بات کو کچھ ثبات ہے ہی نہیں

اردو شاعری

بات کو کچھ ثبات ہے ہی نہیں
بات یہ ہے کہ بات ہے ہی نہیں

زندگی سے نجات ہے ہی نہیں
کیا مریں جب وفات ہے ہی نہیں

یا یہ جینا حیات ہے ہی نہیں
یا مری ذات ذات ہے ہی نہیں

کیا مزہ ہے کہ التفات تو ہے
وعدۂِ التفات ہے ہی نہیں

میں سما پا نہیں رہا اس میں
یہ مری کائنات ہے ہی نہیں

پڑ رہیں تو تمام اندھیرا ہے
آنکھ کھولیں تو رات ہے ہی نہیں

عشق ہارے تو حوصلہ ہارے
ورنہ بازی تو مات ہے ہی نہیں

لٹ چکے تو خبر ہوئی راحیلؔ
یہ تو وہ واردات ہے ہی نہیں

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ