حیات مختصر اور قصۂِ حیات دراز

21 اپریل 2018 ء

حیات مختصر اور قصۂِ حیات دراز
قریب ہے کہ کھلے موت ہی پہ موت کا راز

خدا نے بندہ بنایا بتوں نے بندہ نواز
کسی کا آئنہ ہوں میں کسی کا آئنہ ساز

نماز کے ہیں سزاوار بندگانِ نیاز
جو آپ قبلہ و کعبہ ہو اس کی خاک نماز

دماغ ڈھونڈ کے لایا دلیل دل کے لیے
خرد کے ساز سے نکلی جنون کی آواز

مسافرانہ مسافر کی چاہیے گزران
نہ دوستی کی ضرورت نہ دشمنی کا جواز

مرا اثاثہ مری روح کا تلاطم ہے
تری متاع ترے جسم کے نشیب و فراز

کسی کو ہو کہ نہ ہو مجھ کو اعتراض نہیں
اٹھائے جائیں کسی اور سے اگر ترے ناز

وہ کس کی چاپ ہے کیا جانیے مگر راحیلؔ
کسی امید پہ ہے دیر سے درِ دل باز

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ