دھماکا

23 فروری 2017 ء

زندگی کیا ہے؟ تماشا و تفنن ہی تو ہے
کس قدر مضحکہ انگیز ہیں اس کھیل میں ہم
میری اوقات ہے کیا اور ہے کیا تیری بساط
مجھے اس بات کا دکھ ہے تجھے اس بات کا دکھ

بھوک جو تجھ کو رلاتی ہے مجھے بھی ہے بہت
ہے مجھے خون کے رشتوں کے بدل جانے کا غم
نفرت اس رنگ سے لگتا ہے تجھے بھی ہے بہت
سالِ نو سے بھی تھی دونوں کو تمنائے نشاط
یہی امید کہ بھر پائے گا پیٹ اب کے برس
پر اب امید کی بلبل وہ نوا سنج کہاں
پھر ہمی دونوں پہ موقوف بھی یہ رنج کہاں

بین کرتے ہوئے روتے ہوئے لمحات کا دکھ
سب کو ہے ہر کہ و مہ ہر کس و ناکس کو ہے
گندے نالوں میں پڑے رینگنے والے کیڑے
عمر بھر گندگئِ زیست میں سڑنے والے
ان سے آغاز کر اور اہلِ دَوَل تک گن جا
جن کی حشمت پہ تجھے اور مجھے رشک آتا ہے
آسمانوں کو زقندوں میں جکڑنے والے
جن کے پیروں تلے اِفلاس کچل جاتا ہے
جن کی جھولی میں مقدر کا دیا ہُن ہی تو ہے
کوئی بھی خوش نہیں کم بخت کوئی بھی تو نہیں
پاس سے دیکھ ذرا خیر سے ہر آنکھ ہے نم
ہے فضا دہر کی وہ رشکِ جہنم کہ یہاں
عیش جُرّے کو میسر ہے نہ کرگس کو ہے

زندگی سخت ہے اے دوست! نہایت ہی سخت
ہم جواں سال ہیں آ ہم اسے آسان کریں
جو ترے ذہن میں ترکیب ہے کیا اچھی ہے
خود پہ احسان کریں لوگوں پہ احسان کریں
چل مرے دوست میں تیار ہوں بسم اللہ کر
بلکہ تیار تو سب لوگ ہیں ڈر جاتے ہیں بس

آ مری جان بہت دیر ہوئی پڑھ کلمہ

ہے جہاں سوختنی آگ لگا دے اس کو
جو بھی رنجش ہے دھماکے سے اڑا دے اس کو

۲۴ فروری ۲۰۱۷ء​

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!