گلے شکوے تو ہمیں ایک زمانے سے رہے

23 جولائی 2019 ء


گلے شکوے تو ہمیں ایک زمانے سے رہے
لب پہ اب نام تو ہر ایک کا لانے سے رہے

سر اٹھانے سے رہے آنکھ ملانے سے رہے
ہم کہ موجود ہی سجدے کے بہانے سے رہے

روز جاتے بھی رہے ڈرتے بھی جانے سے رہے
ایسی گلیوں میں بھلے لوگ تو آنے سے رہے

زندگی ہم کو گھسیٹے لیے جاتی ہے کہیں
اپنی لاش آپ ٹھکانے تو لگانے سے رہے

انھیں دو صدقہ و خیرات انھیں دو نذر و نیاز
مولوی لوگ ہیں دنیا تو کمانے سے رہے

شاعری کی سمجھ اللہ تجھے بخشے کہ ہم
کھل کے ہر بات تو محفل میں بتانے سے رہے

دشت آباد میں نقلی نہیں ملتی کوئی چیز
غم ہی کھائیں گے یہاں زہر تو کھانے سے رہے

سامنے ان کے ہیں اشعار ہمارے راحیلؔ
چیر کے دل تو انھیں ہم بھی دکھانے سے رہے

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ
عید مبارک - اردو گاہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!