چل رہا ہے قلم زمانے کا

18 اکتوبر 2018 ء

چل رہا ہے قلم زمانے کا
تم تو عنوان تھے فسانے کا

ہم نے جانا کہ ہم میں بھی کچھ ہے
شکریہ صبر آزمانے کا

آ بسے ہو دلوں میں دنیا کے
گھر نہیں مل سکا ٹھکانے کا

پہلے تھی آرزو خزانے کی
پھر پتا مل گیا خزانے کا

نہ کر اتنا حسد نگاروں سے
تو خدا ہے نگارخانے کا

سننے والا کوئی نہیں تھا آج
آج لطف آ گیا سنانے کا

شیخ کو آرزو شفاعت کی
بن پیے شوق ڈگمگانے کا

تیری آنکھوں کی روشنی کی قسم
عشق ہے نام دل جلانے کا

عشق نے ہونٹ سی لیے راحیلؔ
فیصلہ ہو گیا نبھانے کا

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

اردو شاعری

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!