نیزہ ہے تیر ہے کہ گولی ہے

اردو شاعری

نیزہ ہے تیر ہے کہ گولی ہے
کہ ستمگر نے آنکھ کھولی ہے

وہ جو مہمان تھا گھڑی بھر کا
زندگی اس کے ساتھ ہو لی ہے

ریزہ ریزہ نہ ہو تو کیا سمجھو
ریختہ اہلِ دل کی بولی ہے

اب یہ آنسو ترے حوالے ہیں
ہم نے جائے نماز دھو لی ہے

بوجھ ہے آس ہے امیدیں ہیں
زندگی کس دلھن کی ڈولی ہے

تم جنوں کو جنوں سمجھ بیٹھے
تیز ہے عشق عقل بھولی ہے

عشق کا پردہ بھی کوئی کمبخت
کسی شعلہ بدن کی چولی ہے

چپ نہیں بیٹھے اہلِ دل راحیلؔ
ہر نظر میں زباں پرو لی ہے

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ