حد ہی نہیں ہے ورنہ حد سے گزر نہ جائیں

6 نومبر 2017 ء

حد ہی نہیں ہے ورنہ حد سے گزر نہ جائیں
ہم عشق میں جئیں کیوں کچھ کھا کے مر نہ جائیں

اہلِ حرم ہمارے ایمان پر نہ جائیں
کاغذ کے بیل بوٹے خوشبو سے ڈر نہ جائیں

خلقت کی موت کے ہیں لاکھوں بہانے لیکن
یہ تہمتیں بھی ظالم تیرے ہی سر نہ جائیں

آنکھیں تو سیپیاں ہیں کیا آب سیپیوں کی
اے دیکھنا مگر تم موتی بکھر نہ جائیں

وہ بھی کوئی گلی ہے دل والے جس گلی میں
دل تھام کر نہ آئیں دل چھوڑ کر نہ جائیں

جنت بھی ہے جہاں میں دوزخ بھی ہے جہاں میں
زاہد اِدھر نہ آئیں عاشق اُدھر نہ جائیں

سانسوں کا بوجھ اٹھا لیں عشاق کو بہت ہے
ان راستوں پہ لے کر زادِ سفر نہ جائیں

راحیلؔ معجزے کی اتنی سی ہے حقیقت
وہ بار بار آئیں واپس مگر نہ جائیں

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!