ہے۔ لاکھوں روپیہ اس راہ میں صرف ہوتا ہے۔ چالیس شب نہیں سوتا ہے۔ تخمِ عملِ نیک مَزرعۂ آخرت میں بوتا ہے۔ روزِ تولُّدِ ہر امام و شبِ وفاتِ جگر بندانِ خیرُ الانام لاکھ لاکھ روپے کا صَرف ہے۔ اِس ہمت کے آگے فیاضانِ گُذشتہ پر حرف ہے۔ حسنِ صورت، شوکت و حشمت، جاہ و ثروت، جتنی دنیا کی خوبیاں ہیں، اللہ نے سب دی ہیں۔ ہر شب شبِ برات، روز عیدَین کے ہیں۔ سیرِ دریا کی دفعتاً جو لہر آئی، گنگا سے نہر منگائی۔ اِس میں بھی غُرَبا نہال، کارِندے مالا مال ہو گئے۔ بس کہ خامۂ مؤلِّف اختصار رقم ہے، مگر جتنا اُس کی صفت میں لکھیے، بہت کم ہے۔ لہٰذا اِس غزل پر مطلب کو اِختتام دیا۔ یہ داستان وہ نہیں جو لکھی جائے، ناچار تمام کیا۔ غزل:

تا ابد قائم رہے فرماں روائے لکھنؤ
گو ملے جنت بھی رہنے کو بجائے لکھنؤ
رشک کھا کھا، گو فلک مجھ سے چھڑائے لکھنؤ
یا تو ہم پھرتے تھے اُن میں یا ہوا یہ انقلاب
اِستغنا سے کیا کیا آرزو کرتی ہے رشک
کیوں گمانِ زاغ بلبل کے ترانے پر نہ ہو
ہر محلے سے بچانا جی، ہے عیسی کو محال
جن و انس و وحش و طائر کیوں نہ سب محکوم ہوں
دشت غربت میں کیا برباد وحشت نے تو کیا
یہ رہے آباد یارب تا بہ دَورِ مشتری
یہ نصیر الدین حیدر بادشائے لکھنؤ
چونک میں اٹھتا ہوں اس پر کہہ کے ہائے لکھنؤ
تب میں جانوں، دل سے جب میرے بھلائے لکھنؤ
پھرتے ہیں آنکھوں میں ہر دم کوچہ ہائے لکھنؤ
جامِ جم پر تُف نہیں کرتے گدائے لکھنؤ
یاد آ جائیں جو وہ نغمہ سرائے لکھنؤ
چھوڑتے جیتا نہیں معجز نمائے لکھنؤ
ہے سلیماں ان دنوں فرماں روائے لکھنؤ
دل سے اڑتی ہے کوئی اپنے ہوائے لکھنؤ
میں کہیں ہوں، مانگتا ہوں پر دعائے لکھنؤ

بلبل شیراز کو ہے رشک ناسخ کا سرورؔ
اِصفہاں اِس نے کیے ہیں کوچہ ہائے لکھنؤ

الٰہی! بہ حُرمت سید ابرار احمد مختار و بہ تصدّقِ ائمۂ اطہار، لکھنؤ کو آباد رکھ۔ والیٔ ملک کو یہاں کے کار فرما، رعیت پرور، سریر حکومت پر دل شاد رکھ۔ جب تک گنگا جمنا میں پانی بہے، یہ خطہ دلچسپ، فرح افزا آباد رہے۔ فَرد:

الٰہی! لکھنؤ بستا رہے دور قیامت تک
سُرورِ دشت پیما کا کبھی وہ شہر مَسکَن تھا

اور مقلد یہاں کے، موجد سے بہتر ہوتے ہیں۔ شاگرد ہو کر استاد کے ہمسر ہوتے ہیں۔ مَطبع اِس شہر میں اکثر سنگ کے ہیں، نمونے نیرنگ کے ہیں، مگر ہمارے شفیق و مہربان، یک رنگ حاضر و غائب یکساں جناب مولوی محمد یعقوب صاحب مدظلہ عزیزِ دِلہا، ہمہ صفت موصوف ہیں۔ دور دور مشہور و معروف ہیں۔ سابق ازیں فرنگی محل میں چھاپہ خانہ تھا، العاقِل تکفیه الإشارة، رشکِ اَبنائے زمانہ تھا۔ اخبار کا پرچہ چھپتا تھا، اِن کا پتہ نہ چھپتا تھا۔ خوش نویس ایسے جمع ہوتے تھے اور محرر اپنے لکھے کو روتے تھے۔ اپنے اپنے انداز پر بے نظیر، یادگار آغا، ہم پہلوئے میر۔ کلیں ولایتی دل کو بے کل کرتیں۔ یہ تکلف کہ بے پاؤں اشاروں پر چلتیں۔ کانپی کو دیکھ کر جی کانپتا۔ کیسا ہی زبردست جوان ہو، بے فرمائے، ایک فرما نکالنے میں ہانپتا۔ پتھروں پر ایسی جلا کہ دمِ نظارہ پَیکِ نگاہ کا پاؤں پھسلتا۔ یہ صفا اگر بہ غور دیکھو تو قلم مو سے یہ لکھا ہے کہ ہر پتھر پر طور کا جلوہ ہے۔ کتب پارینہ کے واسطے احیائے اموات کا نقشہ تھا، معجزۂ عیسیٰ کے اثبات کا نقشہ تھا۔ شائقوں سے اَرِنی کی جب صدا آتی، بیلن سے بے لَن تَرَانی اور نہ ندا آتی۔ گو تحریر کا مقدّمہ زمانے میں ہے، سیاہی میں روشنائی کا جلوہ اسی کارخانے میں ہے۔ جو کتاب چھپی، وہ مرقّع مانی کی تصویر تھی۔ حرف مٹنے کا کیا حرف، مثلِ نوشتۂ تقدیر تھی۔

شہروں میں اس چھاپے کی دھوم تھی، گردش تقدیر کسے معلوم تھی! دفعتاً فلک نے یہ چکر کھایا۔ حرف غلط کی طرح رگڑ کے شہر کو مٹایا۔ پرویں سے بناتُ النعش کی صورت نظر آئی۔ ایسا تفرقہ پڑا کہ پھر نہ کسی کی خبر پائی۔ فقیر حسب الطلب مہاراج ایسری پرشاد ناراین سنگھ بہادر راج بنارس دام حشمتہم بنارس میں آیا۔ شکر صد شکر کہ رئیس والا جاہ، رعیت پناہ، غریب نواز، غربا پرور، باریک بیں، قدر شناس، سخی، شجاع، سخن فہم، عدل گستر پایا۔ دریٖں وِلا، دوستوں کی تحریک سے مولوی صاحِب کو شغلِ پاریٖنہ منظور ہوا، پہلے عزمِ فسانۂ سُرور ہوا، اِس کی صحت کی خاطر بندے کو لکھا، بجز اِقرار چارہ نہ ہوا، انکار گوارا نہ ہوا۔

ہر چند یہ فَسانہ، بہ طرزِ زمانہ، ہر ایک چھاپہ خانے میں نیا نیا رنگ لایا، جس نے چاہا جس فقرے پر پانی پھیرا، صفحۂ کتاب سے بہایا، بہ قولِ فقیر: جو مضمون سمجھ میں نہ آیا نہ پڑھا گیا، وہ کُند بَسولے سے گڑھا گیا، جَودَتِ قلم نثاروں کی ہوئی، اصلاحِ خط یاروں کی ہوئی۔ شعر:

اور تو بس نہیں چلتا ہے رقیبوں کا، وَلے
سوز کے نام کو لکھ لکھ کے جَلا دیتے ہیں

یہ نہیں سمجھتے،  ؏

قبولِ خاطر و لطفِ سخن خدا داد است

تُعِزُّ مَن تَشاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاء۔حاسد مفلس کے چراغ کی طرح جھلملا کے جلتے ہیں، فروغ کیا ہو، منہ کی کھاتے ہیں، ٹیڑھی راہ چلتے ہیں۔ فقیر نے اِس کے دیکھنے میں عَرق ریزی ازحد کی۔ حضرت کے خوف سے انتہا کی کد کی۔ جس جگہ محل اور موقع پایا ہے کیا کیا جملہ بڑھایا ہے۔ طبیعت نے بڑھاپے میں کیا کیا زور دکھایا ہے۔ کہنے کو قصہ ہے، کہانی ہے، ہر جا تصویر کھینچی ہے، مرقعِ مانی ہے۔ ہر صفحہ رشک گلزار، باغ سراپا بہار ہے، مگر حاسد کے دل میں کھٹکتا ہے، خار ہے۔ ایسی مَتاعِ گراں بہا کس گنجینے میں ہے، جس کی جگہ ذی فہم قدر شناسوں کے سینے میں ہے۔ باریک بیں، نکتہ سنج، مرنجاں مرنج خود دیکھ لیں گے کہ اور نسخوں میں کیا ہے اور اس میں کیا لکھا ہے۔ فصاحت کا دریا بہا دیا ہے۔ حشر تک اِس کے شائق دنیا میں کم نہ ہوں گے، قیامت یہ ہے کہ ہم نہ ہوں گے۔ الٰہی! جب تک فلک کی حرکت سے چمنِ دنیا میں نسیم بہاری رہے، کار فرما سرسبز، کام جاری رہے۔

بندہ کم ترینِ تلامِذہ اور خوشہ چینِ خرمن سخنِ جناب قبلہ و کعبہ، استادِ شاگرد نواز، مُعزز و مُمتاز، مجمعِ فضل و کمال، نیک سیرت، فرخُندہ خِصال، خِرد آگاہ، دانش آموز، یادگارِ جناب میر سوز، عرفیٔ عصر، سعدیٔ زماں، رشکِ انوری و خاقانی آغا نوازش حسین خاں صاحب، عرف مرزا خانی، تخلص نوازش ہے۔ حقیقت حال یہ مَقال ہے کہ طرزِ ریختہ اور روزمرہ اردو کا اُن پر ختم ہے۔ شعر ان کے واسطے، وہ شعر کی خاطر موضوع ہیں۔ کہنے کے علاوہ، پڑھنے کا یہ رنگ ڈھنگ ہے اگر طفل مکتب کا شعر زبانِ مُعجِز بیاں سے ارشاد کریں، فیضِ دَہاں، تاثیر بیاں سے پسندِ طبعِ سَحبانِ وائل ہو۔ فی زمانہ تو کیا، سابقین جو موجِدِ کلام کوسِ لِمنِ المُلکِی بجاتے تھے، ان کے دیوانوں میں دس پانچ شعر تَناسُبِ لفظی یا صنائع بدائع کے ہوں گے، وہ اُن پر نازاں تھے اور مُتاخّرین فخریہ سند گردانتے ہیں، لہذا جس شخص کو فہم کامل یا اس فن میں مرتبہ کمال حاصل ہو اور طبع بھی عالی ہو، آپ کا دیوان بہ چشمِ انصاف و نظرِ غور سے دیکھے، کوئی غزل نہ ہو گی جو کیفیت سے خالی ہو۔ ہر مصرع گواہِ ہزار صنعت، ہر شعر شاہدِ معانی، با کیفیت۔ مطلع سے مقطع تک ہر غزل پری کی صورت، اکثر اشعار آپ کے تبُّرکاً و تیّمناً بہ طریق یادگار بندے نے لکھے ہیں، جہاں لفظ ‘‘استاد” ہو، وہ آپ کا شعر سمجھو۔

 

وجہِ تالیف اس قصۂ بے نظیر کی

 

اور کیفیت صاحبِ فرمائش کی تقریر کی۔

حکیم صاحب کی تحریک، سفر کانپور کا، لکھنا سُرور کا

حسب اتفاق ایک روز چند دوست صادق، محب موافق باہم بیٹھے تھے، مگر نیرنگیٔ زمانہ، نا ہنجار اور کج رویٔ فلکِ سِفلَہ پرور، دوں نواز، جفا شعار سے سب بادِل حزیں و زار اور ہجومِ اندوہ و یاس سے اور کثرت حرمان و افکار سے کہ ہر دم یہ پاس تھے؛ دل گرفتہ، سینہ ریش، اور اداس تھے؛ یہ ذکر بر زباں آیا کہ شعبدہ بازیٔ چرخ چنبریٔ نیلی فام از آدم علیہ السلام تا این دم یوں ہی چلی آئی ہے۔ اور تفرقہ پردازی، رنج و محن سے سِوا آزار دیتی ہے، یہ ادنیٰ اس ظالم کی کج ادائی ہے۔ اب یہی غنیمت جانیے، اس کا احسان مانیے کہ تم ہم اس دم باہم تو بیٹھے ہیں۔ اُستاد:

جو ہم تم پاس بیٹھے ہیں، سُنو، یہ دم غنیمت ہے
یہ ہنسنا بولنا رہ جائے، تو کیا کم غنیمت ہے

اور واقعی شِدتِ رنج و اَلَم میں دوستِ صادق، یارِ مُوافق ہَم پہلو ہو تو کچھ خیال میں نہیں آتا ہے، دل بہل جاتا ہے۔ اور صحبتِ غیر جِنس میں تختِ سلطنت، تختۂ تابوت سے بدتر ہو کے کاٹے کھاتا ہے۔ سعدیؔ:

پای در زنجیر پیشِ دوستاں
بِہ کہ با بیگانگاں در بوستاں

لیکن زمانے کی عادت یہی ہے کہ باوجودِ کثرتِ غم و شِدتِ اَندوہ و اَلَم، دو شخص باہم نہیں دیکھ سکتا۔ مرزا:

پھینکے ہے مَنجنیقِ چرخ، تاک کے سنگِ تَفرِقَہ
بیٹھ کر ایک دم کہیں، ہوویں جو ہم کلام دو

جب سلسلۂ سخن یہاں تک پہنچا، اُس زمرے میں ایک آشنائے با مزہ بندے کے تھے، انھوں نے فرمایا: اِس وقت تو کوئی قصہ یا کہانی بہ شیریں زبانی ایسی بیان کر کہ رفعِ کُدورَت و جَمعِیّتِ پریشانیٔ طبیعت ہو اور غُنچۂ سَر بستۂ دل، جو سَمومِ حوادِث سے مضمحل ہے، بہ اہتزازِ نسیمِ تکلم کِھل جائے۔ فرماں بردار نے بجز اقرار، اِنکار مناسب نہ جانا، چند کلمے گوش گُزار کیے۔ اگرچہ گریہ کردن را ہم دلِ خوش می باید، مگر اس نظر سے،  مصر؏

ہر چہ از دوست میرسد، نیکو ست

وہ باتیں انھیں بہت پسند آئیں، کہا: اگر بہ دل جَمعیٔ تمام تو اِس پَراگَندہ تقریر کو، از آغاز تا انجام، قصے کے طور پر زبانِ اردو میں فراہم اور تحریر کرے تو نہایت منظورِ نظرِ اہلِ بصر ہو، لیکن تقصیر معاف ہو، لغت سے صاف ہو۔ بندے نے کہا: طبیعتِ ابنائے روزگار بیش تر متوجہِ عیب جوئی و ہُنر پوشی ہے، بہ قولِ دِلگیرؔ، شعر:

قُبح کے دیکھنے والے تو بہت ہیں دلگیرؔ
اور یہاں حُسن شَناسانِ سُخَن تھوڑے ہیں

وہ بولے: چَشمداشتِ صلہ، طَلَبِ اُجرت کسی سے مُتَصوِّر نہیں، فقط ہماری خوشی مَدِّ نظر رکھ۔ جیسا رَطب و یابس کہے گا، ہمیں پسند ہے؛ بہ شرطے کہ جو روزمرہ اور گفتگو ہماری تمھاری ہے، یہی ہو۔ ایسا نہ ہو کہ آپ رنگینیٔ عبارت کے واسطے دِقّت طلبی اور نکتہ چینی کریں، ہم ہر فقرے کے معنی فَرنگی محل کی گلیوں میں پوچھتے پھریں۔ نِیاز مند نے کہا: یہ تو مُقدمۂ تحریر ہے، اگر سر سرکار کے کام آئے، جائے تقریر نہیں، مگر جلدی نہ کرنا، بہ وقتِ فرصت لکھوں گا۔ وہ تو یارِ شاطِر، نہ بارِ خاطِر تھے؛ قبول کیا۔

اُسی دن سے ہمیشہ اِس کا خیال رہتا تھا، عدمِ فرصت سے نہ کہتا تھا۔ آخِر الاَمر بہ مقتضائے عادت، تلاشِ مَعاش کے حیلے میں فلکِ تَفرِقہ پرداز، گردون عَربَدہ ساز نے صورت مُفارَقت کی دکھائی، مُہاجَرت وطن آوارہ کے استقبال کو آئی۔ مَسرّتؔ:

بوقتِ لقمہ خوردن اے مسرتؔ! گفت لبہایم
کہ روزی میکند از ہم جدا یارانِ ہمدم را

ربیع الثانی کے مہینے میں کہ سنہ ہجری نبَوی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بارہ سَے چالیس تھے، آنے کا اتفاق مجبور، کوردِہِ کان پور میں ہوا۔ بس کہ یہ بستی ویران، پوچ و لَچَر ہے۔ اَشراف یہاں عَنقا صفت نا پیدا ہیں اور جو ہوں گے تو گوشہ نشیں، عُزلَت گُزیں، مگر چھوٹی اُمّت کی بڑی کثرت دیکھی۔ یہ طَور جو نظر آیا، دلِ وحشت منزل اِس مَقام سے سخت گھبرایا۔ قریب تھا جُنون ہو جائے، تیرہ بختی روزِ سیاہ دکھائے، لیکن بہ شربتِ عنایت و معجونِ شَفقتِ ارَسطو فِطرت، بُقراط حِکمت، حار و بارِدِ زمانہ دیدہ، تجربہ رسیدہ حکیم سید اسد علی صاحب شیرِ بیشۂ علم و کمال، سخن فہم، ظریف، خوش خِصال؛ طبعِ سودا خیز اور سرِ جُنوں انگیز کو آرام و تسکیں حاصل ہوئی۔ اکثر حالِ فقیرِ دل گیر پر اَلطاف و کرم فرماتے تھے۔ تدبیریں نیک و اَحسَن، دافِعِ رنج و محن بتاتے تھے۔

ایک روز بعد اظہارِ حالِ مُکلِّفِ فسانۂ دوستانہ، یہ بھی کہا کہ حسبِ وعدہ ایک کہانی لکھا چاہتا ہوں۔ سُن کے فرمایا: بیکار مَباش، کچھ کیا کر۔ میرؔ:

میرؔ! نہیں پیر تم، کاہلی اللہ رےنامِ خدا ہو جواں، کچھ تو کیا چاہیے

اُس وقت یہ کلمہ تَوسَنِ طبع کو تازیانہ ہوا، تحریر کا بہانہ ہوا۔ اگرچہ اِس ہیچ مَیرَز کو یہ یارا نہیں کہ دعویِ اردو زبان پر لائے یا اِس فسانے کو بہ نظَرِ نَثّاری کسی کو سنائے۔ اگر شاہ جہاں آباد کہ مَسکَنِ اہلِ زباں، کبھی بیت السلطنتِ ہندوستاں تھا، وہاں چَندے بود و باش کرتا، فصیحوں کو تلاش کرتا، اُن سے تحصیلِ لا حاصل ہوتی، تو شاید اِس زبان کی کیفیت حاصل ہوتی۔ جیسا میر امّن صاحب نے قصہ چار درویش کا باغ و بہار نام رکھ کے خار کھایا ہے، بکھیڑا مچایا ہے کہ ہم لوگوں کے دہَن، حصے میں یہ زبان آئی ہے؛ مگر بہ نسبت مولفِ اول عطا حسین خاں کے، سو جگہ منہ کی کھائی ہے۔ لکھا تو ہے کہ ہم دلی کے روڑے ہیں، پر مُحاوروں کے ہاتھ پاؤں توڑے ہیں۔ پتھر پڑیں ایسی سمجھ پر۔ یہی خیال انسان کا خام ہوتا ہے۔ مفت میں نیک بد نام ہوتا ہے۔ بشر کو دعویٰ کب سزا وار ہے۔ کامِلوں کو بیہودہ گوئی سے انکار بلکہ ننگ و عار ہے۔ مُشک آنست کہ خود بوید، نہ کہ عطّار گوید۔ یہ وہی مَثل سننے میں آئی کہ اپنے منہ سے دھنّا بائی۔ لیکن تحریر اِس کی، ایفائے تقریر ہے۔ قصہ یہ دل چسپ، بے نظیر ہے۔

امید ناظرین پُر تمکیں سے یہ ہے کہ بہ چشمِ عیب پوشی و نظرِ اصلاح مُلاحظہ فرما، جہاں سَہو یا غلَطی پائیں، بہ اصلاح مُزَیّن فرمائیں۔ کیسی ہی طبیعتِ عالی ہو، ممکن نہیں جو بشر خطا سے خالی ہو۔ اِس کے مُطالعے سے خاطرِ خطیر اگر شاد ہو، عاصی دعائے خیر سے یاد ہو۔ نیاز مند کو اس تحریر سے نَمودِ نظم و نثر، جَودَتِ طبع کا خیال نہ تھا۔ شاعری کا احتمال نہ تھا۔ بلکہ نظر ثانی میں جو لفظ دِقَّت طَلَب، غیر مستعمل، عربی فارسی کا مشکل تھا، اپنے نزدیک اُسے دور کیا۔ اور جو کلمہ سَہلِ ممتنع، مُحاورے کا تھا، رہنے دیا۔ دوست کی خوشی سے کام رکّھا، فسانۂ عجائب اِس کا نام رکھا۔ اِنّهُ المُبدِءُ وَ اِلَیهِ المَــــــآب۔ عِنایتِ ایزَدی سے تمام ہوئی کتاب۔

 

آغاز داستان

 

آغاز داستانِ اعجاز بیاں سلطنت فیروز بخت کی اور تلاش

اُس کو وارثِ تاج و تخت کی۔ خوش قسمتی سے حاجت کا بر آنا،

گوہرِ دُرجِ شہریاری صَدَفِ تمنّا سے پانا

اُستاد:

مَثل ہی سے، نہ الفاظِ تَلازُم سے یہ خالی ہے
ہر اک فِقرہ کہانی کا گواہِ بے مِثالی ہے

لا اعلم:

یادگارِ زمانہ  ہیں ہم  لوگسن رکھو تم،فسانہ ہیں ہم لوگ

گِرہ کُشایانِ سلسلہ سخن، تازہ کُنِندَگانِ فسانہ کہن، یعنی مُحرّرانِ رنگیں تحریر و مُورِّخانِ جادو تقریر نے، اَشہبِ جَہِندَہ قلم کو میدانِ وسیع بیاں میں، با کرشمۂ سحر ساز و لطیفہ ہائے حیرت پَرداز گرم عِنان و جَولاں یوں کیا ہے کہ سرزمینِ خُتَن میں ایک شہر تھا مِینو سواد، بہشت نژاد، پسندِ خاطِر محبوبانِ جہاں، قابلِ بود و باشِ خوبانِ زماں۔ شمیمِ صفت اُس کی مُعَطَّر کُنِ دماغِ جاں، مُسکّنِ التہابِ قلب، دافِعِ خَفَقاں۔ زمین اُس کی رشکِ چرخِ بریں۔ رفعت و شان چَشمک زَنِ بَلندیِ فلکِ ہفتُمیں۔ گلی کوچے خجلت دِہِ گُلشن۔ آبادی گُلزار، بَسانِ تختۂ چمن۔ بازار ہر ایک بے آزار، مُصفّیٰ، ہموار۔ دکانیں نفیس۔ مکان نازک، پائیدار۔ خلقِ خدا با خاطرِ شاد اُسے فُسحَت آباد کہتی تھی۔ سب طرح کی خلقت، ہر طور کی رعیّت رغبت سے اُس میں رہتی تھی۔

والیٔ ملک وہاں کا شاہِ گَردوں وَقار، پُر تمکین، با افتخار، سکندر سے ہزار خادم، دارا سے لاکھ فرماں بردار، قُباد شوکت و کاؤس حَشم، مالکِ تاج و تخت، والا مَرتَبَت، عالی مَقام، شاہنشاہ فیروز بخت نام۔ موجِ بخشش سے اُس بحرِ جود و عطا کی، سائلانِ لب تشنہ سیراب اور نائرہ غَضَب کے شعلے سے، دشمنِ بد باطن جگر سوختہ، بے تاب۔ دبدبۂ داد دہی، غُلغُلۂ عدالت سے، دشمن دوستِ جانی۔ چور مسافر کے مال کا نگہبان، ڈکیتوں کو عہدۂ پاسبانی۔ ملک وافِر۔ سِپاہ افزوں از قیاس۔ خزانہ لا انتہا، بے کراں۔ وزیر، امیر جاں فشاں۔ تاج بخش و باج سِتاں۔ محتاج اور فقیر کا شہر میں نام نہیں۔ داد فریاد، آہ و نالے سے کسی کو کام نہیں۔ رعیّت راضی۔ سپاہ سَر فروش، جاں نثار، شاداں۔ دشمن خائف۔ شمع کا چور سرِ محفل لرزاں۔ اِس نام سے یہ ننگ تھا کہ امیروں کا چور محل نہ ہونے پاتا تھا۔ دُزدِ حنا کا رنگ نہ جمتا تھا، سرِ دست ہاتھ باندھا جاتا تھا۔ آنکھ چُرانے سے ہم چشم چشمک کرتے تھے۔ کارِ خیر سے اگر کوئی جی چُراتا تو نامردی کی تہمت اس پر دھرتے تھے۔

لیکن بہ ایں حکومت و ثَروَت، کاشانۂ امید کا چراغ گُل، اولاد بالکل نہ تھی، خواہشِ فرزند دَر دل، نہ ہونے کی کاہِش مُتصِل، حسرتِ پِسر میں رَبِّ لَا تَذَرْنِى فَرْدًا وَ أَنْتَ خَیرُ الوَارِثِیْنَ ہر ساعت بَر زباں و رَبِّ ھَبْ لِي مِنْ لَدُنْك وَلِیّاً وظیفۂ ہر زماں۔ لڑکے کی تمنا میں بادشاہ مثلِ گدا دست دراز، ایسا لاپروا، بے نیاز کی قدرت سے، بانِیاز۔

آخِرش جناب باری میں تضَرُّع وَ زاری اس کی منظور ہوئی، لا ولدی کی بدنامی دور ہوئی۔ ساٹھ برس کے سِن میں، بڑھاپے کے دن میں گَوہرِ آب دار دُرِ شاہوار، صَدَفِ بطنِ بانوئے خُجستہ اَطوَار سے پیدا ہوا۔ چھوٹا بڑا اس کی صورت کا شیدا ہوا۔ اس روح افزا کا، فیروز بخت نے جانِ عالم نام رکھا۔ شب و روز پَرورش سے کام رکھا۔ حُسن اللہ نے یہ عطا کیا کہ نَیّرِ اَعظَم چَرخ چارم پر رُعبِ جمال سے تھرایا، اور ماہ باوجود داغِ غلامی، تابِ مشاہدہ نہ لایا۔ اُس نقشِ قدرت پر تصور مانی و بہزاد حیران اور صنّاعی آزر کی ایسے لُعبَت حقیقت کے رو برو پشیمان۔ کاسۂ سَر سراسر شُورِ جوانی، زورِ شباب سے مَعمُور۔ آنکھیں جھپکانے والی دیدۂ غَزالانِ خُتَن کی،شرابِ عشق کے نشے سے چَکنا چور۔ چہرے پر جلالِ شاہی، شَوکتِ جہاں پناہی نُمایاں، حسنِ دَرَخْشِندَہ کی تڑپ بہ از انجم و اختر تاباں۔ مصحفی:

اُسے دیکھ طِفلی میں کہتی تھی دَایہ
یہ لڑکا طرح دار پیدا ہوا ہے

مرزا قتیل  ؏:

پارہ خواہد شدازیں دست گریبانے چند

لکھا ہے کہ جب وہ مہر سپہر سلطنت برج حمل سے جلوہ افروز ہو، زینت بخش کنار مادر و زیب دہ آغوش دایہ ہوا، در خزانہ و محبس کھلا۔ ہزارہا قیدی رہا ہو اپنے گھر آیا اور سینکڑوں لو نڈی غلام نے فرمان آزادی پایا۔ شہر میں محتاج ناپید تھا، مگر اشرفی، روپیہ حاجیوں کے واسطے مکہ معظم اور زائروں کی خاطر کربلائے مکرم میں پیہم بھیجا۔ ایک سال کا خراج رعیت محتاج کو معاف ہوا۔ شہ زادے کے نام کے گنج آباد ہوئے۔ مسجدیں، مدرسے، مہمان سرا، مسافر خانے تعمیر ہوئے۔ اہل شہر دل شاد ہوئے۔

نجومی، پنڈت، جفر داں حاضر ہوئے۔ بہت سوچ بچار کر برہمنوں نے عرض کی: مہاراج کا بول بالا، جاہ و حشم ہر دم بڑھے، مرتبہ دو بالا، اعلیٰ رہے۔ ہماری پوتھی کہتی ہے: بھگوان کی دیا سے شہ زادے کا چندرماں بلی ہے۔ چھٹا سورج ہے۔ جو گرہ ہے وہ بھلی ہے۔ دیگ تیگ کا مالک رہے۔ دھرم مورت یہ بالک رہے۔ جلد راج پر براجے۔ پرتھمی میں دھوم مچے، ایسی شادی رچے۔ استری تین ہو۔ دو کا پر، مان، ایک کی بین ہو۔ مگر پندرھویں برس مشتری بارھویں آئے گی، سنیچر پاؤں پڑے گا۔ ایک پنکھیرو سُوے کے برن میں ہاتھ آئے گا۔ تِریا کی کھٹ پٹ سے وہ بچن سنائے گا کہ راج پاٹ چھڑا، دیس سے بدیس لے جائے گا۔ ڈگر میں شاہ زادہ بھٹکے گا، کوئی مانس پاس نہ پھٹکے گا۔ ساتھی چھٹیں۔ اپنے ڈیل سے ڈانوا ڈُول رہے۔ پھر ایک مَنُکھ، ٹھاکر کا سیوک کرپا کرے، راہ لگائے۔ کوئی کلنکن، لُوبھی ہو، کشٹ دکھائے۔ وہاں سے جب چھٹے، رانی ملے مہا سندر، وہ چرن پر پِران وارے، پِتا اس کا گیانی، گُن کی تکھتی دے، اُس سے کئی ملچھ مارے، دکھ میں آڑے آئے، بگڑے کاج بنائے۔

جب اُس نگر پہنچے، جس کی چِت میں گھر چھوڑے، تو لاب بہت ہو، دَرَب، گہنے ہاتھ آئیں۔ دور سب کَلیس ہو جائیں۔ پر ایک ہِتی، من کا کپٹی، اِستری پر دُچِت، کھٹائی کرے۔ جُنجھ پڑیں، نر ناری لڑیں۔ اور کچھ جل میں بھی ہل چل پڑے۔ پریتی لوگ چھٹ جائیں۔ نگر نگر کھوج میں پھر آئیں۔ سب بچھڑے مل جائیں۔ ماتا پِتا کے ڈِھگ آئیں۔ بڑا راج کرے۔ دَیا دھرم کے کاج کرے۔ گُسَیّاں کی کرپا سے جان کی کھیر ہے۔ بڑی بڑی دھرتی کی سیر ہے۔

یہ سن کے بادشاہ گونہ ملول ہوا۔ پھر مستقل مزاجی سے یہ کلمہ فرمایا: فِعل الحکِیم لَا یَخلُو عَنِ الحِکمة، ان سب کو بقدرِ حال، فراخور کمال مالا مال کیا۔ خلعت و انعام دیا۔ بہ بشاشت تمام سرگرم پرورش صبح و شام رہا۔ کوئی تو برسوں میں بڑھتا ہے، وہ نہال نَو دمیدہ بُستانِ سلطنت گھڑیوں میں بلند بالا ہوتا تھا۔ چند عرصے میں، بہ حَول و قوتِ الٰہی، وہ ہاتھ پاؤں نکالے، دس برس کے سِن میں اس غزال چشم نے ہِرن کے سینگ چیر ڈالے۔ دست و بازو میں یہ طاقت ہوئی کہ درندۂ فیل مست ہوا۔ جوان رعنا، چہرہ زیبا، رُستم شوکت، اِسفند یار سے زبردست ہوا۔ جو اُس کا روئے منوّر دیکھتا، یہ کہتا، لا اَعلم:

مُنہ دیکھو آئنہ کا، تری تاب لا سکے
خورشید پہلے آنکھ تو تجھ سے ملا سکے
تصویر تیری کھینچے مُصوِّر تو کیا مجال
دستِ قضا تو پھر کوئی تجھ سا بنا سکے

تحصیلِ علم و فَضل میں شہرۂ آفاق ہوا۔ جتنے فنِ سپہ گری ہیں، اُن کا مَشّاق۔ جَمیع عُلوم، ہر فن میں طاق ہوا۔ جَلَّ جَلالُہ! باپ ویسا، بیٹا ایسا محبوب، مَحبّت میں بَسانِ یوسف و یعقوب علیہما السلام۔ جب وہ ہِلالِ سپہرِ شَہر یاری بہ فضلِ باری بدرِ کامل ہوا اور چَودھواں بَرس بھر گیا، جوانوں میں شامل ہوا۔ بہ صَلاح و صَواب دیدِ اَرکانِ سلطنت و ترقّی خواہانِ دولت شادی کی تجویز ہوئی۔ بہ تلاشِ بے شمار و تجسس بِسیار ایک شہ زادی پری پیکر، خوب صورت، نیک سیرت، حور نِژاد، گُل اَندام، سیمیں بَر، رشکِ سَرو، غیرتِ شمشاد، ماہ طلعت نام، دود مانِ والا سے مُقرّر ہوئی۔ وہ جو آئینِ بادشاہی، طریق فرماں روائی ہے، اُسی طرح اُس کے ساتھ اُس اَخترِ تَابِندۂ فلکِ شاہی کو ہَمقِراں کیا، نکاح پڑھوا دیا۔

 

جَولانی سَمَندِ تیز رفتار ِقلم کی

 

میدانِ بیانِ سواریِ شہ زادۂ جانِ عالم میں،

اور خریدنا توتے کا، اور کج بحثی ماہ طلعت کی توتے سے۔ پھر

کیفیتِ حُسنِ انجمن آرا توتے سے سننا، شہ زادے کا

نادیدہ عاشق ہونا، وحشت سے سر دُھننا

بُلبلِ نَوا سَنجِِ ہزار دَستاں، طوطیٔ خامۂ زَمزَمہ ریزِ خوش بیاں گلشنِ تقریر میں اِس طرح چہکا ہے، صفحۂ فسانہ مہکا ہے کہ بعد رسمِ شادی، سیر و شکار کی اجازت، سواری کا حکم شاہِ ذَوِی الاقتدار سے حاصل ہوا۔ گاہ گاہ شام وپگاہ جانِ عالَم سوار ہونے لگا۔ سیر و شکار کی طرف مائل ہوا۔ ایک روز گزر اُس کا گُذری میں ہوا۔ اَنبُوہِ کثیر، جَمِّ غَفیر نظر آیا اور غُلغُلۂ تحسین و آفریں از زمیں تا چرخِ بَریں بلند پایا۔ شہ زادہ اُدھر متوجہ ہوا، دیکھا ایک مردِ پیر، نحیف، ستَّر اَسِّی برَس کا سِن، نہایت ضعیف، پنجرہ ہاتھ میں لیے کھڑا ہے۔ اُس میں ایک جانور، مانندِ ساکنانِ جِناں سبز پُوش، طائرِ بے مُروّت، خانہ بدوش، با مِنقارِ گلنار لطیفے لطیف، رنگین اور نقطے قابلِ تعریف، نمکین، مثالِ طوطیِ پسِ آئینہ بیان کر رہا ہے۔ تماشائیوں کی کثرت سے بازار بھر رہا ہے۔ لا اَعلم:

در پس آئینہ طوطی صِفَتَم داشتہ اند
اُنچہ اُستادِ ازل گفت، ہَماں می گویم

شہ زادے کے دیکھتے ہی توتا مالک سے بولا: اے شخص! کَوکَبِ بَخت تیرا افلاس کے بُرجِ تِیرَہ سے نکلا، نصیب چمکا۔ طالع بر سرِ یاری و زمانہ آمادۂ مددگاری ہوا۔ دیکھ! ایسا شہ زادۂ حاتِم شِعار، ابرِ گُہر بار متوجّہ اِس مُشتِ پَر، ذرَّۂ بے مقدار پر ہوا ہے۔ وہ بے کار شے کارگاہِ بے ثبات میں ہوں، جس کا طالب نہیں کہیں۔ بہ حدّے کہ جانور ہوں، اور بِلّی کا کھاجا نہیں، مگر جو یہ نظرِ عنایت کرے: ابھی تیرا ہاتھ پُر زَر ہو، دامن گُہر سے بھرے۔

جانِ عالَم نے یہ سخنِ ہوش رُبا، کلمۂ حیرت افزا کو سُن، توتے عقل کے اُڑا، پِنجرہ اُس طائِرِ ہَمَہ داں، جانورِ سحر بَیاں کا ہاتھ میں لے کے مالک سے قیمت پوچھی۔ توتے نے کہا، مُؤَلِّف:

کب لگاتا ہے کوئی اِس دلِ بے حال کا مول
سب گھٹا دیتے ہیں مُفلس کے غرض مال کا مول

مگر جو حُضور کی مرضی! جانِ عالم نے لاکھ روپے، خلعت کے سِوا، عِنایِت کیے اور پِنجرہ ہاتھ میں لیے دَولت سَرا کو روانہ ہوا۔ گھر میں جا، ماہ طلعت کو توتا دِکھا یہ مصرع اِنشؔا کا پڑھا، اِنشؔا:

بازار ہم گئے تھے، اک چوٹ مول لائے

توتے نے شہ زادے کو سخنانِ دل چسپ، قِصَصِ عجیب، حِکایاتِ غریب، شعرِ خوب، خمسہ ہائے مَرغوب سُنا اپنے دامِ مَحبّت میں اَسیر کیا۔ یہ نَوبت پہنچی کہ سوتے جاگتے، دربار کے سِوا، ایک دم جُدا نہ ہوتا۔ جب دربار جاتا، پِنجرہ بہ تاکیدِ حِفاظت ماہ طلعت کو سونپ جاتا اور دربار سے دیوانہ وار، بہ شوقِ گفتار بے قرار جلد پھر آتا۔

ایک دن شاہ زادہ دربار گیا، توتا محل میں رہا۔ اُس روز ماہ طلعت نے غُسل کیا اور لِباسِ مکلف سے جِسم آراستہ، زیورِ پُر تکلف سے پَیراستہ ہو، جَواہِر نِگار کرسی پر بیٹھی۔ ہَوا جو لگی، آئینے میں صورت دیکھ خود مَحوِ تماشا ہوئی۔ بحرِ عُجب و نَخوَت میں آشنا ہوئی۔ خَواصُوں سے، جلیسوں سے، جو جو دَم ساز، مَحرمِ راز تھیں، اپنے حُسن و صورت کی داد چاہی۔ ہر ایک نے مُوافقِ عقل و شعور تعریف کی۔ کسی نے کہا: ہِلالِ عید ہو۔ کوئی بولی: خُدا جانتا ہے، دید ہو نہ شنید ہو۔ اللّٰہ تعالیٰ نے، بہ ایِں کثرتِ مخلوقات، تمھارا ہمسر اَز قِسمِ جِن و بَشَر بنایا نہیں۔ پری نے یہ قَد و بالا، حور نے یہ حُسن کا جھمکڑا پایا نہیں۔

جب وہ کہہ چکیں، ماہ طلعت نے کہا: توتا بہت عقل مند، ذی شعور، سَیاحِ نزدیک و دور ہے، اُس سے بھی پوچھنا ضَرور ہے۔ مُخاطب ہوئی کہ اے مُرغِ خوش خو و طائِرِ زَمرد لباسِ سُرخ رو، بَذلَہ سَنجِ بے رنج! سچ کہنا، اِس سَج دھج کی صورت کبھی تیرے طائِرِ وَہم و خیال کی نظر سے گزری ہے؟

نَیرَنگیِ چَرخِ کج رفتار، فِتنہ پَردازِیِ گَردونِ واژوں عَیاں ہے۔ آگاہ سب جہاں ہے۔ اُس وقت توتا رنجیدہ دل، کَبیدَہ خاطِر، مضمحل بیٹھا تھا، چُپ ہو رہا۔ شہ زادی نے پھر پوچھا۔ توتے نے بے اِعتنائی سے کہا: ایسا ہی ہو! یہ رنڈی معشوق مزاج، طُرہ یہ کہ شہ زادے کی جُورو، شوہر مالکِ تخت و تاج، بَرہَم ہو کے بولی: میاں مٹھو! جینے سے خفا ہو جو ہمارے رو بہ رو چَبا چَبا کر گفتگو کرتے ہو؟ توتے نے کہا: سوال و جواب اور، دھمکانا اور حکومت سے ڈرانا، غُصے کی آنکھ دِکھانا اَور ہے۔ کیوں اُلجھتی ہو، شاید تمہی سچّی ہو! پھر تو شُعلۂ غَضَب کانونِ سینۂ شہ زادی میں مُشتَعِل ہوا، کباب دل ہوا، کہا: کیوں جانورِ بد تمیز، ناچیز، تیری مَوت آئی ہے؟ کیا بیہودہ ٹیں ٹیں مچائی ہے! واہی بک رہا ہے! ہمارا مرتبہ نہیں سمجھتا ہے! توتے کے مُنہ سے نکلا: کیوں اِتنی خفا ہوتی ہو، اپنا منہ ملاحظہ کرو، صاحب تم بڑی خوب صورت ہو!

یہاں تو یہ حیص بیص تھی، جانِ عالم تشریف فرما ہوا۔ عجب صحبت دیکھی کہ شہ زادی بہ چشمِ پُر آب و با دلِ کباب، غیظ میں آ، تھرّا تھرّا توتے سے بحث رہی ہے۔ شہ زادے نے فرمایا: خیر باشد! توتا بولا: آج نِرا شَر ہے، خیر بہ خیر۔ مگر چندے حیاتِ مستعار اِس وحشی کی اور آب و دانہ قَفس میں پینا کھانا باقی تھا۔ اگر آپ اور گھڑی بھر دیر لگاتے، تشریف نہ لاتے، تو میرا طائرِ روح، گُربۂ غضبِ شہ زادی سے مجروح، پرواز کر جاتا، ہرگز جیتا نہ پاتے، مگر پنجرہ خالی دیکھ مزاجِ عالی پریشان ہوتا، بہ حسرت و افسوس یہ فرماتے، انشؔا:

توتا ہمارا مر گیا کیا بولتا ہوا

ماہ طلعت ان باتوں سے زیادہ مکدر ہوئی، شہ زادے سے کہا: اگر میری بات کا توتا جواب صاف نہ دے گا، تو اِس نِگوڑے کی گردن مڑوڑ، اپنے تلووں سے اِس کی آنکھیں مَلوں گی، جب دانہ پانی کھاؤں پیوں گی۔ جانِ عالم نے کہا: کچھ حال تو کہو۔ توتے نے گزارش کی: حضور! یہ مقدمہ غلام سے سنیے۔ آج شہ زادی صاحب اپنی دانست میں بہت نکھر، بقؔا:

دیکھ آئینے کو، کہتی تھی کہ اللہ ری مَیں!

پھر مجھ سے فرمایا: تو نے ایسی صورت کبھی دیکھی تھی؟ مجھ اجل رسیدہ کے منہ سے رَو میں نکلا: خدا نہ کرے! اِس جرم قبیح پر شہ زادی کے نزدیک کشتنی، سُوختَنی و گردن زَدنی ہوں۔ بہ قول میر تقی، شعر:

بے جرم تہ تیغ ہی رکھا تھا گلے کو
کچھ بات بری منہ سے نہ نکلی تھی بھلے کو

جانِ عالم نے کہا: تم بھی کتنی عقل سے خالی، حُمق سے بھری ہو! تم تو پری ہو۔ اور جانور کی بات پر اتنا آزردہ ہونا! گو گویا ہے، پھر طائِر ہے، نادانی اس کی ظاہر ہے۔ میاں مٹھو کو ان باتوں کی تاب نہ آئی۔ آنکھ بدل کے روکھی صورت بنائی اور ٹیں سے بولا: خداوندِ نعمت! جھوٹ جھوٹ ہے، سچ سچ ہے۔ ہمسر جس کا کوئی نہیں، وہ ذات وَحْدَہٗ لَا شَرِیْكَ لَهٗ کی ہے۔ اُس کے سوا ایک سے ایک بہتر و برتر ہے۔ سب کو یہ خبر ہے: فَضَّلْنَا بَعْضَکُم عَلیٰ بَعْضٍ۔ میں نے جھوٹ اور سچ دونوں سے بچ کر ایک کلمہ کہا تھا۔ اگر راستی پر ہوتا، گردن کج کیے سیدھا گور میں سوتا۔ یہ سن کے وہ اور مُجوِّز ہوئی۔ مثل مشہور ہے: راج ہٹ، تِریا ہٹ، بالک ہٹ۔ جانِ عالم نے مجبور ہو کے کہا: جو ہو سو ہو، مٹھو پیارے! سچ کہہ دو۔ توتے نے بہ منت عرض کی: دروغ مصلحت آمیز، بہ از راستیٔ فتنہ انگیز۔ مجھے سچ نہ بلوائیے، میرا منہ نہ کھلوائیے۔ نہیں، انجامِ راستی حضور کے دشمنوں کو دشت نَوردی، بادِیہ پیمائی، غریب الوطنی، کوچہ گردی نصیب ہو گی۔

شہ زادے نے کہا: یہ جملہ تم نے اور نیا سنایا۔ اب جو کچھ کہنا ہے، کہا چاہیے، باتیں بہت نہ بنائیے۔ اس نے کہا: میں نے ہر چند چاہا کہ آپ رنجِ سفر، مصائبِ شہر بہ شہر، ایذائے غربت سے باز رہیں کہ سفر اور سقر کی صورت ایک ہے، اِس سے بچنا نیک ہے مگر معلوم ہوا حضور کے مقدر میں یہ امر لکھا ہے، میرا قصور اس میں کیا ہے۔ رفیع سوداؔ:

چاک کو تقدیر کے ممکن نہیں کرنا رفو
سُوزنِ تدبیر ساری عمر گو سیتی رہے

سنیے قبلۂ عالم! یہاں سے برس دن کی راہ، شمال میں ایک ملک ہے عجائب زرنگار۔ ایسا خطہ ہے کہ مرقعِ خیالِ مانی و بہزاد میں نہ کھنچا ہو گا اور پیر دِہقانِ فلک نے مزرعۂ عالم میں نہ دیکھا ہو گا۔ شہر خوب، آبادی مرغوب۔ رنڈی، مرد حسین، طرح دار۔ مکان بِلّور کے بلکہ نور کے، جواہر نگار۔ عقلِ باریک بیں مشاہدے سے دنگ ہو۔ خلقت اِس کثرت سے بستی ہے کہ اُس بستی میں وہم و فکر کو عرصہ تنگ ہو۔ خورشید ہر سحر اُس کے دروازے سے ضِیا پاتا ہے۔ بدرِ کامل وہاں دو دن نہیں رہتا، غَیرت سے کاہیدہ ہو، ہلال نظر آتا ہے۔

وہاں کی شہ زادی ہے انجمن آرا۔ اُس کا تو کیا کہنا! کہاں میری زباں میں طاقت اور دَہاں میں طلاقت جو شِمّہ مذکورِ شکل و شمائل اُس زہرہ جبیں، فخرِ لُعبتانِ لندن و چیں کا سناؤں۔ اُستاد:

ایک میں کیا، خوب گر دیکھے اسے حسن آفریں
اپنی صناعی پہ حیراں خود وہ صورت گر رہے

لیکن سات سو خواصِ زرّیں کمر، تاجِ دل بر سر ، ماہ رو ، عنبریں مو ، سرگروہِ خوبانِ جہاں، جانِ جاں، آرامِ دلِ مشتاقاں، اُس کی خدمت میں شب و روز سرگرمِ خدمت گزاری، بڑی تیاری سے رہتی ہیں۔ اگر ان کی لونڈیوں کو شہ زادی صاحب بہ چشمِ انصاف دیکھیں اور کچھ غیرت کو بھی کام فرمائیں، یقین تو ہے چلو بھر پانی میں محجوب ہو کے ڈوب جائیں۔ ماہ طلعت یہ سن کے سن ہوئی، سر جھکا لیا۔ جانِ عالم کو کچھ اور ہی دھن ہوئی، پنجرہ اٹھا لیا، دیوان خانے میں لے جا مفصل حال دریافت کرنے لگا۔ جی کا حال کچھ اور ہی ہو گیا، ہر دم آہِ سرد دلِ نیم بسمل سے بھرنے لگا۔ مولوی جامیؔ:

نہ تنہا عشق از دیدار خیزد
در آید جلوۂ حسن از درِ گوش
زدیدن ہیچ اثر نے درمیانہ
بسا، کیں دولت از گفتار خیزد
زجاں آرام بر باید، ز دل ہوش
کند عاشق کساں را غائبانہ

توتے کو شہ زادے کے طرزِ گفتگو، رنگِ رو، آنکھ کی تری، ہونٹ کی خشکی، دل کی دھڑک، کلیجے کی پھڑک سے کہ یہ نشانِ عشق، گمانِ خبط سب ہیں؛ ثابت ہوا کہ شہ زادے کا دل پُرزے پُرزے اور دِماغ کا ایاغ بادۂ عقل سے خالی ہوا، خیالِ محالِ وصالِ انجمن آرا بھرا، خوب حالی ہوا۔ سخت نادمِ و خجل ہو کے دل سے کہا: کم بخت زبان نے، حسن کے بیان نے غضب کیا، منتر کارگر ہوا، پڑھا جن سر چڑھا، حضرتِ عشق کا گزر ہوا۔ چاہا کہ بہ لَطائفُ الحِیَل اِس عزم بیجا سے باز رکھے، عقل اور عشق میں امتیاز رکھے، کہا: اے ناداں، دشمنِ جاں! یہ قصد لا حاصل ہے۔ عمداً اس کوچے میں پاؤں نہ دھر، اپنے خون سے ہاتھ نہ بھر، بہ قولِ مؤلف:

خدا  کو  مان ،  نہ  لے  نام  عاشقی کا  سرورؔ
کہ منفعت میں بھی اس کی ، ہیں سو ضرر پیدا

بیان اِس کا مُحال ہے، مگر مختصر سا یہ حال ہے: عقل اِس کام میں دور ہو جاتی ہے، وحشت نزدیک آتی ہے۔ لب خشک، چہرہ زرد، دل خون ہوتا ہے۔ بھوک پیاس مر جاتی ہے، خواب میں نیند نہیں آتی ہے۔ جانِ شیریں تلخ ہو، کلیجے میں درد، آخر کو جنون ہوتا ہے۔ لختِ جگر کھاتا ہے، خونِ دل پیتا ہے، مر مر کے جیتا ہے۔ رقیبوں کے طعنوں سے سینہ فگار ہوتا ہے۔ لڑکوں کے پتھروں سے سر کا رنگ گلنار ہوتا ہے۔ دن کو ذلت و خواری، شب کو انتظار میں اختر شُماری۔ بے قراری سے قرار رہتا ہے۔ اپنے بیگانے کی نظر میں ذلیل و خوار رہتا ہے۔ جنگل میں جی لگتا ہے، بستی اُجاڑ معلوم ہوتی ہے۔ در بہ در پھرنے میں دن تو کٹ جاتا ہے، تنہائی کی رات پہاڑ معلوم ہوتی ہے۔ سینہ آتشِ غم سے جل کے تنور ہوتا ہے۔ آنکھوں سے دریا ابلتے ہیں، طوفان کا ظہور ہوتا ہے۔ عقل کا چراغ گُل، تَپِ فراق سے دل جلتا ہے۔ شجرِ تمنا بے برگ و بار رہتا ہے، پھولتا ہے نہ پھلتا ہے۔ جوانی کا گھن، پیری تک اُڈھیڑ بُن رہتی ہے۔ گونگا بہرا بن جاتا ہے، ہر دم طبیعت سن رہتی ہے۔ ابھی پہلی بسم اللہ ہے، ٹھنڈی سانسیں بھرتے ہو، لب پر آہ ہے۔ دیکھا نہ بھالا ہے، سینے کے پار عشق کا بھالا ہے۔ آئینہ ہاتھ میں لے منہ تو دیکھو، نقشہ کیا ہے۔ معشوقِ با وفا گو گردِ سرخ، لعلِ سپید سے نایاب سِوا ہے، کہاں ملتا ہے۔ خاک میں، ڈھونڈتے ڈھونڈھتے خواہاں ملتا ہے۔ یہ جو زمانے میں مشہور با مِہر و وفا ہیں، بے وفا، بانی صَد جَور و جفا ہیں۔ عشق کم بخت بے پیر ہے، او نوجواں! یہی ٹیڑھی کھیر ہے۔ سنا نہیں کوہ کن نے جانِ شیریں کس تلخی سے کھوئی، یوسف کی چاہ میں  زلیخا نے کیسے کنویں جھانکے، کیا کیا روئی! مجنوں کو اِس دشت میں جنون ہوا، لیلیٰ کا کیا بگڑا؟ پرویز کا اِس کوچے میں خون ہوا، شیریں نے کیا کیا؟ افسوس تو یہ ہے کہ اِتنا بھی کوئی نہ سمجھا، جامیؔ:

غمِ چیزے رگِ جاں را خراشد
کہ گاہے باشد و گاہے نباشد

ذِلت اِس کام میں عین عزت ہے۔ درد کا نام یہاں راحت ہے۔ دل اِس کشمکش میں ٹوٹ جاتا ہے۔ رُستم کا اِس معرکے میں جی چھوٹ جاتا ہے۔ اِسفَندِ یار سا روئیں تن ہو تو موم کی طرح پگھل کر بہہ جائے، حسرت ہی حسرت رہ جائے۔ لوگوں نے ہزاروں رنج، صدمے اِس کام میں اٹھائے، بعد خرابیٔ بِسیار نا تجرِبہ کار کہلائے۔  یہ وہ برا کام ہے، ناکامی جس کا آغاز، بدنامی انجام ہے۔ مُبتدی ہو یا مَشّاق ہے، دونوں کی رائے ایک سی ہوتی ہے۔ صدمۂ دوری، المِ حُضوری شاق ہے۔ مرضِ عشق میں کوئی دوست گرفتار نہ ہو۔ مولّف:

دوست تو دوست ہے، دشمن کو یہ آزار نہ ہو

مُسدّس:

کیا میں اِس کافرِ بد کیش کا احوال کہوں
زار کر دیتا ہے انسان کو یہ اور زَبوں
یہی خوں خوار، پِیا کرتا ہے عاشق کا خوں
رفتہ رفتہ یہی پہنچاتا ہے نوبت بہ جنوں
یہی خوں ریز تو خوں خوار ہے انسانوں کا
دین کھوتا یہی کافر ہے، مسلمانوں کا
یہی کرتا ہے ہر اک شخص کو رسوا، ظالم
کوہ دکھلاتا ہے گاہے، گہے صحرا، ظالم
یہی کرتا ہے ہر اک چشم کو دریا، ظالم
کیا بتاؤں تمھیں، کرتا ہے یہ کیا کیا ظالم
در بہ در، خاک بہ سر، چاک گریباں کر کے
جان لیتا ہے، ولے بے سر و ساماں کر کے
یہی بانی تو زلیخا کی بھی تھا خواری کا
یہی فرہاد کی، حامی تھا، تَبَر داری کا
یہی باعث دَمَن و نَل کی ہُوا یاری کا
عشق کہیے نہ اِسے، قہر ہے یہ باری کا
تلخ کامی ہوئی شیریں کو اسی سے حاصل
کیے بے پردہ و برباد ہزاروں مَحمِل
اِس نے مجنوں سے بنائے ہیں بہت دیوانے
گو کہ مشہور جہاں اِس کے ہیں سب افسانے
اِس نے خود رفتگی میں، اپنے کیے بیگانے
پر، جو اِس کام کا مشّاق ہو، وہ ہی جانے
کبھی معشوق کے پردے میں نِہاں ہوتا ہے
کبھی سر چڑھ کے یہ عاشق کے، عیاں ہوتا ہے
ناقۂ لیلیِ مُضطر کا شُترباں یہ تھا
چاہ میں ڈال کے، یوسف کا نگہباں یہ تھا
نجد میں قیس سے پہلے ہی حُدی خواں یہ تھا
جان ہر شیر کی لینے کو، نیستاں یہ تھا

حُسن بن جاتا ہے، انداز کہیں، ناز کہیں
دردِ دل ہے یہ کہیں، سوز کہیں، ساز کہیں

مثلِ فرہاد بہت مر گئے سر پھوڑ، حزیں
پاس عذرا کے گیا اور کوئی وامق کے قریں
دی ہے شیریں کی طرح کتنوں نے جانِ شیریں
اِس سے آوارہ بچا اور نہ بچا گوشہ نشیں
اِس سے ملتا ہے جسے، رنج و مِحَن ملتا ہے
گور ملتی ہے کسی کو نہ کفن ملتا ہے
طور کو نور کے جلوے میں جلایا اِس نے
جان چھوڑی نہیں، جیتا جسے پایا اِس نے
کبھی آتش کو ہے گُلزار بنایا اِس نے
اور نیرنگ جہاں اپنا دکھایا اِس نے
کام مُردوں سے لیا، زندوں کو ناکام رکھا
درد کا نام بھی بے درد نے آرام رکھا
اِس کے افسانے ہیں دنیا میں بہت طول و طویل
اِس کا بیمار، پڑا رہتا ہے بستر پہ علیل
جس کا ہمدم یہ ہوا، ہو گیا وہ خوار و ذلیل
دھونس دے دے کے بجا دیتا ہے یہ کوسِ رحیل
رنج و ماتم کے سوا، اور یہ کیا دیتا ہے
وصل کی شب سحرِ ہجر دکھا دیتا ہے
یہی اِخفا ہے بہ صد زیب رگِ ہر گُل میں
یہی ہے جُز میں، اگر دیکھو، یہی ہے کُل میں
سوز و نالہ یہ اِسی کا ہے دلِ بلبل میں
گر فرشتہ ہو، تو آ جاتا ہے اِس کے جُل میں
خون بے جرم زمانے کا بہاتے دیکھا
مَیل چِتون پہ کبھی اِس کی نہ آتے دیکھا
ایک شِمّہ ہے، لکھا حال جو میں نے اِس کا
دشتِ غربت میں وہ آوارہ و سرگشتہ ہوا
جس پہ اِس دیو نے اَلطاف کا سایہ ڈالا
دوست بھی چھوٹتے ہیں، شہر بھی چھوڑے اپنا
پاس جس کے یہ گیا، خلق سے وہ دور ہوا
کون سا شیشۂ دل تھا کہ نہ وہ چور ہوا
ہجر کے رنج میں کتنوں کا ہوا اس میں وصال
اِس کی گردش سے ہر اک ماہ ہوا بدرِ ہلال
لے گئے سینے میں فرقت کا سبھی درد و ملال
کس کی طاقت ہے کہ تحریر کرے اس کا حال
زیست کرتا غمِ ہجراں سے یہ ہے سب کی شاق
جان دے دیتے ہیں کہہ کہہ کے یہی ہائے فراق!

وصل میں گو مزہ ہے، ہجر کا رنج وَلے جاں گُزا ہے۔ چاہ، کُنویں جھکواتی ہے۔ یہ وہ بیماری ہے جو جان کے ساتھ جاتی ہے۔ ہمیشہ سے اس کام والے آہ و نالہ بَر لَب، خاک بہ سَر، چاک گریباں سب رہے ہیں۔ اگر عاشق کی عزت و توقیر ہوتی تو دنیا میں اس سے بہتر کوئی شَے نہ تھی۔ جستہ جستہ اِن لوگوں کے مرتبہ شَناس، قدر داں ہیں، مگر ہر جگہ کہاں ہیں! اور یہ قصہ جو میں نے کہا، فقط بات کی پَچ کا جھگڑا تھا، ورنہ کہاں ملکِ زر نِگار، کجا شہ زادیِ عالی تَبار! جانِ عالم نے کہا: استغفر اللہ! اگر وہ جھوٹ تھا، تو یہ فقرہ کب سچ ہے۔ یہ تو نِری کھڑ پچ ہے۔ سوز:

خدا ہی کی قسم ناصح! نہ مانوں گا کہا اب تو
نہ چھوٹے گا ترے کہنے سے  ، میرا دل لگا اب تو

اِسی تقریر میں یہ حال ہوا کہ دل میں درد، چہرہ زرد ہونے لگا۔ لب پر آہِ سرد، گرفتار رنج و تعب، عشق کے آثار سب ظاہر ہوئے۔ شاہ زادے صاحب جامے سے باہر ہوئے۔ ضبط کا پردہ درمیان سے اٹھا۔ شور فُغاں سے اٹھا۔ جنون پیرامونِ عقل۔ بے چارہ نَو گرفتار سلسلۂ محبت میں اسیر بہ قول میرؔ ہو گیا۔ طالعِ بیدار دفعتاً سویا، فتنہ چونک کر جاگا۔ دل، بَر سے نکل کر بھاگا۔ میر:

طبع نے ایک جنوں کیا پیدا
ہاتھ جانے لگا گریباں تک
بے قراری نے کج ادائی کی
اشک نے رنگِ خون کیا پیدا
چاک کے پاؤں پھیلے داماں تکتاب و طاقت نے بے وفائی کی

توتا یہ حال دیکھ کر محجوب ہوا کہ ناحق، رنڈی کی کج بحثی سے شہ زادے کو مرگ کا مستعد کیا۔ بیٹھے بٹھائے خونِ بے گناہ اپنی گردن پر لیا۔ اب اس طرح کا سمجھانا، مانع ہونا ابھارنا، بھڑکانا، بلکہ نرا جلانا ہے۔ گھبرا کر تسکین و تشفی کرنے لگا اور زخم شمشیر عشق کو مرہم مژدۂ وصال سے بھرنے لگا۔ کہا: آپ ہوش و حواس بجا رکھیے۔ اگر مجھے ایسا سچا جانا کہ میرا جھوٹ سچ مانا، اس شرط سے آپ کو لے چلوں گا جو میرا کہا نہ مانو گے، زک اٹھاؤ گے، دھوکا کھاؤ گے، پھر مجھ کو نہ پاؤ گے، پچھتاؤ گے۔

جانِ عالم نے فرمایا: اے رہ بر کامل، رنج کے غم گسار، راحت کے شامل! تیرے جادۂ اطاعت سے ہر گز قدم باہر نہ دھروں گا۔ جو تو کہے گا، وہی کروں گا مگر جلد حال مُفَصّل اور بعُدِ منَازِلِ و سمت شہرِ دوست سے نشان کامل دے، وگرنہ یہ دلِ بے تاب خجلت دِہِ بے قراریِ سیماب کہ قطرۂ خوں سے فزوں نہیں، تڑپ کر ازراہ چشمِ نادیدہ روئے دوست نکل جائے گا۔ پھر بجز حسرت و افسوس تیرے کیا ہاتھ آئے گا۔ میرؔ:

دل  تڑپتا ہے متصل میرا
مرغ بسمل ہے یا کہ دل میرا

توتے نے کہا اضطراب کا کام خراب ہوتا ہے۔ ناحق حجاب ہوتا ہے۔ اتنی جلدی موقوف کیجیے۔ آج کی رات اس شہر میں کاٹ، صبح ادھر کی راہ لیجیے۔ اگر کشش صادق اور طالع بھی موافق ہے، منزل مقصد کا سفر درپیش ہو گا، ہمراہ رکاب یہ خیر اندیش ہو گا۔ عزم بالجزم درکار ہے۔ درِ شہر پناہ پر خانۂ دل دار ہے۔

جان عالم یہ خوشخبری سن کر بشاش ہوا۔ پھر کہا، استاد:

مژدۂ وصل ہے کل، رات کی نیت ہو حرام
دیں  اگر  طالع   برگشتہ   نہ   تدبیر الٹ

اُس رات کی بے قراری، گریہ و زاری، اختر شماری شہ زادے کی کیا کہوں! ہر گھڑی بہ حالِ پریشاں۔ سوئے آسماں مضطر نگراں تھا کہ رات جلد بسر ہو، نمایاں رخ سحر ہو، تا عزم سفر ہو۔ اور یہ کہتا تھا،

سعدیؔ:

سعدیا! نوبتی امشب دُہل صبح نکوفت
یا مگر صبح نباشد شب تنہائی را!

آخرش تاثیر دعائے سحری، اثر نالۂ نیم شبی سے ظلمت شب، بہ نور روز منور ہوئی۔ وزیر زادے کو، باوجود خود فراموشی، یاد فرمایا۔ لڑکپن سے تا زمانۂ عشقِ انجمن آرا اس سے بھی الفت رکھتا تھا۔ جب وہ حاضر ہوا، حکم کیا: دو گھوڑے صبا رفتار، برق کردار، جن کی جھپٹ نسیم تند رَو کو کُھندل ڈالے، ان کے قدم سے کمیتِ صرصر کی ڈپٹ پاؤں نہ آگے نکالے۔ جلد لا۔ وہ بہ مجرد ارشاد اصطبل خاص میں جا، گھوڑے لایا۔ کچھ اسباب ضروری، وہ بھی بہ مجبوری لے کے دونوں خستہ تن، بقول میر حسنؔ چل نکلے۔ میر حسنؔ :

نہ سدھ بدھ کی لی اور نہ منگل کی لی
نکل   شہر  سے،  راہ جنگل کی لی

 

وطن آوارہ ہونا نو گرفتارِ محبت کا

 

اٹھانا ایذائے غربت کا۔ نیا نیا سفر، راہ معلوم نہیں، رہ بر بجز ذات حَـــيٌّ قَیـــُّوم نہیں، ایک رفیق، وہ انیلا۔ دوسرا جانور، یہ بے چارہ بے پر۔ پھر ہرن کا ملنا، ان سب کا چھوٹنا، جادوگرنی کا سدِّ راہ ہو کے مزے لوٹنا

 

بادیہ پیمایانِ مرحلۂ محبت و صحرا نوردانِ منزلِ مودّت، رہ روانِ دشتِ اشتیاق و طے کنندگانِ جادۂ فراق، مسافرانِ بارِ ناکامی بر دوش، بجز راہ کوچۂ یار دین و دنیا فراموش، عشق سر پر سوار، خود پیادہ، زیست سے دل سیر، مرگ کے آمادہ لکھتے ہیں کہ جب بہ ایں ہیئت کذائی، وہ پروردۂ دامنِ ناز و آغوشِ شاہی، گھر سے نکلا اور درِ شہر پناہ پر پہنچا، پھر کر عمارات سلطانی، بسے ہوئے شہر کو بہ نظر پریشانی دیکھ، آہ سرد دل پر درد سے کھینچی۔ بیاباں مد نظر کر، غریب الوطنی پر کمر ہمت چست کی اور فراق یاران وطن میں دل کھول کے وہ خستہ تن خوب رویا۔ پھر فاتحہ خیر پڑھ ، آگے بڑھ، توتے کو پنجرے سے کھول دیا۔ گھوڑوں پر شہ زادہ اور وزیر زادہ، سَمَندِ صبا پر میاں مِٹّھو پیادہ، نیا دانہ کھاتے، نیا پانی پیتے روانہ ہوئے۔

بَعدِ طَىِّ مَنازِل وَ قَطعِ مَراحِل، ان کا گزر ایک دشتِ عجیب، صحرائے غریب میں ہوا۔ ہر تختہ جنگل کا بہ رَوشِ باغ تھا۔ جو پھول پھل تھا، تازہ کُنِ دل، مُعطَّر نُمَائے دماغ تھا۔ جہاں تک پَیکِ نگاہ جاتا، بجز گُل ہائے رنگین و یَاسمن و نسرین اور کچھ نظر نہ آتا۔ شہ زادہ شِگُفتہ خاطِری سے صَنّاعی باغبان قَضا و قَدر کی دیکھتا جاتا تھا۔ ناگاہ ایک سمت سے دو ہرن برق وَش، صبا کردار، سبک جَست، باچشمِ سِیہ مست، تیز رفتار سامنے آئے۔ زَربَفت کی جھولیں پڑیں، جَڑاؤ سِنگوٹیاں جَڑیں، گلے میں مُغرّق ہیکلیں، مثل معشوق طَنَّاز، عَربَدہ ساز، سَرگرمِ خِرام ناز، چھم چھم کرتے، چَوکڑِیاں بھرتے۔ جانِ عالم بے چین ہوا، وزیر زادے سے کہا: کسی طرح ان کو جیتا گرفتار کیجیے، جانے نہ دیجیے۔ اس سعی میں گھوڑے ڈالے۔ یا تو وہ اپنی وضع پر چلے جاتے تھے، جب گھوڑوں کی آمد دیکھی، سنبھل، کَنَوتِیاں بدل، چوکڑی تیز با جَست و خیز بھرنے لگے۔ اِنھوں نے گھوڑے ڈپٹائے۔ ان کا گھوڑے دوڑانا، وہ طَائرِ فرزانہ، چَوکڑی بھول کے پکارا: ہاں ہاں، اے نوجواں! کیا غضب کرتا ہے! یہ دشت پُر سحر ہے۔ بے ہودہ، کیوں قدم دھرتا ہے! ہر چند پکارا، مگر سناٹے میں کسی نے نہ سنا، توتے نے لاکھ سر دھنا۔ آخر مجبور ایک ٹہنی پر بیٹھ رہا، وہ چلے گئے۔

دو چار کوس دونوں ہرن ساتھ بھاگے ؛ پھر ایک اور سمت، دوسرا اور طرف چلا۔ ایک کے ساتھ شہ زادہ، دوسرے کے تعاقب میں وزیر زادہ۔ یہ بھی جدا ہوئے۔ القصہ تا غروب آفتاب وہ شمس سپہرِ سَلطنت گھوڑا بگٹٹ پھینکے گیا۔ دفعتاً ہرن نظر سے غائب ہوا۔ اس نے باگ روکی۔ گھوڑا عَرَق عَرَق، خود پسینے میں غرق، سر سے پا تک تَر، بہ حال مضطر، حیران و پریشاں، نادم و پشیماں، یکا و تنہا، وزیر زادہ نہ توتا، آپ یا دشتِ پُر خطر، گھبرا کر ادھر ادھر بہت دیکھا، بوئے انسان و حیواں مشام جاں تک نہ آئی، طبیعت سخت گھبرائی۔ جب کسی کو نہ دیکھا، بہ صد یاس یہ کہا، شعر:

اُڑے یہ  ترنگ جوانی کی ، کیا جس نے  مجھ کو جلا  وطن
ہوا ایسا پیش ازیں کا ہے کو، میں نکل کے گھر سے خراب تھا

اور کبھی جو یادِ یارانِ ہمراہی جی میں آتی تو یہ شعرِ درد ناکِ میر سوزؔ  با دِلِ صد چاک و آہِ جگر دوز پڑھتا، میر سوزؔ:

کہیو اے باد صبا بچھڑے ہوئے یاروں کو
راہ ملتی ہی نہیں دشت کے آواروں کو

کچھ آگے بڑھا، چشمۂ آب نظر پڑا۔ گھوڑے سے کود، ہاتھ منہ دھویا، اپنی تنہائی پر خوب رویا۔ اِسی حالِ گریہ و زاری میں دَستِ دعا بہ جناب باری اٹھا، پکارا کہ اے کَسِ بے کَسان، و اے مددگارِ رَہ گم کَردَگَاں! مجھ خستہ و پریشاں، دور فُتادۂ یار و دِیار کی رہ بری کر۔ تیرے بھروسے پر سلطنت کو خاک میں ملا، گھر سے ہاتھ اٹھا، آوارۂ صحرائے غربت، مبتلائے رنج و مصیبت ہوا ہوں۔ لا اعلم:

مونسے، نہ رفیقے، نہ ہمدمے دارمحدیثِ دل بکہ گویم، عجب غمے دارم

تیری ذات ہے یا یہ جنگل وحشت انگیز، دشت بلا خیز، جہاں بوئے عِمرانات نہیں آتی ہے، دھڑکے میں جان جاتی ہے۔ یہ کہہ کے زار زار، مانند ابر نو بہار رونے لگا، دامن و گریباں بھگونے لگا۔ فریاد و زاری، تڑپ اور بے قراری اس کی بہ درگاہ مُجیبُ الدَعَوات قبول ہوئی۔ تیر دعا، ہَدَفِ اِجَابت سے لَبِ معشوق ہوا۔ ایک پیر مرد سفید ڈاڑھی والے، سبز عمامہ سر پر، عبائے عنّابی کندھے پر ڈالے، ہاتھ میں عصا، خضر صورت، بزرگ سیرت، پارسا، وارد ہو پکارے: السلام علیک اے نَو بادۂ چَمنِ سلطنت و اے گرفتارِ محنتِ محبت! شہ زادے نے آنسو پونچھ سلام کا جواب دیا۔ پیر مرد نے فرمایا: اے عزیز! کیا حاجت رکھتا ہے، بیان کر۔ یہ سن کے ایسا خوش ہوا کہ رنج، راہ بھولنے کا، بھولا۔ وزیر زادے اور توتے کی جدائی بھی یاد نہ آئی، کہا: آپ کو قسم اسی کی جس نے میری رہ بری کو بھیجا ہے، جلد نشانِ ملکِ زرنگار دکھا دیجیے یا درِ دل دار تک پہنچا دیجیے۔ وہ ستودہ صفات ہنسا اور کہا: اللہ رے بے خودی! ابھی بلائے ناگہانی، آفت آسمانی جس میں آپ پھنسے ہیں، اسی سے نجات نہیں پائی، معشوقہ یاد آئی! جانِ عالم نے کہا: کوئی آفت و ستم و بلا ہجرِ جاناں اور مُفارَقَتِ دوست سے سِوا نہیں ہے۔ میر سوزؔ:

نہ   لگے  دردِ جدائی کو قیامت کا رنج
روز محشر کو نہ میری شب ہجراں سے ملا

اس صاف باطن نے فرمایا: صاحب زادے! یہ صحرائے غَضب، دشت پُرتعَب ہے۔ ہر تختہ اس کا دام ستم، گل اور بوٹا نرا خارِ غم و الم ہے۔ یہاں کا پھنسا، الجھا، حشر تک نہیں چھٹتا۔ یہ سب کارخانۂ طلسم ہے۔ شہ زادے نے کہا: ہم سحر محبت میں گرفتار ہیں، ہمیں جینا، مرنے سے فزوں ہے دل کا حال دِگرگوں ہے۔ شیفتہؔ:

ہمیشہ آگ نکلتی ہے اپنے سینے سے
الٰہی! موت دے، گزرا میں ایسے جینے سے

اس کریم النفس کو اس کے حال پر رحم آیا، فرمایا : بد حواس نہ ہو، نظر بہ خدا رکھ کہ وہ چارہ ساز عالمیں، جَامِعُ المُتَفَرِّقِین ہے۔ شہ زادے نے کہا : فی الحقیقت، مگر برائے خدا ایک نظر ملک زرنگار اور وہ معشوق طرح دار اگر نظر آئے، جان زار بچ جائے۔ زیست کا کیا اعتبار ہے، مرگ ہم دم ہم کنار ہے، حسرت دید تو نکل جائے۔ اس خدا پرست نے فرمایا: آنکھ بند کر۔ پلک سے پلک شہ زادے کی لگی، ملک زرنگار میں گزار ہوا، آفت تازہ سے دو چار ہوا اور صورت اس حور کردار کی نظر پڑی۔ بہ مجرد نگاہ، دل سے آہ کی۔ بے ہوشی ساری، غشی طاری ہوئی۔ مرد بزرگ نے سمجھایا: اس امر لا طَائل سے کیا حاصل! زندگی درکار ہے، ایک روز دوست بھی ہم کنار ہے۔ سمجھانے سے اتنی تسکین ہوئی کہ آنکھ کھولی۔ رات ہو گئی تھی، پیر مرد نے کچھ کھلا، لب چشمہ سلایا۔

جس وقت افق چرخ سے، راہ گم کردہ مسافر مغرب، یعنی آفتاب عالم تاب، جلوہ افروز ہو حصۂ چہارم آسماں پر آیا، شہ زادے کى آنکھ کھلی۔ وہاں آپ کو پایا، جہاں سے ہرن کے پیچھے گھوڑا اٹھایا تھا، سجدہ شکر ادا کر سرگرمِ رَہِ دوست ہوا۔ راہ کا پتا اس رہبر خَیلِ سبز پُوشاں سے پوچھ لیا تھا۔ قدم بڑھایا۔ جاتے جاتے، ایک روز آفتاب کی تمازت بدرجۂ اتم تھی، پیاس کی شدت ہوئی۔ آب وہاں گوہر نایاب تھا۔ خضر تک اس دشت میں لا علاج، پانی کا محتاج تھا۔ زبان میں کانٹے پڑے، ریت کی گرمی سے تلوے جلتے تھے، دو گام قدم نہ چلتے تھے۔ لوں کا شعلہ یہ سرگرمِ آزارِ جگر سُوختگاں تھا کہ پرندے پتوں میں منہ چھپاتے تھے۔ کوسوں دَوِندے نظر نہ آتے تھے۔ دشت کورہ آہَنگراں تھا۔ ہر طرف شعلہ جوّالہ دواں تھا۔ ریگِ صحرا کیفیتِ دریا دِکھاتی تھی، پیاسوں کی دوڑ دھوپ میں جان جاتی تھی۔ صدائے زَاغ و زَغن سے سناٹا، دھوپ کا تڑاقا۔ دشت کا پتھر تپنے سے انگارا تھا۔ جانور ہر ایک پیاس کا مارا تھا۔ وہ تابشِ شمس جس سے ہرن کالا ہو، مذکور سے زبان میں چھالا ہو، بادِ سموم سے وحشیوں کے منہ پر سیہ تاب تھا۔ لُوں سے گاوِ زمیں کا جگر کباب تھا۔ سیپیوں نے گرمی کے مارے لب کھولے تھے۔ حبابِ دریا کی چھاتی میں پھپھولے تھے۔ ہر ذی حیات حرارت سے بے تاب تھا۔ سوا نیزے پر آفتاب تھا۔ مچھلیاں پانی میں بھنتی تھیں، جل جل کر کنارے پر سر دھنتی تھیں۔ سرطانِ فلک جلتا تھا۔ کیکڑا لب دریا ابلتا تھا۔

ایسے موسم کے سفر میں مَفَر کیوں کر ہو۔ مسافر خواب میں بَرّاتے : چُلّو بھر پانی دو۔ درخت خشک، سوکھے پتے کھڑکھڑاتے تھے۔ جانور پر کھولے پھڑپھڑاتے تھے۔ چار پائے ایک سمت ہانپتے تھے، گرمی کے خوف سے کانپتے تھے۔ یہ حرارت مستَولی تھی کہ دوستوں کی گرمی سے جی جلتا تھا۔ مسافرِ وہم پائے گماں سے راہ نہ چلتا تھا۔ خورشیدِ حشر کی طرح آفتاب تاباں تھا۔ صحرائے قیامت وہ بیاباں تھا۔

اسی حال خراب میں شہ زادہ سَر گشتہ، دل بَرِشتہ، حیران پریشان، ایک طرف درخت گنجان، سایہ دار دیکھ کر آیا۔ وہاں حوض مُصَفّیٰ پانی سے مُلَبَّب بھرا پایا۔ پانی دیکھ کے جان رَفتہ تن میں آئی۔ آنکھوں نے لہروں سے ٹھنڈک پائی۔ گھوڑے سے اتر، پانی پینے کو جھکا، چَرخِ کہن نے نیرنگی نئی دکھائی۔ وہی معشوقۂ مرغوبۂ مطلوبہ ، جس کے سَیل تلاش میں غریق مُحیطِ الم، گرفتارِ لطمۂ غم، مِثلِ پَرِکاہ بہا بہا پھرتا تھا، حوض میں نظر آئی۔ آنکھ چار ہوتے ہی وہ بولی: اے شِناورِ بحر محبت و اے غَوّاصِ چشمۂ الفت ! دیر سے تیری منتظر تھی، للہ الحمد تو جلد پہنچا۔ تَامُّل نہ کر، کود پڑ۔ اِنھیں تو وہ آنکھ بند کرنے کا نقشہ ہر پل مد نظر تھا، بے تَاَمُّل نِہَنگِ آفت کے منہ میں کود پڑا؛ زیست سے سیراب ہو، یہ کہتا، شعر:

کودا کوئی یوں گھر میں ترے دھم سے نہ ہو گاجو کام ہوا ہم  سے ،  وہ  رستم  سے  نہ ہو گا

کُودتے ہی سر تلے، ٹانگیں اوپر، غَلطَاں پیچاں تَحت الثَّریٰ کو چلا۔ گھڑی بھر میں تہہ کو پاؤں لگا۔ آنکھ کھولی نہ حوض نظر آیا نہ اس دُرِ شہوار کو پایا، مگر صحرائے لق و دق، جسے دیکھ کے رستم اور اِسفندِ یار کا رنگ فق ہو، دیکھا۔ اس وقت سمجھا دوسری زَک اٹھائی، توتے کی بات آگے آئی،  ؏

وای برما و گرفتارىِ ما

یہ کہہ کے آگے چلا۔ دور سے چار دیواری معلوم ہوئی۔ جب قریب آیا، باغ اور عمارت مُفَصَّل دیکھی۔ دَرِ باغ بَسانِ آغُوشِ مشتاق، وا۔ سرد سرد ہَوا۔ یہ تو گرمی کا مارا، وطن آوارہ تھا، بے تکلف اندر قدم رکھا، باغ میں آیا۔ قطعۂ دلچسپ پھولا پھلا پایا۔ تختہ بندی معقول، پیڑ خوش قطع، خوب صورت پھول۔ رَوِشیں صاف، نہریں شفاف۔ چشمے ہر سمت جاری، نئی تیاری۔ درختوں پر جانورانِ نغمہ سرا۔ برگ و بار و گُل سے بالکل باغ بھرا۔ بَاغبانِیانِ پَری وَش ہر رَوِش پر بہ رَوَشِ دل بَری خِراماں۔ شاخوں پر بلبلیں غزل خواں۔ بیچ میں بارہ دری عالی شان، سب تکلف کا سامان۔ اس کے مُتَّصِل چبوترا سنگ مرمر کا، بادلے کا سائبان کھنچا، مسند مُغرَّق بچھی۔ ایک عورت خوب صورت عجب آن بان سے اس پر بیٹھی، خواصیں دست بستہ گِرد و پیش، وہ مغرور بہ حسن و جمالِ خویش۔

شہ زادے کو دیکھ کر ایک خَواص پکاری: اے صاحب! تم کون ہو؟ جان نہ پہچان، بے دھڑک پرائے مکان میں چلے آئے! یہ تو زیست سے بیزار، مرگ کا طلبگار تھا۔ اسے جواب نہ دیا، بے تامُّل مسند پر برابر جا بیٹھا یہ شعر پڑھتا، استاد:

بھڑ بیٹھے ہو دو زانو، وضعِ مُؤدَّب اس سے
وضعى جو تھا، تو ہم کو دابِ ادب نہ آیا

وہ تو فَریفتۂ قدیم تھی، ہنس کے چپ ہو رہی۔ پوچھا: آپ کہاں سے تشریف لائے ہیں؟ شہ زادہ مُتَحیّر باغ کو دیکھ رہا تھا۔ جو پیڑ تھا، پردار جانور کی صورت۔ پھول کھلے، پھل تیار، آپس میں سرگرمِ گفتار۔ جس میوے پر رغبت ہو، اس درخت کا جانور سامنے آ رقص کرے، پھل بے ہاتھ لگائے منہ کے پاس آئے۔ جتنا اسے کھاؤ، ثابت پاؤ۔ جب طبیعت سیر ہو، اسی درخت میں دیکھ لو۔ یہ حرکتیں اس کی خواصیں شہ زادے کے دکھانے کو، درِ پردہ ڈرانے کو کرتی تھیں۔ اس قرینے سے جان عالم کو یقین ہوا کہ یہ سب جادو کا ڈھکوسلا ہے۔ پیر مرد سچ فرماتا تھا۔ افسوس، برے پھنسے!

یہ تو ان خیالوں میں تھا، اس نے مُکرَّر پوچھا۔ شہ زادے نے جواب دیا کہ ہمارا آنا جانا تمھی خوب جانتی ہو۔ اجنبی ہیں، مگر تم پہچانتی ہو۔ وہ مسکرائی، خواصوں سے کہا: آپ مہمان ہیں، مروت شرط ہے۔ انھوں نے کچھ اشارہ کیا۔ کشتیاں شراب کی، قابیں گَزک کو کباب کی، مع جام و صراحی خود بہ خود آئیں اور مینائے بے زباں، پُنبَہ دہاں، رقصاں یہ بولی، حافظؔ:

اگر شراب خوری، جُرعۂ فِشاں بر خاک
ازاں گناہ کے نفعے رسد بغیر، چہ باک

پھر دفعتاً جامِ لبریز، بِریز بِریز کہتا، خندہ زناں، جانِ عالم کے قریب آ کے بولا، حافظؔ:

بنُوش بادہ کہ ایامِ غم نخواہد ماند
چنان نماند و چنیں نیز ہم نخواہد ماند

شہزادے نے انکار میں مصلحت نہ دیکھی۔ ڈرا کہ اگر عذر کروں اور اسی طرح یہ شراب بے قصد حلق میں اترے، تو کیا لطف رہے، مگر صاحب خانہ سے آنکھ ملا، بصد حسرت یہ شعر پڑھا، لا اَعلَم:

یار سے ہے لطف مے کا، آہ یہ ہو، وہ نہ ہو
یہ کوئی صحبت ہے ساقی! واہ یہ ہو، وہ نہ ہو

پھر اس جام کو ناکام ہاتھ میں لے کے، لہو کے سے گھونٹ، گلا گھونٹ گھونٹ پیے۔ وہ دورۂ بے سَر انجام، پُر آلام گردش میں آیا۔ جب دو چار ساغَر مُتَواتِر جادوگرنی نے پیے، کاسۂ دماغ سے عقل دور، ولولۂ مستی سے معمور ہو، چھیڑ چھاڑ کرنے لگی۔ شاہ زادہ اس کا اختلاط، کج بحثی سے بد تر جانتا تھا۔ مجبور، گردشِ گردونِ دوں دیکھ کر، کچھ ہاں ہوں کر دیتا۔ سچ ہے جسے جی پیار کرتا ہے، اس کی گالی، بَدرُچی کے بوس و کنار سے زیادہ مزہ دیتی ہے۔ اسی صحبت میں آدھی رات گزری۔ خاصہ طلب کیا۔ دو چار نِوالے جان عالم نے بہ جبر، پانی کے سہارے سے، اگل اگل، حلق کے نیچے اتارے۔ اس مربُھکّی نے قرار واقعی ہتھے مارے۔

کھانا زہر مار کر، شہ زادے کا ہاتھ پکڑ، بارہ دری میں لے گئی۔ جَواہِر نِگار مسہری پر بٹھایا۔ ایک تو شراب کا نشہ، دوسرے عالم تنہائی، بیٹھتے ہی، شرم و حجاب کا پردہ اٹھا، لپٹ گئی۔ وہ سَرکا۔ پھر تو خفیف ہو کے بولی: تو نے سنا ہو گا شَہپال جادو شَہنشاہِ ساحران جہاں، فخرِ سامری و جَیپال کا نام، میں اس کی بیٹی ہوں۔ تمام باغ، بلکہ نواح اس کا، سب سحر کا بنا ہے۔ برسوں سے تیری فَریفتہ و شَیدا ہوں۔ بہ تمنائے وصال خراب حال جیتی تھی۔ کوفت کے سوا کچھ نہ کھاتی نہ پیتی تھی۔ آج لات، منات کی مدد سے تو میرے اختیار میں آیا، دل کا مطلب بھر پایا۔ جس چیز کا شائق و طلب گار ہو، جو چیز تجھے درکار ہو، بجز ملاقات انجمن آرا، جہان کا سامان مہیا ہے، بہ شرطِ اطاعت و اظہارِ محبت، وگرنہ خدا جانے تیرا مآلِ کار کیا ہو او بے مروت!

جانِ عالم پہلے ڈرا، پھر جی مضبوط کر کے بولا: یہ سچ ہے جو تو نے کہا، مگر تیری تقریر سے ثابت ہوتا ہے کہ تو رَہ و رسمِ محبت سے آشنا ہے، نوشِ وَصل، نیشِ فصل کا مزا چکھا ہے۔ انصاف کر، جس کے واسطے خانماں آوارہ، غربت کا مارا، سر گرداں ہوا ہوں، تو اسی کے نام کی دشمن، میں تیری دوستی پر کیوں کر اعتماد کروں؟ دنیا میں تین طرح کے دشمن ہوتے ہیں: ایک تو وہ جو اپنا صریح عدو ہو، دوسرا: دشمن کا دوست، تیسرا: دوست کا دشمن۔ یہ سب سے بُرا ہے، اس سے کنارا اچھا ہے یا یہی شرط محبت ہے کہ ایک شخص کا نام خراب کر کے، جہاں آسائش ملے وہاں بیٹھ رہے؟ فکر سلطنت، جستجوئے دولت میں سَر بہ صحرا نہیں ہوا ہوں، جو تیری جَاہ و ثَروت پر اکتفا کروں۔ تجھے معلوم ہو گا اللہ کی عنایت سے گھر کی حکومت، چین کرنے کو کافی تھی، مگر میرا تو یہ حال ہے، میر تقی:

اک مدت پائے چَنار رہے، اک مدت گلخن تابی کی
برسوں ہوئے ہیں گھر سے نکلے، عشق نے خانہ خرابی کی

یہ سن کے، وہ کھسیانی کتیا سی جھنجھلائی، کہا: قدرت سحر میری سن لے: مغرب و مشرق کا فاصلہ گردِشِ چشم ہے،  زَر نِگار جانا کیا پَشم ہے! ادھر پَلَک جھپکائی، اتنے عرصے میں زر نگار گئی اور آئی۔ خیر، اگر میری ہم صحبتی کَریہہ جانتا ہے، تیری امید بھی قطع کر دیتی ہوں، ابھی انجمن آرا کو لا، تیرے رو بہ رو جلا، اپنا دل ٹھنڈا کرتی ہوں۔ جان عالم بد حواس ہوا کہ رنڈی کے غصے سے ڈرا چاہیے۔ سخت غَضَب میں گرفتار ہوئے۔ انکار میں قَتلِ معشوق مدِّ نظر، اور اقرار کرنے میں اپنی جان کا ضَرَر۔ دونوں طرح مشکل ہے۔ حیران ہو مآل کار سوچنے لگا، منہ نوچنے لگا۔ واقعی یہ مُقَدَّمہ بہت پیچ دار ہے، جس پر گزرا ہو، وہ جانے۔ دل کا حال یہ ہوتا ہے: جدھر آیا، آیا، جس سے پھرا، پھرا اور یہ کیا عذاب عظیم ہے: فراق محبوب، وصال نا مرغوب۔

آخر کار شہ زادے کو بَجُز اِطاعت، مَصلَحت نہ بَن پڑی۔ دل کو تسلی دے کہا: اگر اس سے مُوَافقَت کرو گے، انجمن آرا کی اور اپنی زندگی ہو گی۔ خَالق رَحمَةُ لِّلْعَــالَمِین، جَــامِعُ المُتَفَــــرِّقِین ہے، کوئی صورت نکل آئے گی کہ اس بلا سے رہائی، درِ دل دار تک رسائی ہو جائے گی۔ اِلَّا، حیلہ شرط ہے۔ یہ خیال کر، ساحرہ سے کہا: ظالم! ہم تیرا جی دیکھتے تھے۔ ہم نے سنا تھا: عاشق، معشوقوں کے ناز بَردار ہوتے ہیں، مگر یہ جھوٹ تھا۔ دھمکاتے ہیں، ڈراتے ہیں۔ عاشقی میں حکومت کسی نے کانوں سے نہ سنی ہو گی، ہم نے آنکھوں سے دیکھی۔ تو یہ نہ سمجھی، ایسا کون احمق ہو گا جو تجھ سا معشوقِ عاشق خِصال اور یہ سَلطنتِ لازوال چھوڑ کے اَمرِ نَادِیدَہ کی جستجو کرے۔ اُمِّیدِ مُوہَوم پر جنگل جنگل ڈھونڈتا پھرے۔ یہ فقط اختلاط تھا۔ یہ کہہ کے گردن میں ہاتھ ڈال دیا، بات کو ٹال دیا۔ وہ قَحبہ تو اِزار کھولے بیٹھی تھی، لیٹ گئی۔ نا چار بَا خَاطِرِ فِگار پہلے تو ٹالا کیا، پھر اس تیٖرَہ بَخت کا منہ کالا کیا۔ پھر ہاتھ منہ دھو، اس کے ساتھ سو رہا۔ وہ چُڑ مَرانی، بَد مست لیٹتے ہی جہنم واصل ہوئی۔ دل کی تمنا حاصل ہوئی۔

یہاں نیند کہاں، جی سینے میں بے قرار، پہلو میں وہ خار۔ ہر دم آہِ سرد دلِ پر درد سے بلند۔ چشمۂ چشم جاری، فریاد و زاری دو چَند۔ جگر میں سُوزِ فِراق نِہاں، لب سے دوُدِ پِنہاں عَیاں۔ سینہ مجمر، دل و جگر سِپَند، یہ رُباعی بَر زباں، لا اَعلَم:

کسی کی شبِ وصل سوتے کٹے ہے
ہماری یہ شب کیسی شب ہے الٰہی!
کسی کی شبِ ہجر روتے کٹے ہے
نہ سوتے کٹے ہے، نہ روتے کٹے ہے

مگر جب وہ کروٹ لیتی، اس کی جان خوف سے نکلتی، دَم بہ خود ہو جاتا، جھوٹ موٹ سو جاتا۔ اسی حال سے، بہ ہزار خرابی و مشاہدۂ بے تابئ جانِ عالم گریبانِ سحر چاک ہوا۔ رات کا قصہ پاک ہوا۔ جادوگرنی اٹھی، شہ زادے کو حمام میں لے گئی۔ وہاں اور عجائبات سحر دکھائے۔ نہا کے دونوں باہر آئے۔ خاصہ چُنا۔ ناچ دیکھا، گانا سنا۔ بَعدِ فراغِ صحبت و جلسۂ طعام اس نے یہ کلام کیا کہ میرا معمول ہے اس وقت سے تا شام علی الدَّوام شَہپال کے دربار میں حاضر رہتی ہوں؛ تیری اجازت ہو تو جاؤں، دربار کا رنگ دیکھ آؤں۔ جانِ عالم نے دل میں کہا: للہِ الحَمد جو دم تیری صورت پُر کُدورَت نہ دیکھیے، غنیمت ہے، مگر ظاہر میں زمانہ سازی سے کہا: فرقت تمھاری گوارا نہیں، روکنے کا یارا نہیں، جلد آنا۔ ساحرہ اس کلمے سے بہت خوش ہو، چل نکلی۔ اس کے جانے سے باغ سنسان، ویران، وحشت انگیز، ہُو کا مکان ہوا۔ تنہا شاہ زادہ با خیال دل بَر پھر تو بے تکلف ہو، جی کھول کے، میرؔ:

غمِ دل کو زبان پر لایا
آفتِ تازہ جان پر لایا

کہا: ہم سا بھی بد نصیب، دور اَز حبیب دوسرا نہ ہو گا، جس کا یار نہ مددگار، جس سے دل کا درد کہیے، تا تسکین ہو۔ صحبت ان کی ملی ہے، جنھیں دیکھ چپ رہیے کہ عشق اَور کا نہ ان کے ذہن نشیں ہو۔ ایک جانور جو رَہ بَر تھا، یوں اُڑا۔ وزیر زادہ، جو لڑکپن سے جاں نثار اور یاور تھا، ووُں چھٹا۔ ہوسؔ:

سوائے اندوہ و یاس و حِرماں، ہُوا نہ حاصل جہاں سے ہم کو
اٹھائیں کاندھے پہ بارِ ہستی، سفر ہے بہتر یہاں سے ہم کو

نہ رفیق ہے نہ شفیق، حیران و پریشاں، بے سر و ساماں ہوں۔ خیالِ دوست ہے اور میں نیم جاں ہوں۔ شعر:

بھیج دیتا ہے خیال اپنا، عوض اپنے مُداماس قدر یار کو غم ہے مری تنہائی کا

اسی سوچ میں چھ گھڑی دن باقی رہا، جادوگرنی چمکی چمکائی آئى۔ جان عالم کو اس کی صورت دیکھ کے رونا آیا۔ لیکن ڈر کے مارے جو ہنسنے لگا، نالہ گلے میں پھنسنے لگا۔ پھر وہی اَکل و شُرب کا چرچا مچا۔ جب نِصف شب گزری، لَہو لَعب سے فرصت ملی۔ وہ تو سو رہی، اِن کو بیداری، اَختر شُماری نصیب ہوئی۔ فَرْد:

شاہد رہیو تو اے شبِ ہجرجھپکی نہیں آنکھ مصحفی کی

اسی انداز سے دو مہینے گزرے۔ جانِ عالم کا روز کی کُوفت سے یہ عالم ہوا کہ سوکھ کے کانٹا ہو گیا۔ بدن، ڈھانچا ہو گیا۔ استاد:

ہوں کاہ سے کاہیدَہ، بس زار اسے کہتے ہیں
بن ہاتھ لگے دس کے، جا سے نہیں ہلتا میں
تصویر مُرَقَّع ہوں، سکتے کا سا عالَم ہے
عیسیٰ سے نہ ہو اچھا، بیمار اِسے کہتے ہیں
لاغَر اِسے کہتے ہیں، تیار اسے کہتے ہیں
جنبش ہی نہیں، نقشِ دیوار اسے کہتے ہیں

قَضا را، ایک روز وقت رخصت، ساحرہ بولی: جان عالم! تیری تنہائی کا اکثر خیال، بلکہ مجھے ملال رہتا ہے۔ تو اکیلا تمام دن گھبراتا ہو گا، باغ خالی کاٹے کھاتا ہو گا۔ مجبور ہوں، کوئی تیرے دل بہلانے کی گوں نہیں، جسے چھوڑ جاؤں۔ یہ رنڈیاں بد سلیقہ ہیں، ان کو کہاں تک آدمیّت سکھاؤں۔ ہنوز انھیں نشست و بَرخاست کا قَرینَہ نہیں آیا، ان سے تو اور بَرخاستہ خاطِر ہو گا۔ شہ زادے نے کہا: ہم کیا گھبرائیں گے! دل بہلانے والا کہاں سے لائیں گے! تنہا پیدا ہوئے، تمام عمر اکیلے رہے۔ ہماری قسمت میں دوسرا لکھا نہیں۔ ہم صحبت ہمارا خدا نے خَلق کیا نہیں۔ لیکن یہ اندیشہ ہمیشہ رہتا ہے: کوئی ہمیں مار ڈالے تو دن بھر مفت مِٹّی خراب رہے، تم سے کون جا کر کہے۔ ہنسی کی جا ہے، رونے والا نا پیدا ہے۔ وہ بولی: یہ مکانِ طلسم ہے، بادِ مُخَالِف کا گزر مُحال ہے، تیرا کدھر خیال ہے! شہ زادے نے کہا: اگر کوئی جادوگر یہ قَصد کرے، اسے کون روکے؟ فَریفْتَہ بہ شِدَّت تھی، بند ہوئی۔ وہم یہ ہوا کہ میرے بعد کوئی جادوگرنی آئے اور اس پر عاشق ہو جائے، مار ڈالنا کیسا، یہاں سے اُڑائے، تو تُو کہاں پائے! سب محنت برباد جائے! فرطِ مَحَبَّت، نَشَۂ اُلفَت میں انجامِ کار نہ سوچی، بے تَامُّل نقشِ سلیمانی، جو بزرگوں کی امانت اور نشانی تھی، صندوق سے نکال، اس کے بازو پر باندھا، کہا: اب نہ تاثیر سحر، نہ دیو کا گزر، نہ پری سے ضَرَر ہو گا۔ دل کا کھٹکا مِٹا، مزے اُڑَا۔ یہ کہہ کے وہ تو بہ دستور چلی گئی، جان عالم کے سر پہ خرابی آئی، وہی بِلبِلانا، شور مچانا، باغ کو سر پر اٹھانا اور گاہ انجمن آرا کے تَصَوُّر سے یہ کہنا، مُؤَلِّف:

لکھا ہوا یہی قسمت کا تھا، سو جان، ملا
ہزار صدمے پہ دل نے ہمارے اف بھی نہ کی
نہ ہم نے چَین بہ زیرِ فلک کبھی پایا
تری تلاش میں دَر دَر بھٹکتے پھرتے ہیں
نہ کہہ تو پیرِ فلک! پر کہے گی ساری خلق
بہت جہان کی کی سَیر اے سُرورِؔ حَزِیں
کہ میری، خاک میں، محنت دے آسمان، ملا
جو اک رفیق ملا، وہ بھی بے زبان ملا
عنایت اَزَلی سے عجب مکان ملا
ملا نہ تو ہی، تو جُوتی سے، گو جہان ملا
کہ خاک میں ترے جَوروں سے کیا جوان ملا
یہ بے خزاں نہ ہمیں کوئی بوستان ملا

ایک دن عَالَمِ تنہائی میں جان عالم کو یہ خیال آیا: اس نقش کی تعریف اس نے بہت کی تھی، کھولو تو شاید عُقدۂ کارِ بَستَہ کھلے۔ یہ سوچ کے اسے کھولا۔ اس کا یہ نقشہ تھا: بِست دَر بِست کا نقش، ہر خانے میں اَسمَائے اِلٰہی مع ترکیب و تاثیر تحریر تھے۔ دیکھتے دیکھتے خانۂ مطلب میں نظر پڑی۔ لکھا تھا کہ کوئی شخص اگر کسی ساحر کی قید میں ہو، یہ اسم پڑھے، نَجات پائے۔ یا مکانِ طِلسم میں پھنسا ہو، اسے پڑھتا، جدھر چاہے، چلا جائے۔ اور جو کوئی سحر کرتا ہو، اس پر دَم کر پھونک دے، اُسی دم اِس کی برکت ساحر کو پھونک دے۔

یہ سَانِحَہ اُس میں دیکھ کے، قریب تھا شہ زادہ شادی مَرگ ہو۔ جلد جلد وہ سب اِسم یاد کر، نقش بازو پر باندھا۔ اس عرصے میں جادوگرنی موجود ہوئی، جان عالم کے تیوَر بُرے دیکھے۔ پوچھا:

مزاج آج کیسا ہے؟ وہ بولا اَلحَمْدُ لِلّٰہِ بہت اچھا ہے۔ دِیر سے تیرا منتظر تھا۔ لے تجھے شیطان عَلیهِ الَّلعْن کو سونپا، ہمارا اللہ نگہبان ہے۔ یہ سنتے ہی روح قالِب سے نکل گئی۔ سمجھی پیچ پڑا۔ جان عالم چل نکلا۔ سحر سے روکنے لگی، تاثیر نہ کی۔ سر پیٹ کر کہا، سعدیؔ:

کس نیاموخت علم تیر ازمن
کہ مرا عاقبت نشانہ نکرد

یہ کہہ کے ناریل زمین پر مارا، وہ پھٹا، ہزار ہا اژدھا شعلہ فِشاں پیدا ہوا۔ شہ زادے نے کچھ پڑھا، وہ سب کے سب پانی ہو گئے، ہستی سے فانی ہو گئے۔ پھر تو مِنَّت کرنے لگی، پاؤں پر سر دھرنے لگی۔ جادوگرنیاں سمجھانے لگیں کہ یہ شرطِ مُرَوَّت نہیں، جو اپنا والِہ وشَیدا ہو اس سے دَغا کیجیے۔ شہ زادے نے کہا: گریبان میں منہ ڈالو، سوچو تو ہم بھی کسی کے عشق میں خود رَفتہ، وحشی، عزیزوں سے جدا، مصیبت کے مبتلا، سَر بہ صحرا ہوئے تھے، ہمیں جبر سے قید کیا، ہزار طرح کا الَمِ مُفَارَقَتْ دیا۔ یہ احسان کچھ کم ہے، ہم نے طلسم دَرہم و بَرہم جو نہ کیا۔ وہ سمجھیں، یہ نہ ٹھہرے گا۔ عاشقی کا کام نصیحت و پند، قید و بند سے نہیں ہوتا۔ اور جبر کا کام اگر اختیار کیا، حباب آسا نا پائیدار ہے، اس کا کیا اعتبار ہے۔ حَسَنؔ:

سدا ناؤ کاغذ کی بہتی نہیں

اور یہ قضیہ اِتِّفَاقیہ ہے، مصر؏:

ہر روز عید نیست کے حلوا خورد کسے

حسنؔ:

کبھی یوں بھی ہے گردشِ روزگار
کہ معشوق، عاشق کے ہو اختیار

لیکن سوچو تو، لاکھ طرح کا راحت و آرام ہو، جہان کا چَین صبح و شام ہو، جو جی نہ لگے تو کیا کرے۔ استاد:

دولتِ کونین حاصل ہو تو اٹھیے لات مار
پھر نہیں لگتا ہے جی، جس جا سے ہو جس کا اُچاٹ

الغَرض وہ سر پیٹتی رہیں۔ جانِ عالم نے بہ برکتِ اسمائے الٰہی اس طِلسم سے رہائی پائی، اپنی راہ لی۔ چند روز میں پھر اُس حوض پر وارد ہوا۔ دیکھا اسپِ وفا دار، پتھر سے سر مار مار، مر گیا تھا۔ اس کی لاش دیکھ کے دل پاش پاش ہوا، خوب رویا۔ اب اور رنج پیادہ پائی کا قدم بوس ہوا۔ پاؤں اٹھانا کالے کُوس ہوا۔ سبحانَ اللّٰہ! کہاں وہ شہ زادہ پروردۂ نعم و ناز، کہاں یہ پیادہ پائی کا سفرِ دور و دراز! ہر قدم خار، ہر گام آزار، مگر تصورِ یار پیشِ نظر۔ ہر قطرۂ اشک میں سَو سَو لختِ جگر۔ آہ و نالہ در دہاں، یہ شعر ہر ساعت بَر زبان، ناسخ:

مانعِ ۣصحرا نَوَردی، پاؤں کی ایذا نہیں
دل دُکھا دیتا ہے لیکن ٹوٹ جانا خار ک

اکیوں نہ کھٹکوں آسماں کو رات دن مَیں نَاتَواں
آبلے کی شکل اس میں، مجھ میں عالَم خار کا

رنگِ رو فق، دل میں قَلَق۔ سینہ فِگار، پا آبلہ دار۔ چھاتی غمِ دوری سے شق۔ کبھی حکایتِ شکایتِ بیر، گاہ نالۂ قیامت خیز۔ اور یہ غزل مُؤلّف کی درد آمیز پڑھتا چلا جاتا تھا، مُولِّف:

توڑ کر خُم اور پٹک کر آج پیمانے کو ہم
شمع رو! محفل میں کب دیں بار پروانے کو ہم
خواب سا کرتے ہیں ہم ایامِ عشرت کو قیاس
پر تلک تھا جس مکاں پر شمع رویوں کا ہجوم
اشک گل گوں کے نشاں چھٹ، کچھ پتہ ملتا نہیں
جرم کچھ صیاد کا اپنی اسیری میں نہیں
سوئے مسجد جاتے ہیں زاہد کے بہکانے کو ہم
ایک کیڑے سے بھی کیا کچھ کم ہیں جل جانے کو ہم
دھیان میں لاتے ہیں جس دم گزرے افسانے کو ہم
چھانتے ہیں اب وہاں پر خاکِ پروانے کو ہم
جب خزاں میں ڈھونڈھتے ہیں اپنے کاشانے کو ہم
روتے ہیں کُنج قفس میں آب اور دانے کو ہم

رشکِ زلفِ یار سب عُقدے ہیں میرے اے سُرورؔ
اور الجھ اٹھتے ہیں، بیٹھیں جب کہ سلجھانے کو ہم

چشم تر، رنگ زرد، آہ سرد، دل میں درد۔ پاؤں کہیں رکھتا، آبلہ پائی سے کہیں اور جا پڑتا۔ نہ راہ میں بستی نہ گاؤں۔ نہ میل نہ سنگ نشان، راہ کا سر نہ پاؤں۔ دلِ صفا منزل میں عزم درِ دلدار۔ آبلوں کو اُنسِ خار۔ سخت بد حواسی تھی۔ کانٹوں کی زَبان تلووں کے خون کی پیاسی تھی۔ نہ کوچ کی طاقت، نہ یارائے مقام۔ گھبرا کے وہ ناکام یہ کہتا، مُولِّف:

بدل دے اور دل اِس کے بدلےالٰہی، تو تو ربُ العالمیں ہے

اور اُس پر نقدِ جاں دے کر، بدل لیتا سرورؔ
گر دلِ بے رنج چڑھ جاتا کسی کا دھیان میں

اور جب ولولہ شوق سے جوشِ جنوں ہوتا، آنکھوں سے موج زن دریائے خوں ہوتا، تو یہ غزل مُولِّف کی پڑھتا ، مُولِّف:

قرار پاتی نہیں جانِ زار بِن تیرے
گھمنڈ تھا مجھے جن جن کا، سب وہ بھاگ گئے
سرورِؔ کشتۂ محبوب، خاک شَرْح کرے
ستا رہا ہے دلِ بے قرار، بِن تیرے
حواس و ہوش، شکیب و قرار، بِن تیرے
بَسر جو کرتا ہے لیل و نہار بِن تیرے

خُلاصۂ کار یہ کہ اسی حالِ خراب اور دلِ بے تاب سے ہر روز سرگرمِ منزل تھا، دیٖدَۂ دیٖدار طَلَب سے رواں خونابۂ دِل تھا۔

 

رِہا ہونا اس گرِفتار دامِ سحر کا

 

جادو گرنی کے جال سے اور ملاقات ہونی ملکہ مہر نگار صاحبِ حسن و جمال سے، ملکہ کی طبیعت کا لگاؤ، تازہ شمشیر الفت کا گھاؤ، باہم کی چھیڑ چھاڑ، بناؤ کا بگاڑ، پھر ملکہ کے باپ سے ملنا، لَوح لے کے چل نکلنا

 

عشق ہے تازہ کار، تازہ خیال
کہیں آنسو کی یہ سرایَت ہے
گَہ نمک، اِس کو داغ کا پایا
کہیں طالب ہوا کہیں مطلوب
ہر جگہ اِس کی ایک نئی ہے چال
کہیں یہ خوں چکاں حِکایت ہے
گہ پتنگا، چراغ کا پایا
اِس کی باتیں غرض ہیں دونوں خوب

یہاں سے دَشْت نَوَرْدان وادِیٔ سخن، جگر اَفگار و غُربَت زَدَگانِ پُر محن و سینہ ریش با پائے زخم دار و دلِ خار خار بیان کرتے ہیں کہ وہ مسافرِ صحرائے اَندوہ و حِرماں، عازِمِ سمت جاناں، بے توشَہ وزاد راہ ، ہر روز با دِل پرسوز کراہ کراہ ؛ بادیہ گردی کرتا ، جیتا نہ مرتا ؛ ایک روز نواح دل کشا و صحرائے فرح افزا میں گزرا۔ دیکھا کہ باغبان قدرت نے صفحہ دشت گل ہائے گونا گوں ، مختلف رنگ ، بوقلموں سے بہشت ہشتم، رشک صحن چمن بنایا ہے اور بوٹا پتا گھانس کا بہ ازگل باغ ارم ، خجلت دہ نسرین و نسترن کر دکھایا ہے۔ گرد جدول آب رواں۔ چشمہ ہر ایک چشمہ حیواں۔ اور لکّہ ہائے ابر نے چھڑکاؤ سے عجب رنگ جمایا ہے۔ نسیم بہار اور درخت گل دار سے میدان رشک ختن و تاتار ہے۔ نہ کہیں گرد ہے نہ غبار ہے۔ درختوں پر فیض ہوا اور ترشح سے سرسبزی اور چمک کا جوبن ہے۔ گل ہائے خود رو سے جنگل نمونہ گلشن ہے۔

یہ تو مدتوں کا مسافت دیدہ ، مسافرت کشیدہ تھا ؛ وہ زمین خجستہ آئیں بہت پسند آئی۔ دل میں آیا : آج کی شب اسی جا سحر کیجیے ، قدرت حق مدنظر کیجیے۔ ایک سمت زمین ہموار ، درخت گنجان ، چشمہ ہائے آب رواں دیکھ کے جا بیٹھا۔جنگل کی کیفیت جی بے کل کرنے والی۔ جانوروں کی چھل بل ، اچھل کود کی دیکھا بھالی۔ خوش فعلی کی سیر ۔ کلیل میں وحش وطیر۔ بو باس ہر برگ و گل کی۔ دھوم دھام طائروں کے غل کی۔ بوٹے پتے کی نشو و نما۔ سرد سرد ہوا۔ کوسوں تک پہاڑ کی ڈانگ ، اس پر عجائب غرائب نقاش ازل کے سانگ۔ ایک سمت ابر سیاہ گھرا۔ سرخ و سفید ، اودی ساون بھادوں کی گھٹا ۔ چرخ کہن نئے نئے رنگ بدلتا۔ کبھی بجلی چمک جاتی ، آنکھ جھپک جاتی۔ رعد زور شور سے مے خواروں کو یہ سنا رہا، میر سوزؔ:

کی فرشتوں کی راہ، ابر نے بند
جو گنہ کیجیے، ثواب ہے آج

ندیاں نالے چڑھے، دریا بڑھے۔ جھیلیں، تالاب لب ریز۔  ڈیرے موج خیز۔ پپیہے کا مستوں سے مخاطِب ہونا، پی پی کہہ کہ آپی جان کھونا۔ کوئل کی کوکو اور توتو سے کلیجا منہ کو آتا تھا۔ مور کا شور، برق کی چمک، رعد کی کڑک ، ہوا کا زور زور رنگ دکھاتا تھا۔ شام کا وقت ، غروبِ آفتاب کا عالم، جانوروں کا درختوں پر بیٹھنا باہم۔ زمین پر فرش زمردیں یکسر بچھا، جہاں تک نظر جاتی، دھان لہریں لے رہا۔ آسمان میں رنگا رنگ کی شفق پھولی، شام اودھ کی سیر بھولی۔ ایک سمت قوس قزح، جسے دھنک کہتے ہیں، بہ صد جلوہ و شان  فلک پر نمایاں؛ سُرخ، سبز، زرد، دھانی لکیریں عیاں۔ بلبل کے چہچہے، درخت سر سبز، لہلہے۔ کوسوں تک سبزہ زار، پھولوں کی بہار۔ کہیں ہرن چرتے، کہیں پرند سیر کرتے۔ کسی جا طاؤسانِ طنَّاز  سرگرم رقص ناز۔ لب ہر چشمہ آب   مرغ آبی و سرخاب۔ کبھی نمود ہونا ماہ کا، چکور کا دوڑنا، بھرنا آہ کا۔ دونوں وقت ملتے، اس دید کی خراش سے دل پاش پاش، زخم جگر چھلتے۔ یہ سیر جو ہجر جاناں میں نظر سے گزر جائے، کیوں کر دل ٹکڑے ٹکڑے نہ ہو، چھاتی نہ بھر آئے، استاد :

کارِ اَخگر کرتی ہے ہر بوند تن پر یار بِن
کیا عجب، گرہوں ہرے داغِ جگر برسات میں

قاعدہ ہے جب آدمی کو سامانِ عیش و نَشاط، اِس طرح کی سَیرِ فرحت و اِنبساط مُیَسّر ہوتی ہے ؛ جسے پیار کرتا ہے، وہ یاد آتا ہے۔ شہزادے نے مُدّت کے بعد یہ فرحت و فِضا جو دشت میں پائی، یار کی یاد آئی، آنکھیں بند کر کے کہا، شعر:

میں وہ نہیں جو کروں سَیرِ بوستاں تنہابہشت ہو تو نہ مُنہ کیجے باغباں، تنہا

اِس سوچ میں بیٹھا تھا، ایک طرف سے سواری کا سامان نظر آیا۔ “ادب” اور “ملاحظہ” کا غُل، “تفاوُت” اور “قرینے” ،  “نگاہ رو بہ رو” کا شُور بلند پایا۔ غور جو کیا، رنڈیوں کا غول سامنے آیا۔ یہ گھبرایا ؛ دھوکاپا چکا تھا، جنگل میں غُوطہ کھا چکا تھا۔ سنبھل بیٹھا اور اَسمائے رَدّ سحر پڑھنے لگا، بہ موجِبِ مثل: دودھ کا جَلا چھاچھ پھونک پھونک پیتا ہے۔ جب وہ آگے بڑھیں، غَور سے دیکھا : چار پانچ سَے عورت پری زاد، حور وَش، غیرتِ سَرو، خجلت دِہِ شَمشاد، زَرّیٖں کمر، نازک تَن، سیٖم بَر، چُست و چالاک، کم سِن، اَلَّڑھ پنے کے دن، اچھلتی کودتی، مردانہ وار پیادہ ؛ اور جَواہِر نِگار ہَوا دار پر ایک آفتابِ محشر سوار، گِرد پریوں کی قطار، تاجِ مُرَصَّع کج سر پر، لباسِ شاہانہ پُر تکلف دَر بَر، نیمچۂ سلیمانی اُس بلقیس وَش کے ہاتھ میں، سیماب وَشی بات بات میں، صید کرنے کی گھات میں۔ اور بندوقِ چَقماقی خاص لندن کی، طائِرِ خیال گِرانے والی برابر رکّھے ؛ شکار کھیلتی، سَیر کرتی چلی آتی ہے۔ حُسنِ خداداد بے مِثال، کاہِشِ بَدر، غَیرتِ ہِلال، عجب سِن و سال۔ مِیر حَسَن:

برس پندرہ یا کہ سولہ کا سنجوانی کی راتیں، مُرادوں کے دن

طالِعِ بِیدار یاوَر، اِقبال دَم ساز۔ غَمزہ و عِشوہ جلو میں۔ انداز و ادا رَو میں۔ آفتِ جانِ عاشِق، سرمایۂ ناز۔ جانِ عالم نے بہ آوازِ بلند کہا،میرتقی:

کیا تنِ نازک ہے، جاں کو بھی حسد جس تَن پہ ہے
کیا بدن کا‌  رنگ ہے ، تہہ  جس  کی  پیراہن  پہ ہے

یہ صدا، جو اہتمام سواری آگے آگے کرتی تھیں، ان کے کان میں پڑی اور نگاہ جمالِ جانِ عالم سے لڑی، دفعتاً سب کی سب لڑکھڑا کر ٹھٹھک گئیں۔ کچھ، سکتے کے عالم میں سہم کر جھجھک گئیں۔ کچھ بولیں : ان درختوں سے چاند نے کھیت کیا ہے۔ کوئی بولی: نہیں ری! سورج چھپتا ہے۔ کسی نے کہا: غور سے دیکھ، ماہ ہے۔ ایک جھانک کے بولی: باللّٰہ ہے مگر چودہویں کا چاند ہے۔ دوسری نے کہا: اس کے روٗبہ روٗ وہ بھی ماند ہے۔ ایک نے غمزے سے کہا: چاند نہیں تو تارا ہے۔ دوسری چٹکی لے کے بولی: اُچھال چَھکّا ! تو بڑی خام پارا ہے۔ ایک بولی : سرو ہے یا چَمنِ حُسن کا شمشاد ہے۔ دوسری نے کہا : تیری جان کی قسم پَرِستان کا پری زاد ہے۔ کوئی بولی: غضب کا دِل دار ہے۔ کسی نے کہا: دیوانیو! چپ رہو ! خدا جانے کیا اسرار ہے۔ ایک نے کہا: چلو نزدیک سے دیکھ، آنکھ سینک کر دل ٹھنڈا کریں۔ کوئی کھلاڑن کہہ اٹھی : دور رہو ، ایسا نہ ہو اسی حسرت میں تمام عُمْر جل جل مریں۔ ایک نے خوب جھانک تاک کے کہا: خدا جانے تم سب کے دیٖدوں میں چربی کہاں کی چھا گئی ہے، کیا ہوا ہے ! یہ تو بھلا چنگا، ہٹّا کٹّا مردُوا ہے۔

سواری جو رُکی، ملکہ نے پوچھا خیر ہے؟ سب نے ڈرتے ڈرتے دست بستہ عرض کی: قربان جائیں، جان کی امان پائیں تو زبان پر لائیں، ہمیشہ سواری حضور کی اِس راہ سے جاتی ہے، مگر آج خلافِ معمول اِن درختوں سے ایک شکل دل چسپ ایسی نظر آتی ہے کہ، فرد:

سنا یوسف کو، حسینانِ جہاں بھی دیکھے
ایسا بے مثل طرح دار نہ دیکھا نہ سنا

ملکہ متعجب ہو کے پوچھنے لگی: کہاں؟ ایک نے عرض کی: وہ حضور کے سامنے۔ جیسے ملکہ کی نگاہ چہرۂ بے نظیر، صورتِ دل پذیر جانِ عالَم پر پڑی، دیکھا: ایک جوان، رشک مہِ پیرِ کنعاں، رعنا، سر وقامت، سہی بالا، بحرِ حسن و خوبی کا دُر یکتا، کاسۂ سر سے فَرِّ شاہی نمایاں، بادۂ حسنِ دل فریب سے معمور ہے۔ دماغِ کشوَرستانی ہے، اٹھتی جوانی ہے، نشۂ شباب سے چَکناچُور ہے۔ خمِ ابرو محراب حسیناں، سجدہ گاہِ پردہ نشیناں۔ چشمِ غزالی سرمہ آگیں ہے۔ آہوئے رَم خوردۂ کِشورِ چیں ہے۔ چِتون سے رمیدگی پیدا ہے۔ مستِ مے محبت ہے، اِس پر چوکنّا ہے۔ دیدے کی سفیدی اور سیاہی لیل ونہار کو آنکھ دکھاتی ہے۔ سوادِ چشم پر حور سُوَیدائے دل صدقے کیا چاہتی ہے۔ حلقۂ چشم میں کتنے ہموار مَردُمِ دیدہ دھرے ہیں۔ صانعِ قدرت نے موتی کُوٹ کُوٹ کے بھرے ہیں۔ مِژَہ نکیلی اس کماں ابرو کی دل میں دوسار ہونے کو لَیس ہے۔ رشکِ لیلیٰ یہ غیرتِ قیس ہے۔ ناوَکِ نگاہ سے سِپَرِ چرخ تک پناہ نہیں۔ دل دُوزی بے گناہوں کی اِس کی ملت میں صواب ہے، گناہ نہیں۔ لَوحِ پیشانی، تختۂ سیمیں یا مَطلعِ نُور ہے، یا طباشیرِ صُبح یا شمع طُور ہے۔ کاکُل مشکیں سےزلفِ سنبل کو پریشانی ہے، بوباس سے خُتَن والوں کے ہوش خطا ہوتے ہیں، حیرانی ہے. عنبریں مویوں کی زندگی وبال ہے۔ بال بال پر پیچ و خم دار ہے۔ روئے تاباں بسانِ چشمہ حیواں ظلمت سے نمودار ہے۔ ہما اپنے پَرو بال سے اس صاحب اقبال کا مگس راں ہے۔ رخ تابندہ کی چمک سے نیر اعظم لرزاں ہے۔ لب گل برگِ تَرپر سبزے کی نمود ہے، یا دھواں دھار مشتاقوں کے دل کا دود ہے۔ نظر جھپکتی ہے، تجلی قدرتِ ربِ وَدود ہے۔ ہر حلقہ گیسوئے مُعَنبر کا کمندِ گرَہ گیر ہے ؛ مگر بالوں کے الجھنے سے کھلتا ہے کہ کسی کی زلفِ پیچاں کا خود بھی اسیر ہے۔ خندہ دنداں نما سے ہونٹ، لعل بدخشاں کا رنگ مٹاتا ہے۔ دانتوں کی چمک سے گوہرِ غلطاں بے آب ہو کر لوٹا جاتا ہے۔ معشوقوں کا ان پر دانت ہے، دل و جاں وارتے ہیں۔ جو نظر سے پنہاں ہوں، ڈاڑھیں مارتے ہیں۔ دم تقریر دُرجِ دہاں جو کھولتا ہے، سامع موتی رولتا ہے۔ ہر کلمہ اعجاز نما ہے، بیمارِ محبت کا مسیحا ہے۔ دونوں ہاتھ نہالِ الفت کی شاخِ باردار ہیں، دل کی دست بردی کو اور خزانہ قاروں بانٹ دینے کو سر دست تیار ہیں۔ کفِ دَست کی لکیر میں دست آویز محبت یدِ قدرت سے تحریر ہے، سر نَوِشت سے یہ کھلتا ہے کہ سلسلہ الفت میں کسی کے، رگ و پے بستۂ زنجیر ہے۔ مِرآتِ سینہ میں عکس افگن کوئی صاحب جمال ہے، مد نظر کسی کا خیال ہے۔ کمرِ نازک جستجو پر چست باندھی ہے، گو بیٹھا سست ہے؛ چلنے کو مثلِ صبا آندھی ہے۔ پاؤں وادیٔ تلاش میں سرگرمِ رفتارہیں۔ زِیرِ قدم دَشت و کُہسار ہیں۔ مگر قسمت اپنی بَرسَرِ یاری ہے کہ ہمارے دام میں یہ ہُمائے اَوجِ شَہر یاری ہے۔

یہ تصور دل میں تھا کہ کار پَردازانِ محکمۂ ناکامی حاضر ہوئے اور مشّاطۂ حُسن و عشق نے پیش قدمی کر مَتاعِ صبر و خِرَد ، نَقدِ دل و جاں، اَثاثِ ہُوش و حَواس، تاب و تَوانِ ملکۂ جگر فِگار اَرمَغانِ رونُمائی میں نَذرِ شہ زادۂ والا تَبار کیا۔ عقل و دانش گم، صُّمٌّ بُکمٌ کا نقشہ ہوا۔ حضرتِ عشق کی مدد ہوئی، سب بلا رَد ہوئی۔ شوقِ وصل دل میں پیدا ہوا، جی شیدا ہوا۔ دفعتاً کیا تھا، کیا ہوا۔ میر تقی:

تھی نظر، یا کہ جی کی آفت تھی
ہُوش جاتا رہا نگاہ کے ساتھ
دل پہ کرنے لگا تَپیٖدن ناز
وہ نظر ہی وَداعِ طاقت تھی
صبر رخصت ہوا اک آہ کے ساتھ
رنگ چہرے سے کر گیا پرواز

ملکہ تھرتھرا کر ہَوا دار پر غش ہوئی۔ خَواصوں نے جلد جلد گُلاب اور کیوڑا، بید مشک چھڑکا۔ کوئی نادِ علی پڑھنے لگی۔ کوئی سورۂ یوسف دَم کرنے کو آگے بڑھنے لگی۔ کسی نے بازو پر رومال کھینچ کر باندھا، تَلوے سَہلانے لگی۔ کوئی مِٹّی پر عِطر چھڑک کر سنگھانے لگی۔ کوئی بید مُشک سے ہاتھ منہ دھوتی تھی۔ کوئی صدقے ہوہو روتی تھی۔ کوئی بولی: چہل کنجی کا کَٹورا لانا۔ کسی نے کہا: یَشب کی تختی دھو کے پِلانا۔ کسی نے کہا: بِلا رَیب آسیب ہے۔ کوئی بولی: اُسی کے دیکھنے سے دل نا شکیب ہے۔ کوئی بولی: یہ تو عجب چمک کا ماہ پارہ ہے؛ اِس کا دیکھنا یہ رنگ لایا، گویا چاندنی نے مارا ہے۔ کوئی سمجھی: یہ شخص ہم جِنس نہیں، قسمِ جِن سے ہے۔ کوئی بولی: دیوانیو! یہ غَشی تقاضائے سِن سے ہے۔

غَرض کہ دیر میں ملکہ کو اِفاقہ ہوا، مگر دل مُضطرِب، تَپاں۔ خواہش اُسی طرف کَشاں۔ جَذبِ عشق سے مقناطیٖس و آہَن کا عالَم۔ کشش مَحبت سے کاہ و کَہرُبا اُسی دَم ہو گئی۔ رنگِ رو طائرِ پَریٖدہ۔ صبر و ضبط دامن کَشیدہ۔ مَشوَرہ ہوا سواری اِدھر سے پھیرو، ملکہ کو بیچ میں گھیرو، لیکن تابِ تحمل، یارائے جبر ملکہ کو بالکل نہ رہا، اُس بدحواسی میں کہا تو یہ کہا: دیوانیاں ہو، یہ کوئی مسافر بے چارہ، خانماں آوارہ، غُربت کا مارا تھک کر بیٹھ رہا ہے، اِس سے ڈرنا کیا ہے! قریب چلو، حال پوچھو۔ ناچار، وہ سب فرماں بردار چلیں؛ مگر جھجکتی، ایک دوسرے کو تکتی۔ جوں جوں سواری قریب جاتی تھی، ملکہ کی چھاتی دھڑکتی تھی، دل میں تڑپ زیادہ پاتی تھی۔ اگرچہ جمالِ پری تمثالِ ملکہ مہر نگار بھی سحر سامری کا نمونہ، مَہ و مِہر سے چمک دمک میں دونا، عابد کُش، زاہد فریب تھا ؛ جانِ عالم بھی بے چین ہوا، مگر دامنِ ضبط دَستِ اِستقلال سے نہ چھوڑا۔ جس طرح بیٹھا تھا، جنبش نہ کی، تیور پر میل نہ آیا۔

ایک خَواصِ خاص بہ اِشارۂ ملکہ آگے بڑھی، پوچھا: کیوں جی میاں مُسافر! تمھارا کدھر سے آنا ہوا ؟ اور کیا مصیبت پڑی ہے جو اکیلے، سوائے اللہ کی ذات، ہیہات، کوئی سنگ نہ ساتھ، اِس جنگل میں وارد ہو؟ شہ زادے نے مسکرا کر کہا: مصیبت، خَیلا، تجھ پر پڑی ہوگی۔ معلوم ہوا یہاں آفت زدے آتے ہیں، ٹھوکریں کھاتے ہیں۔ کہو تم سب کی کیا کم بختی، اَیّاموں کی گَردِش، نصیبوں کی سختی ہے، جو خاک پھانکتی، مسافروں کو تاکتی جھانکتی، چُڑیلوں کی طرح ناکام سرِشام پھرتی ہو! سوکھے میں مسافروں پر پھسل پھسل کے گرتی ہو۔

ملکہ یہ کلمہ سُن کے پھڑک گئی اور ہوا دار آگے بڑھا خود فرمانے لگی: واہ وا صاحب! تم بہت گرما گرم، تُند مزاج، حاضر جواب، پا بہ رکاب ہو۔ حال پوچھنے سے اِتنا درہم برہم ہوئے، کڑا فقرہ زبان پر آیا۔ اِس مُردار کے ساتھ، تھوتھو، مجھ چھٹ سب کو پِچھل پائیاں بنایا۔ جانِ عالم نے کہا: اپنا دستور نہیں کہ ہر کس و ناکس سے ہم کلام ہوں۔ دوسرے، مُردار سے بات کرنا مکروہ ہے؛ مگر خیر، دھوکے میں جیسا اُس نے سوال کیا، ویسا ہم نے جواب دیا۔ اب تمھارے منہ سے مُردار نکلا، ہم سمجھ گئے، چُپ ہو رہے۔ ملکہ نے ہنس کر کہا: خوب! یک نہ شُد دو شُد۔ صاحِب! چونچ سنبھالو، ایسا کلمہ زبان سے نہ نکالو۔ کیا میرے دشمن دَرگور مُردار خور ہیں؟ آپ بھی کچھ زور ہیں! بھلا وہ تو کہہ کے سن چکی، میں آپ سے پوچھتی ہوں: حضور والا کس سمت سے رونق افروز ہوئے، دولت سَرا چھوڑے کَے روز ہوئے؟ اور قُدومِ میمنت لُزوم سے اِس دشتِ پُرخار کو کیوں رشکِ لالہ زار کیا، بارِگرانِ سفرِ غربت کب سے سر پر لیا؟

جان عالم نے کہا: چہ خوش! آپ در پردہ بناتی ہیں، بگڑ کر طنز سے یہ سناتی ہیں۔ ہم حضور کاہے کو، مزدور ہیں۔ آپ اپنے نزدیک بہت دور ہیں۔ جیتے جی چار کے کاندھے چڑھی کھڑی ہو، بے شک حضور ہو۔ عارضی جاہ و حَشَم پر مغرور ہو۔ جو جو جلیسیں تھیں، بولیں: ملکۂ عالم! آپ کس سے گفتگو دو بدو کرتی ہیں! یہ مردُوا تو لٹھ ہے، سخت منہ پھٹ ہے۔ ملکہ بولی: چپ رہو، اِن باتوں میں دَخل نہ دو۔ اگر یہ بدمزہ ہو جائے گا تو صَلواتیں سنائے گا۔ وہ سب ہٹیں، آپس میں کہا: خدا خیر کرے! آج جنگل میں گُل پھولا چاہتا ہے، یہ پردیسی پنچھی راہ بھولا چاہتا ہے۔ پھر ملکہ بولی: اے صاحب! خدا کے واسطے کچھ منہ سے بولو، سر سے کھیلو۔ نذر، بھینٹ جو درکار ہو، لے لو۔ جان عالم نے کہا: اُمرائیت کو کام نہ فرماؤ، نیچے آؤ۔ یہ ہمیں معلوم ہوا تم بڑی آدمی ہو۔ سواری مانگے کی نہیں۔ خواصیں بھی تمھاری ہیں، جو ہمراہِ سواری ہیں۔ خاک نشینوں کی ہَم بِستری اختیار کرو، تکلف تَہ کر رکھو۔ طبیعت حاضر ہو گی تو تمھارے بیٹھنے سے، کچھ کہہ اٹھیں گے۔ آپ ہوادار کیا، ہوا کے گھوڑے پر سوار ؛ فقیر بسترِ خاک پر سایہ دار۔ حافظ:

بَبیں تفاوُتِ رہ از کجا ست تا بکُجا

ملکہ نے کہا: مدت العمر میں ایسا مسافر جَریدہ ، دَہن دَریدہ تمھارے سوا، بہ خدا، نہ دیکھا نہ سنا۔ اُستاد:

زباں سنبھالو، یہ منہ زوریاں غریبوں پر
خدا کی سوں کوئی تم سا بھی بد لگام نہیں

زور چیز ہو، کتنے بے تمیز ہو۔ یکّہ و تنہا، ٹٹّو نہ گھوڑا ؛ پیادہ پائی میں لحاظ پاس نہیں، سب کو چھوڑا۔ گٹھری نہ بُقچَہ، ننگا لُچّا۔ وہی مَثَل ہے: رہے جھونپڑے میں، خواب دیکھے محلوں کا۔ ہر بات میں ٹھنڈی گرمیاں کرتے ہو۔ جو یہی خوشی ہے تو لو ؛ یہ کہہ کے ہوادار سے اتر، زمین میں شہ زادے کے برابر بیٹھ گئی۔

خواصوں نے بہت بھیانک ہو کے کہا: لو بی بی، یہ مُوا کیا سحربیاں، جادو کا انسان ہے! ملکہ سی پری کو، گالیاں دے دے کے، کیسا شیشے میں اُتار لیا! بیٹھے بٹھائے میدان مار لیا۔ ایک بولی: تجھے اپنے دیدوں کی قسم، سچ بولیو، ایسا جوان رنگیلا، سَجدار، نکیلا، ٹھٹھول،طرّار، آفت کا پَرکالہ، دنیا سے نرالا؛ تو نے یا کبھی تیری ملکہ نے دیکھا بھالا تھا؟ اری دیوانی، نادان! خوب صورتی عجب چیز ہے۔ اِس کا دوست طالِب، دشمن کا مطلوب ہے۔ حُسنِ خوب سب کو مرغوب ہے، جہان کو عزیز ہے۔ غرض کہ جب ملکہ بیٹھی، جانِ عالم دمِ سرد بھر کے بول اُٹھا، لا اَعلم:

چہ گویم از سر و سامانِ خود، عمریست چوں کاکُل
سیہ بختم، پریشاں روزگارم، خانہ بردوشم

مولف:

سراسر دل دُکھاتا ہے، کوئی ذکر اور ہی چھیڑو
پتا خانہ بدوشوں سے نہ پوچھو آشیانے کا

گرِفتارِ رنج و اَلَم، خوشی سے دور، مبتلائے غم، بے یار و مددگار، دوست نہ غم خوار، آفت کا مارا، خانماں آوارہ، ہمہ تن یاس، باختہ حواس۔ توشۂ راہ بجُز غمِ جاں کاہ نہیں اور رہبر سِوائے دلِ مُضطر ہمراہ نہیں۔ گو پاؤں میں طاقتِ رفتار نہیں، لیکن ایڑیاں رَگڑنا بھی اِس راہ میں ننگ و عار نہیں۔ یہ حال ہے، وہ سب نام ہیں؛ کوہ و دَشت اپنے مَسکَن، مقام ہیں۔ آدمی مجھ سے رَم کرتے ہیں، جانور رام ہیں۔ اور حال یہ ہے، میر سوزؔ:

ظاہر میں گرچہ بیٹھا لوگوں کے درمیاں ہوں
پر، یہ خبر نہیں ہے میں کون ہوں، کہاں ہوں
اے ساکنانِ دُنیا! آرام دو گے اک شب
بچھڑا ہوں دوستوں سے، گُم کردہ کارواں ہوں
ہاں اہلِ بزم! آؤں میں بھی، پر ایک سُن لو
تنہا نہیں ہوں بھائی، با نالہ و فغاں ہوں
سوراخ، چاک لاکھوں، داغوں کی کون گنتی
گلشن دل و جگر ہے، گو صورتِ خزاں ہوں
نام و نشاں نے یا رب، رسوا کیا ہے مجھ کو
جی چاہتا ہے، حق ہو، بے نام و بے نشاں ہوں
سر مانگتا ہے قاتل، قاصد! شتاب لے جا
اتنی سبک سری پر کا ہے کو سرگراں ہوں
قاتل پکارتا ہے، ہاں کون کُشتَنی ہے!
کیوں سوز چُپ ہے بیٹھا، کچھ بول اٹھ نا ہاں ہوں

یہ پڑھ کر چُپ ہو رہا، ملکہ سمجھی: یہ مُقَرر شاہ زادۂ عالی تَبار ہے، مگر کسی کا عاشقِ زار ہے۔ بات میں یہ تاثیر ہے کہ ہر کلمہ، ناوَک کا تیر ہے۔ دل میں آیا کسی طرح گھر لے چلیے، پھر مفصل حال معلوم ہو جائے گا، کہاں تک چھپائے گا۔ بہ مِنت و سَماجت کہا: اے عزیز! یہ سَر زمیں ہمارے علاقہ میں ہے۔تم مسافرانہ، اتفاقاتِ زمانہ سے وارد ہو؛ مہمانی ہم پر واجب ہوئی۔ چندگام اور قَدَم رَنجَہ کیجیے، غریب خانہ قریب ہے۔ آج کی شب استراحت فرمائیے، نانِ خشک کھائیے۔ صبح اختیار باقی ہے، اتنی مشتاقی ہے۔

جانِ عالم نےتبسم کر کے کہا: پھر در پردہ امارت کی لی۔ یعنی، ہم تو یہاں کے مالک ہیں، آپ بھوکے پیاسے سالک ہیں۔ چلو، یہ فقرہ کسی فقیر کو سناؤ۔ محتاج کو کرّ و فَر، جاہ و حَشَم سے دَبکاؤ۔ جادۂ اعتدال سے زبان کو باہر گام فرسا نہ فرماؤ۔ یہاں طبیعت اپنی اپنے اختیار میں نہیں اور رَوارَوی سے فُرصت قلیل ہے۔ مکان پر جانا، دعوت کھانا جبر ہے؛ آنے جانے کی کون سی سبیل ہے۔ ملکہ نے افسردہ خاطِری سے کہا: دعوت کا رد کرنا منع ہے؛ آئندہ آپ مُختار ہیں، ہم مجبور و ناچار ہیں۔ جانِ عالم نے دل میں خیال کیا: برسوں کے بعد ہم جِنسوں کی صحبت مُیَسَّر آئی ہے اور یہ بھی شاہ زادی ہے؛ اِس کا آزُردہ کرنا، نِری بے حیائی ہے۔ آدمیّت کا لحاظ، انسانیت کا پاس، اپنی بے اِعتنائی کا حِجاب کر کے کہا: کھانے پینے، سونے بیٹھنے کی ہَوَس دل سے اٹھ گئی ہے، مگر دل شِکنی کسی کی، اپنے مذہب میں گناہِ عظیم ہے، خدا اِس بات کا علیم ہے۔ شعر:

عِوض ہے دل شکنی کا بہت مُحال، اے یار
جو شیشہ ٹوٹے، تو کیجے جواب شیشے کا

لیکن اتنی رُکھائی اور یہ کج ادائی جو ظہور میں آئی؛ معاف کیجیے، اِس کا یہ سبب تھا، شعر:

در محفلِ خود راہ مدہ ہمچو مَنے را
افسردہ دل، افسردہ کند انجمنے را

دل فِگاروں کی صحبت سے انسان کو ملال حصول ہوتا ہے۔ غمگیں کا ہم نشیں ہمیشہ مَلول ہوتا ہے۔ میر دردؔ:

نہ کہیں عیش تمھارا بھی مُنَغَّض ہووےدوستو! دردؔ کو محفل میں نہ تم یاد کرو

اور جو یوں ہی مرضی ہے، تو بسم اللہ۔ یہ کہہ کے اٹھا۔ ساتھ ساتھ، ہاتھ میں ہاتھ، پیادہ پا باتیں کرتا چلا۔ بس کہ شاہزادہ لطیف وظریف تھا؛ کوئی فقرہ نُوک چُوک، رَمزوکِنایہ، ذوٗمعنی سے خالی زبان پرنہ لاتا تھا۔ ملکہ کا ہربات پر دل پگھلا جاتا تھا،مگر دل سے کہتی تھی کہ اے ناکام وبخت نافرجام! ایسا نہ کرنا کہ ہاتھ ننگ وناموٗس سے دھونا پڑے۔ بیٹھے بٹھائے اَلمِ مُفارَقت میں رونا، جان کھونا پڑے۔ ظاہر ہے یہ کسی کاعاشِقِ زار ہے۔ نَشَۂ محبت میں سرشار ہے۔ دوسرے، غریب الوطن۔ بقول میر حسن:

مسافر سے کوئی بھی کرتا ہے پیت                    مثل ہے کہ جو گی ہوئے کس کے میت

مگر تَپِشِ دل مستقل ترقی میں تھی۔ خواہش، جی کی کاہش میں۔ بے قراری کو اس پر قرار تھا کہ خدا‌کے کارخانے میں کسی کو دَخْل نہیں ہوا۔ اے نادان! جو دمِ وَصل ہے، اسے غنیمت جان۔ آغاز عشق میں ‌انجامِ کار سوچنا سراسر خلاف ہے۔ اس میں شرع کی تکلیف معاف ہے۔ مؤلف:

غنیمت جان لے یہ صُحبتیں آپَس کی ناداں
دِگرگوٗں حال ہوجاتا ہے اک دم میں زمانے کا

القصہ تادرِباغ باخاطرِ فراغ پہنچے۔ دروازہ کھلا، اندر قدم رکھا۔ جہاں فِضائے صحرا وہ تھی، وہاں کے باغ کا کیا کہنا!اگر ایک تختے کی صفت تحریر کروں، ہزار تختۂ کاغذ پر بہ خَطِّ رَیحاں اس گلزار کی تعریف نہ لکھ سکوں۔ دمِ تسطیرقلم میں برگ نکلتے، لکھنا بار ہوتا ہے۔ ہاتھ پاؤں بالکل پھولتے ہیں، صفحۂ قِرطاس پر گُل پھولتے ہیں؛ حاسِد شاخسانے نکالتا ہے، خار ہوتا ہے۔ صریرِ خامہ میں بلبل کے چہچہے پیدا ہوتے ہیں، باغبان کو حالت حال کی ہوتی ہے اور سطرِ پیچاں میں طائرِ مضموں پھنستے ہیں، بِعَینِہ کیفیت صیّاد کے جال کی ہوتی ہے۔ بہت آراستہ و پَیراستہ۔ عرض مربّع میں۔ چاروں کونوں پر چار بنگلے، گرد سبزۂ نو خاستہ۔ دروازہ عالی شان، نفیس مکان، زیرِ دیوار خندق پر کیلے؛ اکیلے نہیں، قطار در قطار۔ تختہ بندی کی بہار۔ رَوِش کی پَٹرِیاں قَرینے کی۔ منہدی کی ٹٹیوں میں رنگت مینے کی۔ گُل منہدی سرخ، زرد پر افشاں۔ عبّاسی کے پھولوں سے قدرتِ حق نمایاں۔ نرگس دیدۂ منتظر کی شکل آنکھیں دکھاتی تھی۔ گُلِ شَبّو سے بھینی بھینی بو باس آتی تھی۔ میوہ دار درخت یک لخت جُدا۔ بار کے بار سے ٹہنیاں جھکیں، درخت سرکشیدہ۔ پھل لطیف و خوش گوار۔ پھول نازک و قَطع دار۔ رَوِشیں بِلّور کی۔ نہریں نور کی۔ حوض و نہر میں فوارے جاری۔ چمنوں میں بادِ بہاری۔ موسَم کی تاک میں، تاک کا مستوں کی روش جھومنا۔ غُنچۂ سربستہ کا منہ تاک تاک کے، نسیم کا چومنا۔ انگور کے خوشوں میں دلِ آبلہ دار کا پتا۔ زَربَفت کی تھیلیاں چڑھیں، نگہبانی کو گوشوں میں باغبانِیاں اَلمَست کھڑیں۔

ہر تختہ ہرا بھرا۔ رَوِش کے برابر چینی کی ناندوں میں درختِ گُل دار مُعنبر و مُعطّر۔ بیلا، چنبیلی، موتیا، موگرا، مَدَن بان؛ جوہی، کیتکی، کیوڑا، نسرین و نَستَرَن کی نِرالی آن بان۔ ایک سمت تختوں میں لالہ خوفِ خزاں سے با دِلِ داغ دار؛ گرد اُس کے نافرمان کی بہار۔ سَرو، شمشاد لبِ ہر جو؛فاختہ اور قُمری کی اُس پر کو کو، حق سِرّہ۔ شاخِ گل پر بلبلِ شوریدہ کا شور۔ چمن میں رقصاں مور۔ کہیں خندۂ کبکِ دَری، کہیں تَدَر و بر سرِ جلوہ گری۔ نہروں میں قاز بلند آواز، تیز پرواز۔ کسی جا بَط اپنے ولولے میں خود غَلَط۔ ایک طرف قَرقَرے۔ دو رویہ درخت گل و بار سے بھرے۔ سیب سے زَنخِ گُلِ عِذاروں کی کیفیت نظر آتی۔ ناشپاتی اور بِہی آسیبِ دستِ باغباں سے بَری۔ ہر شاخ ہری۔ سُنبُلِ مُسلسل میں پیچ و تابِ زُلفِ مَہ وَشاں کا ڈھنگ۔ سوسَن کی اُداہٹ مِسی لَب خوب رویوں کا جوبن دکھاتی۔ داؤدی میں صنعتِ پروردگار عیاں۔ صد برگ میں ہزار جلوے نہاں۔ آم کے درختوں میں کیریاں زمرد نگار۔ مولسری کے درخت سایہ دار۔ باغبانیاں خوب صورت سرگرمِ کار۔ خواجہ سرا اَمرَد اُن کے مددگار۔ حور و غِلماں کا عالَم۔ بیلچے، کھرپیاں جواہر نگار، مرصع ہاتھوں میں باہم۔ درخت اور روشوں کو دیکھتی بھالتی، گل و بار چمن سے چُنتی؛ گلا برگ، سڑا بار، جھڑا پڑا خار صحنِ چمن سے نکالتی پھرتی تھیں۔

بیچ میں بارہ دری پُر شوکت و باِ رِفعت و شان، پرستان کا سا مکان۔ ہر کمرا سجا سجایا، صَنّاعِ نادِر دست کا بنایا۔ غُلام گردش کے آگے چبوترا سنگِ مرمر کا۔ حوض مُصفّیٰ پانی سے چھلکتا۔ فرش یک لخت افشاں پتھر کا۔ شامیانہ تمامی کا تنا۔ سفید بادلے کی جھالر، کلابتون کی ڈوریاں، سراسر مُغَرّق بنا۔ چودھویں رات، ابر کھلا، آسمان صاف، شبِ ماہ؛ سامان اِس کا تکلف کا، برسات کی چاندنی، سبحان اللہ! فواروں کے خزانے میں بادلا کَٹا پڑا، ہزارے کا فوارہ چڑھا۔ پانی کے ساتھ بادلے کی چمک، ہوا میں پھولوں کی مہک۔ فوارے نے زمین کو ہمسرِ آسماں بنایا تھا؛ ستاروں کے بدلے، بادلے کے تاروں کو بِچھایا تھا۔ بڑی چمک دمک سے ملکہ کے مکان پر چاندنی دیکھنے کا سامان تھا۔ شہ زادے کے آنے کا کسے گُمان تھا۔ غرض کہ جانِ عالم کو لے جا، شامیانے کے تلے مسندِ جواہر نگار پر بٹھایا۔ شرابِ ارغوانی و زعفرانی کی گُلابیاں کشتیوں میں لے کر، وہ وہ زَنِ پری پیکر زیب دِہِ انجمن ہوئی کہ بطِ مے رشک و خَجالت سے بحرِ ندامت میں غوطہ زن ہوئی۔ ایک طرف جام و سَبو، ایک سمت نغمہ سرایانِ خوب رو و خوش گُلو۔ سفید سفید صوفیانی پوشاک، سر سے پاؤں تک الماس کا زیور، دو رویہ صف باندھ کر کھڑی ہوئیں۔ اِن کے بیٹھتے ہی گانا ناچ شروع ہوا۔ سارنگی کے سُر کی زوں ٹوں کی صدا چرخ پر زہرہ کے گوش زَد ہوتی تھی۔ طبلے کی تھاپ، بائیں کی گُمگ خُفتگانِ خاک کا صبر و قرار کھوتی تھی۔ ہر تان اُپَج تان سین پر طعن کرتی۔ باربَد اور نِکیسا کے ہوش پَرّاں تھے۔ چھجّو خاں کو غش تھا، غلام رسول حیراں تھے۔ زَمزَمے اور تحریرِ گِٹکِری پر شوری زور شور سے ہاتھ ملتا تھا۔ ہر پسے فقرے اور سُرکے پلٹے پر الٰہی بخش پوربی کا جی نکلتا تھا۔

ناچنے کو ایسے ایسے برق وَش آئے اور اِس تال و سَم سے گھنگرو بجائے کہ للّوجی شرمائے۔ کَتھک جو بڑے استاد اَتَھک تھے، انھوں نے سَم کھائے۔ ٹھوکر، مردہ دلوں کی مسیحائی کرتی تھی۔ گَت کے ہاتھ پر یہ گَت تھی کہ مجلس کفِ افسوس ملتی تھی اور دمِ سَرد بھرتی تھی۔

جب ہنگامۂ صحبت بہ ایٖں نوبت پہنچا کہ راجا اِندَر کی محفل کا جلسہ نظر سے گر گیا، بہشت کا سامان پیش چشم پھر گیا ؛ اُس وقت ملکہ مہر نگار نے گلاس شراب سے بھر کر شہزادے کو دیا، کہا: اِسے اُلُش کر دیجیے، تا رنجِ سفر خاطرِ انور سے دور ہو، مجھے استفسارِ حال ضرور ہے۔ جان عالم نے بہ اسبابِ ظاہر انکار کیا۔ مہرنگار نے کہا: آپ دل شِکنی بُری جانتے ہیں، اِس پہلو تہی کرنے میں ملالِ خاطر کے سوا کیا مُتَصوّر ہے؟ شہ زادے نے مسکرا کر ساغَر ہاتھ میں لیا، یہ شعر پڑھ کر باطبع شِگُفتہ پِیا، انشاؔ:

گر یار مے پلائے تو پھر کیوں نہ پیجیے
زاہد نہیں میں شیخ نہیں، کچھ ولی نہیں

پھر جانِ عالم نے جام لَبالَب اپنے ہاتھ سے بھر کر ملکہ کو دیا۔ دَورِ جام بے دَغدَغَۂ نیرنگیٔ اَیام چل نکلا۔ دو چار ساغَر آبِ آتَش رنگ جوانی کی ترنگ میں پیہم و متواتر جو پیے، دونوں کو گونہ سرور ہوا۔ رنج سفر اِدھر سے، تمیز و خیالِ خیر و شر اُدھر سے دور ہوا۔ اُس وقت جانِ عالم‌نے کہا، میردردؔ:

ساقیا! یہاں لگ رہا ہے چَل چَلاؤ
جب تلک بس چل سکے، ساغَر چلے

یہ سن کر، وہی خَواصِ گرما گرم، جس نے شہ زادے سے پہلے گفتگو کی تھی، ملکہ کی بہت مُنہ لگی تھی، آنکھ ملا کر بولی، بقاؔ:

لطفِ شبِ مہ اے ‌دل! اُس دم تجھے حاصل ہو
ایک چاند‌ بغل میں ہو،  ایک چاند مُقابل ہو

ملکہ نے بہ حسرت فرمایا کہ مُردار! ہم تیری چھیڑ چھاڑ سب سمجھتے ہیں،کیا کریں افسوس کی جا ہے!حال اپنا مُوافقِ قولِ سوداؔ ہے، رفیع سوداؔ :

جو طبیب اپنا تھا، دل اُس کا‌کسی پر زار ہے
مُژدہ باد اے مرگ! عیسی آپ ہی بیمار ہے

جانِ عالم نے یہ سُن کر، اسی خَواص کو سُنا کے مُتنَبِّہ کیا، استاد:

میں مسافر ہوں، مجھ‌سے دل نہ لگا
کیا  بھروسا  مرا،  رہا   نہ   رہا

ملکہ ٹال کر حال پوچھنے لگی، کہا: تم کو قسم ہے پروردگارِ عالم کی، سچ کہو، تم کون ہو؟کہاں سے آئے ہو؟کس کی تلاش میں خودرَفتہ، گھبرائے ہو؟ اس وقت جانِ عالم کو بجُز راستی، مفر نظر نہ آیا، کہا: ملکہ! میں شاہ فیروز بخت کا بیٹا ہوں، جانِ عالم نام ہے۔ سرزمین خُتَن وطن ہے۔ فُسْحَت آباد بیت السلطنت کا‌ مقام ہے۔ میں نے ایک توتا مُول لیا تھا، بہت طَرّار، سحر گُفتار۔ اس کی زبان سے شہرۂ حسنِ انجمن آرا سن کے ؛ نادیدہ دیوانہ وار بے قرار، بیاباں مرگ، آوارہ وطن، موردِ رنج و مِحَن ہوا ہوں۔ پھر توتے کا راہ میں اڑ جانا، وزیر زادے کا پتا نہ پانا، شِمّہ بیانِ گرفتاریٔ طلسم اور اپنی خواری، جادوگرنی کا نقشِ سلیمانی دینا اور اپنا رستہ لینا کہہ کر کہا: بے مُلکِ زرنگار پہنچے نہ جان کو چین ہے نہ دل کو قرار ہے، زیست بےکار ہے۔ اور یہ غزل پڑھی، مؤلف:

بہ سوزِ شمع رویاں، اِس طرح کا سینہ سوزاں ہوں
کہ رفتہ رفتہ آخر جلوۂ سروِ چراغاں ہوں
نسیمِ صبح ہوں، یا بوئے گل، یا شمع سوزاں ہوں
میں ہوں جس رنگ میں پیارے، غرض دم بھر کا مہماں ہوں
نہ پھل پایا لگانے کا، بجز افسوس و حسرت کے
میں نخلِ بے ثمر کس مرتبہ مردودِ دہقاں ہوں
عبث تدبیر ہے گور و کفن کی اس کے کوچے میں
میں ننگِ دو جہاں، ننگے ہی رکھ دینے کا شایاں ہوں
نہ مرتے مرتے منہ پھیرا محبت سے کبھی میں نے
جفائیں جس قدر جھیلیں، وفا پر اپنی نازاں ہوں
تنی رہتی ہے اکثر چادرِ مہتاب تربت پر
کہ تا معلوم ہو سب کو، قتیل مہ جبیناں ہوں
سرورِؔ غم رسیدہ ہوں، مجھے طوفان محشر میں
تِرانا تو ہی خاوندا! غریق بحر عصیاں ہوں

ملکہ نے جب سنا کہ یہ فریفتۂ جمالِ پری تمثالِ انجمن آرا ہے؛ آہِ دل دوز، نعرۂ جاں سوز کھینچ کر رونے لگی، امید قطع ہوئی۔ جان عالم نے بے قرار ہو کے کہا کہ اَیں ملکہ مہرنگار، خیر باشد! ملکہ نے اسی بے تابی میں جواب دیا، استاد:

مائل اس فتنہ عالم پہ کیا جو مجھ کو
سوئے بیداد مگر مرضیٔ دَوراں آئی
چاک دل تک تو کچھ اے دست جنوں، پردہ تھا
یہ کھلا اب تو کہ نوبت بہ گرِیباں آئی

اے شہزادہ والا تَبار، غارت گرِ کشور دل، عاشق زار! میرا حال سن، مصر؏:

عجیب واقعہ و طُرفہ ماجرایے ہست

باپ میرا بھی شہنشاہ تھا، بہت سے تاج دار باج گزار تھے، مگر ابتدا سے طبیعت مُتَوجِّہِ فقر اور عبادت کی عادت تھی۔ آخِرکار، کارخانہ دنیائے دوں ہیچ و پُوچ جان کے، عزمِ وارَستگی ٹھان کے بَرزَباں ہر آن تھا،سوزؔ:

جب ہیچ ہی ہم بوجھ چکے وضعِ جہاں کو
غم ہیچ، الم ہیچ، طرب ہیچ، عطا ہیچ

اور حکومت کا بکھیڑا چھوڑا۔ معاملہ سلطنت بے کار جان اور بے ثَباتیٔ جہانِ گذَراں مد نظر کر؛ دنیا سے ہاتھ اٹھایا، بادشاہت کو مٹایا، آبادی سے منہ موڑا، اس صحرائے پُرخار میں مکان بنا کے بیٹھ رہا۔ ہر چند مجھے شادی کو ارشاد کیا؛ میں نے بہ سببِ مفارقت، انکار کیا۔ اب دفعتاً آفتِ آسمانی، بلائے ناگہانی مجھ پر ٹوٹ پڑی کہ بہ یک نگاہ عاشق کیا، دیوانی ہو گئی، ہوش و حواس سے بے گانی ہو گئی۔ میرؔ:

رسوا  ہوا،  خراب   ہوا،   مبتلا   ہوا
کیا جانیے کہ دیکھتے ہی مجھ کو کیا ہوا

اور تو اس کا عاشق و طلب گار ہے جس کا نظیر اِس زمانے میں ہاتھ آنا بہت دشوار ہے۔ میرؔ:

محمِل نشیں ہیں کتنے خدامِ یار میں یہاں
لیلیٰ کا ایک ناقہ، سوکس قطار میں یہاں

اب بَجُز مَرگ کیا چارہ! میں ننگ خانماں، خراب کُنِندَۂ خانداں ، فقط ذلت و خواری ماں باپ کی اور گریہ و زاری اپنی چاہتی تھی۔ صبح تو کہاں، میں کہاں! یہ صحبتِ شب خواب ہو جائے گی۔ نَمودِ سحرِ مفارقت شامِ غُربت کا رنگ دکھائے گی۔ دامنِ سحر کی طرح گریبانِ صَبر چاک ہو گا، ہمارے سر پر آفت و خرابی آئے گی۔ انصاف کیجیے، کس سے کہوں گی: بے قراری ستاتی ہے ؛ جانِ عالم کی جدائی سے روح بدن سے جدا ہوتی ہے، جان جاتی ہے۔ ہم صحبتیں طعنے دیں گی۔ انیسیں چھیڑ چھیڑ کر جان لیں گی۔ جب لونڈیوں پر خفا ہوں گی؛ بَڑبڑائیں گی، زبان پر یہ کلمہ لائیں گی: ملکہ عاشقی کا رنج و ملال یوں درپردہ ٹالتی ہیں۔ شہ زادہ چلا گیا، نہ رک سکا، اُس سے تو بس نہ چلا؛ ہم جو بے بس ہیں، بس غصے کی جھانجھ ہم پر نکالتی ہیں۔ باپ پر حال کھلا تو خَجالت ہو گی! ماں نے گر سنا، تو ندامت سے کیاحالت ہو گی! رسوائی کے خَوف سے دل کھول کر نہ رو سکوں گی۔ بدنامی کے ڈر سے جی نہ کھو سکوں گی۔ جب دلِ بے تاب ہجر سے گھبرائے گا، فرمایئے کون تسکین فرمائے گا؟کیا کہہ کے سمجھائے گا؟ آپ اُدھر تشریف لے جائیں گے، ہم اِدھر غمِ فرقت سے گھٹ گھٹ کر مر جائیں گے۔ ہماری سَرنَوِشْت پر رونا روا ہے۔ ماجرا ہمارا عبرت اور حیرت افزا ہے۔ ہر چند ظِل سبحانی عاملِ بے بدل، ساحرِبے مثل ہیں؛ عُلوی، سِفلی سب کچھ پڑھالکھا؛ ہماری پیشانی اور لوحِ جبیٖں کی تحریر نہ دیکھی کہ کیا پیش آنی ہے! اور خط شکستہ سے ایسے نستعلیق نے کیا بُرا لکھا ہے! افسوس، صَد افسوس!مؤلف:

وہ بھی ہو گا کوئی، امید بر آئی جس کی
اپنے مطلب تو نہ اس چَرخِ کہن سے نکلے

یہ باتیں کر، دل پر ہاتھ دھر رُونے لگی۔ دامن و گریباں آنسوؤں سے بھگونے لگی۔ شہزادے کو ثابت کیا، یقین ہوا: ملکہ بہ شِدّت فرِیفتہ و شیدا ہے، بات سے حزن و ملال پیدا ہے۔ دل دُکھنے کے مزے سے زبان لذت پاچکی تھی، جان ہجر کے صدمے اٹھا چکی تھی۔ بے چین ہو کر بولا، زبان کو تسکین کی باتوں میں کھولا، کہا:آپ کا کدھر خیال ہے، بندہ فرماں بردار بہر حال ہے۔ جو کہو گی، بجا لاؤں گا۔ بارِ اطاعت سے سر نہ اٹھاؤں گا؛ مگر برائے چندے صبر، دل پر جبر ضرور ہے۔ اگر اس کی جستجو میں نہ جاؤں گا؛ تمھیں میری کیا امید ہو گی، ہم چشموں سے آنکھ کیوں کر ملاؤں گا؟

سبحان اللہ! وہ وقت دیکھا چاہیے کہ معشوق، عاشق کی تسکین کرے۔ اپنی اطاعت اس کے ذہن نشین کرے۔ خوش قسمتوں کو ایسے بھی مل جاتے ہیں کہ عاشق کے رنج کا غم کھاتے ہیں، دل داری کر کے سمجھاتے ہیں۔ اس کا لوگ رشک کرتے ہیں، آتش حسد سے جل مرتے ہیں۔

ملکہ یہ سن کر دل میں شاد، بندِ فکرِغم سے آزاد ہوئی۔ یہ بات امتحان کی ہے: جیسے جی پیار کرتا ہے وہ اگر جھوٹ بھی بولے، عاشق کو سچ کیا، بہ منزلہ حدیث و آیت ہو جاتا ہے؛ مگر یہ کہا، مصحفی :

عاشق سے بھی ہوتا ہے کہیں صبر و تحمل
وہ کام تو کہتا ہے جو آتا نہیں مجھ کو

لیکن خیر، ہم تو اسے بھی جھیل لیں، یہ کھیل بھی کھیل لیں؛ اگر ہماری یاد تمھیں فراموش نہ ہو، وحشت کا جوش نہ ہو۔ جان عالم نے قسمیں شدید کھائیں، اختلاط کی باتیں درمیان میں آئیں کہ اس میں سر مو فرق نہ ہو گا اور مژدۂ وصل سے مسرور کیا، خیالِ مفارقت ملکہ کے دل سے دور کیا، کہا: اب ہنسی خوشی کی باتیں کرو، یہ بکھیڑاجانے دو، جدائی کی گھڑی سر پر کھڑی ہے، رات تھوڑی، کہانی بڑی ہے۔ فلکِ سِفلَہ پرور جفا کیش ہے، عاشق و معشوق کا بد اندِیش ہے۔ استاد:

بہ شبِ وصل شکوہ ہا مَکنید
شب کوتاہ و قصہ بسیار است

مگر شبِ وصْل ازل سے کوتاہ ہے، خدا گواہ ہے۔ دو کلمے ہنسی کے خوشی سے نہ ہونے پائے، فلک نے رونے کے سامان دکھائے۔ یکایک مرغ سحر “بیدار باش” پکارا، زاہد ندائے “اللہ اکبر” سنا کے للکارا۔ گَجَر کی آواز بھی دونوں کے کان میں آئی۔ یَساوُلانِ سلطانِ خاور نے صبح کی دھوم مچائی۔ ملکہ پریشان ہو کر بولی، مؤلف:

وصل کی شب چونک اٹھے ہم، سن کے زاہد کی صدا
یاں دمِ تکبیر ہی، اللہ اکبر ہو گیا

وَلَہ :

زاہد بھی تیسرا ہے شب وصل میں حریف
مشہور گو جہان میں صبح و خروس ہے

جان عالم نے نماز صبح پڑھ کر، کمر بہ عزمِ سفر چست کی۔ ملکہ سہم کر، آبدیدہ ہو ، یہ شعر پڑھنے لگی، جرأتؔ:

نہ آیا اور کچھ اس چرخ کو، آیا تو یہ آیا
گھٹانا وصل کی شب کا، بڑھانا روزِ ہجراں کا

جب شہ زادے نے چلنے کا قَصد کیا، ملکہ نے کہا: اگر حَرج مُتَصَور نہ ہو، میرے والد سے ملاقات کر لو۔ یہ اَمر فائدے سے خالی، لا اُبالی نہ ہو گا۔ جانِ عالم نے کہا: بہتر ہے۔ پھر وہی خَواص ہمراہ ہوئی۔ جب قریب پہنچا، دیکھا: مکان پاکیزہ، بُوریائے بے رِیا بچھا ہے، مُصلّے پر ایک مرد مہذب، بہ ذِکرِ حق مشغول، با دلِ ملول بیٹھا ہے۔ یہ رسمِ سلام بجا لایا۔ اُس نے دعائے خیر دے کر ہاتھ بڑھایا، چھاتی سے لگایا۔ قریب بِٹھا کے فرمایا: ماجرائے شبِ تیٖرۂ ملکہ، فقیر پر روشن ہے۔ ایسی بد قسمت دوسری، خَلق میں خَلق نہیں ہوئی۔ ہمارے کہنے سے انکار کیا؛ بڑے بول کا سر نیچا ہوا، تو تم سے کیا کیا دار و مَدار کیا۔ جو تم اِتنی تسکین نہ کرتے، اُس کا زندہ رہنا مُحال تھا، اِسی طرح کا دل پر صدمہ اور ملال تھا۔ اگر ایٖفائے وعدہ کرو گے، اللہ بھلا کرے گا؛ وگرنہ یہ رنج بُرا ہے، دیکھیے اُس کا حال کیا کرے گا۔ دِل داری جگر فِگاروں کی، عَیادت مَرضِ مَحبّت کے بیماروں کی جواں مردوں پر فرض ہے۔ یہ سمجھنا: ساحل را از خَس و خاشاک گُذار و گُل را از صحبتِ خار ننگ و عار نمی باشد۔

شہ زادے نے سر جھکا عرض کی: آپ کیوں محجوب فرماتے ہیں، مجبور ہوں۔ اِس عزم میں گھر چھوڑا۔ عزیزوں، یگانوں سے ترک کر شہر سے مُنہ موڑا۔ نہ جانے میں وہ جانیں گے: سخت کم ہمّت و بے جُرأت تھا، راہ میں آسائش ملی، بیٹھ رہا۔ خوف سے جا نہ سکا، جھوٹا تھا،ناحق عشق کا دم بھرا۔ پیر مرد نے فرمایا: مرحبا! جزاک اللہ !یہی شرط جواں مردی وثابِت قدمی کی ہے۔ ہمیں بھی تمھارے اس عزم سے ایفائے وعدہ کی امید ہوئی۔ پھر ایک لوح عنایت کی اور کہا: جب کوئی مُہِم سخت رو بہ کار ہو؛ بہ طرزِ فال، اُس حال میں اِسے دیکھنا۔ جو نکلے، اُس پر عمل کرنا۔ اللہ تعالیٰ وہ مشکل سخت ایک آن میں آسان کرے گا۔ لو، بہ حِفظِ حافِظِ حقیقی سِپُردم۔ فَرْد:

بسفر رَفتَنَت مبارک باد
بسلامت روی و باز آئی

شہزادہ رخصت ہوا۔ لَوح لے کے ملکہ کے پاس آیا، اُس روشن ضمیر کا ارشاد سُنایا اور یہ زبان پر لایا، مُؤَلِّف:

کوچ کی اپنے اب تیاری ہے
تیرا حافظ جنابِ باری ہے

ملکۂ ناکام گردِشِ اَیّام دیکھ اور یہ کلمہ جاں کاہ سن کر، کلیجا تھام، سرِ شُوریدہ کو دُھن کر یہ شعر پڑھنے لگی، استاد:

میں مر گئی، سُن اُس کے سَر انجام سفر کا
آغاز ہی دیکھا نہ کچھ انجام سفر کا
کہتے ہیں وہ اب جاتا ہے، ایسی ہی دُعا کر
مسدود ہو رستہ دل ناکام، سفر کا
مت جان نکمّا مجھے اے جان، لیے چل
کرتی چلوں گی ساتھ ترے کام سفر کا
میں کشورِ ہستی ہی سے اب کوچ کروں گی
آگے نہ مرے لیجیو تو نام سفر کا
چلنے کی صلاح اس کے ٹھہرتی نہیں اب ساتھ
موقوف نوازش ؔ ہوا آرام سفر کا

آخر جبراً قہراً رخصت کیا۔ کہا: خدا حافظ، امام ضامنِ ثامن کے حفظ میں سونپا۔ مصر؏:

ترا موسیٰ رضا ضامن، ترا اللہ والی ہے

جس طرح پیٹھ دکھاتے ہو، اسی صورت اللہ تمھارا منہ دکھائے، غمِ دوری ہمارا دور ہو جائے۔ جانِ عالم یہ سن کر روانہ ہوا۔ یہاں تپش دل کو بہانہ ہوا۔ دریائے سَرِشک چشم خوں پالا سے موج زن ہوا، غریق لُجّۂ مفارقت جان و تن ہوا۔ جلیسیں بولیں: ملکہ! کیوں جی کھوتی ہو! کس واسطے بلک بلک کر روتی ہو! مسافر کے پیچھے رونا زبوں از حد ہے۔ بی بی خیر ہے! یہ شگونِ بد ہے۔ وہ دن بھی اللہ دکھائے گا، جو وہ پردیسی صحیح سلامت خیر سے پھر آئے گا ؛ تو ان کو وہ غم کی ماری یہ سمجھاتی، سوزؔ:

چشم کا کام، اشک باری ہےچشمۂ فیض ہے کہ جاری ہے

مُولِف:

بے درد کوئی اتنا سمجھتا نہیں ہے ہے!دل دکھے تو کس طرح سے فریاد نہ ہووے

ولہٗ:

مجھ کو رونے کو نہ تم منع کرو ہم نفسو!غم دل کرتی ہوں میں دیدۂ تر سے خالی

اور جب آنسو کمی کرتے  تو دل اور جگر سینے میں برہمی کرتے ؛ اُس وقت گھبرا کے یہ کہتی ، مولف:

مدد اے سوز جگر! تاکہ نہ ہووے خفت
پھر نہ منہ اس نے کیا میری طرف، ہے ظالم!
نہ لگا اس کو ، مری بات کو تو مان سرورؔ!
نوک مژگاں ہوئی پھر لخت جگر سے خالی
سخت تم بھی مرے نالو ، ہو اثر سے خالی
دل کا لگنا ، نہیں اے یار ، ضرر سے خالی

غرض کہ جوں جوں شہ زادے کی مفارقت بڑھتی تھی ملکہ صدمۂ ہجر سے ووں ووں گھٹتی تھی ۔ بدر سا چہرہ کاہیدہ ہو کے ہلال ہوا۔تپِ جدائی سے عجب حال ہوا ۔کبھی کہتی تھی : وائے ناکامی ! اگر دل کا حال کہوں ، شرم آتی ہے ؛ جو چپ رہوں جان جاتی ہے ۔یہ سب کہتے ہوں گے : ملکہ کو غیرت نہیں آتی ، راہ چلتوں سے بیٹھی ہوئی دل لگاتی ہے ؛ آپ روتی ہے ، ہمیں مفت رلاتی ہے ۔ اس سمجھانے والے کو کہاں سے لاؤں ، جسے دل کا حال سناؤں ۔ زیست اسی میں ہے جو مرجاؤں ۔ اب کون آنسو پونچھ رونے کو منع کرے گا ! کون میرے دمِ گرم پر آہِ سرد بھرے گا ! پیار سے سر چھاتی پر دھرے گا !

جب ملکہ کا یہ حالِ بتر ، چپکے چپکے جی سے باتیں کرنا دیکھ کر ، لوگ گھیرتے ، دستِ شفقت سر وحشت انگیز پر پھیرتے اور پوچھتے کہ اے جی کی دشمن ! ہمیں تو بتا ، کہ دل کا حال کیا ہے ؟ تو وہ کہتی: اور تو کچھ جانتی نہیں، پر یہ نقشہ ہے: ہاتھ پاؤں سنسناتے ہیں، خود بہ خود غش چلے آتے ہیں۔ دم سینے میں بند ہے، گھبراتا ہے، مکان کاٹے کھاتا ہے۔ باغ ویران، گل و بوٹا خار معلوم ہوتا ہے۔ گھر زنداں، بات کرنا بے کار معلوم ہوتا ہے۔ جان بےقرار ہے، بند بند ٹوٹتا ہے۔ دامن صبر دست استقلال سے چھوٹتا ہے۔ جنگل پسند ہے۔ ویرانے کا جی خواہشمند ہے۔ دشت کا سناٹا بھاتا ہے، بلبل کا نالہ دل دکھاتا ہے۔ خدا جانے کس کی جستجو ہے، دل کو مرغوب قمری کی کوکو ہے۔ تنہائی خوش آتی ہے، آدمیوں کی صورت سے طبیعت نفرت کھاتی ہے۔ سینہ جلتا ہے، دل کو کوئی مَسوس کر مَلتا ہے۔ آنکھ ظاہر میں بند ہوئی جاتی ہے، مگر نیند مطلق نہیں آتی ہے۔ ہاتھ چاہتے ہیں سر دست چاک گریباں دیکھیں۔ پاؤں چل نکلے ہیں کہ بیاباں دیکھیں۔ نل دَمَن کی مثنوی سے ربط ہے۔ لیلی و مجنوں کا قصہ پڑھتی ہوں، یہ کیا خبط ہے۔ دل کی تمنا ہے کہ بےقراری کر۔ آنکھیں امڈی ہیں کہ اشک باری کر۔ جہان کی بات سے کان پریشان ہوتے ہیں، مگر جان عالم کا ذکر دل لگا کر سنتی ہوں۔ جو کوئی سمجھاتا ہے؛ رونا چلا آتا ہے، سر دھنتی ہوں۔ ناکامی، مجھ خستہ و پریشاں کا کام ہے۔ آہ، مجھ بےسروساماں کا تکیہ کلام ہے۔ منہ کی رونق جاتی رہی، زردی چھا گئی، بہار حسن پر خزاں آگئی۔ ہر دم لب پر آہ سرد ہے، ایک دل ہے اور ہزار طرح کا درد ہے۔ جان جانے کاوسواس نہیں، بزرگوں کا لحاظ و پاس نہیں۔ زیور طوق و سلاسل ہے، زیب و زینت سے بدمزگی حاصل ہے۔ دل وجگر میں گھاؤ ہے۔ بگاڑنا، بناؤ ہے۔ بستر نرم خارخار ہے؛ ارے لوگو، یہ کیا آزار ہے! سب سے آنکھ چراتی ہوں، ہم صحبتوں سے شرماتی ہوں۔ اب صدمے اٹھانے کا یارا نہیں۔ بےموت اس بکھیڑے سے چھٹکارا نہیں۔ عجیب حال ہے، اکثر یہ خیال ہے، مولف:

افسوس! یہ حال ایک عالم دیکھےایسا نہ ہوا کہ جانِ عالم دیکھے

اگر اسی کا عشق و عاشقی نام ہے تو میں درگزری، میرا سلام ہے۔ جو لوگ عشق کرتے تھے، کیوں کر جیتے تھے؟ بتاؤ تو کیا کھاتے تھے، کیا پیتے تھے؟ دو دن سے کچھ نہیں کھایا، مگر پیٹ بھرا ہے۔ کھڑی ہوں، جی بیٹھا جاتا ہے۔ پہلے مجھے نہ منع کیا، ہے ہے! میری جان کے دشمنو، یہ کیا کیا! اللہ کی مرضی، جیسا کیا ویسا بھگتیں گے، کسی کا کیا بگڑا۔ میری قسمت کا لکھا، جو کیا، وہ اچھا کیا۔

یہ سن کے ایک کھیلی کھائی، عشق کے نیرنگ دیکھی، وصل کے ہجر میں صدمے اٹھائی، قریب آئی، کہا: قربان جاؤں، واری، ابھی سلامتی سے نوگرفتاری ہے جو اتنی آہ و زاری اور بےقراری ہے۔ سہتے سہتے عادت ہو جائے گئی تو تسکین آئے گی۔ ان باتوں کے سننے سے چوٹ سی لگی۔ ملکہ کا دل جو بھر آیا، بےاختیار خو نابہ دل، لخت جگر چشم تر سے متصل بہانے لگی۔ دیدۂ دیدار طلب سے سمندر کی لہر لہرانے لگی۔ نظم میں دل کا حال سنانے لگی، مولف:

حالت ہے اس کی پارے کی، برق و شرار کی
کیا کیا تڑپ سناؤں دل بے قرار کی
پھوٹے تپش سے دل کی یہ سب آبلے میرے
منّت کشی نہ کرنی پڑی نوک خار کی
دل اپنا قبر میں بھی جلے گا اسی طرح
حاجت رہے گی ہم کو نہ شمع مزار کی
وعدے کی شب کو، دیدۂ اختر جھپک گئے
دیتے مثل ہیں لوگ مرے انتظار کی
لے جائیو ادھر سے جنازہ مرا سرورؔ
حسرت بھری ہے دل میں مرے کوئے یار کی

 

رخصت ہونا جان عالم کا ملکہ نگار سے

 

اور پہنچنا ملک زرنگار، مملکتِ دلدار کا۔ ملاقات خواجہ سرا کی، دریافت ہونا حال پرملال جادوگر کا، پھر اس کو قتل کر کے لانا اس ماہ پیکر کا

 

بیت:

یہاں کا تو قصہ یہ چھوڑا یہاں
سنو پھر اسی غم زدے کا بیاں

طلسم کشایانِ گنجینۂ سخن، فخر سامری و رہ نوردان اقلیم حکایت کہن، مشّاق جادو و شعبدہ گری؛ رسّامانِ جفاکش و محنت کشیدہ؛ سحر سازانِ سخن سنج، دریں سرائے سہ پنج روئے راحت نہ دیدہ؛ گوسالۂ سخن کو دَیرِ خراب آباد میں یوں گویا کرتے ہیں کہ ملکہ مہر نگار کے باغ سے چالیس منزل ملک زرنگار، کشورآفت روزگار تھا۔ شہ زادہ دل ازکف دادہ، یکہ و تنہا، صعوبت سفر کا مبتلا، پاؤں میں چھالے، لب پر آہ ونالے، گرتا پڑتا، کئی مہینے کے بعد اس زمین خجستہ آئیں میں پہنچا اور جو جو پتے توتے نے بتائے تھے، وہ سب اس جوار میں پائے۔ واقعی عجب نواح شگفتہ و شاداب، ہر سمت چشمہ ہائے آب۔ جنگل سب سبزہ زار، گل بوٹے خود رو کی انوکھی بہار۔ ہوا فرحت انگیز، بو باس مشک بیز، جنوں خیز۔ جان عالم خوش و خرم جلد جلد قدم اٹھاتا چلا جاتا تھا۔

ایک روز دو چار گھڑی دن رہے، کیا دیکھتا ہے کہ ایک شے مثل آفتاب، بہ صد آب وتاب شمال کی سمت یہ درخشاں ہے کہ نگاہ نہیں ٹھہرتی، عقل حیراں ہے۔ دل سے کہا، آثار حشر نمود ہوئے۔ یہ کیا قیامت ہے، ہم مشاہدہ جمال جاناں سے محروم رہے۔ مشرق و مغرب کو چھوڑ، سورج شمال کی طرف جا نکلا۔

افسوس، صَد افسوس! اب تک نہ دل کا مُدّعا نکلا، جب قریب پہنچا، دیکھا تو دروازہ ہے عالی شان، سَر بہ اوج فلک کشیدہ، دیدۂ روزگار نہ دیدہ ۔ بس کہ مطلّا ہے اور لعل و یاقوت اس کثرت سے جڑے ہیں کہ جوہریٔ وہم و گماں حیراں کھڑے ہیں ۔ شعاعِ آفتاب سے یک رنگیٔ خورشید حاصل ہے۔شرمندہ اس کے روبرو بدرِ کامل ہے۔ یقین ہوا،اب برسر مطلب پہنچا ۔ یہ وہی دروازہ ہے باب امید، جس کا ذکروہ سرخ رو، زمرد لباس کرتا تھا۔ سجدۂ شکر بہ درگاہِ منزل رسانِ راہ گم کردگاں کیا اور خوش ہو کر دوڑا۔ فرد:

وعدہِ وصل چوں شود نزدیک
آتشِ شوق تیز تر گردد

غرض اُفتاں و خیزاں درِشہر پناہ پر آیا ۔ دروازۂ جواہرنگار رفعتِ فلک دکھاتا، دیوار و در جگمگاتا، بلّور کی اینٹیں، یاقوت کی تحریر، ہر خشت مصفی و مطلا، بہشت کی طرح وا ۔ حصن حصیں بہ صد فرّو تمکیں بنا ۔ جا بجا برج ۔ برنجی و آہنیں ڈھلی ہوئی توپیں چڑھیں ۔ گولنداز جوان جوان، بنفشئی بادلے کے دَگلے پہنے، گلنار اک پیچے سجے، چست و چالاک توپوں کے بائیں دہنے ٹہل رہے۔ زمین و آسمان ان کی ہیبت سے دہل رہے۔ گلی کوچے صاف، خس نہ خاشاک، کثافت سے پاک ۔ دروازے پر پانچ ہزار سوار، لاکھ پیادے، کچھ جا بہ جا چوکی پہرے پر، کچھ جنگ کے آمادے۔ چھاؤنی کے طور لینیں بنیں ۔ پیدل بگڑے دل جو تھے ،ان کی چھولداریاں تنیں۔

جانِ عالم نے ان سے پوچھا : اس شہر کا نام کیا ہے اور حاکم یہاں کا کون ذی احترام ہے؟ انھوں نے دیکھا : اک جوان سرو قامت،قمر طلعت، خُسوف سفر، خاک رہ گذر میں نہاں ہے؛ مگر دبدبۂ شوکت و صولت، نشانِ جُرات چہرۂ انور سے عیاں ہے۔ وہ خود کہنے لگے : آپ کہاں سے تشریف لائے ہیں؟ شہزادے نے کہا: بھائی! سوال دیگر، جواب دیگر۔ آخر ایک شخص نے کہا : اس ملک کو زرنگار کہتے ہیں،بڑی چمک دمک کے لوگ اس میں رہتے ہیں۔ سنتے ہی چہرہ بشاشت سے کندن کی طرح دمکنے لگا۔ جو ریت کا ذرہ تھا، افشاں کی صورت منہ پر چمکنے لگا۔ دل سے کہا : یہ خواب ہے یا بیداری ! طالعِ گردش دہ سے امیدِ یاری و مددگاری نہ تھی ۔ایسی قسمت رہ بر ہماری نہ تھی ۔ پھر کچھ نہ پوچھا ، یہ کہتا چلا، مولف :

للہ الحمد ٹھکانے لگی محنت میری
طے ہوئی آج کی منزل میں مسافت میری

دروازے سے آگے بڑھا ، شہر دیکھا قطع دار، ہموار، قرینے سے بازار۔کُرسی ہر دکان کی کمر برابر۔ مکان ایک سے ایک بہترو برتر ۔بیچ میں نہر، جا بجا فوارے۔ سب عمارات شہر پناہ کے میل کی ،جواہر نگار ، سانچے کی ڈھلی ۔ہاتھ کا کام معلوم نہ ہوتا تھا ، کام اسکا معمارِ عقل کے ہوش کھوتا تھا ۔ نہ کہیں بلندی نہ پستی، ہموار بَسی ہوئی بستی ۔ایک کا جواب دوسری طرف ۔اِدھر بَزاز، تو اُدھر بھی۔ صَرّاف کے مُقابِل صَرّاف۔ بازار کا صحن نفیس، شفّاف۔ جوہری کے روبہ رو جوہری۔ زَر و جواہِر کا ہر سمت ڈھیر۔ نَقد و جِنس سے ہر شخص سیر۔ کوئی شَے، کسی طرح کا اسباب ایسا نہ تھا کہ اس بازار میں نہ تھا۔ مغرب و مشرق کی اَشیائے نادِرہ کا ہر جا انبار تھا۔ جنوب و شمال کا خریدار تھا۔ حلوائی، نان بائی، کنجڑے، قَصائی۔ سَقُّوں کے کٹوروں کی جھنکار۔ میوہ فروشوں کی پُکار۔ دَلّالوں کی بول چال۔ جہان کا اسباب و مال۔ نہر کی کیفیت جُدا، قَدِّ آدم آبِ مُصفّیٰ۔ فواروں سے کیوڑا، گلاب اُچھلتا؛ بازار مہک رہا، مسافر ہر ایک بہک رہا۔ ہر طَرَف دھوم دھام، خَلقَت کا اِزدِحام۔ چلنے پھرنے والوں کے کپڑے، لتّے ہوئے جاتے تھے۔ وَہم و گُماں کشمکش سے بار پاتے تھے۔

جانِ عالم قُدرتِ حق دیکھتا جاتا تھا، ہوش بَر جا نہ آتا تھا۔ دل سے کہتا تھا: اِنَّ اللہَ عَلیٰ کُلِّ شَیءٍ قَدِیر۔ کیا ملک ، کیا سلطنت، کیا شہر و بازار ہے! کیا بیوپاری ہیں، کیسا کیسا خریدار ہے! ہر شخص کو آرام و راحت ہے، کیا بَندوبست با انتظام ہے، کیا حکومت ہے! جب چوک میں آیا، پوچھا: اَیوانِ جہاں پناہ، دَولت سراے شاہ کی کدھر راہ ہے؟ لوگوں نے کہا: دَستِ راست سیدھے چلے جائیے۔ پیاس لگی ہو تو شربت حاضر ہے۔ بھوک ہو تو جس شَے پر رغبت ہو، کھائیے۔ مَدِّ نظر مسافر نوازی ہے، جو چیز ہے گرما گرم، تازی ہے۔ اَلغَرض بازار طے کر قریبِ عِماراتِ بادشاہی جب آیا، اُن مکانوں کو نِرا طلسم پایا۔ عقل کام نہ کرتی تھی۔ ہر کُنگرہ ایوانِ فلک سےاونچا۔ برج ہرایک جہاں نما، خورشید سا چمکتا۔ لیکن جو لوگ درباری یا ملازم سرکاری آتے جاتے دیکھے، سب سیاہ پوش، خُم خانۂ الم کے جُرعہ نوش۔ اس کا ماتھا ٹھنکا، پاؤں ہر ایک کئی من کا ہو گیا۔ ہر شخص کا منہ تکتا تھا، قدم اٹھ نہ سکتا تھا، گویا سکتہ تھا۔ کہتا: خدا خیر کرے! شگون بد ہے، دل کو بےقراری ازحد ہے۔ چند قدم اور بڑھا۔ سواری کا سامان سامنے آیا “بچو، بڑھائیو” کا شور بلند پایا۔ دیکھا: ایک خواجہ سرا پُرانا، زیرک ودانا، محبوب علی خان نام، نواب ناظرِ سَرا پردۂ شاہی بااحترام؛ وہ بھی باخاطر حزیں، غمگیں، سیہ پوش، حواس باختہ، ہوش فراموش، اندوہ یاد، رنج سے ہم آغوش۔

جان عالم نے سلام کیا۔ وہ جواب دے کر شہزادے کو دیکھنے لگا، حیران و ششدرمتحیر سا؛ اور سواری روکی، کہا: سبحان اللہ و بحمدہ! کیا تیری قدرت کی شان ہے! جنس بشر میں کس کس طرح کا پری پیکر خلق کیا ہے کہ چشم کوتاب جمال، زبان کو صفت کی مجال نہیں۔ نہایت متوجہ ہو کر پوچھا کہ اے شمشادِ نو رُستہ چمنِ جہاں بانی و سروِ نوخیزِ بوستانِ سلطنت و حکم رانی! حضور کہاں سے رونق بخش اس شہر نحوست اثر کے ہوئے؟

شہ زادے نے کہا: میاں صاحب، خیر ہے! ہم فقط اس شہراور یہاں کے شہریار کے شوق دید میں وطن سے بعید ہو، خستہ و خراب، با دِل مضطروجان بےتاب یہاں پہنچے ہیں۔ برائے خدا، یہاں کی نحوست، اپنی سیہ پوشی کی علت بیان کیجیے۔ خواجہ سرا نےیہ سُن کر نعرہ مارا، بے چَین ہو کر پکارا کہ اے جوانِ رَعنا! تو نے یہ قِصّہ سنا ہو گا: زینت تختِ سلطنت، رونقِ شہر، موجِدِ آبادی، صاحبِ جاہ و حشمت، مالکِ عِفّت و عصمت انجمن آرا یہاں کی شہزادی تھی۔ شہرۂ جمال بے مِثال اس حور طَلعَت، پری خِصال کا اَز شَرق تا غرب اور جنوب سے شِمال تک زبان زَد خلقِ خُدا تھا۔ اور ایک جہان حُسن کا بیان سُن کر، نادیدَہ اُس کا مبتلا تھا۔ آج تک چشم و گوشِ چَرخِ کج رفتار نے، بہ ایں گردشِ لیل و نَہار، ایسی صورت دیکھی نہ سُنی تھی۔ مُرقّعِ دَہر سے وہ تصویر چُنی تھی۔ بہت سے شاہ اور شَہْریار، اُس کے وادیٔ طَلَب میں قدم رکھ کر تھوڑے عرصے میں آوارۂ دَشْتِ اِدْبار، پتھروں سر مار مار، مصر؏:

رہ رَوِ اِقلیمِ عَدَم ہو گئے

اب پانچ چار روز سے ہمارے طالعِ بیدار جاگتے جاگتے دفعتاً سو گئے۔ ایک ساحِرِ مکّار، جفا کار، بہ زُورِ سحر اُسے محل سے اُٹھا لے گیا۔ داغِ غمِ فرقت دے گیا۔ ہنوز یہ جُملۂ غم نا تمام تھا کہ جانِ عالم کا کام تمام ہوا۔ آہِ سرد کھینچ کر بہ حالِ خستہ و پریشاں، مثالِ قالبِ بے جاں زمین پر گر کے بہ حسرت و یاس پُکارا، شعر:

جی کی جی ہی میں رہی، بات نہ ہونے پائی
حیف ہے، اُس سے ملاقات نہ ہونے پائی

اے گردونِ جفا پَرداز و اے فلکِ عَربَدہ جو! یہ کیا تیری خُو ہے! اِتنی دور لا کر ناکام رکّھا۔ مُؤلِّف:

عشرت کدے جہاں میں ہوئے سیکڑوں، وَلے
اک دِل ہمارا تھا کہ وہ ماتم سرا رہا
تاثیرِ آہ دیکھی، نہ گریے میں کچھ اثر
ناحق مَیں اِس اُمّید پہ کرتا بُکا رہا
کیا دیکھتا ہے سینے کو میرے تو اے سُرورؔ
جُز یادِ یار، اِس میں نہیں دوسرا رہا

شعر:

یہ کہ کر وہ اس طرح غش کر گیا
کہے تو کہ جیتے ہی جی مر گیا

خواجہ سَرا سخت گھبرایا، سمجھا: یہ شخص بھی گرفتارِ مُحبّت، اَسیرِ دامِ اُلفت اُسی کا ہے۔ مجھ سے بڑی غلطی ہوئی، دفعتاً خبر بَد سُنانی نہ تھی، آفت اِس کی جان پر جان کر لانی نہ تھی۔ ہر چند گلاب، کیوڑا چھڑکا، ہوش نہ آیا۔ بد حواس، بادشاہ کے حُضور میں حاضر ہوا، رو کر عرض کی: آج ماتَمِ انجمن آرا تازہ ہوا۔ بادشاہ نے فرمایا: کیا ماجرا ہے؟ اُس نے عرض کی: کسی مُلک کا شہزادہ اُس کی محبّت میں سلطنت سے ہاتھ اُٹھا، فقیرانہ سج بنا یہاں تک پہنچا ہے۔ مجھ سے جادوگر کے اُٹھالے جانے کی خبر سُن کر، آہ کھینچ زمین پر گرا ہے۔ اب تک ہوش نہیں آیا تھا۔ عجب صدمہ دِل پر دَھر گیا ہے! خدا جانے جیتا ہے یا مر گیا ہے! خلق کا اَنبُوہ اُس کے سر پر ہے، بازار لوگوں کی کثرت سے بھر گیا ہے۔ کیا عرض کروں! غلام کی نظر سے اِس سج دَھج کا پری پَیکر آج تک اَز قسم بَشَر نہیں گُزرا۔ اگر اِن دونوں کی صورت آئینۂ چشم میں بَہَم نظر آتی، قِرانُ السَّعدَین کی کیفیت کھل جاتی۔ جو حُضور ملاحظہ فرمائیں گے، شہ زادی کو بھول جائیں گے۔

بس کہ بادشاہ غمِ مُفارَقَت انجمن آرا سے بے قرار تھا، اَركانِ سلطنت سے کہا : جلد جاؤ، جس طرح ہو اُسے لاؤ۔ لوگ دَوڑے، مُردے کی صورت اُٹھا لے گئے۔ اِس عرصے میں شام ہوئی۔ بادشاہ نے ہاتھ مُنْہ دُھلوا، بِید مُشک چھڑکا، کیوڑا مُنْہ میں چُوایا، لخلخہ سنگھایا۔ جانَ عالم کو ہوش آیا، گھبرا کر اُٹھ بیٹھا۔ دیکھا : ایک شخص تاجِ خُسروانہ بَر سَر، چارقُبِ ملوکانہ دَر بَر، سِن رَسیدہ، لیل و نَہار دیدَہ، بڑے کَرّوفر سے تخت پر جلوہ گر ہے اور چار ہزار غلامِ زَرّیں کمر با شمشیر و خنجر، اُوپچی بنا، دَست بستہ رو بہ رو کھڑا ہے۔ گرد امیر، وزیر، سپہ سالار، پہلوان، گُردانِ گَردن کَش، ایک سے ایک بہتر جوان اپنے اپنے قَرینے سے زِیب دہِ کُرسی و دَنگل ہے۔ تہمتنوں کا جنگل ہے۔ جانِ عالم اُٹھا، بہ طَورِ شاہ و شَہْریار و شہ زادہ ہائے عالی تَبار رسمِ سلام بجا لایا۔ سب تعظیم کو اُٹھے۔ بادشاہ نے گلے لگا پاس بِٹھایا۔ جب سے بادشاہ کی نظر پڑی تھی، مَحْوِ حُسن دل فَریب، مَفتُونِ چہرۂ مِہر وَش و صورتِ پُر زِیب ہو گیا تھا۔ اور حُضّارِ مجلس بھی سب دنگ تھے، سَکتے کے ڈھنگ تھے۔ سب کو صدمۂ تازہ یہ ہوا کہ ایسا وارثِ تاج و تخت ہاتھ آئے اور محروم پھر جائے۔ اُس وقت کا رنج و قَلَق شہ زادے کا کوئی فراق کَشیدَہ سمجھے، بقول مرزا حسین بیگ صاحب، شعر:

حسرت پر اُس مسافرِ بے کس کی روئیے
جو تھک گیا ہو بیٹھ کے منزل کے سامنے

مگر باعثِ شرم و حیا کہ لازِمۂ شُرفا و نُجَبا ہے، خاموش، سینے میں غم کا جوش و خَروش۔ بادشاہ نے اِستفسارِ وطن اور نامِ جَدّ و آبا کیا۔ یہاں فرطِ اَلَم ، کثرتِ غم سے گلا گھٹ رہا تھا، مگر ضبط کو کام کر کے حسب و نَسَب اور مُلک کا پتا بتایا۔ پھر سر جھکا شہ زادی کا حال پوچھا۔

بادشاہ نے فرمایا : اے گرامی اخترِ سپہرِ شَہریاری! مُدّت سے ایک جادوگر اِس فکر میں تھا۔ یہاں بہ مرتبہ نگہبانی ہوتی تھی، لیکن وہ دُھوکا دے کر لے گیا۔ آج تک محل میں نہیں گیا ہوں۔ وہ محل، جو عِشرت کَدَۂ خاص تھا، ماتَم سرائے عام ہے۔ ہر سو شُورِ رِقّت، ہر سمت نالۂ پُر آفت بلند ہے۔ کھانا پانی حرام، چھوٹا بڑا مبتلائے آلام ہے۔ جانِ عالم نے کہا: کچھ یہ بھی ثابِت ہوا کہ کدھر لے گیا۔ بادشاہ نے فرمایا: پانچ کُوس تک پتا ملتا ہے۔ آگے قلعہ ہے سر بہ فلک کشیدہ، آگ سب بھری ہے، شُعلہ سرگرم تا چَرخِ چَنبری ہے اور انگاروں کا اَنبار تا کُرۂ نار ہے۔ وہاں کا حال نہیں کھلتا ہے، عقل بے کار ہے؛ مگر قَرینے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سحر کا کارخانہ ہے۔ آگ کا بہانہ ہے، ہمیں سُلگا کے جلانا ہے۔ شہ زادے نے کہا: خیر۔ اگر حَیاتِ مُستَعار باقی ہے، بہ مددِ ایزَد کہاں جانے پاتا ہے؛ اُس ملعون کو جہنّم واصل کر کے، شہ زادی کو فدوی زندہ لاتا ہے۔

یہ کہہ کر اُٹھا کہ قبلہ، خُدا حافظ! بادشاہ لپٹ گیا، کہا : بابا! خُدا کے واسطے اِس خیالِ مُحال سے در گُزر۔ طائرِ خیال کے اُس دَشت میں پَر جَلتے ہیں۔ پیکِ صبا کے پاؤں میں چھالے نکلتے ہیں۔ دوسرے، مجھے مُفارَقَت تیری کب گوارا ہے۔ ایک کو دھوکے میں کھویا، تجھے دیدہ و دانستہ جانے دینے کا کہاں یارا ہے۔ ایسی آفت میں تجھ سے جوان کو جانے دوں! بُڑھاپے میں بدنامی لوں! سلطنت حاضر ہے، بِسْمِ اللہ حکم رانی کر۔ میں ضعیف ہوں، گوشے میں بیٹھ اللہ اللہ کروں۔ شہزادے نے عرض کی: یہ تخت و سلطنت حُضور کو مُبارَک رہے۔ بندہ آوارہ خانُماں، ننگِ خانداں، گھر کی حکومت و ثَروَت چھوڑ، عزیزوں سے مُنہ موڑ، خراب و خستہ، سر گَرداں در در حیران و پریشان ہو یہاں تک پہنچا، اب یہ کلمہ ہَتک اور ذِلّت کا سُننے کو جیتا رہوں، مُلک بیگانے میں بادشاہت کروں۔ لوگ کہیں : جادوگر تو شہ زادی کو لے گیا؛ یہ شخص بے غَیرت تھا، جیتا رہا، سلطنت کرنے لگا۔ جواں مردی سے بعید ہے۔ عاشق کو معشوق کی راہ میں جان دینا عید ہے۔ لا اَعْلَم :

تا سَر ندہم، پا نکشم از سَرِ کویش
نامردی و مردی قدمے فاصلہ دارد

پَگ آگے، پَت رہے اور پَگ پاچھے، پَت جائے ۔ قَدَمِ عشق پیشتر بہتر۔ جس مددگار نے ہزار بلا سے بچا کے یہاں تک زندہ و سالِم پہنچایا ہے وہی وہاں سے بھی مُظفّر و منصور آپ سے ملائے گا۔ نہیں تو یہ صورتِ نحس لوگوں کو دکھانی کیا ضرور ہے۔ گو بَشَر مجبور ہے؛ لیکن اِس زیست سے آدمی مرنا گوارا کرے، بے مَوت مرے۔ پہلے جب عقل و عشق سے معرکہ اَٹکا تھا، میرا دل کھٹکا تھا۔ عَقْل کہتی تھی : ماں باپ کی مُفارَقَت اختیار نہ کرو، سلطنت سی شَے نہ چھوڑو۔ عشق کہتا تھا : ماں باپ کس کے! آزاد ہو، بادشاہت کیسی! سَررشتۂ اُلفتِ غیر توڑو۔ کوچۂ دل دار کی گدائی، سلطنتِ ہَفت اِقلیم ہے، اگر مُیسّر آئے۔ بے یار خدا کسی کی صورت نہ دِکھائے۔ عقل کہتی تھی : آبرو کا پاس کرو، ننگِ خانداں نہ ہو۔ غریبُ الوَطَنی سے عار کرو، صحرا نَوَردی نہ اِختیار کرو۔ عشق کہتا تھا : یار کے ملنے میں عزّت ہے، بادِیَہ پَیمائی میں بہار ہے۔ تَشنۂ خونِ آبلہ پا مُدّت سے صحرا کا خار ہے۔ عقل کہتی تھی : یہ لباسِ شاہی، قبائے فرماں رَوائی چاک نہیں کرتے۔ دانِش مند جادَۂ راستی سے خلاف قدم نہیں دَھرتے۔ عشق کہتا تھا : لباس عُریانی ہے۔ عقل دیوانی ہے۔ یہ وہ جامہ ہے جسے اِحتیاجِ شست و شو نہیں۔ کیسی ہاتھا پائی ہو، چاک نہ ہو، کسی آلائش سے نا پاک نہ ہو؛ اَصْلا کارِ سُوزَن و رَفو نہیں۔ نہ بار برداری اِس کو چاہیے، نہ چور کا ڈر، نہ راہ زَن سے خَطَر ہے۔ پانی سے بھیگے نہ آگ سے جلے، سڑے نہ گلے، گلے سے کبھی جدا نہ ہو۔ نہ بند بندھے، نہ واہو۔ نہ کوئی اِس کو لے سکے، نہ خود کسی کو دے سکے۔ نہ دستِ وحشت میں اِس کا تار آئے، نہ اِس کے دامن تک سرِ خار آئے۔ نہ اِس کا جسم لاغَر پر بوجھ ہو، نہ کسی کے بدن پر بار ہے۔ مسافرِ صحرائے مُحبّت کو یہی درکار ہے۔ آتش :ؔ

تن کی عُریانی سے بہتر نہیں دُنیا میں لباس
یہ وہ جامہ ہے کہ جس کا نہیں سیدھا اُلٹا

آخرِ کار بہ صَد تکرار عقل کو شِکستِ فاش ہوئی، کوچۂ دِلبر کی تلاش ہوئی۔ نام سے نفرت، ننگ سے تنگ ہو، نشانِ ہوش و حواس مِٹایا۔ سلسلۂ دیوانگی ہاتھ آیا۔ طبیعت عشق کی محکوم ہوئی۔ وحشت کی ترقی میں سر اور پتھر کا مقابلہ ہوا، لڑکوں کی دھوم ہوئی۔ دامانِ غیرت، گریبانِ حیا چاک ہوا۔ ننگ و ناموس کا قصّہ بکھیڑا پاک ہوا۔ ایک پرندہ، کہ توتا تھا، رَہ بَر و مددگار ہوا۔ دوسرا دَوِنْدہ، وہ وزیر زادہ تھا، تنہائی میں غم گُسار ہوا۔ پھر تو سلطنت اور وطن چھوڑ، عزیز اور یگانوں سے رشتہ محبّت تُوڑ، رہ نَوَردِ بادیۂ حرماں اور گام فرسائے دشت اِدبار ہوا؛ لیکن اُن کا ساتھ بھی نہ سزا وار ہوا، فلک دَر پئے آزار ہوا۔ پہلی بسم اللہ یہ غلط ہوئی کہ منزلِ اوّل میں توتا اُڑ گیا۔ وزیر زادہ ہِرَن کے ملنے سے چھٹ گیا۔ وہ جو اَثاث ظاہِر کی دل لگی کا تھا، لُٹ گیا۔ تنہائی ہمراہ ہوئی۔ مُمِدّ دَمِ گرم سرد آہ ہوئی۔ کچھ دنوں کے بعد طلسم میں پھنسایا ۔ ہمیں رُلا کے دشمنوں کو ہنسایا۔ تھوڑی سی آفت اُٹھا کے رِہائی پائی۔ سمت مطلوب کی راہ ہاتھ آئی؛ مگر نہ سنگِ نِشاں دیکھا، نہ میل نظر آیا۔ نہ گَردِ کارواں دیکھی، نہ صدائے زَنگ و جَرس سُنی۔ نہ راہ بَر ملا، نہ کفیل نظر آیا۔ سواری چھٹی، پِیادہ پائی ملی، فکرِ غیر سے رِہائی ملی۔

جب اِس منزل میں حضرتِ عشق نے آزمایا، باوُجودِ آبلہ پائی اور خَلِشِ خارِ صحرا ثابِت قدم پایا؛ دوسرے مَرحَلے میں امتحان مَدِّنظر ہوا، پریوں کے اَکھاڑے میں گُزر ہوا۔ ایک مَہ سیما کو اِس جانِب مَیلان ہوا، پھر وہی عیش و نشاط کا سامان ہوا۔ بہت سے نیرنگ دِکھائے، ہر شب عجب دن آگے آئے۔ لِلّٰہِ الحمد کہ شیشۂ عِصمت سنگِ ہَوا و ہَوَس سے سالِم رہا۔ وحشتِ دل کا بہ دستور عالَم رہا۔ رخصت میں مصلحت جانی، جوان و پیر کی بات نہ مانی۔ اب گھر پہنچ کر دھوکا کھانا، جان بوجھ کر بھول جانا کِس مِلّت میں روا ہے؟ یہ نرا وَسْوَسَہ ہے۔ مجھ سے وحشیٔ بے خود سے ایسی ہوشیاری دور ہے۔ جیتے جی مرگ منظور ہے۔

اِس گفتگو کی خبر محل میں پہنچی کہ آج اِس طرح کا مَہ جَبیں، حَسیں، انجمن آرا کا عاشق وارِد ہوا تھا، وہ بھی حَرارَتِ مُحبّت سے اُسی آگ میں جلنے جاتا ہے۔ جو دیکھتا ہے آنسو بہاتا ہے۔ انجمن آرا کی ماں دَرِ دَولت سَرا پر چلی آئی۔ خواجہ سَرا دوڑے، بادشاہ سے عرض کی : جلد شہ زادے کو لے کر محل میں رونق فرما ہو جیے۔ بادشاہ جانِ عالم کو ہمراہ لے آرام گاہ میں تشریف لایا۔ وہ بھی ہزار جان سے نِثار ہو، دیر تک پروانہ وار اُس شمع انجمنِ سلطنت کے گرد پھری۔ رنڈیوں نے گھیر لیا، سب کو قَلَق ہوا۔

غرض کہ بہ ہزار سَعی بادشاہ نے بہ منّت صُبح کی رُخصت پر اُس شب روکا۔ پَہَر بجے خاصَہ طلب ہوا۔ شہ زادے نے اِنکار کیا۔ وہی نوّاب ناظِر حاضر تھا؛ پاؤں پر گرا، گرد پھرا، سمجھایا : پیر و مُرشد! کئی دن سے محل میں کھانا پانی سب کو حرام ہے، جو آپ کچھ بھی نوش فرمائیں گے تو یہ سب کھائیں گے۔ ناچار با خاطِرِ فِگار دو چار نِوالے پانی کے گھونٹ سے حَلَق میں اُتارے۔ پھر ہاتھ مُنْہ دُھو، نینْد کا بہانہ کر پلنگ پر جا لیٹا؛ مگر نینْد کِس کی اور سُونا کیسا! مُؤلِّف :

وا دَرِ دیدہ سدا رہتا ہے تیری یاد میں
آنکھ جب سے لگ گئی، روتے ہیں سُو جانے کو ہم

پھر لیٹے لیٹے انجمن آرا کا تصّور کر، دمِ گرم و آہِ سرد سینے سے بھر کر، یہ پڑھنے لگا، اَبْیات:

تجھ بِن ہے خراب زندگانی
اِتنا تو نہ چھپ، کہ لے کفن کا
ہے مجھ کو عذاب زندگانی
گھبرا کے نقاب، زندگانی

جب کروٹیں بدلتے بدلتے پَسْلیاں دُکھ جاتیں اور بے قراریاں ستاتیں تو دلِ بے تاب کو مُستعدِ ضبط، آمادۂ جبر و صَبر کر یہ کہتا، نظم :

کمالِ ضبط کو عاشق کرے اگر پیدا
ہزار رنگ زمانے نے بدلے، پر افسوس
کرے گی ہمسری نالے کی میرے تو بُلبُل!
ہمیشہ ہاتھوں سے اِن کے رہا ہوں میں جلتا
یہ دل میں ذوقِ اسیری ہے جو قَفَس میں مُدام
کہاں کی آہ، کرے بات بھی اثر پیدا
کہیں ہوئی نہ شبِ ہجر کی سحر پیدا
شعور اِتنا تو کر جا کے جانور پیدا
یہ زُور گرم ہوئے تھے دل و جگر پیدا
میں نوچتا ہوں، جو ہوتے ہیں بال و پر پیدا

آخرَش بہ صد نالہ و آہ، کراہ کراہ صُبْح کی۔ بعدِ فَراغِ نمازِ پُر سُوز و گُداز مرنے پر کمر باندھی۔ شب کو یہ خبر عام ہوئی تھی کہ کل جادوگر کی لڑائی کو، شہ زادہ آمادہ ہو جائے گا۔ دیکھیے فلک کیا تماشا دکھائے گا! پہر رات رہے سے مجمع عام دَرِ دیوانِ خاص پر تھا۔ یکایک روشنی آئی، بادشاہ تخت پر سوار برابر شاہ زادۂ والا تَبار، برآمد ہوا۔ چشمِ مشتاقاں میں نورِ طور نزدیک و دور تَجلّی کر گیا۔ ہر شخص رو بہ قِبلہ ہو، دُعائے فتح و ظَفَر اُس ماہ پَیکر کی مانگنے لگا۔ اَلقِصّہ جہاں تک لوگ آتے جاتے تھے، بادشاہ ساتھ آیا، آگے بڑھنے کی تاب نہ لایا۔ جانِ عالم نے قسمیں دے کر رُخصت کیا۔ ناچار، بادِلِ داغ دار و خاطِرِ فِگار قَلعے میں داخل ہوا؛ مگر وہاں سے ڈیوڑھی تک صَدہا ہرکارۂ صبا دَم متعین کیا کہ ہر دم کی خبر حُضور میں پہنچے۔ جانِ عالم پھر اکیلا با حسرت و یاس رہا۔ غمِ دلبر رفیقِ قدیم پاس رہا۔ یہ شعر پڑھتا آگے چلا، مصحفی :

اے غمِ یار! میں بندہ ہوں رفاقت کا تری
نہ کیا تو نے گوارا مری تنہائی کو

آگ کا قلعہ سامنے تھا۔ آسمان سے تا زمیں بجز شعلۂ جَوّالہ یا بُرجِ آتشیں اور کچھ نظر نہ آتا تھا۔ شہ زادہ غور سے دیکھنے لگا۔ ایک ہِرن اُس آگ سے نکلا، اُچھل کود کر پھر اُس میں غائب ہوا۔ جب مکرّر آمَد و رَفْت کی، جانِ عالم نے لَوح پیر مرد کی دیکھی۔ اُس میں معلوم ہوا : اگر یہ اِسم پڑھ کے کچھ بڑھ کے ہِرن کو تیر مارا اور خطا نہ کی، طلسم ٹوٹ جائے گا۔ وَگر نشانہ چوکا، خود آماج گاہِ خَدَنگِ قضا ہوا؛ کوئی راکھ کے سِوا پتا نہ پائے گا۔ شہ زادے نے کہا: جو ہِرن مارا، تو میدان مارا، لطفِ زندگی ہے۔ نہیں، حیلۂ مرگ خوب ہے۔ بے یار جينا معیوب ہے۔

یہ سوچ، لَبِ سوفار چِلّے سے جُوڑ، شست و مُشت برابر کر اِسم شُروع کیا۔ اُدھر ہِرن نکلا، اِدھر تیر کمان سے سرگوشی کر کے چلا۔ بس کہ یہ قَدَر انداز تھا، اُس کی قضا دامن گیر؛ تیر دوسار ہوا۔ فِردوسیؔ:

فلک گفت احسن، مَلَک گفت زِہ

ہرن زمین پر گرا ، آسمان سے دار و گیر کا غل اٹھا : ہاں ہاں ، لیجیو گھیریو ؛ جانے نہ پائے ! قریب تھا خوف سے جی نکل جائے۔ زمانہ تیرہ و تار ، صحرا پرغبار ہوا۔گھڑی بھر میں وہ تاریکی دور ہوئی، آفتاب نمودار ہوا، نہ آگ رہی نہ قلعہ۔ برابر سطح میدان، انسان نہ حیوان، مگر چبوترے پر لاش جھلسی ہوئی پاش پاش دیکھی۔ یعنی وہ جادوگر کریہہ منظر، سیندور کا ٹیکا ماتھے پر، زرد زرد دانت ہونٹوں کے باہر، منہ مُہری سے گندہ، نطفۂ حرام، شیطان کا بندہ، بالوں کی لٹیں لٹکتیں، ہڈیاں، کھوپڑیاں گلے میں پڑیں، کالا بھجنگا، گانڑ سے ننگا، تیر سے چھد کر جہنم واصل وہ الو کا پٹھا، حواصل ہو گیا ہے۔ شکر کا سجدہ بجا لایا، قدم ہمت آگے بڑھایا۔

ہرکارے یہ ماجرا دیکھ، فوراً حضور میں حاضر ہوئے۔ بعد دعا و ثنا عرض کی: اے شہر یارِ ذوی الاقتدار! فتح مبارک۔ شہ زادہ بلا کا پتلا ہے، ایک تیر میں وہ آگ کا قلعہ ٹھنڈا کر ، سر گرم راہ ہوا، جادوگر کا گھر تباہ ہوا۔ بادشاہ یہ مژدۂ فرحت افزا سن کے خوش ہوا، فرمایا: یقین کامل ہے کہ جان عالم حسب دل خواہ مراجعت کرے گا، فتح و فیروزی شامل ہے، ہونہار بِروے کے چکنے چکنے پات۔ خبرداروں کو خلعت و انعام موافق قدر و منزلت مرحمت کر، پھر روانہ کیا۔

اس عرصے میں شہ زادہ وہ وادیٔ پر خطر، میدان سراسر ضرر کو  طے کر ، متصل قلعہ ساحر ، جہاں انجمن آرا قید تھی، پہنچا۔ وہ عجیب مُعلّق قلعہ تھا، زمین سے چار پانچ گز بلند بہ روئے ہَوا ایک تختہ کُمھار کے چاک کی طرح بہ ایں سُرعت گردش میں تھا کہ نگاہ کام نہیں کرتی تھی، آنکھ کی پُتلی اتنا جلد نہ پھرتی تھی۔ بلند ایسا کہ دیکھنے میں پگڑی گرتی تھی۔ جانِ عالم وہاں ٹھہرا، وہ قلعہ بھی حرکت سے ساکت ہوا، اس وقت مفصل نقشہ معلوم ہوا کہ قلعہ جواہر نگار ہے، زیب و زینت بے شمار ہے۔ دروازے چار ہیں، بُرج گنے نہیں جاتے، ہزار در ہزار ہیں۔ کمندِ فکر اس کی بلندی کے روبرو کوتاہ ہے۔ ہر طرف سے سحر بند، مسدود راہ ہے۔ جہاں جانِ عالم کھڑا تھا، زمُرّد کا بنگلا نظر آیا، اُس میں سے آواز آئی کہ اے اَجَل رَسیدہ! کیوں مَلَکُ المَوت کو چھیڑتا ہے، زندگی سے منہ پھیرتا ہے؟ مجھے تیرے حُسن و صورت پر رحم آتا ہے، جلد یہاں سے جا۔ خطائِے اول، عِوَضِ خوبیٔ شکل و شمائل معاف کی، و گرنہ بہ ایں شَدائد و خواری قتل کروں گا کہ آسمان تیرے حالِ پریشاں پر خون روئے گا، ساکنانِ زمیں کو گوشت پوست، ہڈیوں کا پتا نہ ملے گا، بادشاہ تیرے غم میں جان کھوئے گا۔ اِس دشت کی خاک تیرے لہو سے رنگین ہوئے گی۔ روح بھی تا حشر خوابِ مرگ میں آرام سے نہ سوئے گی۔ شہزادے نے ہنس کر کہا: اے مادَر بہ خطا! تو کیا ہماری خطا معاف کرے گا، کہاں تک لاف و گزاف کا دَم بھرے گا، ان شاء الله تعالیٰ اور تو کیا کہوں، تجھے بھی اسی کی پائنتی بھیجتا ہوں۔ یہ سن کر وہ جھلّایا۔  بنگلے سے سر نکال، تھوڑے ماش اس بدمعاش نے اور کالا دانہ نکالا۔ اس وقت چرخ چکر میں آیا اور زمین تھرّائی، جب سرسوں میں بِنَولے اور رائی مِلائی؛ پھر تیتا میتا اور لُونا چَماری کو نمک حرام نے پکارا، اُن دانوں کو اس احمق نے آسمان کی طرف پھینک مارا۔ دفعتاً ابرِ تیرَہ وتار گھر آیا، شہ زادے پر پتھر اور آگ کا مینہ برسایا۔ یہ بھی اسمائے رَدّ سحر پڑھتا تھا، آگے بڑھتا تھا۔ جب آگ قریب آتی، پانی ہو کر بہہ جاتی اور پتھر بھی ہر ایک خاک تھا، ایسا وہ اسمِ پاک تھا۔

جادوگر خفیف ہو کر سحر تازہ کی فِکر میں تھا۔ جانِ عالم نے لوح کو دیکھا، اُس میں نکلا : کسی طرح لَوح کو قلعے کی دیوار سے لگا دے، پھر قُدرتِ خالق کا تماشا دیکھ لے۔ شہ زادے نے بہ جرأتِ تمام تر اُچک کر لَوح دیوار سے لگائی۔ اُس پر آفت آئی، مرتبۂ اول سے زیادہ چکر میں آیا؛ پھرتے پھرتے اِس طرح کی صدا ہیبت ناک آئی کہ ہزار توپیں ایک بار چھٹیں تو ایسی نہ ہو۔ سامری کی روح زِیر زمیں گھبرائی۔ بہ درجہ مہیب تھی کہ گاوِ زمیں کا کلیجا ہل گیا ۔ خورشید بُرجِ اَسَد میں چھپ کر دَہَل گیا۔ زمانے کا رنگ دِگرگوں ہوا۔ جنگل گَرد بَرد ہو گیا، وہ ناری سرد ہوگیا، لرزاں کُوہ وہاموں ہوا۔ میدان سیاہ، بلند صدائے نالہ وآہ ہوئی۔ چار گھڑی میں وہ تاریکی دور ہوئی، شہز ادے کی طبیعت مسرور ہوئی۔ نہ قلعہ نظر آیا، نہ مکانات کا نشان پایا، لیکن ریت کا ٹیلا،سَر کَنڈے گڑے اور کچا سوت نیلا پیلا ان پر لِپٹا، کچھ پَھندے پڑے؛ اُس میں وہ ماہِ شبِ چاردہ، حور کی صورت، نُور کا عالَم، پریشان، بدحواس، سَراسیمہ، متحیّر، کوئی آس نہ پاس، ہرسمت حیران ہو ہو دیکھ رہی تھی ۔

جانِ عالم نے پہچانا ۔ تاب نہ رہی، جی سینے میں رُعبِ مَحبّت سے سنسنایا ۔ اکیلا دیکھ کے کلیجا منہ کو آیا ۔ ہر چند ضبط کیا،  نہ ہوسکا ۔ تھرّاتا، دم چڑھا جاتا، دوڑ کر گرد پھرنے لگا، لڑکھڑاہٹ سے گرنے لگا، انجمن آرا نے شرما کر، سر کو جُھکا کر کہا: سنبھلو صاحب! کچھ پاس لحاظ بھی کسی کا نہیں! یوں بے باکانہ پاس چلے آنا حرکتِ مجنونانہ ہے ۔ لوگ کہیں گے، دیوانہ ہے ۔ مگر اِس گفتگو میں آنکھ بھی چار ہوگئی ۔ سِنانِ اُلفت اِدھر تو گڑی تھی، اب دوسار ہوگئی ۔ شہ زادہ خنجرِ عشق کا زخمیٔ قدیم تھا، وہ تازہ شمشیر محبت کی گھائل ہوئی، طبیعت اُدھر مائل ہوئی، بدن تھرایا ۔ جانِ عالم نے یہ سنایا، میرسوزؔ:

جس کو نہ ہو شکیب، نہ تابِ فُغاں رہے
تیری گلی میں وہ نہ  رہے  تو کہاں رہے
آہستہ  رَو   تو    منزلِ مقصود   کو   گئے
رفتار گرم تھے، سو ہمیں درمیاں رہے
بندہ نَواز!  حال  پہ میرے  کرو  نگاہ
ہے جائے گریہ یہ کہ پسِ کارواں رہے

یہ کہہ کر گر پڑا، غش آگیا ۔ عشق کی نیرنگیاں نِہاں نہیں، حاجتِ اِظہار وبیاں نہیں ۔ کشش اِس کی چھوٹے بڑے پر آشکارا ہے، ہزاروں کو اِس نے فریب سے مارا ہے، انجمن آرا کو دلِ مُضطَرِب نے تڑپ کر سمجھایا، بے قراری میں اِس پر قرار آیا کہ یہ مُقَرَّر عاشقِ صادق ہمارا ہے، جو ایسی بلا سے نہ ڈرا۔ سر کو بیچ کر اِس وادی میں پاؤں دَھرا۔ وگرنہ اِتنے دن گُزرے؛ بے کسی کے سوا کوئی ہَمدَم، شریکِ زِندانِ غم نہ تھا۔ دل قبضۂ اِختیار سے جاتا رہا۔ حِجاب ہر چند مانِع آتا رہا، مگر جانِ عالم کا سر سَرکا، زانو پر رکھا، چہرے کی گرد جھاڑی۔ غشی تو کبھی آنکھ سے دیکھی نہ تھی، گھبرا کر رونے لگی، اِس طرح روئے یار دھونے لگی۔ اور یہاں جو بوند آنسو کی منہ پر پڑی اور دماغ میں خوش بوئے کِنار دِل دار چڑھی، لَخلَخے کا کام کر گئی؛ گلاب، کیوڑا چِھڑکنے کی حاجت نہ رہی، آنکھ کھول دی۔ سبحان اللّٰہ! سَرِ خاک اُفتادَہ کِنارِ یار و زانوئے دِل دار پر پایا۔ ناز و نِیاز نے دِماغ عرشِ اعلیٰ پر پہنچایا۔ اور پاؤں پھیلایا، یہ اِترایا۔ انجمن آرا نے جھجھک کر گُھٹنا سَرکایا۔ جانِ عالم نے چشمِ نیم وا سے شہ زادی کا منہ دیکھا اور کہا: ہماری بے ہوشی ہشیاری  سے اچھی تھی! مُولِّف:

میں جو چونکا، تو وہ بھی چونک پڑا
ہوئی غفلت، جو ہوشیار ہوا

یہ کہہ کے آنکھیں بند کر لیں کہ پھر ہمیں غش آیا، کیوں تم نے زانو سَرکایا۔ انجمن آرا نے کہا: کیا خوب! اِتنا اِختِلاط میری چڑ ہے۔ میں نے تیری محنت و مشقت پر نظر کر کے یہ اِنسانیت کی حرکت کی تھی؛ تم چل نکلے۔ خدا جانے دل میں کیا سمجھے۔ اپنی راہ لیجیے، چلتا دَھندا کیجیے۔ واہ وا! نیکی برباد، گُنَہ لازِم۔ جانِ عالم نے یہ جواب دیا، اُستاد :

خاک ہی اپنی اُٹھے تو اِس مکاں سے اُٹھ سکے
ہم جہاں جوں نقشِ پا بیٹھے، نہ واں سے اُٹھ سکے

اِلّا، چُور کی ڈاڑھی میں تِنکا۔ میں تمھیں اپنا عاشق کبھی نہ سمجھوں گا، نہ معشوقوں کے دفتر میں آپ کا چہرہ لکھوں گا۔ انجمن آرا نے کہا: چہ خوش! بھلا دل تو بہلا لو۔ کچھ ہو یا نہ ہو، زبان کا مزہ نکالو۔ یہ تو وہی مثل ہوئی: مان نہ مان   مَیں تیرا مہمان۔ تمھارا بعینہٖ یہ حال ہے، فَرد :

چہ خوش گفتست سعدی در زلیخا
ألَا یَا أيُهــــا السّاقی أدِر کأساً وَ ناوِلهَـا

عشق و عاشقی کی باتیں  میری بَلا جانے۔ رَمز و کِنایہ کسی اَور سے جاکے کرو، اپنا چُوچلا تَہ کر رکّھو۔ اپنی صورت تو غَور سے دیکھو، تم نے سُنا نہیں شاید، مثل: حلوا خوردن را روی بایَد۔ جانِ عالم نے کہا: مَیں بے چارہ خستہ تَن، غُربت زَدہ، دور اَز وطن، مہنت پَن کہاں سے لاؤں! کیوں کر ویسی صورت بناؤں! کوئی خَندَہ پیشانی ہے، کوئی نصیبوں کو روتا ہے، کفر اور اسلام میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ تمھیں ابھی تک مُوہن بُھوگ کا ذائِقہ نہیں بھولا ہے، دَمِ تقریر زبان پر حلوا ہے۔ ہم نے آپ کے واسطے جُوگ لیا، سلطنت کو تَج دیا؛ اب مُرادپوری ہوئی ، دور دوری ہوئی ۔

انجمن آرا پتے  کی سُن کر کھسیانی ہوگئی ، کہا : چلو صاحب! وہ مُوا قُربان کیا تھا؛ اپنی چُونچ بند کرو ، کٹی جلی کی ہنسی اپنے گھر جا کر کرو۔ سحر جادو ، زُور ظُلم ، مَکْر و فَریب سے انسان ناچار ہے ، اِس میں کِس کا اِختیار ہے ۔ مگر خیر، اور جو چاہے کہہ لیجیے ۔ دَر پردہ کیا ، صاف صاف گالیاں دیجیے ۔ یہ باتیں قسمت کی گردِش سُنواتی ہے۔ دیکھوں ابھی تقدیر آگے کیا کیا دِکھاتی ہے ۔ اگر خُدا ہمارا گھر بار چُھڑا موذی کے بس میں نہ پھنساتا تو ہر ایک راہ چلتا ہمیں کاہے کو ایسی باتیں سنانا ۔

جانِ عالم یہ سُن کر ڈر گیا۔ رنگ زرد ہوگیا ، خَجالت سے مرگیا۔ سَہم کر، آبدیدَہ ہو کہنے لگا: میری کیا مَجال جو آپ کو کچھ کہوں! میں تو خانُماں آوارہ ، مسافر ہوں۔ انصاف تو کرو ، تم کتنی ہَٹ دَھرم احسان فَرامُوش ہو! ہنسی میں رو دیا ، ہمیں دونوں جہان سے کھودیا ۔ انجمن آرانے دیکھا ، اِس کے آنسو جاری ، ِہچکی طاری ہے ؛ مُسکرا کر کہا: ایک بات مطلب کی کہی، مگر، مصر؏:

سچ ہے، اُوچھے کا بھی احسان برا ہوتا ہے

خاطر جمع رکھ ، اپنے گھر چل کر تجھے مال و زر سے لاد دوں گی کہ تو چل نہ سکے گا ، بوجھ سے ہِل نہ سکے گا ۔ شہ زادے نے کہا : آخِرسلطنت کا گھمنڈ آیا ! ہمیں محتاج جان کے یہ فقرہ سنایا ! ہم بھی کبھی حاجت روائے عالم مشہور تھے، مگر الفت سے مجبور تھے۔ اگر تم پر عاشق نہ ہوتے؛ کیوں سلطنت کھوتے، سر پر ہاتھ رکھ کر روتے۔   یہاں یہ نوک چوک، چھیڑ چھاڑ ہو رہی تھی؛ وہاں خبر ِ فتح و ظفر ہر کاروں نے بادشاہ کو پہنچائی۔  وہ تو ہمہ تن گوش تھا، اسی وقت مع ارکان سلطنت روانہ ہوا۔ ہمراہ رکاب یگانہ و بے گانہ ہوا۔  ایک سکھپال ہمراہ لیا، صبا وار سناٹے میں آ پہنچا۔  جو جو نزدیک تھے، دور کھڑے رہے۔  کہا ریاں  بادشاہ کا تخت قریب لائیں۔  انجمن آرا منہ چھپا کر بیٹھ گئی، جان عالم پاس سے سرکا، بادشاہ تخت سے اترا، جان عالم کو گلے لگایا، جُرات کی تعریف کی، ہمت پر تحسین وآفریں کہی۔  پھر بیٹی کو چھاتی سے لگا، سکھپال میں سوار کیا، شہ زادے کو برابر تخت پر بٹھا لیا۔  ترقی خواہانِ دولت، ملازمانِ قدیم نزدیک آئے؛ زرِ سرخ و سفید تخت اور سکھپال پر نثار کیا۔  اس قدر اشرفی، روپیہ تصدق ہوا  کہ آج تک جو محتاج، مسافر ادھر جاتےہیں؛ چاندی سونا پاتے ہیں، نصیب جاگتے ہیں؛ ڈھیر کے ڈھیر لے بھاگتے ہیں۔

بادشاہ کے پھرتے پھرتے، جلوسِ سواری، نوبت نشان، فوج اور سب سامان پہنچا۔  اہل شہر یہ خبر سن کر ہزاروں دوڑے۔  شادیانے بجاتے، مبارک سلامت کا غُل مچاتے شہر میں داخل ہوئے۔ ملک کی رونق گئی ہوئی پھر آئی۔ خلقت نے جانِ تازہ پائی۔  محل میں انجمن آرا رونق افروز ہوئی، سب کو شادیِ نو روز ہوئی محل والیوں نے کُہرام مچایا۔ بادشاہ نے فرمایا: یہ خوشی کا وقت ہے، نہ ہَنگَامِ غم؛ اِسی طرح سب بِچھڑے   خدا کی عِنایت سے   باہَم ہوں۔ انجمن آرا کے، ماں، گرد پِھرتی تھی، دَم بہ دَم سجدہ کرنے کو زمین پر گرتی تھی۔ کہتی تھی : اللّٰہ نے میرے، بدولتِ جانِ عالم دن پھیرے۔ انجن آرا جب یہ نام سُنتی؛ خوش کیا، کِھل جاتی؛ اِلّا لوگوں کے سُنانے کو، تَجاہُلِ عارِفانہ کرکے یہ سناتی: صاحِبو، خیر ہے! یہ کیا بار بار کہتی ہو! جو میرا مقدَّر سیدھا نہ ہوتا تو وہ کون تھا جو دِن پھیرتا!

ہَم صُحبَتیں، مزاج داں  اِس رُکھائی سے تاڑ گئیں کہ آپ کی بھی آنکھ پڑی، طبیعت لڑی۔ جب اُس کی ماں سَرکی، وہ سب پاس آ آ کہنے لگیں: ہَے ہَے ! ہم تو تیری مُفارَقَت میں مرتے تھے۔ زندگی کے دن، گھڑیاں گِن گِن بَھرتے تھے۔ یہ صورت اللّٰہ نے دکھائی، یا جانِ عالم کی جوتیوں کے صدقے سے نظر آئی۔ جس طرح ہمارے مطلبِ دِلی ملے، خالق اُس کے بھی جی کی مُراد دے۔ انجمن آرا غُصّے کی شکل بنا، تیوری، بھوں چڑھا کہنے لگی: تم سبھوں کی شامت آئی ہے! کیا بیہودہ بَک بَک مچائی ہے! چُوچلے کی خوبی، بُزرگی خُردی سب ڈوبی! واہ وا! تم نے میری چِڑ نکالی، اپنی دانِست میں دیوانی بنا لی! خدا جانے یہ کون ہے اور کہاں سے آیا ہے! سبھوں نے میرا مَغز کھایا ہے۔ اُسے تو کیا کُوسوں، وہ تو مسافر بے چارہ ہے؛ جی میں آتا ہے اُس کا مُنہ نُوچوں  جس جس نے یہ نَخرا بگھارا ہے۔ اور بھئی مجھے چھیڑو گی تو رو دوں گی، اپنا سر پیٹ لوں گی، یہ کہہ کر مسکرانے لگی، ہونٹ چبانے لگی، آپس میں رمز و کنایے رہے۔

تمام ملازمانِ بادشاہ مع روسائے ترقی خواہ نذریں لے کر حاضر ہوئے، شہر میں منادی ہوئی کہ جتنے ساکنانِ قلمرو بادشاہ ہیں، فقیر سے ہفت ہزاری، بڑے آدمی سے بازاری تک، آج کاروبار مَوقوف کرکے ناچ دیکھیں، خوشی کریں اور جسے مَقدور نہ ہو، سرکار سے لو۔

تمام شہر میں عیش و نَشاط، راگ رنگ کی مجلس با فرحت و انبساط ہوئی، بادشاہ نے جَشن جَمشیدی کیا، تمام شب بادۂ گُل گوں کا دَور رہا، ناچ گانا، صحبتِ بے تکلفانہ بہ طور رہا۔ دَمِ صبح شاہِ کَیواں جاہ دیوانِ عام میں رونق افزا ہوا، دَرِ خزانہ و قید خانہ وَا ہوا، اس قدر زَر و جواہر محتاج، فقیروں کو عنایت و امداد ہوا کہ کاسۂ گدائی ان کا جام و صراحی سے مبَدَّل ہو گیا۔ محل میں بَر مَحل رت جگے، صحنک، جا بجا کونڈے، حاضری، دَونے، پُڑیاں مَنّتوں کی، جس جس نے مانی تھیں، کرنے، بھرنے، دینے لگیں۔ اور ڈومنیاں تَڑاق پَڑاق ، پری وش، خوش گلو، باانداز مَع سامان و ساز حاضر ہوئیں، مُبارک سلامت کہہ کر  “شادی مبارک” گانے، چہچہے مچانے، نئی مُبارک باد سنانے لگیں،  مُولف:

شادی و جَشن سزاوار مبارک ہووے
آج شہزادی کا کا دیدار مبارک ہووے
صَد و سی سلامت رہے با اَمن و اَماں
حُسن کی گرمیٔ بازار مبارک ہووے
وہ بھی دن آئے جو سَہرا بندھے سر پر اس کے
سب خوشی سے کہیں ہر بار: مبارک ہووے
بعد شادی کے، خدا دے کوئی فرزندِ رشید
ہم کہیں آکے: یہ دِل دار مبارک ہووے
خار کھاتے رہیں کم بَخت جو دشمن ہوں سُرورؔ
دوستوں کو گُل و گُلزار مبارک ہووے

 

بیانِ جلسۂ شادی اُس وطن آوارہ کا

 

انکار کرنا اُس مہر سیما، ماہ پارہ کا۔ ماں کا سمجھانا، اس کا شرما کے سر جھکانا۔

پھر سامان برات کا، مزہ لوٹنا پہلی رات کا

 

کدھر ہے تو اے ساقیِ گُل عِذار
پلا دے کوئی ساغرِ لالہ رنگ
کہے کتنے صحرا نَوَردی کے رنج
مرا، غم سے، دل ہو گیا خار خار
جوانی کی لائے جو دل میں ترنگ
بھلا کچھ تو شادی کا ہوں نغمہ سنج

سُرود سرایانِ بزمِ شادی و نغمہ پَردازانِ محفلِ عَروسی و دامادی، انجمنِ بیاں  میں یہ زَمزَمَہ سَنْج ہوئے ہیں کہ جب   جلسۂ عیش و طَرب سے فرصت سب کو ہوئی ؛ ایک روز بادشاہِ جَم جاه محل سرائے خاص میں جلوہ بخش تھا؛ بی بی سے خَلوت میں فرمایا کہ حُقوق اور اِحسان جیسے جانِ عالم کے ہمارے ذِمۂ ہمت پر ہیں ، تمام عالَم جانتا ہے اور یہ بھی نزدیک و دور مشہور ہے کہ عشقِ انجمن آرا میں نا دیدَہ مبتلا ہو ، سلطنت کُھو ، یہاں آیا ہے اور کس مردانگی سے جادوگر کو مار ، اُس کے پھندے سے چُھڑایا ہے۔ اِس کے قطعِ نظر،صورت ، سیرت ، خُلْق ، مُروّت، ہمّت ، جُرأت ؛ یہ جتنی صفتیں ہیں، سب خالق نے عطا کی ہیں ۔ حسب : عالی ، نَسَب : والا۔ حُسن میں مہر وماہ سے نِرالا۔ مُناسب کیا ، ضَرورت ہے کہ جلد سامانِ شادی درست کر، مُنْعَقِد کرو۔ خدا جانے آج کیا ہے، کل کیا ہو! کارِ اِمروز را بہ فردا مَگُذار۔ اُس نے عرض کی: جو رائے اَقْدَس میں گُزرا ، یہی میراعین مطلب تھا۔ بادشاہ نے فرمایا : آج انجمن آراسے یہ مُقَدَّمہ اِظہار کر کے ، جوابِ باصَواب حاصل کرلو؛ کل سے سَرگَرمِ سامانِ شادی ہو۔

یہ کہہ کے بادشاه دیوانِ عام میں رَونق اَفزا ہوا۔ انجمن آرا کو ماں نے طلب کیا اور دو چار مُغلانِیاں ، آتو سِن رَسیدَہ ، محلداریں جہاں دیده ، قدیم جو تھیں ، انھیں بُلایا ۔ شہزادی کی جلیسیں بھی یہ خبرسُن کر بے بُلائے آئیں۔ اُس نے پہلے بیٹی کو گلے سےلگایا، پِیار کیا، پھر کہا: سُنو پِیاری! دُنیا کے کارخانے میں یہ رَسم ہے کہ بادشاہ کے گھر سے فقیر تک، بیٹی کسی کی، ماں باپ پاس ہمیشہ نہیں رہتی۔ اور غَیرت دار کے گھر میں لڑکی جوان، ہر وقت رنج کا نشان، خِفَّت کا سامان ہے۔ اور خُدا ورسول کا بھی حکم یہی ہے کہ جوان کو بِٹھا نہ رکّھو، شادی کردو۔ وَرائے اِن باتوں کے ایک شخص نے تمھارے واسطے گھربار چھوڑا۔ سلطنت سے ہاتھ اُٹھا، کسی آفت سے منہ نہ موڑا۔ جی پر کھیل گیا، کیا کیا بلائیں جھیل گیا۔ سر کھپی اور جان جوکھوں کی؛ جب تم نے ہم کو دیکھا، ہم نے تمھاری صورت دیکھی۔ شکل میں پری شَمائِل، فَرخُندَہ خٗو، فرشتہ خَصائِل۔ تمام شہر عاشق زار ہے۔ چھوٹا بڑا اُس پر فریفتہ ونثار ہے۔ ہر چند، تم پارۂِ جگر، نورِ نَظَر ہو؛ مگر واری، جو انصاف ہاتھ سے نہ دو تو تم میں اُس میں بڑا فرق ہے! تمھیں اللّہ نے عورت بنایا ہے، وہ مردِ میدانِ نَبَرد ہے۔ رنڈی، مرد کا بہت تَفاوُت مشہور ہے۔ آگاہ نادان وذی شَعور ہے۔ اِلّا، جانی! ہمارا کہنا، آرسی مُصحف میں نظر پڑے گا۔ دیکھیے گا، جو دکھائی دے گا۔

انجمن آرا نے یہ سُن کر سر جھکا لیا، رونے لگی۔ کہا: حضرت! صورت شکل کا مذکور یہاں کیا ضرور تھا۔ یہ اللّہ کی قدرت ہے: کسی کو بنایا، کسی کو بگاڑا۔ بہت سے لٗولے لنگڑے، کانے کُھدرے، گٗونگے بہرے ہیں؛ وہ، چاہیے نہ جِییں۔ کہیں نور ہے، کہیں نار ہے؛گُل کے پہلو میں خار ہے؛ یہ سب صَنعتِ پروردگار ہے، دنیا میں کون سی شے بے کار ہے۔ بلکہ بُروں سے اچھوں کی تمیز ہے؛ یوں تو بادشاہِ مصر، غلامِ عزیز ہے۔ اور جو بارِ احساں سے دب کر فرماتی ہو کہ ایسا کرو تو دُنیا عالمِ اسباب ہے؛ ایک کا کام دوسرے سے ہوتا آیا ہے۔ یہ شخص نہ آتا اور میرے مُقدَّر میں رہائی ہوتی؛ کچھ ایسا سامان نکل آتا اور کوئی اللہ کا ولی پیدا ہو جاتا، میری بند چھڑاتا۔

لِمُوَلِّفہ:

نیک وبدِ زمانہ نہیں اِختیار میں
ہوتا وہی سُرورؔ ہے، جو سَر نَوشت ہو

میری قسمت کم بخت بُری ہے؛ ایک مصیبت سے چھڑا، دوسری آفت میں پھنسایا۔ ہر دم کے طعنے اپنے بیگانے کے سُننے پڑے کہ یہ آیا، مجھے قید سے چُھڑایا۔ خُدا جانے وہ کون ہے، کہاں سے آیا ہے! اپنے مُنہ سے میاں مٹھو، شہ زادہ ہونے کا سب میں غُل مچایا ہے۔ مَیں آپ کی لونڈی ہوں، بہرصورت فرمانبردار؛ اگر کنویں میں جھونک دو، چاہ سےگر پڑوں، اُف نہ کروں؛ مگر جو آپ اس کی صورت شکل پر رِیجھ، محنت اور مشقت کو سمجھ بوجھ یہ مُقَدَّمہ کیا چاہتی ہیں تو میں راضی نہیں۔ اگر مزدوری کی اُجرت، خدمت کا انعام منظور ہے؛ کہ بادشاہوں کے نزدیک احسان کسی کا اٹھانا، بہت دور ہے؛ تو روپیہ، اشرَفی، جاگیر عنایت کرو کہ اُس کا بھلا ہو، کام ہو، آپ کا نام ہو۔

یہ فقرہ سن کے وہ بہت ہنسی، کہا: شاباش بچّی! اُس کی جاں فِشانی کی خوب قدردانی کی! واقعی وہ بے چارہ تمھارے ملک کا یا روپے پیسے کا محتاج ہے! اری نادان! وہ تو خود صاحبِ تخت و تاج ہے۔ اِس بات پر ہم سِنوں نے قہقہہ مارا، کہا : حُضور! بس اِن کا یہ شعور ہے۔ اِن کے نزدیک وہ شاہ زادہ نہیں، مزدور ہے۔ انجمن آرا نے جھنجھلا کے کہا: روپیہ وہ شے ہے اور مُلک وہ چیز ہے کہ اِس کے واسطے اِسفَندِیار سا روئیں تن مارا گیا، فریدون و افراسیاب کا سر اتارا گیا۔

وہ جو دائی، ددا، آتو، مُغلانیاں پُرانی  پُرانیاں حاضر تھیں، بولیں: قُربان جائیں، واری، ماں باپ کی عُدول حکمی میں خدا و رسول کی نافرمانی ہوتی ہے؛ تمھیں انکار مناسب نہیں۔ اور خُدا نخواستہ یہ کیا تمھاری دشمن ہیں، جو راہ چلتے کے حوالے، کسی کے کہے سُنے سے بے دیکھے بھالے کر دیں گی۔ آدمی روز بہ روز عقل و شعور سیکھتا ہے۔ نشیب و فراز، بات کا محل موقع سوچتا سمجھتا ہے۔ تم، سلامتی سے، ابھی تک وہی بچپنے کی باتیں کرتی ہو۔ کھیلنے کودنے کے سِوا قدم نہیں دھرتی ہو۔

انجمن آرا نے جواب نہ دیا، سر زانو پر رکھ لیا؛ لیکن وہ جو امیر زادیاں اُس کی ہم نشیں، جلیس تھیں؛ جن سے راتوں کو اِسی دن کے روز مشورے رہتے تھے، بولیں: ہے ہے، لوگو تمھیں کیا ہوا ہے! آتو جی صاحب! بے ادَبی معاف، آپ نے دھوپ میں چونڈا سفید کیا ہے۔ خیر ہے صاحبو! دلھن سے صاف صاف کہوایا چاہتی ہو! دُنیا کی شرم و حیا نِگوڑی کیا اُڑ گئی! اتنا تو سمجھو، بھلا ماں باپ کا فرمان کسی نے ٹالا ہے، جو یہ نہ مانیں گی۔ الخاموشی نیم رضا۔ بوڑھے بڑے کے روٗ بہ روٗ اور کہنا کیا۔ یہ سن کے آتو قدیم جس نے انجمن آرا کو ہاتھوں پر کھلایا تھا، پڑھایا لکھایا تھا، بِسمِ اللّہ کہہ کے اٹھی، انجمن آرا کی ماں کو نَذر دی، مبارک باد کہہ کے ہنسنے لگی۔ محل میں قہاقے مچے، شہ زادی بناوٹ سے رونے لگی۔ نواب ناظِر ، بیگم کی نذر لے کر بادشاہ کے حضور میں حاضر ہوا۔ نذر دی، خِلعَت مَرحَمَت ہوا۔ یہاں تو ارکانِ سلطنت اسی دن کے روز منتظر رہتے تھے؛ یہ مژدۂ فرحت افزا دریافت کر کے اٹھے، بہ مَراتب نذریں گزریں۔ توپ خانوں میں شَلَّک کا حکم پہنچا۔ نوبت خانوں میں شادیانے بجنے لگے۔ تمام شہر آگاہ ہوا کہ اب بیاہ ہوا۔ مبارک سلامت کی صدا زمین و آسماں سے پیدا ہوئی۔ شعر:

فلک پر یہ مبارک باد ہے اب کس کے ملنے کی
یہ ایسا کون بختاور ہے، جس کا بخت جاگا ہے

بادشاہ نے وزیرِ اعظم سے ارشاد کیا: جانِ عالم یہاں مسافِرانہ وارِد ہے؛ تم اُموراتِ محل میں مُستَعِد رہو، ہم اس کا سامان سر انجام کریں۔ وزیر آداب بجا لایا؛ خلعتِ فاخرہ ملا، ہاتھی، پالکی سے سرفراز ہوا۔ جانِ عالم کا یہ نقشہ تھا: چہرے پر بَشا شَت سے سُرخی، باچھیں تا بُناگوش کھلیں، فرحت کے باعث بندِ قبا ٹوٹے جاتے تھے، پھولے نہ سماتے تھے؛ مگر شرم کے باعِث آپ سر نہ اٹھاتے تھے۔

بادشاہ نے رَمّال، نجومی، پنڈت، جفرداں؛ جو جو علمِ ہیئت اور ہندسہ اور نجوم میں طاق، شُہرہ آفاق تھے؛ طلب کیے اور ساعتِ سعید کا سوال کیا۔ کسی نے قُرعہ پھینکا، زائچہ کھینچا، شکلیں لکھیں۔ کسی نے پوتھی کھولی۔ کوئی حرفِ مُفرد لکھ کر حساب کرنے لگا۔ کوئی تُلا، بِرچھک، دَھن، مَکَر، کُمبھ، مین، میکھ، بِرَکھ، مِتُھن، کَرک، سِنگھ، کَنِّیاں گن کر بچار کرنے لگا۔ کوئی مُشتری، مریخ، شمس، زُہرہ، عطارد، قمر، زحل کا حال مع گردشِ بُرج کہہ کے؛ حمل، ثور، جوزا، سرطان، اسد، سنبلہ، قوس، عقرب، جدی، دلو، حوت، میزان کی میزان دے کر شمار کرنے لگا۔ کہا: بعدِ مدت قمر اور مشتری کا ، بہ طرزِ خلاف، حمل میں قِران ہے؛ اس ہفتے کا دن رات سَعدِ اکبر ہے اور بِالاِتفاق ایک روز مقرر کیا۔ حضور سے بہ قدرِ علم و کمال، خلعت اور انعام عنایت ہوا اور بعدِ جلسۂ شادی، بہ امید دیگر و امدادِ وافِر امیدوار کیا۔

القصہ بہ مَوجِبِ اَحکامِ اختر شَناسانِ بلند بیں، فلک سیر، ماضی مستقبل کے حال داں، باریک خیال و مُنجِّمان صدر نشینِ مسندِ کُنِشت و دَیر، حکم روایانِ خوش فال؛ مانجھے کا جوڑا دلھن کے گھر سے چلا۔ مزدور سے تا فِیل نشیں، زن و مرد فرد فرد بالباسِ رنگیں۔ پُکھراج کی کشتیوں میں زعفرانی جوڑے۔ سنہرے خوانوں میں پینڈیاں: مقوّی، مفرّح، ذائقہ ٹپکتا، خوان تک بسا۔ اور دودھ کے واسطے اشرفیوں کے گیارہ توڑے، طلائی چوکی، جواہر جڑا زمرد نگار کٹورا بٹنا ملنے کا۔ کنگنا بہ از عقد ثریا، دُرّ یکتا بڑا بڑا۔ لنگی ملتان کی تھی، بیل بوٹے میں گلستاں کی تھی۔ بٹنا اور تیل بے میل، جو عطر کشمیر پر خندہ زن ہو، معطر دماغِ انجمن ہو۔ کنٹروں میں عطر سہاگ، مہک پری ایجاد نصیر الدین حیدری، ارگجۂ محمد شاہی۔ فتنے کی بو چار سو۔ زعفران کا سا تختہ کھلا، کوسوں تک خوان سے خوان ملا۔ نوبت نشان۔ گھوڑوں پر شہنا نواز، نقّارچی جوان جوان۔ سکھپال اور چنڈولوں میں زنانی سواریاں، ان کے بناؤ کی تیاریاں۔ کہاریاں پری چھم، برقِ درخشاں کا عالم، باہم قدم قدم۔

اس سامان سے وہ سب مانجھا لے کے، در دولت نوشاہ پر جو بس گئے؛ شہر کے کوچہ و بازار بس گئے۔ وہاں دولھا، یہاں دلھن نے مانجھے کے جوڑے پہنے،  مبارک سلامت سب لگے کہنے۔ منادی نے ندا کی: جو سفید پوش نظر آئے گا، اپنے خون سے سرخ ہوگا، یعنی گردن مارا جائے گا۔ بادشاہ نے خود ملبوس خاص رنگین زیب جسم کیا، رنگ کھیلنے لگا۔ تمام خلقت ہولی کی کیفیت بھولی۔ شہر میں شہاب اور زعفران کے سرخ و زرد نالے بہے۔ گلیوں میں عبیر، گلال کے ٹیلے ٹیکرے رہے۔ کوچہ ہر بازار کا زعفراں زارِ کشمیر تھا۔ ایک رنگ میں ڈوبا امیر و فقیر تھا۔

پھر بہ تاکید تمام خاص و عام کو حکم ہوا کہ آج سے چوتھی تک سوائے اہل حِرفہ اپنے اُمورِ ضروری موقوف کر، گھروں میں ناچ دیکھو، جشن کرو۔ جو کچھ احتیاج ہو، سرکار سے لو۔اور ہر رئیسِ محلہ، سردارِ قوم سے فرمایا : جو جو تم سے مُتعلق ہوں اُن کی فرد درست کر، حُضور میں گزرا نو، سب کو ہمارا مہمان جانو۔ اُن کے کھانے پینے کا سامان، خواہ ہندو ہو یا مسلمان، حُضور سے ملے گا۔ اور اربابِ نشاط کے داروغہ کو احکام مِلا : جس کی جیسی لِیاقت ہو، یا جس کا جو شائق ہو، بہ شرطے کہ اُس کے لائق ہو؛ بہ رضا مندیٔ طرفین، وہ ویسا طائِفہ وہاں بھیج دو۔

دکانداروں کو ارشاد ہوا : دن رات دکانیں کھلی رہیں؛ قریب قریب ناچ ہو۔ ان کے کھانے کا صَرف، تصرّفی باورچی خانے میں ٹھہرا۔ ہندو کو : پوری، کچوری، مٹھائی، اچار۔ مسلمان کو : پُلاؤ، قلیہ، زردہ، قُورمہ؛ ایک آبی، دوسری شیر مال؛ فِرنی کا خوانچہ؛ تشتری کباب کی، بہت آب و تاب کی۔ شہر میں گلی گلی عیش و طرب، خوشی میں چھوٹے بڑے سب، نہ کسی کو کسی سے غرض نہ مطلب۔ پکا پکایا کھانا کھانا، دُکانوں میں بیٹھے ہر وقت ناچ دیکھنا، سرکار کا کام بنانا، بغلیں بجانا۔ بیت:

بہشت آنجا کہ آزارے نباشد
کسے را با کسے کارے نباشد

اور اِس سے پہلے بہ تعیُّنِ روزِ شادی؛ نامے بادشاہوں کو، فرمان راجا بابو کو، صوبے دار وں کو شُقّے، عاملوں کو پروانےجا چکے تھے۔ دو چار منزل گرد پیش، سرِراہ دو دو کُوس کے فاصلے سے باورچی اور حلوائی کھانا، مٹھائی گرماگرم تیار کیے بیٹھے رہتے تھے کہ اس عرصے میں جو مسافر گزرے یا طلبیدۂ بادشاہ آئے؛ بھوکا نہ جائے۔ اور مُژدۂ شادی راہ چلتوں کو سُنا، شہر میں بھیج دیتے تھے کہ یہ جلسہ قابلِ دید ہے۔

غرض کہ دو منزل، چار منزل بلکہ دس بیس دن کی راہ سے، تماش بین بےفِکرے لکھنؤ والوں سے، سیر دیکھنے کو آئے اور ساچق کا دن آیا۔ اگر سب سامان بیان کروں، کہانی ناتمام رہ جائے؛ مگر وہی مشتے نمونہ از خروارے۔ پچاس ہزار چوگھڑے: رُپہلے، سنہرے، جواہر نگار، نُقل اور میوے سے لبالب۔ لاکھ خوان: بہ حُسن و خوبیٔ بِسیار، پُرتکلف سب؛ پچاس ہزار میں مِصری کے کوزے، باقی میں میوہ۔ اور قند کی چھبڑیاں مُرصع کاری کی، بڑی تیاری کی۔ نُقرئی دہی کی مٹکی، گلے میں مچھلیاں ناڑے سے بندھیں۔ آرائش کے تخت بے حساب، اس روش کے جن کے دیکھنے سے صناعی صانِعِ حقیقی کی یاد آئے۔ گُل بوٹا اس سج دھج کا جو نقل کو اصل کر دکھائے۔ آتش بازی کے ٹوکرے قطار در قطار، بے پایاں۔ سرو، جھاڑ، درختِ میوہ دار ہزار در ہزار، لا بیان۔ بہت تُزک، بڑا سامان۔ آرائش کے گلدستوں سے چمنِ رواں ساتھ تھا۔ سرِدست یہ باغ ہاتھوں ہاتھ تھا۔

اس انداز سے ساچق گئی۔ منہدی کی شب ہوئی۔ وزیرِ درست تدبیر نے خوب تیاری کی۔ نارنول کی منہدی ہزارہا من، بوباس میں دُلھن پن۔ وہ رنگین جس کی دید سے دستِ نظارہ مِثل پنجۂ مرجاں رشکِ عقیقِ یمن ہو جائے، سُرخ رو ہمہ تن ہو جائے۔ ایک بار لگائے، لال ہو؛ تمام عمر کف افسوس ملتا رہے۔ نہ ہاتھ لگنے کا ایسا ملال ہو۔ بہ ظاہر سرسبز، ہری؛ جگر میں سُرخی کوٹ کوٹ کے بھری۔ جڑاؤ سینیوں میں حِنا، شمع مُومی و کا فوری اُس پر روشن۔ ملیدے کے خوانوں پر جوبن۔ آرائش اور آتش بازی ہمراہ۔ سب کے لب پر واہ واہ۔ بہت چمک دمک سے منہدی لایا اور یہ رنگ ڈھنگ حُسنِ تدبیر سے دکھایا کہ تمام ہم چشموں میں سُرخ رو ہوا۔

بَرات  کی رات کا حال سُنو : دیوانِ خاص سے دلھن کا مکان چار پانچ کوس تھا۔ یہاں سے وہاں تک دونوں طرف بلور کے جھاڑ آدمی کے قد سے دوچند، سو سو بتی کے سربلند، پانچ چھے گز کے فاصلے سے روشن۔ اور دس گز جُدا نُقرئی، طلائی پنج شاخہ جلتا۔ اُن سے کچھ دور ہزاروں مزدور، ٹھاٹھروں پر روشنی کرتے۔ جھاڑ رشکِ سروِ چراغاں، چمکتے۔ جابہ جا تِر پولِیے اور نوبت خانے بنے؛ کتھک اتھک اُن پر ناچتے، نوبت بجتی، مُغرق شامیانے تنے۔ اس کے قریب دورویہ آتش بازی گڑی، خلقتِ خدا تماشا دیکھنے کو کھڑی۔ روشنی یہ روشن تھی کہ چیونٹی سوار کو بہ ہیئتِ مجموعی مفصل معلوم ہوتی تھی۔

غرض نوشہ سوار ہوا۔ شورو غُل یک بارہوا۔ کسی نے کہا : سواری جلد لانا! کوئی پٹکا، شملہ سنبھال خدمت گار کو پُکارا کہ ہاتھی بٹِھانا!پلٹنیں آگے بڑھیں، عربی باجے بجنے لگے۔ کُوس وکور گرجنے لگے۔ نوبت ونشان، ماہی مراتِب، جلوس کا سامان۔ سواروں کے رِسالے دو رویہ باگیں سنبھالے۔ خود اسپے، اِکے، بیش قرار درما ہے دار۔ پھر ہزار بارہ سے تختِ رواں، تمام تمامی سے منڈھا۔ اُن پر رنڈیاں جوان جوان، شادی مبارک گاتیں؛ سج دھج دِکھا، طبلے بھڑ بھڑاتیں۔ بہت سے سانڈنی سوار تیز رفتار۔ خاص بردار: خاصِیاں کندھوں پر، دولھا کے برابر۔ اُن کے قریب، برچھے والے، بان دار، چُوبدار۔ روشن چوکی والے: شہنائیں پُر تکُلف، سُر نرالے۔ ہزاروں غلام زریں کمر، سنہری رُپہلی انگیٹھیاں ہاتھوں میں؛ جُھولی میں عنبرِ سارا، عود غرقی بھرا، سارا شہر مہکتا۔ گرد ہزارہا پنج شاخہ پُھنکتا، سونے چاندی کی دستیاں روشن، مُہتمموں پر جوبن۔قُورمیں چالیس بادشاہ پُرشوکت و جاہ۔ پیچھے بارہ ہزار ہاتھیوں پر امیر وزیر، ارکانِ سلطنت، ترقی خواہ۔ خواصی میں انجمن آرا کا بھائی، جان عالم کا سالا بجائے شہ بالا۔ آہستہ آہستہ، قدم قدم خوش و خُرم چلے۔ کوچہ و بازار بو باس سے معطر تھا۔ چرخِ گرداں دیدۂ دیدبانِ چارُم سے تماشائی تھا، یہ سامان تھا۔ دشت کا وحش و طیر حیران تھا۔

پہر رات رہے دُلھن کے دروازے پر پہنچے۔ ماما، اصیلیں دوڑیں؛ پانی کا تشت ہاتھی کے پاؤں تلے پھینکا۔ کسی نے کچھ اور ٹُوٹکا کیا۔ دولھا اتر کر مجلس میں داخل ہوا۔ بارہ سے طائفہ رنڈیوں کا؛ سوائے بھانڈ، بھگتیے، ہیجڑے، زنانے، کشمیری قوال، بین کار،ربابیے، سرو دِیے کے؛ حاضر تھا۔ ناچ ہونے لگا۔ قریبِ صُبح قاضی طلب ہوا۔ بہ ساعتِ معین کئی سلطنت کے خِراج پر مہر بندھا۔ طالب و مطلوب کو سِلکِ ازدِواج میں مُنسلک کیا۔ مُبارک سلامت کا غُل مچا۔ میرسوزؔ:

فلک، شب کتخدائی دیکھ اُس کی، سوزؔ!یوں بولا
تجھے یہ رات، اے رشکِ مہِ انور مبارک ہو

سب طائفے ساتھ کھڑے ہو، ایک سُر میں مبارک باد گانے لگے۔ حوصلے سے زیادہ انعام پانے لگے۔ دولھا زنانے میں طلب ہوا: وہاں رسمیں ہونے لگیں۔ وہ بھی عجب وقت تھا: آرسی مصحف رو بہ رو، محبوبِ دل خواہ دو بہ دو؛ سورۂ اِخلاص کُھلا، آئینہ رونُمائی مزے  لوٹتا، سلسلۂ محبت مُستحکم ہو رہا۔ ڈُومنیوں کا سِٹھنِیاں گانا، دولھا دُلھن کا شرمانا۔ کبھی ٹُونے، گاہ اچھے بنے سلُونے۔ ہمجولیوں کا پوچھنا: ٹُونا لگا؟ دولھا کا ہنس کےکہنا: عرصہ ہوا۔ کوئی دُلھن کی جُوتی، دولھا کے شانے میں چُھوا گئی۔ کوئی اُسی کا کاجل پارا ہوا لگا گئی۔ ہم سِنُوں کی چھیڑ چھاڑ، اُن کے جوبن کی بہار، فقط ململ اور شبنم کے دوپٹوں کی آڑ۔ جس دم یہ رسمیں ہو چکیں، نو بات کی نوبت آئی؛ اِس طرح چُنی کہ دیکھی نہ سُنی۔ میر حسن:

وہ جب پاؤں پر کی اُٹھاتے اَڑانہیں اور ہاں کا عجب غُل پڑا

جس دم یہ رسمیں ہو چکیں؛ پھر ڈُومینوں نے پاہنی گائی، سب کی چھاتی بھر آئی۔ دُلھن سے رُخصت ہونے لگے، رو رو جی کھونے لگے۔ سواری تیار ہو کے دروازے پر آئی۔ دولھا نے سہرا سر سے لپیٹ دُلھن کو گود میں اُٹھایا؛ سب کا دل اُمنڈ آیا، شُور و غُل مچایا۔ دُنیا کے کارخانے قابلِ دید ہیں، بلکہ دید ہیں نہ شنید ہیں۔ شادی میں غم سلف سے توام ہے؛ مگر ثبات بجز ذاتِ باری کسی کو نہیں۔ مُقدماتِ جہانِ گُذراں خوابِ پریشاں ہیں، اس میں سب حیراں ہیں۔ مُؤلف:

اک وضع پر نہیں ہے زمانے کا طَور، آہمعلوم ہو گیا مجھے لیل و نہار سے

غرض کہ دلھن کو سُکھپال میں سوار کیا۔ بادشاہ نے اسبابِ ضروری، سامانِ ظاہری کے سِوا، مُلک و سلطنت و خزانہ جہیز میں لکھ دیا۔ برات رُخصت ہوئی۔ وہ اِہتِمام، تجمّل، سواری کا سامان۔ ہر شخص خُرم و خنداں۔ جہیز کا آگے بڑھنا، لوگوں کا دولھا پر دُعائیں پڑھنا۔ نسیمِ سحر کا چلنا، شمع کا جھلمِلا جِھلمِلا کے جلنا۔ شہنا میں بھیرُوں، بِبھاس، اَلَیّا، للت، رام کلی کا پھونکنا۔ نقیب اور چوبداروں کا کوئل کی طرح کوکنا۔ نوبت کی ٹکور، جھانجھ کا جھانجھ سے شُور۔ جُھٹ پُٹا وقت، نور کا تڑکا۔ کڑکیتوں کا سومیل کڑکا۔ کچھ کچھ تاروں کی چمک۔ نقاروں کی صدا، دھونسے کی گُمک۔ چاند کے مُنہ پر سفیدی، دُلھن والوں کی یاس و نااُمیدی۔ عطر کی ہر سو لپٹ، پھولوں کی مہک۔ سب کو نیند کا خُمار، کوئی پیادہ کوئی سوار۔ فرش باسی ہار پھولوں سے رشکِ صحنِ چمن؛ کہیں جُھول، کہیں شِکن۔ کسی جا پکھروٹے اور بیڑوں کے پتے کُھلے پڑے، کہیں لوگ حیران و ششدر کھڑے۔ مجلس کے فِراق میں، اہل محفل کے اِشتِیاق میں، شمع کی زاری، اشک باری۔ لگن میں پروانوں کی بے قراری، خاکساری۔ دولھا کے لوگوں کی خوش بشاش تیاری، دُلھن کے گھر میں نالہ و زاری۔ کوئی کہیں نیند کی جھونک میں پڑا، کوئی یہ سامان بہ چشمِ عبرت دیکھ، تاسُف میں کھڑا۔ شمع فانوس میں گُل۔ گُل، گُل گیر میں۔ زِیر انداز پر پروانوں کے پر، فرّاش فرش اُٹھانے کی تدبیر میں۔ بیٹھی ہوئی ہر ایک کی آواز؛ کہیں سوز، کہیں ساز۔ یہ وقت دیکھنے کے قابل ہوتا ہے، راہ چلتا بھی دیکھ کر روتا ہے ۔ اِس کی لذت وہ جانے، جس کی نظر سے یہ ہنگامہ گزرا ہو۔ کسی کی برات دیکھی ہو، گو بیاہ نہ کیا ہو۔

قصہ مختصر، دولھا شِگُفتہ خاطِر، خنداں۔ چہرے پر شباب کی چمک، عارِضِ تاباں سے حُسن کی بہار عیاں۔ ہاتھی پر سوار، گرد شاہ و شہریار۔ زرِ سُرخ و سفید نِثار ہوتا۔ سرِ چوک پہر بجے دیوانِ خاص میں داخل ہوا۔ اب گھر پہنچنے کی ریت رسم ہونے لگی۔ دولھا دلھن جب اُترے؛ بکرا ذبح کیا انگوٹھے میں لہو لگا دیا، پھر کھیر کھلائی۔ رسموں سے فرصت پائی۔ اب یہ منتظر ہوئے کہ شام ہو، وصل کا سر انجام ہو۔ اُس دن جانِ عالم کا گھبرانا، گھڑی گھڑی گھڑیالی سے دِن کی خبر منگوانا دیکھنے کی گوں تھا۔ بدحواس پھرتا تھا کہ کہیں جلد رات ہو، بے تکلفی کی ملاقات ہو۔ کبھی کہتا تھا : واہ، قسمت کی خوبی! پہر بھر کا عرصہ ہوا، گھڑی نہیں ڈوبی! ہُوش کہاں بجا تھا، مکرر پوچھتا: ابھی کیا بجا تھا؟ اُدھر انجمن آرا بھی جمائِیاں لیتی تھی، تکیے پر سر دھر دیتی تھی۔ جب یہ بھی تدبیر بن نہ آتی تھی؛ لوگوں کے چونکانے کو اونگھ جاتی تھی۔

غرض کہ خدا خدا کر وہ دن تمام ہوا، نمود وقتِ شام ہوا۔ عروسِ شب نے مَقنَعۂ مہتاب سے روپوشی کی، مشتاقوں کو فرصت ملی گرم جُوشی کی۔ لوگ آنکھ بچا کر جا بہ جا کنارے ہوئے، دولھا دُلھن چھپر کھٹ میں ہم کِنار بے تابی کے مارے ہوئے۔ شادی کا روز، شباب کا عالم؛ مُشتاقوں کا بیٹھنا باہم۔ آنکھوں میں خُمار نیند کا، دل میں اِشتِیاق دید کا۔ عِطرِ سُہاگ اور فِتنے کی خوش بو۔ بُٹنے اور تِیل کی عجب میل کی مہک ہر سو۔ پھولوں سے پلنگ بسا، ادقچہ کسا۔ خود نشۂ عشق سے باختہ حواس، تمنائے دل پاس، نہ کچھ دغدغہ نہ وسواس۔ ہنگامۂ صحبت طرفین سے گرم؛ اُدھر شوق، اِدھر شرم۔ ایک طرف ولولۂ گرم جوشی، ایک سمت کثرتِ حیا سے مُنہ پر مُہرِ خموشی۔ بیان کرنا گُذشتہ حال کا، خیال لوگوں کی دیکھ بھال کا۔ یہ معمول ہے : اُس رُوز ہم سِنیں تاکتی جھانکتی ہیں؛ لیکن اِن ڈروں پر چُپ نہ رہے، آہستہ آہستہ دونوں نے دُکھڑے کہے۔

جانِ عالم نے توتے سے ذِکر سُن کر در بہ در خراب خستہ ہو کر آنا، توتے کا بیٹھ رہنا، وزیر زادے کا صدمۂ فِراق سہنا؛ پھر طلسم کا پھنس جانا، جادوگرنی کا ستانا؛ بعد اِس کے نقشِ سلیمانی لینا، وہاں سے چل دینا؛ بہ کُشادہ پیشانی و خوش بیانی بیان کیا۔ مگر ملکہ مِہر نگار کی ملاقات، جگت رنگی کے حرف و حِکایات؛ اُس کی طبیعت کا آ جانا، اپنا بے اِعتنائی سے چلے آنا؛ کچھ شرما کے، بات کو مطلب کی جا سے چبا چبا کے بیان کیا۔ یہ اکثر ہوا ہے کہ معشوق کے رو بہ رو، جو اِس پر کبھی کوئی عاشق ہوا ہے، اُس کا ذکر کرتا ہے شیخی بگھارتا ہے، کچھ جھوٹ اپنی طرف سے جوڑتا ہے، دل کے پھپھولےتوڑتا ہے۔ اِس کی شرح، گو طول طلب ہے؛ پر عاشق مزاجوں پر منکشف سب ہے۔

انجمن آرا نے جادوگرنی کے قصے پر تاسُف کیا۔ ملکہ کے مذکور پر بناوٹ سے ہنس دیا۔ پھر روکھی صورت بنائی، ناک بھوں سمیٹی، تیوری چڑھائی؛ مگر چلے آنے کے سہارے پر مسکرائی۔ اپنا بھی اِشتِیاق، لیے دیے، از روزِ ملاقات، محنت و مشقت کی قدر دانی سے، جادوگر کی لڑائی میں جاں فِشانی سے بیان کر کے کہا: اَلاِنسانُ عَبِیدُ الاِحسانِ۔ جب اِس طرح کے دو دو انچھر ہو چکے، دل کے ارمان کھو چکے؛ پھر دونوں بے ساختہ ہو، شرم و حیا کھو ہم آغوش ہوئے۔ رنج درکنار، غم و دردِ مُہاجرت فراموش ہوئے۔ مُؤلف :

یہ ہم کناریٔ جاناں سے تازہ لطف اُٹھا
گلے سے ملتے ہی، سب رنج درکنار ہوا

سینے سے سینہ، لب سے لب، ہاتھ پاؤں؛ بلکہ جتنے اعضائے جسم ہیں، سب وصل تھے۔ مثل ہے : ایک جان دو قالِب؛ وہ ایک جان ایک ہی قالِب، غالب ہے کہ ہو گئے۔ اُستاد:

ایامِ وصل میں ہم لپٹے ہیں جیسے اُس سےیوں وصلی کے بھی کاغذ چسپاں بہم نہ ہوں گے

خواہش کو اِضطرار، حیا مانِعِ کار، شرم بر سرِ تکرار۔ دونوں کے دم چڑھ گئے تھے، انداز سے بڑھ گئے تھے۔ دست بُردی، ہاتھا پائی تھی، چوریاں تھیں۔ جنگ زرگری، گاؤ زوریاں تھیں۔ شہ زادی موقع پر ہاتھ نہ لگانے دیتی تھی۔ جب بے بس ہو جاتی تو چٹکیاں لیتی تھی۔ گاہ کہتی تھی: اے صاحب! اِتنا کوئی گھبراتا ہے! دیکھو تو کون آتا ہے! کبھی خود اُٹھ کے دیکھتی بھالتی تھی، کوئی دم یوں ٹالتی تھی۔ آخر کار جب غمزہ و ناز کی نوبت بڑھ گئی، تھک کے ڈھب پر چڑھ گئی۔ غنچۂ سربستۂ تمنائے دراز، بہ حرکتِ نسیم وصل شِگُفتہ و خنداں ہوا۔ دُرِ ناسُفتۂ دُرجِ شہر یاری؛ رشکِ عقیقِ یمنی، غیرت دِہِ لعلِ بدخشاں ہوا؛ جیسا پیر دِہقاں، فردوسیٔ سخن داں نے کہا ہے، شعر:

چناں بُرد و آورد و آورد و بُردکہ دایہ زحسرت پسِ پردہ مُرد

رشک و حسرت سے جگرِ صدف چاک ہوا، قطرۂ نیساں صدف میں گرا، دشمن کم بخت در پردہ ہلاک ہوا۔ تقاضائے سِن، الھڑپنے کے دن؛ سیر تو یہ ہوئی اُس وقت دونوں ناتجربہ کار، بادۂ اُلفت کے سرشار کیا کیا گھبرائے، ہزاروں طرح کے نئے نئے خیال آئے، کیفیت سب بھولی؛ جب دامنِ شب میں چادرِ پلنگ پر شفقِ صُبح پھولی۔ غرض کہ شرما کے اِستِراحت فرمائی، دلِ بے تاب نے تسکین پائی۔

ہنُوز پلک نہ جھپکی تھی، صُبح کا غُلغُلہ ہوا، نمودِ سحر ہوئی، خاص و عام میں شب کی خبر ہوئی۔ دمِ صُبح ایک سُرخ رو، دوسرا ژُولیدہ مو حمام میں داخل ہوئے۔ جو جو محرمِ راز، شریکِ ناز و نیاز تھیں؛ رات کی باتوں کے پتے رمز و کِنایے میں دینے لگیں۔ کوئی شرمایا، کوئی جھنجھلایا۔ غمزہ و ناز ہر انداز میں رہا۔ اُس وقت قہقہے کا شور آسمان پر پہنچایا، جب خوانوں میں پنجیری اور شیشوں میں تنبول آیا۔ الغرض نہا دھو خاصہ نوش فرمایا۔ جانِ عالم بادشاہ کے حُضور میں آیا، خِلعتِ فتح پایا۔ اب اُموراتِ سلطنت بہ مشورۂ شاہ زادہ ہونے لگے۔

بعد رسم چوتھی چالےکے؛ لبِ دریا ایک باغ بہت تکلف کا، نشاط افزا نام، بادشاہ نے رہنے کو عِنایت کیا۔ اگر اُس باغ کی تعریف رقم کروں، شاخِ زنبق و نرگس کی ٹہنی کو لاکھ بار قلم کروں۔ اِلّا، خِضر کی حیات، رِضواں کا ثبات درکار ہے؛ نہیں تو ناتمام رہے، لکھنا بےکار ہے۔ سو بار خِزاں جائے، بہار آئے؛ ایک پٹری کی روِشِ صفا تحریر نہ ہو سکے، خامۂ مانی پھسل جائے۔ رشکِ گُلزارِ جِناں، ایک تختۂ فِردوس سا کئی کوس کا باغِ بے پایاں۔ برگ و بار، گُل اُس کے جورِ خزاں سے آزاد بِالکل۔ نہ بلبل پر ستمِ باغباں، نہ خوفِ صیاد؛ عجائِب غرائِب چہچہے، نئے رنگ ڈھنگ کے ترانے یاد۔ جتنے دُنیا کے مِیوے ہیں، تر و تازہ ہمیشہ تیار۔ سرسبز پتے، خوش رنگ پھول، پھل مزے دار۔ گُل تکلیفِ خار سے بری۔ جہان کی نعمت ہر تختے میں بھری۔ روِش کی پٹریوں پر منہدی کی ٹٹیاں کتری ہوئی برابر۔ چمن میں وہ وہ درخت پھلےپھولے، جسے دیکھ کر انسان کی عقل بھولے۔ پھولوں کی بوئے خوش سے دل و دِماغ طاقت پائے۔ جو پھل نظر سے گزرے، بارِ خاطِر نہ ہو؛ ذائِقہ زبان پر، مُنہ میں پانی بھر آئے۔

نہریں ہزار در ہزار، پُر از آبشار۔ گرد چرِند و پرنِد خوب صورت، قطع دار۔ باغبانِیاں پری زاد، حور وش، کم سِن، مہر لِقا۔ بیلچے جواہر نِگار ہاتھوں میں۔ ہر ایک آفت کا پرکالہ، دل رُبا، مہ سیما۔ کنویں پختہ، جڑاؤ چرخی، رسے کلابتون کے۔ ڈول وہ کہ عقل دیکھ کر ڈانواں ڈول ہو۔ چرسے پر نزاکت برسے۔ بیل کے بدلے نیل گائے کی جوڑیاں۔ آہو جن کے رو بہ رو چِہ کارہ، باغبانِیاں مہ پارہ۔ زربفت کے لنہگے قیمت کے منہگے۔ شبنم کے نفیس دوپٹے مُغرق۔ مسالے کی کُرتی، انگیا۔ چھڑے پاؤں میں: طِلائی، واچھڑے۔ کان کی لو میں ہیرے کی بِجلی: برق دم، سب کی آنکھ جس پر پڑے۔ کوئی ڈول کو سنبھال ٹپا، خیال گاتی۔ کوئی شعرِ برجستہ یا ہندی کا دوہا اُس میں مِلاتی، چھیڑ چھاڑ میں چُٹکی لےکے اُچھل جاتی۔

ایسے باغِ پُر بہار میں جانِ عالم اور انجمن آرا ہاتھ میں ہاتھ، پریوں کا اکھاڑا ساتھ، دین و دُنیا فرامُوش، ہر دم نُوشانُوش، باعیش و نشاط اوقات بسر کرنے لگا۔ جہان کا ساز و ساماں ہر دم مُہیا۔ شراب و کباب، چنگ و رباب کا جلسہ۔ خدمت گُزاریں پری طلعت، ماہ پیکر سب کام کو حاضر۔ جیسے کنھیا شامِ عشرت سحر کرنے لگا۔ نہ خیال اپنے شہر و دیار کا، نہ خوفِ نیرنگیٔ فلک، نہ بیم و ہِراس گردشِ روزگار کا، نہ ماں باپ سے مطلب۔ یار آشنا بھولے سب۔ نہ کچھ دھیان اُس جگر فِگار، کُشتۂ انتظار ملکہ مہر نگار کا۔

 

شرح جگر خراشیٔ مصائب دیدۂ روزگار

 

یعنی ملکہ مہر نگار کی۔ تڑپ، بے قراری، نالۂ نیم شبی اور اشکباری

اُس مصیبت شِعار کی۔ دو ایک جملۂ مُعترضۂ پُر شکایت، کشش محبت کی حکایت

 

نظم :

کدھر ہے تو اے ساقیٔ بے خبر
ہوا حال شادی کا سب اختتام
تپش سے، تڑپ سے تو کر دے بہم
خوشی سے، مجھے رنج مرغوب ہے
یہی ساتھ دیتا شب و روز ہے
نہ کی لطف سے غم زدوں پر نظر
مگر غم کا قصہ ہے وہ ناتمام
کہ لکھتا ہوں پھر داستانِ الم
یہ مونس ہے، ہم دم بہت خوب ہے
یہ غم، عاشقوں کا غم اندوز ہے

نالہ نوازانِ بزمِ ماتم و تَفتَہ جگرانِ کُلبۂ غم، حاکیانِ حکایتِ حُزن و ملال و نثّارانِ دل خوں، آشُفتہ حال لکھتے ہیں کہ اُس بے سر و ساماں، کُشتۂ ہجراں، دور از دِل دار و ہم قرین غم، رونا دیدۂ شادی، بوریا نشینِ ماتم، دِل رِیش، سینہ فِگار یعنی ملکہ مہر نگار کا فُرقت میں یہ حال ہوا، اُستاد :

یاں تک کہ اُٹھانے کا وقت اپنے، قریب آیا
اِس پر، مرے بالیں پر تم اُٹھ کے نہ آ بیٹھے
میں نام ترا لے لے دن رات جو چِلّاؤں
او سُنتے ہوئے بہرے! کیوں کر نہ گلا بیٹھے

جو کوئی کہتا: خیر ہے ملکہ! گھلی جاتی ہو، کیوں اتنا رنج و غم کھاتی ہو! تو یہ کہتی، مصحفی:

غم کھاتی ہوں لیکن مری نیت نہیں بھرتی
کیا غم ہے مزے کا کہ طبیعت نہیں بھرتی

مُؤلف:

نہ پوچھو کچھ مری حالت کہ اس دل کے لگانے سے
پریشاں، سینہ سُوزاں، مُنفعل، سر در گریباں ہوں

ایسی باتیں درد آمیز، وحشت انگیز کرتی کہ سُننے والوں کی چھاتی پھٹتی۔ وہ کہتیں: نظر بہ خدا رکھو۔ حسنؔ:

اُسے فضل کرتے، نہیں لگتی بار
نہ ہو اُس سے مایوس، اُمیدوار

سوزؔ:

پھر بہار آتی ہے تجھ میں، اے گلستاں! غم نہ کھا
وہ چلی آتی ہے فوجِ عندلیباں، غم نہ کھا
گو کہ شب آخر ہوئی، اے شمع! تو زاری نہ کر
پھر وہی محفل، وہی تیرا شبستاں، غم نہ کھا

وہ سُن کر یہ کہتی کہ میں چراغِ سحری ہوں؛ یقین ہے کہ تاصُبح بزمِ جہاں سے، جل کے، سفری ہوں۔ خسروؔ:

پس ازانکہ من نمانم، بچہ کار خواہی آمد

مُؤلف:

ہمارے جان کے جانے میں جب عرصہ رہا تھوڑا
تب اُس کے دل میں آیا دھیان میرے پاس آنے کا

آج تک اُس غفلت شعار، فراموش کار کی کچھ خبر نہ آئی؛ ہم نے غمِ جدائی میں مفت جان گنوائی۔ مُؤلف:

تپِ جُدائی سے اس طرح اب نزار ہوں میں
اجل کے مُنہ سے بھی، غالب ہے، شرمسار ہوں میں
کیا ہے رنجِ جُدائی نے ایسا کاہیدہ
نظر میں خلق کی، رشکِ خطِ غُبار ہوں میں
جو تو وہ گُل ہے کہ عالم کے دل میں ہے تری جا
تو سب کی آنکھ میں کھٹکا کیا، وہ خار ہوں میں
قرار می برد از خلق آہ و زاریٔ ما
سُرورؔ! رنج میں کس کے یہ بے قرار ہوں میں

یہ معمول تھا: جب چار گھڑی دن رہتا، سوار ہو کر؛ اُن درختوں میں، جہاں جانِ عالم سے ملاقات ہوئی تھی، جاتی اور جو جو شریکِ راحت و رنج تھیں، اُن سے مخاطب ہو یہ کہتی، اہلیؔ شیرازی:

خوش آنکہ تو باز آیی و من پای تو بوسم
ہر جا کہ تو روزے نفَسے جای گرفتی
روی تو تصور کنم و لالہ و گل را
ہر جا کہ غزا لیست، چو مجنوں سر و چشمش
من اہلیؔ درویش، تو آں شاہِ بُتانی
در سجدہ فتم، خاکِ قدمہای تو بوسم
آنجا روم و گریہ کُناں جای تو بوسم
در حسرتِ رخسارِ دل آرای تو بوسم
در آرزوی نرگسِ شہلای تو بوسم
دستیکہ ببوسم، بہ تمنای تو بوسم

اور کبھی صُبح سے پھرتے پھرتے، قریبِ شام بادلِ ناکام اُسی جنگل میں پھر آتی، یہ غزل زبان پر لاتی، جُرأتؔ:

بہ شکلِ مہر ہے گردش ہی ہم کو سارے دن
جو تم پھر آؤ تو پیارے، پھریں ہمارے دن
نہیں ہے تیرے مریضانِ ہجر کا چارہ
اب اپنی زیست کے بھرتے ہیں یہ بچارے، دن
بہ وصل کیونکے مُبدل ہوں ہجر کے ایام
مگر خدا ہی یہ بگڑے ہوئے سنوارے دن
رہے تھا جب کہ ہم آغوش مجھے سے وہ پیارا
عجب مزے کی تھیں راتیں، عجب تھے پیارے دن
کب اُس سے ہو گی ملاقات، میں یہ پوچھوں ہوں
ذرا تو دیکھ نجومی! مرے ستارے، دن
لگایا رُوگ جوانی میں کیوں میاں جُرأتؔ
ابھی تو کھیل تماشے کے تھے تمھارے دن

رات کو بہ حالِ بے قرار وہ سوگوار ناچار گھر آتی۔ تمام شب کراہ کراہ، سب کو جگاتی اور یہ سُناتی، اُستاد:

حرام نیند کی، اقرارِ وصلِ جاناں نے
الٰہی! کوئی کسی کا اُمیدوار نہ ہو

وہ رات جسے شبِ فُرقت کہتے ہیں، بے چینی سے پہاڑ ہو جاتی؛ تو وہ غم کی ماری سخت گھبراتی، یہ لب پر لاتی، اُستادؔ:

جیسا شبِ عشرت کو فلک! تو نے گھٹایا
کی جلد نہ فرقت کی، ستم گر، سحر ایسی!

ہے ہے! آج نہ صدائے مُرغِ سحر آئی، نہ مُوذِن نے ندائے اللہُ اکبر سُنائی۔ نہ خواب غفلت سے پاسبان کم بخت چونکا اور نیند کی جھونک میں، گھڑیالی بھی گجر کا بجانا بھول گیا۔ جُرأتؔ:

تھے شبِ وصل یہ سب جان کے کھانے والے
آج کیا مر گئے گھڑیال بجانے والے!

شب کو نالہ تھا، دن کو زاری تھی؛ دن رات اُس پر سخت بھاری تھے۔ لوگ کہتے تھے: ملکہ! اللہ کو یاد کرو، کبھی تو دل کو شاد کرو۔ شافی مُطلق تمھارے مرض مُفارقت کو بہ صحتِ وصل بدل کرے؛ اب روزِ وِصال، عنایتِ ذُوالجلال سے قریب ہے؛ تو اُس وقت بہ حسرت یہ کہتی، اُستاد:

شبِ وِصال جو قسمت میں ہے، تو ہووے گی
دُعا کرو، شبِ فرقت تو یہ سحر ہووے

نظم:

مریضِ ہجر کو صحت سے اب تو کام نہیں
رکھو و یا نہ رکھو مرہم اس پہ، ہم سمجھے
کیا جو وعدۂ شب اُس نے، دن پہاڑ ہوا
وہی اُٹھائے مجھے، جس نے مجھ کو قتل کیا
اُٹھایا داغِ گُل، افسوس، تم نے دل پہ سُرورؔ
اگرچہ صبح کو یہ بچ گیا تو شام نہیں
ہمارے زخمِ جُدائی کو اِلتیام نہیں
یہ دیکھیو مری شامت کہ ہوتی شام نہیں
کہ بہتر اس سے مرے خوں کا انتقام نہیں
میں تم سے کہتا تھا، گلشن کو کچھ قیام نہیں

اُستاد:

آخر شبِ وصال کی جا، پیش کی وہی
ہر دن تھا اے فلک مجھے جس رات کا خیال

مُعاملاتِ عشق دیکھیے: وہاں شہ زادے کو غم سے فراغ، کیفیتِ باغ، گُل عذار بغل میں، راحت و آرام؛ یہاں ملکہ آتشِ فراق سے با دلِ پُر داغ، آشُفتہ دماغ، خارِ غم جگر میں گرفتارِ رنج و آلام۔ لیکن دردِ دلِ بے قرار، نالۂ جگر افگار رائگاں نہیں جاتا۔ جب تڑپ بلبل کے دل میں زیادہ ہوتی ہے، موسمِ گُل آتا ہے۔ اسی طرح سُوزِ دلِ عاشق جو حد سے فزوں ہو، معشوق رحم کھاتا ہے۔ بھولا ہو، یاد آئے۔ وگر ہجر میں پھڑک کر مر جائے، مطلوب کو نعش پر لائے، اُس کی بھی جان گنواتا ہے۔ حضرتِ عشق دشمنِ جانِ عاشق و معشوق ہیں، ان کا حال کیا کہیں؛چنانچہ یہ نقل ضربُ المثل ہے اور حقیقت میں اصل ہے۔ چشمِ عبرت بیں اور گوشِ شنوا اس کے دیکھنے اور سُننے کو درکار ہے، نیرنگیٔ عشق کا اظہار ہے۔

 

نقل سوداگر کی بیٹی کی

 

انگریز کا آنا، فریفتہ ہو جانا؛ آخر کو جان دینا دونوں کا

 

کلکتے میں ایک سوداگر تھا عالی شان۔ متاعِ ہر دِیار، تُحفۂ جوار جوار دُکان میں فراواں۔ اُس کی بیٹی تھی حسین، مہر طلعت، ماہ جبیں، سیمیں تن، کافرِ فرنگ، غارت گرِ لندن۔ غرض کہ اور تو اسباب سب طرح کا دُکان میں تھا؛ مگر گھر میں وہ زور رقم، طُرفہ ٹوم تھی۔ فرنگ سے ہند تک اُس کے حُسن کا چرچا تھا۔ روم سے شام تک اور بنبئی سے سورت تک اُس کی صورت کی دھوم تھی۔ اُستاد:

ہے رخنہ سازِ ایماں وہ زادۂ فرنگی
اِسلام اب کہاں ہے؛ عاصی، فرامِشن ہے

ہزاروں انگریز بِرِیز بِرِیز کرتے، اُس پر شیفتہ و بے تاب تھے۔ لاکھوں مسلمان سرگرداں، خستہ و خراب تھے۔ جب ہوا کھانے کو سوار ہو کر آتی تھی؛ راہ میں دو رویہ خلقت کی جان، اُس کی ہوا خواہی میں برباد جاتی تھی۔ گبر و ترسا اُس کا کلمہ پڑھتے تھے، یہود و نصاریٰ اُ س کا دم بھرتے تھے، مسلمان دل و جاں نذر کرتے تھے۔ مُؤلف:

اُس لُعبتِ فرنگ کو دکھلا کے قاشِ دل
کہتا ہوں: چکھو، یہ دلِ بریاں کا توس ہے

اتفاقِ زمانہ، کوئی انگریز لندن سے تازہ وارد ہوا جلیلُ القدر، ذی شان، خوب صورت، نوجوان؛ شورِ عشقِ سودا خیز سر میں، سوز دل میں، مزاج بے شر، بے قراری آب و گِل میں۔ میرؔ:

تھا طرح دار آپ بھی، لیکن
رہ نہ سکتا تھا اچھی صورت بِن

قضارا، وہ آفت کا مارا کچھ اسباب لینے اُس کی کوٹھی میں آیا اور اُس غارت گرِ دین و ایمانِ ہر گبر و مسلماں سے دو چار ہوا۔ عشق گلے کا ہار ہوا۔ دیکھتے ہی متاعِ عقل، اثاثِ ہُوش و حواس گرہ سے کھو بیٹھا۔ دل سے ہاتھ دھو، دمِ نقد جان کو رو بیٹھا۔ اسباب خریدنے گیا تھا، سودا مول لیا۔ اُس نے مُشتری سمجھ، میزانِ محبت میں تُول لیا۔ ہاتھ پاؤں نے سَت، دل نے ہمت ہاری؛ دن دیے لُٹ گیا عشق کا بیپاری۔ جب اور کچھ تدبیر بن نہ آئی، خرید و فروخت کے حیلے میں آمد و رفت بڑھائی۔ پھر تو یہ حال ہوا، جُرأتؔ:

دن میں سو سو بار اب ہم اُن کے گھر جانے لگے
مُنہ چھپانے وہ لگے، ہم اُن پہ مر جانے لگے

سلف سے آج تک عشق چھپا نہیں، مشہور ہے۔ اس مُقدمے میں انسان مجبور ہے۔ میرؔ:

عشقِ بے پردہ جب فسانہ ہوا
مُضطرب کدخُدائے خانہ ہوا

جب یہ امر مُفصل سوداگر کے گوش زد ہوا، بہ پاسِ نام و نشاں خوف ذِلت و رُسوائی کا از حد ہوا۔ پہلے دونوں کو نصیحت کی، پَند کیا؛ پھر سلسلۂ آمد و رفت قطع، دیکھا بھالی کا رخنہ بند کیا۔ اُدھر شُعلۂ عشق نے بھڑک کر تاب و توان و شکیب و تحمل کو ہیزُمِ خُشک کی طرح جلا دیا، عقل کا چراغ بجھا دیا، صبر کا قافلہ لُٹ گیا، دامنِ ضبط ناتواں کے ہاتھ سے چُھٹ گیا، بے چارے صاحب کو چند عرصے میں سلامت نہ رکھا۔ میرؔ:

بستر خاک پر گرا یہ زار
خاطر افگار، خار خار ہوئی
دل نہ سمجھا اور اضطراب کیا
رفتہ رفتہ سخن ہوئے نالے
درد کا گھر ہوا دلِ بیمار
جاں، تمنا کشِ نگار ہوئی
شوق نے کام کو خراب کیا
لگے اُڑنے جگر کے پَر کالے

یہاں تک تپِ مُہاجرت اور دردِ مُفارقت سے حال درہم و برہم ہوا کہ صاحب بہادُر شِکستِ فاش اٹھا کے صاحبِ فِراش ہوا، دل و جگر سینے میں پاش پاش ہوا۔ حِس و حرکت کی طاقت نہ رہی، لینے کے دینے پڑ گئے۔ اُستاد:

مرض یہ پھیل پڑا ہے تپِ جُدائی سے
کہ پیٹھ لگ گئی یاروں کی چارپائی سے

جو جو اُس کے یار، مونِس و غم گُسار تھے؛ نصیحت و پند، قید و بند کرنے لگے۔ عورتوں کی بے وفائی، بُتوں کی سنگ دلی، معشوقوں کی کج ادائی بہت مُشرح سمجھائی؛ سود مند نہ ہوئی، خاطر میں نہ آئی۔ اُن سب میں ایک اُس دشمنِ جاں کا شفیق و غم خوار، وفا شعار تھا؛ کہنے لگا: کیوں جُویائے مرگ ہوا ہے! ظالم، یہ کیا کرتا ہے! اے ناداں، عدوئے دل، بدخواہِ جاں! اِس کا انجام ذِلت ہے۔ حاصل اس کا خفت ہے۔ یہ خیالِ مُحال اپنے دل سے نکال۔ زورقِ زندگانی، سفینۂ نوجوانی دیدہ و دانستہ ورطۂ ہلاکت میں نہ ڈال۔ اپنے کس و کو پر نظر کر۔ للہ دلِ خود رفتہ کو سنبھال۔ تو نے پِسرِ مِجِسٹن کی حِکایت نہیں سُنی کہ اُس پر کیا گُزری! یہ سُن کے، وہ حزیں با دِلِ غمگین پوچھنے لگا: کیونکر ہے؟

 

حالِ خُسراں مآل مجسٹن کے بیٹے کا

 

سفر کو جانا، راہ میں جہازوں کا غرق ہو جانا۔ پھر تختے کے سہارے

سے پہنچنا کنارے پر، فریفتہ ہونا ایک ماہ پارے پر۔

لڑکوں کا پیدا ہونا پھر تفرقہ، اور خفت کا مبتلا ہونا

 

وہ بولا: اسی شہر میں ایک شخص تھا مِجِسٹن نام۔ نہایت اہلِ دَوَل، مُرفّہ حال۔ صاحب علم و فضل، جامع ہر کمال۔ طبیب و ادیبِ بے بدل۔ سخن سنج، لطیفہ گو بر محل۔ کمالات میں یگانہ رُوزگار۔ تجارت میں نامورِ ہر دیار۔ سو سو جہاز ایک ایک بار تجارت کو جاتا تھا۔ نصیب ایسا جاگتا تھا مٹی کو چھوتا، سُونا ہاتھ آتا تھا۔ کسی طرح کا خواہش مند، بجُز فرزندِ ارجُمندنہ تھا۔ دُعا، دوا، خیرات تک بند نہ تھا۔ شب و رُوز اس کا خیال تھا۔ مُدام فرحت میں یہ ملال تھا۔ ہزاروں رنج لا ولدی کے سہتا تھا؛ مگر صابر ایسا تھا کہ خدا کے سوا کسی بندے سےکچھ نہ کہتا تھا۔

خوش قسمتوں کی دُعا جلد قبول ہوتی ہے، تمنائے دل حُصول ہوتی ہے۔ پچھتر برس کے سِن میں اللہ نے بیٹا عنایت کیا حسبِ دِل خواہ، صورت میں غیرتِ ماہ۔ بہت شاداں ہو کے سرگرم پرورش ہوا۔ ایک عالم اُس کی صورت دیکھ کے غش ہوا۔ جب بارہ برس کا سِن ہوا، نشیب و فراز دیکھنے کا دن ہوا؛ بہ سببِ طبعِ رسا و تعلیمِ اُستادانِ با ذَکا جمیع عُلوم، سب فُنون میں یکتائے زمانہ مشہور ہوا۔ ماں کو خوشی، باپ کو سُرور ہوا۔ درس دینے لگا، مطب کرنے لگا؛ اوروں کو تعلیم سب کرنے لگا۔ چودھویں برس باپ سے سفر کی اجازت چاہی کہ تجارت میں کوئی دقیقہ باقی نہ رہ جائے، والدین کو حاصلِ مشقت دکھائے۔ مِجِسٹن نے کہا: اپنا بھی یہی قصد تھا؛ مگر چندے توَقُف کرو، ابھی ناتجربہ کار ہو۔ اُس نے عرض کی: حُضور عُمرِ طبعی کو پہنچے، مُسِن ہیں؛ فدوی کے سیاحت اور سفر کے یہی دن ہیں۔ چاہتا ہوں کہ آپ کے بہ قیدِ حیات سفر کو جاؤں؛ گرم و سردِ زمانہ دیکھوں، جودتِ طبع سب کو دکھاؤں۔

آخر مِجِسٹن نے دس بارہ جہاز پر متاع و مال اور کچھ رفیقِ قدیم کار گُزار، دیانت دار، امانت شعار ہمراہ کر رُخصت کیا۔ نشیب و فرازِ دوراں، نیرنگیٔ جہاں سے آگاہ کر دیا۔ جہاز ایک سمت روانہ ہوئے۔ دو مہینے کے بعد ہوائے جورِ گردوں سے سرنِگوں ہو کے تباہ ہو گئے۔ مِجِسٹن کے بیٹے کا بھی جہاز ڈوب گیا۔ یارانِ ہمراہی عالمِ بقا کو راہی ہوئے، کچھ طعمۂ نِہنگ و ماہی ہوئے۔ یہ ایک تختے پر ڈوبتا تِرتا بہہ چلا۔ حیاتِ مُستعار باقی تھی؛ ساتویں دن ہِرتا پھرتا تختہ کنارے پر لگا۔ غش سے جو افاقہ ہوا؛ آنکھیں کھولیں، سر اُٹھایا، تختے کوگھاٹ پر پایا۔ بہرکیف اُترا۔ کچھ گھانس لا، رسی بنا، وہ تختۂ کشتیٔ شکستہ پتھر سے اٹکا دیا۔ پھر آپ بہ تلاشِ آب و دانہ روانہ ہوا۔ تھوڑی مسافت بہ صد آفت طے کی۔ شہر عظیمُ الشان، بہت آبادان نمود ہوا۔ آہستہ آہستہ، بیٹھتا اُٹھتا شہر میں داخل ہوا۔ وہاں عجیب سانحہ، طُرفہ ماجرا نظر آیا؛ دُکان ہر ایک وا، اشرفی روپے کا ڈھیر جا بہ جا، اسباب سب طرح کا نایاب موجود، مگر آدمی کا پتا مُفقود۔ اس قرینے سے ثابت ہو اکہ عرصے سے یہ بازار جِنسِ بشر سے خالی ہے۔ ویرانِ مطلق ہے، شہر کا وارِث ہے نہ والی ہے۔ پھرتا پھرتا قلعے میں آیا۔ باغ سر سبز، پُر میوہ؛ بیچ میں بنگلا، زربفت کے نفیس پردے پڑے ہوئے، در و دیوار میں جواہر بیش بہا قرینے سے جڑے ہوئے۔ پردہ اُٹھا بنگلے میں گیا۔ پلنگ جواہر نگار گُستردہ، اس پر بہ شکلِ مُردہ ایک شخص دوپٹا تانے، نہ کوئی پائنتی نہ سرھانے، پڑا ہے۔ اس نے دوپٹا جو سرکایا، وہ عورت تھی۔ نیند سے چونک پڑی، سَر اُٹھایا، مُتعجب ہو کے اس کی صورت دیکھی، مُتاسف ہو کے یہ سُنایا کہ اے عزیز! اپنی جوانی پر رحم کر۔ یہ مکان نہیں، سیلِ فنا ہے؛ تو ناآشنا ہے۔ اس سے درگُزر، وگرنہ آفت کا مبتلا ہو گا، خدا جانے ایک دم میں کیا ہو گا! اس نے کہا: ایسا ماجرا کیا ہے، بیان تو کر۔ عورت نے کہا: پہلے تو اپنے یہاں آنے کا حال سُنا کہ کیوں کر آ پھنسا۔ اس نے کہا: ہفتہ گزرا بے دانہ و آب، خستہ و خراب ہوں؛ جو کچھ کھاؤں تو داستان پریشانی کی سُناؤں۔ عورت بولی: مدت کے بعد کھانے کا نام تیرے مُنہ سے سُنا ہے؛ سُو کھانا یہاں کہاں، بجُز غم کھانے کے اور پانی، سوا اشک بہانے کے۔ آنسو پینے کا نام ہے، اس سے نہیں پیتی ہوں اور کھانے کی قِسم سے قسم تک نہیں کھاتی۔ مُتحیر ہوں کیوں کر جیتی ہوں! مگر تنہائی میں ہاں، خوف کھا کے، رُوز دن بھرتی ہوں۔ ہر شب کہ شبِ اولینِ گور ہے، جاں کنی رہتی ہے؛ سخت جانی کی بدولت نہیں مرتی ہوں۔ جُرأتؔ:

یہ غلط کہتے ہیں، بے آب و خُوِرِش جیتے ہیں
لختِ دل کھاتے ہیں اور خونِ جگر پیتے ہیں

تو اس باغ میں جا، جس میوے پر رغبتِ خاطر ہو، کھا۔ مِجِسٹن کے بیٹے نے جا کے میوہ کھایا، نہر سے پانی پیا۔ گونہ رنجِ فاقہ کشی سے اِفاقہ ہوا۔ پھر عورت کے پاس بنگلے میں آ کے حسب و نسب اپنا اور باعِثِ سفر، جہاز کی تباہی کی مُفصل سرگذشت سُنائی۔ پھر اُس کا ماجرا پوچھا۔ وہ بولی: اے شخص! اس شہر بے چراغ کی میں شہ زادی ہوں۔ باپ میرا اس ملک کا حاکم تھا۔ چھوٹا بڑا یہاں کا شاد و خرم تھا۔ باپ جو تاج دار تھا، مجھ کو مشغلۂ سیر و شکار تھا۔ ایک روز لبِ دریا مصروفِ تماشا بیٹھی تھی، دفعتاً ایک سانپ پانی سے نکل کے میری طرف بڑھا۔ میں نے اُس کو تیر مارا۔ معلوم نہیں لگا یا خطا کر گیا۔ پھر جو دیکھا تو اژدہائے مُہیب بہ شکلِ عجیب جھپٹا آتا ہے۔ میں تو ڈر، گھوڑے پر چڑھ کر بھاگی۔ جو جو ہمراہِ رکاب تھے، طُعمۂ دہنِ مارِ خوں خوار ہوئے۔ کہاں تک بیان کروں؛ ساکنانِ شہر مع بادشاہ، انسان تا حیوان، کوئی نہ بچا، سب ہلاک ہوئے، تہِ خاک ہوئے؛ فقط میں سخت جان باقی ہوں۔ اور یہ صحبت ہے کہ قریبِ شام وہ مارِ خوں آشام آ کر اس بنگلے کے نیچے بیٹھتا ہے؛ دو گھڑی کے بعد غائب ہو جاتا ہے۔ مجھ پر جب بھوک پیاس کا غلبہ ہوتا ہے؛ اسی باغ سے میوہ کھا، پانی پیتی ہوں، اس خرابی سے جیتی ہوں۔ کوئی غم خوار بجُز ذاتِ پروردگار نہ تھا، جس کو حالِ زار سُناتی۔ اِتنے دنوں میں آج تجھے دیکھا؛ خوفِ خُدا آیا، مُطلع کر دیا۔

پِسر مِجِسٹن نے کہا: خاطِرِ پریشاں جمع رکھ؛ اگر فضلِ الٰہی مددگار ہے تو جلد اُس کو فی النار کر، تجھ کو اس آفت سے نجات دیتا ہوں۔ یہ کہہ کے، جس جگہ سانپ کے بیٹھنے کی جگہ عورت نے بتائی تھی، وہاں گڑھا کُھود اور قلعے سے باروت لا کر دور تک نقب سی بنا، باروت اُس میں چھڑک دی۔ پھر گھانس ہری اُس پر جمائی۔ شہ زادی نے کہا: اب وہ آتا ہی ہو گا۔ یہ جا کے سرِ نقب پوشیدہ ہو کر بیٹھ رہا؛ کہ دفعتاً وہ افعیٔ پُر زہر، خدا کا قہر آیا اور اپنی جگہ پر اُس سبز قدم نے فرشِ زمُردیں پایا؛ بہت خوش ہو کر بیٹھا۔ یہ تو تاک میں تھا؛ پتھر سے آگ نکال، اُس نقب میں ڈال دی۔ فوراً ایک دھماکا پیدا ہو، وہ ٹکڑا زمین کا مع سانپ آسمان پر پہنچا۔ دونوں نے شُکر کا سجدہ بہ درگاہِ دافِعُ البلیات کیا۔ باہم بے اندیشہ و غم رہنے لگے۔ سات برس دونوں ساتھ رہے۔ اس عرصے میں دو لڑکے بھی پیدا ہوئے۔ ایک دن رنجِ تنہائی کی شہ زادی نے شکایت کی کہ اکیلے طبیعت نہیں لگتی۔ سعدیؔ:

بہارِ عُمر، ملاقاتِ دوستدارانست
چہ حظ بَرَد خِضر از عُمرِ جاوِداں تنہا

کب تک تنہائی میں بسر کریں، شامِ غم انجام رو رو سحر کریں۔ کوئی ترکیب ایسی نکالو کہ پھر یہ ویران شہر آباد ہو، خاطِرِ غمگین شاد ہو۔ وہ بولا: اگر وطن جاؤں اور مِجِسٹن کو یہاں لاؤں، تو یہ بستی بسے۔ عورت نے کہا: اکیلی میں کیوں کر بسر کروں گی، میں بھی ساتھ چلوں گی۔ آخرشِ، ایک ایک لڑکا دونوں گود میں لے کے چل نکلے۔

قضارا، وہاں پہنچے جہاں تختہ بندھا تھا؛ ذِہن میں آیا: پیادہ پا لڑکوں کا لے چلنا مُحال ہے، یہ بے جا خیال ہے، توکلتُ علی اللہ کہہ کے اسی تختے پر سوار ہو، رسی کھول دو؛ کہیں تو جا نکلو گے۔ یہ سوچ کر دونوں سوار ہوئے۔ وہ تختہ کھولنے لگا، شہ زادی نے کہا: مال و اسباب تو اس قدر ہے کہ بیان میں زبان قاصر ہے؛ مگر ایک ناریل اکسیر سے بھرا ہے، دولتِ لا انتہا ہے، رتی باون تولے کا تجربہ ہو چکا ہے۔ بہت تردُد سے ظِلِّ سبحانی نے پایا تھا، سب سے چھپایا تھا؛ جو تو اجازت دے تو اُسے لے آؤں۔  مصر؏:

بدوزد طمع دیدۂ ہوشمند

مِجِسٹن کے بیٹے نے کہا: اچھا۔ وہ تختہ کچھ کُھلا کچھ بندھا، یوں ہی رہا۔ شہ زادی لڑکا لیے اُتری۔ اس کے اُترتے ہی ایسی تُند ہوا چلی کہ رسی، تکان سے ٹوٹ گئی؛ تختہ بہہ چلا۔ ہر چند اس نے ہاتھ پاؤں مارے، وہ ساحلِ مطلب سے کنارے ہوا۔ کنارے پر شہ زادی بہ حالِ خراب، دریا میں وہ بادلِ کباب بہہ نکلا۔ دل سے کہتا تھا: دیکھیے، مرضیٔ ناخُدائے کشتیٔ بادباں شکستہ کیا ہے! یہ جھونکا ہوائے قومِ ثمود، عاد کا ہے۔ اس سوچ میں چلا جاتا تھا کہ ایک جہاز نمود ہوا۔ اہل جہاز نے جو دیکھا: تختے پر کوئی جوان گود میں لڑکا نادان لیے بہا جاتا ہے؛ رحم کھا، پنسوہی کو دوڑا جہاز پر لیا۔ اتفاقِ زمانہ، مالکِ جہاز مِجِسٹن کا دوست و دم ساز تھا؛ اُس کو پہچانا، بہت تعظیم تکریم سے پیش آیا۔

برس رُوز میں جہاز کلکتے میں داخل ہوا۔ جہاز کا حاکم مجسٹن کی ملاقات کو آیا، بچھڑے بیٹے کو باپ سے ملایا۔ یہاں جس دن سے جہاز کی تباہی مِجِسٹن نے سُن پائی تھی، محیطِ رنج و الم، غریق لُجّۂ غم تھا۔ بارے، بیٹے کو دیکھ کر سجدہ بہ درگاہِ باری کیا، پوتا گھاتے میں مِلا، اور کلمات شکریہ اُس سے کرنے لگا۔ اُس نے کہا: بندہ پرور! خیر ہے، دُنیا اسی کا نام ہے۔ جس کا کام جس سے نکلے، وہ فخر و سعادت سمجھے۔

بعد چند روز مِجِسٹن نے بیٹے سے رودادِ سفر پوچھی۔ اُس نے ابتدا سے انتہا تک حکایت، فلک کج رفتار کی شکایت بیان کی۔ وہ یہ سُن کر سمجھا: مشکل پیچ پڑا؛ مگر سہل انگاری سے یہ جواب دیا کہ الخیر في مَــا وَقَــــعَ خیریت اسی میں تھی جو ہوا۔ مصر؏

بر سرِ فرزندِ آدم ہرچہ آید، بگذرد

مگر یہ مقدمہ اور بیان “سرودبمستاں” ہُوا، بیٹے نے کہا: مناسب یہ ہے کہ اب جلد چلیے۔ ایسا مُلکِ مالا مال، یہ دولتِ لازوال ہاتھ سے نہ دیجیے، نصیبِ دُشمناں نہ کیجیے۔ مِجِسٹن نے کہا: خیر ہے باباجان! کیسا آنا، کیسا جانا! یہ بھی ایک فسانہ تھا جو تم نے کہا، ہم نے سُنا؛ اور وہ بھی خوابِ پریشاں تھا جو تو نے دیکھا۔ اس کو یاد رکھ، لا اعلم:

ایامِ وِصال و صحبت سیم تناں
در عالمِ خواب اِحتلامے شد و رفت

بیٹے نے جواب دیا: آپ سا عقل مند ایسا کلمہ فرمائے تو نہایت بعید ہے۔ دُنیا میں تین معرکے ہیں: زر، زمین، زن؛ یہ سامان جمع ہیں؛ اگر آپ نہ جائیں گے، فِدوی تنہا جائے گا، پھر نہ آئے گا۔ مِجِسٹن نے کہا: افسوس! ہم تجھے دانا جانتے تھے؛ اِلّا، ہماری نادانی تھی۔ حُمُق کی مُقتضی تمہاری نوجوانی تھی۔ اے بھائی! کوئی نادان سے نادان عورت کی بات کا دھیان نہیں کرتا۔ یہ باتیں جب تک تھیں، جو تم اور وہ باہم تھے۔ وہ مونس تھی، تم ہم دم تھے۔ اب خیریت ہے۔ سعدیؔ:

زن دوست بود، ولے زمانے
چوں در برِ دیگرے نشیند
تا جُز تو نیافت مہربانے
خواہد کہ ترا دگر نہ بیند

مصر؏:

اسپ و زن و شمشیرِ وفادار کہ دید

ہر چند اُس نے سر پھرایا، مغز خالی کیا، یہ مُقدمہ اُس پر حالی کیا؛ وہ بے مغز نہ سمجھا۔ مصحفی:

مصحفی! سود نصیحت کا نہیں عاشق کو
میں نہ سمجھوں تو بھلا کیا کوئی سمجھائے مجھے

ناچار مِجِسٹن نے کہا: تم جب تک ذلت نہ اُٹھاؤ گے اور ہمیں خراب نہ کروگے؛ اس حرکتِ بے جا سے باز نہ آؤ گے، نہ چین لو گے۔ اُسی دن مِجِسٹن سامانِ سفر درست کر، ساٹھ جہاز مع اسباب اور چند مُشیر خوش تدبیر ہمراہ لے کر روانہ ہوا۔ عقل کے دشمن بیٹے کو ساتھ لیا۔ چند روز میں ہوا جو مُوافق تھی، وہ جزیرہ ملا۔ جہازوں کو لنگر ہوا۔ مِجِسٹن کا بیٹا اُترا۔ مگر جہاں ویرانہ، بوم و غول کا آشیانہ تھا، وہاں بستی دیکھی۔ اور جس جگہ بیہڑ تھا، اُسے ہموار پایا، بلندی نظر آئی، نہ پستی دیکھی۔ دشت مُصفیٰ، آدمی ہر سمت سرگرمِ کاروبار، شہر پناہ تیار۔ اسے تعجب ہوا، سمجھا کہ میں بھول گیا۔ کسی سے پوچھا: اس شہر کا نام کیا ہے؟ والی مُلک کون سا ہے؟ وہ بُولا: مدت سے یہ مُلک بہ سببِ آفتِ آسمانی اُجاڑ ہو گیا تھا۔ رِعایا برایا، بلکہ بادشاہ بھی نہ بچا تھا، فقط بادشاہ کی بیٹی باقی تھی۔ اب برس دن سے اُس نے شوہر کیا ہے۔ شہر از سرِ نو آباد ہوا، نیا طرز ایجاد ہوا۔ زمین یہاں کی زر رِیز، چشمے سرد و شیریں، ہوا فرحت انگیز، ٹھنڈی ہے۔ عورت نے بسایا ہے۔ اس باعث سے نام اس کا شہزادی منڈی ہے۔

مِجِسٹن نے یہ ماجرا سُن کر بیٹے سے کہا: خوش تو بہت ہوئے ہو گے!لو سیدھے پِھر چلو، یہاں نہ ٹھہرو۔ اُس نے کہا: اتنی سفر کی صُعوبت اُٹھائی، اُس کی صورت بھی نظر نہ آئی۔ دو باتیں کر لوں تو پھر چلوں۔ مِجِسٹن نے کہا: یہ مصیبت کچھ نہ تھی، جو بات کرنے میں ایذا اُٹھے گی۔ وہ کسی کی کب مانتا تھا، عورت کو اپنے اوپر فریفتہ جانتا تھا؛ انھیں لوگوں سے پھر پوچھا: شہ زادی کبھی سوار بھی ہوتی ہے؟ کسی سے دوچار بھی ہوتی ہے؟ وہ بولے: روز ہر گلی کوچے میں آتی ہے، دیکھ بھال کے چلی جاتی ہے۔ غرض کہ سواری کا وقت دریافت کر، لڑکے کا ہاتھ پکڑ کے سرِ راہ جا کھڑا ہوا؛ کہ شہ زادی شبدِیز کو مہمیز کرتی آ پہنچی۔ یہ پُکارا: ہم نے ایفائے وعدہ کیا، حاضر ہوئے، آئے اور لڑکا بھی فضلِ الٰہی سے سلامت موجود ہے، ساتھ لائے؛ کیا ارشاد ہوتا ہے؟ اُس نے بے گانہ وار، جیسے کسی اجنبی کو کوئی دیکھتا ہے، گھورا؛ مگر جواب کچھ نہ دیا، چلی گئی۔ یہ خفیف گھر پھرا۔

مِجِسٹن نے حال پوچھا، کیا گزری؟ یہ بولو: ملاقات نہ ہوئی، کل پھر جاؤں گا۔ اُس نے کہا: صُبح کا جانا؛ رُوزِ سیاہ، شامِ غم دکھائے گا؛ بُھور ہو جائے گی، بہت پچھتائے گا۔ اُس نے نہ مانا۔ دوسرے رُوز بیٹے کو سکھایا کہ جب سواری قریب آئے، گھوڑے سے لِپٹ جانا اور یہ زبان پرلانا کہ دُنیا کا لہو سفید ہو گیا۔ مہرِ مادری سے محبتِ پدری میں لطف زیادہ پایا کہ ہمیں ساتھ بہ آرامِ تمام لیے پھرتا ہے؛ تم بات بھی نہیں پوچھتی ہو، بلکہ پہچانتی نہیں۔ جس دم سواری قریب آئی؛ یہ تو بہت جلا تھا اور سمجھ چکا تھا کہ کھیل بگڑ گیا، کہا: شہ زادی! بات کو روکو، شیروں کا نعرہ سُن لو۔ وہ خود تو رُکی تھی، باگ بھی خود بہ خود رک گئی۔ پسرِ مِجِسٹن نے اور تو کچھ نہ کیا، یہ مُسدس شروع کیا، مُؤلف:

یاد ایام، کہ نفرت تھی زمانے سے تجھے
خوف آتا تھا کہیں آنے سے جانے سے تجھے
ہوتی وحشت تھی بہت غیر کے آنے سے تجھے
مکر تھا یاد، خبر تھی نہ بہانے سے تجھے
بے دھڑک غیر سے باتوں کا کبھی طور نہ تھا
ہمیں ہم تھے، تری صحبت میں کوئی اور نہ تھا
کبھی چوٹی کی خبر تھی نہ تھا کنگھی کا خیال
پان کے لاکھے سے اور مسّی سے ہوتا تھا ملال
بارہا اُلجھے ہی رہتے تھے ترے سلجھے بال
مجھ کو افسوس یہ آتا ہے کہ گُزرا نہیں سال
ایسی کیا بات تیرے دل میں سمائی ظالم!
دفعتاً سب وہ رہ و رسم بھلائی ظالم!
تھی لگاوٹ ہی تجھے یاد نہ خُلطا سب سے
بیٹھنا کونے میں ہر دم تجھے تنہا سب سے
گرم جوشی کا بھلا کب تھا یہ لپکا سب سے
تجھ کو لگ چلتے کبھی ہم نے نہ دیکھا سب سے
اب تو ٹٹی میں کیا چھید، غضب تو نے کیا
کُھل گیا سب پہ ترا بھید، غضب تو نے کیا
شکر صد شکر، ہوئی جلد رہائی تجھ سے
وضع اپنی نہیں، کیا کیجے بُرائی تجھ سے
اب تو تا حشر مکدر ہے صفائی تجھ سے
نہ ملیں پر، جو کہے ساری خُدائی تجھ سے
بہ خُدا، ملنے سے ہم ہاتھ ترے دھو بیٹھے
اُٹھو بس جاؤ، تمھیں کُھول کے دل رو بیٹھے
سوچ اکثر ہے مگر دل یہ ہمارا کرتا
ایسا بدنام تو وہ بھی نہ بچارا کرتا
گرچہ حیوان سے تو ربط گوارا کرتا
بحرِ اُلفت سے نہ اس طرح کنارا کرتا
مُفت لی پیارے! زمانے کی بُرائی ہم نے
سخت اوقات یہ بیہودہ گنوائی ہم نے
اب قسم کھاتا ہوں لو، دل نہ لگاؤں گا کبھی
گر طرح دار بھی اس دہر میں پاؤں گا کبھی
ذلت و رنج نہ اس طرح اُٹھاؤں گا کبھی
اُٹھ کھڑا ہوں گا، نہ میں پاس بٹھاؤں گا کبھی
موسم اب دل کے لگانے ہی کا، جانا، نہ رہا
ربط کیا خاک کریں ہم، وہ زمانا نہ رہا
بر زباں یاروں کے یہ ذکر رہے گا ہر بار
دیکھ بد وضع، کیا دیکھیے ایسا انکار
گو کہ عاشق تھا، مگر تھا یہ بڑا غیرت دار
سر پٹک مر گئے سب، پر نہ ملا وہ زنہار
کرے معشوق کسی سے تو دغا ایسی کرے
پچ کرے بات کی عاشق، تو بھلا ایسی کرے

یہ سُن کر وہ شرمندہ ہوئی۔ پھر لڑکا گھوڑے سے لپٹا۔ یہ بے چارہ نادان، اُن باتوں کا سود و زیاں کچھ نہ سمجھا؛ جو کچھ باپ نے سکھایا تھا، کہنے لگا۔ جب کہہ چُکا؛ شہ زادی نے تپنچہ قُبور سے کھینچ لڑکے پر جھونک دیا۔ دھم سے گر پڑا؛ دایۂ اجل نے کنارِ عاطفت میں اُٹھا، اہل قُبور سے ملا دیا۔ پھر باگ اُٹھا چل نکلی۔ مِجِسٹن کے بیٹے نے بہت خاک اُڑائی،بیٹے کی لاش باپ کو دکھائی۔ اُس نے کہا: ہماری بات جو سُنتا تو کیوں سر دُھنتا! وہ بدنصیب دشمنِ عقل بولا: صبح اختتام ہے؛ جو ہونا ہے، ہو جائے گا۔ مِجِسٹن نے کہا: تو اپنا بھی حال ایسا ہی بنائے گا۔ دمِ سحر جب وہ چلا؛ مِجِسٹن کا جی نہ رہ سکا، ساتھ ہوا۔ جس دم شہ زادی کی سواری پاس آئی، باگ پکڑ لی۔ ہنُوز زبان نہ ہلائی تھی، شہ زادی نے کہا: اے مِجِسٹن! ہم نے سُنا تھا کہ تو مردِ جہاں دیدہ، سرد و گرمِ روزگار چشیدہ، تجربہ رسیدہ ہے؛ مگر افسوس! بہ ایں ریش و فش پیرِ نابالغ ہے۔ تو نے سُنا نہیں، لا اعلم:

زحادثاتِ جہاں بس ہمیں پسند آمد
کہ خوب وزِشت، بد و نیک در گُذر دیدم

اس پیرانہ سالی میں تجھ پر ہزار سانحے گزرے ہوں گے؛ کچھ الم و رنج کا مزہ، یا فرحت و خوشی کا نشہ باقی ہے؟ اے ناداں! دُنیائے دوں کے مُعاملے بو قلموں ہیں۔ کس کس بات کو یاد کیجیے۔ کس کا غم، کس بات سے خاطر شاد کیجیے۔ اگر عقلِ رسایا یا کچھ فہم و ذکا ہو، تو دُنیا میں کافی ہے یہ بات: گُذشتہ را صلوات۔ مصحفی:

اے مصحفی! میں روؤں کیا پچھلی صُحبتوں کو
بن بن کے کھیل ایسے لاکھوں بگڑ گئے ہیں

یہ کہہ کر گھوڑا چُھچکارا کہ پھر سلسلہ جُنبانی اس امرِ بے معنی کی موجب مضرتِ جاں جاننا۔ مِجِسٹن نے بیٹے کو سلام کیا اور نہ کچھ کلام کیا۔ وہ بھی نُطفہ ضعیف کا پیدا، بوڑھے باپ کا بیٹا؛ محجوب وطن پھرا، جیتے جی باپ سے آنکھ چار نہ کی۔

یہ جُملہ اُس انگریز نے تمام کر کے کہا: مطلب اس سمع خراشی سے یہ ہے کہ آدمی وہ بات نہ کرے جس کا حُصول ذلت و خفت ہو۔ کہو اب کیا کہتے ہو؟ یہ قصہ سُن کر وہ فرہادِ بیسُتونِ عشق شیریں زبانی سے یہ کہنے لگا: یہ سب میں سُنا مگر بہ قولِ اُستاد:

کب تلک جیوں گا میں، موت اک دن آنی ہے
ہجر میں جو آ جاوے، عین مہربانی ہے

سب جلسہ سر پٹک کر اُٹھ کھڑا ہوا، کہا: جب یہ جان گنوائے گا، تب جھگڑا جائے گا۔ آخِر کار جب اُس کا حال رَدی ہوا؛ دوستوں کو چٹھیاں لکھ کر جمع کیا، کہا: دُنیا مقامِ گُذراں ہے۔ جو ہے، روَاں دوَاں ہے۔ کل اِس مَقام سے ہمارا کوچ ہے۔ یہ سَرا، سَراسَر پُوچ ہے۔ اگر ہماری وَصیت بجا لاؤ گے؛ دُنیا میں نام، حَشْر کو بہ خیر انجام ہو گا۔ سب نے اِقرار کیا کہ سَرِ مو اِس میں کمی بیشی نہ ہو گی، مطلق عاقبت اندیشی نہ ہو گی، جو جی میں ہو شوق سے کہو۔ اُس نے کہا: بعدِ اِنتِقال ہمارا جنازہ تکلُّف کا بنا کر بَجرے کی چھت پر صندوقِ نَعْش دھر، باجے بجاتے؛ ہمارے معشوق کی کوٹھی جو لبِ دریا ہے، دارِ فنا ہے، اُس کے نیچے سے لے جانا۔ اور دل میں یہ کہتا تھا، استاد:

ساتھ وہ میرے جنازے کے لَحَد تک آئے
اے اَجَل! تیرا قدم مجھ کو مبارک ہووے

قصہ مختصر، اُسی شب کو تڑپ کر اُس مریضِ فرقت کا ہجر میں وصال ہوا، سرائے فانی سے انتقال ہوا۔ گویاؔ:

مرنے کو بھی لوگ کہتے ہیں وصال
یہ اگر سچ ہے تو مر جاتے ہیں ہم

مُؤلف:

مر کے حاصل کیا فرقت ہی میں لو نامِ وصال
جان دی ہم نے، مٹایا ہے خلش ہجراں کا

صبح کو یہ خبر عام ہوئی کہ سوداگر بچی کے عاشقِ محروم، ناکام کا کام تمام ہوا،مر گیا۔شُدہ شُدہ سوداگر کو اور اُس ماہ پیکر کو یہ حال معلوم ہوا۔ جذبِ محبت سے حال تغییر ہوا، مگر ضبط سے کام لیا، دلِ بے قرار کو تھام لیا۔ انگریز جمع ہو، بہ صد پریشانی وصیت بجا لائے۔ جنازہ درست کر، بجرے کی چھت پر دھر؛ لباس سب نے سیاہ کیا، نالہ و فریاد کر کے حال تباہ کیا۔ سر ننگے، غُل مچاتے، باجے بجاتے چلے۔ عجب سانحہ تھا کہ ہزارہا زن و مرد کنارے کنارےگریاں چلا آتا تھا۔ صندوقِ نعش کی طرف دیکھا نہ جاتا تھا۔ اُسی دن سے آج تک اندوہ میں دریا دریا اشک بحرِ عُماں کی چشم سے رواں ہے۔ مثلِ سیماب بے قرارانہ دواں ہے۔ اور جسے احباب حباب کہتے ہیں؛ یہ فرطِ قلق سے ہر مُحیط کی چھاتی میں پھپولا پڑتا ہے اور پھوٹتا ہے،، موجوں سے تلاطُم نہیں چھوٹتا ہے۔ ماہیانِ بحر کا خنجرِ الم سے حنجر یعنی گلا زخم دار ہے، سِنانِ غم سینے کے پار ہے۔ ساکنانِ دریا کو بس کہ شمشیرِ عشق کا خوف و خطر ہے، اس ڈر سے ہر سنگ پُشت کی پُشت پر سپر ہے۔

جس وقت اس حالِ خراب سے جنازہ اُس کی کوٹھی تلے آیا اور فرنگیوں نے شُور و غُل زیادہ مچایا؛ اُس زندۂ جاوید نے بہ آوازِ بلند سُنایا، اُستاد:

اے فلک! آخری پھیرا ہے، نہ ہو تجھ سے گر اور
اُس کے کوچے میں جنازہ مرا سنگین تو ہو

اُس وقت وہ ماہ سیما کشش دل اور تپشِ مُتصِل سے مُطلع ہو؛ دیوانہ واربے قرار کُوٹھے پر چڑھی اور بے تابانہ پوچھا کہ یہ لاشِ دل خراش کس جگر پاش پاش کی ہے کہ حاجِبانِ بارگاہِ عشق سے صدا “دور باش دور باش” کی ہے۔ وہ سب بولے: عجب ماجرا ہے! یہ کشتہ تمھارا ہے۔ رنجِ مُفارقت نے آپ کے اسے بے اجل مارا ہے۔ افسوس کہ اس بے کس نے جان دی اور تم کو مُطلق خبر نہ ہوئی! اور کسی شخص نے عمداً اُسے سُنا کر یہ شعر پڑھا، جُرأتؔ:

مُکر جانے کا قاتل نے نرالا ڈھب نکالا ہے
سبھوں سے پوچھتا ہے: کس نے اس کو مار ڈالا ہے؟

یہ باتیں سُن کر، سر دُھن کر؛ دفعتاً نعرۂ جاں سُوز، آہِ دل دُوز سینۂ بریاں سے کھینچ، آتشِ غیرت میں بھن کر کود پڑی۔ عشق کا نشانہ دیکھیے: صندوقِ نعش پر گِر، ٹکڑے ٹکڑے مثلِ جگرِ عاشقِ زار ہو، خوابِ مرگ میں سو، بختِ خُفتۂ عاشق جگایا؛ کشش محبت نے اس طرح بچھڑوں کو ملایا۔ دیکھنے والے تھرا گئے، دل گُدازُوں کو غش آ گئے۔ شہر میں یہ چرچا گھر گھر ہوا، منزلوں یہ اخبار مشتہر ہوا۔ اُس کے ماں باپ نے بہت سی خاک سر پر اُڑا، دونوں کو پیوندِ زمیں کیا۔ اس عشقِ فتنہ انگیز نے کیا کیا نہیں کیا! تہِ خاک ہجر کے ماروں کو، بے قراروں کو قرار آیا۔ ہزارہا شخص دیکھنے کو سرِ مزار آیا، مطابق قولِ میر تقی:

حیرتِ کارِ عشق سے، مردُم
کام میں اپنے عشق پکا ہے
جس کے ہو التفات اُس کی، نصیب
ایسی تقریب ڈھونڈھ لاتا ہے
کون محروم وصل یاں سے گیا
اپنی قدرت جہاں دکھاتا ہے
شکلِ تصویر، آپ میں تھے گُم
ہاں، یہ نیرنگ ساز یکا ہے
ہے وہ مہمانِ چند روز، غریب
کہ وہ ناچار جی سے جاتا ہے
کہ نہ یار اُس کا اِس جہاں سے گیا
اس سے جو کچھ کہو سو آتا ہے

پھر یہاں سے خامۂ مصیبت نگار حالِ ملکۂ زار لکھتا ہے کہ آخر جی بتنگ ہُوا، تپِ دوری سے یہ ڈھنگ ہوا، اُستاد:

لگے زمین پر اب سب اُتارنے ہم کو
فراق میں ترے، بن موت اب تو مارا ہے
جب اپنا، آہ، دمِ نزع کنٹھ بیٹھ گیا
یہ دن دکھائے ترے انتظار نے ہم کو
تڑپ تڑپ کے، دلِ بے قرار نے ہم کو
تم آئے بالیں پر اُس دم پکارنے ہم کو

صبح سے تا شام ٹکٹکی جانب در و دستِ تاسُف بر سر اور دیوانوں کی طرح یہ کلمہ زبان پر، اُستاد:

زبس کہ رہتا ہے آنے کا اُس کے دھیان لگا
صدائے در پہ ہے در پردہ اپنا کان لگا
بہ یادِ زُلف، نہ تا دودِ آہ سب پہ کُھلے
میں مُنہ پر اس لیے رہتا ہوں پیچوان لگا
ہزار خار ہو ئے تجھ سے، عندلیب! یہاں
یہ بے ثبات چمن ہے، نہ آشیان لگا

آخر کثرتِ انتظار سے نظر کمی کرنے لگی اور جانِ زار، تڑپنے سے دلِ بے قرار کے، برہمی کرنے لگی۔ یہ نوبت ہوئی، شعر:

گئے دن ٹکٹکی کے باندھنے کے
اب آنکھیں رہتی ہیں دو دو پہر بند

اُس وقت کشش محبتِ ملکۂ مہر نگار نے جانِ عالم کے دل کو بے چین کیا، خیال آیا کہ خُدا جانے صدمۂ فُرقت سے اُس کا کیا حال ہو گا! دل نے کہا: جینا وبال ہو گا۔ گھبرا کر دست پاچہ ہوا، عیش و نشاط بھولا؛ یہ تازہ گُل پھولا۔ انجمن آرا سے کہا: زیادہ طاقتِ مُفارقتِ احباب دلِ بے تاب کو، اور گوارا دوریٔ وطن مجھ خستہ تن کو نہیں؛ آج بادشاہ سے رُخصت خواہ ہوں گا۔ وہ بہ ہر حال اطاعت اور رضا اس کی جمیع اُمور پر مُقدم جانتی تھی، کہا: مجھے بھی تمنائے سیرِ کُوہ و بیاباں، بے بیاں ہے۔

شہ زادہ مُوافقِ معمول دربار میں آیا اور سلسلۂ سُخن بہ طلبِ رُخصتِ وطن کھول کے، عزمِ بالجزم سُنایا۔ بادشاہ محزون و غم ناک ہو فرمانے لگا: یہ کیا کہا، جو کلیجا مُنہ کو آنے لگا! جانِ من! تابِ جُدائی نہیں، رُخصتِ بادیہ پیمائی نہیں۔ اگر خواہش سیر ہے، تو فِضا اس نواح کی جا بہ جا مشہور ہے۔ خزانہ موجود، فوج فرماں بردار، مُلک حاضر، میری جان نثار؛ اگر منظور ہے۔ حکمِ سفر، اجازتِ دوری بہت دور ہے۔

جانِ عالم نے دست بستہ عرض کی: اے شہر یارِ باوقار، پُر تمکین! برس دِن میں حُضور کو مجھ غمگیں سے یہ محبت ہوئی کہ مال، مُلک، سلطنت، بلکہ جان تک دریغ نہیں؛ وائے بر حالِ مادر و پدرِ سُوختہ جگر! جنھوں نے لاکھ منتوں، کرو رمُرادوں سے، دن کو دن نہ رات کو رات جان کر، سُولہ سترہ برس دُنیا کی خاک چھان کر مجھ کو پالا۔ شومیٔ طالع، ولولۂ طبیعت نے گھر سے نکالا۔ اب مُدتِ مَدید، عرصہ بعید گُزرا؛ انھیں میرے جینے مرنے کا حال معلوم نہیں۔ اُن کے صدمے کو غور کیجیے، رُخصت بہ ہر طور کیجیے۔ آدمیت سے بعید ہے: آپ عیش و نشاط کرے، ماں باپ کو رنج و تعب میں چُھوڑ دے، سر رشتۂ اطاعتِ والدین توڑ دے۔ اُمید وار ہوں اِس امر میں حُضور کد نہ کریں، بہ کُشادہ پیشانی اجازتِ وطن دیں۔ اگر حیاتِ مُستعار، زیستِ نا پائیدار باقی ہے؛ پھر شرفِ آستاں بُوس حاصل کروں گا؛ نہیں تو اس فکر میں گُھٹ گُھٹ کر مروں گا۔ دین برباد ہو گا، دُنیا میں عزت و آبرو نہ رہے گی۔ خدا ناخوش ہو گا؛ خلقت تن پرور، راحت طلب کہے گی۔

بادشاہ سمجھا یہ اب نہ رُکے گا، آنسو آنکھوں میں بھر کر کہا: خیر بابا! مرضیٔ خُدا، جو تیری رضا؛ مگر تیاریٔ سامانِ سفر کو، چالیس دن کی مہلت چاہیے۔ جانِ عالم نے یہ بات قبول کی۔ یہ تو رُخصت ہو کر گھر آیا، خبر داروں نے اس حال کا خاص و عام میں چرچا مچایا۔ خُلاصہ یہ کہ شُدہ شُدہ غُلغُلہ گھر گھر ہوا۔ خُرد و کلاں، بوڑھا اور جوان شہر کا اس خبر سے باخبر ہوا۔

 

عزمِ وطن شاہ زادۂ جانِ عالم کا

 

حال بادشاہ کے رنج و غم کا۔ تیاریٔ سامانِ سفر بہ صد کرّ و فر۔

بادشاہ کا دور سے نظارہ، ترقیٔ اندوہ سے گریبانِ

صبر پارہ پارہ۔ اہلِ شہر کی گریہ و زاری، آمدِ سواری

 

نظم:

چل اے توسنِ خامہ چالاک و چُست
جگہ بیٹھ رہنے کی دُنیا نہیں
سفر ہر نفس سب کو رہتا ہے یاں
نہ بیٹھا کبھی جم کے اک جا سُرورؔ
کہ اب بیٹھے بیٹھے، بہت جی ہے سست
یہاں خاک بیٹھے کوئی دل حزیں
سرائے فنا بھی عجب ہے مکاں
قریبوں سے اپنے رہا دور دور

طے کُنندگانِ مُلکِ معانی و سیاحانِ اقلیمِ خوش بیانی؛ بادیہ پیمایانِ بے تُوشہ، بارِ محبت بر سر؛ راہ نوردانِ ہُوش باختہ، بے راہ بر؛ یادِ دل دار در دل، دین و دُنیا فرامُوش؛ الم ہمراہ، ہر گام نالہ و آہ، تصوُرِ یار ہم آغُوش لکھتے ہیں کہ اُس عازمِ سمتِ معشوقِ عاشق خصال کو چلہ وہیں گزرا، سامانِ سفر تیار ہوا، اب صُبح کو اُس چلہ نشینِ حُجرۂ محبت کی رُخصت ٹھہری۔ سرِ شام بادلِ ناکام، بادشاہ دامنِ سحر کی صورت گرِیبان چاک کر، مع ارکانِ سلطنت دو کوس شہر سے باہر سرِ راہ دامنِ کُوہ پر جا بیٹھا۔ وزیرِ خوش تدبیر سے فرمایا: تم شہ زادے کو رُخصت کرو؛ ہم یہاں سے جُلوسِ سواری، سامان سفر دیکھ لیں گے۔

یہ خبر اہلِ شہر کو معلوم ہوئی۔ تمام خلقت، پانچ برس کا لڑکا، پچانوے برس کا بوڑھا، رنڈی، مرد؛ دوسرے ٹیکرے پر جمع ہوا۔ جُھٹپُٹے وقت جانِ عالم نے سواری طلب کی۔ ہر کاروں نے حُضور میں عرض کی۔ بادشاہ راہ کی طرف مُتوجہ ہوا۔ روشنی نمود ہوئی۔ پلٹنیں آئیں سجی سجائیں۔ تُوپ خانہ گزرا۔ پھر بارہ ہزار ہاتھی سواری کا، ہودج و عماری کا، ہزار بارہ سَے جنگی، گاڑھا، مست؛ ایک سے ایک زبردست، چاروں بھٹیاں ٹپکتیں، بان، پٹے سونڈوں میں چڑھے، بھسونڈے رنگے، جواہر نگار چوڑی دانتوں پر، طلائی نقرئی زنجیریں کھنکتیں، جھولیں زربفت کی نئی نئی، رسّے کلابتون کے، ہیکلیں جَڑاؤ، مُغرق گجگاہیں پڑیں؛ سری سلمے ستارے کی، پنکھے کا جوبن، ہوا پر دیکھنے والوں کی نگاہیں لڑیں؛ دو رویہ اس انداز کے کہ اگر اصحابِ فیل انھیں دیکھتا؛ خوف کھاتا، کبھی کعبہ ڈھانے نہ آتا۔

فیل بان زربفت کی قبا یا کمخواب کی پہنے، جوڑے دار پگڑیاں باندھے۔ کمر میں پیش قبض یا کٹار، ہاتھوں میں گجباگ جواہر نگار۔ مستوں کے ساتھ دو بوڑی بردار۔ ایک چرکٹا سنڈا، ہاتھ میں ڈنڈا۔ دو  برچھے والے، دیکھے بھالے، آگے۔ پیچھے تریَل، قریب سانٹھ مار، برابر دو  سوار۔

پھر کئی لاکھ سواروں کے پرے، ہاتھیوں سے پرے پرے۔ سر سے تا پا لوہے کے دریا میں ڈوبے۔ بیس اکیس برس کا ہر شخص کا سِن۔ شباب کی راتیں، جوانی کے دن۔ خود، بکتر، زِرہ پہنے، بائیں دہنے۔ چار آئینۂ فولادی میں ہر دم روئے مرگ مُعائنہ کرتے، بل سے قدم دھرتے۔ ہاتھوں میں داستانے، خانہ جنگوں کے بانے۔ دو تلواریں: ایک قاشِ زین میں، دوسری ڈاب میں، سیلِ فنا آب میں۔ تپنچے کی جُوڑیاں قُبور میں۔ نشۂ بہادری سے سُرور میں۔ کمر میں قرولی یا کٹار آب دار، سِپر پُشت پر، برچھا ہاتھ میں، تیکھا پن ہر بات میں۔ مثلِ نہنگانِ بحرِ ہیجا و شیرانِ کُنامِ وغا، موچھوں کو تاؤ دیتے، ہر بار نُوک کی لیتے۔ گھوڑے وہ خوش خرام کہ سمندِ سبز فام جن کا قدم دیکھ کے آج تک چال بھولا ہے۔ دیکھنے والے کہتے تھے: چمنِ رواں کیا پھلا پھولا ہے۔ دو  صفیں باندھے ہوئے، بیچ میں پنج شاخے روشن: گھوڑے کُداتے، جوبن دکھاتے چلے گئے۔

پھر ہزار بارہ سے سانڈنی سوار خوش رفتار۔ زرد زرد قبائیں در بر، سُرخ پگڑیاں سر پر، آبی بانات کے پاجامے پاؤں میں۔ ہتھیار لگائے، مُہاریں اُٹھائے ستاروں کی چھاؤں میں۔ سانڈنیوں میں دو دو سے کُوس کا دم، ہر قدم گھنگرو کی چھم چھم۔ بُختیٔ فلک اب تلک بلبلاتا ہے، جب اُن کا دھیان آتا ہے۔ قدم قدم یہ جب بڑھے تو سواری کے خاص خاصے نظر آئے: عربی، تُرکی، تازی، عراقی، یمنی اور کاٹھیا وار کا دکھنی۔ وہ وہ گھوڑا جو ابلقِ لیل و نہار کی نظر سے نہیں گزرا۔ سبُک رو ایسے کہ جو دریا میں در آئیں: سوار بجرے کا مزہ لوٹیں، سُم کے تلے حباب نہ ٹوٹیں۔ہڈا نہ مُوترا، نہ رس کا خلل، ڈنک اُجاڑ نہ کھونٹا اُکھاڑ، سانپن نہ ناگن، عقرب نہ ارجل، شب کور نہیں، منہ زور نہیں، کم خُور، نہ مٹھا نہ کُھوٹا، بال بھونری سے صاف۔ حشری نہ کمری، کہنہ لنگ نہیں، سینے کا تنگ نہیں، ہمہ تن اوصاف۔ کسی پر جڑاؤ زین بندھا، الماس، زمُرد کے ہرنے؛ کسی پر چار جامہ دو الگو کسا۔ بنا بنا کر زمین پر پاؤں دھرتے، کودتے پھاندتے، لمبیاں بھرتے۔ کسی کی فقط گردنی اُلٹی، موتیوں کی جھالر لٹکتی۔ گنڈا، پٹا، ساز، یراق جواہر نگار۔ دُمچی طرح دار۔ پرِ ہُما کی کلغی لگی۔ پاکھر پُر تکلف پُٹھوں پر پڑی۔ دوگاما، گام، شہ گام، یرغا، ایبِیا، رہوار، دُلکی کا منجا، اُلیل کرتا۔ جِلو دار چنور لیے مشغول مگس رانی میں۔ ہم رکاب تپائی بردار معقول سر گرم جاں فشانی میں۔ باگ ڈُوریں پُرزر سائیس لے کر نکلے۔

اُن کے بعد نوبت نشان، ماہی مراتب، میگھ ڈَمبَر۔ آگے عَلمِ اژدہا پیکر، جلو میں نُصرت و ظفر۔ بڑا جلوس، نہایت کرّ و فر۔ نوبت کی ندا، جھانجھ کی جھانجھ سے صدا۔ قرنا کا شُور و غُل، شہنا میں بھیرُوں، بِبھاس کے سُر بالکل۔ نقیب اور چوبداروں کی آواز پُر سوز و گُداز۔ عجب کیفیت کا عالم تھا۔ اُدھر نقارہ ہائے شُتری اور فیلی سے گوشِ کرّ و بیاں کَر ہوا جاتا تھا۔ ایک طرف شہر کے لڑکوں کا غول “بجا دے بجا دے” کا غُل مچاتا چلا آتا تھا۔ میر سوزؔ:

کہے تو، مہر و مہ لے کر عصائے نور ہاتھوں میں
یہی کہتے تھے گردوں پر: ادب سے اور تفاوُت سے

پھر شکار کا سامان میر شکار لائے۔ بازِ آہنی چَنگال، باز بچے تیز بال۔ بحری، باشے کے تماشے۔ شاہینِ فولاد مِخلَب، عُقابِ فلک سیر، جہان کے طیر سب۔ ان کے قریب ولایتی کُتے بودار، گُلڈانک، تازی، جاں بازی کرنے والے۔ چیتے، جو دشمنوں کا بُرا چیتے، بلکہ لہو پیتے۔ سیاہ گوش در آغوش۔ ہرن لڑنے والے، خانہ زاد، گھر کے پالے۔ ان کے بعد ہزار ہا سَقّا، خواجہ خضر کا دم بھرتا، چھڑکاؤ کرتا۔ کمر میں کھارُوے کی لنگیاں، شانوں پر بادے کی جھنڈیاں۔ مشکوں میں بیدِ مُشک بھرا، دہانے میں ہزارے کا فوارہ چڑھا، آب پاشی کرتا۔

مُتعدد غُلام بادلہ پوش، حلقہ بہ گوش، ہاتھوں میں ہیرے کے کڑے پڑے؛ مَنقَل، انگیٹھیاں سونے چاندی کی لیے، عنبر و عود جھونکتے نکلے۔ پھر تو کُوسُوں تک جنگل رشکِ خُتن و تاتار مثلِ طبلۂ عطار ہو گیا۔ اُن کے مُتصل دو ہزار لالٹین والے کم سِن، بلور کی صاف صاف شفاف لالٹینیں لیے، شمع مُومی و کافوری روشن، وہ سب غُنچہ دہن، زیبِ انجمن، بڑھے۔ پھر صدائے اہتمامِ نقیبانِ خوش گُلو چار سو بلند ہوئی اور صبح صادق نے جلوہ دکھایا، ہاتھ کو ہاتھ اور اپنے بیگانے کا مُنہ صاف نظر آیا۔ سُلطانِ اریکۂ زنگاری بھی دریچۂ مشرق سے سر نکال مشغولِ نظارہ ہوا، حسرت میں وطن آوارہ ہوا۔

وہ دمِ سحر نسیم و صبا کی فر فر۔ شمع کا جھلملا جھلملا اُداس جلنا، سواری کا آہستہ آہستہ چلنا۔ پہاڑی جانوروں کی سیر،ذِکر حق میں کہیں وحش، کسی جا طَیر۔ سرسبز درخت لہلہے، پھول رنگ برنگ کے ڈہڈہے۔ سقُوں کی آب پاشی۔ صدائے نالۂ مُرغِ خوش الحاں سے دل خراشی۔ خُسروِ انجم کا مع ثابت و سیارہ چھپتے جانا، سورج کی کرن کا جگمگانا۔ پھولوں کی بو باس، چشمۂ سرد و شیریں آس پاس۔ خلق کا مجمع دامنِ کوہ پر؛ سب کی نگاہ کبھی اُس کیفیت پر، گاہ اس انبُوہ پر۔ ادھر مسافروں کی کثرت، اُدھر بادشاہ پُر ارمان۔ خلقِ خدا با حسرت بہ چشمِ انتظار، اُمید وارِ آمدِ پیادہ و سوار، محوِ تماشائے عجیبِ روزگار تھی۔

یکایک غول خاص برداروں کا آیا: کمخواب کے مرزائی، انگرکھے، گُجراتی مشروع کے گُھٹَنّے، دلی کے ناگوری پاؤں میں، سر پر گُلنار اینٹھے طرح دار۔ خاصیوں کے غلاف باناتی، سَقِرلاتی، باغ و بہار۔ گرد پُوش ململ کے۔ سینکڑے اور ساز مُطلا، جھلا جھل کے۔ رفل: چقماق، تُوڑے دار۔ قرابین، شیر بچے؛ جس سے شیر زندہ نہ بچے: جواہر نگار۔ اور برچھے بردار، بان دار، کُتے والے، یکے، بیش قرار دَرماہے دار، راکب و مرکب جھمکڑے کا عالم؛ گردا گرد۔ بیچ میں شہ زادہ جانِ عالم اسپِ باد رفتار پر سوار۔ برابر انجمن آرا کا سُکھپال پری تمثال۔ ہزار پان سے کہاریاں حوروش، پیاری پیاریاں، کم سن، جسم گدرایا، شباب چھایا؛ زربفت و اطلس کے لنہگے، مسالا ٹکا؛ ململ کے دوپٹے باریک، بَنَت گوکھرو کی کُرتی انگیا،کاشانی مخمل کی کُرتیاں کندھوں پر؛ کچھ سُکھپال اُٹھائے، باقی پرا جمائے اِدھر اُدھر۔ جڑاؤ کڑے مُلائم ہاتھوں میں پڑے، پاؤں سُونے کے تین تین چھڑے، کانو ں میں سادی سادی بالیاں، نشۂ حُسن میں متوالیاں۔ رُخساروں کا عکس جو پڑ جاتا تھا، شرم سے کُندن کا رنگ زرد نظر آتا تھا۔ کسی کا کان جوآلا تھا تو حُسن کی دُکان میں ناز و انداز کا نرخ دوبالا تھا، اندازِ ناز نرالا تھا۔ وہ آہستہ تیوری چڑھا کے پاؤں رکھنا۔ کبھی سسکی، جھجکی۔ بڑی سَیر تھی۔

کئی سَے سواری کا دوڑنے والا خواجہ سرا، عجیب عجیب طرح کا نس کٹا۔ حبشنیں، قِلماقنیں، تُرکنیں سر گرمِ اہتمام، کبک خرام۔ خواجہ سرایان ذی لیاقت، معقول؛ نواب ناظر، داروغہ سب حاضر؛ عُمدہ پُوشاک پہنے گھوڑوں پر سوار بند و بست میں مشغول۔ جریب زمین پر پڑتی، کُوس کا پہیا ساتھ؛ ہاتھوں ہاتھ زمین کی پیمائش، سواری کی آرائش۔ خلاصہ یہ کہ بہ مرتبہ کر و فر، نہایت دھوم دھام۔ اشرفی، روپیہ تصدُق ہوتا، شہدوں کا ازدِحام۔ اس صورت سے بادشاہ کے پاس آ پہنچے۔ جانِ عالم نے دیکھا: ظِلِ سبحانی کے چشمۂ چشم سے جوئے خوں جاری، ہچکی لگی، بے قراری طاری ہے؛ گھوڑے سے کود کر آداب تسلیمات بجا لایا۔ بادشاہ نے بہ قسم فرمایا: اس وقت ہمارے پاس نہ آؤ۔ خُدا کو سونپا، چلے جاؤ۔ مجبور، شہ زادہ مُجرا کر کے سوار ہوا۔ جس دم جانِ عالم نے گھوڑا بڑھایا، تمام خلقت کا جی بھر آیا۔ علی الخصُوص بادشاہ کی بے قراری، امیر اُمرا کی نالہ و زاری اور انجمن آرا کے بین سے، تمام تماشائی شُور و شین سے واویلا مچا کہنے لگے: آج رونقِ شہر کی رُخصت ہے، زینتِ سلطنت کی فرقت ہے۔ ایسے مہر و ماہ کے جانے سے شہر میں غدر پڑے گا، اندھیر ہو جائے گا۔ ان کا الم جُدائی و رنجِ دشت پیمائی ہزار رُوزِ سِیہ، شامِ غم دکھائے گا۔ کہتے ہیں: سیکڑوں مرد و رنڈی بے کہے سُنے ہمراہ ہوئے۔ غریبُ الوطنی اختیار کی، وہاں کی بود و باش گوارا نہ ہوئی۔

ان کے بعد چھ ساتھ سے پالکی، نالکی، چنڈُول، مُحافہ امیر زادیوں کا۔ اور انیسوں، جلیسوں کی تین چار سَے کھڑ کھڑیا اور فنس قیمت کا بڑھیا۔ آتو اور محل داروں کے چو پہلے سے پہلے مُغلانیوں کی منجُھولیاں۔ خاص خواصوں کے پیچھے پیش خدمتوں کا دو تین سو میانہ۔ ہزار نو سے رتھ اکبر آبادی: دو بُرجے، سائبان دار، نئے مُغرق پردے چمکتے؛ ناگوری بیل، جو ثورِ فلک نے نہ دیکھے تھے، جُتے؛ مخمل کی جھولیں پڑیں؛ لونڈیاں، باندیاں، انا، چُھو چُھو، چھٹی نویس، باری دارنیاں اُن پر چڑھیں۔

جب یہ آگے بڑھیں، پھر چھکڑے اور اونٹ، ہاتھی خزانے اور اسباب کے؛ ڈِیرے، پیش خیمے لدے لدائے، کسے کسائے، جکڑے نظر آئے۔ غرض کہ تا شام بہیر بُنگاہ، بازاری سرکاری سب لوگ چلے گئے۔ لکھا ہے کہ روپے اور اشرفیاں امام ضامن کی دمِ رُخصت اتنی آئیں کہ بازوؤں پر بندھ نہ سکیں، تمام راہ سید مسافروں نے پائیں۔ اور کُلچُوں کا یہ حال ہوا کہ اُن کا لے چلنا مُحال ہوا۔ راتب کے سوا، ہاتھیوں کو ملے اور اہلِ لشکر کو بانٹ دیے۔ کھجوریں جو بٹ نہ سکیں، راہ میں پھینک دیں۔ وہ اُگیں؛ اُس کے درخت آگے کم تھے، اُس دن سے جنگل ہو گئے۔

اُس وقت بادشاہ سراسیمہ و بدحواس با حالِ یاس دولت سرا میں پھر آیا۔ وہ بسا بسایا شہر لُٹا، اُجڑا، ویران نظر آیا۔ بازار میں جا بہ جا چراغ گُل، سرِ شام پگڑی غائب، اندھیرا بالکل۔ جس طرف دیکھا، لوگ تھکے ماندے پھر کر پڑے تھے۔ بازار میں تختے لگے، ٹٹر جڑے تھے۔ لوگ سُوزِ مُفارقت سے درد مند، دُکانیں بند۔ جو جہاں پڑا تھا، شہ زادے کی رُخصت کا ذِکر کر رہا تھا۔ دو شخص اگر باہم تھے، بادِلِ پُر غم تھے۔ کوئی سُوتا تھا، کوئی چُپکا پڑا روتا تھا۔ بستی سُنسان، بازار میں سناٹا، خلقِ خدا اندُوہ کی مبتلا۔ بادشاہ کو دونا قلق ہوا، رنگ فق ہوا، دل سینے میں شق ہوا۔ محل سرا میں آیا، وہاں بھی چھوٹے بڑے کو غمگین پایا۔ لوگوں کے عزیز جدا ہو گئے، سب اُس یوسفِ رفتہ کے زندانِ فراق میں اسیرِ بلا ہو گئے۔ علی الخُصوص انجمن آرا کی ماں، جس کی نظر سے وہ چاند سورج چھپ گئے؛ زمانہ آنکھ میں تیرہ و تار، دل غم سے خار خار، حیرت میں نقشِ دیوار ہو رہی تھی۔ آنکھوں پر زور تھا، زار زار رو رہی تھی۔ بادشاہ نے سمجھایا، ہاتھ مُنہ دُھلوایا، کچھ کھلایا۔

یہ تو سب نالہ بہ لب، آہ در دل؛ جان عالم اور انجمن آرا رو بہ منزل۔ پانچ پانچ کوس کا کوچ، دو چار دن کے بعد ایک دو مُقام بہ راحت و آرام کرتے چلے۔ فوجِ ظفر موج ساتھ۔ اُردوئے مُعلیٰ کا عجب عالم تھا۔ ایک شہر رُوز ہمراہ، جہان کی نعمت تیار شام و پگاہ۔ صراف، بزاز، جوہری: روپیہ پیسہ، اشرفی کھری سے کھری؛ ڈھاکے کا ریزہ، بنارس کا گُلبدن، گجرات کا کمخواب؛ الماس و زمُرد، یاقوتِ احمر؛ جو چاہو سو لُو، موجود۔ ایک طرف قصاب اورنانبائی؛ وہ کچا گوشت لیے، یہ پکی پکائی، میوہ فروش خانہ بدُوش۔ حلوائی طرح طرح کی مٹھائی درست کیے۔ مینا بازار باغ و بہار۔ جُدا جُدا ہر گنج کا جھنڈ گڑا، ہر ایک منڈی کا پتا ملتا، چوپڑ کا بازار پڑا۔ جلو خانے کے رو بہ رو نصف شب گُزرے تک دُکانیں کھلیں، اَکاسی دِیا جلتا، بھولا بچھڑا اُس کی روشنی میں آ ملتا۔ کُوتوال سر گرمِ پاسبانی، بازاریوں کی نگہبانی، نرسنگا روند میں پھونکتا۔ غرض کہ سب خُرم و شاداں رواں تھے؛ مگر جانِ عالم گاہ گاہ جذبِ محبتِ ملکہ سے یہ کہتا، شعر:

بسامانِ سفر باخود دلِ رنجیدۂ دارم
بکف چیزیکہ دارم، دامنِ برچیدۂ دارم

 

وُرودِ موکبِ جاہ و جلالِ شاہ زادۂ خُجستہ خِصال

 

مُتصلِ باغِ فراق دیدۂ روز گار ملکۂ مہر نگار اور

بیان ملاقاتِ انجمن آرا کا، پھر نکاح ملکہ کا

 

مشاطۂ خامہ نے عروسِ دِل فریبِ سخن کو بہ صد زیب و زینت حجلۂ بیاں میں اس طرح جلوہ آرا کیا ہے کہ بعد قطع منازل وطیّ مراحل جس روز وُرودِ لشکرِ فیروزی اثر باکروفر ملکہ مہر نگار کے باغ سے قریب ہوا، خبرداروں نے اور اخبار کے ہرکاروں نے یہ مُژدۂ جاں بخش فوراً ملکہ کوپہنچایا کہ حُضور کی عُمر و دولت روز افزوں ہو، محکوم گردوں ہو؛ مُبارک! شاہ زادۂ جانِ عالم تشریف لایا۔ بس کہ غمِ مُفارقت سے تاب و تواں طاق، زندگی شاق تھی؛ سُنتے ہی مشتاق کو غش آیا، پھر سنبھل کر فرمایا: بختِ خُفتہ کب بیدار ہوتا ہے، ایسا پاؤں پھیلائے سوتا ہے! اور جو میرا دل بہلانے کو یہ کہتے ہو، تو سُن لو، مُؤلِف:

تفریح کُلفتوں کی، ترغیب ہے لا حاصل
بہلانے کی باتیں ہیں، یہ دل بھی بہلتے ہیں

چندے جو یہی لیل و نہار ہے تو قصہ، فیصلہ ہے۔ تدبیر خلافِ تقدیر سراسر بے کار ہے۔

مُؤلف:

گر اُس کے ہجر میں یوں ہی اندوہگیں رہے
تو ہوئے گا وصال، دِلا، یہ یقیں رہے
ہے احتیاط شرط کہ اس چشم تر پر، آہ!
دامن رہے رہے نہ رہے، آستیں رہے
مدفن کا اپنے ہم کو تردُد ہو کس لیے
کوچے کی تیرے، یار، سلامت زمیں رہے
تو گلشنِ وصال کی کر سیر عندلیب!
ہم خرمنِ فراق کے بس خوشہ چیں رہے
جو جو کہ انتخاب تھے صفحے پہ دہر کے
ایسے وہ مٹ گئے کہ نشاں بھی نہیں رہے
کس کی خوشی، کہاں کی ہنسی، کیسا اختلاط
ہم کو نہ چھیڑو تم کہ وہ اب ہم نہیں رہے
چھوٹا نہ نزع میں بھی خیال اُس کا اے سرورؔ
دم بھرتے ہم اُسی کا دمِ واپسیں رہے

اس عرصے میں وہی خواص دل آرام نام بارہ دری سے نیچے اُتری، پھر کہا: خُدا جانے کہاں سے یہ لشکر آ کر اس دشت میں اُترا ہے! ملکہ ہنس کر بہ حیلۂ سیر خواصوں کے کندھوں پر ہاتھ دھر، ٹھنڈی سانس بھر کوٹھےپر چڑھی۔ دیکھا تو فی الحقیقت لشکرِ بے پایاں، سپاہِ فراواں، فزوں از حدِ شُمار و بیاں ہے۔ خیامِ شاہی اِستادہ ہیں، پھرتے چلتے سوار اور پیادے ہیں۔ یکایک شہ زادہ جانِ عالم، بہ چند سوار، اسپِ صرصر خرام، رخشِ تیز گام پر سوار نظر آیا؛ تاجِ سلطانی سر پر کج، شہر یاری کی سج دھج۔ یا تو اُسے نُچا کُھچا، منزلوں کا مارا، دشتِ غربت کا آوارہ دیکھا تھا؛ اب چم و خم، جاہ و حشم سے پایا؛ بدن تھرایا، اعضا اعضا میں رعشہ ہوا، یہ زُور تماشا ہوا۔ اُستاد:

آتے ہی ترے، چُھٹتا ہے رعشہ سا بدن میں
ہر چند کہ ہیں بیٹھتے ہر لحظہ سنبھل ہم

وہ زردیٔ چہرۂ پُر غم مُژدۂ وصل کی سُرخی سے بدل گئی، غش سے سنبھل گئی۔ شہ زادہ گھوڑے سے اُتر کے، سیدھا ملکہ کے باپ کے پاس گیا، جُھک کر نذر دی، رسمِ سلام بجا لایا۔ اُس نےدُعائے خیر دے کر چھاتی سے لگایا، کہا: للہ الحمد تمھیں بہ صحت و عافیت اللہ نے کام یاب دکھایا۔ پھر انجمن آرا کی سواری آئی، تسلیم بجا لائی۔ پیر مرد نے فرمایا: شہ زادی! فقیر کے حال پر کرم کیا، اللہ بھلا کرے۔ اُس نے عرض کی: کنیز مُدت سے حضور کی صفت و ثنا ظِلِّ سبحانی کی زبانی سُنا کرتی تھی، آج شہ زادے کی بدولت سعادتِ آستاں بُوس سے مُشرف ہوئی۔ دو گھڑی بیٹھی، پھر التماس کیا: اگر اجازت دیجیے، ملکہ کی ملاقات سے مسرور ہوں۔ اُس حق پرست نے فرمایا: اِس کا پوچھنا کیا، بابا! بے تکلف خانہ خانۂ شماست۔ جانِ عالم تو رخصت ہو کے خیمے میں آیا، انجمن آرا نے ملکہ کے مکان کا رستہ لیا۔ آنے کی خبر پیش تر ملکہ کو پہنچی تھی، سامان اُس اُجڑے مکان کا درست ہو چکا تھا۔

جب سواری اُتری، لبِ فرش لینے آئی، فرّاشی سلام کیا۔ انجمن آرا نے گلے سے لگا لیا۔ ملکہ آبدیدہ ہو کر بولی: تم نے مجھے محجوب کیا۔ میں فقیر کی بیٹی، تم شاہ زادی۔ ہر چند شاہ و گدا دونوں بندۂ خُدا ہیں؛ اِلا، تمھارے قدم آنکھوں پر رکھوں تو بجا ہے، آپ کے آنے سے مجھے بڑا افتخار حاصل ہوا ہے۔ انجمن آرا بولی: ہم نے خوب کیا۔ رنڈی! یہ چُوچلے کی باتیں بیگانہ وار نہ کرتی تو کیا ہوتا! اے صاحب! ہمارے تمھارے تو رشتۂ ہمسری، سر رشتۂ برابری ہے۔ اور حساب کی راہ سے، پہلی تو “سلامتی سے” تمھیں ہو۔ سرکار کا اُلُش ہمیں ملا ہے، پہلے مزہ آپ نے چکھا ہے، جوبن لوٹا ہے۔ غرض کہ دو دو نوکیں ہو گئیں۔ پھر اختلاط، حرف و حکایات، رمز و کنایہ میں تمام رات بسر ہوئی۔

جس وقت عروسِ شب نے مقنعۂ مغرب میں مُنہ چھپایا اور نو شاہِ رُوز مشرق سے نکل آیا؛ انجمن آرا جانِ عالم کے پاس آئی، ماجرائے شب بر زباں لائی، کہا: بہ خُدا! اس خُلق و مروت، سنجید و صفت کی عورت آج تک نہ دیکھی نہ سُنی تھی۔ دوسرے دن جانِ عالم نے ملکہ کے باپ سے عرض کیا کہ الْـــکَرِیْمُ إذا وَعَــــدَ وَفیٰ۔ اُس سالِکِ راہِ حق نے ارشاد کیا؛ ہم اس لائق کہاں ہیں، لیکن، مصر؏:

شاہاں چہ عجب گر بنوازند گدا را

تم قول کے پورے، اقرار کے سچے ہو۔ بسم اللہ، اپنے زُمرۂ کنیزوں میں سرفراز کرو، آبرو بخشو۔ شادی کا نام لینا، مُنہ چڑانا ہے کہ نہ اب وہ ہم ہیں، نہ ہمارا زمانہ ہے۔ آخرش بہ طورِ شرعِ شریف ملکہ کا نکاح جانِ عالم کے ہمراہ ہوا۔ اب یہ معمول ٹھہرا: ایک شب انجمن آرا کی، دوسری رات ملکہ کی ملاقات ٹھہری؛ مگر اُن دونوں میں وہ رہ و رسم محبت، اُلفت کی بڑھی کہ شہ زادے کی عاشقی نظر سے گر گئی، نظری ہوئی۔ اور سچ ہے: جو طرفین سے نجیب الطرفین ہوتے ہیں؛ اُن میں رشک و حسد، رنج و ملال دخل نہیں پاتا، شکوہ و شکایت لب تک نہیں آتا۔

کٹی جلی، ڈاہ، بُغض، عداوت، خواہ نخواہ کج بحثی، دانتا کل کل، رُوز کی تو تو میں میں چھوٹی اُمت پر ختم ہے۔ لاکھ طرح انھیں سمجھاؤ، نشیب و فراز دکھاؤ؛ لیکن ان لوگوں سے بے جُھونٹک جھانٹا گھڑی بھر چین سے رہا نہیں جاتا۔ آخر کار یہ ہوتا ہے کہ آدمی سر پکڑ کے روتا ہے۔ دو دن ایک طرح پر صحبت بر آر نہیں آتی ہے، زندگی انسان کی تلخ ہو جاتی ہے۔ لاکھ طرح کا غم ہوتا ہے، ناک میں دم ہوتا ہے۔ مُؤلف:

عشق میں طرفین سے الفت برابر چاہیے
جو بہ دل بندہ ہو، اُس کو بندہ پرور چاہیے

 

داستانِ حیرت بیاں

 

رخصت شہ زادۂ باوقار کی،پیر مرد کا عمل بتانا،

وزیر زادۂ گُم گشتہ کا اُسی روز آنا، جانِ عالم کی عنایت،

اُس کا انجمن آرا پرفریفتہ ہو جانا، دغا سے شہ زادے کو بندر بنانا۔

بعدِ خرابی ملکہ کے باعِث رہائی پانا۔

 

نظم:

مصیبت نگار و مصائِب رقم
زمانے کی کچھ طرز لکھتا ہے یاں
مری بات یہ دل سے کرنا یقیں
جو یہ دوست ہیں، ان سا دشمن کہیں
کیا امتحاں میں نے اکثر سُرورؔ
جگر چاک و مغموم میرا قلم
عجائب غرائب ہے، یہ داستاں
کسی کا کوئی دوست مطلق نہیں
نہیں ہے، نہیں ہے، نہیں ہے، نہیں
ضرورت کی کچھ دوستی ہے ضرور

قِصہ کوتاہ، چندے شہ زادۂ والا جاہ وہاں رہا۔ ایک رُوزیہ سب عاشق و معشوق باہم خوش و خُرم بیٹھے تھے؛ جانِ عالم نے کہا: ہمیں وطن چھوڑے، عزیزوں سے مُنہ مُوڑے عرصہ ہوا؛ ہنُوز دِلی دور ہے، اب چلنا ضرور ہے۔ وہ دونوں نیک خو، رضا جو بولیں: بہت خوب۔ اُسی روز حرفِ رُخصت ملکہ کے باپ سے درمیان آیا۔ مردِ انجام بیں نے روکنا مناسب نہ جانا۔ سفر کی تیاری ہوئی۔ دمِ رُخصت اس قدر مال و اسباب، نقد و جنس وغیرہ کی قسم سے شہ زادی کو ملا کہ انجمن آرا کی جہیز بھولا۔ اور وقت وداع پیر مرد نے بادِلِ پُر درد جانِ عالم سے کہا: فقیر کے پاس آپ کے لائق کچھ نہ تھا جو پیش کش کرتا، مگر ایک نکتہ بتاتا ہوں؛ جب کہ امتحان ہو گا، خزانہ قاروں سے زیادہ کام آوے گا۔ راست، دروغ خاطر نشاں ہو گا، لطف مل جائے گا۔ پھر چند فقرے تنہا لے جا کے بتا کے، تاکید سے کہا: اگر یہ مُقدمہ حقیقی بھائی سے اظہار کرو گے؛ یاد رکھو، حضرت یوسف علیہ السلام سے زیادہ صدمے سہو گے۔ زمانے کے اِخوانُ الشیاطیں بہ ہزار کید آمادۂ کیں رہتے ہیں۔ اسی سبب سے دانش مند زبان بند رکھتے ہیں، راز اپنا نہیں کہتے ہیں۔ یہ نکتہ حضرت آدم ؑ کے وقت سے سب کو یاد ہے: دُنیا میں برادرِ حقیقی دشمنِ مادرزاد ہے۔ فرد:

بھاگ ان بردہ فروشوں سے، کہاں کے بھائی
بیچ ہی ڈالیں جو یوسف سا برادر ہووے

پھر انجمن آرا پاس آ فرمایا: شہ زادی! فقیر زادی کنیز کو عزیز جان کر، نظرِ الطاف و کرم ہر دم رکھنا۔ یہ بھی خدمت گُزاری میں قُصور نہ کرے گی۔ اسے تم کو سونپا، تمھیں حافِظِ حقیقی کے سپُرد کیا؛ لُو خُدا حافظ۔ سواری دیر سے تیار تھی۔ لوگوں پر ثابت تھا کہ کوئی امرِ پُوشیدہ، درویشِ باوقار شہ زادے پر بہ تکرار اظہار کرتا ہے۔

اِتفاقاتِ زمانہ، اُسی روز وہ وزیر زادہ جو وطن سے ساتھ نکل، ہرن کے پیچھے گھوڑا پھینک، دشتِ اِدبار میں شہ زادے سے جُدا ہوا تھا؛ سرگشتہ و پریشاں، پِھرتا پِھرتا، پیادہ پا اِدھر آ نکلا۔ اُس نے جو یہ لشکرِ جرار اور قافلہ تیار دیکھا، پوچھا: کس کی سواری، کہاں کی تیاری ہے؟ لوگوں نے تمام جانِ عالم کا قصہ سُنایا۔ یہ خوش ہوا، جی میں جی آیا۔ پوچھا: شہ زادہ کہاں ہے؟ وہ بولے: پیر مرد جو یہاں کا مالک ہے، کامِل ہے، عامِل ہے، فقیرِ سالِک ہے؛ کچھ کہنے کو تنہا جُدا لے گیا ہے۔ اس عرصے میں جانِ عالم رُخصت ہو سوار ہوا۔ سلامی کی تُوپ چلی، نقارہ نواز نے ڈنکے پر چُوب دی۔ وزیر زادے نے ہُلڑ میں دوڑ کر مُجرا کیا۔ شہ زادے نے گھوڑے سے کود کے گلے لگایا، دیر تک نہ چُھوڑا۔ اُسی دم لباسِ فاخرہ پنھا، ہمراہ سوار کیا۔ راہمیں سرگُذشتِ تفرقہ پوچھتا کہتا چلا۔ جب خیمے میں داخل ہوا، وزیر کو محل سرا میں طلب کیا۔ انجمن آرا اور ملکہ کو نذر دلوا کے، کہا: یہ وہی شخص ہے جس کا المِ مُفارقت مُدام دل میں کانٹا سا کھٹکتا تھا، جی سینے میں تنگ تھا، آمد و شُد میں دم اٹکتا تھا۔ دیکھو، جب اچھے دن آتے ہیں، بے تلاش بچھڑے مل جاتے ہیں۔ جس دن گردوں نے ہمیں آوارۂ دشتِ اِدبار کیا تھا، جُدا ہر ایک دوست دارِ غم خوار کیا تھا۔ اب مساعدتِ بخت سے ایامِ سخت دور ہوئے، بہم مہجور ہوئے۔

وزیر زادے کا حال سُنو: انجمن آرا کا حُسن و جمالِ بے مِثال دیکھ، دیوانہ ہو، ہوش و حواس، عقل کُھو؛ نمک حرام بنا، وصل کی تدبیر میں پھنسا۔ اُستاد:

یار، اغیار ہو گئے، اللہ!
کیا زمانے کا انقلاب ہوا

اُستاد:

خدا ملے تو ملے، آشنا نہیں ملتا
کوئی کسی کا نہیں دوست، سب کہانی ہے

دُو چار گھڑی یہ صحبت رہی، پھر اپنے اپنے خیموں میں گئے۔ وزیر زادے کے واسطے خیمۂ عالی اِستاد ہوا۔ پھر جتنی جلیسیں، انیسیں حسیں، مہ جبیں دونوں شہ زادیوں کے ہمراہ تھیں؛ اُسے دِکھا، فرمایا: جس طرف تیری رغبت ہو؛ سعی کروں، دِلوا دوں۔ وہ نُطفۂ حرام اور خیال میں تھا، یہ مُقدمہ مطلب کے خلاف صاف صاف سمجھا، عرض کرنے لگا: میری کیا مجال ہے اور کیا تاب و طاقت ہے جو اِنھیں بُری نگاہ سے دیکھوں۔ جانِ عالم اس وضعی حرکت سے بہت رضامند ہوا کہ یہ بڑا نیک طینت، صاف باطن ہے۔ بہ اسبابِ ظاہر اِس نظر سے زیادہ مدِ نظر ہوا، دل میں گھر ہوا۔ تمام صُعوبتیں، حالاتِ سفر، رنجِ راہ، قریہ و شہر کا گزر شہ زادے نے بیان کیا؛ مگر جب پیر مرد کے مشورے کا ذکر آتا، ٹال جاتا۔ وہ سمجھا، کچھ اس میں بھید ہے۔

ایک رُوز ملکہ مہر نگار اور انجمن آرا نے متفِق ہو کر جانِ عالم سے کہا: یہ نیا ماجرا ہے، ہر دم ایک شخصِ غیر اور جوان کو شریکِ صحبتِ خلا ملا رکھنا کیا مناسب ہے؟اور دابِ سلطنت سے بھی یہ امر بعید ہے۔ شیطان کو انسان دور نہ جانے۔ غیر تو کیا، اپنے کا اعتبار نہ مانے۔ جانِ عالم نے کہا: پھر ایسا کلمہ زبان پر نہ لانا۔ تم نے اتنا نہ قیا س کیا کہ اُس نے تمھاری لونڈیوں کا پاس کیا، نہ کہ تمھارا حفظ مراتب۔ اور میں بھی تو ایسا بیہودہ، نادان نہ تھا جو خلافِ وضع حرکت کرتا۔ ملکہ یہ سُن کر ہنسی، انجمن آرا سے مُخاطب ہو کر کہا: برائے خُدا انصاف کیجیے، خاطر کی نہ لیجیے؛ اِن کے حُمُق میں کس بے وقوف کو تامُل ہو گا! آپ اگر عقل کے دُشمن نہ ہوتے، تو کیوں حوض میں کود کر، ساحِرہ کی قید میں پھنستے، نام ڈُبُوتے۔ لو بھلا سچ کہو، شرمندہ نہ ہو؛ جی میں کیا سمجھے تھے جو کود پڑے؟ ذرا یہ خیال نہ آیا، غواصِ فِکر کو مُحیط تامُل میں غوطہ زن نہ فرمایا کہ کہاں انجمن آرا، کُجا جنگل کا حوض! وہ اس میں کیوں کر آئی! وہ از خاندانِ شاہی تھی، یا شریکِ سلسلۂ ماہی، واہی تباہی تھی!

جانِ عالم کھسیانا ہو گیا، کہا: بات اور، مسخرا پن اور۔ کہاں کا ذکر کس جگہ لا کے ملایا۔ میری حماقت کا موقع خوب تمھارے ہاتھ آیا، جس کو سند بنایا۔ یہ تو سمجھو، شعر:

عشق ازیں بسیار کرد است و کُند
سبحہ را زُنار کرد است و کُند

اُستاد:

کہتے ہیں جسے عشق، وہ از قسمِ جُنوں ہے
کیوں کر کہ حواس اپنے میں پاتے ہیں خلل ہم

بھلا کچھ اپنی باتیں تو یاد کرو، دل میں مُنصف ہو۔ ملکہ نے کہا: دیکھا! آپ شرمائے تو یہ کہانی لائے۔ میں تو رنڈی ہوں، ناقِص عقل میرا نام ہے، مردوں کا یہ کلام ہے۔ بھلا صاحب! اگر مجھ سے کوئی بے وقوفی کی حرکت ہووے؛ تعجب کی جا نہیں، ایسی بڑی خطا نہیں؛ لیکن شُکر کرنے کی یہ جا ہے کہ آپ کا مزاج بھی میرا ہی سا ہے۔ آخر یہ بات ہنسی میں اُڑ گئی؛ مگر وہ مکار ہر کوچ و مُقام میں وقت کا مُنتظر تھا۔ ایک رُوزِ غم اندُوز شہ زادے کا خیمہ صحرائے باغ و بہار، دشتِ لالہ زار مگر ہمہ تن خار خار، پُر آزار میں ہُوا۔ فضائے صحرا نے کیفیت دکھائی، پھولوں کی خوش بو دِماغ میں سمائی۔ جا بہ جا چشمے رواں دیکھ کے، یہ لہر آئی کہ تنہاوزیر زادے کا ہاتھ پکڑ لبِ چشمہ جا بیٹھا۔ کشی شراب کی طلب ہوئی۔ جس دم جانِ عالم کی آنکھوں میں سُرور آیا، اِختِلاط کا زبان پر مذکور آیا؛ اُس دغا شعار، پُر فن مکار نے وقتِ تنہائی، صحبت بادہ پیمائی، نشے کی حالت غنیمت جانی، رُونے لگا۔ شہ زادے نے ہنس کر کہا: خیر ہے! وہ بولا: جو جو شرطِ رفاقت، حقِ خدمت دُنیا میں ہوتا ہے، غُلام سب بجا لایا؛ مگر محنت و مشقت، غریبُ الوطنی، دشت نوردی کا عِوض خوب بھر پایا۔ جب آپ سا قدر داں بات کو چھپاوے، تو پھر اور کسی سے کس بات کی اُمید رہے۔

جانِ عالم نشے میں انجام کار نہ سُوچا، اُس فیلسوف کے رونے سے بے چین ہو گیا، کہا: اگر تجھے یہی امر ناگوار ہے تو سُن لے جو اسرار ہے: مجھے ملکہ کے باپ نے یہ بات بتائی ہے جس کے قالب میں چاہوں، اپنی روح لے جاؤں۔ اُس نے پوچھا: کس طرح؟ شہ زادے نے ترکیب بتا دی۔ جب وہ سب سیکھ چُکا، بولا: غُلام کو بے امتحان غلطی کا گُمان ہے۔ شہ زادے نے کہا: اِثبات اس بات کا بہت آسان ہے۔ اُٹھ کر جنگل کی طرف چلا۔ چند قدم بڑھ کر بندر مُردہ دیکھا، فرمایا: دیکھ میں اس کے قالب میں جاتا ہوں۔ یہ کہہ کر شہ زادہ زمین پر لیٹا، بندر اُٹھ کھڑا ہوا۔ وزیر زادے کو سب ڈھنگ یاد ہو گیا تھا؛ فوراً وہ کُور نمک زمین پر گرا، اپنی روح جانِ عالم کے قالبِ خالی میں لا، کھڑا ہوا اور کمر سے تلوار نکال، اپنا جسم ٹکڑےٹکڑے کر کے دریا میں پھینک دیا۔ یہ غضب بڑا ہوا، شہ زادے کا نشہ کِر کِرا ہوا۔ سمجھا: بڑی خطا ہوئی، ازماست کہ برماست، خود کردہ را علاجے نیست۔ وہ کافِر بندر کے پیچھے دوڑا۔ شہ زادہ بچارا بھاگ کر درختوں کے پتوں میں چھپا۔

پھر تو بہ دِل جمعیٔ تمام وہ نُطفۂ حرام لہو کپڑوں پر چھڑک، بے دھڑک ملکہ کے خیمے میں گیا، رُویا پیٹا، کہا: اس وقت ظلم کا حادِثہ ہوا، میں وزیر زادے کے ساتھ سیر کرتا تھا؛ یکایک جنگل سے شیر نکلا، اُسے اُٹھا لے چلا۔ ہر چند میں نے جاں بازی سے شیر کو تہِ شمشیر کیا، زخمی ہوا؛ مگر اُسے نہ چھوڑا، لے ہی گیا۔ ملکہ نے تاسُف کیا، سمجھایا: قضا سے کیا چارہ! یہی حیلۂ مرگ اُس کے مُقدر میں تھا۔ پھر انجمن آرا پاس گیا، وہاں بھی یہی اِظہار کیا؛ اِلا، گھبرایا ہوا باہر چلا گیا۔ ملکہ، انجمن آرا کے خیمے میں آئی، وزیر زادے کا مذکور آپس میں رہا؛ لیکن ملکہ کو قیافہ شناسی کا بڑا ملکہ تھا، پریشان ہو کر یہ کلمہ کہا: خُدا خیر کرے! آج بہت شگونِ بد ہوئے تھے: صُبح سے دہنی آنکھ پھڑکتی تھی؛ راہ میں ہِرنی اکیلی رستہ کاٹ میرا مُنہ تکتی تھی، اپنے سایے سے بھڑکتی تھی؛ خیمے میں اُترتے وقت کسی نے چھینکا تھا؛ خوابِ مُوحِش نماز کے وقت دیکھا تھا۔ تم بھی فضلِ اِلٰہی سے عقل و شعور رکھتی ہو، آج کی حرکتیں شہ زادے کی غور کرو؛خلافِ عادت ہیں، یا مجھی کو وہم بے جا ہے؟ انجمن آرا نے کہا: تم جانتی ہو وزیر زادے سے محبت کیسی تھی! رنج و الم بُرا ہوتا ہے، بدحواسی میں اور کیا ہوتا ہے۔

القِصہ، وہ شب ملکہ کے پاس رہنے کی تھی، اسے اندر کا حال کیا معلوم تھا؛ طبیعت کے لگاؤ سے انجمن آرا کے خیمے میں گیا۔ جس وقت پہر بجا، ملکہ اِنتظار کر کے وہاں گئی۔ دیکھا شاہ زادہ مُضطرب بیٹھا ہے۔ اس نے پوچھا: آج کہاں آرام کرو گے؟ وہ سُچک کر بولا: جہاں تم کہو۔ ملکہ نے کہا: یہیں سو رہو۔ شہ زادے نے کہا: بہت خوب۔ یہ کلمہ بھی خلافِ دستور ظُہور میں آیا۔ اس کا “خوب کہنا” ملکہ نے بُرا مانا۔ انجمن آرا کا ہاتھ پکڑ اپنے خیمے میں لائی، رُوئی پیٹی، چلائی۔ انجمن آرا بولی: ملکہ! خُدا کے واسطے کچھ مُفصل بتا۔ وہ بُولی: غضب ہوا، قسمت اُلٹ گئی، شہ زادے سے چُھٹ گئی؛ خُدا کی قسم یہ جانِ عالم نہیں۔ وہ بھی شہ زادی تھی، گو سیدھی سادی تھی، کہا: دُرُست کہتی ہو، بہت سی باتیں اس نے آج نئی کی ہیں۔ ملکہ نے کہا: خیر، اب جو ہو سو ہو، تم یہیں سو رہو۔ پھر حبشنوں، تُرکنوں سے فرمایا: ہم سوتے ہیں، تم درِ خیمہ پر مُسلح جاگو؛ اس وقت شہ زادہ کیا، اگر فرشتہ آئے، بار نہ پائے۔ یہ خبر سُن کر وہ نامرد ڈرا، اکیلے اور خیمے میں جا پڑا۔ ایک ڈر دو  طرف ہوتا ہے۔ ملکہ نےکہا: دیکھا! اگر جانِ عالم ہوتا، کبھی اکیلا نہ سوتا، بے تامُل چلا آتا۔ بدمزگی کا باعث، خفگی کا سبب پوچھتا۔ اُسے کس کا ڈر تھا، اُس کا تو گھر تھا۔ انجمن آرا کہنے لگی: صورت تو وہی ہے۔ اُس وقت ملکہ نے ماجرا غیر کے قالب میں روح لے جانے کا دمِ رُخصت اپنے باپ کے بتانے کا مُفصل بتایا؛ پھر کہا کہ شہ زادے نے وزیر زادے کو یہ حال بتایا ہے۔ آپ تو خُدا جانے کس مصیبت میں مبتلا ہوا، ہم کو موذی کے چنگل میں پھنسایا ہے۔ ہمیں رُوزِ اول اُس کی چتون پر بدگمانی کا شک آیا تھا، سامنے لانے کو منع کیا تھا، سمجھایا تھا۔ وہ نادان ہمارا کہنا خاطر میں نہ لایا، اُس کا مزہ پایا۔

القِصہ، وہ شب کہ شبِ اولینِ گور تھی، رُونے پیٹنے میں کٹی۔ انجام کار کا اُس نابکار کے خوف سے تردُد و تفکر رہا کہ دیکھیے شیشۂ ناموس و ننگ سنگِ ظُلم سے کیوں کر بچتا ہے! اور یہ کہتی تھیں، اُستاد:

کسے تیغِ جفائے چرخ سے اُمید ہنسنے کی
جو ہووے بھی تو ہاں شاید دہانِ زخم خنداں ہو

اِسی فکر و اندیشے میں صُبحِ قیامت نمود ہوئی، سواری ڈیوڑھی پر موجود ہوئی، کوچ ہوا۔ خبرداروں نے اُس بنے شہ زادے سے عرض کی: یہ سر زمینِ غضنفریہ ہے، یہاں سے پانچ کوس شہر ہے۔ حاکم وہاں کا غضنفر شاہ زِرہ پُوش ہے۔ سوار و پیادے کے سوا، لاکھ غلام جنگ آزمودہ، جرار حلقہ بہ گوش ہے۔ حکم کیا: خیمہ ہمارا شہر کے قریب ہو۔ کار پرداز حسبُ الارشاد عمل میں لائے۔ جب شہ زادیاں خیمے میں داخل ہوئیں، خود آیا۔ ادھر یہ بے چاریاں ڈر سے بادِل صد چاک، اُدھر ملکہ کے رعب سے وہ بچہ بھی خوف ناک۔ ساعت بھر بیٹھ کے اٹھ گیا۔

جب غُلغُلَۂ فوج اور آمد لشکر وہاں کے بادشاہ نے سنا کہ لشکر بے شمار، سپاہ جرار شہر کے متصل آ پہنچی؛ اسے بہت تشویش ہوئی۔ وزیر خوش تدبیر کو چند تحفے دے کر، استفسار حال، بہ ظاہر استقبال کو بھیجا؛ تا ملازمت حاصل کر کے مِن و عن حضور میں عرض کرے۔ وزیر حاضر ہوا۔ عرض بیگیوں نے خبر پہنچائی۔ وہ تو دابِ سلطنت، ریاست کا رنگ، ملاقات کا ڈھنگ جانتا تھا؛ وزیراعظم کا بیٹا تھا، طرز رزم و بزم، آئین صلح و جنگ جانتا تھا؛ رو برو طلب کیا۔ بعد ذکر و اذکار ہر شہر و دیار، اپنا سبب آمد بہ جہت سیر و شکار اور اچھا ہونا آب و ہوا اس جوار کا اور دیکھنا یہاں کے شہر و شہر یار کا بیان کیا۔ دم رخصت خلعت فاخرہ وزیر کو عنایت ہوا اور بہ طرز دوستانہ کچھ ہدایا بادشاہ کو روانہ کیا۔

جب وزیر اپنے بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا؛ حسن اخلاق، دبدبۂ شوکت و صولت، آئین سلطنت، رعب و جرات کا اُس کے اِس رنگ ڈھنگ سے ذکر کیا کہ وہ بادشاہ بے ساختہ مشتاق ہو کر سوار ہوا۔ خبرداروں نے اس حال سے مطلع کیا۔ ارکانِ سلطنت، وزرا، امرا، بخشی، سپہ سالار پیشوائی کو گئے۔ جب قریب پہنچا، خود درِ خیمہ تک آیا۔ معانقہ کر دونوں تخت پر جا بیٹھے۔ سلسلۂ کلامِ بلاغت نظام طرفین سے کھلا۔ وہ بھی اس کی صورت پر غش ہو گیا، فصاحت پر اَش اَش کرتا رہا، بصد تکرار شہر کا مکلِّف ہوا، جلد جلد عماراتِ شاہی سجی سجائی خالی ہوئی،  اس کو اُتارا، لشکر وہیں رہا۔ پھر حسبِ طلب ملکہ و انجمن آرا سرِ چوک دو محلسرا برابر خالی ہوئے۔ اس میں وہ ناموسِ سلطاں، مبتلائے بلائے بے درماں،  مضطر و حیراں داخل بصد خستہ حالی ہوئے۔

چند روز دعوت، جلسے رہے۔ جب فرصت ملی،  دل میں سوچا: اگرچہ جانِ عالم بندر ہے، اِلّا اس کے جینے میں اپنی مرگ کا خوف و خطر ہے۔ایسی تدبیر نکالیے کہ اسے جان سے مار ڈالیے، پھر بے کھٹکے آرام صبح و شام کیجیے۔ ملکہ سے ڈرتا تھا، پیر مرد کے نام لینے سے مرتا تھا، جیسے چور کی ڈاڑھی میں تنکا۔ یہ سوچ کر حکم کیا: ہمیں بندر درکار ہیں، جو لائے گا،  دس روپے پائے گا۔ اہلِ شہر ہزاروں بندر پکڑ لائے۔ جو سامنے آتا، بغور دیکھ سر تڑواتا۔ تھوڑے عرصے میں بہت بندر ہلاک اس سفاک نے کیے۔ جب بندر کم ہوئے، دام بڑھے۔ بہ حدّے کہ فی بندر سو روپے مقرر ہوئے۔ دو کوس، چار کوس گرد و پیش نام و نشاں نہ رہا، بندر عنقا ہوگیا۔ چنانچہ وہیں کے بھاگے ہوئے آج تک متھرا اور بندرا بن اور اودھ بنگلے میں خستہ تن ہیں۔ بلکہ اس زمانے میں بَندرا بَن بالفتح تھا، اب عرصۂ دراز گزرا، وہ بندروں کی کثرت جو نہ رہی؛ اس کسر سے، یہ لفظ بالکسر خلقت کہنے لگی۔ غرض کہ شہر میں ہر طرف غُلغُلہ، سب کی یہی معاش ہوئی۔ ہر شخص کو بندر کی تلاش ہوئی۔ایک چڑی مار زیر دیوارِ سرا، اُسی بستی میں بستا تھا، مگر محتاج، مفلوک۔ بہ ہزار جستجو و تگاپو تمام دن کی گردش میں دس پانچ جانور جو ہاتھ آجاتے، دو چار پیسے کو بیچ کر، جور و خصم روٹی کھاتے۔ اگر خالی پھرا، فاقے سے پیٹ بھرا۔  ایک روز اس کی جورو کہنے لگی:  تو سخت احمق ہے، دن بھر جانوروں کی فکر میں دَر دَر، خاک بہ سر، الُو سا دیوانہ ہر ایک ویرانہ جھانکتا پھرتا ہے، اس پر جو روٹی ملی تو بدن پر لتہ ثابت نہیں۔ کسی طرح اگر ہنومان کی دیا سے ایک بندر بھی ہاتھ آئے تو برسوں کی فرصت ہو۔ دلدّر جائے۔

لالچ تو بُرا ہوتا ہے، وہ راضی ہوا۔ کہا:  کہیں سے آٹا لا،  روٹی پکا اور جس طرح بنے، تھوڑے چنے بہم پہنچا۔ صبح بندر کی تلاش میں جاؤں گا، نصیب آزماؤں گا۔ اُس نے مانگ جانچ وہ سامان کر دیا۔ دو گھڑی رات رہےچڑی مار جال، پھٹکی پھینک؛ لاسا، کمپا چھوڑ؛ ٹٹی جو دھوکے کی تھی، وہ توڑ؛ روٹی، چنے اور رسی لے کے چل نکلا۔ شہر سے چھ سات کوس باہر نکل، درختوں میں ڈھونڈنے لگا۔

وہاں کا حال سنیے: شہ زادہ جو بندر بنا تھا، اس نے جس دن سے بندر پکڑتے لوگوں کو دیکھا تھا اور سر تڑوانے کا حال سنا  تھا؛ بد حواس، پریشان، سراسیمہ، زیست سے یاس، حیران، ہر طرف چھپتا پھرتا تھا کہ مبادا کوئی پکڑ لے جائے، زندگی میں خلل آئے، اسُ روز کئی دن کا بے دانہ و آب، خستہ و خراب، ضعف و نقاہت زنجیر پا تھا، ہر قدم الجھ کے گرتا تھا، ایک درخت کے کُول میں غش ہو کر پڑا تھا۔ چڑی مار نے دیکھا، دبے پاؤں آ کر گردن پکڑی۔اس نے آنکھ کھولی، گلا دستِ قضا میں پایا، جینے سے ہاتھ اُٹھایا۔ یقین ہوا زیست اتنی تھی، آج پیمانۂ بقا بادۂ اجل سے لب ریز ہو کر چھلکا؛ پکارا اے گردونِ دوں! اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیــــْهِ رَاجِـــعُوْن۔ چڑی مار نے کمر سے رسی کھول مضبوط باندھا، پھر شہر کا رستہ لیا۔ تھوڑی دور چل، بندر نے کف افسوس مل اس سے کہا: اے شخص! کیوں خون بے گناہ، بندۂ اللہ، راندۂ درگاہ اپنی گردن پر لیتا ہے، مصیبت زدے کو اور دکھ دیتا ہے۔ وہ بولا: کیا خوب، تو باتوں سے مجھے ڈراتا ہے! اگر دیو، بھوت، جن،  آسیب جو بلا ہے، بلا سے؛ مگر تیرا چھوڑنا ناروا ہے۔ آج ہی تو قسمت آزمائی ہے، نعمت غیر مترقب رام جی نے دلوائی ہے۔ تجھے بادشاہ کو دوں گا، سو روپے لوں گا، چین کروں گا۔ یہ سنتے ہی سن ہو گیا، رہی سہی جان قالب سے نکل گئی۔ ہر چند منت سماجت سے کہا: لالچ کا کام برا ہوتا ہے؛ کچھ کام نہ آیا، چڑی مار نے جلد جلد قدم بڑھایا، قریب شام شاد کام گھر آیا، جورو سے کہا: اچھی ساعت گھر سے گیا تھا، طائر مطلب بے دام و دانہ خواہش کے جال میں پھنسا۔ یہ کہہ کر خوب ہنسا۔

دو کلمے یہ سنیے: جس دن شہ زادہ گرفتارِ بلائے تازہ ہوا، یعنی چِڑی مار کے دامِ حرص میں گرفتار ہوا؛ ملکہ دل گرفتہ خود بہ خود گھبرائی، رُو رُو کر یہ بَیت زبان پر لائی، اُستاد:

ہوئی کیا وہ تاثیر اے آہ تیری
تھی آگے تو کچھ بِیش تر آزمائی

انجمن آرا سے کہا: تم نے سُنا، یہ کم بخت بندر پکڑوا کے سر کچلواتا ہے؛ یقین جانو جانِ عالم اس ہیئت میں ہے۔ اور آج، خدا خیر کرے، صُبح سے بے طرح دلِ ناکام کو اِضطِراب ہے، جانِ زار کو پیچ و تاب ہے۔ گھر کاٹتا ہے، غم کلیجا چاٹتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے شہ زادہ پکڑا گیا۔ یا کوئی اور آفتِ تازہ، ستمِ نَو بے اندازہ چَرخِ کہن دِکھائے گا۔ ہنسی کے بدلے رُلائے گا۔ میرؔ:

جس سے جی کو کمال ہو اُلفت
جُنبش اُس کی پلک کو گر واں ہو
یار کو دردِ چشم گر ہووے
واں دَہَن تنگ، یاں ہے دل تنگی
جس کی جانِب درست ہو نسبت
دل میں یاں کاوِش اک نُمایاں ہو
چشمِ عاشق لہو سے تَر ہووے
حُسن اور عشق میں ہے یک رنگی

انجمن آرا نے جھلّا کر کہا: اس سے اور اَفزوں کیا دنیا میں تباہی و خرابی ہو گی: شہر چُھٹا، سلطنت گئی، ماں باپ، عزیز و اَقربا کی جُدائی نصیب ہوئی، گھر لُٹا۔ زخمِ دل و جگر آلے پڑے ہیں، جان کے لالے پڑے ہیں۔ مصحفی:

مَرَضُ الموت سے کچھ کم نہیں آزار اپنا
دل میں دشمن کے بھی یا رب نہ چبھے خار اپنا

اور جس کے واسطے آوارہ و سرگشتہ ہوئے، یہ صدمے سہے، نحوستِ بختِ نافَرجام، گردِشِ اَیّام سے اُسے کھو بیٹھے، وطن سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اب رَضینا بہ قَضا۔ مرضیٔ مَولیٰ اَز ہمہ اَولیٰ۔ ناسخ:

مجھے فرقت کی اسیری سے رہائی ہوتی
کاش عیسیٰ کے عِوَض موت ہی آئی ہوتی
ابرِ رحمت سے تو محروم رہی کِشت مری
کوئی بجلی ہی فلک تو نے گرائی ہوتی
ہوں وہ غم دوست کہ سب اپنے ہی دل میں بھرتا
غمِ عالَم کی اگر اِس سے میں سمائی ہوتی

یہاں تو یہ باتیں تھیں؛ اُدھر چڑی مار کی جورو چراغ لے کر بندر کو دیکھنے لگی۔ بندر سوچا: وہ کم بَخت بر سَرِ رَحم نہ ہوا؛ کیا عَجَب یہ رنڈی ہے؛ اگر نَرم زبانی سے مذکورِ آفتِ آسمانی سُنے اور مہربانی کرے۔ اِس خیال سے پہلے سلام کیا۔ وہ ڈری، تو یہ کلام کیا: اے نیک بَخت! خوف نہ کر، دو باتیں میری گوشِ دل سے سُن لے۔ گنواریاں جی کی کڑی بھی ہوتی ہیں؛ بندر کو بولنا اَچنبھا سمجھ کر کہا: کہہ۔ وہ بو لا: ہم غریبُ الوَطَن، گرِفتارِ رنج، مبتلائے محن، گھر سے دور، قید میں مجبور ہیں۔ ماں باپ نے کس کس ناز و نِعَم سے پالا۔ فلکِ تَفِرقَہ پَرداز نے کون کون سی مصیبت دِکھانے کو گھر سے نکالا۔ یہاں تک دَر بہ دَر حیران پریشان کر کے پردیس میں بُرے دن دکھائے کہ تیرے پاس گرِفتار ہو کر آئے۔ اُستاد:

پیدا کیا خدا نے کسی کو نہیں عَبَث
لایا مجھی کو یاں یہ جہاں آفریں عَبَث

اب صُبح کو جب ہم گردن مارے جائیں گے، تب سَو روپے تمھارے ہاتھ آئیں گے۔ خونِ بے گناہ کی جَزا حَشر کو پاؤ گی۔ بَیکُنٹھ چھوڑ نَرَک میں جاؤ گی۔ پَیسہ روپیہ ہاتھ کا مَیل ہے؛ اِس پر جو مَیل کرتی ہو، کتنے دن کھاؤ گی؟ کلنک کا ٹیکا ہے، دھبا اس کا جیتے جی نہ چھوٹے گا، دھوتے دھوتے گھر بہاؤ گی۔ اگر ہمارے حال پر رحم کرو، خُدا اور کوئی صورت کرے گا۔ سو روپے کے بدلے تمھارا گھر اَشَرفیوں سے بھرے گا۔ ہمارے قَتل میں گُناہِ بے لذّت یا ایک موذی کی حسرت نکلنے کے سِوا اور کیا فائدہ ہے؟ اگرچہ ایسا جینا، مرنے سے بُرا ہے؛ لیکن خُدا جانے اِرادۂ اَزَلی، مَشِیّتِ ایزَدی کیا ہے! ہماری تقدیر میں کیا کیا لکھا ہے! جو خدا کے نام پر نِثار ہے، اللہ اُس کا ہر حال میں مُمِدّ و مددگار ہے۔ تو نے بادشاہِ یَمَن کا قصّہ سُنا نہیں: ایک سلطنت للہ دی، دو پائیں، لالچیوں کی قضا آئی، جانیں گنوائیں۔

رنڈی موم کی ناک ہوتی ہے؛ جب گھر گئی، جدھر پھیرا پھر گئی۔ بندر کی باتوں پر کچھ تعجب، کچھ تَاَسُّف کر کے کہنے لگی: ہنو مان جی! وہ کہانی کیسی ہے، سناؤ مہاراج۔

 

فسانۂ سلطانِ یمن

 

سائل کو سلطنت دے کے غریب دِیار ہونا، سوداگرکے فریب سے

شہ زادی کا کھونا۔ پھر بیٹوں کی جدائی، اپنی دشت پیمائی۔ آخر سلطنت کا مل جانا، بیٹوں کا آنا، بی بی کا پانا، پھر سوداگرکا قتل کرنا

 

بندر نے کہا: سَر زمین یَمَن میں ایک بادشاہ تھا۔ مُلک اُس کا مالا مال، دولت لازَوال۔ بخشندۂ تاج و تَخت، نیک سیرت، فَرخُندہ بَخت۔ جس دم سائل کی صدا گوشِ حق نِیوش میں دَر آئی، وہیں اِحتیاج پکاری: میں بَر آئی۔ یہاں تک کہ لَقَب اُس کا نزدیک و دور “خُدا دوست” مشہور ہوا۔ ایک روز کوئی شخص آیا اور سوال کیا کہ اگر تو خدا دوست ہے، تو للہ تین دن کو مجھے سلطنت کرنے دے۔ بادشاہ نے فرمایا: بِسمِ اللہ۔ جو اَراکینِ سلطنت، مسند نَشینِ حکومت حاضِر تھے؛ بہ تاکید انھیں حکم ہوا کہ جو اس کی نافرمانی کرے گا، مَورِدِ عِتاب سُلطانی ہو گا۔ یہ فرما، وہ فرماں رَوا تَخت سے اُٹھا، سائِل جا بیٹھا، حکم رانی کرنے لگا۔

چوتھے روز بادشاہ آیا، کہا: اب قصد کیا ہے؟ وعدہ پورا ہو چکا ہے۔ سائل بولا: پہلے تو فقط اِمتِحان تھا، اب بادشاہت کا مزہ مِلا، برائے خُدا یہ تاج و تَخت یک لخت مجھے بخش دے۔ بادشاہ نے فرمایا: بہ رضائے خدا یہ حکومت آپ کو مُبارَک ہو، مَیں بہ خوشی دے چکا۔ بادشاہت دے کر کچھ نہ ہیہات لیا؛ فقط لڑکوں کا ہاتھ میں ہاتھ، بی بی کو ساتھ لیا۔ دل کو سمجھایا: اِتنے دنوں سلطنت، حکومت کی؛ چَندے فقیری کی کیفیت، فاقے کی لذّت دیکھیے۔ گو جاہ و حَشَم مَفقُود ہے، مگر شاہی بہرکیف موجود ہے؛ اِلّا اِس شہر میں سے کہیں اور چلنا فَرض ہے۔ حکمِ خُدا قُل سِـــیرُوْا فِیْ الاَرْضِ ہے۔ دُنیا جائے دید ہے۔ عِنایتِ خالق سے کیا بَعید ہے جو کوئی اور صورت نکلے۔ ایک لڑکا سات برس کا، دوسرا نو برس کا تھا۔ غَرض کہ وہ حق پرست شہر سے تہی دَست نکلا؛ بلکہ تکلُّف کا لباس بھی وہ خدا شَناس بار سمجھا، نہ لیا؛ جامۂ عُریانی جسم پر چست کیا اور چل نکلا۔ نیرنگیٔ سپہرِ بوٗقَلَموٗں، دُنیائے دوٗں کا یہ نقشہ ہے، مصر؏:

کہ ایں عَجوزہ عَروسِ ہزار داماد است

کل وہ سلطنت، ثَروَت، کَرّ و فَر، اَفسر و تاج؛ آج یہ مصیبت، اَذِیَّت، در بہ در، پیادہ پا سفر، محتاج۔ کبھی دو کوس، گاہ چار کوس، بے نَقّارہ و کُوس، بہ ہزار رنج و تَعَب چلتا۔ جو کچھ مُیَسَّرآیا، تو روزی ہوئی؛ نہیں تو رُوزہ۔ یوں ہی ہر رُوز راہ طَے کرتا۔ جب یہ نوبت پہنچی،چند روز میں ایک شہر ملا، مسافر خانے میں بادشاہ اترا۔ اتّفاقاً ایک سوداگر بھی کسی سمت سے وارِد ہوا۔ قافلہ باہَر اُتار، تنہا گھوڑے پر سوار، سَیر کرتا مہمان سرا میں وارِد ہوا۔ شہ زادی گو کہ گردِ راہ، صعوبتِ سفر کی مبتلا تھی ؛ لیکن اچّھی صورت کبھی چھپی نہیں رہتی۔ سعدی:ؔ

حاجتِ مَشّاطہ نیست روی دلآرام را

سوداگر کی آنکھ جو پڑی ؛ بہ یک نگاہ اَز خود رَفتَہ ہوا، سانس سینے میں اَڑی۔ بادشاہ کے قریب آ سلام کیا۔ یہ بیچارے اللہ کے ولی، وہ وَلَدُ الِزنا شقی۔ بادشاہ نے سلام کا جواب دیا۔ اِس عرصے میں وہ غدّار حیلہ سوچا، بہت فَسُردہ خاطر ہو کر کہا: اے عزیز! میں تاجِر ہوں، قافلہ باہَر اُترا ہے۔ میری عورت کو دردِ زِہ ہو رہا ہے۔ دائی کی تلاش میں دیر سے گدائی کر رہا ہوں، ملتی نہیں۔ تو مردِ بزرگ ہے، کج ادائی نہ کر، اس نیک بخت کو للہ میرے ساتھ کر دے ؛ تا اِس کی شِراکَت سے اُس کو رنج سے نَجات ملے ؛ وگرنہ بندۂ خدا کا مُفت خون ہوتا ہے، آدمی کا مر جانا زَبوٗں ہوتا ہے۔ یہ اللّٰہ کا نام سُن کر گھبرائے، بی بی سے کہا: زِہِے نصیب! جو محتاجی میں کسی کی حاجت بر آئے، کام نکلے۔ بسمِ اللّٰہ، دیر نہ کرو۔ اُس نے دَم نہ مارا، کھڑی ہو گئی، سوداگر کے ساتھ روانہ ہوئی۔ دروازے سے باہَر نکل اُس غریب سے کہا: قافلہ دور ہے، مجھےآئے ہوئے عرصہ گزرا ہے؛ آپ گھوڑے پر چڑھ لیں تو جلد پہنچیں۔ وہ فَلک سَتائی فریب نہ جانتی تھی، سوار ہوئی۔ سوداگر نے گھوڑے پر بِٹھا، باگ اُٹھائی۔ قافلے کے پاس پہنچ کے کوچ کا حکم دیا، آپ ایک سمت گھوڑا پھینکا۔ اُس وقت اُس نیک بخت نے داد بے داد، فریاد مچائی۔ تڑپی، ُروئی پیٹی، چِلّائی۔ آہ و زاری اِس کی، اُس بے رَحم، سنگ دل کی خاطر میں نہ آئی۔

بادشاہ پَہَر بھر مُنتَظِر رہا، پھر خیال میں آیا: خود چلیے، دیکھیے وہاں کیا ماجرا ہوا۔ بیٹوں کا ہاتھ پکڑے سرا سے نکلا۔ ہر چند ڈھونڈھا ؛ نشان کے سوا قافلے کا سُراغ نہ ملا۔ دور گردِ سیاہ اُڑتی دیکھی، جَرَس اور زَنگ کی صدا سُنی۔ نہ پاؤں میں دوڑنے کی طاقت، نہ بی بی کے چھوڑنے کی دل کو تاب ؛ سب طرح کا عذاب۔ نہ کوئی یار نہ غم گُسار۔ نہ خدا تَرس، نہ فریاد رَس۔ بہ حسرت و یاس قافلے کی سمت دیکھ یہ کہا، مصحفی:

تو ہمرہانِ قافلہ سے کہیو اے صبا
ایسے ہی گر قدم ہیں تمھارے، تو ہم رہے

لاچار، لڑکوں کو لے کر اُسی طرف چلا۔ چند گام چل کر اضطراب میں راہ بھول گیا۔ ایک ندی حائل پائی، مگر کشتی نہ ڈُونگی نہ مَلّاح۔ نہ راہ سے یہ آشنا، نہ وہاں سَیّاح کا گُزارا۔ کَنارے پر دریا کے خاک اُڑا کے ایک نعرہ مارا اور ہر طرف ماہیٔ بے آب سا واہی تباہی پھرا، رَہ برِ کامل کو پُکارا ؛ ساحِلِ مطلب سے ہَم کِنارنہ ہوا، بیڑا پار نہ ہوا۔ مگر کچھ ڈَھب ڈَھبانے کا ڈَھب تھا، گو گھاٹ کُڈھب تھا ؛ ایک لڑکے کو کنارے پر بِٹھا، چُھوٹے کو کندھے پر اُٹھا، دریا میں در آیا۔ نِصف پانی بہ صَد گرانی طَے کیا تھا ؛ کَنارے کا لڑکا بھیڑیا اُٹھا لے چلا۔ وہ چِلّایا، بادشاہ آواز سُن کر گھبرایا۔ پِھر کر دیکھنے لگا جو لگا، کندھے کا لڑکا پانی میں گر پڑا۔ زیادہ مُضطَرِب جو ہُوا، خود غُوطے کھانے لگا، لیکن زندگی باقی تھی، بہرکیف کَنارے پر پہنچا۔ دل میں سمجھا: بڑے بیٹے کو بھیڑیا لے گیا، چُھوٹا ڈوب کے مُوا۔ نَیرنگیٔ فلک سے عالَمِ حیرت، بی بی کے چُھٹنے کی غیرت۔ بیٹوں کے اَلَم سے دل کباب، سلطنت دینے سے خستہ و خراب۔

اِسی پریشانی میں شُکر کرتا پھر چلا۔ سہ پَہَر کو ایک شہر کے قریب پہنچا۔ دَرِ شہر پناہ پر خلقت کی کثرت دیکھی، اُدھر آیا۔ اُس مُلک کا یہ دستورتھا: جب بادشاہ عازِمِ اِقلیمِ عَدَم ہوتا؛ اَرکانِ سلطنت، روسائے شہر وہاں آکر باز اُڑاتے تھے۔ جس کے سر پر بیٹھ جاتا، اُسے بادشاہ بناتے تھے۔ چُنانچہ یہ روز وہی تھا۔ باز چھوڑ چکے تھے، ابھی کسی کے سر پر نہ بیٹھا تھا۔ اس بادشاہِ گدا صورت کا پہنچنا، باز اِس کے سر پر آ بیٹھا۔ لوگ معمول کے مُوافِق حاضر ہوئے، تخت رو بہ رو آیا۔ ہر چند یہ تخت پر بیٹھنے سے باز رہا، کہا: مَیں گُم کردہ آشِیاں سلطنت کے شایاں نہیں ہوں۔ میں نے اِسی عِلَّت سے اپنے مَرز بومِ شوم کوچھوڑا ہے، حکومت سے منہ موڑا ہے۔ مگر وہ لوگ اِس کے سر پر باز کا بیٹھنا، عَنقا سمجھ، نہ باز رہے۔ جوجو شاہیں تھے تاڑ گئے، پَربیں پہچان گئے کہ یہ مُقَرَّر ہُمائے اَوجِ سلطنت ہے۔ قصّہ مختصر، رَگَڑ جھگڑ تختِ طاؤس پربِٹھا نَذریں دیں، تُوپ خانے میں شلّک ہوئی۔ بڑے تُزک، حَشمت سے آشِیانۂ سلطنت، کاشانۂ دولت میں داخل کیا۔ تمام قلمرو، نقد وجِنس، اَشیائے بَحری وبَرّی اِن کے تَحتِ حکومت، قبضۂ تَصرُّف میں آیا۔ گَز، سکّے پر نام جاری ہوا۔ مُنادی نےنِدا دی، دُہائی پِھر گئی کہ جو ظُلم و جَور کا بانی ہوگا؛ وہ لَٹُورا، گردن مارا جائے گا، سزا پائے گا۔ سوز:

پَل میں چاہے تو گدا کو وہ کرے تخت نشین
کچھ اچنبھا نہیں اِس کا کہ خدا قادِر ہے

کارخانۂ قدرت عجیب وغریب ہیں؛ نہ اِعِتمادِ سلطنت، نہ قِیامِ غُربت و عُسرت۔ مرزا رفیع:

عَجَب نادان ہیں، جن کو ہےعُجبِ تاجِ سُلطانی
فلک بالِ ہُما کو پَل میں سَونپے ہے مگس رانی

یہ سلطنت توکرنے لگا مگر فُسُردَہ خاطِر، پَژمُردَہ دِل۔ بہ سَبَبِ شرم و حیا مُفَصَّل حال کسی سے نہ کہتا تھا، شب و روز غمگین واَندُوہ ناک پڑا رہتا تھا۔ جب وہ بُلبُلِ ہزار داستان یعنی فرزند، شمع دوٗدماں یاد آتے تھے؛ دن کو پیشِ چشم اندھیرا ہوجاتا، ظِلِّ سبحانی کوٗ کوٗ کرکے نالہ و فریاد مچاتے تھے۔

اب اُن لڑکوں کا حال سُنیے۔ جس کو بھیڑیا لیے جاتا تھا، اُدھر سے کوئی تیراَندازِ سبک دَسْت آتا تھا؛ اُس نے چُھڑایا۔ دوسرا جو غُوطے کھاتا تھا، بِلبِلاتا تھا؛ اُس کوماہی گیرنے دامِ مَحبّت میں اُلجھایا، کَنارہ دکھایا۔ وہ دونوں لا وَلَد تھے، اُسی شہر کے رہنے والے جہاں اِن لڑکوں کا باپ بادشاہ ہوا تھا۔ وہ اپنے اپنے گھر میں لا، بہ قَدَرِ مَقدوٗر لڑکوں کو پرورش کرنے لگے۔ جَلَّ جَلالُہٗ! کیا سنگِ تَفرِقَہ فلک نے پھینکا کہ ایک دوسرے کے سنگ نہ رہا، جُدا ہو گیا۔ چند عرصے تک بادشاہ نے ضبط کیا، آخر بیٹوں کی مُفَارَقَت نے بے چین کیا؛ وزیر سے فرمایا: دو لڑکے قومِ شریف سےہماری صحبت کے قابل ڈھونڈھ لاؤ، ہمارا دل بہلاؤ۔ وزیر نے تمام شہر کے لڑکے طلب کیے۔ حکم حاکم مرگِ مُفاجات! وہ دونوں بھی آئے۔ سبحانَ اللہ! جامِعُ الْمُتَفَرِّقین بھی اُسی کا نام ہے، بچھڑے مِلانا اُس کے روبہ رو کتنا کام ہے! بس کہ صورت و سیرت دونوں کو خالق نے عطا کی تھی، شاہ زادے تھے؛ وہی وزیر کو پسند آئے، رو بہ رو لایا۔ بہ سَبَب طوٗلِ زَمانِ مفارَقَت اورتکلیف وعُسرت نقشے بدل گئےتھے، قَطع اَور ہو گئی تھی؛ نہ بادشاہ نے پہچانا، نہ تقاضائے سِن سے لڑکوں نے باپ جانا اور نہ یہ سمجھ آئی کہ ہم دونوں بھائی ہیں۔ یہ بھی قدرت نُمائی ہے، بہم ہوئے مگرجُدا رہے؛ لیکن جوشِ خوں سےبادشاہ کا حال دِگرگوٗں ہوا؛ دونوں پر بہ مَحبّتِ تمام مصروفِ عنایت عَلَی الدوام رہا۔سب نے سُنا ہے، کامل کا یہ نکتہ ہے:کُلُّ اَمْرٍ مَرْھــوْنٌ بِاَوْقَــاتِــهٖ۔ تھوڑے دن میں معتمد و مقرب ہوئے۔

اور وہ سوداگر جَو فَروشِ گَندُم نُما، دغا کا پُتلا یہاں کے پہلے بادشاہ سے رَسائی، عَمْلے سے شَناسائی رکھتا تھا ؛ اِس نظر سے وہ بھی اُس عورتِ ناراض کو لے کر وہاں واِرد ہوا۔ خبر مَرگِ بادشاہ سُن کر مَلوٗل ہوا کہ مطلب نہ حُصوٗل ہوا۔ لوگوں نے کہا: بادشاہِ تازہ اُس سے زیادہ خلیق و غریب پَروَر ہے۔ بہ وَساطَتِ وزیراعظم تحفہ تحفہ تَحائِف لے کے حُضور میں حاضر ہوا، نذر گُزرانی، شَرَفِ عَتْبہ بوس حاصل ہوا۔ ایک نظر تو دیکھا تھا، بادشاہ نے نہ پہچانا، نہ سوداگر نے حریف جانا ؛ مگر بادشاہ اُس کو ذی اِعِتبار، سَیّاحِ دِیار دِیارسمجھ بیش تر اَطراف وجَوانِب کا مذکور سُنتا تھا۔

ایک دن قریبِ شام حُضور میں حاضر تھا، بادشاہ نے فرمایا: آج کی شب گھر نہ جا، کچھ دیٖدہ و شَنیدہ حکایت ہم کو سُنانا۔ وہ بیٹھا تو مگر مُکَدر، پریشان۔ بادشاہ نے تَرَدُّد کا سبب پوچھا۔ یہ بَاعِثِ عنایت فِی الجملہ گستا خ ہو چلا تھا، دست بَسْتہ عرض کی: خانہ زاد کے پاس ایک عورتِ ناراض ہے، اُس کوفِدوی سے اِغماض ہے؛ اُس کی نگہ بانی، حفاظت بہ ذاتِ خود کرتا ہوں۔ بہ مرتبہ ڈرتا ہوں ایسا نہ ہو، نکل کے رازِ پِنہاں فاش کرے، حِمایتی تلاش کرے۔ حکم ہوا یہ مقدمہ آج ہمارے ذمے ہے۔ وہی لڑکے بس کے معتمد تھے؛ خاص دستہ ان کے ہمراہ کر، پاسبانی کی تاکید اَکید کی۔ لڑکے آداب بجا کے، سوداگر کے مکان پر گئے۔ باغ میں خیمہ برپا تھا، درِ خیمہ پر کرسی بچھا دونوں بیٹھے تھے۔ پاسبان آس پاس پھرنے لگے۔جب آدھی رات ہوئی، ایک کو نیند آنے لگی، دوسرے نے کہا:سونا مناسب نہیں؛ ایسا نہ ہو کوئی فتنۂ خوابیدہ جاگے، خیمے سے کوئی چونک بھاگے۔ وہ بولا: تو ایسا فسانہ کہو جو نیند اچٹنے کا بہانہ ہو۔ اس نے کہا خیر، آج ہم اپنی سر گذشت کہتے ہیں؛ اگر غور سے سنو گے؛ نیند کیا، کئی روز بھوک پیاس پاس نہ آئے گی، عبرت ہو جائے گی۔ اے عزیز ِ با تمیز! میں بادشاہ یمن کا لعل ہوں۔ میرا باپ للہ سلطنت سائل کو دے؛ مجھے اور میرا چھوٹا بھائی کہ وہ تم سے بہت مشابہ تھا،  اس کو اور اپنی بی بی کو ہمراہ لے کر، غریب الوطن ہوا تھا۔ راہ میں ایک سوداگر فریب سے شہ زادی کو لے گیا،ہم دونوں بھائی ساتھ رہے۔ آگے چل کر دریا ملا۔ ناؤ بیڑا کچھ نہ تھا۔ بادشاہ مجھ کو کنارے پر بٹھا چھوٹے کوکنارِ شفقت میں اٹھا،  کندھے پر چڑھا پار چلا۔ مجھے بھیڑیے نے پکڑا، میرے چلانے سے بادشاہ جو بد حواس ہوا، بھائی دوش پر سے آغوش دریا میں کھسک پڑا۔ خود غوطے کھانے لگا۔ پھر نہیں معلوم کیا گزرا۔ مجھے تیر انداز نے دہنِ گرگ سے چھڑایا، اب فلک اس بادشاہ پاس لایا۔

وہ رو کر لپٹ گیا، کہا: بھائی دریا میں ہم گرے تھے، مچھلی والوں کے باعث ترے تھے۔ پھر تو بغل گیر ہو ایسےچلائے کہ وہ عورت نیند سے چونک پڑی۔ پردے کے پاس آ کے حال پوچھنے لگی۔ انھوں نے ابتدا سے انتہا تک وہ داستانِ مصیبت بیان کی۔ وہ پردہ الٹ جھٹ پٹ لڑکوں سے لپٹ گئی، کہا: ہم اب تک سوداگر کی قید میں مجبور ہیں، سب سے دور ہیں۔ اسی دم یہ خبر بادشاہ کو پہنچی۔ سواری جلد بھیجی، رو بہ رو طلب کیا۔ اس وقت باہم دگر سب نے پہچانا۔ فوراََ سوداگر کو قید کیا۔ باقی رات مفارقت کی حکایت میں گزر گئی۔  صبح دم جلادِ سپہر یعنی بے مہر مہر جب شمشیر شعاع کھینچ کر ہنگامہ پرداز عالم ہوا، سوداگر کو کاروان عدم کا ہم سفر کر کے بار ہستی سے سبک دوش کیا۔

یمن میں اخبار نویسوں نے یہ حال لکھا۔ وہاں عجب ہڑبونگ مچا تھا۔ وہ سائل ستم شعار بہ درجہ ظلم پیشہ و جفا کار نکلا۔ رعیت نالاں، ارکانِ سلطنت ہراساں رہتے تھے، ہزاروں رنج رات دن سہتے تھے۔ جب یہ خبر وہاں پہنچی، وزیر نے بہ صلاح رئیسانِ شہر زہر دے کر اسے مارا۔ تلخ کامی سے سب کونجات ملی اور عرض داشت اپنے بادشاہ کو لکھی، تمنائے قدم بوس تمام شہر کی تحریر کی۔ بادشاہ کے بھی محبتِ وطن دل میں جوش زن ہوئی۔ سفر کی تیاری ہونے لگی۔ قطعہ:

حب وطن از ملک سلیماں خوشتر
یوسف کہ بہ مصر بادشاہی میکرد
خار وطن از سنبل و ریحاں خوشتر
میگفت گدا بودنِ کنعاں خوشتر

القصہ یمن میں آیا۔ دونوں سلطنتیں قبضے میں رہیں۔

جب بندر نے فسانہ تمام کیا، پھر کہا کہ اے نیک بخت! مطلب اس کہانی سے یہ تھا کہ جو بادشاہ عاشقِ اللہ، خدا پر شاکر تھا، ایک سلطنت دی، دو پائیں۔ یہ دونوں بدبَخْت جو لالچی تھے، انھوں نے جانیں گنوائیں۔ قِیامت تک مَطْعونِ خَلائِق رہیں گے۔ جتنے نیک ہیں؛ یہ قِصّہ سُن کر، بد کہیں گے۔ رنڈی اِن باتوں سے بَرسَر رحم ہوئی، بندر کی تسکین کی، کہا: تو خاطر جمع رکھ، جب تک کہ جیتی ہوں، تجھے بادشاہ کو نہ دوں گی، فاقہ قبول کروں گی۔ پھر اُسے رُوٹی کھلا، پانی پِلا، کھنڈری میں لِٹا، سو رہی۔

صبح کو چِڑی مار اُٹھا، بندر کے لے جانے کا قَصْد کیا۔ عورت نے کہا: آج اَور قسمت آزما، پھر جانور پکڑنے جا۔ جو رُوٹی مُیسّر آئے تو کیوں اِس کی جان جائے؛ ہم پر ہَتیا لگے، بد نامی آئے۔ نہیں تو کل لے جانا۔ وہ بولا: تو اِس کے دَم میں آ گئی۔ بندر نے کہا: ماشاء اللہ! رنڈی تو خدا پر شاکِر ہے، تو مرد ہو کر مُضْطَر ہے؟ پاجی تو زَن مُرید ہوتے ہی ہیں، پھر وہ پٹک جھٹک؛ جال، پھٹکی اُٹھا؛ لاسا، کَمپالے؛ ٹَٹّی کندھے سے لگا گھر سے نِکلا۔ یا تو دن بھر خراب ہو کر دو تین جانور لاتا تھا؛ اُس رُوز دو پَہَر میں پچاس ساٹھ ہاتھ آئے، پھٹکی بھر گئی۔ خوش خوش گھر پھرا۔ کئی روپے کو جانور بیچے۔ آٹا، دال، نُون، تیل، لکڑی خرید، تھوڑی مٹھائی لے، بھٹی پر جا کے ٹکے کا ٹھرّا پیا۔ ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ جھومتے، گیت گاتے گھر کا رستہ لیا، مُفلسی کا غم بچہ بھول گئے۔ جُورو سے آتے ہی کہا: اَری! ہَنومان جی کے کدم بڑے بھاگوان ہیں۔ بھگوان نے دَیا کی، آج رُپیّا دلوائے، اِتنے جانور ہاتھ آئے۔ وہ گھر بَسی بھی بہت ہنسی۔ پہلے مٹھائی بندر کو کھلائی؛ پھر روٹی پکا، آپ کھا، کچھ اُسے کھلا، پڑ رہی۔ بندر بچارا سمجھا: چَندے پھر جان بچی، جو فلک نہ جل مرے اور اِس کا بھی رشک نہ کرے۔ مُؤلِّف:

کیا شاخِ گُل پہ پھول کے بیٹھی ہے عَنْدلیب
ڈرتا ہوں مَیں، نہ چشمِ فلک کو بُرا لگے
جب لایا، بارِ یاس ہی لایا یہ، اے سُرورؔ
گاہے نہ نَخلِ غم میں ثَمَر اِس سِوا لگے

اب روز بہ روز چِڑی مار کی ترقّی ہونے لگی۔ تھوڑے دنوں میں گھر بار، کپڑا لَتَّہ، گہنا پاتا درست ہو گیا۔ قَضارا، کوئی بڑا تاجِر سَرا میں اُس بھٹیاری کے گھر میں اُترا، جس کی دیوار تلے چِڑی مار رہتا تھا۔ ایک روز بعد نمازِ عِشا سوداگر وظیفہ پڑھتا تھا؛ نا گاہ آوازِ خوب، صدائے مرغوب، جیسے لڑکا پیاری پیاری باتیں کرتا ہے، اُس کے کان میں آئی۔ بھٹیاری سے پوچھا: یہاں کون رہتا ہے؟ وہ بولی: چِڑی مار۔ سوداگر نے کہا: اُس کا لڑکا خوب باتیں کرتا ہے۔ بھٹیاری بولی: لڑکا بالا تو کوئی بھی نہیں، فقط جُورو خَصَم رہتے ہیں۔ سوداگر نے کہا: اِدھر آ، یہ کس کی آواز آتی ہے؟ بھٹیاری جو آئی، لڑکے کی آواز پائی۔ وہ بولا: اِس صدا سے بوئے دردپیدا ہے؛ اِس کو میرے پاس لا، باتیں کروں گا۔ کچھ لڑکے کو دوں گا اور تیرا بھی مُنہ میٹھا کروں گا۔

بھٹیاری چِڑی مار کے گھر گئی۔ دیکھا: بندر باتیں کرتا ہے۔ اِسے دیکھ چُپ ہو رہا۔ وہ دونوں بھٹیاری کے پاؤں پر گر پڑے، مِنّت کرنے لگے، کہا: ہم نے اِسے بچّوں کی طرح پالا ہے، اپنا دُکھ ٹالا ہے۔ شہر پُر آشُوب ہو رہا ہے، بندر کُش بادشاہ اُترا ہے، ایسا نہ ہو، یہ خبر اُڑتے اُڑتے اُسے پہنچے؛ بندر چھن جائے، ہم پر خرابی آئے۔ وہ بولی:مجھے کیا کام جو ایسا کلام کروں۔ سَرا میں آ کے سوداگر سے کہا: وہاں کوئی نہ تھا۔ اُس نے کہا: دیوانی! ابھی وہ آواز کس کی تھی؟ بہ غَور سُنیے کہ کیا معقول جواب وہ نامعقول دیتی ہے: بَلَیّاں لوں، بھلا مجھے کیا غَرض جو کہوں: بندر بولتا ہے۔ سوداگر خوب ہنسا، پھر کہا: تو سِڑن ہے، اری بندر کہیں بولا ہے! پھر بولی: جی گریب پَروَر! صدکے گئی؛ اِسی سے تو مَیں بھی نہیں کہتی ہوں کہ بندر بولتا ہے، اور چِڑی مار کی جورو نے بتانے کو منع کیا ہے۔ سوداگر کو سخت خَلْجان، بہ مرتبہ خَفْقان ہوا کہ یہ کیا ماجرا ہے! مکان قریب تھا، خود چلا گیا۔ دیکھا تو فِی الحقیقت ایک عورت، دوسرا مردِ مُچھنْدَر، تیسرا بندر ہے۔ یقینِ کامل ہوا یہی بندر بولتا تھا۔ بھٹیاری سچّی ہے، گو عقْل کی کچّی ہے۔ وہ سوداگر کو دیکھ کے بندر کو چھپانے لگے، خوف سے تھرّانے لگے۔ اِس نے کہا: بھید کھل گیا، اب پوشیدہ کرنا اِس کا لا حاصل ہے۔ مَصلَحت یہی ہے، بندرہمیں دو۔ جو اِحتِیاج ہو، اِس کے جِلدو میں لو۔ نہیں تو بادشاہ سے اِطّلاع کروں گا، یہ بے چارہ مارا جائے گا، چھپانے کی علّت میں تمھارا سر اُتارا جائے گا، میرا کیا جائے گا۔ وہ دونوں رُونے پیٹنے لگے۔ بندر سمجھا: اب جان نہیں بچتی، اِتنی ہی زیست تھی؛ چِڑیمار سے کہا: اے شخص! فلکِ کج رفتار، گَردونِ دَوّارنے اِتنی جفا پر صبر نہ کیا، یہاں بھی چَین نہ دیا ؛ مناسب یہی ہے رَضائے اِلٰہی پر راضی ہو، مجھے حوالے کر دو۔ قضا آئی، ٹلتی نہیں۔ تقدیر کے آگے کسی کی تدبیر چلتی نہیں۔ فَردِ بَشَر کو حکم قضا و قَدَر سے چارہ نہیں، اِس کے ٹال دینے کا یارا نہیں۔ إِذَا جَــآءَ أَجَلـــُهُمْ فَلَا يَسْتَـــأخِرُونَ سَاعَــةً وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ۔

چِڑیمار نے کہا: دیکھو بندر کی ذات کیا بے وفا ہوتی ہے! ہماری محنت و مشقت پر نظر نہ کی، توتے کی طرح آنکھ پھیر لی، سوداگر کے ساتھ جانے کو راضی ہو گیا۔ بڑا آدمی جو دیکھا، ہمارے پاس رہنے کا مطلق پاس نہ کیا۔ بندر نے کہا: اگر نہ جاؤں، اپنی جان کھوؤں، تم پر خرابی لاؤں۔ آخر کار بہ ہزار گریہ و زاری سوداگر سے دونوں نے قسم لی کہ بادشاہ کو نہ دینا، اچھی طرح پَروَرِش کرنا۔ یہ کہہ کر بندر حوالے کیا۔ سوداگر نے اِس کے عوض بہت کچھ دیا۔ بندر کو سَرا میں لا پیار کیا، بہ دل داری و نرمی حال پوچھا۔ بندر نے یہ چند شعر حَسْبِ حال، سودا کے، سوداگر کے رو بہ رو پڑھے، مرزا رفیع:

نے بلبلِ چمن، نہ گُل نَو دَمیدہ ہوں
گریاں بہ شکل شیشہ و خَنداں بہ شکلِ جام
میں کیا کہوں کہ کون ہوں سودا! بہ قولِ دردؔ
میں مَوسَمِ بہار میں شاخِ بُریدہ ہوں
اِس مَے کدے کے بیچ عَبَث آفریدہ ہوں
جو کچھ کہ ہوں سو ہوں، غرض آفت رسیدہ ہوں

اے عزیز! آتَشِ کارواں، نقشِ پاے یارانِ رَفتَگاں ظاہر ہوں؛ مگر پنہاں ہوں بلبلِ دور اَز گُلزار، گُم کردہ آشِیاں؛ صیّاد آمادۂ بیداد، گھات میں باغباں؛ کیوں کر نہ سرگرمِ فغاں ہوں۔ حضرتِ عشق کی عِنایت ہے، احبابِ زمانہ کی شکایت ہے، طُرفَہ حکایت ہے کہ حاجت رَوائے عالَم، محتاج ہے۔ تخت ہے نہ اَفسر ہے، نہ وہ سر ہے نہ تاج ہے۔ غریب دِیار، چرخ موجِدِ آزار۔ شفیق و مہرباں نہیں، حالِ زار کا کوئی پُرساں نہیں۔ حیرت کا کیوں نہ مبتَلا ہوں، اپنے ہاتھ سے اَسیرِ دامِ بَلا ہوں۔ خُود گرفتارِ پنجۂ ستم ہوا؛ کبھی مجھے جِن کا اَلَم تھا، اب انھیں میرا غم ہوا۔ مرنے سے اِس لیے ہم جی چھپاتے ہیں کہ ہمدم میرے فراق میں موئے جاتے ہیں۔ مجھے دامِ مکر میں اُلجھایا، دوستوں کو میرے دشمن کے پھندے میں پھنْسایا، گردشِ چرخِ ستم گار سے عجیب سانِحۂ ہُوش رُبا سامنے آیا۔ میر تقی:

سخت مشکل ہے، سخت ہے بیداد
کوئی مشفق نہیں جو ہووے شفیق
آہ، جو ہمدمی سی کرتی ہے
اب ٹھہرتا نہیں ہے پائے ثَبات
ایک مَیں خوں گرِفتہ، سَو جلّاد
بے کَسی چھٹ، نہیں ہے کوئی رفیق
اب تو وہ بھی کمی سی کرتی ہے
ایک مَیں اور ہزار تَصْدیعات

مصر؏:

گویم، مشکل و گر نگویم، مشکل

مگر آج خوش قسمتی سے آپ سا قَدْر داں ہاتھ آیا ہے، اِنتِشارِ طبیعت بَر طَرف ہو تو بہ دِل جَمْعِیٔ تمام، آغاز سے تا انجام اپنی داستانِ غم، سانحۂ ستم گُزارِش کروں گا۔ سوداگر کے، اِس مضمونِ درد ناک سے، آنْسو نکل پڑے، سمجھا: یہ بندر نہیں، کوئی فَصیح و بَلیغ، عالی خاندان، والا دودمان سحر میں پھنس گیا ہے، کہا: اطمینانِ خاطر رکھ، تیری جان کے ساتھ میری جان ہے، اب زیست کا یہی سامان ہے۔ بندر کو تسکینِ کامل حاصل ہوئی۔ غزلیں پڑھیں، نَقْل و حِکایات میں سَرگرم رہا، اپنا حال پھر کچھ نہ کہا۔ تمام شب سوداگر نہ سویا، اِس کے بیانِ جاں کاہ پر خوب رُویا۔

اب بہت تعظیم و تکریم سے بندر رہنے لگا۔ مگر اَمرِ شُدنی بہر کیف ہُوا چاہے۔ راز فاش ہو، اگر خُدا چاہے۔ سوداگر کا یہ انداز ہوا: جو شخص نیا اِس کی ملاقات کو آتا، اُسے بندر کی باتیں سُنواتا۔ اُس کو اِستِعجاب سے فِکر ہوتا، اِس کا ہر جگہ ذِکر ہوتا۔ آخِرَش، اِس کی گویائی کا چرچا کوچہ و بازار میں مچا اور یہ خبر اُس کُور نمک، مُحسن کُش کے گوش زَد ہوئی۔ سُنتے ہی سمجھا یہ وہی ہے، بعدِ مُدّت فلک نے پتا لگایا، اب ہاتھ آیا۔ فوراً چوبدار بندر کے لینے کو، سوداگر کے پاس بھیجا۔ یہ بہت گھبرایا۔ اَور تو کچھ بَن نہ آیا، بہ صَد عجزو نِیاز عرضْداشت کی کہ غلام صاحبِ اَولاد نہیں، اِس اَندوہ میں دل مُضطر شاد نہیں۔ طبیعت بہلانے کو اِسے بچّہ سا لے کر فرزندوں کی طرح بڑی مَشقّت سے پالا ہے، رات دن دیکھا بھالا ہے۔ بندر ہے، مگر عَنْقا ہے۔ مُفارَقت اِس کی خانہ زاد کی جان لے گی، آئندہ جو حضور کی مرضی۔

چوبدار یہاں سے خالی پھرا، وہ ظالِم اَظْلَم غَضَب میں بھرا، وہاں کے بادشاہ کو لکھا کہ اگر سلطنت اور آبادیٔ مَمْلکَت اپنی منظور ہو، سوداگر سے جلد بندر لے کر یہاں بھیج دو۔ نہیں تو اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا، نام و نشاں مِٹا دوں گا۔ یہ خبرِ وحشت اَثَر سُن کے غَضَنْفر شاہ مُتردِّد ہوا۔ مُشیرانِ خوش تدبیر، امیر وزیر سمجھانے لگے کہ خُداوندِ نعمت! ایک جانور کی خاطر آدمیوں کا کُشْت و خوں زَبوں ہے۔ حکم ہوا: کچھ لوگ سرکاری وہاں جائیں؛ جس طرح بَنے، سوداگر سے بِگڑ کر، بندر اُس کی ڈیوڑھی پر پہنچائیں۔ جب بادشاہی خاص دستہ سَرا میں آیا؛ بندر دست بَسْتَہ یہ زبان پر لایا کہ اے مونسِ غم گُسار، وفا شِعار! اِس اَجَل رَسیدَہ کے باب میں کَدو کوشش بے کار ہے، سَراسَر بیجا ہے۔ قضا کا زمانہ قریب پہنچا، دَرِ ناکامی وا ہے۔ مَبادا، کسی طرح کا رنج میری دوستی میں تمھارے دشمنوں کو پہنچے؛ تو مجھے حَشْر تک حِجاب و نَدامت رہے، خلقِ خُدا یہ ماجرا سُن کے بُرا بھلا کہے۔ سوداگر نے کہا: اسْتَغْفِرُاللّٰہ یہ کیا بات ہے! جو کہا، وہ سر کے ساتھ ہے۔

جب بادشاہ کے لوگوں کا تقاضائے شَدید ہوا اور دن بہت کم رہا؛ بعدِ رَدّ و قدح، بہ مَعذِرَتِ بِسیار و مِنَّت بے شُمار، ہزار دینار دے کے اُس شب مُہلت لی اور صُبْح کے چلنے کی ٹھہری، بہ موجِبِ مثل، مصر؏:

زر بر سَرِ فولاد نہی، نرم شود

اِس عرصے میں یہ حال تباہ، ماجرائے جان کاہ گلی کوچے میں زبان زَدِ خاص و عام ہوا کہ ایک بندر کسی سوداگر کے پاس باتیں کرتا تھا، وہ بھی کل مارا جائے گا۔ بہ حَدِّے کہ اُس کشتہ اِنتِظار، مایوسِ دل فِگار یعنی ملکہ مہر نگار کو بھی معلوم ہوا۔ وہ شیدائے جانِ عالم سمجھی کہ یہ بندر نہیں، شہ زادہ ہے۔ افسوس! صد ہزار افسوس! اب کون سی تدبیر کیجیے جو اِس بے کس کی جان بچے! دل کو مَسُوس، وزیر زادے کو کوس، لوگوں سے پوچھا: دَمِ سحر کدھر سے وہ سوداگر جائے گا؟ یہ تماشا ہمارے دیکھنے میں کیوں کر آئے گا؟ لوگوں نے عرض کی: حضور کے جھروکے تلے شاہراہ ہے، یہی ہر سمت کی گزرگاہ ہے۔ یہ سُن کے تمام شب تڑپا کی، نیند نہ آئی۔ دو گھڑی رات سے برآمدے میں برآمد ہوئی اور ایک توتا پنْجرے میں پاس رکھ لیا۔ گَجَر سے پیشتر بازار میں ہُلّڑ، تماشائیوں کا میلا سا ہو گیا۔ جس وقت تاجِرِ ماہ نے مَتاعِ انجم کو نِہاں خانۂ مغرب میں چھپایا اور خُسروِ رنگیں کُلاہ نے بندرِ مشرق سے نکل کر تختِ زَنگاری پر جُلوس فرمایا ؛ سوداگر نمازِ صُبْح پڑھ کر ہاتھی پر سوار ہوا۔ کمر میں پِیش قَبض رکھ، گود میں بندر کو بِٹھا، مرنے پر کمر مضبوط باندھ کر مجبور چلا۔ بندر سے کہا: پریشان نہ ہو، جب تقریر سے اور اِصرافِ کثیر سے کام نہ نکلے گا؛ جو کچھ بَن پڑے گا، وہ کروں گا۔ اپنے جیتے جی تجھے مرنے نہ دوں گا۔ قولِ مَرداں جان دارد۔ اور، مصر؏:

بعد از سَرِ من کُن فَیَکوْں شُد، شُدہ باشد

سوداگر کا سَر اسے سَراسیمَہ آگے بڑھنا کہ خلقت نے چار طرف سے گھیر لیا۔ بندر لوگوں سے مُخاطِب ہو کے یہ کہنے لگا، میر سوز:

برقِ تَپیدہ، یا شَرَرِ بَر جہیدہ ہوں
جس رنگ میں ہوں مَیں، غرض از خودر میدہ ہوں
اے اہلِ بزم! مَیں بھی مُرَقّع میں دَہْر کے
تصویر ہوں، وَلے لَبِ حسرت گزیدہ ہوں
صیاد! اپنا دام اُٹھا لے کہ جوں صبا
ہوں تو چمن میں، پر گُلِ عشرت نچیدہ ہوں
اے آہ و نالہ! مجھ سے نہ آگے چلو کہ مَیں
بچھڑا ہوں کارواں سے، مسافر جَریدہ ہوں
غم ہوں، الم ہوں، درد ہوں، سوز و گداز ہوں
سب اہلِ دل کے واسطے مَیں آفریدہ ہوں

صاحِبو! دُنیائے دوں، نیرنگیٔ زمانۂ سِفْلَہ پَروَر، بو قَلموں عبرت و دید کی جا ہے۔ گرما گرم آئندہ رَوِندہ کا بازار ہے۔ کَس و ناکَس جِنْسِ نا پائیدار، لَہْو و لَعب کا خریدار ہے۔ اپنے کام میں مصروف قضا ہے۔ جو شَے ہے، ایک روز فنا ہے۔ مُعاملاتِ قضا و قَدَر سے ہر ایک ناچار ہے، یہی مسئلہ جبر و اِختیار ہے۔ کوئی کسی کی عداوت میں ہے، کوئی کسی کا شیدا ہے۔ جسے دیکھا، آزاد نہ پایا؛ کسی نہ کسی بکھیڑے میں مبتَلا ہے۔ ایک کو اتنا سوجھتا نہیں کیا لین دین ہو رہا ہے۔ سُود کی اُمّید میں سَراسَر زِیاں ہے؛ سِڑی ہونے کا سودا ہے۔ اُس کی قُدرتِ ناطِقَہ دیکھو: مجھ سے نا چیز، بے زَباں کو یہ تکلُّفِ گویائی عنایت کیا؛ تم سب کا سامِعُوں میں چہرہ لکھ دیا، باتیں سُننے کو ساتھ چلے آتے ہو۔ جُدائی میری شاق ہے، جو ہے وہ مشتاق ہے، حالِ زار پر رحم کھا آنسو بہاتے ہو۔ یہ رَحیمی کی صفت ہے؛ شانِ قہاری دیکھو: اُسی تقریر کی دھوم سے، ایک ظالِم شوم سے مجھ مظلوم کا مُقابلہ ہوتا ہے۔ یقینِ کامل ہے کہ وہ قتل کرے گا، بے گُناہ کے خون سے ہاتھ بھرے گا۔ سَوَادُ الْوَجْهِ فَی الدَّارَين ہو گا، تب اُسے آرام اور چَین ہو گا۔ یہ گویائی، گویا پیامِ مرگ تھا۔

دُنيا جائے آزمائش ہے۔ سَفیہ جانتے ہیں یہ مُقام قابلِ آرام و آسائش ہے۔ دو رُوزہ زیست کی خاطر کیا کیا ساز و ساماں پیدا کرتے ہیں۔ فرعونِ با ساماں ہو کے زمین پر پاؤں نہیں دھرتےہیں۔ جب سر کو اُٹھا آنکھ بند کر کے چلتے ہیں، خاکساروں کے سر کُچلتے ہیں۔ آخِر کار حسرت و ارماں فقط لے کر مرتے ہیں۔ جان اُس کی جُستُجو میں کھوتے ہیں جو شَے ہاتھ آئے ذِلّت سے، جمع ہو پریشانی و مَشقّت سے، پاس رہے خِسَّت سے، چھوٹ جائے یاس و حسرت سے۔ پھر سر پر ہاتھ دھر کر رُوتے ہیں۔ صُبح کو کوئی نام نہیں لیتا ہے، جو کسی اور نے لیا تو گالیاں دیتا ہے۔ ناسخ:

دُنیا اک زالِ بِیسوا ہے
بے مہر و وفا و بے حیا ہے
مَردوں کے لیے یہ زن ہے رہِ زن
دنیا کی عدو ہے، دیں کی دشمن
رہتی نہیں ایک جا پہ جم کر
پھرتی ہے بہ رنگِ نَرْد گھر گھر

انجامِ شاہ و گدا دو گز کفن اور تختۂ تابوت سے سوا نہیں۔ کسی نے اَدَھر سا، یا محمودی کا دیا، یا تحریرِ کربلا؛ کسی کو گَزی گاڑھا مُیسّر ہوا بہ صد کرب و بَلا۔ اُس نے صندل کا تختہ لگایا، اِس نے بیر کے چَیلوں میں چھپایا۔ کسی نے بعد سنگِ مَرمَر کا مقبرہ بنایا، کسی نے مَرمَر کے گور گڑھا پایا۔ کسی کا مزار مُطَلّا، مُنَقّش، رنگا رنگ ہے۔ کسی کی، مانِندِ سینۂ جاہِل، گور تنگ ہے۔ حسرتِ دنیا سے کفن چاک ہوا، بستر دونوں کا فرشِ خاک ہوا۔ نہ امیر سَمْور و قاقُم کا فرش بچھا سکا، نہ فقیر پھٹی شَطْرنْجی اور ٹوٹا بُوریا لا سکا۔ بعدِ چَنْدے، جب گردشِ چرخ نے گُنبد گرایا، اینٹ سے اینٹ کو بجایا تو ایک نے نہ بتایا کہ دونوں میں یہ گورِ شاہ ہے، یہ لحدِ فقیر ہے۔ اِس کو مَرگِ جوانی نصیب ہوئی، یہ استخوانِ بوسیدۂ پیر ہے۔ سو یہ بھی خوش نصیب، نیک کمائی والے گور گڑھا، کفن پاتے ہیں؛ نہیں تو سیکڑوں ہاتھ رکھ کر مر جاتے ہیں، لوگ “دَر گور” کہہ کر چلے آتے ہیں۔ کُتّے بِلّی، چیل کوّے بُوٹیاں نوچ نوچ کر کھاتے ہیں۔ دامنِ دَشتِ عُریاں کفن، گور بے چراغ، صحرا کا صحن ہوتا ہے۔ یاس و حسرت کے سوا کوئی نہ سِرہانے روتا ہے۔ تمنّا چھٹ کوئی پائِنْتی نہ ہوتا ہے۔

سالہا مَقْبروں کی عِماراتِ عالی اور ساز و ساماں کی دیکھا بھالی میں سریع السَّیر رہے، ہزاروں رنج گورِ بے چراغِ غَریباں کی دید میں بیٹھے بِٹھائے سہے؛ طُرفہ نَقْل ہے کہ والی وارث اُن کے سَریرِ سلطنت، مسندِ حکومت پر شب و رُوز جلوہ اَفروز رہے، مگر تنبیہ غافِلوں کو، قُدرتِ حق سے، گُنبدوں میں آشِیانۂ زاغ و زغن، میناروں پر مَسکَنِ بومِ شُوم، قبروں پر کُتّے لُوٹتے دیکھے۔ میر:

مزارِ غریباں تَاَسّف کی جا ہے
وہ سوتے ہیں، پھرتے جو کل جا بہ جا تھے

رنگِ چمن صَرفِ خِزاں دیکھا۔ ڈَھلا ہوا حُسنِ گُل رُخاں دیکھا۔ اگر گُلِ خنداں پر جوبن ہے، بہار ہے؛ غور کیا تو پہلوئے نازنیں میں نشتر سے زیادہ خَلشِ خار ہے، گریاں اُس کے حال پر بُلبلِ زار ہے۔ دُنیا میں دن رات زَق زَق بَق بَق ہے۔ کوئی چہچہے کرتا ہے، کسی کو قَلَق ہے۔ نُوش کے ساتھ گزندِ نیش ہے۔ ہر رہ رَو کو کڑی منزل در پیش ہے۔ ایک فقیر کے اِس نکتے نے بہت جی کُڑھایا، مگر سب کو پسند آیا کہ بابا! دن تھوڑا، سَر پر بوجھ بھاری، منزل دور ہے؛ مسافر کے پاؤں میں حرص کے چھالے، ہوس کی بیڑیاں، غفلت کا نشہ،راہ بے دیکھی، راہ بر ناپیدا؛ لیکن چلنا ضرور ہے۔ مؤلف:

بلبل کو خزاں میں جان کھوتے پایا
صیاد کو سر پٹک کے روتے پایا
گل چیں کی بھی نیند اڑ گئی، لیک سُرورؔ
جو اہل دَوَل تھے، ان کو سوتے پایا

مدتوں صدائے مُرغِ سحر کے رنج اٹھائے؛ کبھی دم نہ مارا، شکوہ لب پر نہ لائے۔ برسوں ندائے اللہ اکبر کے صدمے سہے؛ شُکر کیا، چُپ رہے۔ مہینوں گجر کی آواز نے دم بند کیا: قلق جی پر لیا، نالہ نہ بلند کیا۔ سوچے تو وصلِ مہ رویاں خواب شب تھا۔ لطف ان کا عین غضب تھا۔ تمام عالم کی خوب سیر کی؛ کبھی حرم محترم میں مسکن رہا، گاہ دھونی رمائی کنشت و دیر کی۔ عالم سے آیہ، فاضل سے حدیث، ناصح سے پند سُنا۔ ناقوسِ برہمن سُن سُن بُت ہو گئے، سر دُھنا۔ وہ بدکیش: مانع ملتِ صنم، لُطفِ زیست، حظِ نفس کا دشمن تھا۔ یہ کوتہ اندیش:رخنہ پردازِ اہل ایماں، دین کا رہ زن تھا۔ تامُل کیا تو ان دونوں سے دور حسد، بُغض، بیر ہونا معلوم۔ اپنے نزدیک ان کا انجام بہ خیر ہونا معلوم۔ واللہ اعلم یہ لوگ کیا سمجھے! خود اچھے ٹھہرے، اور کو بُرا سمجھے۔ مطلب کی بات ہیہات دونوں کی سمجھ میں نہ آئی۔ افراط تفریط نے گونگا بہرا کیا۔ لوگوں کو بے بہرہ کیا، ذلت دلوائی۔ سب سے بہتر نظر آیا کنج تنہائی۔ مؤلف:

اچھے کو بُرا، بُرے کو اچھا سمجھے
کتنی یہ بُری سمجھ ہے، اچھا سمجھے

دُنیا فقط راہ گُذر ہے۔ ہردم مثالِ تارِ نَفَس درپیش سفر ہےتازیست ہزاروں مفسدے ہیں، ڈر ہے۔ مرنے کے بعد بازپُرس مدِنظر ہے۔ کسی طرح انسان کو مفر نہیں۔ کون سا نفع ہے، جس کی تلاش میں بے سود ضرر نہیں۔ حاصل کار یہ ہے: دُنیا کی محبت دل سے کم کرے، کسی کے جینے کی خوشی نہ مرنے کا غم کرے، تامقدور خاطرِ فردِ بشر نہ برہم کرے؛ وگرنہ، شعر:

نیم شبے آہ زند پیر زال
دولتِ صد سالہ کند پایمال

دل شکستہ کی دل داری، پافُتادہ کی مدد گاری کرے۔ ہوا و ہوس جو دل سے دور ہو جائے، تو مال سے یا کمال سے عُجب و نخوت نزدیک نہ آئے۔ عنایت ایزدی پر قانع ہو۔ شکرِ ہر نعمت، سپاس خدمت کر کے، منہیات کا مانع ہو۔ رنج کا حامل رہے، سب رنگ میں شامل رہے۔ زمانے کے مکروہات سے گھبرائے نہیں، صحبت غیر جنس سے نفرت کرے، تو بدنامی پاس آئے نہیں۔ دولت کا اعتبار کیا، مُفلسی سے ننگ و عار کیا۔ ایک دن مرنا ہے، جینا مُستعار ہے، اس پر کس کا اختیار ہے۔ نیک عمل کا خیال رکھے کہ قید ہستی زیست کا نام ہے۔ رہائی ایک دن یہاں سے انجام ہے۔ باہمہ بے ہمہ رہنے میں مزہ ہے، باقی بکھیڑا ہے۔ شعر:

کسی کی مرگ پر اے دل نہ کیجے چشم تر ہر گز
بہت سا روئیے اُن پر جو اس جینے پہ مرتے ہیں

عُمر خضر کی تمنا اور حشمتِ خسرو، خزانہ قاروں کی فکر میں ہر ایک صباح و مسا ذلیل و خوار ہے۔ تحصیل لا حاصل ہے، کوشش اسامر میں سراسر بے کار ہے۔ بہ قول ناسخ:

ہاتھ آتی ہے کب علم و ہنر سے دولت
ملتی ہے قضا اور قدر سے دولت
جو علم و ہنر رکھتے ہیں، وہ ہیں محروم
مانوس ہے بل احمق و خر سے دولت

روپے کا جمع ہونا، جواہر کی تلاش میں ہیرا کھانا، دن کا جاگنا، چاندی سونے کی امید میں رات کا نہ سونا، سیمیں تن۔ لعل لبوں سے بہم ہونا جنھیں میسرہر بار ہے، انھیں مفارقتِ دنیا ناگوار ہے اور یہ کلام ہے، مولّف:

یاں کے جانے سے جی الجھتا ہے
کیا ہی دلکش سرائے فانی ہے

لیکن کبھی صبحِ عشرت، گاہ الم کی شام ہے، دنیا عجب مقام ہے۔ نہ امیر ہوتے عرصہ لگتا ہے، نہ فقیر بنتے کچھ دیر ہے، اس کارگاہِ بے ثبات میں یہ اندھیر ہے۔ سلف سے اہل کمال دنیا کے مال سے محروم رہے۔ جو سزاوارِ حکومت تھے، وہ محکوم رہے۔ شعر:

اسپ تازی شدہ مجروح بزیر پالاں
طوق زرّیں ہمہ در گردنِ خر می بینم

یہاں کی نیرنگیوں سے فارغ البالوں پر عرصہ تنگ رہا۔ مگر گردش چرخ کا وہی ڈھنگ رہا۔ سوداؔ:

ہے چرخ جب سے ابلق ایام پر سوار
رکھتا نہیں یہ ہاتھ عناں کا بہ یک قرار
جن کے طویلے بیچ، کئی دن کا ذکر ہے
ہر گز عراقی و عربی کا نہ تھا شمار
اب دیکھتا ہوں میں کہ زمانے کے ہاتھ سے
موچی سے کفش پا کو گٹھاتے ہیں وہ ادھار

اور جب وعدہ آ پہنچا تو نہ روپیہ کام آتا ہے، نہ فوج ظفر موج سے کچھ ہو، نہ تہمتنِ جرّار بچاتا ہے۔ نہ کوئی آشنا دوست آڑے آئے، نہ کوئی عزیز و اقربا پنجۂ ملک الموت سے چھڑائے۔ اگر یہی امر مانع قضا و قدر ہوتے ؛ جمشید و کاؤس، دارا وسکندر بہ صد حسرت و افسوس جان نہ کھوتے۔ نیک عمل کرے تو وہ ساتھ جاتا ہے۔ برے وقت میں احتیاج کسی کی بر لائے، یا للہ کسی کو کچھ دے؛ یہ البتہ کام بناتا ہے۔ اگر اپنے حال کو سوچے، تو منہ نوچے۔ بین العَدَمَین آدمی ہے، دنیا یہ بیچ کی سرا ہے؛ وگرنہ دنیا سراب، نقش برآب، زندگی بدتر از حباب ہے۔ پابند اس کا خراب، ترک کرنے والا نایاب ہے۔ ناسخ:

ترک دنیا کا سوچ کیا ناسخ
کچھ بڑی ایسی کائنات نہیں

شعر:

اس گلشن ہستی میں عجب سیر ہے لیکن
جب آنکھ کھلی گل کی تو موسم ہے خزاں کا

قطعہ:

دنیا خوابیست، کش عدم تعبیر است
صید اجل است گر جواں ور پیر است
ہم روی زمیں پُر است و ہم زیر زمیں
ایں صفحۂ خاک ہر دو رو تصویر است

اِلّا، مُقتضائے عقل یہ ہے کہ عالم اسباب میں کسی اسباب کا پابند نہ ہو، تعلقِ خاطر نہ رکھے۔ ہمیشہ اس نے بھلے سے بُرائی کی ہے۔ جو گیا یہاں سے، یعنی جہانِ گذراں سے، اس کا شاکی تھا بادشاہ سے فقیر تک، جوان سے پیر تک۔ حقیقت میں یہ نفسِ امارہ سخت ناکارہ ہے، اس کو بہر کیف زِیر کرے، زبردستی پچھاڑے۔ گردِ ہوا و ہوس سے دامنِ ہمت جھاڑے۔ شعر:

دیوانہ باش تا غمِ تو دیگراں خورند
آنرا کہ عقل بیش، غمِ روزگار بیش

یہاں کوئی ایسی بات خدا کی عنایات سے پیدا کرے تا صفحۂ روزگار پر چندے بہ نیکی نام یاد رہے۔ شعر:

اس طرح جی کہ بعد مرنے کے
یاد کوئی تو گاہ گاہ کرے

دُنیا میں کسی سے دل نہ لگائے کہ یہ کارخانہ بہت بے ثبات ہے۔ وصل سے فرحت، ہجر کی مصیبت اپنے سر پر نہ لائے کہ مر جانے کی بات ہے۔ معشوقِ باوفا عنقا کی طرح ناپیدا ہے اور پُر دغا ہرجائی ہر جا مہیا ہے۔ خواہش کا انجام کاہش ہے۔ تمنا دل سے دور کرنے میں جان کی آسائش ہے۔ مُؤلف:

کبھی نہ چین سے رہنے دیا تمنا نے
خراب و خستہ مَیں اس دل کی آرزو سے ہوا

مگر وائے غفلت، ہائے نادانی! کہ جب نشۂ جوانی کا موسم پیری میں خمار اُتار ہوتا ہے، اُس وقت آدمی سر پر ہاتھ دھر کر روتا ہے۔ وقتِ از دست رفتہ و تیر از شست جستہ کب ہاتھ آتا ہے۔ ناچار ہو، کفِ افسوس مل کے پچھتاتا ہے۔ گُذشتہ را صلوات کہہ کے دل کو سمجھاتا ہے۔

آدمیوں کو بندر کی تقریرِ دل خراش، پُر اثر سے عبرت و حیرت حاصل تھی۔ کبھی نصیحت و پند، گاہ کلامِ رنگین و دل چسپ بادلِ درد مند، کبھی سخنان وحشت افزا سُناتا چلا جاتا تھا۔ اہل دل، طبیعت کے گُداز روتے ساتھ آتے تھے۔ ہر فقرۂ پُر درد پر ضبط نہ ہو سکتا تھا، چلاتے تھے۔ خلقِ خدا، جنازے کی طرح ہاتھی کے ہمراہ تھی۔ ایک عالم کے لب پر نالے تھے، فُغان و آہ تھی۔ اسی سامان سے ملکہ کے جھروکے تلے پہنچے۔ وہ منتظر تمام شب، نالہ بہ لب، سوداگر سے فرمانے لگی ایک دم ٹھہر جا، میں بھی اس اسیر پنجہ تقدیر کی تقریر کی مشتاق ہوں۔ سوداگر نے ہاتھی روکا۔ ملکہ نہ کہا: اے مُقرر بے زباں، وطن آوارہ، گُم کردہ خانُماں! اگرچہ اب ہم کس لائق ہیں، مگر تیرے داستانِ ظُلم و جور کے شائق ہیں۔ بندر نے آواز پہچانی۔ پہلے تو خوب رویا، پھر جی کو ٹھہرا کر کہنے لگا، شعر:

ہرکس از دستِ غیر نالہ کند
سعدیؔ از دستِ خویشتن فریاد

میر:

کیوں کے کہیے، کوئی نہیں آگاہ
کچھ چھپا اب نہیں رہا، یہ راز
بس تغافُل نہ کر، تَرَحُّم کر
اک قیامت بپا ہے یاں سر راہ
ہے جہاں اِس سے سب سخن پَرداز
گوشِ دل جانِبِ تکلم کر

شعر:

قسمت تو دیکھنا کہ کہاں ٹوٹی ہے کمند
دو تین ہاتھ جب کہ لبِ بام رہ گیا

افسوس! يار نے عیّاری کی، دغا سے یہ نوبت ہماری کی۔ جس کا رُونا ہمیں ناگوار تھا؛ وہ ہمارے لہو کا پیاسا، قتْل کا رَوا دار تھا۔ یہ مثل سچ ہے: تیرھویں صَدی ہے، نیکی کا بدلا بدی ہے۔ محبوبوں کی تمنا دل میں رہی۔ وطن جانے کی حسرت آب و گِل میں رہی۔ دوستوں کا کہا نہ مانا؛ وہ آگے آیا، پچھتانا پڑا۔ بے اَجَل جلّاد کے فَریب سے ذَبح ہوئے۔ طالِب و مطلوب جان جوکھوں میں پھنسے، زندہ دَر گور ہوئے۔ اَلْحَـــقّ، دنیا دم مارنے کی جا نہیں۔ راز کسی سے کہنا اچھا نہیں۔ منصور حَلّاج نے کلمۂ حق کہا تھا، نا حق لوگوں نے دار پر کھینچا۔ غَرض جو بولا، وہ مارا گیا، جان سے بے چارہ گیا۔

کہتے تو کہا، پَر کچھ سوچ کر بات بنائی۔ جی میں دہشت آئی کہ مَبادا یہ خبر اُس اَكفر کو پہنچے تو یقینِ کامل ہو، جان دَشنَۂ ظلم سے نہ بچے۔ کہا: اے ملکہ! کوئی کسی کمال سے دُنیا میں نِہال ہوتا ہے؛ یہ بے گناہ، گویائی کے سبب، ناحق حرام زادے کی بدولت حلال ہوتا ہے۔ مُؤلِّف:

کمالِ شَے، زَوالِ شَے ہے، اِس پر لاکھ حاسد ہوں
بھلا نازاں نہ ہوں کیوں کر میں اپنی بے کمالی کا
خدا جانے کہ دیکھا، دیکھ کر یہ چاند، مُنْہ کس کا
ہوئی ہے عید غیروں کو، ہمیں ہے چاند خالی کا

میں نے دانستہ اپنے ہاتھ سے پاؤں میں کُلھاڑی ماری، فلک نے بنا کر بات بگاڑی۔ مصر؏:

اے روشنیٔ طبع! تو برمن بلا شدی

شعر:

گُل و گل چیں کا گلہ بلبلِ خوش لہجہ نہ کر
تو گرفتار ہوئی اپنی صدا کے باعث

اب سَرِ دست کچھ تدبیر بن نہیں آتی ہے۔ صورتِ مَرْگِ آئینۂ چشم میں مَدِّ نظر ہے، ہماری ہمیں کو خبر ہے، کوئی گھڑی میں مُفت جان جاتی ہے۔ جو جانتا ہے، وہ دیکھتا ہے، جسے خبر نہیں، اُس سے کہہ دو: تمھارے واسطے غَریبِ دِیار ہوئے اور تمھارے سبب سے قتل کے سزا وار ہوئے۔ شعر:

بجرمِ عشقِ توام می کُشند و غَوغائیست
تو نیز برسَرِ بام آ کہ خوش تماشائیست

اِن باتوں سے رہے سہے شک ملکہ کے بَرطَرَف ہوئے، سمجھی جانِ عالم یہی ہے۔ جواب دیا کہ جو جانتے تھے، اُن سے کیا ہو سکا، اَن جان کو تکلیف دینے سے کیا فائدہ! اور توتے کی گردن مڑوڑ، پنْجرہ باہر نِکالا۔ بندر کی نگاہ پنْجرے پر پڑی، سمجھا: ملکہ پہچان گئی، یہی فرصت کا وقت ہے۔ ہنگامہ و تَلاطُم تو مچا تھا، کسی نے دیکھا نہ بھالا؛ بندر سوداگر کی گود میں لیٹ کر توتے کے قالب میں پرواز کر آیا۔ توتا پھڑکا، ملکہ کا خوشی سے دِل دَھڑکا، پنْجرہ اندر کھینچ لیا۔

سوداگر نے دیکھا: بندر مر گیا۔ چاہا: ہلاک ہو جائے، بدنامی کا قصّہ پاک ہو جائے۔ جو شخص خَواصی میں بیٹھا تھا، سمجھانے لگا:بندہ پرور شکر کرنے کی جا ہے، شکایت کا موقع کیا ہے۔ حُرمت رہی، جان بچی۔ مرگِ فرزند سے ماں باپ کو چارہ نہیں۔ مر جانا، بجُز حُمَقا عقْل مند کو گوارا نہیں۔ اگر بادشاہ جبر سے بندر کو چھین کر مار ڈالتا، جان کھونے کی جگہ تھی۔ صبر کیجیے، جو خدا کی مرضی۔ اُس کی رَضا میں مجبوری ہے، جائے صَبوری ہے۔ صابِروں کا مرتبہ بڑا ہے، اُن کے حق میں اللہ فرماتا ہے، تم نے سُنا ہے کہ نہیں: اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ۔

تماشائیوں پر یہ حال کھلا، رُونے پیٹنے کا دونا شُور و غُل مچا۔ سب نے متفق یہی کہا: بس کہ بندر عَقیل تھا، یہ پیامِ طَلَب، کُوسِ رَحیل تھا۔ سامنے جانے کی نوبت نہ آئی، سوداگر کی گود خالی کر کے جان گنوائی۔ اپنا قتل جو ثابت ہوا، خوف سے مر گیا، داغِ تقریرہمارے صَفْحۂ دل پر دَھر گیا۔ یہ خبر اُس کافِرِ اکفر کو پہنچی۔ اِس پر بھی چَین نہ آیا؛ لاش منْگا، جلا کے دل ٹھنڈا کیا۔ خاک تک برباد کی، جب تسکین ہوئی۔

وہاں ملکہ مہر نگار پنجرہ لے بیٹھی، لوگوں کو پاس سے سَرکا دیا۔ میاں مٹھو نے ھوَ ھوَ ابتدا سے انتہا تک مفصل سب حال سنا دیا کہ اِس طرح نشے کی حالت میں اُس کے رونے پر عمل بتایا، وہ ہمیں پر عمل میں لایا، بندر بنایا۔ پھر چڑیمار کے جال میں پھنسے، دوست روئے، دشمن ہنسے۔ وہاں سے سوداگر مَتاعِ خوبی سمجھ کر، اپنے پاس لایا۔ فلک نے بعدِ خرابیِ بِسیار آج تم سے مِلایا۔ ملکہ نے کہا: خاطِر پریشاں جمع رکھیے، اِنْشاءَ اللّٰہ تعالیٰ جلد کوئی صورت ہوئی جاتی ہے۔ یہاں یہ گفتگو تھی کہ اُس نُطفَۂ شیطاں کی آمد ہوئی۔ ملکہ باہر نِکل آئی، تعظیم و تَواضُع کرنے لگی۔ ہمیشہ یہ معمول تھا: جب وہ آتا، ملکہ بات نہ کرتی مدارات نہ کرتی؛ طیش میں آتا، خفیف ہو کر اُٹھ جاتا۔ اُس روز جو گفتگو ہوئی، وہ مَردَک سمجھا: بندر کا مرنا بہ چشم ملکہ نے دیکھا، اِس سے دب گئی، بے اِعتنائی کی بات اب گئی۔ جلدی نہ کرو، اِمْروز فَردا مُقَدَّمہ درست ہو جائے گا؛ لیکن پہلے اِسی سے فیصلہ شرط ہے۔ ملکہ کے باپ کا بہت ڈر تھا، اِس باعِث ملکہ کا پاس کرتا تھا کہ اُن کے باپ سے ہِراس کرتا تھا۔ جب رخصت ہونے لگا، ملکہ نے کہا: ایک بکری کا بچّہ خوب صورت سا ہمیں بھیج دو،پالیں گے، رنج کو ٹالیں گے۔ یا تو چُپ رہتی تھی، آج بچّہ مانگا؛ یہ بچہ بہت خوش ہوئے۔ اُسی وقت ایک بَربَری کا بچّہ تُحفہ بھجوا دیا۔ دوسرے روز جو آیا، ملکہ کو زیادہ مُتوجِّہ پایا۔ اُس کے رو بہ رو بچّے سے کھیلا کی۔ دو تین روز یہی صحبت رہی۔

ایک روز ملکہ نے بچّے کو دبا کر اَدھ مُوا کر دیا اور چُوبدار دوڑایا کہ شہ زادے کو جلد بُلا لا، عرض کرنا: اگر دیر لگاؤ گے، جیتا نہ پاؤ گے۔ یہ خبر سُن کر وہ محل سَرا کا عازِم ہوا۔ ملکہ نے پنجرہ اُس ہُمائے اَوجِ سلطنت کا پلنگ کے پاس رکھ لیا۔ جب وہ نابکار رو بہ رو آیا، ملکہ نے بچّہ گود میں اُٹھا کے اِس زُور سے دبایا کہ وہ مر گیا۔ اُس کا مرنا، اِس کا نالہ و فریاد کرنا۔ گریباں چاک کرنے کی، بکھیڑا پاک کرنے کی تدبیر کی۔ وہ بے قرار ہو کر بہ مِنّت بولا: ملکہ! ہزار بچّہ اِس سے اچھا ابھی موجود ہوتا ہے، تم کیوں روتی ہو، جی کھوتی ہو۔ ملکہ نے اُسی حالت میں کہا: میں کچھ نہیں جانتی، تم اِسے ابھی جِلا دو، جو میری خوشی چاہتے ہو۔ وہ بولا: مُردہ کہیں جِیا ہے؟ کبھی کسی نے، سِوائے مسیح، ایسا کیا ہے؟ ملکہ نے رُو کر کہا: واہ! تم نے میری مَینا جو جِلائی تھی، جب میں بِلبِلائی تھی۔ یہ دل میں سمجھا: شاید شہ زادے نے یہ حرکت کی ہو گی! کارخانے مُسَبّب الاسباب کے مشہور و معروف ہیں۔ دُنیا میں، مثل ہے: کہ کرد کہ نیافت۔ جس نے جیسا کیا، ویساپایا۔ ہر فرعونے را موسیٰ۔ رُباعی:

اے یار! جو کوئی کسی کو کلپاوے گا
اِس دارِ مُکافات میں، سُن اے غافل!
یہ یاد رہے، وہ بھی نہ کل پاوے گا
بیداد کرے گا آج، کل پاوے گا

وہ بدحواس پوچھنے لگا: ہم نے مَینا کیوں کر جِلائی تھی؟ ملکہ بولی: تم پلنگ پر لیٹ رہے تھے، وہ جِی اُٹھی تھی۔ یہ پتا بھی درست پایا اور قضا کا زمانہ قریب آیا، کہا: بچّہ گود سے رکھ دو۔ ملکہ نے پھینک دیا۔ وہ پلنگ پر لیٹا، اپنی روح بچّے کے قالِب میں لایا، وہ اُٹھ کر کودنے لگا۔ ملکہ مہر نگار نے گود میں لیا، پیار کیا۔ وہ سُوچا، دو گھڑی ملکہ کی طبیعت بہل جائے، پھر روح قالِب میں لے جاؤں گا، مطلب تو نکل آئے۔ یہ نہ سمجھا فلک کی گھات ہے، فریب کی بات ہے؛ چرخ کو کچھ اور چکّر منظور ہے، اب اُس جسم کے نزدیک جانا بہت دور ہے۔ شہ زادہ جانِ عالم یہ سب معاملے پنجرے سے دیکھ، سُن رہا تھا؛ قالب کو خالی پایا، فوراً اپنی روح اپنے جسم میں لایا، مُنْہ سے اِلّا اللّٰہ کہا، اُٹھ کھڑا ہوا۔ وہ بزدلا جانِ عالم کو دیکھ کہ تھرَّا گیا، خوف چھا گیا۔ سمجھا قسمت اب بُری ہے، کوئی دم کو گلا ہے اور چھری ہے۔ ملکہ نے جلد دو اَنچھر وہ پڑھ کر پھونک دیے کہ وہ اَور کے قالِب میں روح لے جانا بھول گیا۔

پھر انجمن آرا کو بلایا، کہا: لُو صاحِب مبارک ہو! اللّٰہ تعالیٰ نے تمھاری ہماری حُرمت و آبرو کو بچایا، بچھڑے سے مِلایا۔ یہ آپ کا اَحْمَقُ الَّذی شہ زادہ ہے۔ وہ بکری کا بچّہ؛ بے دین، حرام زادہ وزیر زادہ ہے۔ یہ کہہ کر تینوں عاشق و معشوق گلے مِل مِل خوب روئے۔ جو جو مَحرمِ راز تھیں، دوڑیں، مبارک سلامت کی دھوم ہوئی، بَشَّاش ہر ایک مغموم ہوئی۔ جانِ عالم نے اُسی وقت سوداگر کو طلب کیا، اپنی سَرگزشت سے آگاہ سب کیا۔ بعد ادائے شکرِ نعمت، خِلعتِ مُکلَّف اور انعام ہر اقسام کا مع ہاتھی، پالکی عنایت کیا۔ وطن آنے کا وعدۂ حَتْمی لیا۔ پھر چڑیمار اور اُس کی جورو کو بلایا۔ روپیہ اشرفی، زر و جواہِر دے کر فِکرِ دُنیا سے بری کر دیا اور بہ مَشورَہْ غضنفر شاہ اُس مملکت کے چڑیماروں کا چودھری کر دیا۔ پھر لشکرِ ظَفَر پَیکر کو حکم تیّاریٔ سامانِ سفر فرمایا، آپ رخصت ہونے کو غضنفر شاہ پاس آیا۔ آخِر کار بہ دِقّتِ تمام و طولِ كلام، درازِیٔ ایامِ مُفارَقَتِ والِدَین کہہ کر اُسے راضی کیا۔ پیش خیمہ اُسی دن لَد گیا۔ دو چار دن رخصت کی دعوتوں میں گُزرے۔ اخیر جلسے خوب دھوم دھڑکّے کے ہوئے۔ اپنے عمل تک غضنفر شاہ ساتھ آیا۔ تمام لشکر نے اس کی سرحد تک پکّا پکایا پایا۔ پھر رُخصت ہوئے۔ وہی دو چار کوچ، ایک دو مُقام کرتے بہ راحت و آرام چلے۔

 

ناقہ بِٹھانا تقدیر کا پھر اُسی دشتِ پُر خوف و خطر میں

 

لبِ حوض خیامِ شاہی ہونا، ساحرہ کا آنا، تمام لشکر کونصف پتھر بنانا۔ پھر ملکہ کے باپ کا آنا،آفت سے چھڑانا۔ صفوف آرائیٔ افواجِ شاہی۔ جادوگر اور جادو گرنیوں کی لڑائی۔ شَہپال کا قتل، لشکر کی رہائی

 

نظم:

نگارِندۂ داستانِ عجیب
طِلِسمِ جہاں دید کا ہے مکاں
و لیکن ہنسا جو کوئی غنچہ ساں
جسے ہم نے دیکھا، وہ تھا دِل حَزیں
یہ لکھتا ہے پھر ماجرائے غَریب
پھنسے اِس میں رہتے ہیں پیر و جواں
ہُوا مثلِ گُل دست بُردِ خزاں
خوشی کی جگہ، سچ ہے، دُنیا نہیں

مُحَرّرانِ جادو نِگار و سحرساز، راقِمانِ فَسانۂ ہوش رُبا و حیرت پَردازنے لکھا ہے کہ جانِ عالم ہر صُبْح مثل مہرِ دَرَخشاں قطعِ مَنازِل و مَراحل یعنی کوچ، و ہر شام مانندِ ماہِ تاباں مقام کرتا؛ چند عرصے میں پھر اُسی دَشتِ اِدْبار و صحرائے خار خار، جہاں حَوض میں کود پڑا تھا، وارِد ہوا۔ حَوض کے متصل سَرا پردۂ خاص نَصْب ہوئے۔ گرد لشکرِ نُصرت اثر اُترا۔ انجمن آرا اور ملکہ مہر نگار کو وہ چشمہ دکھایا، ماجرائے گذشتہ زبان پر لایا۔ جب دن تمام ہوا، نمازِ شام کے واسطے جُدا خیمے میں تشریف لایا۔ بعدِ ادائے فریضۂ باری، راہ کے کَسَل سے لیٹنے کی تیّاری کی۔ پَلنگڑی جواہِر نِگار بچھی تھی، اُس پر اِستراحت فرمائی۔ سُستی کے باعث غُنودگی سی تھی کہ دفعتاً ایک خَواصِ خاص انجمن آرا کی بد حواس دوڑی آئی، کہا: شہ زادۂ عالم کی عُمر دراز ہو، قضا مُطیع، قَدَر دم ساز ہو، نصیبِ دُشمناں شہ زادی کی طبیعت نا ساز ہے، سب کی عقْل کو پرواز ہے۔ شدّت سے کلیجے میں درد ہوتا ہے، چھوٹا بڑا محل کا روتا ہے۔ وہ نقشِ سلیمانی اور لَوح دیجیے، دُھو کر پلا دیں۔ یا اور کوئی تَجْرِبے کی چیز عنایت ہو کہ کھلا دیں۔

عارِضۂ مِزاج مطلوب، بَدمزگیٔ طبیعتِ محبوب سُن کے بے قرار ہوا۔ عقْل اُڑ گئی، حواس فرار ہوا۔ کچھ نینْد کا خُمار، کُچھ طبیعت کا اِنتشار، دیکھا نہ بھالا، نہ وقفہ کیا نہ ٹالا، لَوح و نقش حوالے کیا۔ نقش دیتے ہی نقشہ بگڑ گیا، مُقَدَّمہ سب خراب ہوا، ثواب کے بدلے عذاب ہوا۔ ایک آوازِ مُہیب پیدا ہوئی کہ اے جانِ عالم! بہت دِنوں اُڑا پھرا، مدّت کے بعد پھنسا، خبردار ہو جا! ایسی آواز ہولناک تھی کہ سب لشکر ڈر گیا، شُجاعوں کے دل تھرّا گئے، محل میں رنڈیوں کو غش آ گئے۔ گھبرا کر شہ زادے نے اُٹھنے کا قَصْد کیا، جگہ سے ہِلا نہ گیا۔ غور جو کیا تو آدھا جِسم پتھر کا تھا۔ پھر تو جہاں بیٹا تھا بیٹھا رہ گیا۔ جو کھڑا تھا، وہ زمین میں گڑا تھا، اَینْٹھا رہ گیا۔ ہر طرف غُل اور شُور تھا۔ جو پڑا تھا، زندہ دَر گور تھا۔ کچھ دُکھ، کُچھ ہنسی تھی۔ تمام فوج آفَتِ ناگَہانی میں پھنسی تھی۔ عجب کھل بَلی مچی، نا مَردوں کی بائی پچی۔ کل لشکر انسان سے حیوان تک نیچے کا دَھڑ پتھر کا، اوپر کا جِسم بہ دستور۔ آہ و نالہ، فرياد و بُکا سب لشکر میں بَپا تھا۔ اور محل سَرا میں بھی یہی ہنگامہ مچا تھا، ہر ایک گرفتار بلا تھا۔ وہ رنڈیوں کی زاری، انجمن آرا کی بے قراری! عَلَی الْخُصوص ملکہ کے بیان سے زمین و آسماں کانپتا تھا، جب وہ یہ کہتی تھی، شعر:

ہر دم زمانہ داغِ دگرگونہ در دہدیک داغ نیک ناشدہ داغِ دگر دہد

تمام لشکر میں، از شام تاپگاہ، ہر ایک کے لب سے نالۂ جاں کاہ بلند رہا۔ جس وقت ماہ دمِ سرد بھرتا نقابِ سِیاہ روئے تاباں پر ڈال کر غم کدۂ مغرب کی طرف روانہ ہوا اور آفتابِ جِگر سُوختہ مشرق سے نکل کر خدنگِ آہِ بے کساں کا نشانہ ہوا، ایک ابرِ تیرہ و تار نمود ہوا۔ آدمی سب خوف زدہ دیکھنے لگے۔ اُس ابر سے اژدہا خوں خوار، شُعلہ فشاں، آتش دہاں نکلا۔ ایک رنڈی اُس پر سوار، وہ بھی آتش بار، شہ زادے کے خیمے میں اُتری۔ جانِ عالم نے پہچانا کہ وہی جادوگرنی ہے، دل سے کہا: شہر اپنا دور رہا، موت قریب آئی، قسمت نے کس جگہ لا کر نیرنگی دِکھائی! وہ بولی: جانِ عالم! کہو اب کیا قصد ہے؟ شہ زادے نے کہا: وہی جو تھا۔ اُس نے کہا: اب وہ نقشِ سلیمانی اور لوح پیر مرد کی نشانی کہاں ہے، جس کے بھروسے پر کودتے تھے! اگر زِندگی مع لشکر درکار ہو، اور دوش پر سر نہ بار ہو تو ملکہ اور انجمن آرا سے انکار کرو۔ ہماری اطاعت اور محبت مقدم جانو، جو کہیں مانو، ہم سے دار و مدار کرو۔ نہیں تو ایک دم میں سب کو بے گور و کفن، طُعمۂ زاغ و زغن کر دوں گی۔ دشت لاشوں سے بھر دوں گی۔

شہ زادے نے کہا: ہماری لوحِ دل پر نقشِ اِرادتِ باری، جو حافظِ حقیقی ہے، کِلکِ قُدرت سے مُنقش ہے۔ عادت سے مجبور ہوں، بے وفائی کے کوچے سے دور ہوں۔ جو کہا سو کہا، کیا جُو کیا۔ اگر قضاآئی ہے، مرنے سے کیا چارہ ہے؛ مگر جیتے جی بات جانی کب گوارا ہے۔ یہ سُن کر جل گئی، غُصے سے رنگت بدل گئی۔ کچھ بُڑ بُڑا کر جانِ عالم پر پھونکا۔ یا نصف پتھر تھا، اب حلق تک ہو گیا۔ حسرت و یاس سینے میں بھری تھی، تصویرِ آزری سی پلنگڑی پر بے حس، خالی دھری تھی۔ وہ تو اژدہے پر چڑھ کر اُڑی اور پکاری: اے اجل رسیدہ! آج کے دن اور رات کی مُہلت ہے؛ اگر صُبح کو بھی انکار کیا، تو یاد رکھنا، لشکر کا خون اپنی گردن پر لیا۔ یہ سُنا وہ تو ہوا ہوئی۔

اب یہاں کا حال سُنو۔ جب تک شہ زادہ آدھا پتھر تھا، تو ملکہ اور انجمن آرا اپنے اپنے خیموں سے گھبرا کر پکارتی تھیں، جانِ عالم جواب دیتا تھا۔ یہی آواز کا سہارا اُن کی زیست کا سبب تھا۔ اب تا حلق پتھر ہونے سے، وہ جرسِ قافلۂ گُم کردہ راہِ دشتِ غُربت، بے صدا ہو گیا۔ وہاں صبر کا راہ بر جُدا ہو گیا۔ ہر چند دونوں چلائیں، شہ زادہ جانِ عالم نے مطلق جواب نہ دیا، بولا ہی نہ گیا۔ پھر تو ملکہ مہر نگار بادِلِ فِگار سر پیٹ کر کہنے لگی، میر حسن:

فلک نے تو اِتنا ہنسایا نہ تھا
کہ جس کے عوض یوں رُلانے لگا

مُژدہ اے مرگِ غریبُ الوطنی! خوب حیلہ ہاتھ آیا؛ تو بدنامی سے بچی، ہم نے ناکامی میں جان دی۔ چرخِ ستم شِعار زُور رنگ لایا۔ انجمن آرا بے چاری مصیبت کی ماری سب کا مُنہ حیرت سے تکتی تھی اور رُوتی تھی۔ نہ بین کر آتے تھے، نہ غُل مچایا جاتا تھا، گُھٹ گُھٹ کر جان کھوتی تھی۔ خواصیں سر کھول کر کہتی تھیں: ہے ہے! ہم اس جنگل ویران میں لُٹ گئے، وارِث سے چُھٹ گئے۔ شعر:

تو وہ کریم ہے، ناشاد کو جو شاد کرے
مراد مند کو ہر طرح بامُراد کرے

لوگو! ہم کدھر جائیں، کیوں کر اِس بلا سے نجات پائیں! کوئی کہتی تھی: شیطان کے کان بہرے، خدانخواستہ اگر جانِ عالم کے دشمنوں کا رونگٹا میلا ہُوا؛ شہ زادیاں خاک میں مل جائیں گی، غمِ جُدائی سے جانیں گنوائیں گی۔ ہم ان کے ماں باپ کو مُنہ کیا دِکھائیں گے، اِس دشتِ اِدبار میں سر ٹکرا کر مر جائیں گے۔ یہ جادوگرنی “قربان کی تھی” لاشوں کو گور و کفن نہ دے گی۔ اور آتو، محل دار جگر افگار سر سے چادریں پٹک، مدینے کی طرف پکار پکار یہ کہتی تھیں، شعر:

تصدُق اپنے نواسوں کا یا رسول اللہ
کہو کہ حل کریں مشکل ہماری حضرتِ شاہ

ایک طرف مُغلانیاں غم کی ماریاں دمِ گرم، آہِ سرد بھرتی تھیں۔ ایک سمت انیسیں، جلیسیں نجف کی طرف بال کھول کر اِلتِجا سے، گریہ و بُکا سے یہ عرض کرتی تھیں، شعر:

تم نے مدد کر نوح کی طوفاں سے کشتی پار کی
یا مُرتضیٰ مشکل کُشا! کیوں بار میری بار کی

کوئی کہتی تھی: ہمارا لشکر اِس بلا سے جو نکلے گا، تو مُشکل کُشا کا کھڑا دونا دوں گی۔ کوئی بولی: میں سہ ماہی کے روزے رکھوں گی، کونڈے بھروں گی، صحنک کِھلاؤں گی، دودھ کے کوزے بچوں کو پلاؤں گی۔ کسی نے کہا: میں اگر جیتی چھٹی، جنابِ عباس کی درگاہ جاؤں گی۔ سقائے سکینہ کا علم چڑھاؤں گی۔ چہل مِنبری کر کے نذرِ حسین سبیل پِلاؤں گی۔

غرض کہ لشکر سے زیادہ خیموں میں تلاطُم پڑا تھا۔ صدائے حزیں، نالۂ ہر غمگیں سے ہنگامۂ محشر بپا تھا۔ اتفاقاً ایک شاگرد ملکہ کے باپ کا رشید، فنِ سحر میں دید نہ شنید اُس مردِ بزرگ کی ملاقات کو بہ روئے ہوا اُڑا جاتا تھا۔ یہ نالۂ بلند، صدائے ہر درد مند اُس کے کان میں جو پہنچی، زمین کا مُتوجِہ ہوا۔ دیکھا تو ایک لشکرِ عظیم بہ حالِ سقیم سحر کا مبتلا ہے، شُور و غُل ہو رہا ہے۔ جب قریب تر آیا، طُرفہ ماجرا نظر آیا کہ انسان سے تا جانور سب آدھے پتھر ہیں۔ سمجھا سحر شہپال میں خراب حال ہیں۔ لوگوں سے پوچھا: یہ ستم رسیدہ لشکر کس کا ہے؟ کہاں سے آیا ہے؟ کس نے یہ حال بنایا ہے؟ وہ ملکہ مہر نگار کے ملازم تھے، اپنا حال سب نے بیان کیا۔ جب اُسے یہ امر معلوم ہوا کہ اُستاد زادی کی خانہ بربادی ہے اور شہپال کی بیٹی کو مسرت ہے، شادی ہے؛ درِ خیمۂ ملکہ پر آیا، سر پیٹا، چِلایا۔ ملکہ نے آواز پہچانی، کہا: بھائی! اِس وقت پردہ کہاں کا! یہاں آ کے بِالمُشافہہ ہمارا عذاب اور حالِ خراب دیکھو۔ وہ اندر آیا، ملکہ کو بھی اُسی عالم میں پایا۔ اُس نے فرمایا: عداوتِ ساحرہ سے ہماراقافلہ تباہ ہے۔ وہ عرض کرنے لگا: فِدوی کو اُس کی ہمسری کی طاقت نہیں اور وقفہ کم، صبح سب کارخانہ درہم و برہم ہو جائے گا۔ بجُز آپ کے والدِ بزرگوار کے تشریف لائے یہ بلا ٹلتی نہیں، خادم کی یہاں دال گلتی نہیں۔ لو خُدا حافِظ و ناصِر ہے! یہ کہہ کر بہ حالِ خستہ و تباہ، لب پر نالہ و آہ، اِس تیز قدم سے چلا کہ ادہمِ صبا کی ڈپٹ ہر قدم نثار تھی، ٹھوکروں میں صر صر بے قرار تھی۔ پہر بھر میں واردِ باغ ہوا: گُل سا چاک گریباں، شبنم نمط اشک رواں، غنچے کی صفت گاہ خموش، بلبل کے ڈھنگ سے گاہ نالے کو جوش و خروش۔ پیر مرد نے فرمایا: خیر ہے! اُس نے شِمّہ گرفتاریٔ جانِ عالم، ملکہ کی بے قراری، انجمن آرا کا الم، لشکر کا حالِ بَتَر کہہ کر عرض کی: جلد چلیے؛ اگر شام تک نہ پہنچے، وہاں صُبح ہے۔ دمِ سحر ملکُ الموت کا بازار گرم ہو گا، ارمان سب دل میں رہے گا، کُشتُوں کو عالم بے والی و وارِث کہے گا۔ کوئی گور و کفن نہ پائے گا، خاتمہ بالخیر ہو جائے گا۔ پیر مرد نے آہِ سرد بھر کر فرمایا: افسوس! شہ زادے کو سب کچھ سمجھایا تھا مگر عمل میں نہ لایا۔ میر سوزؔ:

ایک آفت سے تو مر مر کے ہوا تھا جینا
پڑ گئی اور یہ کیسی مرے اللہ، نئی

اُسی دم شاہینِ تیز پرواز پر سوار ہوا، مغرب کی نماز لشکر میں داخل ہو کر پڑھی۔ پہلے جانِ عالم کے خیمے میں آیا، حال دیکھ کر سخت گھبرایا۔ پھر انجمن آرا کی جا کر تسکین کی، وہ رونے لگی۔ وہاں سے ملکہ کے پاس آ کے فرمایا: تمھاری بدبختی نے ہماری وضع میں فرق ڈالا، برسوں کے بعد باغ سے نکالا۔ ملکہ نے رو کر عرض کی: یہ وقتِ تدبیر ہے نہ ہنگامِ تعذیر؛ بعد رِہائی اِس آفتِ سماوی کے جو چاہنا فرمانا۔

القِصہ مجبور و ناچار وہ عارِفِ باوقار شہ زادے کے خیمے کے نزدیک دور تک حِصار کھینچ کر بیٹھا۔ یہ مردِ بزرگ، نیک صِفات، فنِ سحر کے سِوا، عامِل اِسمِ ذات کا تھا؛ کچھ پڑھنے لگا۔ کبھی مُناجات بہ درگاہِ مُجیبُ الدعوات کرتا کہ اے یاورِ زِیر دشان و سرفِرُو کُنندۂ گردن کشاں! اِ س بوڑھے کی شرم تیرے ہاتھ ہے۔ قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھا ہوں، اخیر وقت کا تو حافظ و نگہباں ہے۔ مجھ پر جو مشکل ہے، تیرے رو بہ رو آساں ہے۔ سفید ڈاڑھی کو بدنامی کے وسمے سے نہ رنگانا۔ تیرہ بختی کا دھبا بہ ایں ریشِ سفید نہ لگانا۔

شعر:

مشکل، ز توجہِ تو آساں
آساں، زتغافلِ تو مشکل

جب کہ سجادہ نشینِ چرخِ اول با مجمع مُریدانِ کواکِب حُجرۂ مغرب میں روپُوش ہوا، اور ساحرِ فلکِ چہارُم پُر شوکت و باحشم طلسمِ مشرق سے نمودار باجُوش و خرُوش ہوا، اور وہ عبادت گُزار پیرِ جواں مرد شب زِندہ دار وظائِفِ صُبح سے فرصت پا چکا؛ یکایک وہ نابکار شیطان صفت، ناپاک عورت اژدہے پر سوار، بہ چشمِ خوں خوار عزمِ قتلِ جانِ عالم، اور لشکر میں تنہا آئی۔ پہلے ملکہ کے باپ پاس گئی، آنکھیں لال لال، طیش کمال اور بہ آوازِ کرخت وہ نگوں بخت پکاری اے مردِ پیر، سُست تدبیر! تیری اجل بھی دامن گیر ہو کر، کشاں کشاں اِس دشتِ جاں فشاں میں لائی! مجھے شرم آتی ہے کہ تو پیرِ نود سالہ ہو چکا ہے، بے مارے مر رہا ہے، تیرے قتل میں بدنامی چُھٹ فائدہ کیا ہے۔ جدھر سے آیا ہے، سیدھا چلا جا۔ میں بہ یک نگاہِ کج نشانِ لشکر اِ س صفحۂ زمیں سے مِثلِ حرفِ غلط کا ردِ سحر سے مٹائے دیتی ہوں۔

مردِ بزرگ نے آشُفتہ ہو کر فرمایا: اے ننگِ فِرقۂ بنی آدم، مردودِ عالم! تجھے جُوشِ شہوت، ولولۂ مُباشرت نے آمادۂ قتلِ ہزار ہا بندۂ اللہ، بے جُرم و گناہ، کیا۔ میں مرگِ عزیزاں دیکھوں، مرنے سے ڈروں! بہ قول تیرے: آج نہ مُوا، کل مر جاؤں گا؛ یہاں سے جو چلا گیا، خلق کو مُنہ کیا دکھاؤں گا! ہم چشموں سے ناحق آنکھ چھپانی پڑے گی! تو بدبخت مجھ سے کیا لڑے گی! یہ سُن کر وہ فاحِشہ جھلا، آستین چڑھا سحر کی نیرنگیاں دکھانے لگی۔ ان کی بھی دُعا کی تاثیر سِپر بن کے، اُس کا سحر اُس پر ڈھال، رنگ مٹانے لگی۔ صبح سے پہر دن باقی رہا، کوئی دقیقہ طرفین سے نہ باقی رہا۔ طول اِس مقام کا بے جا تھا، اِسی کلمے پر تمام کیا کہ جب وہ عاجز ہوئی، تب سحر کی طاقت سے شِیر کی صورت بنائی۔ پیر مرد بھی اسدُ اللہِ الغالِب کو یاد کر، وہ مُہیب ببر بنا اوراِس طرح للکار کر گونجا کہ جنگل کے چارپائے نعرے کے خوف سے دریا میں گرے اور پانی کے جانور خشکی میں چھپتے پھرے۔

کچھ دیر اِس ہیئت میں لڑائی، زُور آزمائی رہی۔ آخر کار وہ رُوباہ خِصال، اُس ہِزَبرِ نیستانِ شجاعت کی تاب نہ لائی، گیڈر بھبکی دِکھائی اور عُقاب بن کر اُڑ چلی۔ وہ شاہینِ اوجِ دِلیری سُوچا: بے گرفتاریٔ طائرِ مطلب، یعنی اِس ڈھڈو کے، لشکر جنجال سے نہ نکلے گا؛ اِسی طرح یہ پھٹکی پھٹکی ٹٹی کی آڑ میں شکار کھیلے گی۔ بلا سے کچھ ہو، اِسے پھنساؤ۔ زُور میں کم پایا تھا؛ فوراً بازِ تیز پرواز ہو کے، اس سناٹے سے چنگلِ آہنی میں اُسے دبوچا، ایسا نوچا کہ اُس کی جان سنسنا گئی۔ بھاگتے وقت رِجالُ الغیب سامنے تھا، موت پنجے جھاڑ کے پیچھے پڑی۔ بہت تڑپی، پنجۂ قضا سے نہ چُھٹ سکی۔ اُسی کشمکش، اینچا کھینچی میں مُرغِ روح اُس کا مجروح، قفسِ تن سے اُڑ کر آشیانۂ جہنم میں پہنچا۔ غُلغُلۂ حشر، شورِ نُشور اُس صحرا میں نزدیک و دور مچا، ہر طرف سے دار و گیر کی صدا آئی۔ آسمان چکر میں آیا، زمین تھرائی، دشت تیرہ و مُکدر ہوا، آندھی چلی، سحر کا کارخانہ اُڑ گیا، ابتر ہوا۔ قریبِ شام وہ سیاہی موقوف ہوئی، خورشید نے رُخِ انور دکھایا، اپنا بے گانہ نظر آیا۔ جانِ عالم گھبرا کر اُٹھ بیٹھا۔ اہلِ لشکر نے رِہائی، از سرِ نو زِندگی پائی۔

جانِ عالم خیمے سے نکل، نادِم و خجِل، پیر مرد کی خدمت میں حاضرہوا۔ سب نے دیکھا: دور حِصار میں ایک رنڈی، اسی نوے برس کا سِن، ضُعف کا زُور شُور، بُڑھاپے کے دن۔ قد خمیدہ جیسے چڑھی کمان۔ مرنے پر لیس، مُنہ اُترا، آنکھیں تودۂ طوفان۔ جسم کساہر پٹھا در پئے ژولیدگی گُھنی ہوئی رگیں صاف نظر آتی تھیں۔ ہڈیاں پسلیاں بوسیدہ جِلد کے باہر سے گِنی جاتی تھیں۔ دُرجِ دہاں بے دُرِ دنداں، حُقۂ خالی کی طرح وا۔ ڈاڑھ، دانت کے نام سے مُنہ میں خاک نہیں، بھاڑ سا کُھلا۔ نیلے نیلے مسوڑھے سڑے۔ تالو توے کا پتا؛ جیب جُھلسی، چھالے پڑے۔ ہاتھ دہنا برگد کا ٹہنا۔ بایاں جو زمین پر ڈالا تھا، وہ ساکھو کا ڈالا تھا۔ سینۂ پُر کینہ تنگ۔ چھاتیوں کے تِکّے تُکّے کی صورت لٹکتے، دمِ رفتار ٹانگوں میں اٹکتے۔ پیٹ کے لپیٹ کی انتہا نہیں، بے خاکِ گور کبھی بھرا نہیں۔ دل پہاڑ کی سِل۔ گُردہ توپ کا مُقابل۔ بغلوں سے کیچڑ بہتی۔ ناف جیسے گھنٹا بیگ کی گڑھیّا۔ ٹانگ ہر ایک تاڑ سے بڑی۔ کھڑی ہو تو سقفِ بے سُتوں کی اڑواڑ ہو، گُنبدِ چرخ کی پاڑ ہو۔ پھیلائے پڑی تھی، گویا پتھورا کے محل کی کڑی تھی۔ ہڈی سے گوشت، گوشت سے کھال جُدا۔ پیر زال، فرہاد کُش بُڑھیا۔ چہرے کا یہ رنگ کہ سِلہٹ کی سِپر کا اُس کے رو بہ رو مُنہ سفید ہو جائے، شبِ فرقت کی سیاہی میں کالی بلا سی نظر آئے۔ کُھونبڑ کا وہ ڈھنگ کہ سب کہتے تھے: بیچا ہے، لڑکوں کو نہ ڈرائے۔ ماتھے پر سیندور کا ٹیکا دور سے نظر پڑتا اور سفید چُونڈا چنور کی طرح لٹکتا۔ سیاہی کا دھبا بجُز تیرہ بختی کہیں نہ دیکھا۔ ایسے سر کی مانگ میں بھی مانگ جانچ سِیندور بھرا۔ بالوں میں ناریل کا تیل۔ پھٹے پھٹے دیدوں میں ندیدوں کی طرح کاجل ریل پیل۔ گہنے کے عوض سانپ بچھو لپیٹے، کھوپڑی اور ہڈیوں کے ہار گلے میں پڑے، سحر کا سنگار وہ نابکار کیے، پُشت بہ بہشت روئے نحس سوئے جہنم، چت پڑی تھی۔ قد کا ڈول سب سے نرالا، عوج بن عُنُق کی سگی خالہ۔ یہ دیکھ کے، شہ زادہ پیر مرد کو ساتھ لے کے محل سرا کے خیمے میں آیا۔ شہ زادیوں نے جان پائی، جلیسوں کے مُنہ پر رونق آئی۔ خواصوں نے شُکرِ جنابِ باری کیا۔ ماما، اصیلوں نے پیر مرد کے قدم پر گر کر عرض کیا، مصر؏:

اے آمدنت باعثِ آبادیٔ ما

اُس بزرگ نے فرمایا: ابھی اِس معرکے سے نجات نہیں ہوئی، آفتِ عظیم کا سامنا باقی ہے۔ جانِ عالم نے پوچھا: قبلہ! وہ کیا ہے؟ اُس نے فرمایا: اِس کا باپ شہنشاہِ جادُواں ہے؛ کوئی دم میں ضرور آئے گا، بکھیڑا مچائے گا۔ ملکہ مہر نگار مُضطرب ہوئی۔ پیر مرد نے فرمایا: اللہ یار ہے، وہ کیا نابکار ہے۔ مصر؏:

دشمن اگر قویست، نگہباں قوی تراست

یہ کہہ کر دو  ماش چپ و راست پھینکے۔ دو  جانور نئی صورت کے پیدا ہوئے: ہرن کے چہرے، طاؤس کا دھڑ، یاقوت کے سینگ، الماس کی آنکھیں، زمرد کے پر۔ اور دو  ٹھیکریوں پر کچھ لکھ کراُن کے سامنے رکھا۔ وہ ہر ایک پنجے میں دبا اُڑ گیا۔

وہ رات بھی بیم و ہراس میں گُزری۔ جس وقت ساحِرِ شب گشت عاملِ صُبح کی آمد کے دبدبے سے بھاگا؛ ہوا تُند چلی، برق چمکی، رعد کی آواز ہوئی۔ اہل لشکر ڈر گئے۔ مثلِ مشہور: مارگزیدہ از ریسمانِ پیچیدہ می ترسد۔ پیر مرد کے گرد سب جمع ہوئے، کہ ایک سمت سے غول کے غول، غٹ کے غٹ جادوگروں کے جھٹ پٹ؛ باز، جُرّے، باشے، بُھجنگے پر ننگے دھڑنگے سوار، قطار قطار آئے۔ میدان میں مُرشِدِ کامل نے ان کا پرا جمایا۔ دوسری جانب سے جادوگرنیاں طاؤس اور ناگنوں پر سوار، آتش بازی کے حُقے اُڑاتی، ناریل اُچھالتی؛ اِکتارے چِھڑتے، بادلے کی جھنڈیا کُھلی، ہوا سے اُڑتی ہوئیں؛ آپس میں چھیڑ چھاڑ، سحر آزمائیاں، ہاتھوں کی صفائیاں ہوتی، لڑائی کے عزم پر ہر ہر کرتی موجود ہوئیں؛ اُسی پرے کے مُقابل ٹھہریں۔

انھیں دیکھ کے جانِ عالم کا جی کُلبُلایا، فوج کے سرداروں کو بلایا، فرمایا: گو آج دغدغۂ  کامل ہے؛ اگر فضلِ الٰہی شامل ہے تو یہ جلسہ اور معرکہ دیکھنے کے قابل ہے۔ زندگی ہے تو ایسا روز کبھی کاہے کو نظر سے گزرے گا، وگرنہ مرگِ انبوہ جشنے دارد۔ ہماری فوج بھی چمک دمک سے صف آرا ہو، اسباب نیا سب نکالو۔ یہ خبر سُن کر پہلے بیلدار نکلے۔ پست و بلند زمین ہموار کر، کنکر پتھر چُن کر، جھاڑی جُھنڈی کاٹ دالی، جھاڑی ہوئی زمین صاف برابر نکالی۔ پلٹنوں کی خاطر مورچے درست کیے،توپوں کے لیے دمدمے باندھے، جھانکی لگائی۔ کہیں سُرنگ کا پوشیدہ رنگ جمایا، باروت کو بچھایا، میدانِ جنگی بنایا۔ پھر سقے آب پاشی کر گئے۔ توپ خانے والے بالچُوں میں پانی بھر گئے۔

فوج کی آمد ہوئی۔ صفِ کارزار، موت کا بازار آراستہ ہوا۔ راس و چپ پانچ پانچ سے ہاتھی مست؛ پٹے سونڈوں میں، گُل کاری بھسونڈوں میں۔ دانت سفید، آب دار، اُن پر چوڑی جواہر نگار چڑھی۔ ایک ایک پہلوان ثانیٔ رستمِ دستاں؛ قوی ہیکل، زِرہ پُوش؛ گُرزِگراں، کُوہ شکن بردُوش اُن پر سوار۔ پھر پلٹنیں اور توپ خانہ آیا، انھیں قرینے سے جمایا۔ کیا کیا توپ فلک شکُوہ، شعلہ دہاں، آتش فشاں؛ سورج جھنکار اور نانک متے کے پتے کی، گردونِ گرداں پر چوٹ کرنے والی، غضب سے بھری، ترحُم سے خالی۔ مدد کو ہُوٹ، کُوسوں کی چوٹ کی۔ اور وہ غُباری، جس کا گولہ قصرِ زنگاری میں اُتارے۔ پھر سواروں کے پرے میں میمنہ، میسرہ، قلب و جناح، ساقہ و کمیں گاہ درست کر دیا۔ آگے ہراول۔ پیچھے سواروں کے پیدل فوجوں کے دل۔

نقیب چار سو سے نکلے؛ کلے سے کلہ، کنوتی سے کنوتی، پُٹھے سے پُٹھا، دُم سے دُم، سُم سے سُم مِلا دیا۔ نشان برداروں نے علمِ سبز و سُرخِ زر افشاں کو جلوہ دیا۔ سرِ ہر علم ماہیٔ پرچم کی چمک چشمِ دِلاوراں میں بادۂ جرات کا کام کر گئی۔ نامردوں کو ہول ہوئی، بھاگنے کی فکر پڑی، پیٹ میں کھلبل مچی۔ کتنوں کی، چلتے چلتے گانڑ چلی۔ دریائے فوجِ ظفر موج موج زن ہوا۔ حشر کا میدان رن ہوا۔ غُرِّشِ کُوسِ حربی، صدائے نقار خانۂ جنگی چرخ پر بُرجِ ثور تک،زِیر زمیں گاوِ ثریٰ کو پہنچی۔ اور صدمۂ دمامۂ تُندَر نِہیب، آوازِ دُہُلِ گوش فریب سے کُرۂ ارض و سما دہل گیا۔ اور کرنائے چینی نے غِرِیو سے صور کی ہمدمی کا دم بھرا۔ اِذا زُلــزِلتِ الارضُ زِلزَالَھــا کا وقت قریب آیا۔

جانِ عالم بھی بہ صد جاہ و حشم اسپِ پری پیکر پر جلوہ گر ہوا۔ چترِ زرنگار بالائے سر، تاجِ شہر یاری کج کر کر، شمشیرِ برق دم زِیبِ کمر، فولادی سِپر پُشت پر۔ دہنے ہاتھ میں نیزۂ اژدہا پیکر، دو زباں۔ بائیں ہاتھ میں مرکبِ رشکِ صرصر کی عِناں۔ فتح و نُصرت جِلو میں، اقبال یاورتگ و دو میں۔ ہمت و غیرت دست بستہ بہم، جرات زِیرِ قدم۔ قربوسِ زیں میں کمانِ کیانی، چہرے پر رُعب و جلالِ کشور ستانی۔ سمندِ صبا دم کو گرم عناں، رخشِ تیز قدم کو جولاں کر کے پرے کے برابر باگ لی۔ چاؤشِ طرار “خبردار باش” للکارا۔ مِریخ سا خنجر گُذار، بالائے چرخ “الاماں” پکارا۔ فوج کو ملاحظہ فرمایا۔ کڑکیتُوں نے کڑکا شُروع کیا۔ نقیبوں نے نہیب دی کہ دِلاورو! آج عرصۂ جنگ جگہ نام و ننگ کی ہے۔ دُنیا میں زِندگی چار دِن ہے۔ لڑنے بِھڑنےکا، نوجوانو یہی سِن ہے۔ کسی کو بقا بجُز ذاتِ خدا نہیں۔ ہمیشہ دُنیا میں کوئی جیتا رہا نہیں۔ شعر:

رستم رہا زمین پہ نہ سام رہ گیا
مردوں کا آسماں کے تلے نام رہ گیا

اِس صدا سے، جو سدا کے بہادُر، صاحِبِ جرات تھے؛ اُن کا دریائے شجاعت سینے میں موج زن ہوا۔ موچھیں کھڑی، آنکھیں سُرخ، چہرے بشاش ہو گئے۔ بسانِ شِیر وہ دلیر قبضہ ہائے شمشیر دیکھنے لگے اور چُست و چالاک ہو کر مُستعِدِ کارزار ہوئے، جاں فِشانی کو تیار ہوئے۔ ہر دم باہم یہ اِختِلاط تھا: دیکھیں، آج تلوار کس کی خوب کاٹتی ہے! کس کس کا لہو چاٹتی ہے! پہلے نیزہ کس کا سینۂ عدو پر چلتا ہے! اور نیزے کی طعن پر کون کون چھاتی تانتا ہے، لوہا کون مانتا ہے! کس کے تیر کے نشانے سے خون کا فُوارہ اُچھلتا ہے! آبِ پیکاں سرِ میداں دُشمن کے حلق میں کون اُتارتا ہے! سرِ پیکاں کس کا تالبِ سوفار سُرخ رو ہوتا ہے! کس کو کون للکار کر، ڈانٹ کر مارتا ہے، ددا کو کون پکارتا ہے! عرصۂ کارزار میں حقِ نمک آقا کا ادا کیجیے، دشمنوں کا لہو پیجیے۔ جب بِگڑے تو وہ کام بنے جس سے رُستم کی گور تھرائے، سام و نریمان کا رنگ فق ہو جائے۔ کُوہ کو پرِکاہ کی طرح اُکھاڑے۔ دیو سامنے آ جائے تو پچھاڑے۔ رئیسِ قدر داں سرِ میداں سر گرمِ نظارہ ہے؛ دیکھیے کون کام کا ہے، کون ناکارہ ہے! کس کے ہاتھ کھیت رہتا ہے، کون کون کھیت رہتا ہے! من چلا پن کر لو، زرِ سُرخ و سفید سے سِپریں بھر لو۔ آج ہی تو آن بان ہے۔ یہ گو، یہ میدان ہے۔

ڈِھل گنڈُوں کا “لا حول ولا” عجب ڈول ہوا کہ ہول سے چہرے زرد، لب پر آہ، سرد۔ مُنہ پر ہوائیاں اُڑتی تھیں، ہر بار بھاگنے کو باگیں مُڑتی تھیں۔کھڑے ہوئے اپنے مُنہ نُوچتے تھے، بھاگنے کی راہ سُوچتے تھے۔ پیٹ پکڑے پھرتے تھے، دست سرِ دست چلے آتے تھے۔ ڈر کے مارے بے مارے مُوئے جاتے تھے۔ کوئی کہتا تھا: میاں! جی ہے تو جہان ہے۔ نوکری نہ ملے گی، بھیک مانگ کھائیں گے، جانیں کہاں پائیں گے! حُرمت گئی تو گئی، جوتی پیزار سے، جان تو رہے گی، لہو کی ندی بدن سے نہ بہے گی۔ یہی نا کوئی نامرد کہے گا، آبرو جائے گی؛ جی تو رہے گا۔ یہاں بگڑی، اور کہیں بنا لیں گے۔ تیر تلوار کی گولی بچا کر، گالیاں کھا لیں گے۔ لڑنے کو سپاہیوں نے کمریں باندھی ہیں؛ کوسنے کو ہم موجود ہیں، کوسوں بھاگنے کو آندھی ہیں۔ جوکیں لگانے میں، ہمارے ماں باپ بھنگ پلاتے تھے، معجون کِھلاتے تھے۔ کسی کی فصد کُھلی دیکھ کر ہمیں غش آتے تھے۔ ہم تو دوست ہو یا دشمن، دونوں کی خیر مانگنے والے ہیں۔ سب سے پہلے معرکے سے بھاگنے والے ہیں۔ ہمیشہ گالی گلوچ کو خانہ جنگی، دھول دھپے کو میدان داری سمجھے۔ لڑائی بِھڑائی سے کبھی بِھڑکے نہ نکلے۔ تمام عُمر بدن میں سوئی نہ گڑی۔ یہ سر وہ سِپر ہے جس پر جوتے کے سوا کوئی چیز نہیں پڑی۔ بے غیرتی کا بھلا ہو، جس کے صدقے میں آج تک جان سلامت رہی۔ اِس پر بھی قسمت نے یہ روزِ سیاہ دِکھایا! خُدا نے ہمیں ہیجڑا کیوں نہ بنایا!

فوج میں تو اِس طرح کی کھلبل، ہَلچل مچی تھی؛ اُدھر انجمن آرا اور ملکہ مہر نگار نے ایک اونچا ٹیکرا تجویز کر، خیمہ بَیا کیا۔ چِلمن چھوڑ آ بیٹھیں، سَیر دیکھنے لگیں۔ اِس عرصے میں لشکرِ غنیم کی آمد ہوئی، یعنی شَہپال جادو سیاہ رو نَو لاکھ ساحر کا پَرا ہمراہ رکاب شِکست انتساب لے کر، تخت پر سوار، چالیس اَژدَرِ خوں خوار تخت اُٹھائے، شعلے نکلتے، بھاڑ سا مُنہ ہر ایک پھیلائے، بڑے کَرّ و فَر سے آیا۔ فوجِ بے قِیاس وہ خُدا نا شَناس لایا اور سامنے جوانانِ تہمتن و گُردانِ صَف شِکَن کے اپنا پَرا جمایا۔ پھر عَلَم کالے آگے نکالے اور پَرچَمِ سیاہ ہَم صورتِ بخت اُس گم راہ کے،  کھلے۔ دَف و نَے اور جھانجھ بجنے لگے، اِدھر کوس و کور گرجنے لگے۔ دونوں لشکر لڑائی پر تُلے۔ وزیر اُس کا کچھ پیام پہلے پیر مرد کے پاس لایا، دَستِ ادب باندھ کر عرض کی: اِیلچی کو زَوال نہیں، زیادہ گوئی کی مجا ل نہیں، شہپال نے فرمایا ہے؛ تمھارا جینا مرنا برابر ہے کہ گرم و سردِ زمانہ دیکھ کر عُمرِ طَبعی کو پہنچے؛ مگر اِن نَوجوانوں پر، اپنے بے گانوں پر رحم نہ کیا۔ اِن کے خون کا حساب اپنے اعمال کی کتاب پر لِکھوایا، بوجھ اپنے ذِمّے لیا۔ پیر مردِ خوش تقریر نے فرمایا: اُس اَجَل رَسیدہ پیرِ نابالغ سے کہنا: طَرفَین سے جس کا خون زمین پر بہے گا؛ اُس کا مَظلِمَہ مُواخَذہ؛ تیری بیٹی جو فاحِشَہ تھی، اُس کی گردن پر رہے گا۔ ہم سمجھتے تھے وہی نَنگِ خانداں تھی؛ لیکن اب معلوم ہوا: وہی زمین سے اُگتا ہے، جو بُوتے ہیں، اَیسوں کے وَیسے ہی ہوتے ہیں۔ تجھے سفید ڈاڑھی کی شَرم نہ آئی  کہ وہ مَری، تیرا کلنک کا ٹیکا مِٹا۔

تو تو اُس سے زیادہ بے حیا، سِیہ قلب نکلا۔ یہ مَقامِ رَزم ہے جائے نیزہ و شمشیر، یا بَزم ہے جو محلِ تقریر ہو؟ گفتگو بے فائدہ ہے، لا طائِل باتوں سے کیا حاصل۔ جو منظور ہو، بِسمِ اللہ، اُس میں دیر نہ کر۔ دیکھیں آج کس کے حصّے میں تخت و تاج ہوتا ہے اور گور و  کفن کو کون محتاج ہوتا ہے!

وزیر محجوب پھرا، شہپال سے سب حال کہا۔ پھر تو وہ کافِرِ غَدّار، گَبرِ ناہنجار مِثلِ مارِ  دُم بُریدہ بَرخود پیچیدہ ہو، شُعلۂ غَضَب سے وہ ناری جَل گیا۔ چہرے کا رنگ گرگٹ کی طرح بدل گیا۔ پہلے تو آپ حُقّۂ آتشی پیر مرد پر مارا، پھر لشکر کے سرداروں کو، جادوگر ناہنجاروں کو للکارا۔ دوپہر تک عجیب و غریب سحر  سازی، ہَنگامہ پَردازی، جادوگر اور جادوگرنیوں کی لڑائی رہی کہ دیکھی نہ سُنی۔ کسی نے کسی کو جَلایا، کسی نے بُجھایا۔ کسی سنگ دل نے پتھر برسائے، سب کچھ سحر  کے نَیرنگ دکھائے۔

آخِر کار جب جادوگری ختم ہوئی، لڑائی کی نوبت بہ گُرز و شمشیر و نیزہ و تیر آئی؛ پھر تو شہ زادہ جانِ عالم کی بَن آئی، باگ اُٹھائی۔ فوجِ جَرّارِ غازِیانِ نام دار خبردار ہوئی، سِپاہ مانندِ اَبر چار سمت سے گھر آئی۔ صف کی صف دَھر دَھمکی، برقِ شمشیر چمکی۔ پہلوانوں کے نعرے نے رَعد کا کام کیا۔ خوب لُوہا برسا، بوند بھر پانی کو ہر ایک زخمی ترسا۔ یہ سب تازہ دم، وہ دوپَہَر کے شَل؛ سیکڑوں ٹاپُوں میں کُچل گئے، گھوڑوں کی جھپٹ میں کُھندَل گئے۔ شمشیرِ صاعِقہ خِصالِ جانِ عالم کا یہ حال تھا: جس کے سر پر پڑی، خود و سَر اُس خُود سَر کا کاٹا۔ حلق میں قطرۂ سیماب کی طرح اُتر، سینۂ پُر کینہ کا لہو چاٹا۔ وہی سر جو پناہِ خود میں تھا، پلک جھپکی تو گود میں تھا۔ پھر گھوڑے کے تَنگ سے چُست گُزر، زَخم کُشادہ کر، خانۂ زیں سے زمین میں قرار لیا۔ سَرِ بالیں اُس کے قضا کو روتے دیکھا، اُسے خوابِ مرگ میں پاؤں پھیلائے سُوتے دیکھا۔ مَلَکُ الموت کی صدا آئی: وہ مار لیا۔ جس پر لَپَک کر ایک وار کیا، دو کیا؛ دو کو چار کیا۔۔ حَوَاسِ خَمسَہ کسی کے درست نہ تھے، ششدر ہو گئے۔ ساتوں طَبَق زمین کے تھرّائے، آسمان کو چکّر ہوا، مُردے قبروں سے چَونک کے باہَر نکل آئے۔ جُو اَٹکا، اُسے مار لیا، بھاگتے کا پیچھا نہ کیا۔

گھڑی بھر میں خون کا دریا بہہ گیا۔ لاشوں کا اَنبار رہ گیا۔ کاسۂ سَر حبابِ دریا کی طرح بہتے نظر آتے تھے۔ مَوجِ خوں میں دَھڑ، دَھڑا دَھڑ غُوطے کھاتے تھے۔ دشمنوں کی کشتیٔ زیست طوفانی تھی، آبِ تیغ کی طُغیانی تھی۔ فوجِ عَدو کا زِندَگی سے دل سِیراب اور اُچاٹ تھا۔ لہو لُہان ہر تلوار کا گھاٹ تھا۔ کوسوں تک لاشے پَٹے تھے، یہ پاٹ تھا۔ آخِر کار فوج کو شکست ہوئی۔ شہپال کو مارا، سر اُس خُود سَر کا مِثلِ خِیارِ تَر اُتارا۔ سِپاہِ باقی ماندہ اُس تِیرَہ بخت، نِگو نسار کی فَرار ہوئی، زِندَگی دشوار ہوئی۔ پھر تو غازِیانِ فتح نصیب و جادُوانِ مُہیب لوٹ پر  ٹوٹ پڑے۔ سب کچھ لوٹا، ساز و سامان اُن کا ذرّہ نہ چھوٹا۔

اِدھر نشان کھلے، شادِیانے بجے۔ وہ سب چادر پھراتے، ماتم کرتے، گرِیباں چاک، سَرو رو آغشتَۂ خاک، دَمِ سرد بھرتے، جس کا مُنہ جدھر اُٹھا، بھاگ نکلے۔ میدان کُشتُوں سے اَٹ گیا۔ جنگل لاشوں سے پَٹ گیا۔ آج تک طُعمۂ زاغ و زَغَن اُسی بَن سے ہے۔ صحرائی دَرِندوں کے خوب پیٹ بھرے؛ بلکہ جانوروں کی دعوتوں کو، گوشت کے مُچّے قیمہ کیے اُٹھا رکھے۔ بہت ہَیضہ کر کر مرے۔ وہ سَر زمیں، قَلعَہ، خَزانہ جانِ والم کے قبضے میں آیا۔ بڑی جستجو، تَگاپو سے وہ لَوح اور نقش پایا۔ پیر مرد رخصت ہوا اور جتنے مَدارِج پند و نصیحت تھے، مُکرّر سمجھائے۔ راہ کا خَطَر، مصیبتِ سفر، ہر منزل و مَقام کا نَفع و ضَرَر کہہ کر، کہا: میری جان! اب ایسی حرکت، وہ سامان نہ کرنا جو پھر کوئی روزِ سیاہ دشمنوں کے سامنے آئے، دوستوں سے دیکھا نہ جائے۔ ہم سے باغ چھوٹے، کوہِ الم ٹوٹے، لو اللہ حافِظ و ناصِر رہے! رسول اُس کا تمھارا مددگار و یاوَر رہے!

 

روانہ ہونا شہ زادۂ جانِ عالم کا اُس دشت سے

 

با فتح و ظفر اور اُترنا دریائے شُور کے کَنارے پر۔ آنا جہاز کا، سوار ہونا

یارانِ دَم ساز کا۔ پھر جہاز کی تباہی، باہم کا تَفرِقَہ، معشوقوں کی جُدائی۔ پھر جوگی کا سمجھانا، توتے کا مل جانا، ڈوبتوں کا تِرنا

 

آشنایانِ بحرِ تقریر و غَوّاصانِ مُحیطِ تحریر، شناوَرانِ شَطِّ اُلفت و غریق لُجَّۂ مَحبّت نے گوہرِ آب دارِ سخن کو سِلکِ گُفتار میں مُنسَلِک کر کے زِیبِ گوشِ سامعِان ذی ہوش اِس طرح کیا ہے کہ بعد فتحِ جنگِ جادو شہپال اور ہاتھ آنے خزانۂ  مالا مال کے، دو مہینے تک تفریحاً لشکر نُصرت اثر شب و روز اُس دَشت میں جلوہ اَفروز رہا۔ جب پیر مرد باغ کو تشریف فرما ہوا، جانِ عالم نے کوچ کیا۔ چند مُدّت کے بعد ایک روز خیمہ لبِ دریائے شُور ہوا۔ شہ زادہ معشوقوں سے باہَم، تماشا بحرِ زَخّار و نظّارہ اَمواجِ پیچ دار کا اور سیر دریائے ناپیدا کَنار کی، پانی کا زور، ہَوا سے دریائے شور کا شور، کیفیتِ لَطمَہ و گِرداب دیکھتا تھا، دید دریائی جانوروں کی کرتا تھا۔ نظم:

آب کیسا کہ بحر تھا زَخّار
موج کا ہر کِنایہ طوفاں پر
گُذرِ موج جب نہ تب دیکھا
تُند و مَوّاج و تیرہ و تَہ دار
مارے چشمک حَباب، عُمّاں پر
ساحل اُس کا نہ خشک لب دیکھا

ناگاہ ایک جہاز پُر تکلُّف، بانقش و نگارِ بِسیار صبا وار نَمودار ہوا۔ شہ زادہ سمجھا: کوئی سوداگر کہیں جاتا ہے۔ جب قریب آیا، جہاز کو لنگر کیا اور ناخُدا دَرِ دَولت پر شَرف اَندوز ہو کر عرض کرنے لگا: ہم لوگ ملّاح ہیں؛ یہاں جو شاہ و شہر یار رونق اَفزاہوتا ہے، ہم اُسے دریا کی سیر و شکارِ بحری، جانورِ آبی دکھاتے ہیں۔ مُوافقِ قَدر، جو قسمت میں ہوتا ہے، انعام پاتے ہیں۔ یہ سُن کر خواہشِ سیرِ دریا شہ زادے کے سفینۂ دل میں موج زَن، لَطمَہ پیرا ہوئی، ملکہ سے کہا: چلتی ہو؟ اُس نے عرض کی: ہَنُوز گِردابِ غم، تَلاطُمِ اَندُوہ و اَلَم سے ساحلِ فرحت و طَرَب کی ہَم کِناری مُیسر نہیں ہوئی؛ آپ کو اور لہر آئی، نیا ڈَھکُوسلا سوجھا۔ جانِ عالم نے کہا: دریا کی سیر جی مسرور کرتی ہے، خَفقان دور کرتی ہے۔ طبیعت بَہَل جاتی ہے، لاکھ طرح کی کیفیت نظر آتی ہے۔ تم نے سُنا نہیں قولِ سعدی، مصر؏:

بدریا در مَنافع بے شمار است

دو چار گھڑی دل بہلا چلے آئیں گے، ملّاح محروم نہ رہ جائیں گے۔ ملکہ مہر نگار نے مُتَرَدِّد ہو کر کہا: یہ سب سچ ہے جو آپ نے فرمایا، خَفقان کیسا، تمھارے دشمنوں کو نِرا مالیخولیا ہے، میں نے بار ہا انجمن آرا سے کہا ہے؛ سُو یہ مرض لا دَوا ہے، پانی سے دونا ہوتا ہے۔ اِس کے سِوا، میرے دماغ میں بھی کیا خَلَل ہے؟ میرا دوسرے مصرع پر عَمَل ہے، سعدیؔ:

اگر خواہی سلامت، برکنار است

شہ زادہ بد مزہ ہوا، فرمایا: خیر ہم تو سِڑی ہیں، تنہا جائیں گے؛ تم نہ چلو، بیٹھی رہو، آرام کرو۔ جُدائی کی تاب مَحبّت کے مبتلا کو کہاں ہے، اُلفت کا یہی بڑا امتحاں ہے؛ ناچار اُسی دم ملکہ مہر نگار اُٹھی اورانجمن آرا مع چند خَواص ہمراہ ہوئیں، جہاز پر پہنچیں۔ بادبان کھنچے، پالیں چڑھیں۔ مہر نگار مُضطرِب وار یہ شعر پڑھنے لگی، حزیںؔ:

دریں دریائے بے پایاں، دریں طوفانِ موج افزا
دل افگندیم بِســــمِ اللہِ مَجــْــريْھا و مُرْسٰــــھا

لوگ مصروفِ تماشا، ملکہ غریق بحرِ تفکر، غوطہ زَنِ گردابِ تحیّر، لَطمَۂ اَندُوہ و اَلَم کی آشنا۔ بار بار انجمن آرا سے کہتی تھی: خدا خیر کرے! دشمن نہ ایسی سَیر کرے! بے طَور موجِ اَلَم سر سے گزرتی ہے، خود بہ خود پانی دیکھ کر جان ڈرتی ہے، اللہ حافظ و نگہباں ہے۔ سَراسَر سامانِ بد نظر آتے ہیں، کلیجا خوف سے لَرزاں ہے۔

القصہ، چار گھڑی جہاز نے بادِ مُراد پائی، سَیر دِکھائی، پھر آفت آئی۔ ناخُدا چلّایا، ملّاح ہِراساں ہوئے۔ شہ زادے نے پوچھا: کیا ہے؟ عرض کی: طوفانِ عظیمُ الشّان اُٹھا ہے۔ ابھی یہ ذِکر تھا، ہَوا عالم گیر ہوئی، جہاز تباہی میں آیا، بادبان ٹوٹ گئے، مَستول گِرا؛ ملّاحوں کے چھکّے چھوٹ گئے، سنبھالنے کا مقدور نہیں رہا، آخِرشِ تَلاطُمِ آب، صدمۂ پیچ و تابِ موج سے ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ کسی کو کسی کی خبر نہ ملی، کون ڈوب گیا، کون جیتا رہا۔ ایک سے دوسرا جُدا ہو گیا۔ جانِ عالم تختے کے سہارے سے ڈوبتا تِرتا، چار پانچ دن میں کنارے لگا۔ جب تکان پانی کی موقوف ہوئی، غش سے آنکھ کھلی، دیکھا: کنارے گیا ہوں، بلکہ گور کے کنارے لگ رہا ہوں۔ بڑی جدّ و کَد سے اُترا، آہستہ آہستہ بیٹھتا اُٹھتا ایک طرف چلا، بستی میں پہنچا۔ وہاں کے باشندے اِس کا چہرہ اور جمال، یہ خراب حال دیکھ کر بہت گھبرائے، قریب آئے، کوئی بولا: یہ پری زاد ہے، مِثلِ سَرو آزاد ہے، چمنِ حُسن و خوبی کا شَمشاد ہے۔ کسی نے کہا: ابھی تو دِن ہے، یہ از قِسمِ جِن ہے۔ غَرض کہ جن جن نے اِسے جِن کہا تھا، پاس آ، کچھ خوف سا کھا اِ س طرح بولے، اُستاد، مصر؏:

کون ہو، کیا ہو، سچ کہو حور ہو یا پری ہو تم

شاہ زادۂ مَصائب دیدہ نے دمِ سرد دلِ سوختہ سے بھر کے، چشمِ خوں بار تَر کر کے اُن لوگوں سے کہا، لا اَعلَم:

حالے دارم چناں کہ دشمن خواہد
جانے دارم کہ فرقتِ تن خواہد
ناکامیٔ خویش را اگر شرح دہم
دشمن بخدا زندگیٔ من خواہد

اَیُّھا النّاس! مَیں گُم کردہ کارواں، جَرس کی طرح نالاں ہوں۔ دل گِرِفتہ، نقشِ پائے یارانِ رفتہ، حُمُق میں گرفتار ہوں، بچھڑوں کا طالِبِ دیدار ہوں۔ غریبِ دیار، بے تاب، دانہ نصیب ہوا نہ آب، مُفارَقَتِ یارانِ چند سے خستہ و خراب۔ ہوش و حواس یک لخت زائِل۔ ضُعف سَدِّ راہ، ناطاقَتی حائل۔ یاروں کی صورت نظر آئی نہیں، دیدۂ دیدار طَلَب میں بینائی نہیں۔ نہ تابِ رفتار، نہ طاقتِ گُفتار۔ مُؤلِّف:

بَسانِ نقشِ پا بیٹھے جہاں، واں سے نہ پھر سَرکے
ٹھکانا پوچھتے ہو کیا بھلا ہم بے ٹھکانوں کا
بہ یادِ دوستاں پہروں مجھے ہچکی لگ آتی ہے
کہیں مذکور جب ہوتا ہے کچھ گزرے فسانوں کا
عَلَم سے آہ کے ثابِت ہوئی غم کی ظَفَر ہم کو
کہ باعِث فتح کا ہوتا ہے، کھل جانا نشانوں کا
چُھڑائے جبر سے پیرِ فلک نے دوست سب میرے
مٹے گا داغ کب دل سے مرے اُن نوجوانوں کا
شرر مُنہ سے نکلتے ہیں سُرورِؔ دلِ حَزیں ہر دم
بھلا دیواں ہو کیوں کر جَمع ہم آتش بیانوں کا

اِس حِکایتِ جاں سُوز، شِکایَتِ چرخِ بے مِہر، غم اَندوز سے سب رُونے لگے، کہا: یہ شاہ زادۂ عالی تَبار ہے؛ اِلّا، دل اَز دست دادہ، محبوبوں سے دور فتادہ، اِس سبب سے دل اَفگار ہے۔ مِنّت و سَماجت سے مکان پر لے گئے۔ ہاتھ مُنہ دُھلوا کھانا پانی حاضر کیا۔ شہ زادۂ جانِ عالم نے آب و طَعام دیکھ رو دیا، یہ کہا، اُستاد:

ہو خاک بھوک کی اُس فاقہ مست کو پھر جھانجھ
جو اپنا خونِ جگر، روز ناشتا سمجھے

خدا جانے میرے بچھڑوں کا کیا حال ہوا! کسی کو دانہ پانی مُیسّر آیا، یا کچھ نہیں پایا! میں بھی نہ کھاؤں گا، بھوکا پیاسا اِسی کُوفت میں مر جاؤں گا۔ وہ بولے:حضرت سلامت! کھانے پینے سے انکار نادانی ہے، اِسی سے بَشَر کی زِندگانی ہے۔ جو جیتے ہو تو کسی روز بچھڑوں سے مل جاؤ گے، وگرنہ غُربت کے مر جانے میں گور و کفن بھی نہ پاؤ گے۔ ناچار سب کے سمجھانے سے، دو ایک نوالے بہ جبر حلق سے اُتارے، پانی جو پِیا، ہاتھ پاؤں سَنسَنائے، پیہم غش آئے۔ جب طبیعت ٹھہری؛ سب حالِ پُر ملال، جہاز کی تباہی، اَنیسانِ ہم راز کی جُدائی، اپنا ڈوبتے اُچھلتے وہاں تک آنا، اَوروں کا پتا نہ پانا بیان کر کے، بہ قولِ میرزا حُسین بیگ صاحِب یہ کہا، بَیت:

ہمر ہاں رفتند و ما ماندیم و دُزداں در کمیں
خانۂ ملّاح در چین است و کشتی در فرنگ

سب تَاَسُّف کرنے لگے۔ ایک شخص نے کہا: یہاں سے دو منزل ایک پہاڑ ہے، کوہِ مطلب بَرآر نام ہے، اُس پر جوگی کا مَقَام ہے؛ مردِ با کمال، شیریں مَقال۔ ہزاروں کوس سے حاجت مند اُس کے پاس جاتے ہیں، سب کے مطلب بَر آتے ہیں۔ بس کہ اُس پر عنایتِ باری ہے، چشمۂ فیض اُس سے جاری ہے۔ مشہور ہے کہ آج تک کوئی شخص محروم، ناکام اُس مَقام سے نہیں پھرا۔ یہ مُژدہ سُن کر چہرے پر بَشاشَت چھا گئی، گئی ہوئی جان اُسی آن بدن میں آ گئی، گھبرا کر یہ شعر پڑھا، حافظؔ:

آنانکہ خاک را  بہ نظر کیمیا کنند
آیا بَوَد کہ گوشۂ چشمے بما کنند

اُسی دم چلنے کا عَزم کیا۔ وہ لوگ مانع ہوئے، کہا: ابھی جانے کی طاقت آپ میں آئی نہیں، پاؤں میں راہ چلنے کی تاب و تَوانائی نہیں۔ دو چار روز یہاں آرام کرو۔ قوت آ جائے تو مختار ہو۔ غرض کہ جانِ عالم نے اُن لوگوں کے سمجھانے سے وہاں مُقام کیا۔ عجب پریشانی میں صُبح کو شام کیا کہ گرد وہ سب حلقہ زَن، یہ بہ اَندُوہِ معشوقاں گرفتار رنج و مِحن۔ کبھی تو مَحزوں چُپ رہتا، گاہ مثلِ مجنوں خود بہ خود بکنے لگتا۔ اور جب حَواسِ خَمسَہ دُرُست ہوتے، یہ خَمسَہ پڑھتا، اُستادؔ:

ہر سو خبرِ اُلفت کیا آپ سے پہنچائی
آگے بھی مرے لب پر فریاد کبھی آئی
کیوں مجھ سے بگڑتا ہے او کافرِ تَرسائی
تا داشت دلم طاقت، بودم بہ شکیبائی

چوں کار بجاں آمد، زیں پس من و رُسوائی

گاہے مرے لب پر ہے فریاد، گہے اَفغاں
پیارے! غمِ دوری سے میں سخت ہوں اب نالاں
یہ جائے تَرَحُّم ہے، کر رحم ذرا جاناں
در زاویۂ الفت دور از تو چو مہجوراں

تنہا منم و آہے، آہ از غمِ تنہائی

ہے دن کو تو یہ عالَم ظالم، ترے مجنوں پر
ہیں گرد کھڑے لڑکے، جھولی میں بھرے پتھر
سونے کی کسے فُرصت، اے یار اِسے باوَر کر
شبہا منم و اشکے، وَزخوں ہمہ بالیں تر

عشق ایں ہُنرم فرمود، اَرعیب نفرمائی

اَعضا شِکَنی گاہے، گہ دردِ جگر، دیکھو
رومال بھگوتا ہوں لاکھوں ہی کبھی رُو رُو
گردن زَدَنی ہوں میں، شکوہ کروں تیرا، گو
صد رنج ہمی بینم اے راحتِ جاں از تو

از دیدہ تواں دیدن چیزیکہ تو بنمائی

تھا تاب و تحمل میں یکتا جگرِ خسروؔ
آگے تو نہ بہتی تھی سِلکِ گُہر خسروؔ
تم اب تو نوازشؔ لو چل کر خبرِ خسروؔ
بس دُر کہ ہمی ریزد از چشمِ ترِ خسروؔ

کز دست بروں رفت است سر رشتۂ دانائی

آخِرَش، وہ رات کی رات بہ ہزار عُقوبات تڑپ تڑپ کر سحر  کی، نمازِ صُبح کے بعد پہاڑ کی راہ لی۔ چار دن میں ناچار وہ راہ طے کی، پہاڑ پر پہنچا۔ سنگِ سفید کا پہاڑ بہت آب دار، مانِندِ ہمّتِ جواں مردانِ صاف باطن سَر بلند اور مثالِ طبعِ سخنوَراں فَرَح اَفزا و دل پسند۔ دَرَہ ہائے فَراخ کُشادہ، روشن۔ جوشِ نباتات، رُوئیدگیٔ رَیاحین و لالہ زار سے اور خَرُوشِ مُرغانِ خوش اِلحاں سے رشکِ صَد گلشن۔ چشمہ ہائے سرد و شیریں جا بہ جا، فرہاد کی روح کا ٹھیکا۔ ہر قسم کا میوہ دار درخت قدرتِ حق سے اُگا، پھولا پھلا۔ پتھر ہر ایک مَعدنِ لعل۔ پَرِند چَرِند صاحبِ حُسن و جمال۔ یہ سَیر دیکھتا چلا۔ ایک طرف درخت گُنجان، گھنے؛ پختہ مزار بیدار دِلوں کے بنے۔ اور مَنڈھی کا گُنبد بَسانِ گُنبدِ گَرداں، بیسُتوں کا جواب بَنا۔ تِرسول کھڑا، کھارُوِے کے جھنڈے پُھر پُھر اُڑتے، کلمۂ شہادت  بہ خَطِ جَلی اُس پر لکھا صاف معلوم ہوا۔

جب اُ س کے نزدیک آیا؛ دور دور تک مکان صاف، صحن شَفّاف پایا۔ مَٹھ کے رو بہ رو درخت کے تلے چبوترے کے اوپر ایک جوگی، سَو سَوا سَے برس کا سِن و سال، مگر ٹانٹھا کمال۔ ڈاڑھی ناف سے بڑی، گرہ لگی۔ جَٹا ہر ایک راکھ سے بھری، قدم بُوس  ہو رہی، پاؤں پر پڑی۔ پلکیں دیدۂ حق بیں کا اَسرار چھپانے کو، چشمِ حاسد کی گزند بچانے کو موچھوں سے مِلیں۔ جسم میں موجِ دریا کی طرح جُھرّیاں پڑیں۔ کمر میں کَردَھنی مُوٹی سی مَہین بان کی، عجب آن بان  کی۔ کھارُوِے کا لنگوٹ سَترِ عَورَتَین کی اُوٹ۔ گلے میں محمودی کی کفنی، سامنے گریبان پھٹا، کارِ سُوزنی، سر پوشیدہ نہیں، کھلا، حُقّہ چَوگانی مُنہ سے لگا۔ اَفیونِیوں کی شکل بنائے، شیر کی کھال بچھائے، بھبوت رَمائے، دید وا دید سے بہ ظاہر آنکھیں بند، مگر دیدۂ دل کھلا۔ خموشی پسند قَلبِ گویا بولتا۔ سوتا نہ جاگتا، آسَن مارے، دُنیا سے کَنارے خُدا جانے کس پینَک میں بیٹھا۔ پیٹ پیٹھ سے لگا۔ تیر سا قَدِ راست مثلِ کماں خَمیدَہ، گویا چِلَّہ کھینچ چکا ہے۔ زُنّار آسا رَگیں عَیاں۔ کھال سے ہڈّیوں کے جُوڑ شمع فانوس نَمَط نُمایاں۔ تسبیح سلیمانی، ایمان کی نشانی ہاتھ میں۔ “ہَر بھجُو، ہَر بھجُو” تکیہ کلام بات میں۔ قَشقَہ، ٹیکا ماتھے پر ہندوؤں کا، اور سجدے کا گھٹّا بَدرِ کامل کی صورت چمکتا۔ زرد مِٹی بدن میں، ذِکرِ حق دل و دَہَن میں۔ کہیں مُصلّے پر سُبحَہ و سجدہ گاہ رکھی، کپڑے کی جا نماز بچھی۔ کسی جا پوتھی کھلی، دھونی رَمی؛ دونوں سے راہ رکھی۔ عجب رنگ کا انسان، خُلاصہ یہ کہ ہندو نہ مسلمان، بہ قولِ مرزا سوداؔ:

کس کی مِلّت میں گِنوں آپ کو، بتلا اے شیخ!
تو کہے گَبر مجھے؛ گبر، مسلماں مجھ کو

ایک طرف تکیے میں دو چار کیاریاں، بیلے چنبیلی کی بہار، گُل کاریاں۔ کہیں مُرشِدوں کے ڈھیر، گُرو کی چھتری، بزرگوں کے مزار؛ اُن پر مَولسِری کے درخت سایہ دار قَطار قَطار۔ درختوں کی ٹہنیوں میں پنجرے لٹکتے، جانور باہم بحث کرتے، اَٹکتے۔ فاختہ کی کو کو، قُمری کی حَق سِرَّہ، کوکلا کے دَم، سَنّاٹے کا عالم۔ کہیں مِرگ چھالا بِچھا، شیر چَوکی دیتا، دھونی لگی، لکّڑ سُلگتا۔ کسی جا بَبَر کی کھال کا بِسترا، آہوئے صحرائی اُس پر بیٹھا؛ اُداسا، تُونبا، بے مِنَّتا دَھرا۔ ایک سمت بھوانی کا مٹھ، تُلسی کا پیڑ ہرا بھرا، گرد چشمہ پانی کا بھرا۔ جائے دل چسپ، مکانِ رُعب دار، گُلِ خُود رو کی جُدا بہار۔ ایک طرف بھنڈارا جاری، کڑھاو چڑھا، موہن بُھوگ ملتا۔ کہیں پُلاؤ،قَلیے کی تیاری، چھاندا بَٹ رہا تھا۔ کچھ مہنت بالکے، کچھ مُرید حال قال کے، کوئی چِلّے میں بیٹھا، کوئی دُنیا سے ہاتھ اُٹھائے کھڑا۔ کسی کے خِرقَہ و تاج سَر و تَن میں، کوئی چَواَگَن میں۔ کہیں کَتھا ہوتی، کوئی وعظ کہہ رہا۔ ایک طرف خنجری بجتی، تَنبورا چِھڑتا، بھجن ہوتے۔ ایک سمت حلقہ مراقبے کا بندھا، توجُّہ پڑ رہی، لوگ روتے۔ عجیب وہ گُرو مُرشِد، غریب یہ مُرید چیلے۔ روز ایک دو کو مونڈتا۔ تیسرے چوتھے دن عُرس، ہر ہفتے میں میلے۔ حاصِلِ کلام  یہ کہ وہ عجب جلسہ تھا کہ دیکھا نہ سُنا۔ یہ اِجتماعِ نقیضیَن آرام و چَین سے۔

شہ زادے کے پاؤں کی آہَٹ جو پائی؛ مردِ آگاہ دل، روشن ضمیر نے پلک ہاتھ سے اُٹھائی، آنکھ مِلائی۔ دیدے لال لال چَڑھے پُر رُعب و جلال۔ جانِ عالم کو بہ غَور دیکھا۔ اِس نے جھک کر مُؤدَّب سلام کیا۔ اُس خوش تقریر، شیریں مَقال نے کہا: بھلا ہو بچہ! بڑی مصیبت فلک نے دکھائی جو یہ صورت یہاں تک آئی۔ آؤ بیٹھو، گُرو بھلا کرے۔ مُرشِد کی دُعا سے حق، حاجت روا کرے۔ ہم تمھارے امانت دار ہیں؛ سواری کھڑی ہے، چلنے کو تیار ہیں۔

جانِ عالم متحیر تو ہو رہا  تھا، زیادہ حیران ہوا کہ یہ کیا اَسرار ہے۔ پاس جا بیٹھا۔ جوگی اُٹھا، چشمے میں جا کر نہایا۔ گیروا چادرا پھینک، سفید اُوڑھ، عِطر لگا، جانِ عالم کے نزدیک آ، یہ نکتہ زبان پر لایا: بابا! ایک دن ذوق شوق کے عالَم میں ہمارےمُرشِد گُرو نے تیرے حال سے خبر دی تھی کہ ایک شہ زادے کا جہاز تباہ ہو جائے گا، وہ بہ سراغِ مطلب یہاں آئے گا؛ اُس کا کام تجھ سے، تیرا کام اُس کے سامنے پورا ہو جائے گا۔

اِس بات کے سُننے سے شہ زادے کو نہایت مَسرّت ہوئی، کہا: جوگی جی! تمھارے نام سے میری زندگی ہوئی؛ وگرنہ دو چار دن میں گرِیبانِ صبر چاک ہو جاتا، میں سر پٹک کر ہلاک ہو جاتا۔ خوب صورتی کا بھی عجب مزہ ہے، جہان اِس کا شیدا ہے۔ عالَم کو مَرغوب ہے، طرح دار سب کا محبوب ہے۔ پیر فقیر، غریب امیر سب کو عزیز ہے۔ اِس کا خواہش مند ہر با تمیز ہے۔ جوگی سمجھانے لگا کہ یہ اِضطراب عالمِ اسباب میں بیجا ہے۔ دیر آید، دُرست آید۔ بابا! دُنیاکا یہ نقشہ ہے: کسی شَے کو ایک وَضع پر دو گھڑی ثَبات و قرار نہیں۔ اس کی نَیرنگی کا اِعتبار نہیں۔ گاہ خوشی، کبھی غم؛ یہ دونو ں اَمر باہم ہیں۔ کبھی وصل کی شام کو دل کیسا بَشّاش ہوتا ہے، کبھی ہجر کی صبح کو کلیجا پاش پاش ہوتا ہے۔ ایک شب بستر پر لذّتِ ہَم کناری ہے۔ ایک روز پہلو تہی، گریہ و زاری ہے۔ کبھی شبِ وصل کیا کیا اِختلاط ہوتے ہیں۔ گاہ فَصل کے دن سر پیٹتے ہیں، روتے ہیں۔ آدمی جب رنج سے گھبرائے اور غمِ مُفارقتِ دوست جان ہونٹوں پر لائے؛ دل کو یہ تسکین دے کر بہلائے، مصر؏:

چناں نماند و چنیں نیز ہم نخواہد ماند

مصر؏:

در پسِ ہر گریہ، آخر خندہ ایست

مصحفیؔ:

زِندگی ہے تو خِزاں کے بھی گزر جائیں گے دن
فصلِ گُل جیتوں کو پھر اگلے برس آئے گی

جو وصل میں راحت و آرام پاتا ہے؛ وہی ہجر کے دُکھ، قَلَق اُٹھاتا ہے۔ تو نے اُن دونوں بھائی، جو تَواَم پیدا ہوئے تھے، اُ ن کا قصّہ سُنا نہیں، کہ پہلے اُنھوں نے کیا کیا صعوبَت اُٹھائی، پھر ایک نے سلطنت پائی، دوسرے کے ہاتھ شہ زادی آئی۔ جانِ عالم نے کہا: اِرشاد ہو، کیوں کر ہے؟

 

حکایتِ پُر عبرت، جاں سوز، حیرت اَفزا، غم اندوز؛ یعنی سانِحۂ برادرانِ تَواَم

 

جانا شکار کا، دامِ قضا میں پھنسنا طائرانِ پُر اعجاز، عجائبِ روزگار کا۔

پھر ایک نے سلطنت پائی، دوسرے کے ہاتھ بہ صد خرابی شہ زادی آئی

 

جوگی نے کہا: ایک شہر میں دو بھائی تھے تَواَم، پرورش یافتۂ ناز و نِعَم، رُوزگار پیشہ، نیک اندیشہ۔ سوائے رشتۂ برادری، سَر رِشتۂ دوستی و اِتّحاد وہ نیک نِہاد باہم مُستَحکَم رکھتے تھے؛ مگر دونوں کی طبیعت متوجہِ سیر و شکار، ہمّت مصروفِ سیّاحِیٔ دِیار دِیار تھی۔ ایک روز شکار کھیلتے جنگل میں جاتے تھے، ہِرَن سامنے آیا۔ چھوٹے بھائی نے تیر لگایا، کاری نہ لگا۔ ہِرَن کَنَوتِیاں اُٹھا کے بھاگا۔ دونوں نے تَعاقُب کیا۔ تمام دن رَوان و دَواں، اُفتان و خیزاں چلے گئے۔ قریبِ شام موقع پا کے بڑے بھائی نے جو تیر مارا، ہِرَن ڈگمگا کر گرا۔ یہ گھوڑوں سے اُترے، ذَبح کیا۔ دن بھر کی دَوڑ سے گھوڑے شَل، خود بھی مضمحل ہو گئے تھے۔ تمام روز کے بے دانہ و آب، بھوک پیاس سے بے تاب تھے۔ لَکڑیاں چُن کر، پانی بہم پہنچا کر کباب لگائے، بہ خوبیٔ تمام دونوں نے کھائے؛ مگر اُس روز جو کیفیت اور لذّت خُشک کباب میں پائی، مُرغ کی زِیر بِریانی تَرتَراتی کبھی ایسی نہ کھائی۔ پانی جو ڈگڈَگا کے پِیا، سُستی معلوم ہوئی اور رات بھی ہو گئی تھی؛ لیکن شبِ ماہ، پورن ماسی کا چاند، اللہ اللہ! جنگل کی فِضا، سبزۂ نَو رُستَہ جا بہ جا۔ انھوں نے کہا: آج کی شب اِس صحرا میں سحر  کیجیے، چاندی کی بہار، صنعتِ پَروَردگار دیکھ لیجیے۔ پھر دل میں سوچے کہ تنہائی کی چاندنی گور کے اندھیرے سے بد تر ہے۔ سچ ہے: جب ماہ روبَر میں نہ ہو تو نور نظر میں نہ ہو، اندھیر اُجالا آنکھ میں برابر ہے۔ ناسخ:

دھوپ بہتر، پر شبِ فرقت کی بد تر چاندنی
صاعِقے کے طَور سے پڑتی ہے مجھ پر چاندنی

خیر، یہ دونوں ایک درختِ سایہ دار چشمے کے قریب دیکھ؛ شَطرَنجی، چاندنی تو ہمراہ نہ تھی؛ زین پُوش چاندنی کے عِوَض بچھا، چاندنی کی سَیر کرنے لگے۔ باگ ڈُور سے گھوڑے اَٹکا دیے۔ چھوٹا بھائی بڑا متین، ذی شعور، نکتہ سَنج، دوربیں تھا، بڑے بھائی نے کہا: آج ہم تمھاری عقل کا اِمتِحان کرتے ہیں؛ بتاؤ تو اِ س وقت ہمارے شہر کا ہم سے کتنا فاصلہ ہے؟ اور یہ سمت کون سی ہے؟ تیسرے، کباب کی لذّت، پانی کا زیادہ مزہ آج مِلا، اِس کا سبب کیا تھا؟ اُس نے جواب دیا: یہ باتیں سہل ہیں۔ شہر ہمارا یہاں سے سَو کوس ہے اور دلیلِ کامل یہ ہے کہ بار ہا تَجرِبہ کیا ہے، میرا گھوڑا تمام دن میں سو کوس اِسی چال سے پہنچتا ہے۔ اور سِمت، ستاروں سے ثابِت کہ شمال ہے۔ رہا کھانے پانی کا لطف، خِلافِ وقت سے تھا؛ اِلّا، نیا مُقَدَّمَہ یہ سُنیے: یقینِ کامل ہے کہ صبح کو عِنایَتِ خالق اور مَدَدِ طالع سے وہ سامان مُہیّا ہو جو کُدورَتِ سابِق دور ہو، آئندہ آسائش رہے، طبیعت مسرور ہو۔ بڑے بھائی نے اِس کی وجہ پوچھی۔ اُس نے کہا: آج سو کوس کی مسافَت بہ صد آفت طَے کی، بھوکے پیاسے رہے، لیکن دل بَشّاش ہے۔ وہ سُن کے چُپ ہو رہا۔ یہ قصّہ رَفت و گُذشت۔

پھر مشورہ ہوا کہ یہ جنگل سُنسان، ہو کا مکان ہے؛ یہاں دَرِندہ و گَزِندہ، سانپ بچھو، شیر بھیڑیے کے سوا پَرِندَہ، دَوِندَہ نظر نہیں آتا؛ جو ہم تم دونوں سو رہے، تو اَلنَّومُ اَخُـــو المَوتِ، خُدا جانے کیا معاملہ رو بہ کار ہو۔ تین پَہَر رات باقی ہے؛ ڈیڑھ پَہَر ہم جاگیں، پھر تم ہُشیار رہو۔ یہ صَلاح پسندِ خاطِرِ طَرَفَین ہوئی۔ پہلےبڑے بھائی نے آرام کیا، چھوٹے نے جاگنے کا سَر انجام کیا۔ تیر و کماں ہاتھ میں اُٹھا ٹَہلنے لگا۔ جب زُلفِ لَیلائے شب کمر تک آئی؛ اُسی درخت پر دو جانور آپَس میں اپنی اپنی تَوصیف و تعریف زبانِ بے زَبانی میں کرنے لگے اور یہ شخص بہت جانوروں کی بولی سمجھتا تھا، آواز پر کان لگائے۔ ایک بولا: میرے گوشت میں یہ تاثیر ہے: جو کھائے؛ ایک لعل تو پہلے دو پَہَر کے بعد اُگلے، پھر ہر مہینے مُنہ سے نکلے۔ دوسرا بولا؛ جو شخص میرا گوشت کھائے، اُسی روز بادشاہ ہو جائے۔

یہ باتیں سمجھ دل میں نہایت خوش ہوا۔ تیر و کماں تو موجود تھا؛ اِلَّا اللہ کہہ کر، بیر بے تَاَمُّل چِلّے سے جوڑ کر کھینچا۔ لَبِ سوفار کان کے پاس آ، بہ وعدۂ نشانہ سرگوشی کر کے روانہ ہوا۔ قضا نے ہر چند اُن کے سر پر “خبردار” پکارا، کمان کَڑکَڑا کر چِلّائی کہ وہ مارا۔ رات کا تیر سرا سری اُٹَکَّر لَیس؛ مگر مَرگ جو درپئے ہو گئی، کسی گوشے میں جان نہ بچی۔ پَیکان سے تاسوفار دوسار ہوا۔ زمین پر چھد کر دونوں ایک تیر میں گر پڑے۔ اِس نے تکبیر بِلا تاخیر کہہ کے ذَبح کیا، طائِرِ روح اُن کا اُڑ گیا۔ دن کی لَکڑِیاں بچی پھر سُلگا کباب لگائے۔ جس کے گوشت میں سلطنت کا ذائِقہ سمجھا تھا، اُسے کھایا۔ دوسرا، بھائی کے واسطے اُٹھا رکھا اور ایسا خوش ہوا کہ تمام شب آپ پاسبانی کی، بڑے بھائی کو تکلیف نہ دی۔ جَلَّ جَلالُہٗ! مُعاملاتِ قضا و قَدَر سے مجبور بَشَر ہے،انسان کے قبضۂ قُدرت میں نَفع ہے نہ ضَرَر ہے۔مصر؏:

تدبیر کند بندہ، تقدیر زند خندہ

شعر:

اُنچہ نصیب است، بہم می رسد
وَر نستانی، بہ ستم می رسد

جس وقت زاغِ شب نے بَیضہ ہائے انجم آشیانۂ مغرب میں چھپائے اور صَیّادانِ سحر  خیز دام بَر دُوش آئے اور سیمرغِ زَرّیں جَناح، طِلا بال، غیرتِ لعلِ بدخشاں بہ صد عُظم و شاں قفسِ مشرق سے نکل کے گلشنِ زَنگاری میں جلوہ افروز ہوا، یعنی شب گُزری، روز ہوا؛ بڑا بھائی نیند سے جو چَونکا، چھوٹے نے وہ کبابِ پَس ماندۂ شب، رات کے بچے رو بہ رو رکھے؛ وہ نُوش کر گیا، اور حال کچھ نہ کہا۔ دو گھڑی دن چڑھے جب لعل اُگلا، تب سمجھا: ہم نے بہت تدبیر کی، مگرسلطنت بڑے بھائی کی قسمت میں تھی۔ پھر وہ لعل بہ طریقِ نَذر رو بہ رو لایا اور رات کا فَسانہ مُفَصّل سب کہہ سُنایا، کہا: اللہ کی عِنایَت سے جلد آپ کو سلطنت کا حُصول ہو، یہ نَذر غُلام کی قبول ہو۔ اُس کو اِس کی سعادت مندی سے خُرسَندی حاصل ہوئی؛ پھر کہا: سامنے آبادی معلوم ہوتی ہے؛ ہم جا کر اِس لعل کو کسی دَلّال کے ہاتھ بیچ آئیں، تم گھوڑوں کے پاس رہو۔ اگر اپنے شہر چل کر یہ اَمر کریں گے؛ حاکم کا خوف مانِعِ کار ہو گا، مفلسی کے باعِث کس کو ہمار اعتبار ہو گا۔ یہ کہہ کر سمت شہر چلا۔

جس دم شہر کے دروازے پر پہنچا، خَلقَت کا اَنبُوہ نظر پڑا۔ اُس ملک کا یہ مَعمول تھا: جب وہاں کا بادشاہ دارُ السَلطَنَتِ عَدَم کا تخت نَشیں ہوتا؛ وَضیع و شریف شہر کے، سُوُم کی رَسم کے بعد، وزیر اعظم کے ہمراہ صُبح دَم تخت لے کے دروازے پر آتے تھے؛ جو اُس روز پہلے مسافر باہَر سے آتا، اُسے بادشاہ بناتے تھے۔ قَضارا، وہاں کا بادشاہ قَضا کر گیا تھا، لوگ تخت لیے مُنتَظِر تھے، یہ داخل ہوا۔ سب نے تخت پر بِٹھا نَذریں دیں۔ نَوبت و نشان، جُلوس کا سب سامان موجود تھا، دھوم دَھڑَکّے سے دیوانِ خاص میں داخل کیا۔ مُنادی ہوئی، بہ قَولِ مشہور: اِن  کی رائی دُہائی نزدیک و دور ہو گئی۔ اِس کو سُرورِ سلطنت اور اَحکامِ مملکت کے باعِث اُس دن بھائی کا خیال نہ آیا۔ دوسرے روز جب تخت پر رونق اَفروز ہوا اور سامنے لعل آیا، تب بھائی کا خیال آیا۔ فوراً جاسوس، ہَرکارے درخت کا پتا بتا روانہ کیے، کہا: اِس صورت کا جوان اور دو گھوڑے وہاں ہیں، جلد حُضور میں حاضر کرو۔

وہ سب دوپَہَر تک تمام جنگل کی خاک چھان، حیران و پریشاں پھر آئے، عرض کی: تمام دَشت میں پِھر کر پاؤں تُوڑے، نہ آدمی ملا نہ گھوڑے۔ وہ کچھ رنجیدہ ہو سلطنت کے شُغل میں مَشغول ہوا، بھائی بے چارے کو بھولے سے بھی کبھی یاد نہ کیا؛ مگر وہ لعل جسے بیچنے کو لایا تھا، جس کے بَیعانے میں تخت و تاج مُیسَّر آیا تھا؛ فالِ مُبارک اور بے نشان بھائی کی نشانی سمجھ، ہر روز سرِ دربار لاتا، ملازِموں کو دِکھاتا۔ وہ سب بہ خاطرِ شاہ واہ واہ کہتے، یہ سن کر خوش رہتے۔

 

حکایتِ پُر شکایت چھوٹے بھائی کی

 

نَقل سپہر بے مَہر کی کج اَدائی کی۔ اُٹھا لے جانا جانورِ مُہیب کا،

بدولتِ سوداگر کُنویں سے نکلنا اُس بَلا نصیب کا۔ میرِ قافلہ کی بُرائی،

شہ زادی تک رَسائی، پھر تقدیر کی بھلائی

 

صَیّادانِ طائِرِ مَعانی، ذی ہوش و دام دارانِ بلبلِ خوش بیانی، خانہ بدوش نے حال اُس مُنتَظرِ زِیرِ درخت کا یہ لکھا ہے کہ ہمہ تَن چشم مَحوِ اِنتِظارِ برادرِ فراموش کار بیٹھا تھا؛ ناگَہاں ایک جانورِ مُہیب، بہ شکلِ عجیب آیا اور پنجے میں داب کر اُڑا۔ گھوڑوں نے ڈر سے باگ ڈور تُڑا کے جنگل کا رستہ لیا، کود بھاگے۔ اللہ کی قدرت دیکھیے بڑا بھائی سلطنت کا مالک ہوا، چھوٹا بِچارا موذی کے چنگل میں پھنسا۔ وَاللہُ اَعلَم بِالصَواب وہ جانور وہاں سے کتنی دور اُڑا۔ آخر کار تھک کر، ایک درخت کُنویں کی جَگَت پر تھا، اُس پر جو بیٹھنے لگا، یہ پنجے سے چھٹ کر چاہ میں ڈوبا۔ جامیؔ:

فُغاں زیں چرخِ دَولابی کہ ہر روز
بچا ہے افگند ماہِ دل افروز

اِلّا، رَسَنِ حیات مضبوط تھی؛ نہ گَزند پَنچے کی پہنچی، نہ چوٹ چَپِیٹ گرنے کی لگی۔ میر حسنؔ:

کُنواں وہ جو اندھا تھا، روشن ہوا
جواں اُس میں وہ، سانپ کا مَن ہوا

وہ جانور تو دم لے کر اُڑ گیا، یہ بے پَر کُنویں میں پڑا رہا۔ اِتِفاقاً اُسی روز ایک قافلۂ گُم گشتہ راہ خستہ و تباہ سرِ چاہ پہنچا۔ کنواں دیکھ کر پانی کے لالچ سے وہاں قیام کیا۔ آدمی پانی بھرنے کنویں پر آئے۔ اِس بے چارے نے رسّی کا سہارا جو پایا، اِس پھندے میں کنویں سے باہر آیا۔ جس نے اِ س کا چہرۂ رعنا مشاہدہ کیا، یَا بُشرَی ھٰذَا غُلَام کا غُل برپا کیا۔ دُنیا کے عَجَب معاملے ہیں۔ شعر:

روزی نگر کہ طوطیٔ جانم سوی لبش
بربوی پستہ آمد و بر شکّر او فتاد

جب لوگ حال پوچھنے لگے؛ اِس نے جیسا موقع دیکھا، ویسا بیان کیا۔ غرض کہ میرِ قافلہ کی خدمت میں توقیر سے رہنے لگا۔ چند روز میں قافلہ منزلِ مقصود کو پہنچا اور مہینا بھی تمام ہوا؛ جوانِ غم دیدہ، بلا رسیدہ نے دوسرا لعل اُگلا۔ رئیسِ قافلہ دیکھ کے تمام ملال بھولا۔ پست ہمتی سے سوچا کہ ایسی گراں بہا شَے کا سہل لے لینا مشکل ہے، مَبادا کچھ فساد اُٹھے۔ وہ بد افعال اِس کا خون حلال سمجھا، بُرے کام کا مطلق نہ مآل سمجھا۔ جوان کو قید کر کے کوتوال پاس بھیجا، کہا: یہ میرا غُلام ہے، آج اِس نے لعل چُرایا، کچھ ایسا وَسوَسۂ شیطانی دل میں آیا؛ میں نے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے کہ اِسے سزا ملے؛ تا، لوگ ڈریں، عبرت سے آئندہ ایسی حرکت نہ کریں۔ کوتوال نے قاضی سے مسئلہ پوچھا۔ اُس نے بے تحقیق ہاتھ کاٹنے کا فَتویٰ دیا؛ مگر اُس شہر کا چندے سے یہ دستور تھا: جب کسی شخص پر گُناہ ثابِت ہوتا، تو مُدَّعی اور مُدَّعا علیہ بادشاہ کی بیٹی کے رو بہ رو حاضر ہوتے۔ اَظہارِ حال کے بعد، مُرافَعَۂ ثانی میں جو اُس کی رائے مَعدِلَت پیرائے میں آتا، وہ ہوتا؛ اِس واسطے کہ بادشاہ مُسِن تھا، بیٹی کے سوا اور کوئی تخت و سلطنت کا وارِث نہ تھا۔ اللہ رے اُس کے جمال کا جلوہ اور حُسن کا غَوغا! پری کو ہزار جان سے اُس کی پروا، حور اُس کی شیدا، خلقِ خُدا اُس مَہ سیما پر نثار، آفتِ عَصر، بلائے روزگار تھی۔ حُسنِ عالَم فَریب کے علاوہ طَبعِ حلیم، رائے سلیم؛ نکتہ فَہم، دَقیقَہ رَس، اپنے عَصر کی حکیم۔ حقیقتاً قابلِ ریاست وہ صاحِبِ فِراست تھی۔ غُنچۂ خاطر اُس گُل اَندام، یاسمیں پَیکر کا رو نادیدَۂ صبا تھا۔ دَہَنِ صَدَفِ مُراد تمنّائے قطرۂ نَیساں میں بند۔ کوچۂ عِصمت و عِفّت میں اُس دُرِ ناسُفتَۂ دُرجِ شہر یاری کے وَہم و فکرِ تاج دارانِ دَہر کا گُزر نہ ہوا تھا، اُس دم تک ناکَتخُدا تھی۔

جس وقت وہ دونوں رو بہ رو ہوئے، پہلے شاہ زادی نے میرِ قافلہ سے پوچھا۔ اُس نے جو کچھ کُوتوال سے قیل و قال کیا تھا، وہی بے کَم و کاست مکرّر عرض کیا۔ شہ زادی نے یہ مصرع بَرجَستہ پڑھا، سعدیؔ:

باطِلست اُنچہ مدّعی گوید

پھر جوان کی طرف مُخاطِب ہوئی۔ بس کہ یہ زیست سے تنگ، آمادۂ مَرگ تھا، بے تَاَمُّل بولا: شہ زادی! آپ روشن ضمیر ہیں، ہم مصیبت زَدوں کی طرح سِلسلۂ بے جُرمی میں اَسیر ہیں، یہ شخص سچا ہے۔ وہ تو عَقیلہ تھی، زیادہ شک ہوا، دل سے کہا: آج تک کسی چُور نے حاکم کے رو بہ رو بجز انکارِ دَست بُردی، دفعتاً اِقرارِ دُزدی کیا نہیں۔ یہ بے گناہ ہے۔ تقریر اِس شاہِد کی، شاہِد ہے، خُدا گواہ ہے؛ کچھ اِ س میں بھید ہے۔ قافلہ باشی سے فرمایا: کل تو محکمے میں حاضر ہونا۔ جوان کو ڈیوڑھی پر قید کیا۔ یہ تو حسین، بلکہ مِہر طَلعت، ماہ جبیں تھا؛ طالِع کا ستارہ جو چمکا، شہ زادی کا میلانِ خاطِر جوان کی جانب ہوا۔ شب کو تنہا بُلا کے بہ دِل داری و تَاَسُّف اِستِفسارِ حال فرمایا۔ اُس وقت جوانِ ناکردہ گُناہ نے دل سے آہِ سرد بھر مَشروحاً اَز آغاز تا انجام عَرض کیا۔ شہ زادی کا دل، یہ نیا قصّہ سُن کے، بہ مرتبۂ اَتَم مسرور ہوا۔ چوری کا شک اُس دُزدِ دل کی جانب سے دور ہوا۔

صُبح کو بادشاہ کے حُضور میں لا، خود دَستِ ادب باندھ کر عَرض کی: قبلۂ عالَم و عالَمِیاں کی عُمر دراز ہو، قَیصر و فَغفور کی اِس دَر پر جبیں بہ نِیاز ہو! شہر کا قاضی اور کوتوال بے دریافتِ حقیقتِ حال حُکمِ سزا بندہ ہائے خُدا کو دیتے ہیں، رُوزِ جَزا کی جواب دِہی اپنی گردن پر لیتے ہیں۔ غَضَب کی جا ہے، عجیب ماجرا ہے واجَبُ التَّعذیر، صاحِبِ تقصیر کو لعل ملے، بے گُناہ کا ہاتھ کٹے۔ بادشاہ نے پھر دونوں کی زبان سے حال سُنا۔ بہ سببِ کبرِ سِن کہ عقل کو زَوال ہوتا ہے، یہ وہ دن ہیں کہ نِسیان بہ مرتبۂ کمال ہوتا ہے؛ ذہن نہ لڑا، تَاَمُّل کیا۔ شہ زادی نے التماس کیا: حُضور! یہ اِمتِحان بہت آسان ہے، ایک مہینے اور اِس جوان کو قَید رکھیے؛ اگر دوسرا اُگلا، تو سچا ہے؛ پھر ایسے دُرِّ یتیم صَدَفِ راستی کو کیوں بے آب و تاب کیجیے، آبرو لیجیے؛ وگرنہ بہ ماہِ آئندہ یہ بد کِردار دار کا سزا وار ہے، ہاتھ کاٹنے سے کیا ہاتھ آئے گا؟

بادشاہ کو سرِ دست جوابِ باصَواب بیٹی کا بہت پسند آیا، حاضرین نے تحسین و آفریں کی۔ بادشاہ نے جوان کو اپنی آنکھوں کے سامنے نَظَر بَند کیا۔ میرِ قافلہ کو شہ زادی نے مَحبَس بھیجا۔ قصّہ کُوتاہ، وہ مہینا بھی تمام ہوا اور اِتنے دنوں میں شُعلۂ مَحبّت مِجمرِ سینۂ شہ زادی سے بھڑکنے لگا، دَم پھڑکنے لگا، حال طَشت از بام اُفتادَہ ہُوا۔ جوان نے عرض کی: کل لعل اُگلوں گا۔ پھر صُبح کو سَرِ دربار رو بہ روئے حُضّار لعلِ بے بَہا دُرجِ دَہاں سے نکالا۔ سب کو حیرت، شہ زادی کو فرحت و مَسرّت حاصل ہوئی۔ اُسی دم مال و اسباب قافلہ باشی کا جوان کو مِلا۔

اُسے تشہیر کر کے شہر سے بَدَر کیا۔ جوان کی صورتِ دل پَذیر، فصاحتِ تقریر پسندِ خاطِرِ صغیر و کبیر تھی؛ بہ ایمائے شہ زادی سب نے مُتَّفِقُ اللَّفظ بادشاہ سے عرض کی کہ یہ شخص حضور کی عنایت کے لائق ہے؛ تمنّائے مُلازمت رکھتا ہے، کفش بَرداری کا شائِق ہے۔ بادشاہ بھی اِس کی راست بازی سے خوش تھا، راضی ہوا۔ سعدیؔ:

راستی موجبِ رضای خدا ست
کس ندیدم کہ گم شد از رہِ راست

چند عرصے میں مُقرّبِ بارگاہِ سُلطانی، مَورِدِ عِنایاتِ جَہانبانی ہوا۔ ہر مہینے لعل اُگل کے حُضور میں لانے لگا۔ روز بہ روز ہَم چَشموں میں سُرخ روئی حاصل کر کے آبرو پانے لگا۔ آخِر کار، بہ مَشوَرۂ مُلازِمانِ قدیم و بہ تحریکِ حکَما و نَدیم بادشاہ نے اُس گَوہرِ مُسَلَّمِ سِلکِ تاج داری کو بہ رِشتۂ عَقد اُس لعلِ بے بہا کے مُنعَقِد کیا۔ یہ دونوں مشتاق بہ صَد اِشتیاقِ باہَم، لطف کے ساتھ بے اندیشہ و غم، اَیّام گُزاری بڑی دھوم اور تیّاری سے کرنے لگے؛ مگر ہر رُوز بِلا ناغہ جوان بادشاہ کے دربار میں حاضر رہتا تھا۔

ایک دن اِیلچی اِس کے بھائی کا کسی تقریب میں وارِد ہوا اور جواہِر کا ذِکر نکلا۔ اِیلچی نے عرض کی: ہمارے بادشاہ کے پاس ایک لعل اِس رنگ، ڈَھنگ، سَنگ کا ہے کہ آج تک جَوہَریٔ چرخ نے باوُجودِ عَینکِ مِہر و ماہ و گردِشِ شام و پَگاہ، سال و ماہ میں، اُس کےسَنگ کا کیا، پاسَنگ کے برابر نہیں دیکھا ہے۔ یہ کلمہ سُن کر، بادشاہ نے وہی لعل، جو سینۂ بے کینۂ جواں سے نکلے تھے، دس بارہ ایلچی کو دکھائے۔ وہ بھی جواہِر شَناس تھا؛ سخت حیراں، تا دِیر سر بہ گرِیباں رہا، پھر عرض کی: قِبلۂ عالَم! عَجَب کی جا ہے کہ رنگ، روپ، وَزن، نَقشہ انِ کا اُس کا ایک سا ہے۔ اِتنا فرق مُقرَّر ہے کہ وہاں ایک ہے، یہاں ایک سے ایک بہتر و برتر ہے۔ بادشاہ نے جوان کی طرف اِشارہ کیا کہ یہ میرا فرزند ہر مہینے ایک لعل بے رنج و ملال تھوکتا ہے۔ ایلچی نے غور سے دیکھا، اپنے بادشا ہ سے مُشابِہ کیا، بَعِینِہ پایا۔ خیر، رُخصت ہوا۔

جب اپنے بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا؛ اُس کا تو معمول تھا، جب تخت پر آ کر جلوہ گر ہوتا، وہ لعل پیشِ نظر ہوتا؛ ایلچی کو وہ سانِحہ یاد آیا، دست بستہ عرض کی: قبلۂ عالَم اِس لعل کہ جُدا کرتے نہیں، بے اِس کے قدمِ مبارَک تخت پر دَھرتے نہیں؛ اِن روزوں خانہ زاد جس بادشاہ کے پاس گیا تھا، نیا ماجرا دیکھا: مَعدِنِ لعل کہ وہ اِمکان نہیں، لیکن وہ جواہرِ بے قِیاس رکھتا ہے۔ تعجّب کی بات ہے کہ وہ لعل کا پُتلا زندہ اپنے پاس رکھتا ہے۔ بادشاہ نے اُس کا حال مُفَصَّل پوچھا۔ اُس نے سب بیان کیا کہ داماد اُس شاہِ خُجستَہ نِہاد کا ہر مہینے لعل اُگلتا ہے۔ اور کیا گُزارِش کروں، جیسے حُضور کی صورت ملتی ہے، حقیقی بھائی ایسے دکھائی نہیں دیے۔ یہ سُنتے ہی اُس کو یقین ہوا کہ اب پتا مِلا، مُقَرَّر وہ میرا بھائی ہے۔ اُسی وقت نامۂ شوقیہ اُس کانِ گُہر کے اِشتیاقِ دیدمیں بادشاہ کو لکھا کہ برائے چَندِے اگر اُس فرزندِ اَرجُمَند کو اِدھر روانہ کرو، مَحبّتِ دِیرینَہ سے بعید نہ ہو۔ ہمیں شوقِ دیدار اَز حدِ تحریر و اِظہار اَفزوں ہے۔ اور پوشیدہ خطِ تمنّا بھائی کو رَقَم کیا کہ آج تک تیری مُفارَقَت سے تختِ شاہی، بد تر از بُورِیائے گدائی تھا؛ اب ایلچی سے یہ خبرِ فرحت اثر سُن کر دل کو سرور، آنکھوں میں نور آیا؛ لازِم کہ بہ مُجرَّد وُرودِ رقیمۂ وِداد اِدھر کو روانہ ہو۔ اور کچھ پتے حَسَب و نَسَب کے، سانِحۂ شکار تفصیل وار قلمبند کر دیے۔ ایلچی سے فرمایا یہ نامہ عَلیٰ رُؤُسِ الاَشھاد بادشاہ کو اور یہ خط خُفیہ اُس غیرتِ ماہ کو دینا۔

قاصدِ صبا دَم، صَرصَر قدم جلد تر اُس شہر میں وارِد ہوا۔ بادشاہ کو نامہ دیا اور خط پُوشیدہ جوان کو حوالے کیا۔ وہ مکتوبِ مَحبّت دیکھ کر ایسا گھبرایا، یہ لہو نے جوش کھایا کہ اُسی دن رخصت کا ذِکر بادشاہ سے لایا۔ آخر وہ عاشقِ برادر، معشوقۂ روح پرور کو لے کر، جہاز پر سوار ہوا، تب اُس بے چین کو قرار ہوا۔ راہ میں ایلچی سے شہر کا نقشہ، راہ کا پتا، سب پوچھ لیا۔ فَرطِ شوق سے دن رات سَر گرمِ رفتار تھا۔ ساعَت بھر مُقام کسی منزل کا ناگوار تھا کہ جلد پہنچیں، کہیں نہ ٹھہریں۔ نَیرَنگِ زمانۂ کج سَرِشتِ بو قَلَموں کہ ہر دم و ہر ساعَت دِگرگوں ہے، کیا کہوں! جب دس بارہ کُوس وہ شہر رہا، جہاز تباہ ہو کے بہا۔ جس کی قضا تھی تَہِ آب و گرداب رہا۔ جس کی بَقا تھی بَہہ نکلا۔

یہ قصۂ جاں گُداز دور دراز پہنچا، اِن کے بھائی نے سُنا؛ فوراً ہزار سوار تیز رفتار دوڑائے کہ جس ڈوبتے اُچھلتے کا پتا پاؤ، جلد حُضور میں لے آؤ۔ آخر کار بہ ہزار جستجو و تگاپو، شہ زادیٔ خوش خو ہاتھ آئی، جوان کی خبر نہ پائی۔ اُسے بادشاہ پاس حاضر کیا، جوان کے ڈوبنے کا حال کہہ دیا۔ بادشاہ بہ حالِ تباہ گردابِ فراق میں پھنسا۔ شہ زادی صَف نَشینِ ماتم، لُجَّہ و لَطمَۂ اَندُوہ و غم میں اُلجھی۔

جوان کا حال یہ ہوا کہ تختے کے سہارے سے بہتا بہتا، پیاس کےصدمے، بھوک کی موجیں سہتا سہتا کئی دن میں کنارے پر پہنچا۔ فِی الجملہ، جب کچھ تاب و طاقت آئی، پوچھتا پوچھتا اُس شہر میں داخل ہوا۔ بادشاہ کو خبر پہنچی، رو بہ رو بلایا۔ بہ سَبَبِ طولِ اَیّامِ مُہاجَرَت اور درازِیٔ زمانۂ صُعوبَت مُطلق نہ پہچانا۔ اُستاد:

اِتنی مدّت میں ملا مجھ سے وہ دھوکا دے کر
یاد بھی جب مجھے اُس شوخ کی صورت نہ رہی

ہیئت تبدیل، خوار و ذلیل تھا۔ اِس اِختِلاف کو دیکھیے: یہاں صحرا نَوَردی، بھوک پیاس، مصیبت؛ وہاں حکم رانی، عیش و آرام و تخِت سلطنت۔ ناچار شہ زادی کو طَلَب کیا، اُسے بھی تَاَمُّل ہوا۔ وہ شخص بولا: پَہَر بھر کا عرصہ باقی ہے، آج لعل اُگلنے کا دن ہے، پھر تم سب پہچانو گے۔ بادشاہ کو یقین ہوا، کہا: اگر یہ جھوٹا ہوتا تو ایک پَہَر کا وعدہ نہ کرتا۔ شہ زادی نے کہا: اُس شخص کی طبیعت کی جَودَت مشہور ہے، ایک مُعَمّا پوچھتی ہوں؛ اگر بدیہہ جواب دیا، تو بے شک شک رفع ہوا: بھلا وہ کیا شَے ہے جسے گَبرو مسلماں، یَہود و نَصاریٰ، سب انسان کا فرقہ آشکارا کھاتا ہے؛ مگر جب اُس کا سر کاٹ ڈالو تو زَہر ہو جائے، کوئی نہ کھائے اور جو غصّے میں زیست سے خفا ہو کر کھائے تو فوراً مر جائے۔ جوان نے ہنس کر کہا: شہ زادی! “قَسَم” ہے۔ یہ کیا مُعَمّا پوچھا ہے! وہ پھڑک گئی، وحشت مِٹی، دل کی بھڑک گئی۔ بے باکانہ چلمن اُٹھا، پروانے کی طرح اُس شمعِ بزمِ فرقت کے گرد پھری۔

بادشاہ متعجب ہوا کہ ہم تو کچھ نہ سمجھے، شہ زادی کیا سمجھ کر سامنے ہوئی۔ جوان نے عرض کی: قبلہ! وہ چیز “قَسَم” ہے، تمام عالَم کھاتا ہے، سر اُس کا "قاف” ہے، اُسے کاٹو تو “سَم” صاف ہے؛ “سَم” زَہر کو کہتے ہیں، کون کھاتا ہے؟ کھانے والا مر جاتا ہے۔ بادشاہ یہ سُن کر بَغل گیر ہوا۔ اُس نے لعل اُگلا۔ شادِیانے بجے، بچھڑے ملے۔ اِس طرح جامِعُ المُتَفَرِّقین سب بچھڑوں کی دوری کا بَکھیڑا مِٹائے۔ جو جس کا مشتاق ہو، جس کی جُدائی جسے شاق ہو، وہ اُس سے مل جائے۔

جوگی نے یہ رام کہانی تمام کر کے جانِ عالم سے کہا: بابا! شعر:

مشکلے نیست کہ آساں نشود
مرد باید کہ ہِراساں نشود

جوئِندہ، یا بِندَہ ہے۔ یہاں سے منزلِ دوست قریب ہے۔ سب کچھ معلوم ہے؛ اِلّا، کہنا منع ہے، بُرا ہے۔ دُنیا مَقام چُپ رہنے کا ہے۔ اِتنا اِس جگہ وَقفَہ کر کہ میری زیست کا ساغَر بادۂ اَجَل سے لب رِیز ہے، سمندِ جاں کو نَفَسِ سرد مہمیز ہے؛ مجھے زِیرِ زمیں سونپ تشریف لے جانا۔ اور چند وَصیّت کیں۔ جانِ عالم نے کہا: یہ قَلَق و رنج کس سے اُٹھے گا! بیٹھے بِٹھائے یہ صدمہ کیوں کر دیکھا جائے گا! پتھر کا کلیجا کہاں سے ہاتھ آئے گا کہ ایسے دوستِ غم خوار کو اپنے جیتے جی زِیرِ خاک کیجیے، اُس کے ماتَم میں گرِیبانِ صبر چاک کیجیے! یہ کہہ کر رونے لگا، گریباں تا دامن بارِشِ اشک سے بھگونے لگا۔ جوگی اِس کی مَحبّت کا بِروگی ہوا، کہا: افسوس! دمِ واپَسیں کا عرصہ بہت کم، دم نہیں مار سکتے ہم؛ وگرنہ تیرے ہمراہ شریکِ درد و غم ہوتا۔ بھلا آخری، فقیر کا، اگر تجھ کو یاد یہ لَٹکا رہے گا، سائیں چاہے تو کہیں نہ اَٹکا رہے گا، قبر میں لے جا کر کیا کروں گا۔ پھر چند کلمے وہ بتائے کہ جس صورت کا دھیان لائے، فوراً ہو جائے۔

یہ مُقَدَّمَہ بتا، ہَر ہَر کر، گُرو کا نام لیا۔ پھر کلمہ جو پڑھا، دُنیا سے چل بسا، دم نکل گیا۔ جُوگی مسافرِ عَدَم، بیکنٹھ باشی رَم گیا۔ جانِ عالم کا روتے روتے دَم گیا، بے تابانہ نعرۂ اَلفِراق مارے۔ مُرید، چیلے جمع ہو کر “گُرو گُرو” “یا ہادی” کہہ کر بہت پکارے۔ بولتا، نکل گیا، جوگی نے صدا نہ دی، منزلِ مقصد کی راہ لی۔ شہ زادےنے بہ موجِبِ وَصِیّت غُسل دیا، کفنایا؛ قبر تک لاتے لاتے کچھ نہ پایا۔ آخِر کار برابر کفن پھاڑ دیا؛ آدھا چیلوں نے جَلایا، نِصف مُریدوں نے مَنڈھی میں گاڑ دیا۔ ہندوؤں نے راکھ پر چھتری بنائی۔ مسلمانوں نے قَبر بنا کے سبز چادر اُڑھائی۔ وہ تَنت مُندرا، سُبحَہ و مُصَلّیٰ، خِرقَہ و جُبَّہ اُس کے منظورِ نظر کو دے کر جانَشیں کیا۔ مُرید، چیلوں کا ہاتھ اُس کے ہاتھ میں سَونپا۔ اُسے ایک ولولہ آیا، اَز سَرِ نَو اُن سب کو یہ تَلقین کیا، رازِ سَر بستہ کھول کے ذہن نَشین کیا کہ سُنو بچہ! گو جوگی ظاہر میں آنکھوں سے نہاں ہے؛ مگر مُرشِد کا جلوہ، سائیں کا ظہورا ہر برگ و بار، بوٹے پتّے، گُل و خار، بلکہ دَرِ مسجد و دیوارِ کُنِشت سے دیدۂ دور بیں میں عَیاں ہے۔ عارِف کا یہ کلام ہے، سعدیؔ:

برگِ درختانِ سبز در نظرِ ہوشیار
ہر ورقے، دفتریست معرفتِ کردگار

دیدۂ بینا، گوشِ شنوا اِس رَمز کو درکار ہے۔ ہر ذرّے میں اُسی کا جھمَکڑا ہے۔ نمونۂ قدرت، نشانِ وحدت دُنیائے بے ثَبات کا نقش و نگار ہے۔ بلبل کے پردے میں تَرانہ سنجی ہوتی ہے۔ قمری کی کو کو مُتَلاشی کی جان کھوتی ہے۔ اُسی کے ذِکر میں سَر گرم ہے، جس کی زبان و مِنقار ہے۔ کسی کو حَرَمِ مُحترم میں نامَحرم رکھا، بھٹکایا؛ کسی کو بَیتُ الصَّنَم میں بُلا کر جلوہ دکھایا۔ کعبے کا دھوکا، دَیر کا بہانہ ہے؛ دَوڑا کر تھکانا ہے۔ اور جس نے مَن یَشآءُ کو رَہ بَر کر کے ڈھونڈھا، اُس نے گھر بیٹھے پایا۔ امیر خسروؔ:

جِن ڈھونڈھا، تِن پائیاں گہرے پانی پیٹھ
ہَوں بَوری ڈوبن ڈری، رہی کنارے بیٹھ

دُنیا کا مُعاملہ، مذہب و مِلّت کا جھگڑا، یہ اچھا وہ بُرا؛ پُر زِیاں، سَراسَر بے سود ہے۔ حق بے شک داتا ہر آن موجود ہے۔ رنج میں دل کو خوش، اَلَم میں طبیعت کو شاد رکھو۔ وَحدَہٗ لَا شَرِیكَ لَه نِرَنکار ہے۔ شِرکت کرنے والا مُشرِک، حماقت شِعار ہے۔ مُرسَل رہ بَر ہیں، پوشیدہ راز سے ماہر ہیں؛ اُن کو رَستگار جانو، بَریدِ یار سمجھ کر مانو۔ مُرشِد کی ذات، گُرو کی صِفات ہر جلسے میں یاد رکھو۔ بود و نابود کا غم نہ ہو۔ اور اَحباب کا دل کہ حَباب سے نازک تَر ہے، خدا کا گھر ہے، آشُفتَہ و بَرہَم نہ ہو۔ اللہ بس باقی بے فائدہ ہوس۔ یہ کہہ کر قصّہ مختصر کیا، بے خبروں کو باخبر کیا۔

جب اِس صحبت سے جانِ عالم کو فرصت ملی، چلنے کا عَزم کیا۔ اُس جانَشیں مَہَنت نے روکا اَور دو چار دن خاطِر سے مُقام کیا؛ پھر جس طرف جوگی نے بتایا تھا، چل نکلا۔ پہاڑ سے جس دم آگے بڑھا، دریا ملا، ہر چند ڈھونڈھا؛ ناؤ، بیڑے کا تھل بیڑا نہ لگا؛ مگر ایک لعلِ دَرَخشاں بہ روئے آبِ رَواں سامنے آیا۔ قریب اُس کے دوسرا نظر پڑا۔ اِسی طرح تھوڑے تھوڑے فاصلے سے بہت لعل بہتے دیکھے۔ تازہ فکر ہوئی کہ اِس حال کو کیوں کر دریافت کیجیے۔ کَنارے کَنارے سَیر دیکھتا چلا۔ دو کوس راہ جب طَے کی، عمارت عالی شان دیکھی اور اُس چشمے کو اُس کے اندر سے رَواں پایا۔ دروازےاور دَر کی بہت تلاش کی، تا اندر جانے کا باب مَفتوح ہو، نہ ہُوا۔ سوائے دیوار، دَر نہ تھا۔ اُس وقت بلبل بن کر دیوار پر جا بیٹھا۔ مکان رَفیعُ الشّان، باغ بھی بہار کا؛ مگر سُنسان، اِنسان نہ حیوان، فقط ایک بنگلا نہایت نقش و نِگار کا۔ وہ نہر اُسی بنگلے کے اندر سے جاری تھی۔ چمن خالی اور بادِ بہاری تھی۔ آدمی یا جانور ناطِق و مُطلَق، مُطلق نہ تھا۔ باغ میں اُتر صورتِ قدیم بدل کر بنگلے میں آیا۔ مُنقَّش، مُطَلّا، سجا سجایا پایا؛ لیکن طُرفَہ حال یہ دیکھا: ایک پلنگ زَمُرّد کے پایوں کا بچھا ہے، اُس پر کوئی دو شالہ تانے سوتا ہے۔ برابر، یاقوت کی تِپائی پر پھولوں کا دستہ: آدھے سرخ، نِصف سپید۔ جانِ عالم نے قدم بڑھا دو شالہ سرکایا۔ وہ تنِ پری پَیکر بے سَر نظر آیا۔ حسرت سے کہا: کس ظالم، ستم شِعار، بے رَحم، جفا کار نے اِس سَر دفترِ خوبی، سراسر دل بری و محبوبی کا سر کاٹا ہے۔نخلِ شَمشاد کو تَبَرِ ظلم سے چھانٹا ہے!

بہ حیرت ہر طرف دیکھتا تھا۔ چھت پر آنکھ پڑی: چھینکا بندھا، سر کٹا دھرا ہے۔ سر کے نیچے نَہر جاری ہے۔ جو خون کا قطرہ اُس حَلقِ بُریدَہ سے پانی میں گرتا ہے، اللہ کی قدرتِ کامِلہ سے وہ لعل ہو کر تِرتا ہے۔ اِس نے کہا: سبحانَ اللہ! مُقَرَّر یہ سحر  کا کارخانہ ہے۔ قریب جا کر غور سے جو دیکھا، تو انجمن آرا کا چہرہ تھا۔ پہچانتے ہی سَر و تَن کا ہوش نہ رہا۔ چاہا کہ سر سے سر ٹکرا کر ہَم سَر ہو، کسی کو نہ خبر ہو؛ بس کہ تَجربے کار ہو چکا تھا، سوچا:مرنا ہر وقت ممکن ہے، پہلے حال مُفَصَّل معلوم کر لو، کہیں حَوض کا سا دُھوکا نہ ہو۔ ہر چند غَوّاصِ عقلِ رَسا مُحیطِ فکر میں غُوطہ زَن و آشنا ہوا؛ گَوہرِ مقصد صَدَفِ مراد سے ہاتھ نہ لگا، مُعاملے سے ناآشنا رہا۔

اِس عرصے میں شام نزدیک ہوئی، تُند ہَوا چلی، شُور و غُل مچا۔ یہ سمجھا: اب کسی دِیو یا ساحِر کی آمد ہے، چھپا چاہیے۔ سَرِ گُلدستہ، گلبُنِ مَحبّت کے رو بہ رو بھونرا بن کے بیٹھ رہا۔ دفعتاً دیو آ پہنچا قَوی ہَیکَل، زَبوں شَمائِل؛ مگر وحشی سا، ہر سمت بو سونگھنے لگا۔ پھر اُسی گُلدستے سے سفید پھول توڑا، اُس یاسمیں پَیکر کو سنگھایا؛ سر اُچھل کر بدن سے مِلا، انجمن آرا اُٹھ بیٹھی۔ دِیو نے میوۂ تَر و خُشک رو بہ رو رکھا؛ مگر پریشان، ہر سو متحیر نگراں۔ شہ زادی نے کہا: خیر ہے؟ اُس نے کہا: آج غیر انسان کی بو آتی ہے اور تعجب یہ ہے خوف سے جان جاتی ہے۔ وہ کہنے لگی: ہمیں آج تک جانور کی پرچھائیں نہ نظر آئی، تو نے آدمی کی بو پائی۔ طُرفَہ خبط ہے، یہ جُملہ بے رَبط ہے۔ غرض کہ صبح تک مَذکورِ ہر شہر و دِیار، عجائِباتِ روزگار کا بیان رہا۔ دمِ سحر  اُسی دستے سے سُرخ پھول اُس خوں آشام نے توڑ کر اُس لالہ فام کو سنگھایا۔ سر تو چھینکے پر سَر بلند ہو، تن نے پلنگ پر آرام فرمایا۔ دیو دوشالہ اُڑھا راہی ہُوا۔

جانِ عالم نے چار گھڑی بہ جبر صَبر کیا۔ پھر اپنی صورتِ اصلی بن کر، وہی سفید پھول توڑ کر سنگھایا۔ انجمن آرا بہ دستورِ اوّل اُٹھی،شہ زادہ چیخ مار کر لپٹ گیا۔ دونوں مَہجور اِس زور شور سے روئے کہ تمام باغ ہِل گیا، زمین و آسماں دَہَل گیا۔ جانِ عالم ہنُوز اپنے مَصائِب، وہاں تک آنے کا حال، فرقت کا درد و ملال کہنے نہ پایا تھا کہ انجمن آرا نے یہ کہا، لا اَعلَم:

تجھ بِن مری اَوقات جو اکثر گزری
وہ حالتِ نزع سے بھی بد تر گزری
تو تو کہے سَر گُذشت اپنی ظالم!
میں کس سے کہوں جو کچھ کہ مجھ پر گزری

یہ کہہ کر، پھر دونوں چِلّا چِلّا، آہ و بُکا سے رُونے لگے۔ دُنیا کے مُعاملے میں ہمیشہ سے کسی کی عقل نہیں لڑی، شکست ہوئی ہے۔ شعر:

بیک لحظہ، بیک ساعت، بیک دم
دگرگوں می شود احوالِ عالم

مُؤلِّف:

اک وَضع پر نہیں ہے زمانے کا طَور، آہ!
معلوم ہو گیا ہمیں لَیل و نہار سے

ہر عُقدۂ مالا یَنحَلِ ناگُزیر کے واسطے ناخُنِ تدبیر خَلق میں خَلق کیا ہے۔ اور جہان میں، جہاں تدبیر کا دَخل نہ ہو سکا، اُسے تقدیر کے حوالے کر دیا ہے۔ اکثر جس بات میں عقل عاجِز آتی ہے، وہی طرفۃُ العَین میں خود بہ خود ہو جاتی ہے۔

ناگہاں ایک سفید دیو زبردست، زور کے نشے سے سَرشار، مست، بڑا طاقت دار، رُستم کا یادگار اُدھر سے گزرا۔ نالۂ حَزیں،صدائے غمگیں کان میں آئی۔ بس کہ بہ ایں زور و طاقَتِ خُدا داد، وہ دیو نیک نِہاد رحم دل، غم رَسیدوں کے رنج کا شامل تھا، گریہ و زاری سُن کر دل کو بے قراری ہوئی، سمجھا: کوئی انسان نالاں ہے؛ مگر اِس صحرائے پُر خار، وادِیٔ ہمہ تَن آزار میں آدمی کا ہونا مُحال ہے۔ اگر ہے، تو حقیقت میں مبتلائے اَلَم، اسیرِ پنجۂ ستم، خراب حال ہے۔ یہ سوچ کر باغ میں آیا۔ یہاں روتے روتے دونوں کو غش آ گیا تھا۔ دیو ڈھونڈھتا ہوا بنگلے میں آیا۔ دیکھا: مِہر و ماہ گردِشِ سپہر بے مِہر سے بُرجِ زَمُرَّدیں میں بے ہوش ہیں۔ چہرے کے رنگ اُڑے ہوئے، سَکتے کی حالت میں ہم آغُوش ہیں۔ روئے یار آئینہ دار درمیاں ہے، فلک بَرسَرِ اِمتحاں ہے۔ سمجھا: مدّت کے بعد دونوں کا مقابلہ ہوا ہے، اِس سے کُسوف و خُسوف کا رنگ ڈھنگ پیدا ہے۔ سَرِ بالینِ بیمارانِ مَحبّت بیٹھ کر، نہر سے پانی لیا، دونوں کے مُنہ پر چھڑکا۔ آنکھیں کھولیں، ہوش و حواس درست ہوئے۔ دیکھا کہ ایک دِیو سِرہانے بیٹھا ہے۔ سفید دِیو نے اُٹھ کر بہ آئینِ شائستہ سلام کیا، تسلّی کا کلام کیا، کہا: تَشویش نہ فرمائیے، بندہ دوست دار، جاں نثار ہے۔

پہلے جانِ عالم اُٹھا، بَغَل گیر ہوا۔ وہ حال پوچھنے لگا۔ بس کہ شہ زادہ عالم لَسّان، خوش بیاں تھا؛ اپنی رام کہانی چَرب زَبانی سے کہہ سُنائی۔ دیو ماجرائے گُذشتہ سُن کر بے قرار، اَشک بار ہوا، عَرض کی: آپ بہ دِل جمعیٔ تمام آرام کیجیے؛ اب وہ قُرَّمساق آئے، تو عَمَلِ بد کی سزا پائے۔ جانِ عالم بہ شِدَّت لگاوٹ باز تھے؛ اُس سے بھائی چارا کیا، صیغہ اُخُوَّت پڑھا۔ وہ بیچارہ بندۂ بے دام، حلقہ بہ گوش غلام ہوا۔ وہاں سے اُٹھ کر باغ کی سَیر کرتے تھے کہ وہ جَفا کار بھی آ پہنچا۔ یہاں اَور رنگ دیکھا کہ شہ زادی، آدمی زاد کے ہمراہ پھرتی ہے؛ سفید دیو کا ہاتھ میں ہاتھ ہے، مُصاحَبَت کرتا ساتھ ہے۔ جَل کر جانِ عالم پر جھپٹا۔ دیو سفید نے بہ جلدیٔ تمام اُس نُطفۂ حرام کا ہاتھ پکڑا۔ وہ کافِر اُس رَحم دِل سے لپٹا۔ باہَم کُشتی ہونے لگی۔ یہ کشمکش ہوئی کہ زمین جا بہ جا شق ہوئی۔ الغرض، بہ مَدَدِ مددگار و قوتِ پَروَردگار سفید دیو نے زمین سے لنگر اُکھاڑ، سر اُونچا کیا، زمین پر پٹک کے چھاتی پر چڑھ بیٹھا۔ جانِ عالم قریب آیا، زور و طاقت کی تعریف کرنے لگا، کہا: جنابِ باری نے تجھ مسافروں کے مددگار کی یاری کی، جو ایسے مَردود پر ایک دَم میں تجھے فتح و ظَفَر حاصل ہوئی؛ اگر ناگوارِ طبع نہ ہو، میں بھی ایک زور کروں۔ وہ بولا: بِسمِ اللہ۔ شہ زادے نے ایک ہاتھ شانے پر دَھر، دوسرے سے گردن اُس سرکش کی مضبوط پکڑ، دَھڑ سے کھینچ کر زمین پر دَھڑ سے پھینک دی۔ دیو سفید یہ طاقت دیکھ کر، سفید ہو گیا، شہ زادے کا چہرہ سُرخ ہوا۔ وہ زَرد رو، بے دین اَسفَلُ السّافِلین پہنچا۔

اِس عرصے میں سفید دیو کے ملازم بھی حاضر ہوئے۔ دعوت کی تیّاری، ضِیافت کی اِضافَت کی۔ ایک ہفتہ اَکل و شُرب، گانا ناچ خوب رہا۔ آٹھویں روز اُس ماهِ دو ہفتہ یعنی انجمن آرا نے رنجِ جدائیٔ ملکہ مہر نگار، مردمان لشکر کا لب دریا انتظار بیان کر کے کہا: بہ خدا مفارقتِ ملکہ میں خواب و خور حرام ہے۔ چین دل کو نہ جی کو آرام ہے۔ تمھارے بارِ احساں سے دب کر کبھی ہنسی لب پر آگئی؛ وگرنہ دورِ شراب و کباب خونِ دل، لختِ جگر تھا۔ ہر گلاس بُرادهٔ الماس تھا، فقط تمھارا پاس تھا۔ اس نے عرض کی: میرے آدمی جائیں، پتا لگا آئیں۔ انجمن آرا نے کہا: اپنےتجسس میں زیادہ مزہ ہے، اپنا کام آپ خوب ہوتا ہے۔ ناچار رخصت ہو کر چلے اور آنے جانے کے باہم وعدہ ہائے مستحکم ہوگئے۔  مگر ہر دم ملکہ کا خیال، ہر گام دل پر فرقت کا ملال تھا کہ خدا جانے، ڈوب گئی یا ہماری طرح کسی آفت میں پھنسی۔ کبھی دو کوس کبھی چار کوس بہ صد حسرت و افسوس چلتے۔ دو تین دن میں پاؤں سوج گئے، چھالے پڑے، قدم اٹھانے کے لالے پڑے۔ وہ سفر سخت، یہ نازک مسافر، وہ کالے کوس مالوے کی طرح کے کافر۔ انجمن آرا جھلّا کر کہنے لگی،  میرؔ:

کب تھا یہ شور و نوحہ، ترا عشق جب نہ تھا
دل تھا ہمارا آگے تو ماتم سرا نہ تھی

آپ کی بدولت یہ ذلت و رسوائی، پیادہ پائی، صحرا نوردی،  عزیزوں کی جدائی، غرض کہ کون سی مصیبت ہے جو نہ اٹھائی۔ میر سوز:ؔ

چھڑا کر مجھ سے میرے خانماں کو
خدا جانے چلا ہے اب کہاں کو

شہزادہ ہنس کر چُپ ہو رہا۔ پھر وہ عمل جو جوگی سے سیکھا تھا، انجمن آرا کو بتایا۔ دونوں نے توتے کی ہیئت بنائی اور توکلت علی اللہ کہہ کر، نظر بہ خدا، ایک سمت سَرگرمِ پرواز ہوئے۔ پہر دو پہر اُڑنا، پھر کسی درخت پر بسیرا، خیمہ پاس نہ کوئی ہمراہ ڈیرا۔ اِس روپ میں قاصدِ سیر ہوئے۔ سابِق مُصاحِبِ انساں تھے، اب ہم نشینِ وَحش و طیر ہوئے۔ روز نیا پانی، نِت نیا دانہ۔ جس ٹہنی پر بیٹھ رہے وہی آشیانہ۔ کبھی جنگل طے کرکے کسی بستی میں ہو نکلے۔ گاہ کوئی سُنسان ویرانہ نظر پڑا، اُس میں سے رو نکلے۔ کبھی اپنی حکومت اور زمانہ جو یاد کیا؛ تو گھبرا کر فریاد کی، نالہ ایجاد کیا۔ اِسی طرح روز چلے جانا، دل سمجھانے کو یہ شعر لب پر لانا۔ لا اَعلم:

شبِ عشرت غنیمت دان و دادِ خوشدلی بستاں
کہ در عالَم کسے احوالِ فردا را نمی داند

 

بیانِ حال اُس غَریق بحر ملال کا

 

یعنی ملکہ مہر نگارِ جگر فِگارِ خوش خِصال کا۔ اور آنا اُس سبز پوشِ ذی ہوش

کا مکتوبِ محبت اُسلوب لے کے؛ پھر توتے کی رُخصت، ملکہ کی رِقّت

اور مِل جانا انجمن آرا اور شہزادۂ با اقبال کا

 

نظم:

اے جنوں تو دلِ شوریدہ کی امداد کو آ
چین دُنیا میں نہیں عشق کے بیماروں کو
بارِ فُرقت کبھی معشوق جو دھر جاتے ہیں
زیست بے لطف گزر جاتی ہے بے چاروں کی
تا لکھوں حال مَیں اک اور ستم دیدہ کا
نِت نیا رنج فلک دیتا ہے بے چاروں کو
جیتے جی دب کے یہ اُس بوجھ سے مر جاتے ہیں
کیا کہانی مَیں کہوں تم سے دل اَفگاروں کی

نِگارِندۂ حالِ غریقِ شَطِّ فُرقَت وکشتی شکستۂ لُجّۂ محبت، بادباں گُسِستۂ صرصرِ دوری و لنگر بُریدۂ کاردِ مہجوری، طوفاں رسیدہ، کنارِ کام یابی نہ دیدہ، یعنی ملکہ مہرنگار، خامۂ جگر اَفگار یوں رقم کرتا ہے کہ جب جہاز تباہ ہوا تھا؛ یہ بھی ایک تختے کے ٹکڑے پر، دل ٹکڑے ٹکڑے، ڈوبتی تِرتی چلی جاتی تھی۔ اُدھر سے کوئی بادشاہِ عالی جاہ جہاز پر سوار سَیر دیکھتا آتا تھا۔ دور سے تختہ بہتا دیکھا۔ جب قریب آیا، آدمی اُس پر پایا۔ خَوفِ خدا سے جلد پَنسو ہی دوڑا جہاز پر منگوایا۔ ملکہ کو تلاطُمِ آب نے بے تاب کیا تھا اور جانِ عالم، انجمن آرا کے صدمۂ جُدائی سے جی ڈوب گیا تھا، یعنی غش تھا؛ لیکن صورتِ رعنا، چہرۂ زیبا میں فرق نہ ہوا تھا۔ بادشاہ بہ یک نگاہ والہ و شیدا ہوگیا۔ جلد جلد عِطر سنگھا، بازو باندھا اور تدبیریں کیں۔ دو تین گھڑی میں ملکہ کی غش سے آنکھ کھلی، دیکھا کہ نہنگِ اجل کے منہ سے تو بچی، آفتِ لَطمَہ و لُجّہ سے بَرکِنار جہاز پر سوار ہوں؛ مگر شخصِ غیر سے دوچار ہوں۔ شرم سے سر جھکا یا، تمام جسم میں پسینا آیا۔ بادشاہ نے پوچھا: اسمِ شریف؟ گو باعثِ حجاب بولنا گوارا نہ تھا، لیکن بے جواب دیے چارہ نہ تھا، آہستہ سے کہا: محروم، ناکام، آفت کی مبتلا، ذلیل و خوار، فلک دَر پئے آزار، پُر آلام، جِگر خوں، دل خستہ و محزوں، کشتی تباہ، گُم کردہ راہ، ناخُدا گُم، فُتادۂ تلاطُم۔

اِس کی فصاحت و بلاغت، چہرے کی شان و شوکت سے ثابت ہوا کہ یہ شہزادی ہے، اور کلامِ دردناک نے گریبانِ صبر و شکیب چاک کیا، بادشاہ نے رو دیا۔ پھر خاصہ طلب فرمایا۔ ملکہ نے انکار کیا، نہ کھایا۔ اُس نے بہت اِصرار کیا، لَجاجَت سے کہا: آپ کھانا نوش فرمائیں، وطن کا پتا بتائیں؛ جب تاب و توانائی تم میں آئے گی، وہاں بھجوا دیں گے۔ ملکہ نے کہا: ہم جن کے دامنِ دولت سے اُلجھے تھے؛ وہ تو گَردِ راہ کی صورت، خارِ صحرا کی طرح جھاڑ، اِس دریائے ناپیدا کنار میں ڈوبے، خدا جانے کیا ہوئے، کدھر گئے، جیتے ہیں یا مر گئے۔ اگر سوئے عدم ہمیں روانہ کرو؛ بکھیڑا چھٹے، غم و اَلَم سے نَجات ملے، بڑا احسان ہو۔ اُس نے کہا، مولّف:

تم سلامت رہو زمانے میں
ایسی باتیں زبان سے نہ کہو

غرض کہ مجبور کچھ کھایا۔ دو چار دن میں تاب و طاقت بھی گونہ آئی اور جہاز دارُ السلطنت میں پہنچا۔ ملکہ کے واسطے مکانِ عالی شان خالی ہوا۔ لونڈیاں، پیش خدمت، آتو، محل دار؛ جو کہ قرینہ شاہ اور شہریاروں کا ہوتا ہے اور جس طرح شہزادیاں رہتی ہیں، سب سامان مہیا کر دیا۔ ایک روز وہ بادشاہ آیا، کہنے لگا: تم اپنا حَسَب و نَسَب چھپاتی ہو، مگر ہمیں معلوم ہوا تم شاہ زادی ہو، ہماری تمھاری ملاقات اِس حیلے سے ہونی تھی؛ لازم ہے کہ مجھے فرماں روا نہ جانو، فرماں برداروں میں قبول فرماؤ، میری بات مانو۔ ملکہ نےجواب دیا: میں نے تمام عُمر سلطنت کا نام نہیں سنا؛ اِلّا، آپ کو خالق نے بادشاہ کیا ہے۔ اِنصاف شرطِ فرماں روائی ہے، اُس کو ہاتھ سے نہ دے۔ میں ظُلم رَسیدہ، آفت کشیدہ، فلک کی ستائی ہوں۔ خدا جانے کون ہوں اور کس طرح یہاں تک آئی ہوں۔ بہ قول استاد:

دیکھتے آنکھوں کے کیا کیا لوگ اٹھے پیشِ چشم
ہوں لبِ حیرت بہ دَنداں رنگِ دنیا دیکھ کر

اگر بے گناہ کا خون گردن پر لینا گوارا ہے؛ مختار ہے، مجھے کیا چارہ ہے۔ اور جو خوشی سے یہ اَمر منظور ہے تو بَرَس روز کی مہلت مجھ کو دے۔ اِس عرصے میں کوئی ڈوبار تِرا، میرے وارِثوں کا پتا مِلا، کوئی مُوا جیتا پھرا تو خیر؛ نہیں، میں تیرے قبضۂ اختیار میں ہوں۔ جبر کرنا کیا ضرور ہے، عدالت سے دور ہے۔ بادشاہ دل میں سوچا: آج تک ایسے غرق ہوئے، اُبھرتے نہیں۔ وہاں کے گئے، پھر اِدھر قدم دھرتے نہیں۔ اِتنے دنوں کی فرصت دو، حکومت نہ کرو۔ آنکھ بند کرنے میں سال تمام ہو جائے گا، پھر کون سا حیلہ پیش آئے گا۔ کہا: بہت خوب، لیکن جو تمھیں ناگوار نہ ہو تو جی چاہتا ہے گاہ گاہ آنے کو، تمھارے دیکھ جانے کو۔ ملکہ نے یہ اَمر مُغتَنَم جانا، کہ حاکم محکوم کا فرق سب کو معلوم ہے۔ اب یہ انداز ٹھہرا: پانچویں چھٹے روز پہلے خواجہ سَرا آکے اطلاع کرتا، پھر بادشاہ قدم دھرتا۔ دو چار گھڑی کی نشست ہوتی۔ قصہ ہر شہر و دیار کا، تازہ اخبار دربار کا بیان کرکے اٹھ جاتا۔

یہاں سے دو کلمے یہ سنیے، مُسبِّب الاسباب کی کارسازی کے سامان دیکھیے: وہ محل جو ملکہ کے رہنے کو ملا تھا، اُس میں مختصر سا پائیں باغ بہت کیفیت کا تھا۔ طرح طرح کا میوہ دار درخت، باغ بہار کا۔ یک لخت نئے نئے رنگ ڈھنگ کے وہ گُل بوٹے، جو بادِ خِزاں سے جھڑے نہ ٹوٹے۔ پھل قصد سے منہ میں آجائے، ہاتھ بڑھانے کی بار نہ آئے۔ رَوِشیں مورت کی صورت کی سالم۔ آبِ رواں میں پری کا عالَم۔ بھدّے نہ بد قُوارے؛ سُڈول، سانچے کے ڈھلے، نازک، سبُک فوّارے۔ کیاریاں پیچ دار، اُن میں آبشار۔ پختہ ہر ایک رَوِش۔ جو کیاری تھی پیاری تھی، سراسر گُل کاری تھی۔ چمن بندی قطع دار، جا بہ جا چبوترے معقول؛ گُلِ پیادہ و سوار پُر بہار، مُساوی عرض و طول۔ باغبانیاں خوب صورت، نوجوان، تکلف کے سامان۔ طِلائی نُقرئی کُھرپیاں، مُرصّع کار بیلچے ہاتھوں میں۔ غمزہ چال میں، ادا دیکھ بھال میں، لگاوٹ باتوں میں۔ کسی طرف کنویں کی جَگَت پر کیلی والی لال بے رنج و ملال ہو رہی۔ کوئی کچھ اُکھاڑتی، کوئی بو رہی۔ کوئی پھول چُنتی، پھل اُٹھاتی، گھانس کُھرپی سے چھیل ڈالتی۔ کوئی ٹوٹا جَھڑا پتّا، گرا پڑا کانٹا کیاری سے نکالتی۔ سَرِ شاخِ ہر گلِ رعنا بُلبُلوں کا غُنچہ۔ سَرو و شمشاد پر جوبن، صدائے قمری طوق در گردن۔ ایک طرف طاؤسوں کا رَقصِ پُر ناز، ہر ایک خوش آواز۔ باغ کے گرد مُلَبّب جھیل۔ غُنچوں کا چٹکنا کوسِ رحیل۔ کہیں لالہ پیالہ دَر دَست۔ کسی جا نرگسِ شہلا با چشمِ مست۔ تاکِ انگور پر مَے خواروں کی تاک۔ عنبر بیز صحنِ گُلشن کی خاک۔

ملکہ گہ و گاہ، شام و پَگاہ؛ رفعِ پریشانی، دَفعِ سرگرانی کو وہاں آکے، نظّارۂ صحبتِ گرم جوشیٔ گل و بلبل سے رشک کھا کے، بہ صد حسرت و افسوس سوئے گردونِ دوں سر اٹھا کے یہ پڑھتی، میر سوزؔ:

وہ دن خدا کرےکہ خدا بھی جہاں نہ ہو
میں ہوں، صنم ہو اور کوئی درمیاں نہ ہو
گُل ہو شِگفتہ خاطر و گلزار خندہ رو
بادِ صبا بھی ہووے، ولے باغباں نہ ہو
گلشن ہو اور یارِ دل آرام اور مَیں
اپنا ہو قصہ، غیر کی واں داستاں نہ ہو

کبھی پیچ و تابِ زُلف اور گیسوئے مُعَنبَر کی پریشاں حالی جَعدِ سُنبُل کو دکھاتی۔ گاہ سِیاہیٔ داغِ جگر لالے کی لالی سے لڑاتی۔ غنچۂ فَسُردہ سے جو کچھ دل گرِفتگی کی تسکین ہوتی؛ تو گُل کی ہنسی پر پھوٹ پھوٹ کے خوب روتی اور اِس غزل سے دل کو سمجھاتی، مولّف:

لازم ہے سوزِ عشق کا شعلہ عیاں نہ ہو
جل بجھیے اِس طرح سے کہ مطلق دھواں نہ ہو
زخمِ جگر کا وا، کسی صورت، دہاں نہ ہو
پَیکانِ یار اُس میں جو شکلِ زباں نہ ہو
اللہ ری بے حسی کہ جو دریا میں غرق ہوں
تالاب کی طرح کبھی پانی رواں نہ ہو
گُل خندہ زن ہے، چہچہے کرتی ہے عندلیب
پھولی ہوئی چمن میں کہیں زعفراں نہ ہو
بھاگو یہاں سے، یہ دلِ نالاں کی ہے صدا
بہکے ہو یارو، یہ جَرسِ کارواں نہ ہو
ہستی، عدم سے ہے مری وحشت کی اک شَلَنگ
اے زُلفِ یار! پاؤں کی تو بیڑیاں نہ ہو
لینا بجائے فاتحہ، تُربت پہ نامِ یار
مرنے پہ یہ خیال ہے، وہ بدگماں نہ ہو
ناقہ چلا ہے نجد میں لیلیٰ کا بے مُہار
مجنوں کی بن پڑے گی، اگر سارباں نہ ہو
چالوں سے چرخ کی، یہ مرا عزم ہے سُرورؔ
اُس سرزمیں پہ جاؤں جہاں آسماں نہ ہو

گاہ لبِ جو کسی سرو کے پاس یادِ قامتِ جانِ عالم میں مثلِ فاختہ کوکو کرتی، دلِ بے تاب کو تڑپا کر لہو کرتی۔ غور کرو تو دنیا میں کسی چیز کو قرار نہیں۔ اِس کا سب کارخانہ، پیدا ہے کہ پائیدار نہیں۔ کبھی تو روزِ روشن ہے، گاہ اندھیری رات ہے۔ یہ کائنات کی کائنات بے ثَبات ہے۔ گُلشن میں اگر بہار ہے، تو خِزاں دَرپئے آزارہے۔ بُلبل کو ہزار چہچہے یاد ہیں؛ پر، باغباں آشیاں اجاڑنے کی فکر میں ہے، دام بَردوش صیّاد ہیں۔ نوش کے ساتھ گَزندِ نیش ہے۔ کوئی دل شاد، کسی کا سینہ ریش ہے۔ عاشق اَزَل سے غم کا مبتلا ہے۔ مَثل مشہور ہے کہ معشوق کی ذات بے وفا ہے۔ اور جو کبھی کسی قسمت کے زبردست کو اتفاقاً غم خوارِ وفادار ہاتھ آتا ہے؛ تو سرِ دست کسی نہ کسی پیچ سے فلکِ تفرقہ پسند رشک کھاکے چُھڑاتا ہے۔ اِسی سہارے پر لوگ جان دیتے ہیں، جی بیچ کر یہ روگ مول لیتے ہیں؛ اتنا نہیں معلوم کہ القلیل کالمعدوم۔

یہ جملہ تو مُعترضہ تھا، پھر وہی قصہ شروع ہوا۔ ایک روزِ فَرَح اندوز ملکہ بہ دستورِ قدیم، بے یار و ندیم باغ میں گئی۔ شہ زادے کی صحبت کا خیال اور انجمن آرا کی گرم جوشی کا ملال، تنہائی میں اپنا خراب حال دیکھ کر یہ شعر مولّف کا پڑھا، مولّف:

ایک انقلابِ چرخ سے، افسوس! دیکھنا
وہ صحبتیں رہیں، نہ تو وہ ہم نشیں رہے

پھر ایسا روئی کہ ہچکی لگی۔ شام کا وقت تھا، جانور درختوں پر بسیرا لیتے تھے۔ جس درخت کے تلے ملکہ کھڑی تھی، ایک توتا اُس پر آبیٹھا۔ گریہ و زاری اِس غم کی ماری کی دیکھ کر بے چَین ہوا، پوچھنے لگا: شاہ زادی! کیا حال ہے، کونسا ملال ہے؟ اور کون سا صدمہ ایسا جاں کاہ ہے جو اِس طرح لب پر نالہ و آہ ہے؟ ملکہ نے کہا: سبحان اللہ! قسمت کی گردش سے یہ حال بَہَم پہنچا کہ جانور ہم پر رحم کھاتے ہیں، احوال پوچھنے کو اُڑ کر آتے ہیں۔ زیادہ بے قرار اور اَشک بار وہ سوگوار ہوئی۔ یہ قاعدۂ کلیہ ہے: جب کسی دل شکستہ کی کوئی دل داری کرتا ہے تو بے شک اُسی کا دل امنڈ آتا ہے۔ ملکہ نے بے اختیار ہو کر کہا، آصف الدولہ:

جو دو شخص خَنداں بَہم دیکھتے ہیں
فلک کی طرف رو کے ہم دیکھتے ہیں

اے جانورِ خوش بیاں، سخن سَنج مہرباں! کیا بتاؤں! گھر بار سے جُدا، بے کسی میں مبتلا، عزیز و اقربا سے الگ، جینے سے خفا ہوں۔ بَسانِ آئینہ حیراں، مِثلِ زلف سِیہ بخت، پریشاں، نے کی طرح نالاں، مَورِدِ صد اندوہ و بلا ہوں۔

شعر:

بے کسی سوخت، کسے می خواہم
نَفَسے ہم نَفَسے می خواہم

شامِ تیرہ بختی کی سیاہی میں بے قرار، صُبحِ قیامت کی صورت دامن چاک، گریباں تار تار۔ شعر:

کس اب زیرِ فلک طاقتِ رُسوائی ہے
کاش شَق ہووے زمیں اور سما جاؤں میں

دل میں الم سے خار خار، غیر جِنسوں کے دام میں گرفتار، سخت و مجبور و ناچار ہوں۔ طائرِ رنگ پَریدہ، ہزاروں جَور و ستم میں جریدہ، روئے راحت، کوئے آشیاں نہ دیدہ؛ شبِ غم کے اندھیرے میں سوجھتا نہیں، خوں بار ہوں۔ ناسخ:

صبح سے کرتے ہیں معمار مرے گھر کو سفید
شام سے کرتی ہے فرقت کی شبِ تار، سیاہ

توتے نے کہا: مجھے تم سے بوئے محبت آتی ہے، تمھاری باتوں سے چھاتی پھٹی جاتی ہے؛ برائے خدا جلد اپنے رازِ سربستہ سے مجھے آگاہ کرو، للہ مفصل حال کہو۔ ملکہ نے قصۂ عشقِ جانِ عالم، انجمن آرا کا آنا، وزیر زادے کی برائی، جادوگرنی کی کج ادائی، جہاز کی تباہی، اپنا یہاں آنا، اوروں کا پتا نہ پانا، جانِ عالم کا چُھٹ جانا؛ سب بیان کرکے کہا: وہ شاہِ گردوں بارگاہ ہمیں منجدھار میں ڈوبتا چھوڑ، اپنا بیڑا پار لگا، منہ موڑ خدا جانے کیا ہوا! ہم ہیں اور رنجِ تنہائی میں بے تابی انیس ہے؛ پریشانی ہمدم، خانہ ویرانی جَلیس ہے۔ جو دم ہے، دمِ شمشیر ہے۔ سانس، ناوَک کا تیر ہے۔ جیتے جی صبر و قرار نہیں، بڑی مجبوری یہ ہےکہ مرجانے کا اختیار نہیں۔ شعر:

گئے دونوں جہاں کے کام سے ہم، نہ ادھر کے ہوئے نہ ادھر کے ہوئے
نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم، نہ ادھر کے ہوئے نہ ادھر کے ہوئے

توتے کو اِن باتوں سے سکتہ سا ہوگیا، سوچنے لگا۔ سنبھلا تو زمین پر گر پڑا، پر نوچنے لگا۔ ملکہ مہرنگار گھبرائی کہ یہ کیا ماجرا ہوا۔ افسوس:

دیکھ کر مجھ کو وہ حاضر ہوا مر جانے کو
وہی غم خوار جو یاں بیٹھا تھا سمجھانے کو

گھڑی بھر میں جب حواس و ہوش اُس سبز پوش کے درست ہوئے، بولا کہ اے ملکہ مہرنگارِ باوقار! میں وہی توتا کم بخت، سحر گرفتار، جفا شِعار ہوں جس نے اُس رشکِ قمر کو دربدر کیا۔ مجھ سے انجمن آرا کا ذکر سن کر آوارہ ہوا تھا۔ باقی حال تو آپ نے سب سنا ہوگا۔ پھر تو ملکہ اُسے گود میں اٹھا یہاں تک روئی کہ بے ہوش ہو گئی۔ شہ زادے کے بَین بہ صد شور و شَین کرنے لگی۔ باغبانیاں دوڑیں، خدمت گُزار جھپٹیں کہ آج ملکہ پر کیا حادثہ پڑا۔

جب دونوں کے ہوش و حواس پاس آئے، طبیعت ٹھہری؛ توتے نے سمجھایا کہ آپ دل کو تسکین دیں، خاطِر مُبارک جمع رکھیں، جانِ عالم اور انجمن آرا دونوں خیریت سے زندہ ہیں۔ میں نے یہ مُقدمہ مُنجّموں اور کاہِنوں سے دریافت کیا تھا۔ بالاتفاق سب کا قول ہے کہ سوائے رنجِ مُفارقت، سفرِ غربت؛ جان کی خیر ہے، سب آملیں گے۔ بس اب مجھے رخصت کرو۔ صبح کو خدا جانے کس وقت بیدار ہو۔ ملکہ نے کہا: واہ! بعدِ مدت ایک غم خوار، مَحرمِ اَسرار ہاتھ آیا تھا، وہ بھی اتنا جلد چلا۔ طالع بَرسَرِ کجی ہے، بے لطف زندگی ہے۔ دیکھیں یہ برے دن کب جاتے ہیں اور اچھے کیوں کر آتے ہیں! استاد:

ایک عالم کو آزما دیکھا
حالِ بد کا شریک، دنیا میں
کیوں دِلا! ہم نہ تجھ سے کہتے تھے
مِٹ گیا ایک دم میں مثلِ حباب
سچ ہے، دنیا مریض خانہ ہے
کیف میں، کم بہت نوازشؔ ہے
جس کو دیکھا، سو بے وفا دیکھا
نہ برادر، نہ آشنا دیکھا
جی لگانے کا کچھ مزا دیکھا
یاں ذرا جس نے سر اٹھا دیکھا
رنج میں سب کو مبتلا دیکھا
عشقِ خوباں میں جو نشا دیکھا

آخر کار وہ رات باتوں میں کٹی، صبح ہوئی، پَو پھٹی۔ توتا رخصت ہوا۔ چلتے وقت ملکہ نے تھوڑا حال اپنا پرچے پر تحریر کر دیا، کہا: جہاں شاہ زادے سے ملاقات ہو، یہ خط نشانی دے کر، جو کچھ دیکھا ہے، زبانی بیان کرنا۔ توتا وہ رَقیمۂ شوق لے کر راہی ہوا۔ شہر بہ شہر خستہ جگر ڈھونڈھتا پھرتا تھا۔ ایک روز قریبِ شام وہ سَرگشتہ، ناکام تھک کر؛ لبِ چشمہ کچھ درخت تھے، اُن پر بیٹھ کر سَیلِ سَرشک چشمِ پُر نم سے بہاتا تھا۔ اُسی دن حَسبِ اتفاق جانِ عالم اور انجمن آرا توتے کی صورت بنائے اُسی درخت پر آئے۔ یہ توتا، ہم جنس سمجھ دیکھنے لگا۔ وہ دونوں مُضطربُ الحال، پُر ملال ایک ٹہنی پر بیٹھ گئے۔ توتا سمجھا کہ یہ مِنقار بَستہ میری طرح سے دل خَستہ ہیں، پھر رونے لگا۔ انجمن آرا نے کہا: جانِ عالم دیکھنا! یہ توتا روتا ہے؛ شاید ہماری صورت مصیبت دیدہ، مصائب کشیدہ ہے۔ توتا باتیں تو سمجھتا تھا، پھر بیٹھا اور بولا: خدائے رحیم تمھیں وہ رنج نہ دے، عدو بھی تمھارا یہ ستم نہ دیکھے؛ مجھے وہ غم ہے اور دل پر ایسا الم ہے کہ ہر دم یہ دُعا ہے دشمن کا دشمن یہ صدمۂ جاں کاہ اور ایسے روزِ سیاہ نہ دیکھے۔ میر سوزؔ:

جو دم لیتا ہوں تو شعلہ جگر کا، جی جلاتا ہے
جو چپ رہتا ہوں تو اندر ہی اندر جان کھاتا ہے
جو کچھ احوال کہتا ہوں تو سننے والے، روتے ہیں
نہیں کہتا ہوں تو کوہِ الم سینہ دباتا ہے
جو جنگل میں نکل جاتا ہوں تو سب دشت پھنکتا ہے
کبھی جو شہر میں آتا ہوں تو گھر بھول جاتا ہے
پہاڑوں میں اگر پھرتا ہوں، ٹکڑے ہو کے اُڑتے ہیں
جو دریا پر کبھی جاتا ہوں، سر پر خاک اُڑاتا ہے

مجمع رنج و مِحَن، غریق شَطِّ خِفّت ہمہ تن ہوں۔ مُحسن میرا خانماں آوارہ ہوا، یہ نَدامت ہے۔ مُفارَقت اُس کی ظلم ہے، قیامت ہے۔ اِس کے وَرائے، تازہ حال یہ دیکھا ہے کہ ایک عاشقِ صادق اپنے معشوق سے جُدا ہے، غیر جِنسوں میں اسیر بلا ہے۔ اُس کے ناوکِ آہ سے چھاتی سوراخ دار ہے۔ سِنانِ نالہ سینے کے پار ہے۔ اگر گریہ و زاری یا تڑپ اور بے قراری اُس کی بیان کروں؛ پتھر، پانی ہو کر بہہ جائے۔ سیماب کی چھاتی خَجلت سے پارہ پارہ ہو؛ راہ چلتے، ان جان کو رحم آئے۔

جانِ عالم یہ سن کر پھر بیٹھا، پوچھنے لگا: وہ کون تھا جو سرگشتہ و آوارۂ دشتِ اِدبار ہوا؟ اور وہ کون ہے جو ناجِنسوں میں گرِفتار ہوا؟ توتے نے اِن کی داستانِ گُذشتہ اور ملکہ کا حال بیان کیا۔ انجمن آرا ملکہ کا نام سن کر شِگفتہ خاطر ہوئی۔ دونوں نے درخت سے اتر کے صورت بدلی۔ توتا، پہچان کر پاؤں پر گرا۔ شہ زادہ گلے سے لگا کر خوب رویا، کہا: اے ہمدم! تم سے جو ہم جدا ہوئے، کس کس رنج و مصیبت میں مبتلا ہوئے۔ دَشت بہ دشت، کوہ بہ کوہ خراب و خستہ، در بہ در محتاج پھرے؛ تم اُس دن کے گئے آج پھرے۔ پھر ملکہ کا حال پوچھا۔ اُس نے خط حوالے کیا۔ پہلے انجمن آرا نے آنکھوں سے لگایا، دل نے قرار پایا۔ مضمونِ اضطراب، بدحواسی کا مطلب سَرنامے سے کھلا کہ جان عالم کی جگہ “ملکہ” اور ملکہ مہرنگار کی جا “رقیمہ شوقِ جانِ عالم” لکھ دیا تھا۔ اس انتشارِ طبیعت کو سوچ کے شہ زادے کے ہوش گُم ہوئے۔ بس کہ نامۂ شوقیہ پیچ و تابِ دل اور اشتیاقِ ملاقات میں تحریر تھا؛ جانِ عالم جب اُس کو کھولتا تھا، کاغذ بولتا تھا۔ اور اثرِ شوقِ ہم آغوشی سے ہر بار خط ہاتھ میں لپٹا جاتا تھا۔ مضمونِ مکرر سو سو حسن طلب دکھاتا تھا۔ مولّف:

نامۂ شوقیہ جب میں نے رقم اُس کو کیا
سو جگہ مضمون تب اُس میں مُکرر ہو گیا

آنسو دمِ تحریر، یعنی لکھنے کے وقت جو خط پر ٹپکے تھے؛ دھبے اور نشان اُس کے دیدۂ منتظِر، چشمِ حیرت زدہ کی طرح ہر سطر پر کھلے تھے، اور سرخ ہالہ ہر حرف نے نکالا تھا۔ ایک جَدوَلِ خونی ہُوَیدا تھی، لہو رونے کی کیفیت پیدا تھی۔ لکھا تھا، حافظ:

از خونِ دل نوشتم نزدیکِ دوست نامہ
إنّي رأیتُ دَھــــراً مِن ھـجرِك القِیــامَة

شعر:

سوادِ دیدہ حل کردم، نوشتم نامہ سوی تو
کہ تا ہنگامِ خواندن چشمِ من افتد بروی تو

اے یارِ وفادار، صادِقُ الاقرار! اللہ تجھے سلامت رکھے۔ شرحِ اشتیاق، داستانِ فراق قصۂ طول و طویل ہے؛ زندگی کا بکھیڑا، عرصہ قلیل ہے۔ اگر ہماری زیست منظور ہے، جلد آؤ، صورت دکھاؤ۔ نہیں تو تاسُّف کروگے، پچھتاؤگے۔ تم نے آنے میں اگر دیر کی، تو ہم نے صدمۂ ہجر سے تڑپ کر جان دی؛ مٹی کے ڈھیر پر رو رو کے خاک اُڑاؤگے۔ مولّف:

شکل اپنی ہم کو دکھلاؤ خدا کے واسطے
جان جاتی ہے، اجی آؤ خدا کے واسطے

کوئی دم کا سینے میں دَم مہمان ہے، نام کو جسم میں جان ہے۔ فلک نے ہماری صحبت کا رشک کھایا، بے تفرقہ پَردازی ظالم کو چین نہ آیا۔ روز و شب رنجِ جُدائی سے جان کو کھوتے ہیں۔ اِتنا کبھی کاہے کو کسی دن ہنسے تھے، جیسا بِلک بِلک کر فرقت کی راتوں میں روتے ہیں۔

میر:

بے تابیٔ دل کسے سنائیں
یہ دیدۂ تر کسے دکھائیں

تمھاری تقریرِ دل پذیر ہر دم بر نوکِ زباں ہے، بے تصوّر سے باتیں کیے چین آرام کہاں ہے۔ استاد:

یہ جانتے، تو نہ باتوں کی تجھ سے خو کرتے
ترے خیال سے پہروں ہی گفتگو کرتے

ہمارے تڑپنے سے ہمسایہ سخت تنگ ہے۔ دولت سَرا زِنداں سے تیرہ و تنگ ہے۔ میر:

گر یوں ہی رہے گی بے قراریتو ہوچکی زندگی ہماری

وحشت پیرامونِ حال ہے۔ ہر گھڑی فرقت کی، ماہ ہے۔ جو پَہَر ہے وہ سال ہے۔ میر:

دل کوئی دم میں خون ہووے گا

 

آج کل میں جنون ہووے گا

 

تمھاری صورت ہر پَل رو بہ رو ہے۔ جس طرف دیکھا، تو ہی تو ہے۔ چشمِ فُرقت، دیدۂ دریابار ہے۔ آنکھ نہیں، چشمۂ آبشار ہے۔ افسوس تو یہ ہے جن آنکھوں کو تم پُرنم نہ دیکھ سکتے تھے، اُن سے خون کے دریا بہہ گئے۔ مولّف:

تم نے نہ ہماری، پر، خبر لیچھاتی پتھر کی، کیوں جی، کر لی

دن رات کی وہ صحبت تمھارے ساتھ کی جب یاد آتی ہے؛ نیند اُچٹتی ہے، بے چینی کی رات پہاڑ ہو جاتی ہے، کاٹے نہیں کٹتی ہے۔ چارپائی تنہائی میں پلنگ بن کر کاٹے کھاتی ہے، بالِش پر نیند اڑاتی ہے۔ خواب میں سونے کا خیال نہیں۔ کھانا پانی ہجر میں حرام ہے، حلال نہیں۔ وہ سر، جو اکثر آپ کے زانو پر رہا ہے، اُس کو سو سو بار بالِش و بالیں پر دے پٹکا ہے۔ مولّف:

جس میں بانھیں تری حَمائل تھیںطوقِ حسرت میں اب وہ گردن ہے

میرے جاگنے کے، اے پیارے! ستارے شاہد ہیں۔ گواہِ شرعی زاہد ہیں۔ مُرغِ سحر کو بے قراری سے چونکاتی ہوں۔ موذن کی نیند آہ و زاری سے اُڑاتی ہوں۔ شبِ وصل یہ ہمیں جگاتے تھے، ستاتے تھے؛ اب ہجر کی رات ہم انھیں سونے نہیں دیتے ہیں، مَن مانتے بدلے لیتے ہیں۔ دل ہر ساعت گھڑی سے زیادہ نالاں ہے، ہر پَہر گَجَر سے فزوں شور و فُغاں ہے۔ چشمِ ثوابتِ و سیّار معائنۂ حالِ زار، پُر ملال سے بہ صد حیرت وا ہے۔ چرخِ گرداں میری گردش دیکھ کر چکّر کر رہا ہے۔ استاد:

کھا لیجے تھوڑا زہر منگا، ہم اور کہیں تم اور کہیں
کیا لطف ہے ایسے جینے کا، ہم اور کہیں تم اور کہیں

اِفشائے حال باعثِ ندامت، موجِب دشمنوں کی خوشی کا، سبب دوستوں کے ملال کا ہے۔ لا اعلم:

دلِ من داند و من دانم و داند دلِ من

اگر جیتے جی کبھی مل جائیں گے، رنجِ فُرقت کے دکھڑے مفصل زبانی کہہ سنائیں گے۔ اور جو فلک کو یہ نہیں منظور ہے تو انسان بہ ہر عُنوان مجبور ہے؛ یہ حسرت بھی در گور، گور میں لے جائیں گے۔ سعدی:

اے بسا آرزو کہ خاک شدہ

بہ خدا نمازِ پنجگانہ میں یہ دعا ہے، جامعُ المُتَفَرّقین سے یہی التجا ہے کہ تم سے جلد ملاقات ہو، باہم شکوہ و شکایت ہو۔ دلِ بے قرار تسکین پائے، جانِ زار کو چین آئے۔ زیادہ دیکھنے کا اشتیاق ہے، اشتیاق ہے۔ شام و پَگاہ جدائی کا صدمۂ جاں کاہ سخت شاق ہے، شاق ہے۔ خوگرِ وصل، ہجر کے الم کا مُبتدی ہے یا مَشّاق ہے۔

یہ خط کا مضمون جو پڑھا، دونوں نے رو دیا۔ از سرِ نو مع سرنامہ سراسر وہ نامہ بھگو دیا۔ اُس رات کو تو چار و ناچار وہاں مقام کیا؛ صبح ہوتے ہی صورت بدلی، کوچ کا سر انجام کیا۔ آگے آگے توتا رہ بَر، پیچھے پیچھے وہ دونوں تیز پَر۔

 

پہنچنا شہ زادۂ والا جاہ کا مَرکبِ صبا پر

 

مع انجمن آرا ملکہ مہرنگار کے پاس بہ ہمراہیٔ رفیق کاملِ سبز لباس اور

مطلع ہونا وہاں کے بادشاہ کا، بھیجنا سپاہ کا، پھربدولتِ نقش مطیع ہو جانا

اُس فوج کا، داخلہ لشکرِ دریا موج کا

 

نظم:

پلا دے تو ساقی مے لالہ فام
وہ مے دے کہ ہوں دور دل سے الم
جدائی کے ایام طے ہو چکے
مچا دوں کوئی دم بھلا چہچہے
مثل ہے یہ مشہور اے ذی شعور
ہُوا چاہتا ہے یہ قصہ تمام
کہ ہوتے ہیں معشوق و عاشق بہم
شبِ ہجر میں خوب سا رو چکے
کہ رنج جدائی بہت سے سہے
کہ ہے رنج کے بعد راحت ضرور

محرّرانِ حالِ طالب و مطلوب و حاکِیانِ حکایاتِ خوب و مرغوب لکھتے ہیں کہ وہ پرندۂ ہوائے شوق یعنی جان عالم مع ماہ لَقا انجمن آرا اور طائرِ زمردیں لباسِ دشت پیما، آٹھویں روز ملکہ کے پاس پہنچا۔ یہاں جس دن سے توتا رخصت ہوا تھا، ملکہ مہرنگار دونوں وقت بلا ناغہ باغ میں آتی تھی، درخت خالی دیکھ کر گھبراتی تھی۔ بیش تر صبح و شام وہ ناکام، اُس درخت کے تلے جہاں توتا ملا تھا، یہ کہتی تھی، میر سوزؔ:

مانندِ جرس پھٹ گئی چھاتی تو فُغاں سے
فریاد کو پہنچا نہ کوئی راہ رواں سے

اُس روز موافقِ معمول وہ دل ملول قریبِ شام درخت کے نیچے حزین و زار، توتے کے انتظار میں کھڑی تھی اور آنکھ ٹہنی سے لڑی تھی۔ دیدۂ خوں بار سے دریا اُمڈا تھا، اشکِ مسلسل سے تا دامن یا قوت اور موتیوں کی لڑی تھی۔ جب دلِ سُوختہ گھبراتا، تو سُوزِ دَروں مِثلِ دُخاں لب پر آتا۔ جی بہلانے کو یہ غزل پڑھتی، مُؤلِّف:

آتَشِ فُرقت سے سینہ جب سے مِجْمَر ہو گیا
باعِثِ اِفشائے ذِلّت دم نہ مارا میں نے گاہ
نَزْع تک تو آمدِ جاناں کا کھینچا انتظار
کیا ڈراتا ہے ہمیں واعظ سُنا شورِ نُشور
اب جو ہنستا ہوں تو ہنستے ہنستے بھی گرتے ہیں اشک
فکر پھر کس کو ہو دیواں جَمع کرنے کی سُرورؔ
بُھن کے لختِ دل مرا ہر ایک، اَخگر ہو گیا
ورنہ زیرِ آسماں کیا کیا نہ مجھ پر ہو گیا
وہ نہ آیا، وعدہ اپنا یاں برابر ہو گیا
شامِ فرقت، یاں عذابِ روزِ محشر ہو گیا
روتے روتے، آخِرش رُونے کا خوگر ہو گیا
جب کہ ہو مجموعۂ خاطر ہی اَبتر ہو گیا

دفعتاً توتے نے سلام کیا۔ وہ خوش ہو کر بولی: اے قاصدِ نیک صدا و ہُد ہُدِ شہْرِ سَبا! میرے سلیمانِ حُسن و خوبی کا پتا، یا اُس بِلقيس محبوبی کا سُراغ ہاتھ آیا؟ توتے نے کہا: اے ملکۂ عالمِ قَدْر داں! خبرداروں کو خِلْعَت و انعام دیتے ہیں، جب دوست کا پیغام پوچھتے ہیں، عَلَی الْخُصوص یہ خبرِ فرحت اثر! پہلے یہ اِرشاد ہو کہ اگر کچھ پتا بتاؤں گا، تو اُس کی اُجرت کیا پاؤں گا؟ یہ سُن کے ملکہ کی جانِ رفتہ بدن میں آئی۔ يقين ہوا، اِس نے مُفصّل خبر پائی۔ یہ کہا، اُستاد:

پیغامِ دوست جلد تو پیغام بَر سُنا
گھبرا کے دم ہی جائے نہ میرا کہیں اُلٹ

توتا عرض کرنے لگا: حضُور کا اِرشاد واقعی بجا ہے، مگر ایسی خبر کا جلد کہنا، حُمُق کا مُقتضا ہے۔ اُستاد:

دفعتاً خوگرِ فُرقت کو نہ دے مُژدۂ وصل
خبرِ خوش نہیں اچھی جو یکایک ہووے

توتا تقریر کو طول دیتا تھا۔ کبھی خوش، گاہ مَلول کر دیتا تھا۔ ملکہ بے چین ہوئی جاتی تھی۔ اِدھر شہزادے سے زیادہ انجمن آرا گھبراتی تھی۔ غرض نہ رہ سکی، صورت بدلی۔ جانِ عالم بھی مُجَسَّم ہو کے سامنے آیا۔ آپَس میں عاشق و معشوق و معشوق و عاشق خوب گلے مِل مِل کے رُوئے۔ غُبارِ کُلْفَتِ پارینہ، داغِ مُہاجَرتِ دیرینہ دل کھول کر صَفْحۂ سینہ سے دھوئے۔ رُونے کی آواز سے مُغلانیاں، خواصیں جمع ہوئیں۔ جس کی آنکھ اِن دونوں پر پڑی؛ دوڑ کر صدقے ہوئی اور پاؤں پر گر پڑی۔ جَلَّ جَلالُہٗ! حُسنِ خوب سے، کوئی چیز زیادہ دِلکش اور محبوب نہیں۔ دوست تو دوست ہے، دُشمن غش کر جاتا ہے۔ لڑکا ہو یا بوڑھا، شَیدا نظر آتا ہے۔ مال تو کیا مال ہے؛ سُوت کی اَنْٹی بھی اگر پاس ہو، تو اَنْٹی ماری سے خریدار بن جاتا ہے۔ جان عزیز نہیں، حُرمت کچھ چیز نہیں۔ غلام کی غلامی پر آقا فخر کرتا ہے۔ جانِ تازہ پاتا ہے جو کوئی کہتا ہے کہ: یہ اُس پر مرتا ہے۔ عِياذًا بِاللّٰہ یہ اَمر محمود نہیں۔ اِس میں غیرِ ضَرَر کچھ سود نہیں۔

غَرض کہ خُرّم و خَنداں بارہ دری میں آئے۔ انجمن آرا سے ملکہ نے حال پوچھا۔ اُس نے دیو کا اُٹھا لے جانا، باغ کی بے سَروپائی؛ پھر جانِ عالم کی رَسائی اور سفید دیو کا آنا، باہم کی لڑائی، پھر اُس کو قتل کر کے آفت سے چھڑانا؛ اپنی پِیادہ پائی، صحرا نَوردی، ہَوا گرم، پاؤں کا وَرَم؛ پھر وہ عَمَل جُوگی کا بتایا ہوا شہ زادے کا سِکھانا، باد ہَوائی سفر، توتے سے درخت پر مل جانا سُنا دیا۔ پھر اُس نے جانِ عالم سے سَرگُذشت پوچھی، اپنی صُعوبَت کہی۔ گُذشتہ کا حال میں ذِکْر کر کے، جو کچھ دھیان بندھا، پھر سب رُونے لگے۔ توتا بد مزہ، خفا ہوا، کہا: صاحِبو! اب یہ قصّہ بکھیڑا دور کرو، سجدۂ شکر بجا لاؤ، کھیلو کھاؤ، ہنسی خوشی کا مذکور کرو۔ یاد رکھو یہ بات: گذشتہ را صَلْوات۔

مصحفی:

جُز حسرت و افسوس، نہیں ہاتھ کچھ آتا
ایّامِ گذشتہ کو کبھی یاد نہ کیجے

ملکہ بولی: اے شیریں مَقال، مبارَک قَدَم، خُجَستہ فال! شہ زادے کے برابر عقل کا دشمن کسی نے دیکھا نہ سُنا ہو گا۔ سوزؔ:

معلوم ہم کو دل کے سُلوکوں سے یہ ہوا
نادان ہے جو دوست، وہ دشمن ہے جان کا

اِس نے جتنی محنت و مَشقّت اُٹھائی، اپنی بد عقلی کی سزا پائی۔ بھلا عالَمِ تنہائی میں جو کچھ کیا سو کیا؛ دو تین بار اپنے ساتھ ہم دونوں کو خراب، آفت کا مبتلا کر چکا ہے، آگے دیکھیے کیا ہوتا ہے۔ یہ کہہ کر، دَر بہ روئے دشمناں بند، دوست با دِلِ خُر سَند باہم بیٹھے اور دَورِ ساغَربے دَغْدَغَۂ فلکِ تَفْرِقَہ پسند و سِفْلہ پَروَر شُروع ہوا۔ مُطْرِب نے ساز کی ناسازی پر گوشُمالی دی، صدائے عیش و طرب بلند ہوئی۔

یہ خبر بارہ دری میں مشتہر ہوئی اور وہاں کے بادشاہ کو پہنچی کہ ایک مرد صاحِب جمال، دوسری عورت پری تِمثال ملکہ کے پاس تازہ وارِد ہوئی۔ کہنے لگا: الحمد لِلّٰہ گھر بیٹھے یہ عنایتِ پَروردگار ہے۔ نصیب چمکا ہوا ہے، طالع یار ہے۔ ایک موجود تھی، دو اور آئے۔ اُسی دم دو ہزار سوارِ جَرّار اور دو سپہ سالارِ تَجْرِبہ کار نگہ بانی کو بھیجے۔ جانِ عالم نے یہ ماجرا سنا، کہا:فَضْلِ الٰہی چاہیے، بعدِ مدّتِ مَدید یہ صحبتِ ہَمدیگر مُیسَّر ہے، صُبْح کو سمجھ لیں گے۔ سوار تو باغ گھیرے کھڑے رہے، یہاں تمام شب جلسے بڑے رہے۔

جس وقت خُسرَوِ خاوَر آرام گاہِ مشرق سے بر آمد ہو کے جلوہ گرِ تختِ زَنْگاری ہوا اور سِپَہ سالارِ انجم مَع سوار، پیدل ثَوابِت و سیّارہ کے، کوہِ مغرب کی طرف فَراری ہوا؛ جانِ عالم حَمّام سے غسل کر کے نکلا۔ اُس لَوح سے اسمِ تسخیر پڑھتا باغ کے دروازے پر آیا۔ جس کی نگاہ پڑی، دبدبۂ شوکت اور اِسْم کی برکت سے آداب بجا لایا، دست بستہ رو بہ رو آیا۔ وہ دو ہزار سوار مع سِپَہ سالار فرماں بردار ہوئے؛ پھر تو دروازہ بہ کُشادہ پیشانی کھولا۔

یہ خَبرِ وحشت اثر اُس بادشاہ کو پہنچی؛ اور سوار پِیادے، لڑائی کے آمادے بھیجے۔ وہ بھی جب سامنے آئے، گھبرائے، حلقۂ غُلامی کان میں ڈالا، جنگ کا خیال نہ رہا۔ پھر تو مشہور ہوا کہ ساحِر ہے۔ المختصر، تمام فوج آ کر شریک ہوئی۔ اُس وقت وہاں کا تاج دار طیش کھا کے سوار ہوا۔ کہاں یَکَّہ سوار، کجا اَنْبُوہِ بے شمار! تلوار چلی، دس بارہ زخمی ہوئے، کچھ جان سے گئے۔ اور فوج نے نَرغا کر جان سے تو نہ مارا، کمندوں میں پھنسا لیا اور جانِ عالم کے حوالے کیا۔ شہ زادۂ عالی حوصلہ خوفِ خدا سے اور نحوستِ طالعِ نارَسا، کج ادا سے مِثلِ بِید کانپا اور فرمایا: اللّٰہ وہ وقت کسی کو نہ دِکھائے جو اپنی فوج یا رعیّت حاکم سے ناراض ہو۔ دوست دشمن ہو جائے، عداوت سے پیش آئے۔ یہ ارشاد کر کے اُس سے بَغَل گیر ہوا، برابر بِٹھایا، قتْل سے ہاتھ اُٹھایا۔ وہ بے چارہ نادِم و پشیماں، سَر دَر گریباں، گھٹنے پر گردن جھکا، مُنفَعِل، خاموش بیٹھا۔ شہ زادے نے کہا: مسافر کُشی صِفْتِ شاہی سے بعید ہے۔ ہم تمھارے مہمان تھے، تم نے دعوت کے بدلے عداوت کی؛ اللّٰہ کو یہ بات پسند نہ ہوئی، عبرت کا تماشا دکھایا۔ یہ تخت، یہ سلطنت آپ کو مُبارَک رہے۔ بندہ غریبِ دِیار، کمر باندھے چلنے کو تیّار ہے۔ اِس لڑائی کا قصّہ، فَسانہ ہو جائے گا۔ اِمرُوز یا فَردا یہ مسافر روانہ ہو جائے گا۔ وہ اِس کی فصاحت و بلاغت اور یہ سیر چشمی دیکھ کر حیران ہوا، کہ دشمن کو گرفتار کیا، پھر مُلک بخش دیا۔ سر جھکا کربولا: بہ خُدائے عَزّ و َجَل لائقِ حکومت، قابلِ سلطنت آپ کی ذاتِ فَرخُندہ صِفات ہے۔ جانِ عالم نے کہا: آپ یہ اپنی تعریف کرتے ہیں، وگرنہ من آنم کہ خوب می دانم۔

اَلقِصّہ، وہ محجوب ہو کر رخصت ہوا۔ فوج کو صُلح جو ثابِت ہوئی، اپنے بادشاہ کے ہمراہ چلی گئی۔ جب یہ جنگِ زَرگَری ہو چکی؛ مکان پر آ کر بہت تیّاری اور تکلّف سے دعوت کی اور عُذرِ تَقصیر کر کے عَفو کا اُمّیدوار ہوا۔ شہر والے یہ خبر سُن کے ایسے مشتاق ہوئے کہ غول کے غول آنے لگے۔ روز باغ کے دروازے پر میلا رہتا تھا، کسی وقت وہ کوچہ نہ اکیلا رہتا تھا۔

پھر جاسوس، شُتُر سوار، ہرکارے فوج کے تجسس میں بھیجے۔ چالیس منزل پر لشکر ملا۔ جانِ عالم کی مُفارَقت سے کسی میں جان نہ تھی۔ فرمانِ مُہری دیکھ کر سب نے جانِ تازہ پائی، مُہر آنکھوں سے لگائی۔ رات دن کوچ کرتی، بیس پچّیس دن میں بہ رسمِ یَلغار، فوج داخل ہوئی۔ شہ زادہ لشکر کو مُلاحظہ کر کے مسرور ہوا، ملال بھولا، رنج دور ہوا۔ اَرکانِ سلطنت نے ملازمت حاصل کی، سب نے نذر دی۔ مُوافقِ قَدر و مَنزِلَت خِلْعَت اور انعام خاص و عام کو مَرحَمَت ہوا۔ اور رِعایا بَرایا، بازاری، دُکان دار، اہلِ حِرفہ کو بھی کچھ دیا۔ فوج کے سرداروں کو خِلعَتِ جواہِر نِگار، سِپَر و شمشیر مُرَصَّع کار عنایت کر کے، دو ماہہ تمام فوج کو انعام میں دیا۔ اَز سَرِ نو لشکر چمکا دیا۔ پھر وہاں سےکوچ ہوا۔ وہی راہ میں جلسے، اِختِلاط، فَسانے، حِکایات، عیش و نَشاط۔ توتا ہنْساتا، رَمز و کِنایے کرتا، لطیفے سناتا، دِل بہلاتا جاتا تھا۔ ہر صُبْح با خاطِرِ شِگُفتہ مِثلِ نکہتِ گُل کوچ۔ ہر شام بَسانِ فصلِ بہار بہ آسائش مُقام۔ روز و شب بہ راحت و آرام کبھی کوچ، کبھی مُقام کرتے چلے۔

 

وُروٗدِ عَساکِرِ فیروزی اثر صحرائے ہمیشہ بہارمیں

 

وفورِ سَرما، شِدّتِ بَرْد دَشت و کُہسار میں۔ کیفیت باہم کے جلسے کی،

ترقّی شراب کے نشے کی۔ خیالاتِ فاسد آنا، توتے کا سمجھانا،

پھر شہ زادے کا پچھتانا

 

نا گاہ ایک روز گُذرِ مَوکِبِ با حشمت و جلال، فَرّ و شوکت سے، ایک صحرائے باغ و بہار، دَشتِ لالہ زارِ بے ملال میں ہوا۔ فِضائے صحرا قابلِ تحریر۔ کیفیت دشتِ گُلشن آسا لائقِ تقریر۔ بوٗ باس ہر برگ و گُل کی رشکِ مشکِ اَذْفَر۔ صفحۂ بیاباں مُعَنْبَر و مُعطَّر۔ چشموں کا پانی صفا میں آبِ گُہر سے آب دار تر، ذائقے میں بِہ اَز شیر و شکر۔ چِلّے کے جاڑے، کڑاکے کی سردی تھی، گویا کہ زمین سےآسمان تک یَخ بھر دی تھی۔ پَرِند چَرِند اپنے اپنے آشیانوں اور کاشانوں میں جمے ہوئے بیٹھے، بھوک اور پیاس کے صدمے اُٹھاتے تھے، دھوپ کھانے کو باہَر نہ آتے تھے، قصد سے تھرتھراتے تھے۔ سردی سے سب کا جی جلتا تھا، دَمِ تقریر ہر شخص کے مُنہ سے دُھواں دھار دُھواں نکلتا تھا۔ آواز کسی کی کان تک کسی کے کم جاتی تھی، مُنْہ سے بات باہَر آئی اور جم جاتی تھی۔ مارِ سیاہ اُوس چاٹنے باہَر نہ آتا تھا، سردی کے باعث دُم دَبا کے بانبی میں دبکا جاتا تھا۔ زمانے کے کاروبار میں خلل تھا، ہر ایک دست دَر بَغَل تھا۔ عاشق و معشوق بھی اگر ساتھ سوتے تھے؛ گھٹتے تھے، مگر گھٹنے پیٹ سے جُدا نہ ہوتے تھے۔ اَشکِ شمعِ انجمن لگن تک گرتے گرتے اُولا تھا، پروانوں نے گرد پھرتے پھرتے ٹٹولا تھا۔ شعلہ کانپتا تھا، فانوس کے لحاف میں مُنہ ڈھانپتا تھا۔ شمع کا جسم برف تھا، پگھلنے کا کیا حرف تھا۔ ہر سنگ کے سینے میں آگ تھی، گواہِ شرعی شَرَر تھا، لیکن سردی کو بھی یہ لاگ تھی اور جاڑے کا ایسا اثر تھا کہ سِلیں کی سِلیں جَمی پڑھی تھیں، فَولاد سے زیادہ کڑی تھیں۔ تَنورِ فلکِ چارُم کی چھاتی سرد تھی۔ گلخَن میں یہ بُرودَت تھی کہ کشمیر گَرد تھی۔ لُنجوں نے بٹیر پکڑے، لَوِے لولُوں کے ہاتھ آئے، لنگڑے ہِرَن باندھ لائے۔ سَر زمینِ ہند میں مُردے نہ جلتے تھے، زِندوں کے ہاتھ پاؤں گلتے تھے۔ آتش رُخسارِ گُل شبنم نے بُجھائی تھی، باغ میں بھی جاڑے کی دُہائی تھی۔ اُوس برگ و بار کی،صنعت پروردگار کی دِکھاتی تھی، مُرصَّع کاری یک لَخْت نظر آتی تھی۔ دانہ ہائے اشکِ شبنم، خواہ بڑے یا رِیزِے تھے، ہر شجر کے برگ و بار میں اَلماس اور موتیوں کے سَبُک آوِیزِے تھے۔ عِذارِ لالۂ حمرا رشکِ زعفراں تھا۔ طلائی درختوں کی ٹہنیاں، کہرُ بائی پتّے، بہار میں رنگِ خِزاں تھا۔ اِس سردی کا کہیں ٹھور ٹھکانا ہے، حَمَّام پر یہ پھبتی تھی کہ بَرف خانہ ہے۔ آگ پر لوگ جی نثار کرتے تھے، زَر دُشْت کا طَریق اِختیار کرتے تھے۔ اُسی سردی کا یہ وُفور ہے کہ آج تک بُتوں کی سرد مہری مشہور ہے۔ آفتاب عازِمِ بُرجِ حَمَل تھا، آتَش پَرَستوں کا عَمَل تھا۔ زیست سَمَنْدَر کے عُنوان تھی، آگ میں خلقت کی جان تھی۔ عاشق تو کیا، معشوق ٹھنڈی سانْس بھرتے تھے، گرمی نہ کرتے تھے۔ دانْت سے دانْت بجتا تھا۔ ہونْٹ نیلم کو شرماتے تھے، پان کے لاکھے میں سُوسَن کی پنکھڑی سے نظر آتے تھے۔ عاشق تن، پریوں کو ساتھ لے کے سوتے تھے، اِس پر بچھونے گرم نہ ہوتے تھے۔ عالَم اللّٰہ کا جاڑے میں اَلْمَسْت تھا۔ جس کو دیکھا، آتَش پرست تھا۔ جاڑے سے اُس دشت میں ایسا پالا پڑا، تمام اہلِ لشکر کو تَپ لرزے کا عالم تھا۔ بانکے تِرچھے خود بہ خود اینٹھے جاتے تھے، ڈھال تلوار کھڑکھڑانے کے عِوَض دانْت کَڑکَڑاتے تھے۔ تپنچے، چقماق، پتھر کَلے؛ لاٹھی سے بد تر تھے۔ بندوق میں لاگ نہ تھی، چانْپ کے پتھروں میں آگ نہ تھی۔ اور تُوڑے دار کا یہ حال تھا: بُوجھ کندھا توڑتا تھا، قدم اُٹھانا مُحال تھا۔ تُوڑاہر ایک، گُل تھا؛ توتے کی جگہ شُورِ بلبل تھا۔ ملائم لوگوں کے حواس جم گئے تھے، جُگنو کو چنگاری کے دھوکے میں اُٹھانے کو تھم گئے تھے۔ اور ہوش ایسے کانْپتے تھے؛ کیچوے کی مِٹّی کو الاؤ سمجھ، پھونکتے پھونکتے ہانپْتے تھے۔ سردی بس کہ کارفَرما تھی، ایک کو دوسرے کی تمنّا تھی۔ یہاں تک جاڑے کا زور شور عالم گیر ہوا تھا کہ کُرَۂ نار، زَمْہَریر ہوا تھا۔

جانِ عالم نے فرمایا: آج خیمہ ہمارا یہیں ہو۔ جس دم تمام لشکر نے مِثْل دَر مِثْل قیام کیا، خود مُتَوجہ سامانِ عیش و نَشاط ہوا۔ ملکہ اور انجمن آرا سے پری پیکر محبوب۔ توتا مُصاحِبِ بے بدل، بہ دِل مرغوب۔ گردش میں دَورِ شرابِ ناب آیا، ساغر میں آفتاب آیا؛ اِلّا، کشتی شراب کی، نہ بَطِ مَے چلتی تھی؛ نہ کباب بھنتے تھے، نہ آگ جلتی تھی۔ گلاس شراب کا برف کی قفلی کو شرماتا تھا، قطرۂ مَے اُس میں گرتے ہی جَم جاتا تھا۔ مینائے بے زَباں کے مُنْہ پر روٗئی تھی، ایسی سردی ہوئی تھی۔ گلا بیٹھا تھا؛ جب بہت غُل کرتی، تب قُلقُل کرتی۔ لَبِ ساغر خُشک، جِسم پر پسینا تھا؛ پانی کا پیالہ فخرِ آبگینہ تھا۔ جاڑے کا لشکر میں ہر طرف شُور و غُل تھا۔ بازار میں روٗئی کا لین دین بِالکل تھا۔

جب دَورِ آفتاب ماہ جبینوں میں چمکا؛ عالَمِ سُرور میں، نشے کے وُفور میں جانِ عالم کو خیالِ نزدیک و دور آیا۔ دل میں سوچا کہ اِتنے عرصۂ دراز، زمانۂ دِیریاز تک ملکہ اور انجمن آرا کو ہم سےفُرقت، غیروں سے قُربت رہی؛ رنڈی کا اِعتِبار کیا ہے، یہ قوم قدیم سے بے وفا ہے۔ فِردَوسی:

اگر نیک بودے سَر انجامِ زن
زناں را “مَزَن” نام بودے نہ “زَن”

یہ نشیب و فَراز جو ذہن میں آیا؛ جَلی کَٹی باہم ہونے لگی، کج بحثی صحبت کا لطف کھونے لگی۔ وہ سبز پُوش، خانہ بدوش، موقع شَناس، مزاج داں، دِل سُوز، ادب آمُوز، بے زَباں بلبلِ ہزار داستاں دل کا حال جانتا تھا، اُڑتی چِڑیا پہچانتا تھا؛ سمجھا: جانِ عالم کی طبیعت کبیدہ ہوئی۔ قریب وہ وقت آیا چاہتا ہے کہ ایسی گفتگو آغاز ہو، جس کا انجام یہ صحبت دَرہَم و بَرہَم کرے۔ زندَگی سب کی تلخ ہو، ہر کلمہ نبات کا، کارِسَم کرے۔ بات کو کاٹ، طبیعت کو اُچاٹ، کہنے لگا: شہ زادۂ عالَم! نشہ اِس کیفیت سے حرام ہے کہ اِس کی ترقی میں عقل کو تنزل ہوتا ہے۔ خیالِ بیہودہ، لاطائل آتے ہیں، احسان بھول جاتے ہیں۔ فقط گُمانِ بے جا اور خیال، وہ بھی نشے کے حال کا؛ اُس پر حق خدمت ناحق بھول جانا، روکھے ہو کے بگڑنا، مُنْہ بنانا، گویا اِن تِلوں میں تیل نہ تھا، کبھی میل نہ تھا؛ آدمیّت سے بعید ہے۔ اِن میں کوئی آپ کی زر خرید ہے؟ ایک ساعَت اِدھر مُخاطَب ہو جیے۔ اِس مدّتِ مُفارَقَت میں بہت سانِحے دیکھے، افسانے اپنے بیگانے کے سُنے؛ اگر بہ گوشِ ہوش انھیں سُنیے تو یہ تخیلات فاسِددور ہوں۔ جانِ عالم نے کہا: ایسی بات اس وقت واجبات سے ہے، جلد کہہ۔

 

حکایَتِ ہوش رُبا، نقلِ عبرت خیز، حیرت افزا قاضیٔ متشرِّع اور مُفتی صاحبِ وَرع کی

 

قاضی کا ایمان کھونا، بھاوج پر فریفتہ ہونا۔ اس کا انکار کرنا، قاضی کا مفتی میں بے گناہ سنگسار کرنا۔ اس کی جان بچ جانا، بادشاہ کا آنا۔ سب حال ظاہر ہونا، عورت کی پاک دامنی سے ماہر ہونا

 

توتے نے کہا: جناب امام جعفرِ صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک بادشاہ تھا مُتدَیِن، نیک طینت، باصفا، سخی، شجاع، عابد، پارسا۔ اس کے عہدِ دولت میں دو بھائی تھے: ایک تو شہر کا قاضی، دوسرا مفتی۔ بہ ظاہر مردِ مسلماں، صاحبِ ایماں۔ مفتی کی بی بی نہایت شکیلہ، بہت جمیلہ تھی۔ اتفاقاً عِندَالضَّرورت مفتی کو بادشاہ نے کہیں دو چار منزل بھیجا۔ وہ اپنی عورت، دمِ رخصت بھائی کو سونپ گیا۔ قاضی گاہ گاہ خبر کو اس عورت کے پاس جاتا تھا۔ پردہ اسی واسطےخوب ہوتا ہے۔ جتنا دنیا کا قصہ بکھیڑا ہے، سب آنکھوں سے دیکھا سنا ہے۔ وہ تو بہ درجہ حسین تھی؛ شیطان عَلَیه اللَّعن نے ورغلانا؛ قاضی کی آنکھ پڑی، فریفتہ ہوا۔ چند روز میں ولولۂ طبیعت حد سے فُزوں، بلکہ قریبِ جنوں ہوا؛ مگر وہ عورت جیسی خوب صورت تھی، اس سے زیادہ عِصمت و عِفّت رکھتی تھی۔ ایسا حسن حسنِ اتفاق سے ہوتا ہے۔

قاضی نے ایک روز اس سے سوالِ وِصال کیا۔ اس نے اس اَمرِ بد سے اَزحد انکار کرکے، خوشامد کا کچھ نہ خیال کیا۔ قاضی سمجھا: یہ راضی نہ ہوئی اور نہ ہوگی۔ خِفَّت میں دو اندیشے ہوئے: ایک تو محرومیٔ وِصال، دوسرے اِفشائے راز کا ملال؛ گھبرا کر بادشاہ سے عرض کی: دمِ رخصت میرا بھائی اپنی جورو مجھے سونپ گیا تھا؛ اس فاحشہ نے اس کی غَیبت میں زِنا کیا، مجھے ثبوتِ کامل ہوا۔ بادشاہ نے مردِ متَشَرع سمجھ، صاحبِ زُہد و وَرع جان کر اختیار دیا۔ قاضی نے اس کو تنہا لے جا کر سمجھایا کہ اب تک خیر ہے، مجھ سے راضی ہو؛ نہیں، بڑا شَر ہو گا، بے سود تیری جان کا ضَرَر ہو گا۔ دل پر جبر اِختیار کروں گا، تجھے سنگسار کروں گا۔ وہ عورت شیر صفت اس کی گیدڑ بھبکی سے نہ ڈری، مرگ پر راضی ہوئی۔ اس کم بخت شہوت پرست نے شہر کے باہر لے جا، اس کو سنگسار کیا۔ خلقِ خدا عبرت کناں، خائف و لرزاں اپنے اپنے گھر پھری۔ وہاں حافِظِ حقیقی نے شیشۂ حیات اس نیک صِفات کا سنگِ ستمِ قاضی سے بچا لیا، ٹھیس نہ لگی۔ خواہشِ بے جا میں ایسا ہی ہو جاتا ہے، عقل پر پتھر پڑ جاتے ہیں۔ شب کو عورت پتھر سَرکا، ایک سمت پِیادہ پا روانہ ہوئی۔

جنگل میں ایک ویرانی رہتا تھا، مرد خدا پرست۔ بستی کو چھوڑ، اہلِ دُنیا سے منہ موڑ دَشت بسایا تھا، ویرانے میں گھر بنایا تھا۔ یہ جب وہاں پہنچی، اس حق پرست نے اس کی غریبُ الوطنی پر رحم کھایا۔ لڑکا اس کا خُرد سال تھا؛ اس کی خبرگیری، خدمت کو اپنے پاس رکھ لیا۔ اس ویرانی کا ایک غلام سخت نُطفۂ حرام تھا، بدذات، گیدی۔ مَثل مشہور ہے: لَا خیر فِی عَبِیدی۔ رنڈی جوان دیکھ کر عاشق ہوا۔ بہت سی چاپلوسی کی، وہ ڈَھب پر نہ چڑھی۔ اس شَقی نے ویرانی کا لڑکا ذَبح کرکے، تُہمتِ قتل اُس عورت پر کی۔ اولاد کی محبت مشہور ہے۔ امیر ہو یا فقیر، اس میں مجبور ہے۔ ویرانی کو بہ شِدّت رنج ہوا؛ لیکن وہ صابر و شاکر تھا، عورت سے کچھ نہ کہا، بجز رَضِینا بِالقَضَا۔ اور بیس دینار زادِ راہ دے کر رخصت کیا۔

وہ بے چاری مصیبت کی ماری چل نکلی۔ ایک شہر میں وارِد ہوئی۔ بازار میں بھیڑ دیکھی، شور و غل برپا تھا، اور ایک شخص کو زنجیر و طوق میں پھنسا، کَشاں کَشاں لوگ لیے جاتے تھے۔ عورت نے پوچھا: اس سے کون سا جرمِ قبیح سرزد ہوا، جو ایسی آفت میں مبتلا کیا۔ لوگوں نے کہا: یہ بیس دینار کا قرض دار ہے، ادا کی طاقت نہیں؛ اس کے بدلے یہاں کے سردار نے دار کا حکم دیا ہے۔ عورت کو رَحم آیا، وہی ویرانی کے دینار دے کر قید سے چھڑایا۔ وہ مّکار، بدباطن، عَیّار تھا۔ رنڈی جو خوب صورت دیکھی، جی بُھربُھرایا، کہا: تو تو میری محسنہ ہے، میں تیرے ہمراہ رہوں گا، خدمت گزاری کروں گا۔ اس حیلے سے ساتھ ہوا۔

کچھ دور شہر سے نکلی تھی، راہ میں دریا ملا۔ یہ مدت سے نہائی نہ تھی، کپڑے بھی کثیف ہو گئے تھے؛ ایک طرف لباس دھو کر، نہا رہی تھی۔ ناگہاں ایک سمت سے دو جہاز وہاں آئے۔ اہلِ جہاز نے دیکھا: عورت قمر طَلعَت ہے، اسی حرام زادے سے حال پوچھا کہ یہ کون ہے؟ اس نے اپنی لونڈی بتایا۔ مول تول درمیان آیا۔ غَرض کہ مَبالِغِ خطیر پر بیچ کر، کسی بہانے سے جہاز پر چڑھا دیا، روپے لے کر چل نکلا۔ وہ دو سوداگر تھے، دونوں اس پر مائل ہوئے، قصے فساد حائل ہوئے۔ پھر یہ صلاح ٹھہری کہ بِالفِعل مال کے جہاز پر یہ رہے۔ جب اسباب بِک چکے، اس وقت عورت جسے قبول کرے، وہ لذّت حُصول کرے۔ جھگڑا مٹا دیا، اسے مال کے جہاز پر بٹھا دیا۔ ایک روز آندھی چلی، طوفان آیا۔ جس جہاز پر سوداگر تھے، وہ تو ڈوب گیا؛ مال کا جہاز اور یہ جاں باز سلامت رہی، مالک ہوئی۔ چند عرصے میں جہاز اس شہر میں آیا جہاں سے یہ سنگسار ہو کر نکلی تھی۔

دو کلمے یہ سنو: جس شخص نے اس کو بیچا تھا، کسی تقریب سے وہ یہاں کے بادشاہ کا بخشی ہوا۔ اور ویرانی کا غلام، بہ مَدَدِ اَیّام پایۂ وِزارت پا گیا۔ اور مفتی صاحب سفر سے پھر کر، مفت جورو کے الم میں مبتلا تھے۔ جس دن جہاز اس شہر میں پہنچا، وہاں کے پیمبر کو حکمِ الٰہی آیا کہ ہمارا ایک خاص بندہ جہاز پر آیا ہے، یہاں کا بادشاہ؛ وزیر، بخشی اورقاضی و مفتی کو لے کر اس کے پاس جائے، اور اس سال جو گناہِ صغیرہ یا کبیرہ ان سب سے عمداً اور سہواً سرزد ہوئے ہوں، اس کے رو بہ رو بیان کریں۔ جو وہ خطا معاف کرے، تو ہم بھی درگزریں؛ وگرنہ بلائے آسمانی، آفتِ ناگہانی اس زمین پر نازل کروں گا۔

پیمبر نے بادشاہ سے کہا۔ وہ سب کو ہمراہ لے کر، نبی کو گواہ لے کر جہاز پر آیا۔ عورت پردہ چھوڑ کر آ بیٹھی۔ تقریر شروع ہوئی۔ پہلے بادشاہ نے کہا: میں سِیَہ کار، اَز سَرتاپا گنہگار، معصیت کا پُتلا ہوں؛ مگر یہ خدشہ تازہ ہوا ہے کہ قاضی کے کہنے سے مفتی کی جورو کو بے تحقیقات رَجم کا حکم دیا۔ عورت بولی: غَفَرَ اللہُ لَكَ۔ یعنی بخشے خدا تجھے۔

پھر مفتی نے کہا: مجھے جورو کی طرف سے گمانِ بد ہے۔ اس نے کہا تو ابھی چُپ رہ، بیٹھ جا۔ پھر قاضی نے بیان کیا: مجھ سے بدولتِ نفسِ امّارہ یہ حرکتِ ناکارہ ہوئی کہ بے جرم و خطا ایک بے گناہ کو سنگسار کیا۔ اس نے کہا: اللہ تیری مغفرت کرے۔ بعد اس کے وزیر، وہ ویرانی کا غلام آیا؛ ندامت سے سر جھکایا، کہا: بہ تحریکِ شیطان اور جوشِ شَہوت، غلام سے جرم قبیح ہوا کہ آقا کا لڑکا مار ڈالا، صاحبِ عِصمت کا قصور ٹھہرایا، بوجھ اپنا اس پر ٹالا۔ وہ بولی: غفورُ الرّحیم تجھ پر رحم کرے۔

جب بخشی آیا اور بیچنے کا ماجرا زبان پر لایا، عورت نے کہا: تو مُحسن کُش ہے، خدا تجھے نہ بخشے گا۔ اَلغرض بخشی کی جُرم بخشی نہ ہوئی۔ پھر وہ پردہ اٹھا کے باہر آئی، مفتی سے کہا: یہ سب بکھیڑا تو نے سنا، تو نے مجھے پہچانا؟ یہ سب قصہ میری عفت کا ہے۔ آج تک خدا کے حِفظ و عِنایت سے میری عزت و آبرو بچی، اب خُلع کی امید وار ہوں۔ یہ مال و متاع تو اپنے صرف میں لا، میں تنہا گوشۂ عُزلت میں بیٹھ کے عبادتِ معبود کروں گی، اسی شغل میں مروں گی۔ یہ ماجرا دیکھ کر حاضرینِ صحبت، ناظرینِ جلسہ تھرائے۔ بادشاہ سلامت مُنفَعِل گھر آئے۔ وہ عورت تو حُجرہ بنا کے طاعتِ یزداں میں مشغول ہوئی، دولتِ کونین حصول ہوئی۔

توتا یہ قصہ تمام کرکے بولا: جانِ عالم! جو لوگ ثابت قدم ہیں، ان کا ہر وقت اللہ یار ہے۔ ہر بحرِ بےکَنار سے ان کا بیڑا پار ہے۔ فرد:

نہ ہر زن، زن است و نہ ہر مرد، مرد
خدا   پنج     انگشت    یکساں  نکرد

یہ نقل سن کر شاہ زادے کا نشہ ہِرن ہوا۔ دونوں کی مَشَقّت اور ایذا اٹھانی، خانہ ویرانی، بادیہ پیمائی، عزیزوں کی جدائی یاد آئی۔ خوفِ خدا سے مِثل بِید کانپا۔ نَدامت سے عُذر کیا کہ حالتِ نشے میں جھک مارا، قصور ہوا، اب یہ خدشہ دل سے دور ہوا۔ پھر ہنسی خوشی وہاں سے کوچ کیا۔

 

اب تماشا ہے نہ سیر ہے، خاتمہ بِالخیر ہے

 

وطن پہنچنا اُس سَیّاحِ جہاں گرد کا آرام و چَین سے،بعدِ حُصولِ سعادتِ قدم بوس ملنا والدین سے۔ پھر فیروز شاہ کا جانِ عالم کو تخت و تاج دینا، آپ گوشۂ عُزلت لینا۔ اور قتل وزیر زادے کا، سزائے اعمال کو پہنچنا اُس حرام زادے کا

 

اَبیات:

چل اے توسَنِ خامہ منزل رَساں
پھرا گھر کو شہ زادۂ خوش سِیر
وہ اس طرح پہنچا وطن کی طرف
بڑی فکر رہتی تھی ہر صبح و شام
وہ بچھڑے تو سب ہو گئے ایک جا
رہی شَرحِ جَورِ فلک نا تمام
کہ اب گھر پہنچتا ہے یہ کارواں
جھمکڑے کا عالم، بہت کرّ و فَر
بہار آئے جیسے چمن کی طرف
ہوئی فضلِ حق سے کہانی تمام
ہوئے اپنے مطلوب سے ہم جدا
سُرورِؔ حَزیں! توسَنِ خامہ تمام

غرض کہ شاہ زادۂ جانِ عالم منزل بہ منزل مسافت طے کر، مَعَ الخیر وطن پہنچا۔ دو کوس شہر سے باہر خِیامِ ذَوِی الاِحتِرام اِستادہ ہوئے، لشکرِ ظفر پَیکر نے مُقام کیا۔ یہ خبر فُسحت آباد میں گھر گھر مشہور ہوئی کہ کوئی غنیم بے خوف و بیم فوجِ عظیم لے کر وارِد ہوا ہے، دیکھیے ہوتا کیا ہے۔ شہر کا یہ نقشہ تھا: جس روز سے جانِ عالم مَفقودُ الخَبر، در بدر ہوا تھا؛ سُنسان، ویران، بے چراغ پڑا تھا اور بادشاہ گریباں چاک، سر پہ خاک، نہ تخت کی خبر، نہ سلطنت سے سَروکار، نہ ملک سے مطلب، نہ دربار سے غرض، دیوانہ وار، با دِلِ بے قرار محل میں پڑا رہتا تھا۔ نہ کسی کی سنتا تھا، نہ اپنی کہتا تھا۔ اور شہ زادے کی ماں بھی غمگین، اندوہ ناک، بے چین؛ دن رات غم کی حکایت، اندوہ کے بین، نصیب کی شکایت، لب پر شُور و شَین۔ خَلِشِ نَشترِ غم سے کوئی ساعت قرار نہ پاتی تھی، ہر وقت بلبلاتی تھی۔ یہاں تک دوریٔ دِلبَند، مہجورِیٔ فرزند میں دونوں روئے تھے کہ آنکھیں ان عزیزوں کی یوسفِ گم گشتہ کے فِراق میں، دید کے اِشتِیاق میں ہَم چَشمِ دیدۂ یعقوب علیہ السَّلام ہو گئی تھیں، بہ حکمِ آیۂ وا فی ہِدایہ: وَابیَضَّـــت عَینٰـــهُ مِنَ الحُزنِ فَھوَ کَــظِیمٌ۔ اور سچ ہے: فراقِ نورِ چشم میں نورِ چشم کب رہتا ہے۔ رات دن آنکھوں میں یکساں، ہر وقت سَراسیمہ و پریشاں؛ مگر اَرکانِ سلطنت، نمک خوارِ قدیم کوشش عظیم سے درپردہ ریاست کا نام سنبھالے تھے۔

جب وُرودِ لشکر بہ ایں کّر و فَر سُنا، وزیرِ اعظم کو جانِ عالم کے پاس حال دریافت کرنے بھیجا۔ بس کہ شہ زادۂ با اِمتیاز کی مُفارَقَت کو عرصۂ دراز ہوا تھا؛ اس کے سوا وہ سامان، جاہ و حَشَم، لشکر کا چَم و خَم، فوج ہزار در ہزار، اَنبوہِ بے شمار، خزانۂ لا اِنتہا دیکھ کر وزیر گھبرایا، اپنے شہ زادے کا وہم و گماں نہ آیا۔ دست بستہ عرض کی: قبلۂ عالم! گردِشِ طالعِ و اژوٗں، نیرنگیٔ گَردونِ دوٗں سے وارِثِ تختِ سلطنت یہاں کا دفعتاً گُم ہو گیا۔ بادشاہِ آسماں جاہ ہمارا، مصیبت کا مارا جگر گوشے کی مُفارقت میں دامانِ صبر، گریبانِ شکیب پارہ پارہ کر کے؛ نورِ نظر بھی اس اپنے قُرّۃُ العین، طاقتِ بَصَر کے ہجر میں گریے کی نذر کر چکا ہے۔ زیست بہ نام ہے، مر چکا ہے۔ ہَنُوز اُس عَینُ الکمال کے قدم کی خاک سُرمۂٔ چشمِ مُشتاقاں و کحلُ الجَواہرِ دیدہِ مُنتظِراں نہیں ہوئی۔ بعدِ رسمِ سلام حضور کو یہ پیام دیا ہے کہ اگر خواہشِ تخت یا تمنائے تاج منظورِ خاطر ہے؛ بِسمِ اللہ، کل نہیں آج حاضر ہے؛ مگر سامانِ جنگ و جِدال، گرم بازارِیٔ عرصۂ قتال، خوں رِیزیٔ بندہ ہائے خدا ناحق، نارَوا ہے۔ مجھے تختِ سلطنت تختۂ تابوت سے بدتر ہے، اِلّا معاملۂ قضا و قَدَر سے مجبور فردِ بَشَر ہے۔ ہر چند جینے سے سخت جی بیزار ہے، لیکن مرجانے کا کسے اختیار ہے۔ شعر:

مرنے کو میں تو راضی ہوں، موت کو موت آ گئی
زندگی اب گلے پڑی، اس کی میں کیا دوا کروں

شرحِ سخت جانی موٗجِبِ پریشانیٔ گوشِ حق نِیُوش جان کر طوٗل کو مختصر کیا۔ جانِ عالم نے یہ سن کر رو دیا۔ وزیر کو گلے سے لگایا، خِلعتِ فاخِرہ عِنایت کیا، پھر کہا : افسوس! تم نے گود کے پالے عرصۂ قلیل میں بُھلا ڈالے۔ بعدِ آداب و کورنِش عرض کرنا کہ بدَولَتِ کشش اُلفتِ پِدَری و تاثیرِ دعائے سحری سے خانہ زادِ بامراد زندہ و سالم شَرفِ آستاں بُوس سے مشرف ہوا۔ اس وقت وزیر نے پہچانا، قدموں پر گرا۔ پھر سر اٹھا کر بے اجازت بھاگا اور بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، پکارا: مبارک ہو۔ اُستاد:

بوئے یوسف سوئے پیغمبرِ کَنعاں آئی

اے شاہِ با اقبال و اے صاحبِ جاہ و جلال! بہ عنایتِ جامعُ المُتفَرِقین اور باعِثِ برکتِ دعائے مُہاجِرین وہ نَیرِ اَوجِ بختیاری، کَوکَبِ دَرَخشندۂ سپہرِ شَہر یاری با فوج و لشکر اور مجمع حورانِ پری پیکر یہاں آیا اور اس اجڑے نگر کو آباد کیا، بسایا۔ مُشتاقوں کا دلِ اَلَم رَسیدہ شاد کیا۔ شُکر صَد شُکر نالۂ شب گیر با تاثیر تھا۔ بادشاہ کو تو مرتبۂ یاس حاصل تھا، وزیر سے یہ کلمہ فرمایا، میر تقی:

کوئی اور ہو گی، وقتِ سحر ہو جو مُستَجاب
شرمندۂ اثر تو ہماری دعا نہیں

وزیر نے مکرّر عرض کی: بہ سَرِ اَقدسِ حضور، شبِ دیَجور ہماری یُمنِ قدم سے اس شمع انجمن افروزِ سُلطانی کے روشن ہوئی۔ ہر گلی اس شہرِ ویراں کی رشکِ گلشن ہوئی۔ اس گفتگو میں وزیر تھا کہ جانِ عالم تنہا داخل ہوا۔ محل میں محشر کا قیام ہوا، رونا پیٹنا مچا، رنڈیوں کا اِزدِحام ہوا۔ ماں باپ نے گلے سے لگایا۔ شہ زادہ بِالرّاسِ و العَین آداب بجا لایا۔ عیَن عنایتِ الہی دیکھیے، اسی دم دونوں کی آنکھوں میں بینائی آئی، جسم میں تاب و توانائی آئی۔ بادشاہ جلد سوار ہوا، بہوؤں سے لشکر میں جا کر دو چار ہوا۔ شہر والوں نے یہ ماجرا سنا؛ صغیر و کبیر، بَرنا و پیر دوڑے۔ دونوں لشکر جلو میں ہمراہ، آگے آگے جہاں پناہ، روپیہ اشرفی دو رویہ تَصدُّق ہوتا، محل سرا میں لا کر داخل کیا۔ جانِ عالم کی ماں نے انجمن آرا اور ملکہ مہر نگار کو دیکھا، جان و دل دونوں پر نثار کیا، بہت سا پیار کیا۔ مبارک سلامت کی صدا در و دیوار سے پیدا ہوئی۔ جس نےدیکھا، وہ شیدا ہوئی۔

دوسرے دن ملکہ اور انجمن آرا نے شاہ فیروز بخت سے عرض کی کہ اگر حضرت کی اجازت ہو تو شہزادے کی محل سرائے قدیم میں ہم جائیں، ماہ طلعت سے ملاقات کر آئیں۔ بادشاہ نے فرمایا: وہ عورت بد بخت سخت منہ پھٹ، بڑھ بولی، فضول ہے؛ اسے شرمندہ کرنے سے کیا حصول ہے۔ میاں مٹھو بھی حاضر تھے، بول اٹھے: قبلۂ عالم ! یگانگت مقتضیٔ ملاقات خواہ نخواہ ہے، باہم رہ و رسم بڑھے گی، مدارات ہوگی، خفت و ذلت کی کیا بات ہو گی۔ بادشاہ چپ ہو رہا۔ شہزادیوں نے سواری طلب کی۔ طائرِ پرّاں نے پیش قدمی کر کے ماہ طلعت کو سلام کیا۔ اس نے سر جھکا لیا۔ یکایک سواریاں پہنچیں۔ اس وقت وہ بیچاری خفت کی ماری اٹھی، استقبال کیا۔ دونوں نے گلے سے لگایا، مسند پر جا بیٹھیں۔

ملکہ بڑی مقرر، خوش بیاں تھی؛ انجمن آرا نِموہی بے زباں تھی؛ سلسلۂ کلام بہ دل داریٔ تمام کھولا کہ ہماری جانب اور گمان نہ لانا، ہم بہر حال شریکِ بشاشت، مونسِ رنج و ملال ہیں۔ توتا انجمن آرا کے سامنے آیا،  پھر ماہ طلعت سے کہا: غریب نواز ! اتنا زبان مبارک سے فرماؤ کہ آج سچا کون ہے، جھوٹے کے منہ میں کیا ہے ؟ اور تو کیا کہوں، آپ کی کج بحثی کے باعث جان عالم کے ہاتھ یہ لوگ مہر جبیں، ماہ سیما آئے، گو اتنا چکر ہوا؛ میرے سبب آپ کو ندامت ہوئی، جھوٹے کے منہ میں گھی شکر ہوا۔

انجمن آرا تو سیدھی، بھولی تھی؛ توتے سے بد مزہ ہوئی، فرمایا: دیوانے! کیا بیہودہ بکتا ہے ! بے حکم خدا کسی سے کیا ہو سکتا ہے ! پھر ماہ طلعت سے کہا : سنو میری جان ! یہ جانور بے شعور، عقل سے دور، حیوانیت سے مجبور ہے۔ دنیا کا کارخانہ فسانہ ہے۔ رہا یہ حسن و خوبیٔ عارض، عارضی شےہے، اس پر کیا اِترانا ہے! یہ کیفیت، یہ جوبن، یہ سِن؛ چار دن کا ہے ناپائیدار،اس کا کیا اعتبار ! رنگِ چمنِ دنیا جاوداں نہیں۔ کون سی بہار ہے جسے دغدغۂ خزاں نہیں۔ حسن پر غرور بے جا ہے، سرورؔ یہ کہتا ہے، شعر:

بہتا دریا ہے یہ حسن،اس میں ارے دھولے ہاتھ
بے خبر اتنا ہے کیوں بر سر ساحل بیٹھا

کُلُّ مَن عَلَیهــــا فانٍ وَیَبقی وَجهُ ربِّكَ ذُو الجَـــلالِ والإکرام۔

نظر پڑا چمن دہر میں جو ہم کو مکاں
ہمارے زعم میں اس سا کوئی نہیں ناداں
شکستہ رنگیٔ گل شاہدِ چمن ہے یہاں
ہزار خوار ہوئی دیکھی بلبلِ نالاں
جو اپنے حسنِ دو روزہ پہ کچھ ہوا نازاں
کہ اس بہار کا انجام آخرش ہے خزاں

گھمنڈ اس پہ، حماقت کی بس نشانی ہے
مقام عبرت و حیرت سرائے فانی ہے

آخرکار دونوں نے ماہ طلعت کو شیریں بیانی اور اپنی خوش زبانی سے شگفتہ خاطر، خنداں رو کیا، معاملہ یک سو کیا۔ دو چار گھڑی ہنسی خوشی، اختلاط رہا؛ مگر توتا نوک چوک، چھیڑ چھاڑ کیے گیا۔ پھر رخصت ہوئیں۔ اس نے حاضر ہونے کا وعدہ کیا۔ واقعی جنھیں اللہ حسنِ بے مثال، مرتبۂ جاہ و جلال دیتا ہے؛ ان لوگوں کا دلِ صفا منزل غبارِ کلفت اورعجب و نَخوت سے صاف اور مِرآتِ سینہ زنگِ حسد و کینہ سے شفاف ہوتا ہے۔القصّہ، باہم بے رنج و الم رہنے لگے۔شب شاد، ہر روز خنداں، خرم و فرحاں بسر کرنے لگے۔ نئے سر سے وہ اُجڑا ہوا شہر بسا۔ بِنائے ظلم و ستم منہدم ہوئی۔مُروّج عدل و دَاد ہوا۔دونا سابق سے حال میں آباد ہوا۔خزاں چمن سے دور ہوئی۔بلبلِ نالاں چہچہے کرنے لگی، مسرور ہوئی۔

ایک روز جانِ عالم نے تمام خلقت کو دَرِ شہر پناہ پر طلب کر کے، وہ بکری کا بچہ دکھا، نمک حرامیاں اُس کی سنا، جلاد سے حکم کیا: اس کے اعضا اعضا سے جدا، بے دست و پا کر کے، زاغ و زغن کو، گوشت کی بوٹیاں اُڑا کر، کھلا دو۔ شکاری کتوں کو، لہو اس کا بہا کر، چٹا دو۔ بہ مجرّد فرمان اسی آن بند بند تیغِ تیز سے جدا ہو گیا۔ ایک عالم یہ سانحہ سن کے حیرت کا مبتلا ہوگیا۔ سب نے اس بے دین پر لعنت و نفریں کی۔ جان عالم نے دولت سرا کی راہ لی۔ اسی روز فیروز شاہ نے تاج وتخت بیٹے کو حوالے کیا، خود گوشۂ تنہائی لیا۔ بادشاہ شب اپنی عبادت اور بیداری میں سحر کرتا تھا؛  وہ تو قائمُ الّیل، صائمُ النہار مشہور ہوا۔ جان عالم ہر روز تخت پر جلوہ افروز ہو، عدل کی داد دے کے، شب کو پری پیکروں میں بسر کرتا تھا؛ یہ عادل و سخی، رحیم و شجاع یکتائے روزگار مشہور ہوا۔ ذکر دونوں کا تا قیامِ قیامت صفحۂ روزگار، ورقِ لیل و نہار پر اور بَرزَبانِ یگانہ و بیگانہ رہا۔بات باقی رہ گئی، نہیں تو دورِ دوراں میں کس کا دَور رہا، کس کا زمانہ رہا !

جس طرح جانِ عالم کے مطلب ملے،اسی طرح کل عالم کی مراد اور تمنائے دلی اللہ دے۔ علی الخصوص سامعین، ناظرین، راقم و مولف کی خواہش و آرزو بہ تصدّقِ رسولِ عَربی بَر آئے۔ بِحُــرمَةِ النِــبیّ وَآلِهِ الأمجــاد بالنُونِ وَالصَاد۔  بہ اسباب ظاہر یہ فسانہ ہے، نادرِ زمانہ ہے، مضمونِ چکیدۂ دل و تحریرِ خامہ ہے؛ اگر دیدۂ غور و نظرِ تامل سے مُلاحظہ کرو تو حقیقت میں کارنامہ ہے۔ مولف:

گلزار کو جہاں کے ہم نے بہ غور دیکھا
اک رنگ پر نہیں ہے رنگین اس کا نقشہ
روتی چمن میں شبنم، ہنسنے پہ ہے گلوں کے
دیکھا بہ چشمِ عبرت ہم نے طلسمِ دنیا
پابند یاں نہ ہوئے، جس کو کہ عقل کچھ ہو
آتی صدا جرس سے کانوں میں ہے یہ پیہم
ازبہرِ پنجتن تو سن لے دعا یہ خالق!
اہلِ دَوَل کا مجھ کو محتاج تو نہ کرنا
کعبہ بھی اور مدینہ دکھلا سرورؔ کو تو
کیابےثبات، ہے ہے ! دلچسپ یہ مکاں ہے
ہے فصلِ گل کبھی تو گہ موسمِ خزاں ہے
نالے سے بلبلوں کے جو گل ہے، شادماں ہے
رشکِ حباب شبنم واللّہ بے گماں ہے
دُنیا ہے نام جس کا، وہ قحبۂ جہاں ہے
غافل عبث ہو، رَو میں یاروں کا کارواں ہے
جو ہے نہاں جہاں میں،تجھ پر وہ سب عیاں ہے
احسان کا بار اُن کے مجھ کو بہت گراں ہے
وہ مدعائے دل ہے، یہ آرزوئے جاں ہے

تاریخ مولف:

جس نے کہ سنا اس کو، یہ کہنے لگا دل میں
تاریخ سرورؔ اِس کی منظور ہوئی جس دم
١٢٤٠

یارب یہ فسانہ ہے یا سحر ہے بابِل کا
بے ساختہ جی بولا “نشتر ہے رگِ دل کا”

جس دم یہ کہانی تمام ہوئی،  بہ طریقِ اصلاح جناب قبلہ و کعبہ آغا نوازش حسین خاں صاحب،  عرف مرزا خانی،  متخلص بہ نوازش کی نظرِ فیض اثر سے گزری؛  اس تاریخ سے زینت بخشی:  قطعۂ استاد:

برای خاطرِ یاران و احباب
بجستم سالِ تاریخش نوازشؔ
١٢٤٠

سُرورؔ ایں قصہ را چوں کرد ایجاد
فلک ایں “گلستانِ بے خزاں داد”

یہ فسانہ رائج جو ہوا؛ بندے کے دوست تھے نیک سیرت، ستودہ صفات، خجستہ افعال، اکملِ ہر کمال، تعلّقِ دہر سے مِثلِ سرو آزاد لالہ دُرگا پرشاد۔  ہنربیں، عیب پوش، تخلّص مدہوش ۔ خمِ محبت سے مے الفت جوش میں آئی،  یہ تاریخِ مستانہ زیبِ فسانہ فرمائی، مدہوشؔ:

کہا فسانہ جو یہ عجائب سرورِؔ دل خستہ و حزیں نے
کہ جس کی تاثیر سے بیاں کی، ہر ایک دل بے قرار دیکھا
جہاں پہ کچھ گُل کی گفتگو ہے، وہاں پہ کچھ اور رنگ و بو ہے
جہاں خزاں کی خلش ہے اس میں، وہاں پہ کیا کیا نہ خار دیکھا
جہاں کیا غم نے ہے جگر خوں، نظر پڑا واں شفق کا عالم
کہیں جو ہے داغ دل کا پھولا،  تو اس جگہ لالہ زار دیکھا
کہیں جو چشمے کا ماجرا ہے،  دکھائی وہ آب و تاب اس نے
کہ چشمۂ چشم سے ہر اک کے رواں ہوا چشمہ سار دیکھا
کہیں جو دریا کا ذکر آیا،  تو کشتیٔ دل ہے نذرِ طوفاں
جو کوہ نے سر کہیں اٹھایا، تو جان کو سنگسار دیکھا
ہوا ہے جس جس جگہ پر اس میں بیانِ سحر و طِلسم و جادو
تو قدرتِ حق سے اس مکاں پر نئی طرح کا حصار دیکھا
جو قید میں دیو کی پھنسا ہے کسی جگہ پر کوئی پری رو
تو کیا نہ سامان چھوٹنے کا وہاں پہ  بر روئے کار دیکھا
جہاں لکھا اس فسانہ پیرا نے حال کچھ رنج و بے کسی کا
وہاں پہ ہمدم نہ کوئی پایا،  نہ کوئی مونس، نہ یار دیکھا
کسی جگہ پر جو جوگ آسن کا جوگیوں کے بیاں ہے اس میں
جو خوب چھانا،  تو اس جگہ کچھ نہ غیر مُشتِ غُبار دیکھا
شکستگىٔ بیاں کے آگے تو زرد ہے رنگ زعفراں کو
جہاں ہے کچھ روپ بستگی کا،  وہاں پہ دل کو فشار دیکھا
کہیں جو آمد کی یار کی کچھ خبر کا چرچا کیا ہے اُس نے
تو دیدہ ہر اہل دید کا واں پہ وقفِ صد انتظار دیکھا
جو وصل کی شب کا کچھ بیاں ہے، تو جمع ہے خاطرِ پریشاں
جو روزِ ہجراں کا غم لکھا ہے،  تو دل کو کیا انتشار دیکھا
جو بزم کا کچھ بیاں کیا ہے،  تو کوئی مجلس نہ دیکھی ایسی
جہاں پہ کچھ رزم کا بیاں ہے،  ہر اک کو اسفندیار دیکھا
جہاں سخاوت کا کچھ بیاں ہے،  نہ پوچھ احوال واں کا مجھ سے
کہ حاصلِ بحر و کانِ عالم کو ایک دم میں نثار دیکھا
کہیں کھنچی ہے جو تیغِ ابرو، تو ہو گئے دل کے ٹکڑے ٹکڑے
کہیں جو تیرِ نگاہ چھوٹا، تو صاف سینے کے پار دیکھا
خرابیٔ حالِ عاشق ایسی، کہ جس پہ رونا فلک کو آوے
کہیں یہ معشوق کی ہے خوبی کہ ملک تک زرنگار دیکھا
نہ پوچھو حال اس فسانے کا تم کہ ڈھنگ کیا کیا بھرے ہیں اس میں
جو حسن دیکھا تو زور دیکھا، جو عشق دیکھا تو زار دیکھا
ہوئی جو مدہوشؔ کو یہ خواہش کہ سالِ تاریخ اِس کا لکھیے

١٢٤٦
٦

تو کھینچ کر “آہ” دل سے نکلا “خزاں سے رنگِ بہار دیکھا”

١۔محققین سرور سلطانی کو شمشیر خانی کا ترجمہ تسلیم نہیں کرتے۔ (Yethrosh)

ختم شد

یہ کتاب اردو گاہ اور مجلسِ برقی اشاعتِ ادبیاتِ عالیہ کے تعاون سے پیش کی گئی ہے۔
یہ کتاب اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!