عشق ہو اور کوئی صورتِ اظہار نہ ہو

اردو شاعری

عشق ہو اور کوئی صورتِ اظہار نہ ہو
تُف ہے اسلوبِ غزل پر کہ فسوں کار نہ ہو

مزہ چکھ لے اسی دنیا میں اگر جنت کا
کون کافر ہے کہ ایمان سے بیزار نہ ہو

پھر تصور نے تراشے ترے بت شرک کیا
دید دشوار ہو پر اتنی بھی دشوار نہ ہو

کون سکھلائے سبق اس دلِ فتنہ جُو کو
اک ترا غم بھی اگر درپئے آزار نہ ہو

رہ گئے اب تو نہ ہونے کے برابر گو ہم
طبعِ نازک پہ تری یہ بھی کہیں بار نہ ہو

مجھے کچھ عار نہیں آپ کی البتہ ہے فکر
چاہتا ہوں کہ تماشا سرِ بازار نہ ہو

ہم گنہگار زمانے کو سمجھتے ہی نہیں
کوئی ہم سا بھی زمانے میں گنہگار نہ ہو

بیکرانی کوئی کس منہ سے بتائے اس کی
اپنی نیّا ہی محبت میں اگر پار نہ ہو

وہ بھی دل ہے کوئی جو جرمِ تمنا نہ کرے
وہ بھی دل ہے کوئی جو غم کا سزاوار نہ ہو

کیا ہے راحیلؔ اگر ہو نہ رسا نالۂِ دل
جنس انمول تبھی ہے کہ خریدار نہ ہو

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ