عشق کا شاخسانہ وہ خود ہیں

6 اگست 2018 ء

عشق کا شاخسانہ وہ خود ہیں
تیر خود ہیں نشانہ وہ خود ہیں

ناقہ خود تازیانہ وہ خود ہیں
خود ہیں منزل روانہ وہ خود ہیں

بزم خود ہیں فسانہ وہ خود ہیں
شمع میں ہوں زبانہ وہ خود ہیں

نوحہ و شادیانہ وہ خود ہیں
ساز میں ہوں ترانہ وہ خود ہیں

خواب میں ہوں خزانہ وہ خود ہیں
میں ہوں خود آشنا نہ وہ خود ہیں

کس بہانے سے زندگی واروں
زندگی کا بہانہ وہ خود ہیں

حسن خود میں کہاں سماتا ہے
بےخودی میں یگانہ وہ خود ہیں

میں انھیں ڈھونڈتا پھرا ناحق
تکیہ و آستانہ وہ خود ہیں

ہم تو صیاد جانتے تھے انھیں
قفس و آشیانہ وہ خود ہیں

اک تڑپ جاودانہ دل میں ہے
یہ تڑپ جاودانہ وہ خود ہیں

جن کا ہم انتخاب ہیں راحیلؔ
انتخابِ زمانہ وہ خود ہیں

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!