تم سرِ کوہ طور ہی اچھے

5 جولائی 2019 ء

تم سرِ کوہ طور ہی اچھے
نور یہ ہے تو دور ہی اچھے

پاجی ان کے حضور ہی اچھے
عظمتوں سے قصور ہی اچھے

نکتے بین السطور ہی اچھے
جو ہیں وہ بے شعور ہی اچھے

اچھے اچھے ضرور ہی اچھے
ہم میں فسق و فجور ہی اچھے

یا تو جائے نہ قبر میں انسان
ورنہ اہلِ قبور ہی اچھے

ہیں جو اچھے تو کس لیے ہیں آپ
نیتوں میں فتور ہی اچھے

دل میاں اب قرار آیا ہے
آپ زخموں سے چور ہی اچھے

زندگی جھونکنی نہیں پڑتی
اس شکم سے تنور ہی اچھے

زندگی کو بھی جانتے ہیں ہم
عاشقی کے امور ہی اچھے

ہمیں روکیں نہ نازنینوں سے
شیخ مشتاقِ حور ہی اچھے

اہلِ دل ناصبور ہیں اچھا
اہلِ دل ناصبور ہی اچھے

بے سرا سچ ہے فلسفہ راحیلؔ
نغمہ ہائے زبور ہی اچھے

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!