ظفرؔ اقبال کو غزلیں مری دکھلاؤ کوئی

25 دسمبر 2018 ء

ظفرؔ اقبال کو غزلیں مری دکھلاؤ کوئی
بھید پا جائے کوئی یاد کرے بھاؤ کوئی

بے گھری بھول گئی یہ بھی کہ کیا بھول گئی
خانہ ویران کو ویرانہ گھما لاؤ کوئی

زندگی جو بھی ہے آخر کو بسر کرنی ہے
ہم تو ڈرتے ہیں ڈرانے سے نہ ڈر جاؤ کوئی

دل جلا ایک ہے یہ مشرقیوں میں باقی
چال افلاک کی سورج کو بھی سکھلاؤ کوئی

مجھے دعویٰ نہ سخن کا نہ سخن فہمی کا
پر مرے سامنے دعویٰ بھی نہ فرماؤ کوئی

پڑ گیا ڈھول گلے میں تو بجاتا تو ہوں
مجھ سے لیکن مجھے کچھ دور ہی لے جاؤ کوئی

رہگزر بھی ہے جہانِ گزراں رہزن بھی
پیچ کمبخت کا راحیلؔ کوئی داؤ کوئی

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ