رباعی شمارۂِ ۸

18 نومبر 2018 ء

وہ مست ہوں میں کہ جام سے ہوں آزاد
ہوں عشق کا صید دام سے ہوں آزاد
مقصود مجھے دیر و حرم سے تو ہے
میں ورنہ ہر مقام سے ہوں آزاد

۱۸ نومبر، ۲۰۱۸ء

ماخوذ

مست تو ام از جُرعه و جام آزادم
مُرغ توام از دانه و دام آزادم
مقصود من از کعبه و بتخانه تویی
ورنه من ازین هر دو مقام آزادم

(خواجه عبدالله انصاری)

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!