سات پردوں سے تری جلوہ‌نمائی نہ گئی

اردو شاعری

سات پردوں سے تری جلوہ‌نمائی نہ گئی
دیکھ لی ہم نے وہ صورت جو دکھائی نہ گئی

داستاں ہجر کی کچھ یوں بھی ہوئی طولانی
سنی ان سے نہ گئی ہم سے سنائی نہ گئی

کیا ہوا دل کے سمندر کا تلاطم جانے
ایک مدت سے تری یاد نہ آئی نہ گئی

ذکر اچانک ہی چھڑا اور قیامت کا چھڑا
مسکرایا نہ گیا بات بنائی نہ گئی

درد مندی نے کیے فاصلے آفاق کے طے
آہ پہنچی ہے جہاں آبلہ پائی نہ گئی

فرقتوں کی یہی دیوار بلا ہے یا رب
کل اٹھائے نہ اٹھی آج گرائی نہ گئی

دل وہ بھنورا ہے کہ نچلا نہیں بیٹھا دم بھر
دکھ وہ سرسوں کہ ہتھیلی پہ جمائی نہ گئی

دل سلگتا ہی رہا آنکھ برستی ہی رہی
ایک چنگاری ہی ساون سے بجھائی نہ گئی

عشق میں حسن ہے یا حسن میں ہے عشق نہاں
وہ نظر مجھ سے پلٹ کر سوئے آئینہ گئی

دل کے آنے ہی میں چیں بول گئے راحیلؔ آپ
اتنی تکلیف بھی حضرت سے اٹھائی نہ گئی

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ