ہونے والی ہے بزمِ نو آغاز

اردو شاعری

ہونے والی ہے بزمِ نو آغاز
بج اٹھے ہیں سبھی سنے ہوئے ساز

عشق اکیسویں صدی میں ہے
وہی راہیں وہی نشیب و فراز

اس نے پھر سنگِ آستاں بدلا
ہم نے رکھ دی وہی جبینِ نیاز

دور تھا ہر کسی سے ہر کوئی
دی کسی نے قریب سے آواز

بندہ پرور کو یہ نہ تھا معلوم
بندے مانگیں گے بندگی کا جواز

عشق کرتے ہیں لوگ بھی راحیلؔ
ہم روایت شکن روایت ساز

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ