جان واری ہے جہاں دل بھی تو ہارا ہو گا

اردو شاعری

جان واری ہے جہاں دل بھی تو ہارا ہو گا
اس طرح خلد میں کیا خاک گزارا ہو گا

یہی یاری ہے کہ تو ایک زمانے کا ہے یار
ہم بھی دو چار کے ہو جائیں گوارا ہو گا

ہجر کی رات کوئی کام تو ہوتا نہیں اور
سوچتے ہیں کہ کوئی تجھ سے بھی پیارا ہو گا

محتسب خاک دھرے گا ہمیں میخانے میں
ہم تو ہوں گے ہی وہاں شہر بھی سارا ہو گا

کون کرتا ہے ترے عشق کی تہمت کا دفاع
جس پہ الزام لگے گا اسے یارا ہو گا

سن کے راحیلؔ کے اشعار وہ فرماتے ہیں
نہ سہی کام کا شاعر تو بچارا ہو گا

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ