شہر والی

اردو شاعری

ہونٹ کانپے تھے ہاتھ چھوٹا تھا
دل چھناکے کے ساتھ ٹوٹا تھا

تیرے گالوں پہ جم گئے آنسو
میری آنکھوں میں وقت ٹھیر گیا
یہ نشانی بھی یادگار رہی
ناؤ ڈوبی تو تختہ تیر گیا

دل میں تاریکیاں اتر آئیں
شہر کے قمقمے دمکتے رہے
آہ سینے میں گھٹ گئی لیکن
شہر کے ولولے چہکتے رہے

سوگ تھے اور کوئی شخص نہ تھا
روگ تھے اور کوئی شخص نہ تھا
زندگی لٹ رہی تھی میلے میں
لوگ تھے اور کوئی شخص نہ تھا

کہ جو ماتم کرے محبت کا
نوحہ لکھے پرائی قسمت کا

جس نے تجھ کو پلٹ کے دیکھا ہو
جس نے مجھ پر نگاہ ڈالی ہو
ہاتھ کوئی تھپکنے والا ہو
یا کوئی آنکھ رونے والی ہو

بڑے شہروں کی خیر ہو لیکن
اندھے بہروں کی خیر ہو لیکن

ایسے دیہات میں نہیں ہوتا
عورتیں سینہ پیٹتی ہیں یہاں
جانے والوں کے پاؤں پڑتی ہیں
گھر کی جانب گھسیٹتی ہیں یہاں

اور جاہل گنوار قسم کے مرد
روتے ہیں مار مار کر دھاڑیں
ہاتھ رکھتے ہیں یار مونہوں پر
ورنہ افلاک کا جگر پھاڑیں

غم میں اک دوسرے کے روتے ہیں
لوگ لوگوں کے پاس ہوتے ہیں

کیا ستم ہے کہ تھے تو دیہاتی
ہم مگر ایک شہر میں بچھڑے
وہ جو معراج ہے تمدن کی
اس ترقی کی لہر میں بچھڑے

بڑے شہروں سے خوف آتا ہے
ایسی لہروں سے خوف آتا ہے

زندگی جاگتی ہے شہروں میں
رات بھر رات ہو نہیں سکتی
ہانپ جاتا ہے دوڑ دوڑ کے وقت
پیار کی بات ہو نہیں سکتی

شہر میں راستے تو ہوتے ہیں
شہر میں منزلیں نہیں ہوتیں
آسماں نے انھیں فریب دیا
کاش یہ بستیاں زمیں ہوتیں

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ