کسے کل کے وعدے پہ بہلا رہے ہو

اردو شاعری

کسے کل کے وعدے پہ بہلا رہے ہو
ہمیں آج غم ہے کہ تم جا رہے ہو

نظر آنے والے تو تھے ہی نہیں تم
مجھے ہر جگہ کیوں نظر آ رہے ہو

نشہ مجھ سے پوچھے کوئی گفتگو کا
سمجھتا نہیں ہوں کہ کہہ کیا رہے ہو

بڑی دیر پچھتاؤ گے اب تو شاید
بڑی دیر کے بعد پچھتا رہے ہو

کریدو نہ پھر زخم پوچھو نہ کچھ بھی
کوئی دن تو تم بھی مسیحا رہے ہو

نہ ہو گی نہ شکوے کا موقع ملے گا
ملاقات کا وعدہ فرما رہے ہو

یہی تو ہے راحیلؔ منزل جنوں کی
پتا کھو رہے ہو خبر پا رہے ہو

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ