تو بھی غضب کی نازنیں میں بھی یگانہ آدمی

29 جنوری 2020 ء

تو بھی غضب کی نازنیں میں بھی یگانہ آدمی
عشق سے بچ سکیں کہیں جو نہ خدا نہ آدمی

ہائے ضمیر مر گیا وائے مرا نہ آدمی
آدمیوں کی بھیڑ میں ایک بھی تھا نہ آدمی

ایک فریب زندگی ایک فسانہ آدمی
مر کے مرا تو کیا مرا جی کے جیا نہ آدمی

مسئلہ خیر و شر نہیں مسئلہ اقتدار ہے
جنگ خدائیوں کی ہے اور بہانہ آدمی

دیر و حرم کے کھیل کا چکھے خدا بھی اب مزا
آدمی آدمی تو تھا وہ بھی رہا نہ آدمی

درد تو خیر درد ہے اس کی دوا بھی درد ہے
چارہ گری ہو یوں تو پھر روئے بھی کیا نہ آدمی

ایک میں دو چھپے ہیں یا دو میں چھپا ہوا ہے ایک
ایک زمانہ خود خدا ایک زمانہ آدمی

ایسی بھی کیا لطافتیں ایسی بھی کیا نزاکتیں
تجھ کو ترے جہان میں ڈھونڈ سکا نہ آدمی

دہلی و لکھنئو کا مان ایک ہراجؔ٭ کی زبان
عشق غزل سے پھر کرے کیسے بھلا نہ آدمی

 

٭ ضرورتِ شعری کے تحت تخلص کی بجائے لایا گیا۔ ہراج پنجابی راجپوتوں کی ایک قوم ہیں۔

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!