خود ہی پوچھا خود ہی بولے کون ہے کوئی نہیں

29 دسمبر 2020 ء

خود ہی پوچھا خود ہی بولے کون ہے کوئی نہیں
دل دھڑک اٹھتا ہے آخر دل ہے اے کوئی نہیں

زندگی کے مرحلے ہیں منزلیں ہیں موت کی
طے ملاقاتیں ہیں لیکن وقت طے کوئی نہیں

کیا نکھر جاتا ہے منظر ایک ٹک رونے کے بعد
آنکھ والوں کے لیے غم جیسی شے کوئی نہیں

دل کو تھامے اس کی باتیں سن رہا ہوں ہائے ہائے
سر بکھرتے جا رہے ہیں اور لے کوئی نہیں

ساقیا دنیا میں حسن اور عشق دونوں ہیں مگر
مے کدے میں دینے والا بھر کے مے کوئی نہیں

کل تو کیکاؤس کے پیروں تلے روندی گئی
آج اسی مٹی تلے راحیلؔ کے کوئی نہیں

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ
عید مبارک - اردو گاہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!