تمام رات گزر جائے گی سنانے میں

اردو شاعری

تمام رات گزر جائے گی سنانے میں
غزل سی بات نہ ہو پائے گی فسانے میں

یہ مصلحت ہے محبت کے ہر بہانے میں
کہ جان ہی نہ چلی جائے جان جانے میں

کسی نے قدر کسی کی نہ کی زمانے میں
نگار کون نہیں تھا نگار خانے میں

چنی ہیں ڈر نے سلاخیں بجائے تنکوں کے
قفس کا رنگ نمایاں ہے آشیانے میں

فریب خود کو بھی دیکھے ہیں دے کے لاکھ مگر
مزہ ہی اور ہے ان سے فریب کھانے میں

ہم آپ ہیں کہ لپکتے ہیں ہر تجلی کو
قصور ان کا نہیں بجلیاں گرانے میں

کھلا تو پول ہمارا کھلا سوالوں سے
خود آزمائے گئے ان کو آزمانے میں

غزال خوب سمجھتے ہیں یہ نوا راحیلؔ
غزل کی تان ہے الفت کے ہر ترانے میں

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ