اہلِ خرد کی منطق انھی کا کمال ہے

13 اپریل 2019 ء

اہلِ خرد کی منطق انھی کا کمال ہے
جس کو جواب کہتے ہیں اس کا سوال ہے

باتوں کی ریل پیل ہے بھیدوں کا کال ہے
نقد و نظر کی خیر کہ ردی کا مال ہے

دیکھا بڑے بڑوں کا عروج و زوال ہے
لیکن نہ پوچھ دل کا جو ہجراں میں حال ہے

اے تو کہ تجھ کو گزرے ہوؤں کا ملال ہے
ایک ان دنوں بھی شہر میں مائی کا لال ہے

منبر کا ایک درس ہی کافی ہے ساقیا
جب زندگی حرام ہو سب کچھ حلال ہے

غارت ہوئے ہیں آپ سے پہلے بھی آپ سے
جس کو چلن سمجھتے ہیں صاحب وہ چال ہے

تقدیر کے مذاق پہ ہنسنا نہیں محال
روتے ہوؤں کے سامنے ہنسنا محال ہے

آ ایک دوسرے کو سنبھالیں کہ عشق کا
آدھا نشہ جنون ہے آدھا جمال ہے

اچھے رہے وہ لوگ جو پی کر بہک گئے
سرمایۂِ فقیہ فقط قیل و قال ہے

دل آپ کا ہے آپ کے دل میں جو آ گیا
ہم تو یہی کہیں گے کہ اچھا خیال ہے

ان کے کرم سے شکوہ ہے راحیلؔ شکر ہے
یہ بھی کرم ہے ورنہ ہماری مجال ہے

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!