چارہ گر تُو تو ہمیں ہوش میں لے آئے گا

اردو شاعری

چارہ گر تُو تو ہمیں ہوش میں لے آئے گا
ہوش آئے گا تو کیا چین بھی آ جائے گا

پاؤں میں ہجر کی آپ اپنے کلھاڑی مت مار
میں تو مر جاؤں گا جی تو بھی نہیں پائے گا

اے دلِ آبلہ پا عقل کی مت جان کو آ
راہبر راستہ دیکھے گا تو دکھلائے گا

آپ مقتل سے تو لے آئے ہیں واپس مجھ کو
کیا ضمانت ہے کہ غم خون نہ تھکوائے گا

میرے مرنے سے کسی اور کا کیوں رزق ہو بند
پھر یہ غم خوار کسی اور کا غم کھائے گا

تیرے کوچے کے تو احوال پہنچتے ہیں ہمیں
شاید اپنی بھی خبر کچھ کبھی دل لائے گا

ایک چنگاری ہی صیاد کو دل سے دے دوں
آشیانے کو مرے آگ نہ لگوائے گا

ہاں ترے لطف سے نومید بھی ہو جاتا ہے
ابھی نادان ہے راحیلؔ سمجھ جائے گا

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ