ہونٹ پہ انگلی رکھ لے دیدۂِ نم سے سچا کوئی نہیں

اردو شاعری

ہونٹ پہ انگلی رکھ لے دیدۂِ نم سے سچا کوئی نہیں
دل کی محرم آنکھ ہے اور محرم سے سچا کوئی نہیں

آپ سے جھوٹا کوئی نہیں اور ہم سے سچا کوئی نہیں
عشق بھی سچا ہو گا لیکن غم سے سچا کوئی نہیں

ان کو کیا معلوم کمر کس بوجھ سے ٹوٹی جاتی ہے
تیرے کاتب جھوٹے ہیں آدم سے سچا کوئی نہیں

مایا ہے سب دھوکا ہے سب پھندا ہے سب جھانسا ہے
پرلے درجے کے جھوٹے عالم سے سچا کوئی نہیں

زخمی کو سمجھاؤ ہر درمان دوا کب ہوتا ہے
زخم بھی سچے ہوں گے مگر مرہم سے سچا کوئی نہیں

کانٹے دکھی ہیں کلیاں کس دھوکے میں آ کر کھل اٹھیں
وقت سے جھوٹا کوئی نہیں موسم سے سچا کوئی نہیں

آنکھ ملا کر بات نہیں کی آج تک اس نے مجھ سے کبھی
سچ یہ ہے راحیلؔ مرے ہمدم سے سچا کوئی نہیں

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ