شاعر مشاعروں کے اداکار ہو گئے
یہ بےوقوف کتنے سمجھدار ہو گئے
اس بےوفا کے شہر سے کیا کام تھا ہمیں
اس بےوفا کا سوچ کے تیار ہو گئے
زیبا نہیں انھیں کہ تجھے زندگی کہیں
جو زندگی کے نام سے بیزار ہو گئے
اب اپنے قول و فعل کے خود ذمہ دار ہیں
آزاد ہو گئے تو گرفتار ہو گئے
خود آئنہ ہو آئنہ کیا دیکھتے ہو تم
یوسف کہاں سے اپنے خریدار ہو گئے
مجنوں کا مرتبہ ہمیں تسلیم ہے مگر
اتنا تو ہم بھی تیرے لیے خوار ہو گئے
راحیلؔ یہ فضول خیالات تھے مگر
میرے قلم کی نوک پہ شہکار ہو گئے