میں نے درد سے پیار کیا ہے

میں نے درد سے پیار کیا ہے
تجھ جیسوں کو یار کیا ہے

قہقہہ سب کے سامنے مارا
گریہ پسِ دیوار کیا ہے

آہ بھری ہے ہولے ہولے
تیر جگر کے پار کیا ہے

دنیا ہی کمبخت ہے جس نے
دنیا سے بیزار کیا ہے

مٹی کی اوقات نہ کچھ تھی
فتنہ کیا بیدار کیا ہے

کب انکار کیا ہے ہم نے
ہم نے کب انکار کیا ہے

جتنی بیت گئی ہے ہم پر
اتنا کب اظہار کیا ہے

جو بھی ہوا ہے ٹھیک ہوا ہے
جو بھی کیا بیکار کیا ہے

ہم سے تو ہو ہی کیا سکتا تھا
آپ نے کیا سرکار کیا ہے

راحیلؔ اس نے خدا ہو کر بھی
ہم سے کاروبار کیا ہے

راحیلؔ فاروق

راحیلؔ فاروق

راحیلؔ فاروق پاکستانی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر ہیں۔

فہرستِ کلام
یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

”میں نے درد سے پیار کیا ہے“ پر 1 عدد تبصرہ

آپ کیا فرماتے ہیں بیچ اس مراسلے کے؟