عاشقی کام ہے اور کام بھی آسان نہیں
خیر بھی گزرے تو یا دل نہیں یا جان نہیں
گو کسی اور کا ہونے کا اب امکان نہیں
حسن کی داد نہ دے عشق کی یہ شان نہیں
ہم مسافر نہیں ہم بےسروسامان نہیں
وحشتیں دشت میں گھر رکھتی ہیں مہمان نہیں
گو مجھے عرض تمنا کا کم ارمان نہیں
آپ خود بھی تو مرے حال سے انجان نہیں
رو دیے خود بھی جہاں روتے کسی کو دیکھا
درد کو اپنے پرائے کی بھی پہچان نہیں
بےخودی کا ہے وہ عالم کہ تجھے کیا روئیں
یاد خود کو بھی کوئی وعدہ و پیمان نہیں
یہ ہے تنقید کی حکمت کہ ادب ایک طرف
اب کسی چائے کی پیالی میں بھی طوفان نہیں
ہم جسے دیکھتے ہیں اس میں تجھے دیکھتے ہیں
حسن والوں پہ بھی کچھ کم ترے احسان نہیں
مکہ میں شوق سے داروغے رکھیں آلِ سعود
دل کے کعبے کا تو وہ آپ بھی دربان نہیں
ہائے راحیلؔ کی غزلوں کے پرخچے نہ اڑا
یہ ترے چاہنے والے کا گریبان نہیں
3 خیالات ”عاشقی کام ہے اور کام بھی آسان نہیں“ پر
مکہ میں شوق سے داروغے رکھیں آلِ سعود
دل کے کعبے کا تو وہ آپ بھی دربان نہیں
لوجواب بہت شاندار
ہائے راحیلؔ کی غزلوں کے پرخچے نہ اڑا
یہ ترے چاہنے والے کا گریبان نہیں
واہ راحٰل بھیا ۔ کیا خوب غزل ہے ۔ سلامت رہیں
محفل پر شیرنگ کی اجازت درکار ہے حضور ۔ مہربانی فرمائیں ۔
حضور، یہ اجازت والا مذاق کب سے چل نکلا ہم میں؟
بندہ نوازی ہے سکور کی ۔ آئندہ خاکسار محتاط رہے گا ۔