اوزانِ سباعی کو سمجھتے ہی نہیں
مقصودِ مساعی کو سمجھتے ہی نہیں
میں ہوں کہ مجھے صاف نہ کہنا آیا
تم ہو کہ رباعی کو سمجھتے ہی نہیں!
۲۰۰۶ء
اوزانِ سباعی کو سمجھتے ہی نہیں
مقصودِ مساعی کو سمجھتے ہی نہیں
میں ہوں کہ مجھے صاف نہ کہنا آیا
تم ہو کہ رباعی کو سمجھتے ہی نہیں!
۲۰۰۶ء
پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔
راحیلؔ فاروق کی شاعری۔ غزلیات، رباعیات، آزاد، معریٰ اور پابند نظمیں، دوہے، قطعات۔۔۔ سرگشتۂ خمارِ رسوم و قیود!