قسطوں میں خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے

تحت اللفظ

اک پل میں اک صدی کا مزہ ہم سے پوچھیے
دو دن کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے

بھولے ہیں رفتہ رفتہ انھیں مدتوں میں ہم
قسطوں میں خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے

آغازِ عاشقی کا مزہ آپ جانیے
انجامِ عاشقی کا مزہ ہم سے پوچھیے

جلتے دیوں میں جلتے گھروں جیسی ضو کہاں
سرکار روشنی کا مزہ ہم سے پوچھیے

وہ جان ہی گئے کہ ہمیں ان سے پیار ہے
آنکھوں کی مخبری کا مزہ ہم سے پوچھیے

ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح
ہنسیے مگر ہنسی کا مزہ ہم سے پوچھیے

ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمارؔ
توہینِ مے کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ