تنگ ندی کے تڑپتے ہوئے پانی کی طرح
ہم نے ڈالی ہے نئی ایک روانی کی طرح
ڈھلتے ڈھلتے بھی غضب ڈھائے گیا ہجر کا دن
کسی کافر کی جنوں خیز جوانی کی طرح
ایسی وحشت کا برا ہو کہ ہم اپنے گھر سے
گم ہوئے خود بھی محبت کی نشانی کی طرح
ننگے سچ قابلِ برداشت کہاں ہوتے ہیں
واقعہ کہیے تو کہیے گا کہانی کی طرح
ساتھ رکھیں تو ملال آگ لگائیں تو ملال
دل بھی ہے کیا کسی تصویر پرانی کی طرح
عشق ہے مدرسۂِ زیست کی اکھڑی ہوئی اینٹ
ہمہ دانی کی طرح، ہیچ مدانی کی طرح
یہ غزل حضرتِ راحیلؔ کی ہے دھیان رہے
آپ پوشیدہ ہیں لفظوں میں معانی کی طرح
3 خیالات ”تنگ ندی کے تڑپتے ہوئے پانی کی طرح“ پر
کمال کی غزل ہے سر ۔۔ بہت بہت زبردست
ڈھلتے ڈھلتے بھی غضب ڈھائے گیا ہجر کا دن
کسی کافر کی جنوں خیز جوانی کی طرح
واہ
آپ کی تشریف آوری اور محبت کا شکرگزار ہوں، بھائی۔
سلامت باشید۔ 🙂
کمال است کیا کہنے ہر ایک شعر خوبصورت واہ واہ