مرقعِ زبان و بیانِ دہلی

مجلسِ برقی اشاعتِ ادبیاتِ عالیہ

بسلسلۂ اردو ادبِ عالیہ

مرقعِ زبان و بیانِ دہلی

فہرست

آغازِ کتاب

رسالۂ نذرِ آصف یعنی مرقعِ زبان و بیانِ دہلی

 

شکریہ

حضورِ اقدس و اعلیٰ سلطانِ دکن سلّمہ اللہ تعالیٰ

چونکہ میرا جدید وظیفہ عنایت بالائے عنایت پر بلا توسّل توجہ فرما کر مع اِجرائے منصبِ برخوردار سعادت اطوار دربار احمد طال عُمرُہ حضور لامع النور نے قومی زبان، علمی زبان، درباری زبان، مغلیہ خاندان کی یادگار، میری دائمی تصانیف متعلقۂ زبان و اخلاق و ادبِ اردو یعنی قومی خدمت جاریہ کے باعث یہ رتبہ، یہ عزت، یہ فخر عطا فرمایا کہ:

بے طلب جو ملا، ملا مجھ کوبے سبب جو دیا، دیا مجھ کو

تو یہ کب ہو سکتا ہے کہ میری کوئی سی تصنیف، کوئی سا مضمون اس شکریہ کے ادائے فرض سے آنکھ چرائے اور اس نمک حلالی کو کور نمکی کا پالا بنائے۔ ہارون رشید، مامون رشید کا ذکر تاریخوں میں پڑھا تھا، بغداد و قرطبہ کی علمی شان و شوکت کو سیاحوں کے سفر ناموں میں دیکھا تھا، حاتم کی فیاضانہ کہانیاں عربوں کی رگ رگ میں بسی ہوئی پائی تھیں، مگر خدا سلامت رکھے عالیجناب معلیٰ القاب نواب میر عثمان علی خاں بہادر کی ذات بابرکات، مجموعہ صفات کو کہ ان کی فیاضی، علمی قدردانی، ہر فن کی دستگیری، غربا پروری کو اپنے کانوں سے سنا، آنکھوں سے دیکھا، ہم نے خود برتا اور تمام خلائق کو اس برتاؤ کا مدّاح و ثنا خواں پایا۔ پس ہمارا مختصر پہلا نذرانہ باعتبارِ تحریر ما قلّ و دلّ بحالتِ اختصار و بلحاظِ تحقیق و نتائج زبان اُردو وغیرہ از حد وسیع ہے؛ نہایت عجز و انکسار اور کمال ادب سے “برگ سبز  است تحفہ درویش” پر عمل کر کے دست بستہ پیش کیا جاتا ہے:

پائے ملخے پیشِ سلیماں بُردنعیب است، لیکن ہنر است از مورے

اگر عمر نے وفا کی اور اللہ نے چاہا تو ضرور وفا کرے گی، نیز ساتھ ہی حصول سرمایہ نے دغا نہ دی تو اسی طرح لغات النساء، بچوں کا رکھ رکھاؤ، اخلاق النساء، رسالہ روزمرہ، رسالہ تفہیم المصادر، اُردو کا انوکھا قاعدہ مع طرز تعلیم بھی جن کے اکثر مسودوں کو فدوی نے قابلِ انطباع بنا دیا ہے، پبلک سے داد لے کر حضور اقدس و اعلیٰ کی نذر کرے گا بلکہ ہمیشہ کرتا رہے گا۔ اور ان شاءاللہ تعالیٰ وہ دن عنقریب آنے والا ہے کہ خدا تعالیٰ مجھے اور میرے کارکنانِ دفتر کو پاؤں پھیلا کر بیٹھنے کے واسطے ایک چھوٹا سا کمرہ بنوا دے گا:

کام رکنے کا نہیں اے دلِ ناداں کوئیخود بخود غیب سے ہو جائے گا ساماں کوئی

چنانچہ امید بستہ پکار پکار کر یہ شعر سنا رہی ہے:

افسردہ دل نہ ہو در رحمت نہیں ہے بندکس دن کھلا ہوا درِ شاہِ زماں نہیں

تاریخ تالیف

مرقع کی ترتیب ہجری جو دیکھیتو نکلی ہے نذرِ آصف بہادر

 

دہلی                                                                       سید احمد دہلوی

دسمبر  ١٩١٥؁ء                                                                                                                         مؤلف فرہنگ آصفیہ وغیرہ

دعا گوئے سلطنت ابد قیام حضورِ نظام خلدہ اللہ ملکہ

واہ رے تیری قدرت

خدا تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ تصنیف کدہ یعنی کمرۂ دفتر فرہنگِ آصفیہ اور اس کا خلوت کدہ نہایت خوشنما بن کر تیار ہو گیا۔ اس کمرہ پر اس کے نام کا پتھر بھی لگ گیا۔ صرف استرکاری، فرنیچر اور کواڑوں کی چوڑیاں باقی ہیں۔صدر دروازے کے لیے مصرع ذیل تجویز ہوا ہے، کیونکہ یہ سارا سلطنت آصفیہ کے دم قدم اور اس کی عام فیاضی کا ظہور ہے۔ مصر؏:

ہے نشانِ فیض عام دولت آصف یہاں

اگر چہ فرہنگ آصفیہ مقروض ہو گیا مگر یہ قرضہ خدا تعالیٰ عنقریب ادا کردے گا، کیونکہ سلطنت آصفیہ کے آثار قدیمہ کا ایک معزز ناظم بچشم خود دیکھ کر اس تعمیر کی نسبت اپنی چشم دید نہایت سچی رائے تحریر کر گیا ہے۔فقط                                                                           سید احمد دہلوی 28 مئی ١٩١٦؁ء

 

اردوئے دہلی کی سابقہ، موجودہ اور آئندہ حالت کی تصویر

یہ سوال دو رخہ پہلو رکھتا ہے۔ ایک گزشتہ حالت سے متعلق اور دوسرا موجودہ حالت سے۔ مگر جب تک پہلی حالت کا ذکر نہ کیا جائے، تصویر کا صرف ایک ہی رخ سامنے آتا اور دوسرا پردے میں چھپا رہتا ہے۔ چونکہ ایک رخی تصویر پورا پورا لطف و انداز نہیں دکھا سکتی، پس ہمارے نزدیک واجب ہے کہ اول اندھیرے رخ کا گھونگٹ اٹھایا جائے اور اس کے بعد رخ روشن سے آنکھیں سینکنے کا موقع دیا جائے۔ نیز اخیر میں وہ بھیانک صورت بھی دکھا دی جائے جو عنقریب پیش آنے والی اور ہمارا دل دُکھانے والی ہے۔ خدا وہ دن نہ دکھائے بلکہ ہمیں اس کے سنبھالنے کی ہمت دلائے۔

اردو زبان کی پہلی اور حال کی صورت میں زمین و آسمان کا فرق ہو گیا ہے۔ زبان کے لحاظ سے جو علم و ادب کی جڑ ہے، قبل از غدر جیسی دلکش و دلربا حالت تھی اسے انقلابِ زمانہ کے ہاتھوں نے تھپڑ لگا لگا کر اس طرح ملیا میٹ کیا جس طرح گدھے کے سر سے سینگ رفو چکر ہوئے؛ گویا خالص اور اصل اردو نام کو نہ رہی:

دیکھا وہ اپنی آ نکھ سے جو کچھ سنا نہ تھااور دیکھیے حزیںؔ ابھی کیا کیا دکھائے دل

فصحائے دہلی جو اہل قلعہ کے پیرو تھے، ناشاد و نامراد قبر میں جا سوئے:

ہائے کس حسرت سے شبنم نے سحر رو کر کہاخوش رہو اے ساکنانِ باغ! اب تو ہم چلے

در حقیقت:

سامعین کا نہ فقط سننے سے دم رکتا ہےسرگزشت ان کی جو لکھیے تو قلم رکتا ہے

جس قلعہ معلی میں اُردو زبان نے جنم لیا تھا، جہاں روز بروز نئے نئے محاورے، اصطلاحیں ایجاد و اختراع ہوتی تھیں، جس جگہ زبان کا ایک ایک لفظ خراد چڑھتا، تراش و خراش پاکر ٹکسالی بنتا تھا، وہاں تو اینٹ سے اینٹ بج کر گدھے کے ہل چل گئے۔ نہ وہ مکان رہے نہ وہ مکیں:

انقلاب دہر سے اک یہ رہے خانہ خرابورنہ عالم بارہا بگڑا ہے اور بن بن گیا

بقول حضرت شاہ نصیر رحمۃ اللہ علیہ:

نصیرؔ زیبِ مکاں جلوۂ مکیں سے ہےفروغِ خانہ انگشتری نگیں سے ہے

قبل از غدر یعنی آج سے ستاون برس پیشتر جسے 1857؁ء سے تعبیر کرنا چاہیے، اس زبان کی تراش و خراش، اصلاح و درستی برابر جاری تھی۔ گویا دہلی میں ایک ماں کی دو بیٹیاں راؤ چاؤ سے پرورش پا رہی تھیں، بڑی بیٹی کا مسقط الراس قلعہ معلیٰ تھا، چھوٹی کا دلی شہر۔ مگر شہر و قلعہ کی بیگماتی زبان اور مردانہ بول چال میں بھی بڑا فرق تھا۔ عورتوں کی خاص زبان اور تھی، مردوں کی اور۔ علی ہذا القیاس شہر میں بھی اناث اور ذکور کے روز مرے میں اختلاف بلکہ بیّن فرق تھا۔ ہر محلہ کی زبان الگ، ہر کوچہ کے محاورے جدا، ہر شاعر کا تذکیر و تانیث میں اختلاف۔ مگر ایسا نہیں کہ ایک دوسرے کی زبان نہ سمجھ سکے یا کوئی انھیں مطعون کرے۔ قلم کو کسی نے مونث مانا، کسی نے  مذکر۔ رتھ کو اہل قلعہ نے مذکر کہا تو اہل شہر نے مونث۔ نشو و نما و منشا نیز التماس ایسے الفاظ ہیں کہ دونوں طرح بولے جا سکتے ہیں جیسے فکر، بلبل، طرز، التماس۔ بعض الفاظ ایک معنی میں مونث، دوسرے میں مذکر؛ جیسے عرض بمعنی گزارش مونث و بمعنی چوڑائی مذکر۔ لب کے تین چار معنی ہیں، کسی معنی میں مذکر، کسی میں مونث بصورتِ واحد و بصورتِ جمع بولا جاتا ہے۔ مثلاً بمعنی ہونٹ، بمعنی لعاب دہن، بمعنی کنارہ مذکر ہے لیکن اخیر معنی میں مونث بھی ہے، جیسے اوڑھنی کی لب پر دھنک ٹانک دو تو اچھی معلوم  دے۔ موچھ بمعنی سبلت صرف مونث جیسے لبیں بڑھ گئیں ہیں، کیا میٹھا خرپزہ نکلا کہ لبیں بند ہوتی ہیں۔

عورتوں اور مردوں کا روزمرہ تو ایک تھا مگر خاص خاص اصطلاحیں خاص انھیں کے دم سے وابستہ تھیں، مرد مطلق نہیں بولتے تھے۔اہل زبان نے لفظ ریختہ کی تانیث قرار دے کر اسی کو ریختی سے منسوب کر لیا تھا۔ مثلاً ننانواں بجائے ہیضہ، تھتکاری (1) بمعنی پاؤں کی بیڑی، جولان، زنجیر پا، سلاسل۔ (2) چڑیل، پچھلپائی۔ زمین دیکھنا بمعنی قے کرنا۔ موئی مٹی کی نشانی بمعنی زندہ یادگارِ عزیز مردہ۔ مُوا بمعنی اجل رسیدہ۔نگوڑا (1) پابُریدہ، لنگڑا، لولا، اپاہج (2) بمعنی نکما، ناکارہ، چِنڈال، بدقسمت، بدنصیب (3) عورتوں کا حقارةً تکیہ کلام۔ ناٹھا: بےزن و فرزند، بے اولادا، بے وارثا جس کے آگے پیچھے کوئی نہ ہو۔ سیتاستی بمعنی پاک دامن و پارسا۔ ایک برایک بمعنی آزمودہ، مجرب نیز موثر وغیرہ۔

ان خاص الخاص اصطلاحوں میں توہمات، ان کے عقائد اور ہندی ریت رسم کو بھی بہت بڑا دخل تھا۔ بیگماتِ قلعہ کے نام اور زنانہ عہدے بھی شہری بیگمات سے اکثر جدا ہوتے تھے۔اُن میں ترکی و فارسی کی ترکیبیں اور الفاظ کی آمیزش زیادہ لیکن عربی اور ہندی کی برائے نام تھی۔ مثلاً آغا بیگم، زبیدہ خاتون، آغائی وغیرہ بیگمات کے ترکی نام تھے۔ ملازمت پیشہ عورتوں کے عہدے حسب ذیل جیسے قِلماقنی، جسولنی، اُردابیگنی، حبشن، تُرکن۔ علیٰ ہذا لونڈی باندیوں کے نام بھی جدا تھے جیسے گل چمن، دلشاد، دُردانہ، کاکا بمعنی معزز و کہن سال خانہ زاد۔ بیگموں کے فارسی آمیز نام مہر افروز، ارجمند بانو، دل افروز، خورشید جہاں، مریم زمانی، گیتی آرا، نور جہاں، خورشید زمانی، برجیس بیگم، انجمن آرا، روشن آرا وغیرہ۔

جب تک قلعہ آباد رہا اور اہل قلعہ بے فکری سے زندگی بسر کرتے رہے، بیگمات کی شستہ و خالص زبان بھی عجیب عجیب انوٹیں دکھاتی رہی۔ شہزادگان والاتبار، سلاطینِ عشرت پسند غفلت شعار، برائے نام بادشاہِ ہند کی درباری زبان، درباری ادب و قاعدہ، خاص و عام موقعوں کے الفاظ، شعر و اشعار کے چرچے، مہذبانہ گفتگو کے طریقے، اخلاقانہ گفت و شنید، خلوت و جلوت کی رمزیں، دل لگی کی باتیں، راگ راگنیوں کی گھاتیں اپنے اپنے موقع کا سماں باندھ کر سامعین کو محظوظ و خوش وقت کرتی رہیں۔ شاعروں، مصنفوں،واعظوں، مترجموں، ادیبوں، علمائے دین و دنیا کو انعامات، خطابات و وظائف اور ملازمت سے ممتاز فرما کر دینی و دنیاوی ترقی کا کام لیتے رہے۔ مگر افسوس علوم جدیدہ کی طرف ذرا آنکھ اٹھا کر نہ دیکھا۔ گو علم تاریخ، علم ادب، علم جغرافیہ، علم حکمت، فلسفہ، طب، ریاضی، طبیعیات میں اہل عرب نے ید طولیٰ حاصل کر لیا تھا اور بآسانی ان کے ترجموں کی کارروائی ہو گئی تھی۔ لیکن اردو زبان میں ان علوم کو لانے کی کما حقہ کوشش نہ کی گئی، کجا کہ علم سائنس، مائعات، طبقات الارض وغیرہ سے اس زبان کے خزانے کو بھرا جاتا۔ سیکڑوں علمی اصطلاحیں، علمی الفاظ اس زبان میں رنگروٹوں کی طرح بھرتی ہو جاتے۔ علوم تو علوم، مختلف فنون بھی اسی زمرے میں آ جاتے۔ اگر چہ عربی اور سنسکرت سے فارسی میں اکثر کتابوں کے ترجمے ہوئے مگر ان میں بھی عربی کی وہی اصطلاحیں قائم رہیں۔

اسی طرح ہندی بھاکا میں بھی زیادہ تر سنسکرت کے الفاظ سے بلا تغیر یا تغیر سے کام لیا گیا۔ وَیا کرن یعنی گریمر یا صرف و نحو کی اصطلاحیں سنسکرت سے بھری پڑی ہیں۔

نام کو اردو زبان نے شاہجہاں سے لے کر ابو ظفر بہادر شاہ تک تیرہ بادشاہتیں دیکھیں لیکن یہ بادشاہتیں چار کے سوا سب کی سب چند روزہ تھیں۔ یہاں تک کہ ان میں سے بعض بادشاہوں کی سلطنت تین تین اور چھ چھ مہینے سے آگے نہ بڑھی۔ چونکہ شاہجہاں کے وقت میں ایک حد تک امن و امان، رونق ملک، بہبودیٔ سلطنت، اطمینانِ خاطر رہا اور بادشاہ کو عمارات و زبانِ اردو کے رواج کا از حد شوق بڑھتا گیا، اس وجہ سے اکتیس برس تک اردو کی جڑ بندھتی اور بنیاد جمتی گئی۔ عالمگیر کو دکن کی مہمات نے چین سے نہ بیٹھنے دیا جو اس طرف پوری توجہ کرتا۔ اگر چہ 49 سال تک اس کی سلطنت قائم رہی مگر پھر بھی دل سے اِس کا سرپرست بنا رہا۔ شاہ عالم نے پانچ سال کے دَور دَورے میں بہت کچھ کیا بلکہ عالم شباب تک پہنچا دیا اور اس کے قیام، رواج، نیز ترقی میں تنزل نہ ہونے دیا۔ فرخ سیر کے شش سالہ عہد کے اخیر میں جعفر زٹلّی نے اپنے زٹل قافیہ سے اس زبان کو عوام میں خوب پھیلایا۔ شہزادۂ معظم محمد احمد شاہ خلف عالمگیر بادشاہ نے بروقتِ تخت نشینی سید جعفر زٹلی کا سکۂ سلطنت پسند فرما کر ایک لاکھ روپیہ کا انعام مع ایک زنجیر فیل مرحمت فرمایا تھا جو گھر کے دروازہ تک پہنچتے پہنچتے مساکین و فقرا کی نذر ہوا۔ جیسے تھے ویسے ہی مفلسا بیگ رہ گئے۔ البتہ محمد شاہ رنگیلے کی سلطنت میں اس زبان نے اور بھی ترقی شروع کی لیکن خاص علم موسیقی پر زیادہ عنایت رہی۔ چنانچہ محمد شاہ کی ٹوڑی جس کے شوق میں سلطنت اودھ ادھ موئی کر چھوڑی، اب تک مشہور ہے۔ یہ راگنی اسے نہایت مرغوب تھی۔ بعض چیزوں کے نام بھی اپنی رنگینیٔ طبع سے بدلے، مثلاً سنترہ کو رنگترہ محمد شاہ نے ہی قرار دیا۔ اردو دہ مجلس اسی کے عہد میں لکھی گئی۔ اس زمانہ میں رقص و سرود، رنگ رس اور عیش پرستی کا بڑا چرچا رہا۔ ہاں عالی گوہر شاہ عالم ثانی نے اس طرف پوری پوری توجہ فرمائی۔ چونکہ خود بھی شاعر تھے اور شاعرانہ مذاق رکھتے تھے، اس وجہ سے شعرا کی زیادہ خاطر و مدارات اور قدردانی فرماتے تھے۔ آفتاب آپ کا تخلص تھا۔ چار دیوان لکھ ڈالے تھے۔ نثر میں ایک ضخیم کتاب تصنیف کی تھی۔ سودا، میر، نصیر، انشا، اعظم، زار،ممنون، احسان، قاسم، فراق یہ سب آپ ہی کے زمانہ کے شاعر اور آپ ہی کی سلطنت کے مدّاح و دعاگو تھے جنھوں نے اپنے کلام اور اپنی بالغ نظری، عالی دماغی سے غضب ڈھا دیا تھا۔ غلام قادر رُہیلے کی آنکھوں میں جو ان کی سلطنت اور اقبال مندی کھٹکی، آنکھیں نکال کر ایسا سر ہوا کہ اندھا بصیر بنا کر چھوڑا، چنانچہ جیسا کیا ویسا ہی اپنی آنکھوں کے آگے پایا۔ اگر یہ ظلم اور اندھیر پیش نہ آتا تو خدا جانے اس اکیاون سال کی مدت میں اُردو زبان کہاں سے کہاں تک پہنچ جاتی۔ لیکن پھر بھی دن دونی رات چوگنی ترقی کی۔ اُردو تصانیف کی پہلی سیڑھی کا یہی زمانہ تھا۔ اسی صدی میں نو طرز مرصّع، آرائش محفل، باغ و بہار، قواعدِ اردو، پریم ساگر، بیتال پچیسی اور اخلاق محسنی وغیرہ بہت سی کتابوں کا ترجمہ اور بہت سی تصنیف و تالیف ہوئیں۔ خاصکر قرآن شریف کا ترجمہ، مذہبی مسائل کے رسالے بھی اردو زبان میں تحریر ہوئے اور 1835؁ء سے سرکار انگریزی نے بھی اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ 1836؁ء سے اجرائے اخبارات کا موقع بھی آ گیا۔

184٦؁ء میں دہلی کالج(١) کے استادوں، ماسٹروں، ہیڈ ماسٹر اور پرنسپل صاحب نے بخیالِ ترقیٔ زبان مل جل کر ایک اردو سوسائٹی قائم کی۔ مختلف زبانوں سے مفید و عمدہ کتابوں کا ترجمہ کر کے شائع کرنا اس سوسائٹی کا دلی مقصد قرار پایا۔ چنانچہ فارسی زبان سے تزک تیموری کا ترجمہ ہوا۔ عربی سے تذکرہ شعرائے عرب اور تاریخ ابو الفداء کی تین جلدوں کا ترجمہ کیا گیا۔ طبقات الشعراء یعنی اُردو کے شعرا کا تذکرہ جسے گاریسن ڈیٹیسی(٢) فاضل فرانس نے لکھا تھا،فرنچ زبان سے ماسٹر فیلن صاحب بہادر نے بامداد مولوی کریم الدین صاحب اردو میں ترجمہ کرایا۔ اقلیدس و جبر و مقابلہ کا بھی انگریزی و عربی سے ترجمہ کیا گیا۔ مولوی امام بخش صاحب صہبائی اور مولوی احمد علی صاحب والد حکیم قاسم علی خاں صاحب بوریہ والے نے ایک اردو گریمر لکھی، لیکن مولوی امام بخش صاحب صہبائی نے اپنے قواعد اردو کے ساتھ ہندی لغات کی بھی ایک فصل شامل کر دی۔ طبیعیات کے متعلق بھی دو ایک کتابیں لکھی گئیں۔ رسالہ وجود باری، رسالہ خواب، سریع الفہم یعنی رسالہ ابتدائی حساب وغیرہ ماسٹر رام چندر صاحب نے تحریر فرمائے۔ ان کے علاوہ مولوی امام بخش صاحب صہبائی نے بہت سی کتابیں تالیف و تصنیف کیں۔ مثلاً رسالہ  معما و نغز، تذکرہ گلستانِ سخن از جانب مرزا صابر ، شرح سہ نثر ظہوری، پنج رقعہ، مینابازار، حسن و عشق، حل مقامات نصیر رائے ہمدانی، قول فیصل یعنی جواب تنبیہ العارفین خان آرزو، انتخاب لا جواب یعنی مجموعہ اشعار اساتذہ، ترجمہ حدائق البلاغۃ حسب ارشاد جناب بوترس صاحب بہادر پرنسپل دہلی کالج ١٨٤٢؁ء میں اردو نظائر اور بعض ترمیم و اضافہ کے ساتھ کیا جن کا نام لکھنا طوالت سے خالی نہیں۔ یہ ہی اس زمانہ کی یادگار ہے۔ مولوی سید محمد صاحب مدرس کالج نے بھی ایک ہندی لغات موسم بہ مفتاح اللغات و کتاب عروض و قوافی، ترجمہ لیلاوتی حساب میں تیار کیا۔ علی ہذا معرفتِ طبیعی مولوی محمد باقر صاحب کی جانب سے طبع ہوئی۔ مصطلحاتِ نکہت مولفہ مرزا نیاز علی بیگ وغیرہ۔ ان کے علاوہ اور بہت سی کتابیں لکھی گئیں جن کے نام ذہن سے اس وقت اتر گئے ہیں۔ غرض اس سوسائٹی کے ممبر ممد و معاون مولوی امام بخش صاحب صہبائی، مولوی کریم بخش صاحب جن کا جبر و مقابلہ مشہور ہے، فیلن صاحب، ماسٹر رام چندرصاحب، مولوی سبحان بخش صاحب، مولوی احمد علی صاحب، مولوی سید محمد صاحب، مولوی محمد باقر صاحب مالک و اڈیٹر اردو اخبار دہلی، مولوی نور محمد صاحب، مولوی مملوک علی صاحب، خان بہادر منشی ذکاء اللہ صاحب وغیرہ تھے۔

اس اردو سوسائٹی کے سکرٹری  ڈاکٹر سپنجر صاحب مقرر ہوئے جن کی ان تھک محنت نے تھوڑے ہی عرصہ میں بہت کچھ کامیابی اور ترقی کر دکھائی۔ ان کے بعد کارگل صاحب پرنسپل ہوئے، بعد ازاں ٹیلر صاحب پرنسپل بنائے گئے۔ دس برس بعد انھیں کے زمانہ میں غدر ہو گیا۔ اس وقت یہ غدر علمی ترقی کا سد باب، علما و اشراف گردی کا مرکز بن گیا۔ اردو زبان کی علمی ترقی نے کچھ دنوں دم لیا اور امن و امان ہو جانے کے بعد انگریزی زبان کے ترجموں کی طرف کسی قدر توجہ مبذول ہوئی۔

معین الدین اکبر شاہ بھی پچھلی لکیر پیٹے گئے۔ شعرا اور اہل فن کی قدردانی حسب مقدور بدستور جاری رکھی۔ بہادر شاہ مغلیہ خاندان کے اخیر بادشاہ نے بیس برس کے قریب اس زبان کو خوب مانجھا۔ شاہ نصیرؔ، استاد ذوقؔ، حضرت غالبؔ، مومنؔ، میر ممنونؔ، احسانؔ ان کے زمانے میں چڑھے بڑھے رہے۔ چار ضخیم دیوان لکھے۔ خاص بھاکا زبان میں ٹھمریاں، فقیروں کی صدائیں گھڑیں اور پنجابی آمیز اردو میں بہت سے گیت لکھے۔ غزل کے مقطع میں ظفرؔ، ٹھمریوں، ہولیوں وغیرہ میں شوقؔ، رنگؔ اپنا تخلص ڈالا۔ اردو زبان کی شامت اعمال نے غدر کی افراتفری میں ان کے ہوش و حواس درست نہ رکھے۔ وہ بات کی جس سے قلعہ، ان کی قوم اور خود اجڑ گئے۔ رنگون جا کر بھی مرتے دم تک شعر گوئی کا مشغلہ نہ چھوڑا اور عجیب عجیب دردانگیز مناجاتیں ، غزلیں نیز اشعار لکھے جن میں سے سید محمود سرسید کے خلف رشید کو بہت سے یاد تھے۔

پہلے یہ زبان ہندی عربی فارسی ترکی کا مجموعہ تھا۔ اگرچہ پرتگال، فرنچ، انگریزی کے الفاظ بھی کسی قدر شامل ہو گئے تھے، مگر اردو زبان مرکب چار ہی زبانوں سے مانی گئی تھی ۔ چنانچہ مشہور ہے :

ہے زباں ایک اور چار مزےاس کی ہر بات میں ہزار مزے

جب قدردان مٹ گئے، وہ صحبتیں درہم و برہم ہو گئیں ۔ وہ بےفکریاں خواب و خیال بن گئیں۔ اصطلاحوں کا ایجاد، محاورات کا اختراع، شیریں زبانی کا لطف، باہمی اختلاط و ارتباط کا سلسلہ بند ہو گیا۔ جن اہل قلعہ کی گودیوں میں پل رہی تھی، جن بیگمات شاہی کی زبان سے موتی بن کر پھول سے جھڑتے تھے ، پس ان کے مٹتے ہی اصلی اور ٹکسالی زبان کا انحطاط یا تنزل شروع ہو گیا اور وہی مثل پیش آئی :

روندے ہے نقش پا کی طرح خلق یاں مجھےاے عمر رفتہ چھوڑ گئی تو کہاں مجھے

جو لوگ اس کے بناؤ سنگار میں لگے ہوئے تھے، جو اس کی مشّاطہ گری اختیار کرکے روز بروز اسے دلہن کی طرح کنگھی چوٹی سے آراستہ و پیراستہ کر رہے تھے، جن شاعروں میں بلبلِ ہزار داستان کے چہچہے تھے، جن کے شعر سن سن کر حاضرین مشاعرہ اچھل اچھل پڑتے تھے، جن صحبتوں میں ایک ایک بات کا سماں باندھ کر دکھا دیا جاتا تھا، جہاں بڑے بڑے عقدے حل ہوتے تھے ساتھ ہی وہ بھی چل بسے۔ جن مصنفوں سے اردو کی جان میں جان پڑتی تھی، جن جلسوں میں طبع زاد محاورات و اصطلاحات پر بحثیں ہوتی تھیں،  جن میں کھوٹے کھرے محاورے پرکھے جاتے تھے، جو جلسے شاعری اور زباں کےلیے ابرِ نیساں سے کم نہ تھے وہ درہم برہم ہو گئے تو اب اردو کی دلآویز ترقی کہاں سے آسکتی ہے۔

اردو کی خدمت سب سے زیادہ شعرا نے کی۔ قلعہ معلّی کے محاورات اب عنقا ہو گئے، جیسا ہم نے اوپر بیان کیا ہے۔پہلے اس میں چار مزے تھے، انگریزی مل کر پانچ ہوئے اور سچ پوچھو تو اب یہ زبان ست بجھڑی بولی بن گئی۔ خدمت گاروں کی زبان، خانساماؤں کی زبان، لشکری زبان، پنجابی زبان، قلیوں اور مزدوروں کی زبان، ٹھیکہ داروں کی زبان، عدالتی زبان، تاجروں کی زبان، پولس کی زبان، تماشا کرنے والے ایکٹروں کی زبان،وارد و صادر مسافروں کی زبان مل کر کچھ اور ہی رنگ بدل گیا۔

پُر مذاق ارشدی اقسام اردو

ہائے ارشد! وائے ارشد! کیا کہنا ہے، کتنی دور کی سوجھتی ہے۔ اس فرہنگ کی لاجواب و محققانہ تقریظ میں کس ظریفانہ انداز سے اقسام موجودہ زبان کی تشریح پر قلم اٹھایا ہے اور آئندہ کے واسطے کس عمدگی اور کس خوبی سے پیشین گوئی فرمائی ہے کہ باید و شاید۔ سچ تو یہ ہے کہ غضب ڈھایا ہے۔ جو کچھ ہوا اور ہونا ہے اس کا نقشہ کھینچ دیا ہے۔ پورا لطف تواصل تقریظ کے ملاحظہ سے آ سکتا ہے۔ مگر خیر نہایت اختصار کے ساتھ اس موقع پر اُس تقسیم میں سے چند نمبر ہم بھی انتخاباً درج کرتے ہیں۔ یہ کامل تقریظ جادو سے بھری ہوئی ہے۔ ہنستوں کو رلا دینا، روتوں کو ہنسا دینا اس کے بائیں ہاتھ کا کرتب اور چلتا ہوا منتر ہے۔

آپ لکھتے ہیں کہ اقسام اردو میں سے :

“اول نمبر پر اردوئے معلّی ہے جو نورِ سلاست و فصاحت سے مجلّا اور زبان دہلی کا اصل فوٹو ہے۔ دوسرے نمبر پر اردوئے مطلّا ہے  جو تکلف و تصنع سے پر، سلاست و فصاحت سے معرّا، طلاقت لِسانی اور لَسّانی سے معمور خاص لکھنؤ کی خود ستا زبان ہے۔ تیسرے نمبر پر فاضلانہ و مولویانہ اُردو جسے زبانِ فضلا و علما کہنا چاہیے۔ اس کا نام فرہنگی اردو ہے، جس کے ہر فقرہ کے واسطے فرہنگوں کے دیکھنے اور اوراقِ لغات الٹ پلٹ کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ چوتھے نمبر پر خود رنگی اردو ہے جو اخبارات کے نامہ نگار اور ایڈیٹوریل مضمونوں کا مجموعہ ہے۔ پانچویں نمبر پر ہڑدنگی اردو ہے جو پنچ اخباروں کی منہ پھٹ زبان ہے۔ ہزل و خرافات کے سبب قیودِ زباں آوری سے آزاد اور متانت سے کوسوں دور ہے۔ چھٹے نمبر پر فرنگی اردو ہے جو تازہ ولایت انگریزوں، ہندوستانی عیسائیوں، دفتر کے کرانیوں، چھاؤنیوں کے سوداگروں، لشکری قلیوں اور لین بوائز کی ستّیاناسی زبان ہے۔ ساتویں نمبر پر لفنگی اُردو ہے جسے آکا بھائیوں کی لٹھ مار، کڑاکے دار زبان کہو یا پہلوانوں، ہانڈی بازاروں، ضلع اور جگت کے ماہروں، پھبتیوں کے استادوں، گالی گلوج کے سرتاجوں کا روز مرہ کہنا چاہیے۔ آٹھویں نمبر پر بے ڈھنگی اردو ہے جو ریلوے کے انگریزی داں بابو اس زبان کو بیسنی زبان بنا کر حقیقی اُردو کی ٹانگ توڑتے ہیں۔ بقول شخصے “فارسی را ٹانگ توڑم تاکہ وا لنگڑی شود”۔ نویں نمبر پر خود آہنگی اردو ہے یعنی ناول نویسوں، ڈرامہ نگاروں اور ایکٹروں کی خود تراشیدہ زبان ہے۔ دسویں نمبر پر سربھنگی اُردو ہے، یعنی چرسیوں، بھنگڑوں، بے نواؤں وغیرہ کی زبان۔ گیارھویں نمبر پر جنگی اردو ہےجو اہل مناظرہ کسی کی ہجو لکھتے اور اپنی زباں زوری سے مخاطب کی آبرو لے ڈالتے اور لائبل کیس سے صاف بچ جاتے ہیں۔ اس قسم کی تقسیم چاہو جہاں تک کرتے چلے جاؤ، کسر متوالی کی طرح کبھی ختم نہیں ہوگی۔

جس زبان کی پیشین گوئی کی ہے اس کا نام سر چنگی([1]) اردو ہے۔ یہ اردو بڑی قیامت خیز، فتنہ انگیز ہوگی۔ “پارہ خواہد شد ازیں دست گریبا نے چند”۔ اس اردو کی ایسی مثال ہے جیسے پورب  میں اِدھر بھادوں کا مہینہ آیا، اُدھر شوقینوں کو کنہیا جی کے جنم کی خوشی نے گرمایا۔ ولادت سے پہلے کرتہ، ٹوپی، ہنسلی، کڑے تیار ہو گئے۔ اگر چہ یہ اردو ابھی پیدا نہیں ہوئی، مگر اس کا پیش خیمہ، ڈیرا ڈنڈا پورپ میں آگیا ہے۔ لکھنے کے حروف بڑی شد و مد سے تراشے جا رہے ہیں۔ وہ زمانہ قریب ہے کہ خود بدولت بِراجیں۔ چونکہ بھاشا اور سنسکرت کے الفاظ گھسیٹ گھسیٹ کر اس میں ڈالے جائیں گے اور دیگر زبانوں کے لغت کھینچ کھینچ کر باہر نکالے جائیں گے، قدیمی اردو داں اس تازہ اردو کو پورا نہ لکھ سکیں گے نہ بول سکیں گے؛ نا چار سرزنش اٹھانی پڑے گی۔ اس واسطے قبل از ظہور بطور تفاؤل اس کا نام سرچنگی اردو رکھ دیا”۔

گو اس طرح افزونیٔ لغات میں بھرتی کے الفاظ کی ترقی ہوئی مگر علمی، تہذیبی، شریفانہ زبان کوسوں بھاگ گئی۔ اس بے میل، انگھڑ الفاظ کی بیشی کو  ہم ترقی نہیں کہہ سکتے۔ ٹکسالی زبان کو مٹا کر غیر ٹکسالی محاورات کو داخل زبان کرنا اور ادبی تصانیف میں اُس سے کام لینا گویا زبان کے گلے پر الٹی چُھری پھیر کر اسے ذبح کرنا ہے۔

ہم سررشتہ تعلیم کی موجود تصانیف میں بہت بڑا فرق اور زبان کا نقص پاتے ہیں۔ یہاں بھی خوبیٔ زبان سے ہاتھ کھینچ لیا گیا۔ وہ پہلی سی ولولہ خیز، شوق انگیز زبان نہ رہی ۔ اہل زبان چپ اور اس شعر کے مصداق ہو گئے:

چونک جفت احولانیم اے شمنلازم آید مشرکانہ دم زدن

پرانی اُردو کو فصیحانہ،مودّبانہ، مہذبانہ زبان نہیں سمجھا جاتا بلکہ روز بروز ایسی زبان کا خاکہ اڑایا جاتا ہے۔

(بقیہ اگلے صفحہ پر)

اس میں شبہ نہیں ہے کہ اب یہ زبان دور دور کے دھاوے مارنے لگی ہے۔ یورپ، افریقہ، امریکہ، آسٹریلیا، جاپان اور شمالی ایشیا تک اس کے بولنے والے پہنچ گئے ہیں۔ کوئی دن جاتا ہے کہ وہاں کے اکثر لوگ اس زبان کو بولنے اور سمجھنے لگیں گے۔ بلکہ جس وقت اس موجودہ جنگ عظیم میں جرمن کے فوجی سپاہیوں کو ہمارے ہندوستانی دل چلے سپاہیوں نے نرغہ ڈال کر پکڑ لیا تو بطلبِ امان و خوفِ جان رام رام([2]) کا نعرہ مارنے لگے تاکہ یہ لوگ ہمیں اپنا ہم زبان سمجھ کر رحم کھائیں۔ اگر چہ یہ ایک دل خوش کن بات ہے لیکن ہم اسے اصل زبان کی ترقی نہیں کہہ سکتے۔ اصل زبان وہی ہے جس کا ہمیں پیٹنا پڑ رہا ہے:

گلیوں میں اب تلک بھی مذکور ہے ہماراافسانہ محبت مشہور ہے ہمارا

اب اگر اہل زبان کو افسوس ہے تو صرف اس بات کا ہے کہ ہائے وہ لچیلی اور چوچلے کی باتیں، وہ موقع موقع کی آن و انداز کی گھاتیں، وہ ثقایانہ گفتگو، وہ مہذبانہ بات چیت، وہ بے تکلفانہ رمز و کنایہ، وہ ذو معنی ظریفانہ صلواتیں، وہ سپاہیانہ اکڑ فوں، وہ خادمانہ و خُردانہ آداب و انکسار، وہ شریفانہ برتاؤ، وہ لچھے دار فقرے، وہ دلچسپ و دلکش تحریر، وہ مربیانہ حسن اخلاق، وہ محبّانہ میل جول، وہ برادرانہ ربط و ضبط، وہ متحدانہ رسم و رواج، وہ مروت اور وہ آنکھ کا لحاظ اب کہاں۔ مجلسوں، محفلوں کے طریقے کچھ سے کچھ ہو گئے۔ تفریحانہ جلسوں کے ڈھنگ مغربی رنگ آمیزی سے دنگ کرنے لگے۔ شاہی آداب، درباری قواعد آزادی سے بالکل بدل گئے۔ اخیر شاہی زمانہ میں کانوں پر ہاتھ رکھنا ایک درباری سلام تھا۔ مگر اب نئی پود اس معلومات سے کانوں پر ہاتھ رکھتی اور دوسروں کا سلام ایک انگلی سے لیتی ہے۔ سیر سپٹّوں، میلوں ٹھیلوں، دیسی کرتبوں اور تماشوں نے اب دوسرا رنگ پکڑا۔ ڈراموں، ناولوں نے اپنا رنگ جمایا۔ تھیٹروں نے سوانگوں اور جھانکیوں کا قصہ مٹا دیا۔ اشراف گردی، اجلاف پروری، کمینہ پرستی نے بھلے مانسوں کو گھر بٹھا دیا۔ ہاتھی نشینوں، پالکی نشینوں کو خانہ نشین و خلوت گزیں بنا دیا۔ مفلسی و ناداری نے رذالوں کے آگے سر جُھکوا دیا۔ موری کی اینٹ کو چو بارے چڑھا دیا۔ مغربی علوم و فنون نے کم ظرفوں، پست حالت سُبک سروں کو وہ اوج بخشا کہ آسمان سے باتیں کرنے لگے:

یہ اوج حرفہ گزینی میں کسب نے بخشاکرے ہے خاک مری آسمان سے باتیں

دولت پھٹ پڑی، عزت ٹوٹ پڑی، حکام رَسی ہاتھ آئی، کرسی نشینی و خطابات کی بھرمار نے آپے سے باہر کر دیا۔ جو بات چاہی، بَن آئی۔ من مانی مراد پائی۔

مشرقی علوم و فنون نے اپنی بے قدری و کساد بازاری دیکھ کر عہد عتیق کو بھلا دیا۔ گویا مغربی علوم کی چڑھتی کمان دیکھ کر اپنے آپ کو رہا سہا مٹا دیا۔ اخلاقی پستی سر پر چڑھ گئی۔ ہمت کے ساتھ حمیت نے بھی ساتھ چھوڑ دیا۔ غیرت رہی نہ شرم، دل کے نرم، کم ہمتی کے سرگرم بندے بن گئے۔ قانونی کوڑے، دھڑے بندی کے شکنجہ نے سارا تیہا مٹا کر ایسا بزدل بنا دیا کہ بچوں کی گستاخیوں پر بھی شریف کان نہیں ہلا سکتے۔

اہل قلعہ اور اہل شہر کی زبانوں کا موازنہ

آمدم بر سر مطلب۔ اہل قلعہ اس زبان کے موجد تھے اور اہل شہر ان کے متبع۔ بلکہ اس زمانہ میں بہت سے محاورے ایسے تھے جو خاص خاندان شاہی یا جہاں پناہ سے متعلق تھے اور شہزادے ان کے برتاؤ سے بیگانہ وار کام رکھتے تھے۔ مثلاً:

بِھنڈا بمعنی حُقّہ

چرن بردار بمعنی کفش بردار

خاصہ: پادشاہی یا امرائی کھانا۔ اس کا رواج دہلی کے نوابوں میں بھی ہو گیا تھا

آب حیات: خاص بادشاہ کے پینے کا پانی جو گنگا سے آتا تھا، گنگا جل

گلابی مینائے مُل: شراب کی چھوٹی سی بوتل

شیشہ شراب: کنٹر

گلّا بمعنی بیت الخلا

باری دار بمعنی چوکیدار

صاحب عالم بمعنی شہزادہ، مرشد زادہ

گفت و شنود بجائے گفت و شنید

خاص تراش: حجام

نعمت خانہ: چوبی، باریک جالی دار کمرہ جو سُفُلدان رکھ کر کھڑا کر دیا جاتا اور اس کے اندر مکھیوں سے بچ کر کھانا کھایا جاتا تھا

قول کا چھلّا: اقرار و مدار کی نشانی۔ خواہ یاد داشت کا چھلا

لکھا بمعنی حالت، حال، درجہ

سُریت بمعنی باندی۔ مگر اہل شہر حرم کے ساتھ ملا کر زیادہ بولتے ہیں

ناموس: باندی

گونتھنا بجائے گوندھنا جیسے ہار گوندھنا

سکھ کرنا یعنی سونا، استراحت فرمانا

تیکھی یعنی غضبناک

چھائیں پھوئیں بجائے خدا محفوظ رکھے،نوج، خدا نہ کرے

سُکھپال بمعنی پینس،پالکی

سکھ سیج بمعنی چھپر کھٹ، مسہری

اسی طرح وہاں کے کھانے بھی خاص تھے۔ مثلاً نور محلی پلاؤ از ایجاد نور جہاں۔ غوصی روٹی، نان پنبہ، نان تنکی، نان گلزار، نان قماش، نُکتی پلاؤ، موتی پلاؤ، نرگس پلاؤ، من و سلویٰ، یاقوتی، دودھ کا دُلمہ، بورانی، سمنی، بادشاہ پسند دال، حسینی کباب، نکتی کباب، کپڑے کا اچار وغیرہ وغیرہ۔

یہی حال پوشاکوں، ٹوپیوں، پاپوشوں وغیرہ کا تھا۔ سلیم شاہی جوتی کا ایجاد جس کے مرزا سلیم موجد ہیں، قلعہ ہی سے ہوا۔ جو محاورے قلعہ معلیٰ سے شہر میں پھیلتے تھے، ان کی وجہ سے اہل شہر کو اپنی زبان پر بھی فخر ہوتا تھا۔ چنانچہ حضرت شیفتہ ایک موقع پر فرماتے ہیں:

شیفتہ اور ستائش کے نہیں  ہم خواہاںیہی بس ہے کہ کہیں ہے یہ زبان دہلی

ان کی ادنی مثال یہ ہے۔ مثلاً تڑپنا بمعنی پھڑکنا جیسے چھری کے تلے تڑپنا، بے تاب و مضطرب ہونا۔جیسے ہنسی کے مارے تڑپنا۔ گُل کھانا، بطور نشانی چھلے وغیرہ کا داغ اختیار کرنا۔ سبز قدم ، منحوس۔ مارنا بمعنی ذبح کرنا، قتل کرنا۔ چھٹی کا دودھ زبان پر آنا بجائے چھٹی کا دودھ یاد آنا۔ زمین پکڑنا، جم کر بیٹھ جانا۔ ہوا باندھنا، دھاک باندھنا۔ جگر پکڑ کر بیٹھ جانا بمعنی جان پر بن جانا۔ پھبتی کہنا بمعنی نظیر موزوں کرنا، موزوں نظیر دینا۔ بِھنّانا، چکرانا، گھبرانا، حواس باختہ ہونا۔ بستگی، انقباض خاطر۔ ظفر:

کہاں تک میری جانب سے رہے گی بستگی تم کوگرہ دل کی کہیں کھولو ذرا ایمان سے بولو

ناک پکڑے دم نکلنا، نہایت ناتواں و کمزور ہونا۔ ظفرؔ:

مریض غم وہ عرصہ خاک پکڑے
نکلتا دم ہو جس کا ناک پکڑے

چھرّا بجائے بوچھاڑ۔ ظفر:ؔ

گالیوں کا ہم پہ چلتا روز چھرّا صاف ہےکیا زباں ہے آپ کی کیا روز مرہ صاف ہے

چراغ جلے آنا یعنی شام یا مغرب کے وقت آنا۔ ظفرؔ:

نہ کیونکہ شوق کی گرمی سے دل کا داغ جلےوہ کہہ گئے ہیں کہ آئیں گے ہم چراغ جلے

غرض اس طرح کے سیکڑوں اور ہزاروں محاورے ہیں جنھوں نے شہر میں آکر شہری زبان کو دلچسپ اور دل آویز بنا دیا تھا۔ لیکن اب:

ہم کہاں وہ کہاں، کہاں جلسےچشمِ بد لگ گئی مقدر کو

علی ہذا القیاس قلعہ کی بیگماتی زبان اور شہر کی بیگماتی زبان میں بھی فرق تھا۔ لیکن اگر ذرا غور اور انصاف سے دیکھا جائے تو خالص، پِیور اُردو وہی ہے جو مستورات سے حاصل کی گئی ۔ اِن کی زبان ایک بڑی پر اثر، پیاری، دلچسپ، میٹھی، شیریں اور بے تکلف زبان ہے۔ شعرا نے انھیں کی زبان حاصل کرنے سے نام پایا۔ مصنفوں نے انھیں کی زبان کے الفاظ سے ہر ایک بات کا سماں باندھا۔ علم ادب کی مقبول عام تصانیف انھیں کے دم قدم سے قابل قدر و شوق انگیز ثابت ہوئی۔ اس خالص زبان کا سرچشمہ بند ہو گیا۔ بچا بچایا ذخیرہ مرنے والے اپنے ساتھ لے گئے اور اگر برائے نام گنتی کے دو چار اس زبان کے ماہر رہ گئے ہیں تو وہ بھی بستر باندھے قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھے ہیں۔ اگر ان سے اس پچھلی جمع پونجی کو نہ سنگوا لیا تو یہ بھی ہاتھ سے جاتی رہے گی۔ زبان کے دلدادہ! جو کچھ لوٹنا ہے ان سے لوٹ لیں، جو کچھ چھیننا ہے ان سے چھین لیں۔ اگر چہ اس زمانہ کی تصانیف میں خاص کر دواوین، قصائد، مثنویات وغیرہ میں جہاں تک شاعرانہ مذاق سے تعلق ہے بہت سے الفاظ ملیں گے اور ان کے لیے بھی ڈکشنری کی ضرورت پڑےگی۔ لیکن زبان سے برمحل بول کر دکھانے والے شاذ و نادر ہی نظر آئیں گے اور کچھ دنوں میں یہ بھی عالم بالا کو سدھار جائیں گے ورنہ:

ہاتھ مَلنے کے سوا کچھ بھی نہ حاصل ہوگااور چلی جائے گی یوں ہی یہ زباں آخر کار

چونکہ ہم نے بیگماتی زبان کا ذکر چھیڑ دیا، اس وجہ سے ہمیں لازم ہوا کہ چند خاص خاص محاورات جو بیگمات قلعہ سے تعلق رکھتے ہیں یا شرفائے دہلی کی مستورات سے متعلق ہیں، مثالاً لکھ کر ان کی عالی فہمی ، ان کے خیالات، ان کے توہمات کا چربہ اتار دیں۔

لال قلعہ کی بیگمات کے خاص خاص محاورے

باری دارنی: ہتھیار بند چوکسی کرنے والی، چوکیدارنی

محل دارنی: محافظ و نگرانِ محل، معزز خادمہ

رَونّہ: سودا سُلف لانے والا چھوکرا۔ وہ لڑکا جو محل میں چوبداری کا کام دے۔ سرہنگ زادہ

بتانا: چوڑی کامپانہ یا ڈول

گَلرَن: جونک والی

کیڑی: جونک

پتنگ چھری: غمّازہ، چغل خور، آپس میں ان بن کرا دینے والی۔ رشتہ دوستی۔ اپنے افترا اور بہتان سے القط کرا دینے والی

اوپر والا بمعنی چاند ؏            کیوں نہ پھروں میں اہلی گیلی اوپر والا نکلا آج

لشکر والا: بادشاہ وقت۔ صاحب سلطنت۔ سلطان، مالک ملک

چیرے والا یعنی حکیم، طبیب

دُڑنگے مچانا: دوڑتے پھرنا

کُدکڑے لگانا: کودتے پھاندتے پھرنا

چک چک لوندے کھانا: تر بتر مال کھانا۔ تر مال اڑانا

ترتراتے: روغن میں تربتر۔ گھی میں ڈوبے ہوئے

بھدرَک: استحکام، استقلال، استواری، جیسے اس کی بات میں ذرا بھدرک نہیں

ہپّو: بچوں کو ہپّا کھلانے والی ملازمہ

چھوچھکّا: منتر جنتر، پھونکا پھانکی، چھومنتر

چھو چھو: بچوں کے پوتڑے دھونے والی دایہ

طوطیاں ہاتھ پسارتی ہیں۔

خوش بیانی پر عش عش کرتی ہیں۔

بنت بناؤ: بناؤ سنگار

اُدّو اُدّو ہونا: بدنام اور رسوا ہونا، نکّو بننا۔ حرکات ناشائستہ یا خلاف تہذیب کے سبب انگلیاں اٹھنے لگنا

غصہ تھوک دو: غصہ دور کرو۔ جانے دو۔ معاف کرو۔ دھیمے ہو جاؤ

کٹّم کٹّا: مار کٹائی۔ خون خرابہ

چھری کٹاری: کٹا چھنی۔ خوں ریزی۔ کُشت و خون۔ جانی دشمنی۔ سخت دشمنی

چاندنی منانا: چاندنی رات کی سیر کرنا۔

چٹخارے کا: نہایت چٹپٹا۔ نہایت مزیدار کہ اسے کھا کر انگلیاں چاٹا کرے جیسے چٹخارے کا بھرتہ یا رائتہ۔

ہاتھ توڑ توڑ کر کھائے: ذائقہ کے مارے جس ہاتھ سے کھایا ہے اسے چاٹا کرے۔

چٹخارے لینا: مزہ یاد کرنا، یہاں لذیذ چیز کے ذائقہ سے مراد ہے۔ لذت اٹھانا۔

شیطان اچھلنا: شرارت سوجھنا۔ مسخرا پن کرنا

مُرداری: چھپکلی

مامو: سانپ

شیطان کے کان بہرے: خدا کرے فتنہ پرداز شیطان نہ سنے۔

حف تمھاری نظر یعنی چشم بد دور۔ تمھاری نظر نہ لگے۔ تمھاری نظر سے خدا بچائے۔

تمھارے دیدوں میں رائی نون یعنی تمھاری آنکھیں نظر لگانے کے قابل نہ رہیں۔ پھوٹ جائیں۔

پِنڈا پھیکا پھیکا ہے یعنی بخار محسوس ہوتا ہے۔

قہر توڑا: بہت جھنجھلائے۔ غضب ڈھایا۔ ستم توڑا۔ نہایت خفا ہوئے۔

اوڑ اپڑنا: نامیسری ہونا

چونچلے بگھارنا: ناز کرنا، اترانا

کسلمندی ہے یعنی ان کی طبیعت ناساز و بد مزہ ہے۔ ان کے دشمن بیمار ہیں۔

دل میلا نہ کر یعنی اپنے دل پر رنج نہ لا

گرج کر بولنا: مہیب آواز سے بولنا

چھریاں کٹاون ہو یعنی انگ نہ لگے۔ جزو بدن نہ ہو۔ جس طرح چھری کاٹتی ہے اسی طرح ہمارا کھایا پیا تمھاری انتڑیاں کاٹے۔

ایک چھت: یکساں

دست بقچہ: چھوٹی سی بقچی

مودی خانہ: گودام گھر۔ بھنڈار

ملمّع: سامانِ خورش

تلوے سہلانا: خوشامد در آمد کرنا

لپکا پڑنا: دھت لگنا۔ لت لگنا۔مزہ پڑنا۔ عادت پڑنا

کاکلوتی: مامتا، محبت، الفت

میری دائی کو کوستی ہے یعنی مجھ کو کوستی ہے

دوجی سے ہے: حاملہ ہے۔ پیٹ سے ہے

چھریوں کا غسل دینا: مار کر لہولہان کرنا ،خون کے نالے بہا دینا۔ جیسے اس ڈھیٹ کو چھریوں کا غسل دو جب بھی باز نہ آئے ۔

بوبو (بواؤ معروف): (1) قلعہ کی بیگمات اُس ذی عزت لونڈی کو کہتی ہیں جس کی گودی میں ماں نے پرورش پائی ہو۔ (2) حرم، سُریت ، مدخولہ (3) باہر والیاں یعنی قصباتی اور دیہاتی عورتیں بمعنی بہن ہمشیرہ، آپا۔ (4) بجائے تکیہ کلام بواؤ مجہول و معروف استعمال کرتی ہیں۔

شہری بیگمات کے محاورے

اب چند شہری بیگمات کے محاورے بھی ملاحظہ فرمائیے۔ان میں سے اکثر مشترک بھی ہیں۔

تیز ہونا: غصہ ہونا، خفا ہونا، جھلانا

کلیجہ پکڑے پھرنا: بے تابانہ پھرنا

کُشتم کُشتا: مارپیٹ۔ گتھم گتھا۔ غٹ پٹ

کلیجہ پکڑ کر رہ جانا: دل مسوس کر رہ جانا۔ آہ کر کے دم بخود ہو جانا

منہ فق فق ہو رہا ہے: چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی ہیں۔ خوف یا ناتوانی سے چہرہ اتر رہا ہے

ماتھا ٹھنکا: کسی آنے والے صدمہ یا آفت کا اندیشہ گزرا

ہونٹ چاٹنا: مزہ لینا۔ لذت یاد کرنا جیسے اس مزہ کا کھانا کھلایا کہ آج تک ہونٹ چاٹ رہے ہیں۔

ڈال کا ٹوٹا: انوکھا، عجوبہ

ٹیکے کا: (1) حقدار (2) مستحق، وارثِ تاج و تخت، گدی کا مالک۔ راج تلک کا مستحق(3) مخصوص، خصوصیت رکھنے والا، مستحق، خاص کیا گیا، نام زد کیا گیا۔ (4) نرالا، انوکھا، عجوبہ جیسے ماں بچے سے کہتی ہے: ایک تم ہی ٹیکے کے نہیں ہو کہ سب آم تمھیں کو دے دوں۔

چوٹی والا: بھتنا

ڈالی والا: بندر

پتوں والی: مولی

اُجلی: دھوبن

ہلکان کرنا: مضمحل کرنا، ہلاک کرنا

لقّات: نہایت دبلا جیسے سوکھ کر لقّات ہوگیا

اوپر والی: چیل

اوپر والا: چاند، قمر، ماہ، چندرماں۔ مشترک بیگمات قلعہ و دہلی

جلے پاؤں کی بلی: ایک جگہ نہ ٹھہرنے والی

لہو پانی ایک کرنا: غم و غصہ کھانا۔ پیچ و تاب کھانا۔ جان ہلکان کرنا

آنکھوں میں نیند گُھلنا: آنکھیں کڑوانا۔ نیند کے جھونکے آنا۔ نیند بھر آنا۔ نیند کا زور ہونا۔نہایت غنودگی ہونا

اب سے دور: جب کسی کی بیماری کا ذکر دُہرانا ہوتا ہے تو پہلے یہ کلمہ زبان پر لاکر اس کا ذکر کیا جاتا ہے۔ یعنی زمانہ حال سے محفوظ رہ کر

جان سے دور: یعنی مشبہ کو مشبہ بہ کا کچھ اثر نہ پہنچے۔ کسی متوفی کا ذکر اپنے عزیز سے تشبیہ دے کر بیان کرتے وقت یہ کلمہ زبان پر لاتی ہیں۔

آ بے لونڈے جا بے لونڈے کرنا: آدمی کو حیران کرنا، دق کرنا، ہیرا پھیری کرانا، ناحق ستانا، فضول کام لینا۔ ذرا سے کام کے واسطے بار بار بھیجنا

اپنی والیوں پر آنا: اپنی ضد اور ہٹ پر آنا، اپنی سی کرنا، ذاتی جلال و غضب سے کام لینا

اپنی چھاتی پر ہاتھ رکھنا: اپنے دل کا سا حال جاننا

آمنے سامنے کا بنج یا رشتہ: جس گھر کی بیٹی لینی اسی گھر میں بیٹی دینی۔ آنٹے سانٹے کا ناتا

علی ہذا، ات گت، ارواح بھرنا، اس کی ارواح ادھر ہی رہے، اس کی ارواح نہ شرمائے، آسمان میں تھگلی لگانا، اللہ آمیں کا، امن چین، اندھیرے گھر کا اجالا، مرت بیاہی، آنچل میں بات باندھنا، ہلکا خون،غرض یہ محاورے کہاں تک لکھے جائیں۔ ہماری “لغات النساء” میں یہ سب بافراط موجود ہیں جو ایک دفعہ جل جانے کے بعد اب پھر از سر نو تیار کی گئی ہے۔ اگر کہیں سے مدد مل گئی تو بہت جلد چھاپ دی جائے گی۔ غرض یہ تو زیادہ تر ایام غدر سے پیشتر کے محاورات کا نمونہ ہے۔

زبان اردو اوّل کن کن زبانوں سے مخلوط ہوئی

اُس زمانے میں اردو کو صرف چار زبانوں سے مرکب خیال کرتے تھے یعنی عربی، فارسی، ترکی، ہندی کے مجموعے کا نام ریختہ یا اردو تھا۔ مگر نہیں، اس میں شاذ و نادر تاجرانِ ممالکِ غیر کے سبب پرتگالی، فرانسیسی، انگریزی زبان نے بھی کچھ دخل پالیا تھا۔ چنانچہ محسن دہلوی نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے:

کیوں نہ مطبوعِ جہاں یاں کی زباں ہو محسنؔسب زبانوں کا خلاصہ ہے زبان دہلی

لیکن اب تو قریب قریب چوتھائی انگریزی زبان اس میں شامل ہو گئی ہے اور ہوتی چلی جاتی ہے۔ اخیر میں جا کر اردو زبان کے صرف افعال ہی افعال رہ جائیں گے۔ تذکیر و تانیث، ترکیب نحوی وغیرہ کے سب جھگڑے جاتے رہیں گے۔

پہلی اور کسی قدر موجودہ حالت تو ضمناً آپ صاحبوں کی نظر سے گزر گئی۔ اب موجودہ حالت کی کسی قدر وضاحت کے ساتھ کیفیت بیان کی جاتی ہے۔

اردو زبان کو جسے اب ہندوستانی زبان کہنا پڑے گا،بخیالِ وسعت بہت کچھ ترقی ہے اور بلحاظِ فصاحت و بلاغت نہایت تنزل۔ کتابی عبارت، تصانیفی حالت تو اب بہت کچھ بدل گئی۔اخلاقی اور علم ادب کی تحریر کا بھی قریب قریب یہی حال ہے۔ ٹکسالی زبان خود ٹکسال باہر ہو گئی۔ عوام کالانعام کی بولی نے اس کی جگہ سنبھال لی۔ اس  بھرتی کی ترقی کے اسباب مختلف ممالک کے سیاحوں، ریلوے پاسنجروں، دُخانی کارخانوں، انجینئروں کے کاموں، ملک ملک کے قُلیوں، کاریگروں، فوجی سپاہیوں، متفرق محکموں، ڈاک خانوں، تارگھروں، ریلوے ملازموں، اہل پیشہ، اہل حرفہ کے محاوروں، تھیٹروں کے ناولوں، ڈراموں، مذہبی مباحثوں، اخباروں، تازہ ولایت صاحب لوگوں، خدمت گاروں، خانساماؤں، بٹلروں کے بے قاعدہ، غیر مربوط، غیر مانوس، بے ڈھنگے الفاظ ہیں جو کثرت سے معمولی زبان میں آمیز ہو گئے ہیں۔

انگریزی زبان وغیرہ کا اختلاط

اگر چہ یہ بات خوشی کی ہے کہ ہماری زبان ایک بہت بڑا ذخیرہ بہم پہنچا رہی ہے، مگر ساتھ ہی یہ نقص بھی ہے کہ اصلی خوبی کو مٹا رہی ہے۔ اگر انھیں الفاظ کا اہل زبان تال میل ملا کر رواج دیں اور علمی و قومی اصطلاحوں کو اپنی زبان میں ڈھال دیں تو اس سے بہتر کوئی بات نہیں۔ اب سے پیشتر بھی غیر ملکوں، غیر قوموں اور مختلف علوم و فنون کے الفاظ ملائے گئے ہیں مگر وہ اتنے بےجوڑ نہیں ہیں، کیونکہ وہ اردو زبان میں ایسے گھل مل گئے ہیں کہ ان میں ذرا مغایرت نہیں پائی جاتی ۔ مثلاً چند عربی، فارسی، ترکی، انگریزی و پرتگالی الفاظ جو اپنی اصلیت سے بگڑ بگڑا کر یا ان کے حروف منقلب ہو ہوا کر، خواہ باہم بدل بدلا کر بظاہر ایک جان ہو گئے ہیں، بطور نمونہ پیش کیے جاتے ہیں:

عربی قرناس تھا۔ انگریزی زبان میں کارنس ہو کر وہی کنگنی کی بجائے اردو میں رائج ہو گیا۔ عربی شاقول تھا، اس کا معماروں نے ساہول بنا لیا اور اب سہاول یا سَول کہنے لگے۔ مقدّم بمعنی قصائیوں نے مکدّم ۔ کتف کا کتیب کر لیا۔ مقنع کا مکھنا۔ منیب کا ساہوکاروں نے منیم ۔ طلابہ کا تلاوا بمعنی ہراوُل ۔ حوضہ کا ہودہ بمعنی چوبچہ (یعنی چاہ بچہ)۔ ہودج کا ہودہ بمعنی عماری بن کر داخل روز مرہ ہو گیا۔ اسی طرح فارسی گنبد تھا، ہندی میں گمّت ۔  گنگ صم کا گم صم ۔ نمد کا نمدہ ۔ سالانہ کا سالیانہ ۔ ماہانہ کا مہینا بمعنی ماہوار ۔ شگوفہ کا شفوقہ ۔ شُلّہ کا شولہ بولا جانے لگا۔

ترکی یساول تھا، اس سے جساول، بحالت تانیث جساول سے جسولنی بن گیا۔ آتون کا آتو۔ انگہ کا تگّا۔ تورہ کو جداگانہ بنول کر اس کا مرادف شرع کے ساتھ ملا کر شرع تورہ بولنے لگے۔ قرمزی کا کرمزی کر لیا۔

پرتگالی زبان میں روٹی کو پاؤ کہتے ہیں۔ ہندوستانیوں نے نان پاؤ بنا لیا۔ بلکہ انگریزی باورچیوں، خدمت گاروں نے اس کا نام ڈبل روٹی رکھ دیا۔ المائراکا الماری۔ پینسنیس کا پینس۔ کورپریل کا کھپریل رائج ہو گیا۔ علی ہذا القیاس۔

انگریزی سکرٹری  تھا، اس کا سِکتّر ۔ کوپی کا کاپی۔ کمانڈ کمان۔ کم مِٹی کُمیٹی۔ کیپٹن کا کپتان۔ کارٹرچ کا کارتوس۔ فائر کا فیر۔ فی کا فیس جو فی کی جمع ہے مگر مفرد استعمال کرنے لگے ہیں۔ سارسنٹ کا ساسن لیٹ۔ سپٹمبر کا ستمبر۔ ہاک کا ہُک۔ بٹن کا بوتام۔ کارک کا کاگ۔ کرسچن کا کرشٹان۔ ڈژن کا درجن۔ سیکورٹ کا مسکوٹ۔ کناویز کا قناویز۔ شال مرینہ کا شال مدینہ۔ کاچکرڈ کا چکن۔ فلونل کا فلالین۔ اوفیسر کا افسر۔ بٹیلین کا پلٹن۔ گوڈم کا گودام۔ رکروٹ کا رنگ روٹ۔ پریڈ کا پریٹ ۔ رجمنٹ کا رجمٹ۔ رپورٹ کا رپٹ۔ مارئل کا مارتول۔ ارڈرلی کا اردلی۔ ولنٹیر کا بلمٹیر۔ ویسکوٹ کا واسکٹ۔ سپر اینڈ مائنز کا سفر مینا۔ کیمپ کا کمپّو۔ کمانڈر کا کمانیر۔ کوچمین کا کوچوان۔ ڈریور کا درابی۔ میل کارٹ کا کاٹھ میل۔ ٹنڈم کا ٹمٹم۔ پُٹلس کا پُلٹس۔ بابن نٹ کا بابل لیٹ۔ ہوسپیٹل کا اسپتال۔ ڈَسک کا ڈِکس۔ نمبر کا لمبر۔ ڈکری کا ڈگری۔ اسکنر کا سکندر۔ ڈیمنٹی کا گمٹی۔ ٹارپلینگ کا ترپال۔ میجسٹن کا مجنٹن۔ جیل کا جیل خانہ۔ کورشین کا کروسین یا قریشیا۔ کورنس کا کانس۔ کنفائینگ ہوس کا کانجی ہوس۔ میگزین کا میخزین۔ لیڈنگ بِل کا بلٹی۔ لائسینس کا لیسن وغیرہ وغیرہ۔

یہ الفاظ تو وہ ہیں جو ہماری زبان کو ناگوار نہیں گزرتے۔ مگر آج کل انگریزی خوانوں، انگریزی دانوں اور ان کے انگلش سے نا آشنا فیشن ایبل یارغاروں نے جو اردو میں انگریزی الفاظ کی بھرتی شروع کی ہے وہ ہمارے کانوں سے غیر مانوس، ہماری زبان کے لہجہ سے کوسوں دور۔ انگریزی صحبت نایافتہ لوگوں کی سمجھ سے بالکل مغائر ہیں۔ ہم انھیں نہ تو بول سکتے ہیں، نہ ان کا صحیح تلفظ ادا کر سکتے ہیں اور نہ ان کے مفہوم ہی کو سمجھتے ہیں۔ بلکہ الٹی اپنی ہنسی آپ اڑواتے ہیں۔ جیسے بھائی کی وائف پرشن بھی سمجھنے لگی ہے۔ ڈاکٹر نے اسے اَنفِٹ لکھ دیا۔ میں نے سکہ لیو لی ہے۔ محمود میرے انڈر میں نہیں ہے۔ یہ چیز ویری نائس ہے۔ تھنگس۔ مینی مینی تھنگس۔ تھینکیو۔ وہ بیوٹی فل مین ہے۔ مگر آئیڈل مین کہنا چاہیے۔ ڈیمڈ بگر جسے بگاڑ کر ڈام بگر کر لیا ہے۔ تمھاری کیا پے ہے۔ یہ ایکٹر اچھا ایکٹ نہیں کرتا۔ کیا ڈرٹی کاغذ ہے۔ یہ ڈرٹی مین ہے۔ سینری شملہ سے بہتر نہیں۔ آج ریل دو گھنٹے لیٹ آئی۔ تم مدرسہ میں روز لیٹ کر آتے ہو۔ وہ سپاہی سیکوان ہے یعنی سِک مین ہے۔ بریڈ۔ واٹر۔ کوئیشچن۔ مدرٹنگ۔ یہ تو وہ الفاظ ہیں جو زبان سے بآسانی نکل سکتے ہیں۔ مگر کرخت الفاظ کا تو نہ لکھنا آسان نہ بولنا۔ تلفظ اور ہے اور اسپیل اور۔

شورٹ ہینڈ۔ ٹریولنگ اِلونس۔ نائین سوئٹ بمعنی لا دعویٰ جس کا نین سُٹ بباعثِ ضرورتِ عدالت بنا لیا گیا۔ گران جیوری جس کا بمجبوریٔ قانون گران جوڑی کر لیا۔ سکیم آف سٹیڈی بمعنی انضباط اوقات۔ علی ہذا القیاس سیکڑوں بلکہ اس قسم کے ہزاروں لفظ نکلیں گے۔

خیر یہ تو انگریزی الفاظ کی آمیزش اور اس کی دخلیابی کا ذکر ہوا۔ لیکن ہندوستان کے مختلف طبقوں، خطوں کی مختلف زبانوں نے جو ایک دفعہ ہی حملہ کر دیا ہے، اس کا کیا علاج؟ ہمارے نزدیک عام بول چال کو تو زمانہ کی رفتار پر چھوڑ دیں۔ مگر خاص اردو زبان کو علمی، اخلاقی، مہذب، درباری زبان سمجھ کر اردو تصانیف میں برابر ترقی دیے جائیں۔ نہ اِسے آریاورت کی زبان سمجھیں، نہ پوربی بھاکا بنائیں۔ نہ مارواڑی اور پنجابی کا جزوِ اعظم خیال کریں۔

اس میں شبہ نہیں کہ یہ ایک قومی زبان اور خاص پہلو سے اسلامی زبان ہے جسے مغلیہ سلطنت کی ایک عمدہ یادگار کہنا چاہیے۔ مگر چونکہ اس نے ہر زبان کے الفاظ اپنے زمرہ میں شامل کر لیے ہیں اور ہر قوم کے لکھے پڑھے اس کو زیادہ عزیز رکھتے ہیں۔ ادنی و اعلیٰ سب اس کو سمجھتے اور بولتے ہیں۔ لہذا یہ ملکی زبان اور عام ہندوستانی زبان ہونے کا پورا پورا استحقاق رکھتی ہے۔ اس زبان میں ہر شخص کو گفتگو و تصنیف کرنے کا مجاز ہے۔ بشرطیکہ تعصب کی دھندلی عینک سے اسے واسطہ نہ پڑا ہو۔

عنقریب وہ زمانہ آنے والا ہے کہ اس ٹکسالی زبان کے الفاظ کا فرہنگوں، پرانی کتابوں، شعرا کے دیوانوں اور بیاضوں کے سوا کہیں بھی پتہ نہیں لگے گا۔ ہندوستانی قومیں خلط مبحث ہو کر زبان کو کچھ کا کچھ کردیں گی۔ اردو زبان کی مکمل ڈکشنریوں کا ابھی سے کال ہے تو آئندہ کون لکھے گا اور کون لکھوائے گا۔ دعا دیں ریاستِ نظام حضور نظام خلّد اللہ ملکہ کے دم قدم کو جن کے دم کی بدولت ایک آدھ ڈکشنری تیار ہو گئی اور آئندہ کے واسطے قومی زبان کے قیام کی ایک بنیاد پڑ گئی۔

انگریز لوگ اس امر کی طرف کوشش کریں کہ یہ زبان پہلے کی طرح پھر ملکی یا ہندوستانی زبان قرار دی جائے۔ عدالتوں میں اس کا پہلا سا رواج ہو جائے۔ عرائض و فیصلجات اردو میں لکھے جائیں۔ سررشتہ تعلیم اس طرف کامل توجہ فرمائے۔ عدالتی دفاتر انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں قائم رہیں تو یہ ڈوبتا ہوا بیڑا غرق ہونے سے بچ جائے یا خود وہ لوگ جو اس زبان کو قومی زبان مانتے ہیں، جنھوں نے اپنی مذہبی کتابوں کے اس میں ترجمے کر ڈالے ہیں یا شعرائے ہند، نیز اہل اسلام روسائے ہند جنھیں اس زبان سے دلچسپی ہے اس طرف توجہ مبذول فرمائیں۔ اپنی عدالتوں میں، درباروں میں اس کا رواج دیں تو ایک یہ صورت بھی اس کے قیام کی ہو سکتی ہے۔ چنانچہ حضور لامع النور نظام خلّد اللہ ملکہ نے اپنے دفاتر میں یہ بات جاری کر دی ہے۔

اس میں ذرا شبہ نہیں کہ سبک مایہ سارقانِ تصانیف نے اس کی ترقی کا اور بھی بیج مار دیا ہے جس کے سبب اس زبان کے اہلوں نے اس کی طرف سے توجہ اٹھا لی ہے اور نا اہل جو ان کی تصانیف کے چُرانے کا بھی سلیقہ نہیں رکھتے، ہر پہلو سے کامیاب بن رہے ہیں۔ ان باتوں کو دیکھ کر جن لوگوں کو خدا تعالیٰ نے ایسے کام کے دماغ دیے تھے، انھوں نے اپنے دماغوں سے یہ کام نہ لے کر انھیں بیکار اور معطل کر دیا۔ اور اگر کسی نے کچھ کام لیا تو ایسا پچھتایا کہ اخیر عمر تک سر پیٹتا اور پچھتاتا رہا۔ ابھی کا ذکر ہے کہ ایک صاحب شیدائے اردو نے ہماری مملوکہ کتاب بزم آخر کو پرانی کتاب سمجھ کر اس کے مضامین پر اپنا دعویٰ جمانا اور اخباروں میں اپنے نام سے چھاپنا شروع کر دیا تھا؛ مگر جب جتایا گیا تو اس سے باز نہ رہے۔ چنانچہ اس کے متعلق جو چند ظریفانہ سطریں لکھی گئی ہیں وہ کرزن گزٹ مطبوعہ 8؍ نومبر ١٩١٥؁ءجلد 17 نمبر 1٢ میں “یاروں کے غمزہ” کے نام سے طبع ہو گئی ہیں تاکہ یہ عیب لوگوں کے دلوں سے نکل جائے۔ ان سے پیشتر بھی بڑے بڑے عالم فاضل مگر فن لغت سے ناآشنا اور چند مبلغ معلومات سے بے بہرہ اشخاص ہماری فرہنگ پر ہاتھ صاف کر چکے ہیں لیکن مراد کو نہ پہنچے، اَدَھر میں لٹکے رہے۔

اے اپنی زبان کو قائم رکھنے والو! اپنے ذاتی خدا داد مادہ سے کام لو، جس میں دسترس نہ ہو اسے اختیار کر کے قوم کو نقصان نہ پہنچاؤ۔ ان باتوں سے بچو! بچو!! اور زبان کی خیر مناؤ۔ ورنہ منہ کی زبان کے سوا جو صرف ایک گوشت کی بوٹی ہے، بول چال کی زبان سے محروم رہ جاؤگے۔

اس وقت چونکہ زبان کی طویل بحث آن پڑی ہے اور ہم کو ہر ایک پہلو سے زبان کی تعریف اور اس کے رواج و عدم رواج کی وجہ سمجھا دینی ہے؛ لہذا ہم اپنا ایک پہلا مضمون جو “زبان کی تمیز اور اس کے فرق” کے نام سے لکھا گیا تھا، اس جگہ نقل کر دینا مناسب جانتے ہیں۔ یہ مضمون زبان کے شوقینوں کو بہت سی مدد دے گا اور اس مضمون کی تشریح بھی کر دے گا۔

زبان کی تمیز ، اس کا فرق اور مقامی امتیاز

(١) زبان تو وہی ایک گوشت کی بوٹی ہے جو دانتوں کی چار دیواری میں تالو کی چھت کے نیچے بَل مارتی پھرتی ہے۔ کبھی تو ہونٹوں کے پھاٹک میں درّانہ آ کھڑی ہوتی ہے، کبھی گردن نکال کر ادھر ادھر کچھوے کی طرح جھانکنے لگتی ہے۔ کبھی میٹھی چیز کا مزہ لیتی ہے، کبھی کھٹے اور کڑوے سے منہ بناتی ہے۔ کوئی اسے لسان(٥)  کہتا ہے کوئی جِیب(٦)  کوئی تیل(٧)  کہتا ہے تو کوئی ٹنگ(٨)  کسی نے للّو(٩)  کہہ لیا، کسی نے رسنا(١٠) سمجھ لیا۔ مگر ہماری مراد اس جگہ روز مرہ کی بول چال یا ہر ایک ملک کی بھاکا سے ہے۔ اس میں خواہ عورتوں کی بولی ہو خواہ مردوں کی ، گنواروں کی گفتگو ہو یا شہر والوں کی، لکھنؤ کی لغت تراشی اور متانت ہو یا دہلی کی سادگی اور سلاست، قلعہ معلیٰ کی معاملہ بندی ہو یا ثقات کی لطیفہ گوئی،  شُہدوں کا پھکّڑ ہو یا آزادوں کی بدلگامی،  پیشہ وروں کی اصطلاحیں ہوں یا دلالوں کی رمزیں، بچوں کا اوں اوں اور مم مم کرنا ہو یا بیگموں کا نِت نِت اور جم جم کہنا۔ یہ ساری باتیں ہماری اُس زبان میں داخل ہیں جس کا ہمیں بیان کرنا منظور ہے۔

(٢) عام زبان کسی خاص قوم یا شہر پر مخصوص نہیں ہے۔ یہی زبان ہے کہ جانوروں کے منہ میں ہے اور یہی زبان ہے کہ آدمیوں کے دہن میں ہے۔ اگر بلبل اپنے چہکنے میں خوش ہے تو کوّا اپنی کائیں کائیں میں مگن ہے۔ کوئل کوک کو اچھا جانتی ہے تو مور جھِنگارنے کو افضل سمجھتا ہے۔ مینڈک ٹرّانے میں مست ہے تو جھینگر جھیں جھیں میں خوش۔ پپیہا پی پی سے دل بہلاتا ہے تو فاختہ کو کو سے انند ہوتی ہے۔ کتا بھونکنے کو خوب سمجھتا ہے تو شیر دھاڑنے کو پسند کرتا ہے۔ اونٹ کو بڑّانا بھاتا ہے تو بِجار کو ڈکرانا بھلا لگتا ہے۔ غرض ایک دوسرے کی زبان اور لہجہ کو بحیثیت مجموعی ہم برا نہیں کہہ سکتے۔ اس لیے کہ ہر ایک کی زبان بجائے خود عمدہ اور بہتر ہے۔ جو فصیح آدمی اپنی زبان سے کام لیتے ہیں وہی غیر فصیح اور جانور بھی اپنا مطلب نکال لیتے ہیں۔

(٣) زبان کیا ہے۔ منشائے دلی کے اظہار کرنے کا آلہ ہے۔ ایک زمانہ ہوگا کہ ہم آنکھوں یا ہاتھوں کے اشارہ سے کام لیتے ہوں گے۔ پھر ایک زمانہ وہ آیا ہوگا کہ ہم نے صرف اِسموں سے کام نکالا ہوگا۔ اب ایک زمانہ یہ ہے کہ ہم نے اسما، افعال، روابط وغیرہ وغیرہ کو ملا جلا کر ایک عمدہ تسلسل پیدا کر لیا اور اپنے مفہوم کو اس طرح ادا کرنے لگے کہ سامع کو سمجھنے میں کسی طرح کی دقت نہ رہی۔

(٤) اب اگر ہم طاقتور، شہ زور اور کسی جنگل یا پہاڑ کے محنت کش باشندے ہوں گے تو ہمارا ایک ایک لفظ اور ایک ایک کلمہ جرأت، طاقت، سختی، اکّھڑپن، غضب و خشونت کا جامہ پہنے ہوئے ہوگا۔ حاکم سے بولیں گے تو اکڑ ہی کر بولیں گے۔ اخلاص کی بات بھی کریں گے تو ایسی جیسے پتھر کھینچ مارا ۔ اس میں بھی اگر بانگر میں ہماری بود و باش ہوگی تو ہم سب سے زیادہ کرخت لفظ زبان سے نکالیں گے اور جو کھادر میں تو اس سے دوسرے درجے پر ہمارے الفاظ ہوں گے۔ اور اگر ہم دال چپاتی کھانے والے ، ناز پروردہ، عیش منانے والے ہوں گے اور کبھی ریاضت کے پاس نہ بھٹکے ہوں گے تو ہماری بات بات سے مسکینی، غربت ، سستی، کاہلی ٹپکے گی۔

(٥) اوپر کی بحث سے ثابت ہوا کہ کوئی ملک اور کوئی ولایت کیوں نہ ہو، اس میں دو طرح کی زبان اور دو طرح کے الفاظ ہوں گے۔ بعض الفاظ میں صرف لہجہ کا فرق ہوگا، بعض میں اصلیت کا۔ اس میں سے ایک زبان اکّھڑ اور سخت کے نام سے جسے گنواری یا جفاکش لوگوں کی بولی کہہ سکتے ہیں، مشہور ہوگی۔ دوسری ملائم اور نرم جسے شہری زبان کے نام سے موسوم کرنا بیجا نہ ہوگا، تعبیر کی جائے گی۔

(٦) تجربہ سے ثابت ہوا ہے کہ بارہ بارہ کوس کے فاصلہ پر زبان بدل جاتی ہے مگر خاص شہر میں بھی دو طرح کی زبان ہوتی ہے۔ ایک عام لوگوں کی جسے بعض لوگ زبانِ جہلا یا ادنیٰ آدمیوں کی زبان کہتے ہیں۔ دوسری خاص لوگوں کی جسے زبانِ شعرا یا فصحا سے نسبت دیتے ہیں۔ شعرا کی زبان میں بھی اختلاف ہے۔ کوئی عام محاورے پسند کرتا ہے، کوئی خاص۔ جیسے استاد ذوقؔ اور حضرت غالب۔ اب اُن شہروں میں بھی فرق ہے۔ جو شہر کسی بادشاہ کا مدت تک دارالخلافہ رہا ہوگا، اس کی زبان اور شہروں کی نسبت عمدہ اور زیادہ شائستہ خیال کی جائے گی اور ہر ایک مصنف یا شاعر یا فصیح اسی شہر کی زبان کو قابل سند اور لائق تقلید سمجھ کر وہاں کے باشندوں کی پیروی کرے گا۔ اور جو وہ شہر(١١) نہ تو کسی نواب یا وزیر یا اس کی تخت گاہ ہوگا اور نہ اس میں فصحا و شعرائے زبان کا مجمع ہوگا تو اُس کا چنداں اعتبار نہیں کیا جائے گا، گو وہ شہر کتنی ہی ترقی کیوں نہ کرے۔ لیکن باعتبارِ زبان تو ہر ایک زبان کا مرتبہ ایک ہی ہے مگر اس لحاظ سے کہ دار السلطنت میں آکر ہر ایک لفظ سانچے میں ڈھلتا اور خراد چڑھتا ہے، اسے سب پر ترجیح دے سکتے ہیں۔ اس بات کے ثبوت میں ہزاروں دلیلیں موجود ہیں۔ اگر کوئی کشمیر کا رہنے والا ہندوستان کی زبان کو برا بتائے یا کوئی ہندی نژاد اصفہان کی زبان کو ٹکسال باہر ٹھہرائے تو کیا کوئی عقلمند تسلیم کر لے گا؟ نہیں ہرگز نہیں۔

(٧) اب رہی یہ بات کہ زبان کی عمدگی کن باتوں پر منحصر ہے۔ سو یہ ہم کیا تمام عالم کھلے خزانے کہہ رہا ہے کہ زبان کی خوبی اس کی سلاست، عام فہمی، نرمی،موزونی، دل کشی، چھوٹے چھوٹے الفاظ، بڑے بڑے مطالب پر موقوف ہے۔ جو لفظ جہاں چسپاں ہو وہیں نگینے کی طرح جڑا ہو۔ بچوں سے لے کر بوڑھوں تک کی سمجھ میں آجائے۔ سو یہ بات زیادہ تر عورتوں کی زبان میں پائی جاتی ہے اور عورتیں بھی کون سی جو بازاری نہ ہوں یا ان لوگوں کی بول چال میں جنھوں نے اپنے ماں باپ کے روزمرہ کو معیوب سمجھ کر اس کے چھوڑ دینے پر مبادرت نہ کی ہو، اپنی اصل پر خود بھی قائم رہے ہوں اور زبان کو بھی جوں کا توں بنا رکھا ہو۔ اگر چہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ جو لوگ اوروں کی زبان کی حرف گیری کرتے ہیں وہ بھی گھر میں جا کر اپنے بال بچوں کے ساتھ وہ گفتگو نہیں کرتے جو باہر لوگوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ ان کی تحریر میں بھی وہ لفّاظی، سجع بندی، قافیہ پیمائی، خودرائی پائی جاتی ہے کہ جسے سن کر خواہ مخواہ آدمی کی طبیعت الجھے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی کوئی بات بناوٹ، ساختگی اور آوُرد سے خالی نہیں ہوتی ۔ بلکہ ان کا کلام نِرا بے لطف اور بے اثر ہوتا ہے۔ خواہ مخواہ عربی، فارسی کے غیر مستعمل لغت ٹھونس ٹھونس کر بھر دیتے ہیں۔ اگر کوئی عبارت لکھنے بیٹھے تو دس بیس لغت کی کتابیں آگے رکھ لیں اور اپنی بے معنی علمیت جتانے کو بڑے بڑے لفظ چن کر اس عبارت میں داخل کرتے چلے گئے اور اس کا نام زبانِ علمی رکھ لیا۔ اگر وہ زبانِ اردو ہے تو اس کا نام بدنام کرنے کو بود کی جگہ تھا، است کی جگہ ہے لکھ دیااور اس عبارت کو سررشتہ تعلیم کا رہنما سمجھ لیا۔ عربی لفظوں کو اس طرح بھرا کہ ایک ایک بات کے چار چار مترادف ٹھہرا کر لکھ دیے۔ ان کی بلا سے کوئی اس سے فائدہ اٹھائے یا نہ اٹھائے۔ کسی نے اس عبارت کو مجذوب کی بَڑ جانا اور کسی نے بلائےجان سمجھا۔ اگر وہ اخبار ہے تو پُڑیاں بندھیں اور جو کتاب ہے تو لڑکوں نے پٹاخے بنائے۔ خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا۔ اب پھر اپنے مطلب کی طرف متوجہ ہوتا ہوں۔

(٨) جس طرح زبان کی خوبی سلاست پر موقوف ہے، اسی طرح اس کی تکمیل ہر قسم کے الفاظ کی دستیابی اور کسی طرح کی روک نہ ہونے پر مخصوص ہے۔ اگر ہم اپنے ملک کے سخت الفاظ سے پرہیز کریں اور ان کو اپنی زبان پر نہ آنے دیں تو سخت کاموں کے واسطے کہاں سے لفظ لائیں گے اور سخت آلات کا نام کن کن لفظوں سے موزوں کریں گے۔ ایسے لفظوں کا استعمال کرنا جو بالکل ہمارے کانوں سے جدا، زبان سے نا آشنا ہوں کسی طرح کارآمد نہ ہوگا۔ بلکہ اگر وہ لفظ ہمارے قواعد اور لہجہ کے موافق ڈھالے جائیں گے تو بھی پورا پورا مطلب نکالنے پر قادر نہ ہوں گے۔ مگر پچھلی صورت جب تک اپنی زبان سے کوئی لفظ بنایا جائے اور اس کی کامل ترقی ہو، کام نکالنے کے لیے اچھی ہے۔ پہلی صورت کا مصداق ہمارے ہندوستان میں اسی شہر کے لوگ ہیں، جہاں کے نوکر چاکر تک جن کو آٹھ پہر اُن لوگوں سے کام پڑتا ہے، اپنے آقا کی بولی نہیں سمجھ سکتے۔ ان کے آقاؤں کی زبان پر عربی فارسی کے وہ الفاظ چڑھے ہوئے ہیں جو شاید ان کے سوا اور لوگ لکھنے میں بھی استعمال نہ کرتے ہوں گے اور وہ بھی لکھتے ہوں گے تو لغت کی کتاب سامنے رکھ کر۔

(٩) پرانی زبانوں کو جو تنزل ہوا ہے اس کا بڑا سبب یہی ہے کہ غیر مانوس الفاظ کا رواج پانا، دوسرے ملک کے ایسے لفظوں کو جن کا ثانی اپنے ملک میں موجود ہو داخل زبان کرنا، سخت سخت مخارج کے لفظوں کو فخریہ اپنی زبان پر چڑھانا، عام لوگوں کی زبان کو پایۂ اعتبار سے گرانا، سہل الخروج لفظوں کو خیال میں نہ لانا۔ علی ہذا القیاس اور بھی ایسے ہی باعث ہوئے ہیں کہ جہاں کوئی کرخت اور سخت لفظ لوگوں کی زبان سے نہ نکلا یا تو اسے بالکل ترک کر دیا یا کچھ سے کچھ کر لیا۔ اور دیگر زبان کے آسان لفظ دیکھ کر اپنی زبان میں ملا لیے۔ سخت زبان صرف کتاب ہی میں دھری رہ گئی۔

(١٠) ایک زمانہ وہ تھا کہ تمام ہندوستان میں سنسکرت پھیلی ہوئی تھی۔ کوئی اکّا دکّا ہی ہوگا جو سنسکرت سے آشنا نہ ہوگا۔ مگر چونکہ اس کے اکثر الفاظ بآسانی ادا نہیں ہو سکتے تھے، اُسی زمانے میں اس سے ملتی جلتی ایک اور پالی زبان بولی جانے لگی۔ جب اُس میں بھی وہی دقت پیش آئی تو پراکرِت کا جھنڈا قائم ہوا، یہاں تک کہ رفتہ رفتہ بھاکا اور پھر اردو زبان کا رواج ہو گیا۔ قدیمی زبان ایسی گم ہو گئی جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ البتہ سنسکرت کے وہ الفاظ جو ہماری زبان سے آسانی کے ساتھ نکل سکتے تھے آج تک جوں کے توں قائم ہیں اور جو الفاظ اس زمانہ میں پنڈتوں کے سوا اور لوگوں کی زبان سے صاف ادا نہیں ہو سکتے تھے یا تو وہ صرف کتابوں میں ہیں یا انھوں نے کوئی اور صورت قبول کر لی ہے۔ یعنی کہیں سے کوئی حرف گرا دیا، کہیں کسی حرف کو کسی حرف سے بدل دیا اور اپنا مطلب نکال لیا۔

(١١) ایک ہی ملک میں ایک زبان کے ہوتے جو دوسری زبان کا رواج ہو جاتا ہے، اُس کا سبب بھی یہی ہوتا ہے کہ پہلی زبان اپنی سختی کے باعث ناگوار گزرنے لگتی ہے۔ دیکھو سنسکرت کے زمانہ میں پالی اور پراکرت نے اپنا جھنڈا گاڑ ہی دیا۔ژند و پاژند کے وقت میں دَری کا نقشہ جم ہی گیا۔ عبرانی کے وقت میں عربی نکل ہی آئی۔ اسی طرح ہر ایک زبان میں ہوتا آیا ہے اور اکثر سخت زبانوں کا یہی حال ہوتا ہے۔

(١٢) اس بیان سے ہماری مراد یہ نہیں کہ غیر زبانوں کے لفظ اپنی زبان میں داخل ہی نہ کیے جائیں۔ نہیں اگر ضرورت پڑے تو ضرور داخل کر لو۔ بعض علومِ جدیدہ اس قسم کے ہیں کہ ان میں جو اصطلاحیں استعمال میں آتی ہیں وہ ہماری زبان میں موجود نہیں۔ مثلاً علم نباتات و جمادات میں جو اصطلاحیں استعمال کی جاتی ہیں، ان کے مرادف ہماری زبان میں  بہت کم ہیں۔ اسی طرح ریل اور تار کی اکثر اصطلاحیں ایسی ہیں، جن کے مرادف نہیں۔ بجائے اس کے کہ ہم نئے لفظ تراشنے کی کوشش کریں اگر انھیں الفاظ کو بجنسہٖ یا تھوڑے تغیر و تبدل سے اپنی زبان میں داخل کر لیں تو اس کا مضائقہ نہیں۔سٹیشن، لمپ، انجن، پنسل انگریزی کے لفظ ہیں۔ مگر ان کا رواج ایسا عام ہو گیا ہے کہ کانوں کو برے معلوم نہیں ہوتے۔ اس قسم کے الفاظ زبان میں داخل کرنے سے زبان کی وسعت ہوتی ہے اور اپنے خیالات کو ظاہر کرنے کا آسان طریقہ حاصل ہوتا ہے۔ البتہ کوئی شخص روٹی کی جگہ بریڈ، پانی کی جگہ واٹر استعمال کرے تو یہ نہ تو کانوں کو اچھا معلوم ہوگا اور نہ زبان کو اس سے وسعت حاصل ہوگی۔

جس وقت ١٩١١؁ء میں دلی شہر ہند کا دارالخلافہ قرار دیا گیا تو ہماری زبان سے حسب فرمائش جناب لفٹنٹ کرنل ڈیلس صاحب بہادر کمشنر دہلی، بے ساختہ اس جدید دار السلطنت کا نام “مستقر الخلافہ” ظہور پذیر ہوا۔ روزانہ پیسہ اخبار اور رسالہ تاج حیدرآباد دکن کے رسالے نے اسے بڑے شوق سے چھاپا۔ چنانچہ بمقتضائے وقت اس جگہ بھی اس کی نقل کیے دیتے ہیں۔

قطعہ تاریخ جدید دار الخلافہ دہلی

یہ ڈیلس بہادر نے فرمایا مجھ سے
اسی کے مطابق ہو نام اس کا ایسا
برآمد ہوا ایسا ہی نام سید
نہ ہجری نہ سمّت نہ فصلی کا جھگڑا
کہ قیصر نگر کی جو ہے شان و عظمت
برآمد ہو تاریخ بے رنج و کلفت
نہیں جس کے اعداد میں کچھ بھی حجت
مگر عیسوی مستقر خلافت

شہنشاہ اکبر کے زمانہ میں اکبر آباد کو مستقر خلافت لکھا جاتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں دہلی شاہجہاں آباد کو بھی مستقر خلافت لکھنا واجب و لازم ہے۔ اب ہم غیر مطبوعہ مقدمہ لغات میں سے کسی قدر عبارت کی اس جگہ نقل کر کے ناظرین رسالہ کو محظوظ کرتے ہیں:

“القصہ دلّی کے ادنیٰ ادنیٰ آدمیوں پر سحر بیانی ختم ہے۔ نغمہ داؤدی ان کی ایک قدیم رسم ہے۔ بات بات میں اعجاز ہے۔ مسیحا کو انھیں حضرات پر ناز ہے۔ فصاحت طفل مکتب ہے اور بلاغت تلمیذِ اصلاح طلب:

کسے را زندگانی شاد باشدکہ در شاہ جہاں آباد باشد

چونکہ ہر بدایت کے واسطے نہایت اور ہر آغاز کے لیے انجام ضرور ہے۔ پس ہمارے وقت کے فصحا نے بعہد گورنری جناب لارڈ کوئیس آف رِپن اور ڈائرکٹر صاحب بہادر سر رشتہ تعلیم جناب کرنل ہالرائڈ صاحب بہادر نے جبکہ اخبار نویسوں کو آزادی بخشی گئی اور پنجاب یونیورسٹی قائم ہوئی تو 1882؁ء میں  زبانِ نیچرل و سخن کو کمال پر پہنچا دیا اور فرشتوں نے زبان کے حق میں مقولہ اتممت عليكم سنا دیا۔ آئندہ امید شستگی معلوم و تمنائے آراستگی مفہوم:

غلط کہ صانع کو ہو گوارا خراشِ انگشتہائے نازک
جوابِ خط کی امید رکھتے جو قولِ جفّ القلم نہ ہوتا

دہلی والوں کا خدا داد ملکہ

جس حالت میں ہم نے دہلی کی پہلی، حال کی اور آئندہ زبان کا بیان، اس کی تمیز اور مقامی فرق کو آئینہ کر کے دکھا دیا تو اب مناسب نہیں کہ 1857؁ء سے پیشتر جو یہاں کے لوگوں کی چال ڈھال، تراش و خراش، چہل پہل ہماری نظر سے گزری تھی اسے چھپائے رکھیں۔ ان کی خدا داد طبعی جولانیاں، ملکۂ داد طلب کی روانیاں، ان کی جودتِ طبع، ان کی روشنیٔ طبع اور بے ساختہ اپج کو دل سے بھلا دیں۔ یہ باتیں آئندہ تاریخ نگاروں کے واسطے ایک قیمتی نوٹ کا کام دیں گی اور موجودہ نسلوں کو دلّی کے خمیر اور وہاں کی سرشت و خصلت سے آگاہی بخشیں گی۔ یہ ایک تھیٹر ہوگا اور ہمارا بیان ان کا ایکٹر۔ لیکن افسوس کہ ہم اس چھوٹے سے رسالہ میں اس کا تمام و کمال تماشا نہیں دکھا سکتے۔ ہر ایک بات کی مفصل کیفیت ہم نے ارمغانِ دہلی کے مقدمہ میں درج کر دی تھی جو آتشزدگی کے بعد کاتب کے گھر سے اور مطبع کے پروفوں سے ہاتھ لگا۔ ان شاءاللہ تعالیٰ اگر خدا کو منظور ہوا تو فرہنگِ آصفیہ کے طبع ثانی کے موقع پر اسے بھی درج کردیں گے۔ اب تو صرف بطورِ نمونہ اس کے ایک موقع کی نقل اس جگہ کر دیتے ہیں۔ اصل مقدمہ میں اس کی سرخی “کرامات دہلی” تھی، اب خدا داد ملکہ ہے۔ جدید دارالسلطنت کی نو بہار دیکھنے والے اِسے بھی پیش نظر رکھیں اور دیکھیں کہ سرزمین دہلی نے اول اول کیسے گل کھلائے اور کیسے کیسے نو نہال پیدا کیے۔ اب نئے سرے سے ہمارے مَلکِ معظم شہنشاہ ہند و انگلینڈ جارج پنجم کے عہدِ معدلت مہد میں یہ گلزار نئے نئے پھلوں، پھولوں سے آراستہ و پیراستہ ہو کر کیسا کیسا لطف دکھاتا ہے۔ عمارتوں کی، سڑکوں کی، تفرّج گاہوں کی، تفریحی مقاموں، جدید بازاروں، جدید شاہی دفتروں، اجتماعِ افواج، انگریزی باجوں، شاہی درباروں، روسائے ہند کے رئیسانہ جلوسوں، شاندار سواریوں، سلامی کی توپوں وغیرہ کی کیسی دھوم دھام دکھاتا اور ہر طرح سے ادنیٰ و اعلیٰ کے دلوں کو لبھاتا ہے۔

قوتِ ایجاد و تقلید

ایجاد و تقلید میں اس شہر کے رہنے والوں کی قوت طبع، رسائی ذہن سب سے زیادہ اور نرالی تھی۔ اگر مغل بننا چاہتے تھے تو کابلی، فارسی کو اس لہجہ اور خوبی سے ادا کرتے تھے کہ وہاں کے ولایتی ان کی صحتِ زبان و لب لہجہ دیکھ کر دھوکا کھا جاتے تھے۔ چنانچہ مشہور ہے کہ نادر گردی  کے موقع پر یہاں کے نقّالوں اور بھانڈوں نے نادر کے چلے جانے کے بعد نادر شاہی سرداروں، فوجی افسروں، قزلباشوں کی نقلیں مجالسِ سور و سرور میں روپ بھر بھر کر ایسی دکھائیں کہ اوروں سے بن نہ آئیں۔ سب دھوکا کھا گئے۔ غرض اگر عرب بننے کا ارادہ کرتے تو اہل عرب کو حیرت میں ڈال دیتے تھے۔ عربی جبّہ و عمامہ، دستار و گفتار بلکہ رفتار میں دھوئے دھائے عرب معلوم ہوتے تھے۔ تعال يا شيخ اهلاً و سهلاً۔ مرحبا في عين الله۔ صبحكم الله بالخير ان کا تکیہ کلام تھا، قال الله، قال الرسول وظیفہ دوام۔ اگر چہ انگریزی میں بھی یہی حال تھا کہ انگلستانیوں کو پرے بٹھاتے تھے مگر اپنے چہرے کی رنگت سے ناچار تھے۔ اگر کوئی شخص پردے میں بٹھا کر انگریزی زبان سنے تو بیشک ولایت زاد کہتے بنے۔ ماسٹر وزیر علی مرحوم کو ہم نے بھی دیکھا اور ان کی زبان سے انگریزی لب و لہجہ سنا تھا۔ ادائے الفاظ میں تمام حرکات و سکنات ہو بہو یورپینوں سے ملتی جلتی تھیں۔ جس حالت میں عربی، فارسی، انگریزی کا یہ حال ہو تو پوربی، پنجابی، کشمیری، مارواڑی، بنگالی وغیرہ کس شمار میں ہیں۔ مگر نہیں پھر بھی جو مادری زبان کا لہجہ ہے اس میں غلطی ممکن تھی، پنجاب کی ہائے مخلوط، پورب کی ہائے مختفی مشکل ہی سے ادا ہوتی تھی۔ قوت ایجاد کا یہ عالم تھا کہ مروّجہ زبانوں کے علاوہ چند مفروضہ سب سے جدا شیریں زبانیں اختراع کرکے یہاں کے لڑکے بالے، لڑکی بالیاں، نوجوان باہم گفتگو کرلیا کرتے تھے، جن سے ناواقف اور اجنبی متعجب ہو کر منہ دیکھتے رہ جاتے تھے اور جو کچھ چاہتے تھے آپس میں صلاح و مشورہ کر لیتے تھے۔ یہ سلسلہ کسی قدر غدر کے بعد بھی جاری رہا۔ مگر اب اس کی بجائے انجانوں کے سامنے انگریزی سے کام لیا جاتا ہے۔

اُن مخترع زبانوں میں زیادہ تر مفصلۂ ذیل زبانوں کا رواج تھا۔ مثلاً زرگری کہ یہ کسی شہر یا ملک کی زبان نہیں ہے۔ صرف حروف تہجی کے دو دو حرفوں کے درمیان  زائے معجمہ زیادہ کرتے جاتے تھے۔ زبان مقلوب،اس میں ہر ایک لفظ کو الٹ کر کہتے اور سیدھا سمجھتے تھے۔ زبان کشٹولی، ہر ایک کلمہ کے اولین حرف کے نام کے بعد (کشٹولی تین، پلاشہ) لگا کے دوسرے حرف پر کشٹولی ماشہ لگا دیتے تھے۔ بکنی یہ بولی حضرت شاہ عالم بادشاہ کے ایام طفولیت کی یادگار تھی۔ اس میں دو حرفوں کے درمیان لفظ بکنی ضرور لاتے تھے۔ جیسے کبکنا، لپکنی، کپکنی یعنی کالپی۔

غرض اسی طرح تمام حروف تہجی کی بولیاں بنا رکھی تھیں۔ ان کے علاوہ فرفری، سرسری، چھپر، کھپریل اور ٹکے وغیرہ کی بولیاں بھی رائج تھیں۔

علی ہذا دہلی کے صنّاع دستکار، اہل حرفہ، ایجاد و تقلید میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے اور اب بھی یہی حال ہے۔ خانم کا بازار غدر سے پہلے یونان کا طبقہ کہلاتا تھا۔ وہاں کے کاریگر خدا داد ذہن، طبع رسا رکھتے اور لقمان کو عقل سکھاتے تھے۔

پوشاک

پوشاک کی یہ دھاک تھی کہ ہر فردِ بشر خود جامہ زیب بن جاتا تھا۔ اپنی شکل و شباہت، تن و توش اور جسامت کے موافق نرالی سج دھج نکال کر اپنے بدن پر لباس موزوں کرلیتا تھا۔ اگر نوجوان ہے تو ایک ایک ٹانکے پر جوانی و طرّاری برستی ہے اور جو بوڑھا ہے تو اس کی ہر قطع و بُرید سے پیری اور سادگی ٹپکتی ہے۔ بانکوں کا بانکپن، چھیلاؤں کا چھیلاپن، ملاؤں کا ملّانہ پن، پہلوانوں کی پہلوانی، شہدوں کا شہدہ پن، اجلافوں کا اجلاف پن، رذالوں کی رذالت ان کی پوشاک و تراش خراش سے خود ظاہر اور شاہدِ حال ہوتی تھی۔ شریفوں کی جس پوشاک کو رذیل اختیار کرتے تھے، شریف اسے یا تو چھوڑ دیتے یا اس میں کچھ نہ کچھ فرق کر دیتے تھے۔ شریفوں میں پہلے اونچی چولی کے انگرکھوں کا رواج تھا، جب ڈوموں، میراثیوں نے یہ وضع اختیار کی تو شریف نیچی چولیاں یہاں تک کہ تابناف بڑھا کر پہننے لگے۔ ڈوموں نے نیچے دامن کا رواج دیا تو شریفوں نے اونچے دامن رکھے۔ دو پلڑی ٹوپیوں کا دستور عام تھا۔ مگر چوگوشی، مغلئی، تاجدار، پچگوشی ٹوپیاں مغل بچے اور شریف زادے پہنتے تھے۔ دہلی کے بانکوں، البیلوں اور وضعداروں کی کج کلاہی مشہور تھی۔ چنانچہ امیر خسروؒ نے بھی کج کلاہی کی بہت تعریف اپنی غزلوں میں باندھی ہے اور اخیر میر تقی میر نے بھی ان کج کلاہوں کو نادر شاہی سفاک خونریز قزلباشوں سے تشبیہ دی ہے۔ چنانچہ یہ قطعہ مشہور ہے:

دہلی کے کج کلاہ لڑکوں نے
کوئی عاشق نظر نہیں آتا
کام عشّاق کا تمام کیا
ٹوپی(١٢) والوں نے قتل عام کیا

مندیلیں، بنارسی دو پٹّے، گولے دار پگڑیاں مسلمانوں میں مروّج تھیں۔ صافے سپاہیوں میں۔ قلعہ معلیٰ میں پگڑی بغیر  کوئی نہیں جا سکتا تھا۔ درباری لوگ جامہ بھی پہنا کرتے تھے۔ امرا جِیغہ، سرپیچ اور شہزادے کلغیاں بھی لگاتے تھے۔ صاحبانِ ہنود میں جامہ کا زیادہ دستور تھا۔ اور پھر نیمہ یعنی نیم جامہ اور الٹی چولی کے انگرکھے کا رواج ہوا۔ مسلمانوں میں الخالق،بالابر، شیروانی، اچکن، انگرکھے، قبا، عبا،جبّہ، چغہ، مرزئی پوستینوں وغیرہ کا حسب موسم دستور تھا۔ ڈھاکہ کی ململ، لکھنؤ کی شربتی، سونی پت کا سَینوں، بنارس کا مشروع، دیسی سوتی کپڑے میں اول نمبر رکھتا تھا۔ پُھہار دار نینوں بھی کرتوں کے کام میں آتا تھا۔ پاجامے یا تو تنگ موری کے یا ایک برکے یا غرارے دار اکثر پہنے جاتے تھے۔ آڑے پاجاموں کا کوئی نام تک نہ جانتا تھا، یہ پنجاب کا تحفہ ہے۔ مُلّانے اُٹنگے یا ٹخنوں سے اونچے پاجاموں، خواہ تہبندوں سے زیادہ رغبت رکھتے تھے۔ امیر مشروع کے، غریب سونی پت کے سینوں اور نینوں کے جھابڑ جِھلّے کرتے پہنا کرتے تھے۔ ہمارے زمانہ میں کوٹ پتلون نے سب کو یکساں کر دیا۔ مہتر سے لے کر کہتر اور چمار تک اس لباس سے ملبوس نظر آتا ہے۔ لمبی لمبی عقربی مونچھوں، مُنڈی ڈاڑھیوں نے ہندو مسلمان کی شناخت بالائے طاق رکھ دی۔ غدر سے پہلے گھیتلے جوتے، کف پائی، کفش یا گول پنجے کے جوتوں کا زیادہ رواج تھا مگر جب سے مرزا سلیم خلف اکبر شاہ ثانی نے لمبے پنجے کی سلیم شاہی جوتی ایجاد کی، اسے زیادہ پہننے لگے اور آج تک پرانے فیشن والے اسی کو پہنے جاتے ہیں۔ مگر زمانے کی رفتار پر چلنے والوں نے بوٹ، گُرگابی،شوز، پمپ، سلیپر وغیرہ پہننے میں سبقت کر لی۔

شریفوں کے مشغلے

شریفوں کا شغل ڈنڑ، مُگدر، بانک(١٣)، بنوٹ(١٤)، پھکیتی(١٥)، اکنگ، تیراندازی، نیزہ بازی، غلیل بازی، لیزم کشی، نعل برداری، پنجہ آویزی، شکرے اور باز کا شکار، روزمرہ آمیز سخن پردازی، نشانہ بازی وغیرہ کھیل جن کی گھر کے اندر مشق کی جاتی تھی اور کوئی نہیں جانتا تھا کہ پھکیت یا بِنَوٹیے یا پٹا باز یا اِکنگ باز ہیں۔ ان میں ایسے ایسے استاد ہوتے تھے کہ وہ صرف رومال میں پیسہ یا ٹھیکری باندھ کر حریف کے سامنے آ جاتے اور رومال کی ضرب سے اس کا ہتھیار چھین لیتے تھے، ان کو ہتھیار کی کچھ ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ بلکہ کشتی گیر بھی اعلیٰ درجہ کے ہوتے تھے۔ بعض لوگوں کو تیراکی اور مچھلی کے شکار کا بھی بڑا ملکہ حاصل تھا۔ غرض سپاہ گری کے فنون سے کوئی خالی نہ تھا اور وقت پر اپنا جوہر دکھا کر مرحبا کا مصداق ہو جاتا تھا۔ چنانچہ مولوی اسماعیل صاحب شہیدؒ تیرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ علیٰ ہذا القیاس ستار بجانے میں مرزا گوہر، مرزا کالے، مرزا چڑیا۔ بین نوازی میں شاہ ناصر وزیر از خاندانِ خواجہ میر درد۔ خوش نویسی میں سید محمد امیر پنجہ کش ، آغا صاحب، مرزا عبید اللہ بیگ، امام الدین، احمد خاں، محمد جان، اخوند عبد الرسول وغیرہ یکتائے روزگار تھے۔

ذہن کی رسائی اور سودا بیچنے والوں کی آوازیں

خدا داد ذہن کی رسائی اور طباعی کا یہ عالم تھا کہ ادنیٰ جاہلِ مطلق ترکاری فروش جن کو غلط و صحیح زبان کا ہوش نہیں اور جاہل کیا بلکہ اجہل ہیں، اپنی ترکاریوں کو اس مزے سے چھڑک چھڑک کر بیچتے تھے کہ اَنہوئے کا جی للچا جاتا اور جی چلا کر خریدار بن جاتا تھا۔ کسی ترکاری کا نام کنایہ و تشبیہِ تام سے خالی نہیں ہوتا تھا۔ غیر ملک اور غیر شہر کا آدمی اِن کے لہجے کی خوبی اور بنا کر بیچنے کی خوش اسلوبی سے مستانہ وار بن بلائے آن پھنستا تھا۔ اگر بالفرض کوئی کنجوس مکھی چوس ہوتا تھا تو وہ بھی حاتم کی قبر پر لات مار حاتمانہ دل کر جاتا تھا۔ کبھی لحن داؤدی کا لطف آتا تھا تو کبھی میاں تان سین کی تان کا مزہ آ جاتا تھا۔ اگر کوئی مارو بینگن بیچنے والا ہے تو چھیبے میں مارو بینگن ہیں اور یہ آواز لگا رہا ہے “بھاڑ میں ڈال یا چنے کی دال میں ڈال”، نام نہیں لیتا۔ مگر لوازمات سے دلنشیں کر دیتا ہے کہ میں وہ چیز بیچ رہا ہوں کہ اسے دل چاہے بھاڑ میں بھنوا کر بھرتہ بناؤ یا چنے کی دال میں پکا کر سالن یا قلیہ کا لطف اٹھاؤ۔ کوئی “شاہ مرداں کی لالڑیاں” پکار رہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ علی گنج کی میٹھی میٹھی لال لال اور اُودی اُودی گاجریں کھاؤ تو لے لو۔ علی گنج کی زمین چونکہ ریتلی ہے اس لیے وہاں کی گاجریں اور جگہ کی نسبت میٹھی اور خوش رنگ ہوتی ہیں جس کے سبب لعل کی تصغیر کرکے لالڑیاں کہہ دیا۔ “پال کے لڈو”، “لڈوے کی پال”، اس جگہ صرف پال کے اشارہ سے جتا رہا ہے کہ ہمارے پاس لڈّو کے مزے کے گولڑے آم ہیں۔ لڈو نہ کھاؤ انھیں کھا لو۔ “تیر کر آئی ہے بہتے دریاؤں کو”، نام نہیں لیا مگر جتا دیا کہ یہ وہ ترکاری ہے جو دریا کے کنارے فالینر  میں بوئی جاتی ہے اور اب دریا پار سے لاکر یہاں بیچی جاتی ہے۔ وہ کیا ہے؟ ککڑی۔ “شرط والے کی باڑی ہے” یعنی شرطیہ میٹھی باڑی کی ککڑیاں ہیں۔ “نون کے بتاسے”، “کالی بھونرالی نمکین”، “نون والے ہی نمکین” جامن(١٦) فروشوں کی آواز ہے۔ (1) چونکہ شروع فصل میں بے دانہ جامن گول اور گودے دار ہوتی ہے جسے فروشندہ نمک ڈال کر ہانڈی میں گھلا کر دیتا ہے اور بتاسے کی طرح منہ میں جلد گھل جاتی ہے، اس سبب سے نون کے بتاسے کہا۔ (2) جو چیز ہم بیچ رہے ہیں وہ بھونراسی  کالی، اسی کے سے قد کی نمک میں گھلائی ہوئی اور نمکین ہے۔ (3) یہ چیز نون کے ساتھ مزہ دینے والی اور نمکین ہے۔ “نرمل تلاؤ کے دودھیا”، “کیوڑے کی بیل کے سنگھاڑے” (1) یعنی ہم جس چیز کو بیچ رہے ہیں وہ صاف پانی کے تلاؤ کے لائے ہوئے اور دودھ کے سے مزہ کی ہے۔ (2) ہم سنگھاڑے بیچ رہے ہیں جن میں کیوڑے کی سی خوشبو ہے۔ پس ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سنگھاڑے کی بیل نہیں وہ کیوڑے کی بیل ہے۔ بھنے سنگھاڑے کی آواز۔ “کاغذ گری کے بھنا دیے بادام” یعنی ہمارے بالو میں بھنے ہوئے سنگھاڑے کاغذی بادام کی گری سے کم نہیں ہیں۔ نام تو نہیں لیا مگر مزہ یاد دلا دیا۔ علی ہذا “اخروٹ کی گری کے مزے کا، گرمی کی ٹھنڈائی ہے میرٹھ سے منگائی ہے” کسیرو والے کی آواز۔ چونکہ میرٹھ کے پاس کسیرو کھیڑے میں بہ کثرت ہوتے ہیں اور موسم گرما میں ان کے کھانے سے دل میں ٹھنڈک سی پڑ جاتی ہے، نیز مزاجاً بھی دوسرے درجہ میں سرد ہیں، پس اس مناسبت سے یہ آواز لگائی۔ “پیڑ کے پکّے امرود میں سیب کا مزہ” اس آواز میں جتاتا ہے کہ پھل وہی اچھا ہے جو پیڑ کا پکّا ہو نہ کہ پال ڈال کے یا گدرے توڑ کر پختہ کر لیے ہوں، پس ہمارے پاس پیڑ کے پکّے امرود ہیں اور اسی وجہ سے ان میں سیب کا مزہ ہے۔توت فروش کی آواز “ریشم کے جال میں ہلایا، قند کا بنا ہے جلیبا”۔ باغبان اکثر تو یونہی پیڑوں کی ٹہنیاں ہلا کر شہتوت جھاڑ لیا کرتے ہیں اور بعض درخت کے نیچے چادر تان کر ٹہنی کو ہلا دیتے ہیں، ریت اور مٹی سے بچا کر جمع کر لیتے ہیں۔یہ کہتا ہے کہ ہمارا جلیبا ریشم کے جال میں ہلا ہلا کر جھاڑا گیا ہے۔ گرد و غبار سے پاک ہونے کے سبب اس میں قند کا مزہ ہے، گویا قند سے ہی بنایا گیا ہے۔ ریشم کے جال سے ایک اور خوبی بھی جتائی یعنی ظاہر کر دیا ہے۔ چونکہ ریشم کے کیڑوں کی توت کے پتّے خوراک ہے اور اسی درخت پر وہ پالے نیز پرورش کیے جاتے ہیں۔ پسں ہم نے اسی کیڑے کے جال میں جھاڑ کر اکھٹا کیا ہے جو اس درخت کا مایہ ناز اور اعلیٰ درجہ کا ریشمی کیڑا ہے۔ آڑو والے کی آواز “ڈالی ڈالی کا گھلا پیوندی ہے” یعنی ہمارے پاس پیوندی آڑو ہیں جو ڈالی ڈالی میں پک کر قدرتاً گھل گئے ہیں۔ فالسے والے کی آواز “سانولے سلونے ہیں شربت کو” یہاں فالسوں کا نام نہیں لیتا مگر ان کی رنگت اور لوازمات کو جتا رہا ہے جس سے گاہک خود سمجھ جاتا ہے کہ سانولا رنگ اور نمک سے مزیدار بننے یا شربت بنا کر پینے والی چیز یعنی فالسے ہیں۔ وہ یہ سمجھ کر خرید لیتا ہے کہ فالسے ہیں۔ خربزہ والے کی آوازیں “قند کے ڈلے ہیں قند کے” (2) تربوز فروش کی آواز “باڑی کے رنگ لال ہیں”۔ (3) “رنگت کے گھڑے ہیں”، “بھائی سب ہی رنگ لال” (1) یعنی مزے میں قند کے ڈلے ہیں تربوز (2) فالیز کے رنگ لال تربوز ہیں۔ (3) مصنوعی رنگ سے لال نہیں کیے ہیں بلکہ کھیت میں ہی پک کر لال ہوئے ہیں۔ ان کو ضرور خرید لو۔ “کالے پہاڑ کی سوندھی اور میٹھیاں” (پھونٹیں) (2) “بیجوں سے میٹھیاں” یعنی سیندھیاں یا کچریاں۔ یہ کچریاں بیچنے والے کی آواز ہے کہ ہم منہ سے نام نہیں بتاتے مگر اتا پتا دیتے ہیں کہ جو چیز ہم بیچ رہے ہیں یہ اس کھیت کی ہیں جو دہلی سے قریب جانب غرب کالا پہاڑ نامی ہے۔ وہاں کی سوندھی اور میٹھیاں ہیں۔ بھلا کیا؟ کچریاں ! جن کا خوشگوار خوشبو کے سبب سیندھیاں نام پڑ گیا ہے۔ میٹھی بھی ہیں، کھٹ مٹھی بھی۔ ان کے بیج اور جگہ کی کچریوں کی طرح کڑوے نہیں ہیں۔ بھٹے والے کی آوازیں “دریا کی ریتی کے کیلے ہی کا مزہ”، “نو بہار کیلے بھٹے لے جا ہری ڈالی کے”، اول آواز میں بھٹے کو بلحاظِ قد و قامت و شیرینی  کیلے سے تشبیہ دی۔ دریاؤں کی ریتی سے اصل کیلے کا شبہ مٹا دیا تاکہ خریدار دھوکا نہ کھائے۔ دوسری آواز میں لفظ نو بہار سے نیا پھل، ہری ڈالی سے اس کے تازہ ہونے کا یقین دلایا۔ کیونکہ تازہ بھٹّا جس قدر میٹھا ہوتا ہے دیر کا رکھا ہوا یا رات کا بسا ہوا ایسا مزیدار نہیں ہوتا۔ اس خوبی کے علاوہ بعض میوہ فروش تو مصرعے کے مصرعے گھڑ ڈالتے ہیں۔ مثلاً “مزہ انگور کا ہے رنترے(١٧) ہیں” پورا مصرع ہے جسے شاعروں تک نے مانگ کر اپنی غزلوں میں شامل کر لیا اور دوسرا مصرع اس طرح چسپاں کر دیا ہے “عسل زنبور کا ہے سنترے میں”۔ کھٹّے چنے والے کی مصرع میں آواز “کرارے بُھربُھرے نیبو کے رس کے”، دیگر “لے آ چاٹ ہے یہ دہی کے بڑوں کی”، “یہ جاڑے کی لو کھوپرا ہے گجک” یعنی گجک جو ہم تلوں سے بنا کر بیچ رہے ہیں، یہ جاڑے کے موسم کی گجک اور کھوپرے کے مزے کی نیز موسم سرما کے مناسبِ حال ہے۔ غدر سے ایک برس پیشتر ایک موتیا فروش بوڑھا چاندنی چوک میں یہ آواز لگایا کرتا تھا۔ بالا خانوں کی تعلیم سے آشنائی رکھنے والے پھولوں، کنٹھوں کے دلدادہ، عاشق مزاج اسی سے خرید کر رقاصوں، طوائفوں کو اپنے گلے کا ہار بناتے اور پھولے نہ سماتے تھے۔ وہ دلفریب و دلکش آواز تھی۔ گل فروشوں کی آوازیں “لوکٹورے موتیا میاں لوکٹورے (مو)”، “کیا لپٹیں آ رہی ہیں چنبیلی میں”، “کیا بہار ہے زرد چنبیلی میں”۔ القصہ ہر ایک چیز کے بیچنے والے کی جداگانہ آواز تھی۔

یہی فقیروں کا حال تھا کہ روز ایک نئی صدا بنا کر گھر گھر مانگتے پھرتے تھے۔ کوئی کہتا تھا (1) کیا تھا کیا ہو گیا۔ چمن تھا گل ہو گیا۔ (2) کیا تھا کیا ہو گیا گل تھا چمن(١٨) ہو گیا۔ یاد رب کی اور خیر سب کی۔ یہاں دے اور وہاں لے۔ ترے آگے کی بھی خیر پیچھے کی بھی خیر (یہ ایک رسول شاہی پر معنی صدا تھی)۔ اِس ہاتھ دے، اُس ہاتھ لے۔ فرید شکر گنج، نہ رہے دکھ نہ رہے رنج۔ دُھم قلندر دودھ ملیدہ۔ مست قلندر دودھ ملیدہ۔

اب ذرا سقّوں کی بھی کیفیت سنیے۔ چھل پلانے والے سقے۔ دہلی میں ایک تو وہ سقے ہیں جو گھروں میں پانی بھرتے پھرتے ہیں اور ایک وہ ہیں جو دن بھر کٹورہ بجا کر بازاروں میں دو کوڑی پیاس، چار کوڑی پیاس پانی پلایا کرتے تھے، انھیں چھل پلانے والے سقّے کہا کرتے تھے۔ سہ پہر سے چاندنی چوک میں، جامع مسجد پر، چاؤڑی بازار میں، فراشخانہ کے باہر ان کا جمگھٹ رہا کرتا تھا۔ ایسے مزے سے تال سر کے ساتھ دو کٹورے ملا کر بجاتے تھے کہ بار بد بھی ان کے آگے کان پکڑتا تھا۔ اور جس وقت دو سقّوں میں بحث آ پڑتی تھی تو ہر ایک اپنا کمال دکھا کر تحسین و آفریں کا مستحق ہوتا تھا۔ بھری مشک کندھے پر ، مشک پر کھاروے کا تربتر کپڑا پڑا ہوا، ٹھنڈے اور میٹھے پانی کا کٹورا بھرا ہوا لیا  اور ہر ایک شریف سے کہا کہ میاں پانی لاؤں! اگر کسی نے سبیل پلانے کی اجازت دے دی تو اس صورت میں شعر پر شعر پڑھتے جاتے اور سبیل پکارتے جاتے تھے۔ کوئی کہتا تھا کہ سبیل ہے پیاسوں کو۔ کوئی کہتا تھا کہ تیرے پاس ہو تو دے جا، نہیں پی جا راہِ مولی۔ کوئی کہتا تھا کہ سبیل ہے حسینؑ کے نام کی۔ سبیل ہے دونوں شہزادوں کے نام کی:

پانی پیو تو یاد کرو پیاس امام کیپیا سو! سبیل ہے یہ شہیدوں کے نام کی

دن بھر پانی پلاتے۔ رات کو اپنی اپنی منڈلی میں بیٹھ کر کھنڈ الاپتے اور تمام دن کی تھکن اتارتے تھے۔ باقی پھر کبھی:

اب تو جاتے ہیں میکدہ سے میرپھر ملیں گے اگر خدا لایا

گئی گزری سلطنت کے شاہی کھیل تماشے

جہاں ہم نے 1857؁ء سے پیشتر کی زبان اور سرزمین دہلی کی خاصیتیں، تاثیریں، باشندوں کی خدا داد طبیعتیں، جودتیں، ایجاد و اختراع کی قوتیں دکھائی ہیں، وہاں بطور یادگار یہ بھی کانوں میں ڈال دینا ضرور ہے کہ یہاں کے گئے گزرے بادشاہوں میں اخیر دم تک کس کس بات کی ہوس باقی تھی اور کون کون سے خاندانی اثر اُن کے رگ و ریشہ میں دوڑتے پھرتے تھے۔

خاندانی سلطنت کے آداب و قاعدے، سواری، شکاری کے طریقے، دربار خاص و عام کے قرینے، روز مرہ کے برتاوے، نیاز نذروں کے ڈھنگ، سیر تماشوں کے رنگ بقدر معلومات مختلف موقعوں پر دکھا دیے۔ اب خاتمہ پر ان کے دل بہلاوے لکھ دینا بھی خالی از لطف نہیں۔

جنگ و جدل کے خیال، انسانی قربانیوں، ملک ستانیوں کے چاؤ، خونی فواروں اور  پچکاریوں کی ہوس تو انھوں نے دل سے بھلا دی تھی۔ کیونکہ سرکار انگریزی کی امن پسند سلطنت کی بدولت ملک کی حفاظت، امن و امان کا قیام ایسا تھا کہ نہ فوج کی ضرورت تھی نہ سامانِ جنگ کی۔ اس کی بجائے کبوتر بازی، پتنگ بازی، بٹیر بازی، مرغ بازی، سبزوار مرغیوں کے انڈوں کی بیضوی جنگ اختیار کر لی تھی۔ مرغ بازی، تیتر بازی، بلبل بازی، دنبہ بازی وغیرہ۔ کبھی کبھی اپنے بزرگوں کی طرح باہم ہاتھیوں کی لڑائی، ہاتھیوں اور بگھیلوں کی ہاتھا پائی۔ چیتوں کا شکار دل میں چٹکیاں لیتا تھا تو ٹائیں ٹوئیں یہ تماشا بھی نظر آجاتا تھا۔ لیکن وہ رونق، وہ دھوم دھام کہاں جو ان کے بڑوں کو حاصل تھی۔ البتہ اپنا جی ضرور بہلا لیتے تھے۔ لیجیے اب اخیر زمانہ کے اس تھیٹر کے پردے کو بھی ملاحظہ فرمائیے۔

ہاتھیوں کی لڑائی

جب ہاتھیوں کی لڑائی دیکھنے کا شوق اچھلتا تو دریا کی ریتی میں زیرِ جھروکوں دریا کے ریتے کا ایک بڑا سا پشتہ باندھا جاتا۔ آمنے سامنے دو جنگی ہاتھی جو لڑائی کے لیے تیار کیے جاتے تھے، وہاں لاکر کھڑے کر دیے جاتے۔ اس وقت باندار چرخیاں اور بان، فیلبان بھالے اور برچھے لے کے، سانٹ مار چست کپڑا پہن کے سانٹے ہاتھوں میں لیے ہاتھیوں کے ارد گرد کھڑے ہو جاتے۔ سانٹ مار ہاتھیوں کو چمکا اور گرما دیتے۔ ان میں سے ایک نہ ایک پھرتی کر کے ہاتھی کے پیٹ کے تلے سے نکل جاتا۔ ہاتھی جھنجھلا کر اس کا رخ کرتا۔ دوسرا سانٹ مار پینترا کاٹ ہاتھی کے برابر آجاتا۔ ہاتھی اس کی طرف مڑتا، تیسرا لپک کے ہاتھی کے آگے سے نکل جاتا۔ ہاتھی اس پر دوڑتا، وہ کاوا دے پیچھے آجاتا۔ جب ہاتھی خوب گرما جاتے تو پہلے سونڈیں ملا کر زور کرتے۔ ایک دوسرے کو اپنی طرف کھینچتا، مستکیں ملا کے وہ اسے ریلتا اور یہ اسے دھکیلتا اور رگیدتا۔ ان میں جو دل کا بودا ہوتا، دوسرے کا زور اور ٹکّر سنبھال نہ سکتا تھا۔ چنگھاڑ مار کر پیچھے ہٹ جاتا۔ دوسرا شیر ہو کر اس پر دوڑتا۔ فیلبان بھالے لے لے کر دوڑتے۔ دونوں کا بیچ بچاؤ کر، ہٹا ہٹو پرے لے جاتے اور یہ کہتے جاتے کہ دیو صفت بہادرو چلو غصہ تھوک دو۔ تم تو وہ کالے پہاڑ ہو کہ تم سے رستم بھی ٹکر نہیں لے سکتا ۔یہ تو دو پہلوانوں کا کمالہ تھا ۔جنگ زرگری کی ہار جیت اور مار پیٹ کیا ۔یہ بھی مردوں مردوں کی ایک جھڑپ تھی جو بادشاہ سلامت کے خوش کرنے کو دکھا دی گئی۔

ہاتھی اور بگھیلے کی لڑائی، بادشاہ کے کلام کا عام شوق

اسی طرح ایک روز بادشاہ کے دل میں یہ اُمنگ اٹھی کہ اب تو ہاتھی اور بگھیلے(١٩)  کی لڑائی دیکھے بہت دن ہوئے۔میر شکار کو بلاکر حکم دیا کہ کل ہاتھی اور بگھیلے کی لڑائی کا تماشا دیکھا جائے گا، ضروری انتظام کر لو۔دہلی کی یہ مثل مشہور ہے کہ ہونٹوں نکلی کوٹھوں چڑی اور خاص کر بادشاہ کی بات کہ اس کے واسطے در و دیوار، ہرےسوکھے روکھ، رنگ برنگ کے پکھیرو، چرند، پرند، ہوا کے جھونکے سب تار کا کام دیتے ہیں۔ میر شکار شاہی شکار خانہ تک نہیں پہنچا تھا کہ تمام قلعے اور سارے شہر میں اس لڑائی کی خبر پہنچ گئی۔ سیلانی جیوڑے تماشائی صبح سے پوشاکوں کو درست کرنے لگے۔ ہر ایک سیلانی یہی جانتا تھا کہ بادشاہ کی سب سے پہلی نظر ہماری ہی پوشاک پر پڑے گی۔ خوب بن ٹھن کر تماشا دیکھنے آئے۔ دہلی میں بہادر شاہ کی ہر ایک چیز اور ہر ایک بات اس قدر مرغوب تھی کہ اِدھر بادشاہ سلامت کے منہ سے کوئی بات نکلی، اُدھر شہر کے ایک ایک گلی کوچے میں اس کا چرچا ہو گیا۔ مثلاً بادشاہ نے کوئی غزل، ٹھمری، ٹپّہ، ہولی یا بسنت کہہ کر میر منشی کے حوالے کی اور وہ صبح ہی سے ایک ایک راہ گیر، چھوٹے چھوٹے بچے، بڑے بڑے خوش گلو گاتے ہوئے پھرتے نظر آئے۔ گائنیں بھی اسی تاک میں رہتی تھیں۔ ڈوم ڈھاریوں کو دوڑایا، وہ یاد کر کے لائے اور تھوڑی ہی دیر میں نوکِ زبان کر کے مجرے کی جما دی۔

بادشاہی غزلیں سب سے پیشتر ٹرمونہی خانم کو دی جاتی تھیں۔وہ فن موسیقی میں ید طولیٰ رکھتی اور ٹیڑھے منہ سے گا کر بڑے بڑے گویّوں کو سیدھا کر دیتی تھی۔ جس وقت وہ شاہی محل کے صحن میں چاندنی رات کو الاپتی تو اس کی آواز شاہدرہ، نونی، میراں شاہ عبداللہ اور بہٹے میں اس طرح لوگ سن لیتے کہ گویا اسی جگہ گا رہی ہے۔ غدر کے بعد اپنا بنا گھر اجاڑ کر بی ٹِرمونہی خانم درگاہِ حضرت خواجہ نظام الدین میں آ کر رہیں۔ حضرت سے ان کو کمال عقیدت تھی۔ روز صبح کو درگاہ شریف میں تشریف لاتیں۔ کبھی ساز کے ساتھ، کبھی بغیر ساز ہی دو چار چیزیں حضرت کے مزار مبارک کی نذر کر جاتیں۔ اگر بہادر شاہ کا کوئی ٹپّہ گایا تو شوری ٹپّہ گر کی روح کو خوش کر دیا۔ ٹپہ کا گانا کچھ آسان کام نہیں۔ اس میں آدمی کا سینہ شق ہو جاتا اور ٹپّہ کے شور میں سب کی آوازیں پست پڑ جاتی ہیں۔ کسی ٹھمری کی لَے اٹھائی تو حسینی پیا، سند پیا، پُھلرنگ، خوش رنگ، سدا رنگ اور قدر وغیرہ کو اپنے شوق رنگ کا ادنیٰ چیلا ثابت کر دیا۔ خالص پنجابی ہندی بھاکا، دوہے، ہولیاں، صوفیانہ رنگ میں رنگی ہوئی چیزیں خوب ادا کرتی تھی۔ دُھرپد، ترانہ بھی خوب گاتی تھی۔ اس کو بادشاہ کی بہت سی ایسی غزلیں یاد تھیں کہ وہ چاروں دیوانوں میں نہیں ہیں۔ چنانچہ ایک مصرع اور ایک شعر اس وقت ہماری زبان پر آ گیا ؏

بغض اچھا ہے کسی سے نہ عداوت اچھی

شعر:

اس زمانے میں ظفر ہم سے اگر سچ پوچھواپنا گھر اچھا ہے آپ اچھے قناعت اچھی

مرزا شاہرخ والی محبوبن گو بادشاہی طوائفوں میں داخل نہ تھی مگر اس کا گانا قابلِ تعریف تھا۔ ضامن علی شاہ ضامنؔ، صابری چشتی متخلص بہ ضامن سہارنپوری اس کے پیر تھے۔ اس سبب سے صابری رنگ میں ڈوبی ہوئی تھی۔ اساتذہ فارسی کا منتخب کلام بھی اسے خوب یاد تھا۔ سعدی، حافظ، جامی، مغربی، خسرو وغیرہ کی فارسی غزلیں؛ ظفر، داغ، ذوق، مومن، غالب، معروف وغیرہ کی اردو غزلیں اس انداز سے ادا کرتی تھی کہ غزل کی صورت باندھ دیتی تھی۔ ضامن کی غزلوں اور ان کے سات سمندر کی وہ خود عاشق تھی۔ پہلے اس کا نام نصیبن تھا۔ آواز کی مقبولیت کے سبب محبوبن ہو گیا۔ در اصل مرزا شاہ رخ شہزادۂ دہلی کی خانہ زاد تھی۔ انھوں نے اسے خوش الحان و خوش آواز دیکھ کر نامی گویوں سے تعلیم دلوائی تھی۔آواز میں یہ تاثیر تھی کہ کیسا ہی غل شور مچ رہا ہو، جہاں محبوبن نے سُر نکالا اور سب کو سانپ سونگھ گیا۔ شہر خاموشاں کا عالم اور سنسان نظر آنے لگا،  پھر واہ واہ کی داد ملنے لگی۔ گو اب بڑھیا ہو گئی تھی، مگر اسے آگرہ والی مُنّی سے جو بھڑا دیا تو یہ بوڑھا پہلوان کُشتی جیت کر اٹھا۔ در حقیقت وہ کسبی نہ تھی۔ بہت بڑی شائستہ، نستعلیق، سلیقہ شعار، مردم شناس، صاحب حال و قال گویا بظاہر طوائف تھی۔ اس کی گفتگو میں رس تھا، دل دردمند تھا، مزاج حق شناس و حق پسند ۔ مخیر بھی تھی، خدا ترس بھی تھی۔ دو چار راگ پسند بوڑھے اس کے دروازے پر پڑے بھی رہتے تھے۔

غرض ہاتھی اور بگھیلے کی دھوم مچ گئی۔ تمام شہر کے لوگ صبح ہی سے ریتی میں جانے شروع ہو گئے۔ بادشاہی جھروکوں کے نیچے دریا کی ریتی میں بادشاہ کی طرف سے تماشائیوں کے بند و بست، ان کی حفاظت کے لیے نجیب، سپاہی، تلنگے اور بہت سے سوار کھڑے ہو گئے تاکہ کوئی جھپٹ میں نہ آجائے۔ میدان کے دُھر بیچ میں فیلبان ہاتھی کو لے کر آئے۔ ہاتھی جھومتا جھامتا، مستانہ چال سے اٹکھیلیاں کرتا ہوا ان کے ساتھ آیا۔ ارد گرد بھالے بردار، بان بردار گویا اس کے خیر مقدم میں کھڑے ہو گئے۔ شکاری بگھیلے کو ہاتھی کے سامنے لائے۔ اس کی رسیاں کھول دیں۔ بگھیلے نے کھلتے ہی ہاتھی پر حربہ کیا۔ ہاتھی نے داؤں بچا کر اس کا وار خالی دیا، بگھیلا جھنجھلا کے ہاتھی پر جھپٹا۔ سُرتے ہاتھی نے کترائی دی۔ پھرتی سے اسے سونڈ میں لپیٹ لیا۔ دونوں پاؤں کے نیچے دبا کے سونڈ سے اٹھا پرے پھینک دیا۔ جونہی ہاتھی پیچھے ہٹا، بگھیلا لوٹ پیٹ کر کھڑا ہو گیا اور کلانچیں مارتا ہوا جھروکوں کی طرف آیا۔ ساری خلقت ڈر کے مارے بِھرّی ہو گئی اور سر پر پاؤں رکھ کر گڑھے گڑھولوں میں جا چھپی۔ کچھ آدمی دریا میں کود پھاند اتر گئے۔ چھوٹی عمر کے بچے تتیری ہو گئے۔ سارا میدان ہو کا مکان بن گیا۔میر فتح علی جو بادشاہ کے جنگلی وزیر کہلاتے تھے، دو نالی بندوق ہاتھ میں لیے ڈٹے رہے۔ اپنی جگہ سے نہ سرکے۔ وہی کہاوت کر دکھائی “قطب جنبد نہ جنبد گل محمد”۔ دور سے گولی بھی نہ چٹخا سکے کہ خلقت چاروں طرف چھپی چھپائی پڑی ہے، کوئی نشانہ نہ بن جائے۔ بگھیلا میر صاحب کو بت بنا کھڑا دیکھ کر انھیں پر لپکا۔ میر صاحب نے اس کے گولی ماری مگر وہ خالی گئی۔ اس بات سے بگھیلا بھبک کر غراتا ہوا ان پر دوڑا۔ میر صاحب نے دوسری گولی اور سرکی ، وہ بھی زمین میں دھس گئی۔ بگھیلے کے ایک بھی نہ لگی۔ بگھیلے نے آتے ہی حملہ کر کے میر صاحب کو پنجوں سے گرا دیا۔ یہ دیکھتے ہی شکاری، بہلیے، پھندیت دوڑ پڑے اور اس موذی کو جوں توں پکڑ کے باندھا۔

میر فتح علی کو بادشاہی ملازم اٹھا اٹھو  کر ان کی قیام گاہ میں زیر جھروکوں لے آئے۔ پنجوں کا خفیف سا زخم آیا تھا۔ لیکن صدمہ سے بیہوش ہو گئے تھے۔ بادشاہی حکیم، طبیب، جراح، فوراً آ موجود ہوئے۔ دوا درمن کر کے ہوش میں لائے۔ زخم پر مرہم پٹی باندھ بوند چند روز میں اچھا بچھا کر دیا۔ ان کی اس ثابت قدمی اور جانبازی سے تمام قلعہ و شہر میں واہ واہ ہو گئی۔ بادشاہ کے ہاں بھی قدر و منزلت بڑھی۔

بادشاہ کے سامنے چیتے اور ہرن کا شکار

بہلیے اور شکاری ہرن وغیرہ جنگل میں سے گھیر گھار کر لائے۔ چیتے والوں نے چیتے کی آنکھوں پر سے ٹوپی اتار کے ان کی طرف چھوڑ دیا۔ چیتے نے داؤں گھات لگا کے ایک آدھ کو دبوچ لیا۔چیتے والے دوڑے۔ چیتے کو پنیر وغیرہ کی چاٹ چٹا کے اس کی پیٹھ اور دم پر ہاتھ پھیرا۔ اور پیار چمکار کے اس سے شکار چھڑا حلال کیا۔

ایک دن اسی طرح بادشاہ کے سامنے چیتی کو شکار پر چھوڑا۔ جوں ہی چیتی نے دبک کر گھات لگائی، ہرن چوکنا ہو گیا اور چوکڑی بھرتا ہوا ایسا بھاگا کہ نظروں سے غائب غُلّہ ہو گیا، پھر نہ دکھائی دیا۔ چیتی شکار کے ہاتھ نہ آنے سے جھونجل میں آ کر اُلٹی پھری۔ خلقت جو تماشا دیکھ رہی تھی، ڈر کے مارے تِتّر بتّر ہو گئی۔ مگر شاہ صمد خاں جو سمند خان مشہور تھے، جوان، قوی ہیکل، خوشرو، بڑے دل چلے، بادشاہی رسالدار تھے۔ ایسے وقت میں طرح دے کر بادشاہ کے سامنے سے ہٹ جانا حقارت اور تُھرڈلی سمجھے۔ اپنی جگہ سے نہ ہلے۔ وہیں جمے کھڑے رہے۔ چیتی بھبھک کر ان پر آئی۔ وہ نہتّے کھڑے تھے۔ ان کے ہاتھ میں کوئی لکڑی تھی نہ ہتھیار جو اس پر وار کرتے۔ صرف اوسان ان کے ہتھیار بن گئے اور وہی اس وقت کام آئے۔ انھوں نے پیترا بدل اس کا وار خالی دیا۔ سپاہیانہ پیچ کر ایک ہاتھ سے اس کے دونوں ہاتھ پکڑ، دوسرے ہاتھ سے اس کا ٹیٹوا دبا سر پر سے چکر دے زمین پر دے مارا۔ تمام لوگوں میں ان کی دلاوری کا شہرہ ہو گیا اور بہت سی واہ واہ ہوئی۔ بادشاہ نے خوشنود ہو کے معزز و ممتاز فرمایا۔

بٹیر بازی

جہاں اساڑھ کا مہینہ شروع ہوا، باغوں میں بٹیریں پکڑنے کے جال لگائے گئے۔ باغوں کے مکان اور بارہ دری فرش فروش سے سجائی گئی۔ شوقین شہزادے مع سامان، نوکر چاکر وغیرہ وہاں جا رہے۔ پلی ہوئی بٹیروں کو جال دار تھیلیوں میں برابر برابر بانس میں باندھ کے اونچی بلیوں میں لٹکا دیا۔ رات بھر بٹیروں کی آواز پر بٹیر گرتے رہے۔ فجر ہی منہ اندھیرے شاہزادے نوکروں اور مصاحبوں کو لے کے بٹیروں کی گھِرائی کو اٹھے۔ باغ میں چاروں طرف آدمیوں کو پھیلا کے بٹھایا۔ رسان رسان ہاتھوں سے تھپکی لگا کے سب طرف سے بٹیروں کو گھیر کے جال کی طرف لے گئے۔ جب بٹیر جال میں پہنچ گئے، جلدی سے جال کے بندھن جو بلّیوں میں بندھے ہوئے تھے کھول کے جال گرا دیا۔ جتنے بٹیر جال میں پھنس گئے پکڑ لیا۔ نروں کو کابکوں میں رکھا۔ مادینوں کو حلال کر کے کھا لیا۔ نئے پکڑے ہوئے بٹیروں کو دونوں مٹھیوں میں پکڑ کے مونٹھیں کیں،ان کی چمک نکالی۔ رات کو مونٹھیں کر کے بٹیروں کے کانوں میں کو کا اور جگایا۔ ماشوں سے ناپ تول کر دانہ پانی انھیں دیا جس سے ہلکے پھلکے، چست چالاک رہیں۔ بھدّے اور مست نہ ہو جائیں۔ جب بٹیر لڑائی کے لیے تیار کر لیے اور خوب آزما لیے تو آپس میں صیدیوں سے لڑائے۔ بھروسے کے بٹیروں کو مشک، زعفران میں رنگ رنگا کر بادشاہ کے سامنے جا لڑایا۔ لڑتے لڑتے جس کا بٹیر بھاگا وہ فق رہ گیا، جس کا بٹیر بازی جیتا اس نے شور مچایا “وہ مارا بھگا دیا”۔ ہار جیت کے اپنے گھر آئے۔ بازی جیتے ہوئے بٹیروں کے پاؤں میں چاندی کی کڑیاں ڈال دیں۔ جب تک موسم رہا آپس میں لڑاتے رہے۔ جب موسم نکل گیا، بٹیر بازوں کے حوالہ کیا کہ ان کے ہر موسم کا رکھ رکھاؤ اور دانہ پانی کی خبر گیری کرتے رہیں۔ گرمیوں میں دودھ نان پاؤ، جاڑوں میں کنگنی وغیرہ ملتی رہے۔ اب جب موسم آئے گا پھر اسی طرح پکڑیں گے اور لڑائیں گے۔

کبوتر بازی

گردان اڑان کبوتروں کے ساتھ(٢٠)  کے ساتھ رنگ برنگ کے دو ڈھائی تین سو کے، کوئی زرد پٹیتوں(٢١) کا، کوئی کالے پٹیتوں کا، کوئی کالے سبز مُکھی وغیرہ کا۔ ہر ایک ساتھ ایک ایک رنگ کا تھا۔ جب بادشاہ کو کبوتروں کی سیر دیکھنی منظور ہوتی تھی، کبوتر باز بھڑیاں(٢٢) اور تاوے(٢٣)  دے کر دو چار ہوائیں بادشاہ کے سامنے دے دیتے تھے۔ ایک کبوتروں کا ساتھ(٢٤) ایسا گردان تھا کہ کبوتر باز نے قلعہ سے اڑایا اور چھیپی سے اشارہ شاہدرہ کی طرف کر دیا، وہ سیدھے شاہدرہ پہنچے۔ وہاں سے دانہ کھلا کر کبوتر باز نے اڑا کے چھیپی سے قلعہ کی طرف ہانک دیا اور زفیلنا(٢٥) شروع کیا، وہ سیدھے قلعہ میں چلے آئے۔ ایک کبوتروں کا ساتھ بادشاہ کی جلوسی سواری کے ہمراہ ایک کاٹھ کے ہاتھی میں جس پر کاٹھ ہی کا ہودہ بھی ہوتا تھا، عید گاہ میں جاکر کبوتر باز ہاتھی کی پیٹھ کی کھڑکی کھول کر کبوتروں کو نکالتا۔ کبوتر ہاتھی کے اوپر ہودے میں جسے قُلقُل کہنا چاہیے، جا بیٹھتے۔ کبوتر باز دو چار ہوائیں اڑاتا اور پھر اسی ہودے میں بند کر دیتا۔

بیضہ بازی یعنی سبز وار مرغیوں کے انڈوں کی لڑائی

شہزادوں نے اچھی نسل کی سبزوار(٢٦) مرغیاں بڑی تلاش و جستجو سے منگوا کے ان کے انڈے بٹھا کے بچے نکلوائے۔ مرغیوں کا رکھ رکھاؤ، کھول موند کی خبر گیری ایسی ہوتی تھی کہ وقت پر کھولا، پھر اپنے سامنے ہی انھیں پھرایا، چلایا، دانہ پانی دے کے کھانچوں میں بند کر دیا۔ مرغوں کو بادام، مرغیوں کو گوشت کی بوٹیاں وغیرہ کھلاتے کہ انڈے مضبوط ہوں۔ انڈوں کی بڑی نگہبانی ہوتی تھی۔ کوئی انڈا چوری نہ جائے تاکہ اور جائے نسل نہ پھیلنے پائے۔ ان کے انڈے ایسے مضبوط اور نوک دار ہوتے تھے کہ چین کی مرغیوں تک کے انڈے توڑ ڈالتے تھے۔ نوروز کے موقع پر وہ انڈے دیتی تھیں۔ چنے برابر انڈوں پر نیش ہوتا تھا۔ ہر منگل کو صیدی آپس میں لڑاتے تھے۔ نوروز کے دن شاہزادے انڈوں کو مشک و زعفران سے رنگ رنگا کے حضور میں لاتے اور لڑاتے تھے۔

سبز وار مرغیوں کا حلیہ یہ ہے: حلق کے نیچے سرخ گوشت اور رنگ برنگ کے پر ہوتے ہیں۔ دیوانِ خاص میں بادشاہ کے سامنے انڈے لڑانے آتےاور محل میں اپنے آنے کی اطلاع کراتے۔ جسولنی آواز دیتی تھی کہ خبردار ہو؛ نقیب، چوبدار پکارتا تھا کہ اللہ رسول خبردار۔ بادشاہ خاصی ڈیوڑھی سے برآمد ہوتے۔ نقیب اور چوبدار آواز لگاتے کہ “اللہ کی امان، دوست شاد دشمن پائمال، کرو مجرا جہاں پناہ سلامت”۔ بادشاہ مسند پر آکر بیٹھتے۔سب مجرا کرتے۔ شاہزادے مسند کے ارد گرد بیٹھ جاتے اور سب اہالی موالی ادب سے پیچھے کھڑے ہو جاتے۔ صیدی پانچ پانچ چھٹے ہوئے مضبوط انڈے نکالتے۔ کوئی صیدی ایک انڈا مٹھی میں اس طرح بند کر لیتا کہ فقط نیش کھُلا رہے۔ دوسرا اوپر سے انڈے کے نیش سے انڈے کے نیش پر چوٹیں لگاتا۔ جو انڈا توڑتا وہ خوش ہو کر پکارتا، وہ توڑا۔ جس کا انڈا ٹوٹ جاتا وہ خفیف ہو جاتا۔ اس طرح بادشاہ کے سامنے پانچ پانچ انڈے لڑا کے ہار جیت کا فیصلہ کرتے۔ بادشاہ محل میں داخل ہوتے۔

پتنگ بازی اور قلعہ کے متعلق ذکر

عصر کے وقت پتنگ باز بڑے بڑے پتنگ، ڈور کی چرخیاں لے کے سلیم گڈھ میں پہنچے۔ بادشاہ کی سواری آئی۔ ایک طرف بادشاہی پتنگ بازوں نے دریا کی طرف پتنگ بڑھایا، دوسری طرف معین الملک نظارت خاں بادشاہی ناظر کا پتنگ اٹھا۔ دریا کی ریتی میں سوار کھڑے ہو گئے۔پیچ لڑے،  ڈھیلیں چلیں، پتنگ ڈوبتے ڈوبتے آسمان سے جا لگے۔ پیٹا چھوڑ دیا، ڈور زمین سے لگ گئی۔ سواروں نے آنکڑے دار لکڑی سے ہاتھوں میں لے لی، آخر ایک پتنگ کٹ گیا۔ ہوا سے جھوکے اور تھپیڑیں کھاتا ہوا دریا کے پار جا گرا۔ بادشاہ سیر دیکھتے رہے۔ جی میں آیا تو تخت رواں سے اترے ۔ پتنگ بازوں نے مچھلی کے چھلکوں کے دستانے بادشاہ کے ہاتھوں میں پہنا دیے۔ بادشاہ نے پتنگ ہاتھ میں لیا۔ ایک آدھ پیچ لڑایا۔ پتنگ بازی کی سیر دیکھ کر بادشاہ محل معلّے میں داخل ہوئے۔

بادشاہی پتنگ بازی میں پتنگ اور تکّل قد آدم ہوتی تھی۔ بعض اوقات لوہے کے تار پر بھی اڑاتے تھے۔ بادشاہی حریفوں یا صیدیوں میں مرزا یاور بخت بہت مشہور تھے۔ ان کی برابر کوئی نہیں لڑا سکتا تھا۔ لطف یہ ہے کہ ان کے ہاتھ کا پتنگ بہت کم کٹتا تھا اور کاٹنے میں سب سے زیادہ زبردست رہتا تھا۔ یہ اپنے ہاتھ سے آپ ہی پتنگ بناتے، آپ ہی ڈور تیار کرتے اور آپ ہی لڑاتے تھے۔ مرزا یاور کا سا سُدھ پتنگ کم دیکھنے میں آیا ہے۔ غدر کے بعد بھی مرزا یاور نے پتنگ بازی میں اپنی شہرت قائم رکھی۔ کہتے ہیں کہ کبھی کبھی دہلی کے پاپڑ والے سکھ بھی پاپڑ بیل کر کچھ چندہ جمع کرتے اور بادشاہی پتنگ بازی میں جھروکوں کے نیچے ریتی میں جا کر پانچویں سواروں میں شامل ہو جاتے تھے۔ یقین ہے ان کے پاپڑی پتنگوں کا رنگ بھی پاپڑ سا زرد اور ڈور بھی بسنتی ہوتی ہوگی، لباس بھی زرد ہو تو عجب نہیں۔ تیلیا کاغذ بھی بھیگنے سے بچا رہتا ہوگا۔ ادھر بوند پڑتی ادھر ڈھل جاتی ہوگی۔ دھیری پکارنے کی نوبت ہی نہ آتی ہوگی۔

پہلے بڑے بڑے پتنگ، تکّلیں، کنکوّے، رنگین اور سادے بازاروں میں بکتے تھے۔ بعض شوقین اپنے ہاتھ سے بڑی بڑی کاریگری ان میں کر کے بناتے تھے۔ کنکوّا، دوباز، دو پنّا، کانڑا، دو پلکہ، چِڑا، پریوں دار، ککُدما، لکُدما، بگلہ وغیرہ تکّلیں لنگوٹ دار، کلیجہ جلی وغیرہ وغیرہ بنا کے ان میں اپنی کاریگری دکھاتے۔ ڈور ایک بَلی، دو بَلی،تِبَلی، چوبَلی، کنکوّوں، تکّلوں کے زور کے موافق مانجھا سونت کے بڑے بڑے پِنڈے، گولے خوبصورت بناتے یا چرخیوں پر چڑھاتے۔ اس پر پتنگ، تکّلیں، کنکوّے اڑاتے اور لڑاتے یا نَخ پر مانجھا سونت کے ڈور کا کام لیتے۔ بچے بالے پیسہ، دھیلچیہ، دمڑچیہ، کنکوّے، چھوٹیتِنّخیں ایک بَلی ڈور پر اڑاتے پھرتے۔ وہ پہلی سی ڈوریں، نخ، پتنگ، تکّلیں، کنکوّے سب اڑ گئے۔ اب لنڈورے، کنکوّے بن پنچھلّے کے جنھیں گڈّی کہتے ہیں، انگریزی موٹے ریل کی ڈور پر مانجھا سونت کر کنوّے بازی ہوتی ہے۔

بعض نقلیں اور لطیفے وغیرہ

اگر چہ ان لطیفوں میں بعض لطیفے  لطافت و ظرافت انگیزی سے گرے ہوئے ہیں مگر نقلِ کفر کفر نباشد بطور یادگار چند باتیں لکھ دیتے ہیں۔

ایک دفعہ مرزا محمد سلطان فتح الملک بہادر ولی عہد نے بادشاہی موتی محل شاہ برج اور اپنی قیام گاہ کے درمیان بادشاہ کی بلا اجازت دیوار کھچوا لی، بادشاہ کو ان کی یہ حرکت ناگوار ہوئی۔ ولی عہد مرحوم سے فرمایا: امّا!(٢٧) اب تم سر پر چڑ ھے آتے ہو، جو کچھ جی میں آتا ہے حضور کی مرضی کے خلاف کر گزرتے ہو۔ ولی عہد مغفور بڑے تیز طبع، عالی دماغ، حاضر جواب تھے۔ ہاتھ باندھ کر عرض کیا کہ جہاں پناہ! غلام تو ازل ہی سے حضور کے سر مبارک پر آیا ہے۔ اب چالیس برس سے جدا ہو گیا تو اس کی عزت میں فرق نہیں آیا۔ بادشاہ کی خفگی ولی عہد کی اس حاضر جوابی سے رفت گزشت ہو گئی۔

لطیفہ

اگلے بادشاہوں کی اولاد بادشاہِ حال کے بھائی بند کہلاتے تھے۔ ایک دفعہ بادشاہ نے سب بھائی بندوں کو کسی سبب سے دیوان خاص میں آنے کی بندی کر دی۔ مرزا بٹّو حضرت عالمگیر بادشاہ کی اولاد میں سے ایک بڑی عمر کے بادشاہزادے تھے۔بادشاہ ان سے اکثر ہنس بول لیا کرتے تھے۔ ان کی بڑی بڑی آنکھیں کٹورا سی تھیں، اس لیے انھیں مرزا بٹّو کہتے تھے۔ اسی طرح شاہزادے آپس میں جیسی جس کی صورت و ہیئت ہوتی تھی پھبتے ہوئے نام رکھ دیتے تھے۔جس کا لمبا چہرہ، چُگّی ڈاڑھی ہوئی اس کو کدال، چکلے چہرہ والے کو چوپال، ٹھنگنے کو گھٹنّا، بونے کو جانگیا کہا کرتے تھے۔ علی ہذا القیاس کسی کو مرزا چڑیا، کسی کو مرزا ٹورے، کسی کو مرزا سُریلے، کسی کو مرزا رنگیلے کہتے اور کوئی مرزا چپاتی، مرزا شیدی، مرزا کالٹین، مرزا جھِر جھِری کہلاتا تھا۔

مرزا بٹّو کو بادشاہ کی ہمکلامی کے سبب زیادہ رسوخ تھا۔ بادشاہ سے یہ ذو معنی فقرہ اس لہجہ سے عرض کیا (کہ جہاں پناہ حضور کے بھائی بند) بادشاہ ان کی رمز سمجھ گئے اور بھائی بندوں کی بندی کھول دی۔

لطیفہ

اسی طرح ایک شخص ظریفانہ شعر و غزل کہہ کے سب کو خوش کیا کرتا تھا۔ ہُدہُد الشعراء اس کا تخلص تھا۔ مسخرہ و مسخر الذی کہلاتا تھا۔ بادشاہ کے ہاں سے تنخواہ پاتا تھا۔ چنانچہ اس کا ذکر کئی تذکروں میں مع کلام موجود ہے۔ راجا دیبی سنگھ و سالگرام مختارِ سرکار بادشاہی نے اس بیچارے کی تنخواہ بند کر دی تھی۔ ایک دن ایک غزل کہہ کے لے گیا اور ایسے وقت میں کہ راجا صاحب مذکور بھی وہاں موجود تھے، ساری غزل پڑھ کر سنائی جس کا مقطع جو خاص راجا صاحب کی طرف منہ کر کے پڑھا، حسب ذیل ہے:

دے دے دیبی سنگھ یہ ہُد ہُد کا کھاجا ہے (ہد ہد کا کھا جا)

اس لہجہ سے اور خوب کھینچ کے اس طرح پڑھا کہ اہل دربار نے دانتوں میں انگلی رکھ لی کہ بہت بڑھ کے کہی۔ مگر مسخرے کی بات کو کون دُلک سکے۔ ہنسی میں شاہ و گدا دونوں برابر۔ راجا جی خفیف ہوئے اور اس کی تنخواہ دلا دی۔ مگر تذکرہ گلستانِ سخن میں مرزا صاحب نے اس موقع کے یہ دو شعر درج فرمائے ہیں:

جہاں میں آج دیبی سنگھ تو راجوں کا راجا ہے
کسی کو دے نہ دے تنخواہ تو مختار ہے اس میں
خدا کا فضل ہے جو قلعہ میں تو آ براجا ہے
مگر ہدہد کو دے دے کیوں یہی ہد ہد کا کھاجا ہے

قلعہ معلیٰ میں بادشاہ کی طرف سے دھوم دھام کے مشاعرے بھی ہوا کرتے تھے۔ بڑے بڑے نامی گرامی شعرا وہاں آکر اپنے کلام کی داد پاتے تھے۔ جہاں مشاعرہ ہوتا ہے وہاں ایک نہ ایک مسخرہ بھی جسے نُقلِ مشاعرہ یا رونقِ مشاعرہ کہنا چاہیے، اہل مشاعرہ کے ہنسانے، پھڑکانے، خوش کرنے کے واسطے اپنے مسخرہ پن کے اشعار سناتا اور لوگوں کو اپنا منتظر بنائے رکھتا ہے۔ جب تک اس کا وار نہیں آتا مشاعرہ برابر جما رہتا ہے۔

ایسے لوگوں میں سے ایک شخص میاں عبد الرحمٰن جناب حکیم آغا جان عیشؔ کے بنائے ہوئے مسخر الّذی تھے؛ جن کی مختصر کیفیت یہ ہے کہ اصل میں یہ پورب سے دلی میں آئے تھے گویا پورب کے منہئی تھے ۔جس طرح مالی جمع پونجی سے نادار تھے، اسی طرح علمی سرمایہ بھی ان کے پاس کچھ نہ تھا۔ صرف شُد بُد  کے حوصلے پر دلّی کی گلیو ں میں مکتب لے  بیٹھے تھے ۔الفاظ کے معانی دل سے گھڑگھڑ کر بے محل اور بے موقع بنادیتے تھے ۔جہاں حکیم صاحب کا درِ دولت تھا وہاں ایک مکتب جما لیا تھا جس میں حکیم صاحب کے عزیزوں میں سے بھی بعض بچے پڑھنے جاتے تھے۔ ان میں سے ایک لڑکا سکندر نامہ پڑھا کرتا تھا۔ حکیم صاحب کا معمول تھا کہ آٹھویں ساتویں دن ایک لڑکے کا سبق سنا کرتے تھے۔سکندر نامہ کا سبق جو سنا تو عجیب وغریب معانی و مضامین سننے میں آئے۔فرمایا کہ اپنے مولوی صاحب کو کسی وقت ہمارے پاس بھیج دینا ۔وہ دوسرے ہی روز تشریف لائے۔ حکیم صاحب صرف نبّاض ہی نہیں بلکہ قیافہ شناس بھی تھے۔ معلوم ہوا کہ یہ ایک طرفہ معجون ملّا ئے مکتبی ہے ۔تھوڑی سی ترکیب میں رونقِ محفل بن سکتا ہے۔ پوچھا کہ آپ کو شعر و سخن کا کچھ مذاق ہے؟ مولوی صاحب نے فرمایا کیا مشکل بات ہے، ابھی ہو سکتا ہے۔حکیم صاحب نے ارشاد کیا کہ دو چار روز میں ایک جگہ مشاعرہ ہونے والا ہے اور یہ طرح ہے۔ آپ بھی اس پر طبع آزمائی فرمائیے۔ ان بیچاروں  نے مشاعرہ میں شریک ہونا تو کیسا، اس کا نام بھی نہ سنا تھا۔حکیم صاحب نے مشاعرہ  کی صورت ان کے ذہن نشین کر دی۔ مولوی صاحب نے فرمایا اس عرصے میں تو میں بہت کچھ کہہ سکتا ہوں۔ غرض مضحکہ انگیز اشعار گھڑ کر لائے جنھیں دیکھ کر حکیم صاحب نے کہا کہ اچھا خوش مسخرہ ہاتھ لگا۔ ان کے شعروں میں نمک مرچ لگا کر انھیں خوب چٹ پٹا بنا دیا۔ مولوی صاحب اس اصلاح سے بہت خوش ہوئے اور حکیم صاحب سے فرمائش کی کہ تخلص بھی آپ ہی تجویز کر دیجیے۔ انھوں نے دیکھا کہ مولوی صاحب کا گُھٹا ہوا چھوٹا سا سر ہے ۔چُگّی كدال نما ڈاڑھی، اس پر اوندھی سیدھی لٹ پٹی دستار خاصے کُھٹ بڑھئی نظر آتے ہیں۔ مولوی صاحب سے فرمایا کہ سب سے موزوں، نرالا اور تاجدار تخلص تو ہدہد ہے۔ مرغ سلیمان کا لقب اور قاصد خجستہ پیام کا خطاب اسی کو ملا ہوا تھا۔ پس آپ یہی تخلص اختیار کیجیے اور کُل پرندوں کے بادشاہ بن جائیے۔ اس کے سر پر تاج ہے تو آپ کا عمامہ اس کا سرتاج۔ جتنے شاعر ہیں سب خوش الحان پرندوں کے زمرہ میں شامل ہیں۔ ان کا چہکنا سب کو پسند ہے۔ بُلبلِ ہزار داستان، طوطیٔ خوش الحان انھیں کی تعریف ہے۔ ملا جی نے اس تخلص کو بہت ہی پسند کیا۔ مشاعرہ میں گئے۔ جب ان کا نمبر آیا تو شمع لاکر آگے رکھی گئی۔ حکیم صاحب نے اِن کی بہت سی تعریف کی اور وہ تازہ انوکھی غزل ان کی زبان سے پڑھوا دی۔ تمام مشاعرہ پھڑک گیا۔ ہنستے ہنستے لوگوں کے پیٹ میں بل پڑ گئے۔ ان کے اشعار کی زمین کشتِ زعفران بن گئی۔ اور سر جھکا کر کدال سی ڈاڑھی کا نیچے کرکے اونچا اٹھانا ہو بہو کُھٹ بڑھئی کا نقشہ دکھاتا تھا۔ لیاقت کے کھوکھلے درخت کو کھود کھود کر لوگوں کے دلوں میں گھر بناتا تھا۔ اب ہر ایک مشاعرہ میں بلائے جانے لگے۔ اس شغل میں مکتب وَکتب سب رفو چکر ہوا۔ بھوکے مرنے لگے۔ حکیم صاحب کو ان کی حالت زار پر رحم آیا۔ فرمایا کہ ہدہد! بادشاہ کی شان میں کوئی قصیدہ لکھو تو تمھیں دربار میں لے چلیں اور وہاں سے کوئی گزارہ کی صورت کرا دیں۔ انھوں نے جھٹ ایک قصیدہ تیارکیا جس کا مطلع یہ تھا:

جو تیری مدح میں مَیں چونچ اپنی وا کر دوںتو رشک باغ ارم اپنا گھونسلا کر دوں

بادشاہ اس قصیدہ سے نہایت خوش ہوئے۔ طائر الاراکین، شہپر الملک، ہدہد الشعراء، منقار جنگ بہادر خطاب دے کر سات روپیہ ماہوار وظیفہ مقرر کر دیا۔ اب میاں ہدہد کو یہ دن لگے کہ بلبلانِ سخن کے ٹھونگیں مارنے لگے۔ سرِ مشاعرہ اکثر شعرا پر منہ آتے۔ دو دو چونچیں ہو جاتیں۔ گو شعر بالکل بے معنی ہوتے تھے مگر الفاظ نہایت شستہ اور رنگین باندھتے تھے۔ بعض شعرا نے ان کے مقابلہ کے واسطے دو ایک پٹھے تیار کیے۔ کسی کا تخلص زاغ، کسی کا باز رکھ دیا اور ان کی  خوب جھڑپ ہوتی تھی۔ چنانچہ ایسے موقع کے دو ایک شعر  اس جگہ نقل کیے جاتے ہیں:

باز پر چوٹ

جسے کہتے ہیں ہدہد وہ تو نر شیروں کا دادا ہے
گر اب کے بازڑی میداں میں آئی  سامنے میرے
مقابل تیرے کیا ہو تُو تو  اک جُرّے کی مادہ ہے
تو دُم میں  پر نہ چھوڑوں گا یہی میرا ارادہ ہے

زاغ پر چوٹ

جون آیا ہے بدل اب کے عدو کوّے کی
وہی کاں کاں وہی کیں کیں وہی ٹاں ٹاں اُس کی
بن کے کوّا جو یہ آیا ہے تو اے ہدہدؔ شاہ
اُس کی ہے پاؤں سے تا سر وہی خو کوّے کی
بات چھوڑی نہیں ہاں اک سر مو کوّے کی
دُم کتر دینے کو کچھ کم نہیں تو کوے کی

خود ستائی

ہدہد کا مذاق  ہے نرالا سب سے
سر دفترِ لشکر سلیماں ہے یہ
انداز ہے اک نیا نکالا سب سے
اڑتا بھی ہے دیکھو بالا بالا سب سے

قلعہ معلیٰ کا مشاعرہ

چونکہ  برسبیل تذکرہ مشاعرہ کا کچھ ذکر اوپر آیا ہے، لہذا ہم اس جگہ  ایک مشاعرہ کا ذکر کر دینا بھی خالی از لطف نہیں سمجھتے ۔ یوں تو قلعہ معلیٰ میں  شہزادگانِ دہلی کی طرف  سے اکثر مشاعرے ہوا کرتے تھے، مگر کبھی کبھی بہادر شاہ  بادشاہِ دہلی کے روبرو بھی  شعرا کا  اکھاڑا جما کرتا  تھا، جس کا یہ طریقہ تھا کہ بادشاہ کی  طرف سے چیدہ چیدہ شاعروں کو طرح کا مصرع بھیج دیا جاتا تھا۔ وہ اپنے خاص خاص شاگردوں کی ٹولیاں لے کر بارگاہِ سلطانی میں متعینہ وقت پر حاضر ہو جاتے تھے۔ بادشاہ شہ نشین میں تشریف لا کر جلوہ افروز ہوتےاور تمام شاعر حضور معلی کے سامنے حسب ارشاد والا بیٹھ جاتے تھے۔ بادشاہ کے مقابل شمع رکھی جاتی تھی، جس شاعر کو حکم ہوتا تھا وہ سامنے حاضر ہوکر غزل پڑھتا تھا۔ اس وقت شاہی امرا میں سے ایک دو امیر بھی حاضرخدمت رہتے تھے۔ بادشاہ جس شعر کی تعریف فرماتے تھے، حاضر باش امیروں میں سے ایک امیر بآواز بلند اس شاعر سے کہتا تھا کہ ظلّ سبحانی آپ کے اس شعر کی تعریف فرماتے ہیں۔وہ شاعر سر و قد کھڑا ہو کر حسب قاعدہ تین آداب بجالاتا اور از سر نو وہ غزل پھر اہل مشاعرہ کی فرمائش سے سنا دیتا تھا۔ واہ واہ کے شکریہ میں سلام کرتے کرتے تھک جاتا تھا۔

ایک مرتبہ میر محمد حسین تسکینؔ خلف میر حسن عرف میرن صاحب جو شاعر نکتہ سنج، نہایت متین اور شاگرد مومن خاں متخلص بہ مومن تھے، اپنی غزل پڑھ رہے تھے ۔جب اس شعر پر پہنچے:

تمھیں بھی کھولنی زلفیں پڑیں گیدل گم گشتہ اپنا گر نہ پایا

تو بادشاہ موصوف نے خود بے ساختہ زبان مبارک سے  تعریف کی کہ میر صاحب بہت اچھا کہا۔

شاہی مشاعروں کے موقع پر حسب موسم ایک علاحدہ مکان میں مٹھائی، شربت، تر میوے اور ترکاریاں،چائے، قہوہ وغیرہ مہیا رہتا تھا۔ اختتام مشاعرہ پر سب شاعر وہاں جاتے اور بادشاہ کے خوان نعمت سے متلذذ و محظوظ ہوتے تھے۔

لطیفہ

ایک مرتبہ بادشاہ کے دشمنوں کی طبیعت کچھ ناساز ہوئی۔ بڑے صاحب بہادر رزیڈنٹ دہلی کو خبر پہنچی۔ جمعدار کو مزاج پرسی کے واسطے بھیجا اور یہ عرض کرایا کہ حضور آم نوش نہ فرمائیں کہ یہ حضور کو مضر ہیں۔ بادشاہ کو آموں کا بہت شوق تھا اور نہایت مرغوب تھے۔ مہتاب باغ میں وہ وہ نایاب آموں کے درخت اگلے بادشاہوں کے لگائے ہوئے جن کا نام شہد کوزہ، بتاسہ،محمد شاہی  لڈوا وغیرہ تھا، ایسے تھے کہ پیوندی آم ان کے آگے پانی بھرتے تھے۔ قطب صاحب  میں جھرنے پر ان کی پود پھیلائی۔ پیوندی آموں کے ناندوں میں درخت لگا کے خاص موتی محل، ہیرا محل میں اپنے سامنے رکھے تھے اور جھروکوں میں بھی بہت سے درخت رکھوا دیے تھے۔بھلا جس چیز پر ایسی رغبت ہو وہ کس طرح چھوٹ سکے۔ جمعدار کے ہاتھ اسی وقت یہ شعر لکھ کے بڑے صاحب بہادر کو بھیج دیا:

آم اے فرزند من مجھ کو بہت مرغوب ہیںکچھ نہیں کرتے ضرر میرے لیے یہ خوب ہیں

فرزندِ ارجمندِ سلطانی بادشاہ نے بڑے صاحب بہادر کو خطاب دیا تھا، اس لیے فرزند کہتے تھے۔ پورا خطاب یہ تھا “معظم الدولہ، امین الملک، اختصاص یار خاں، فرزند ارجمند، بجاں پیوندِ سلطانی سرچارلس مٹکاف(٢٨) صاحب بہادر فیروز جنگ”۔

لطیفہ

قصبہ مہرولی میں جہاں حضرت قطب الاقطاب خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کا مزار مبارک ہے، آب وہوا کی موافقت یا سیر و شکار کے سبب بادشاہ اکثر جا کر رہا کرتے تھے۔ ایک دن منہ اندھیرے کسی کو ساتھ لیے بغیر بے خبری کے عالم میں اکیلے محل میں سے درگاہ شریف میں فاتحہ پڑھنے برآمد ہوئے۔ شاہی سپاہی خاص ڈیوڑھی پر پہرا دے رہا تھا۔ یہ کسی کی آمد ورفت کا وقت نہ تھا۔ اندھیرے میں اس نے نہ پہچانا، قاعدہ کے موافق ٹوکا  کہ “ہوکم ڈر” (اصل میں یہ جملہ مخفف ہے انگریزی جملہ “ہو کمس دِیر” کا جس کے معنی ہے “کون آتا ہے”)، بادشاہ نے فرمایا کہ ظفر! سپاہی یہ سنتے ہی سہم گیا۔ سلامی اتاری، پرے ہٹ گیا۔

لطیفہ

بادشاہ شہزادگی کے زمانے میں مرزا ابّن کہلاتے تھے، جب ولی عہدی ملی ابو ظفر مشہور ہوئے۔ حضرت عرش آرامگاہ  معین الدین محمد اکبر شاہ بادشاہ ان سے ناراض تھے۔ یہ محل میں جب آداب و کورنش کے واسطے بادشاہ کے حضور میں حاضر ہوتے تو بادشاہ ان کی طرف آنکھ اٹھا کے نہ دیکھتے، گھڑیوں کھڑے رہتے، جب بیگم صاحبہ نواب ممتاز محل عرض کرتیں کہ حضور! مرزا مُجرے کو کھڑا ہے تو ان کی طرف بے التفاتی کی نظر ڈال لیتے اور یہ مُجرا بجالاتے۔ دیگر شاہزادے بادشاہ کے لاڈلے اور چاہیتے بیٹے تھے مگر یہی نظروں سے گرے ہوئے تھے۔ بادشاہ کی ایک بیگم نے ان کے حسب حال یہ شعر کہا تھا:

یوں ہیں ابو ظفر شہِ اکبر کے روبروجیسے ابالی دال مزعفر کے رو برو

مرزا کوڑےکا تام جھام

اسی قلعہ کے شہزادگانِ والا تبار میں سے  ایک صاحب عالم بہادر مرزا کوڑے کے نام سے مشہور و معروف تھے۔ آپ کے ہاں پالکی، نالکی،رتھ، تام جھام، سواری شکاری کے گھوڑے وغیرہ سب ٹھاٹھ  موجود تھا۔ رتھ بان نے بیلوں کے واسطے پولیاں منگا دینے کی درخواست کی۔ آپ نے فوراً گڑوالوں کے  پاس آدمی بھیج کر پولیوں کے چھکڑے منگوا دیے۔ لیکن اٹھا کر رکھوانے کے واسطے آدمی کم تھے۔تام جھام کے کہاروں کو ارشاد ہوا کہ پولیاں اٹھا اٹھا کر رتھ خانہ میں رکھوا دیں۔سب کہاروں نے ایک زبان ہو کر عرض کیا کہ حضور ہم تام جھام اٹھانے کے نوکر ہیں۔ پالکی، نالکی،پینس ہم سے اٹھوا لیجیے۔ آپ نے کہا کہ تام جھام اٹھا لاؤ۔ چناچہ وہ ارشاد کے ساتھ اٹھا لائے۔حکم ہوا کہ اس کے اندر پولیوں  کو بھرو اور رتھ خانہ تک لے  چلو۔ غرض دس بیس پھیرے پولیوں کے کرائےاور آئندہ کے واسطے یہ قاعدہ مقرر کر لیا کہ جو کچھ بازار سے لانا ہوتا، تام جھام میں سوار ہوکر خود جاتے اور آپ ہی لے کر آتے۔

کہاروں کے دن بھر میں دس دس، بیس بیس پھیرے ہو جاتے۔ مثلاً اگر گھر میں ترکاری کی ضرورت ہے تو حکم دیا لگا تام جھام۔ پانوں کی خواہش ہوئی تو فرمایا لگا تام جھام۔ غرض ہر ایک چیز کے واسطے خریدنے جاتے اور کہاروں کو ان کے انکار کا مزہ چکھاتے۔اخیر کو کہاروں  نے ہار مان کر  اقرار کر لیاکہ ہم جب نوکر ٹھہرے تو ہمیں کسی بوجھ کے اٹھانے سے بھی انکار نہیں۔ آپ ہمارے اوپر رحم کھائیے اور کوڑی پھیرا  نہ کرائیے۔ غرض ان کا قصور معاف کر دیا۔

بھانڈوں، نقالوں کو محافل و مجالس سور و سرور میں نقل کر کے اہل محفل کو ہنسانے کا ایک مشغلہ ہاتھ آ گیا۔ جہاں جاتے وہاں مرزا کوڑا کے تام جھام کی بھی ضرور نقل کرتے اور یہ فقرہ زبان پر لاتے “دو کوڑی کی ہینگ ہے لانی، لاؤ میری پالکی”۔

اصل بات تو اتنی تھی مگر جہلا نے  اس کا یہ نتیجہ نکالا کہ کنجوسی اور کفایت شعاری کو مدنظر رکھ کر مرزا کوڑے پالکی کے کہاروں سے ہی سارا کام لیتے اور نوکروں کی تنخواہ بچاتے تھے۔

نقل

نواب زینت محل جو ابو ظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ خاتم السلاطینِ  مغلیہ کی بڑھی چڑھی ملکہ تھیں، وہ بیمار ہوئیں۔ اپنی بیماری کا حال اس شعر میں لکھ کے بادشاہ کو بھیجا، شعر:

حضرت ہمارے حال کی تم کو خبر بھی ہے؟کھانسی بھی ہے بخار بھی ہے درد سر بھی ہے!

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زینت محل صاحبہ کو شعر و سخن کا ملکہ ہی نہیں تھا بلکہ طبیعت بھی موزوں تھی۔

نقل

بہادر شاہ بادشاہ اور سُکھ دیو پہلوان

ایام غدر سے چند روز پیشتر ریاست بھرتپور(٢٩) کا مشہور پہلوان سُکھ دیو جیٹھی دہلی میں آیا اور بادشاہ کے حضور میں عرضی گزرانی کہ حضور تمام شہر میں منادی کرا دیں کہ جس پہلوان کو دعویٰ کشتی ہو وہ کل جھروکوں کے نیچے آ جائے، ورنہ اب میں لنگوٹ کھول ڈالوں گا۔  یعنی اپنا ثانی نہ دیکھ کر کشتی سے عہد کر لوں گا۔چنانچہ دوسرے روز جین ریتی میں جھروکوں کے نیچے دہلی کی تمام خلقت اور بڑے بڑے نامی پہلوان جمع ہوئے۔ ایک بڑا بھاری میلہ لگ گیا۔ مگر کسی کی ہمت نہ پڑی کہ سکھ دیو سے کشتی لڑے۔ آخر کار سکھ دیو نے بھاری بھاری  مُگدر ہلا کر طرح طرح سے ڈنڈ پیل کر ڈھینکلیاں کھا کھا کر اپنا زور دکھایا اور بادشاہ کے روبرو لنگوٹا رکھ کر آئندہ کشتی کرنے، پکڑ لڑنے سے ہاتھ اٹھایا۔ بادشاہ سلامت نے اس کی خداداد طاقت اور دعوے کے ثبوت میں فی البدیہہ یہ شعر فرمایا بلکہ ایک چاندی کی تختی میں اسے کھدوا کر اس کے ڈنڈ پر بندھوا دیا:

صورت رستم، سیرت گیو(٣٠)
یکتا گُرو مہا سُکھ دیو(٣١)

چلتی بہار یعنی مغلیہ خاندان کے جشن کا اخیر دربار

آج کے روز امیر امرا نقار خانہ کے دروازہ سے اتر کر پیدل دیوان عام میں آتے تھے اور یہ پہلی آداب گاہ کہلاتی تھی۔ دیوانِ عام کے جالی دار دروازے میں موٹی موٹی لوہے کی زنجیریں آڑی پڑی ہوئی تھیں تاکہ آدمی سیدھا نہ جا سکے۔  سب جھک کر زنجیر کے نیچے سے نکل جاتے تھے، یہ دوسری آداب گاہ کہلاتی تھی۔ دیوان خاص کے دروازے پر ایک بڑا سا بانات کا لال پردہ کھنچاہوا  ہوتا تھا جسے لال پردے کے نام سے سے موسوم کرتے تھے۔ مِردھے، پیادے، دربان،  سپاہی، قُلار ہاتھوں میں لال لال لکڑیاں لیے ہوئے کھڑے ہوتے تھے۔ جو کوئی غیر آدمی اندر جانے کا ارادہ کرتا تھا تو قلار  وہی آنکڑے دار لال لکڑی گردن میں ڈال کھینچ کر باہر نکال دیتے تھے۔ مگر جشن کے دن حکم عام تھا کہ جس کا جی چاہے پگڑی باندھ کر چلا آئے، دربار کی سیر دیکھے۔ درباری لال پردے کے پاس کھڑے ہوکر مجرا کر کے کہ یہ تیسری آداب گاہ تھی، دیوان خاص میں تخت کے سامنے آداب بجا لا کر اپنی اپنی جگہ کھڑے ہوجاتے تھے۔ دیوان خاص میں فرش فروش، باناتی پردے کھنچے  ہوئے ہوتے تھے۔ بیچوں بیچ میں سنگ مرمر کے ہشت پہلو چبوترے پر  نقلی تخت طاؤس رکھا ہوا ہوتا تھا اور اس کے آگے دلدا پیشگیر کھنچا ہوا۔ یہ تخت نہایت خوشنما اور خوبصورت بنا ہوا ہوتا تھا، جس کے چاروں طرف تین تین  در نہایت خوشنما محرابوں کے بنے ہوتے تھے۔ گرد کٹہرا، پشت پر تکیہ، آگے تین سیڑھیاں اور بنگلہ نما گول چھت، محراب دار۔اس پر سونے کی کلسیاں۔ سامنے محراب پر دو مور آمنے سامنے موتیوں کی تسبیح منہ میں لیے ہوئے کھڑے نظر آتے تھے۔ تخت سر سے پاؤں تک سونے میں لپا ہوا جگمگاتا تھا۔ بیچ میں رومی مخمل اور زربفت کا مسند تکیہ لگا ہوا ہوتا تھا۔ دو خواص ہما کے مور چھل لیے اہلو پہلو میں کھڑے ہوتے تھے۔ پیچھے ایک جا نماز بچھائی جاتی تھی۔ معتبر الدولہ، اعتبار الملک  بہادر وزیر، عمدۃ الحکماء حاذق زماں، احترام الدولہ بہادر طبیب خاص، شمس الدولہ بہادر بخشی، معین الدولہ بہادر ناظر، سیف الدولہ بہادر وکیل، سحبانِ زماں نجم الدولہ بہادر بادشاہی شاعر، میر منشی دارالانشاءِ سلطانی، میر تزک وغیرہ وغیرہ اپنے اپنے مرتبہ اور قاعدہ سے دونوں ہاتھ جریب پر رکھے دائیں بائیں کھڑے ہوجاتے تھے۔ مردھے، نقیب، چوبدار، عرض بیگی سامنے آداب گاہ  کے پاس کھڑے رہتے تھے۔دیوان خاص کے آگے صحن میں ایک طرف خاصے گھوڑے چاندی سونے کے ساز سے لدے ہوئے، ایک طرف مولابخش، خورشید گج، چاند مورت ہاتھی وغیرہ رنگے ہوئے ہاتھوں پر فولاد کی ڈھالیں، سونے کے پھول جڑے ہوئے، کانوں میں ریشم اور کلابتون کے گپھے اور لڑیاں کار چوبی جھولیں  پڑی ہوئیں۔ ایک طرف ماہی مراتب، چتر نشان، روشن چوکی والے، جھنڈیوں والے، ڈھلیت پرا جما کر کھڑے ہو جاتے تھے۔اسی طرح قلار چاندی کے شیر دہاں سونٹے، خاص بردار بندوقیں لیے ہوئے کٹہرے کے نیچے استادہ ہوتے تھے۔ دیوان عام کے میدان میں ساری پلٹنیں جم جاتی تھیں۔ احتشام توپ خانہ کی توپیں کھڑی کر دی جاتی تھیں۔ اندر  سے جسولنی آواز دیتی تھی “خبردار ہو”۔ نقیب،  چوب دار جواب دیتے تھے کہ “اللہ رسول خبردار ہے”۔ اب بادشاہ سلامت برآمد ہوتے تھے۔ نقیب چوبدار بآواز بلند پکارتے تھے “بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اللہ  رسول کی امان، دوست شاد  دشمن پائمال، بلائیں رد”۔ اس وقت کہار شاہی کہاریوں سے جھٹ ہوادار لے لیتے تھے۔ پہلے بادشاہ تخت کے نیچے اتر کر نماز کی دو رکعتیں کھڑے ہو کر پڑھتے، دعا مانگتے۔ پھر ہوادار میں سوار ہو جاتے۔ کہار شاہی ہوادار کو تخت طاؤس کے برابر لگا دیتے۔  بادشاہ تخت پر جلوس فرماتے۔ جھنڈیاں ہلتے ہی دنادن توپیں چلنے لگتیں۔ سب فوج سلامی اتارتی اور شادیانے بجنے لگتے۔ گوہرِ اکلیل السلطنت ، مہیں پورِ خلافت،  ولی عہد بہادر تخت کے بائیں طرف اور دیگر شہزادگانِ نامدار والاتبار، قرّہ باصرۂ خلافت، غرّہ ناصیۂ سلطنت دائیں جانب تخت کے برابر امیر امرا کے آگے کھڑے ہو جاتے۔ سب سے پہلے ولی عہد نذر دینے کھڑے ہوتے۔ اول آداب گاہ پر آکر مجرا بجالاتے۔ نقیب پکار کر کہتا “جہاں پناہ بادشاہ سلامت! عالم پناہ بادشاہ سلامت! مہابلی بادشاہ سلامت!” مجرا کر کے بادشاہ کو نذر دیتے۔ بادشاہ نذر لے کر نذر نثار کو دے دیتے۔ پھر الٹے پاؤں آداب گاہ پر آتے۔ مجرا کرکے خلعت پہنتے۔ جیغہ، سر پیچ، گوشوارہ بادشاہ اپنے دست مبارک سے ولی عہد بہادر کے سر پر لگاتے۔ موتی مالا، سِپر، تلوار گلے میں ڈال دیتے۔ یہ اُسی طرح آداب گاہ پر  الٹے پاؤں آ کر آداب بجالاتے، خلعتی نذر دیتے۔ پھر الٹے ہی پاؤں آداب گاہ پر آکر مجرے کو کھڑے ہوجاتے۔ اور اسی طرح دیگر شہزادے، تمام امیر امرا اپنے اپنے رتبہ سے نذریں گزرانتے۔ جواہر خانہ میں سے خلعت پہن کر آتے۔ بادشاہ اپنے ہاتھ سے شاہزادگان کے سر پر جیغہ، سر پیچ، گوشوارہ اور معزز امیروں کے سر پر صرف گوشوارہ باندھ دیتے تھے اور آداب پر آداب، مجرے پر مجرے۔ نقیب چوبدار پکار پکار کر کہتے “ملاحظہ آداب سے کرو، مجرا، جہاں پناہ بادشاہ سلامت، عالم پناہ بادشاہ سلامت، مہابلی بادشاہ سلامت”۔ اس وقت بادشاہ تکیہ سرکا کر  فاتحہ کو ہاتھ اٹھاتے۔ عرض بیگی پکارتا “دربار برخاست”۔ بادشاہ ہوادار پر سوار ہو محل میں درآمد ہوتے۔ سب لوگ رخصت ہوجاتے۔ چالیس دن تک روز دربار اور خلعت اور نذریں ہوتیں۔ انعام و اکرام سب کارخانوں کے داروغاؤں اور آدمیوں کو ان کی حیثیت کے موافق دیا جاتا اور اس کے بعد محل کا دربار شروع ہو جاتا۔

جھروکوں کی زنانہ اور بے تکلفانہ بیگماتی زبان کی آخری جھلک

دیکھو! بادشاہی جھروکوں کے سامنے شاہ باغ ہے۔ باغ کے نیچے دریا بہتا ہے۔ دریا کے کنارے خیمے کھڑے ہوئے۔ بیچ میں کشتیاں چھوٹیں۔ کشتیوں میں بھی خیمے پڑے۔ زنانہ کا حکم ہوا۔ دور دور تک ریتی میں پہرے لگ گئے کہ غیر کی بھنبھنی(٣٢) بھی نہ دکھائی دے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں اور عورتوں نے دکانیں لگائیں۔ خضری دروازے سے اتر کر شہزادے اور شہزادیاں، محل، نومحلے کے سلاطین اور ان کی بیگماتیں خیموں میں آکر جمع ہوئیں۔ ایلو! وہ بادشاہ کی سواری آئی۔ دیکھنا؟ کہاریاں کیا بے تکان ہوادار کندھوں پر لیے چلی آتی ہیں۔ ساتھ ساتھ خوجے مورچھل کرتے بھنڈا ہاتھ میں لیے اور حبشنیاں، ترکنیاں وغیرہ چلی آتی ہیں۔ وہ جسولنی نے آواز دی: خبردار ہو۔ ایلو، سب کھڑے ہوگئے۔ مجرا کیا۔ بادشاہ جہاں نما میں آکے بیٹھے۔ باغ لوٹنے کا حکم دیا۔ اہاہا۔ دیکھنا کیا سر پر پاؤں رکھ کر دوڑیں جیسے ٹڈی دل امنڈ کر آیا۔ دم بھر میں سارے باغ کو نوچ کھسوٹ ڈالا۔ کسی نے    نیبو کھٹوں کی جھولیاں بھر لیں۔ کوئی کیلے کی گیل پکڑے کھڑی ہے۔ ایک ایک کوٹھری چیختی ہے۔ اچھی بُوا آئیو؟ یہ نگوڑی شیطان کی آنت تڑوائیو۔بھلا اس لُٹّس اور لوٹم لاٹ میں کون کسی کی سنتا ہے۔کوئی آموں کے  درختوں پر پتھرے مار رہی ہے۔ کوئی چاقو سروتوں  سے بیٹھی گنّے کاٹ رہی ہے۔ لونڈیاں باندیاں جو ذرا دل چلی تھیں، جھپ جھپ درختوں پر چڑھ گئیں۔ توڑ توڑ کر وہیں بکر بکر کھانے لگیں۔ اہاہا دیکھنا کوئی تو گد سے گر پڑی۔ کسی کے کانٹا کسی کے کھڑینچ لگی۔ بھوں بھوں بیٹھی رو رہی ہیں: “ووئی جھلسا لگے اس باغ کو، مجھ سر مونڈی کے تو کچھ ہاتھ نہ آیا۔مفت میں لہولہان ہوئی”۔

لو باغ لٹ چکا۔ دیکھو نیبو، نارنگی، انار، کھٹوں وغیرہ کی جھولیاں، بھرے ہاتھوں میں گنّے لیے خوش ہوتی گرتی پڑتی چلی آتی ہیں۔ کوئی بے چاری جو خالی ہاتھ ہے تو کیا؟ خفت کے مارے کتراتی، کنیاتی، آنکھ چرائے خفیف خفیف اپنا منہ لیے چلی آتی ہے۔ سب اس کو چھیڑتی نکّو بناتی چلی آتی ہیں۔ دیکھو ہم یہ جھولیاں بھر کر لائے۔ لو ہم سے لے لو ۔ تم اپنے جی میں نہ کڑھو۔ وہ کہتی ہیں، بُوا تمھارا تمھیں کو مبارک رہے۔بھاڑ میں پڑو۔ کیا موئی چار کوڑی کی چیز کے لیے اپنا منہ ہاتھ کانٹوں سے نُچواتی۔اپنی ایڑی چوٹی پر  سے صدقہ کروں۔ ایسی کیا نعمت کی مانکا کلیجا تھا۔ اہاہا ! سچ کہتی ہو۔ تمھاری خفت  ہمارے سر آنکھوں پر۔ اچھّی یہ بتاؤ پھر تم گئی کیوں تھیں۔ ایک ایک کا منہ تکنے؟ بوا  تمھاری وہی لومڑی کی کہاوت ہے۔ انگور کے درخت کے نیچے آئی، خوشے لٹکے ہوئے دیکھ کر بہت للچائی۔ بہت سی اچھلی کودی۔ جب کچھ نہ ہاتھ آیا، یہ کہتی  چلی گئی: ابھی کچے ہیں کون دانت کھٹّے کرے۔

لو اب یہ خیموں میں آکر ناچ رنگ دیکھنے لگیں۔ ناؤ میں بیٹھ کر دریا کی سیر کرنے لگیں۔ دریا کے کنارے آپس میں چھینٹم چھانٹا لڑنے لگیں۔ دیکھو کسی کا پاؤں کیچڑ میں پھسل گیا، ساری لت پت  ہوگئی۔ کوئی دلدل میں پھنس گئی، ان پر قہقہے پڑ رہے ہیں۔ وہ کھسیانی اور رُنکھی ہو ہو ایک ایک کو چیختی اور پکارتی ہیں۔ اے بی امکی! اے بی ڈھمکی ! اچھی ادھر آئیو۔ ذرا ہمیں اس کیچڑ میں سے نکالیو! کوئی تو جان بوجھ کر  آنا کانی دیتی ہے۔ کوئی کہتی ہے بُوا اُپٹکی پڑے تمھارے ڈھنگوں پر۔ اچھی؟ کیچڑ میں کیوں جا پھنسیں۔ اللہ رے تمھارا موٹا دیدہ! دلدل میں جا کودیں۔ سچ مچ  دریا کو دیکھ کر آنکھیں پھٹ گئیں یا دیدے پتھرا گئے۔ غرض خوب سی بولیاں ٹھٹولیاں مار کر ان کو نکالا۔لو اب پنکھے کا وقت آیا۔ بادشاہ کو گلابی پوشاک پہنائی اور سب نے سر سے پاؤں تک گلابی کپڑے پہنے۔ جدھر دیکھو گلابی پوش  دکھائی دیتے ہیں۔ دریا کے کنارے گویا گلابی باغ کھل گیا۔ سب سلاطینوں کے گلابی کپڑے، گلابی پگڑیاں، کندھوں پر بندوقیں، گلے میں پرتلے، کمر میں تلواریں ہیں۔ کوئی صوبیدار ، جمعدار، دفعدار، نشان بردار۔ کوئی تاشے باجے والا، کوئی نقیب بن کر اپنی پلٹن جمائے کھڑا ہے۔ اوہو! وہ چاندی کا پنکھا مہتاب باغ میں سے اٹھ کر دھوم سے آیا۔ سلاطینوں کی پلٹن سلامی اتار پنکھے کے آگے ہوئی۔ اس کے پیچھے تاشے باجے اور روشن چوکی والیاں چلیں۔ ان کے پیچھے  ہوا دار میں بادشاہ اور شہزادے۔ شاہزادیاں، سلاطینوں کی بیگماتیں تخت کے اردگرد پنکھے کے ساتھ ساتھ چلیں۔ درگاہ میں جا کے پنکھا چڑھا دیا۔ بادشاہ اپنی بیٹھک میں آئے اور سب اپنے گھر گئے۔

بعون اللّٰہ تعالی رسالہ نذر آصف ختم ہوا۔

صبحِ عشرت کی شام ہوتی ہے
دیکھ لے دل تو اب نظر بھر کر
بزم رونق تمام ہوتی ہے
انجمن اختتام ہوتی ہے

بندہ سید احمد دہلوی، وظیفہ خوار سرکار عالی نظام خلد اللہ ملکہ، ممبر ٹیکسٹ بک کمیٹی پنجاب، المخاطب بہ خان صاحب مؤلف فرہنگ آصفیہ وغیرہ وغیرہ۔

دہلی گلی شاہ تارا

یکم جون  1916؁ء

 

گزارش تازہ

یہ کتاب اول مرتبہ کم تعداد میں طبع ہوئی تھی۔چونکہ ٹیکسٹ بک کمیٹی پنجاب نے 289 جلدوں کی خریداری منظور فرمائی اور اطراف سے بھی بکثرت مانگ آئی۔ لہذا بارِ دیگر بعد از نظر ثانی و اضافہ چھاپ کر مشتہر کی۔فقط۔

بندہ سید احمد

عالم ہمہ افسانۂ مادارد و ما ہیچ

اس ہیچمدان، ہیچ میرز سید احمد دہلوی مؤلف فرہنگ آصفیہ کی نسبت جو ہمارے مخدوم و مکرم، بالغ نظر، صائبِ رائے عالی جناب فضیلت مآب خان بہادر مولوی سید اکبر حسین صاحب اکبرؔ سابق جج الہ آباد حال پنشز نے ایک کارڈ مورخہ 8؍ اکتوبر اور ایک مکرمت نامہ محررہ 11؍ اکتوبر 1915؁ء میں اپنے حسن ظن سے آسمان پر چڑھا دینے والے دو ایک فقرے تحریر فرمائے ہیں۔ وہ ازروئے فخر اس موقع پر ٹکسالی سند سمجھ کر تیمناً و تبرکاً درج رسالہ ہذا کیے جاتے ہیں۔ اور وہ یہ ہیں:

 

الہ آباد۔ 8؍ اکتوبر 1915؁ء

جناب من! اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ آپ بخیر و عافیت ہیں۔ خطیب میں آپ کا مضمون جو نکلا ہے، عقل بھی سکھاتا ہے اور زبان بھی، فقط۔  آپ کا نیاز مند سید اکبر حسین

الہ آباد۔ 11؍ اکتوبر 1915؁ء

مخدومی و مکرمی سلمہ اللہ تعالیٰ۔ اخبار مطلوبہ واپس کرتا ہوں۔ آپ کے مضامین بہت اچھے اور نہایت دانشمندانہ ہیں۔ نہ صرف دانشمندانہ بلکہ رئیسانہ و شریفانہ۔ دلّی کی عزت آپ کے دم سے ہے۔ کم سے کم ان آنکھوں میں جو میرے سر میں ہیں۔

امید ہے کہ آپ صحت و عافیت سے ہوں گے۔ میں اچھا نہیں ہوں۔ موت تو اکثر ناگوار ہی ہوتی ہے۔ لیکن بلحاظِ حالاتِ موجودہ مجھ پر زندگی بار ہے فقط۔ نیاز مند سید اکبر حسین۔

الہ آباد۔ مکرمی میں 12؍ مارچ 1916؁ء سے علیل ہوں۔ اسی سبب سے ارادہ سفر دہلی کا ملتوی ہو گیا۔ اچھا ہو گیا اور موسم زیادہ سخت نہ ہوا تو غالباً حاضر ہوں۔ یہ کتاب بہت مفید ہے۔ یادگارِ زبان و مراسمِ دہلی ہے۔ کون ہے جو اس کی قدر نہ کرے۔ فقط۔ سید اکبر حسین

تقریظ رسالہ نذر آصف

از مبصر زبان اردو، صراف دار الضربِ لسان ریختہ، نثار و انشا پرداز بے مثل، ناظم و شاعر بے بدل منشی میر نثار علی صاحب شہرتؔ جوائنٹ ایڈیٹر رسالہ مخزن لاہور

یہ ایک مختصر رسالہ ہے جسے مرقع زبان و بیان دہلی کہنا چاہیے، ہماری نظر سے گزرا۔ اس کی دلچسپی کے باعث بغیر پڑھے ہاتھ سے چھوڑنے کو جی نہ چاہا:

زفرق تا بقدم ہر کجا کہ می نگرمکرشمہ دامن دل میکشد کہ جا اینجا ست

در حقیقت اگر یہ رسالہ جو حضور نظام کی فیاضی کی بدولت بطور شکریہ چھاپا گیا ہے، نہ لکھا جاتا تو اردو زبان کے متعلق ایک بہت بڑی معلومات رہ جاتی۔ محققان زبان کے واسطے اعلیٰ درجہ کا سرمایہ اور مورّخان اردو کے لیے گہری معلومات کا ذخیرہ ہے۔ صرف زبان ہی کے واسطے نہیں بلکہ اور بھی اس ضمن میں جو کچھ اذکار آ گئے ہیں، وہ بھی یاد کر لینے اور اکثر موقعوں پر حوالہ دینے کے لیے نہایت کار آمد ہیں۔

اس میں مصنف نے سب سے اول 1857؁ء سے پیشتر کی اہل قلعہ اور اہل شہر کی زبان کا فرق بتا کر ذکور و اناث کے خاص الخاص محاورات پر بحث کی ہے۔ بعد ازاں موجودہ زبان اور آئندہ اس کے انقلاب کی صورت سے تقسیم ارشدی دکھائی ہے۔ اس بحث کو ختم کر کے زبان کی تمیز اور اس کا مدعا ظاہر کیا ہے۔ اس کے بعد ایک موقع نکال کر سابق اہل دہلی کی طباعی، ذہن کی رسائی، شریفوں کے شغل، گئی گزری سلطنت کے کھیل تماشے، چلتی بہار یعنی تیمور شاہی  اٹھتے جشن کا دربار، جھروکوں کی زنانہ اور بیگماتی زبان کی آخری جھلک دکھا کر رسالہ کو ختم کر دیا ہے۔ جن لوگوں کو اردو زبان کی لگن، اس کے قیام سے پوری پوری دلبستگی اور حصول معلومات کا تعشق ہے وہ ضرور اسے جان کی برابر لگا کر رکھیں اور آئندہ نسل کے واسطے اپنی اس خاندانی زبان کا ورثہ چھوڑ جائیں۔

شکریہ گورنمنٹ و ارباب اولو الالباب

اس نذر کو حضور وائسرائے، لفٹنٹ گورنر پنجاب صاحب، چیف کمشنر بہادر صوبہ دہلی آنریبل مسٹر طامسن صاحب بہادر ریونیوسکرٹری گورنمنٹ پنجاب کی قبولیت اور وعدہ مطالعہ کا فخر حاصل ہونے کے علاوہ واجب التعظیم بزرگانِ ذیل کی مختصر رایوں کا بھی جو بطور رسید وصول ہوئیں، شرف حاصل ہوا ہے۔ مگر گورنمنٹ پنجاب کا دو سو نواسی (289) رسالوں کی خریداری فرمانا شکریہ بالائے شکریہ بجا لانے کا مستحق ہے۔

تازہ خلاصہ آرائے بزرگانِ ہند

نقل نامی گرامی علامہ فہامی عالیجناب نواب حاجی محمد اسحاق خان صاحب بہادر آنریری سکرٹری محمڈن کالج علی گڈھ صدر دفتر تکمیل مسلم یونیورسٹی خط نمبر449٠، مورخہ 4؍ مارچ ١٩١٦؁ء

مخدوم و مکرم بندہ جناب خان صاحب مولوی سید احمد صاحب دہلوی سلامت۔ سلام مسنون!

آپ کا گرامی عطیہ رسالہ نذر آصف یعنی مرقع زبان وبیان دہلی پہنچا۔ جس کے مطالعہ سے بہت ہی محظوظ ہوا۔ یہ نہایت مشکل ہے کہ اس  رسالہ کو کوئی دیکھنا شروع کرے اور بغیر ختم کیے چھوڑے۔ اس رسالہ کے ذریعہ سے زبان اردو کی جو آپ نے قابل قدر خدمت کی ہے اور جس شیریں بیانی کے ساتھ کی ہے، اس کی داد  تو زبان داں لوگ ہی آپ کو دے سکیں گے ۔ میں تو صرف آپ کا شکریہ ادا کر سکتا ہوں کہ آپ نے توجہ فرما کر مجھے اپنے حسن بیان سے مستفیض ہونے کا موقع عنایت  فرمایا۔ والسلام فقط

خاکسار محمد اسحاق خان عفی عنہ آنریری سیکرٹری محمڈن کالج

نقل خط عالی جناب خلیفہ عماد الدین صاحب بی اے انسپکٹر مدارس حلقہ راولپنڈی

راولپنڈی 10؍ مارچ 1916؁ء

مخدوم و مکرم جناب خانصاحب زاد لطفہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ

یاد آوری کا شکریہ۔ مرقع  زبان وبیان دہلی مجھے گزشتہ ہفتہ موصول ہوا تھا۔ واقعی یہ آپ کا ہی حصہ ہے کہ جس مضمون کو آپ لیتے ہیں، اسے اس خوبی سے نباہتے ہیں کہ دیکھنے والا حیران رہ جاتا ہے۔ باتیں تو پرانی ہیں، مگر انداز نیا ہے اور آپ نے انھیں کتاب کی صورت میں جمع کرکے دنیا کے صفحہ سے مٹ جانے سے بچالیا ہے، جزاک اللہ ۔ والسلام فقط۔ خلیفہ عماد الدین عفی عنہ

نقل خط عالی جناب مولوی سید غلام بھیک صاحب نیرنگ گورنمنٹ ایڈوکیٹ انبالہ 24؍ فروری  1916؁ء

مکرم و محترم حضرت مولانا دامت برکاتکم۔ بعد تسلیمات مسنونہ گزارش ہے تحفہ گراں قدر یعنی نسخہ نذر آصف مرسلہ آں مخدوم باعث صد فخر و ناز ہوا۔ واقعی یہ گرانمایہ ہدیہ ایسے عالی جاہ ولی نعمت کے پیشکش کرنے کی قابل ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو تادیر سلامت رکھے۔ آپ کی ذات سے جو خدمات زبان اردو کی ہوئی ہیں وہ ہمیشہ زبان کی تاریخ میں یادگار رہیں گی ۔ دہلی اور اہل دہلی کے لیے آپ کا وجود سرمایہ ناز ہے۔ زیادہ نیاز۔  فقط۔

راقم  بندہ غلام بھیک نیرنگ وکیل از شہر انبالا

نقل خط عالی جناب خلیفہ سید حامد حسین صاحب وزیر مال ریاست پٹیالہ

جناب مولوی سید احمد صاحب۔ تسلیم

رسالہ نذر آصف یعنی مرقع زبان و بیان دہلی اور آپ کے عنایت نامہ کا شکریہ عرض کرتا ہوں۔ یہ رسالہ میں نے نہایت دلچسپی سے پڑھا۔ خدا آپ کو اس تصنیفات کے لیے جو سوائے آپ کے اب کسی کے قلم سے نہیں نکل سکتیں اور زبان اُردو کے عہد زریں کی یادگار قائم رکھنے کے لیے تادیر زندہ و سلامت رکھے۔ زیادہ نیاز

خاکسار سید حامد حسین پٹیالہ 6 مئی ١٩١٦؁ء

نقل کارڈ عالی جناب منشی درگا پرشاد صاحب نادرؔ گورنمنٹ پنشنر سابق ہیڈ ایگزیمز گورنمنٹ بک ڈپو پنجاب، مؤلف تذکرہ شعرائے دکن، تذکرة النساء، رسالہ قوافی، نکات الحساب وغیرہ وغیرہ۔ 5 مارچ 1916؁ء

مشفقا! آپ کا عطیہ مرقع زبان و بیان دہلی میرے پاس آیا۔ اول سے آخر تک ایک دفعہ بنظر سرسری دیکھا۔ شاہی زمانہ جو دیکھا بھالا تھا، آنکھوں کے آگے ہو بہو دکھائی دے گیا۔ سبحان اللہ کیا کہنا ہے۔ اس کام کے لائق تمھیں ہو جو اس قدر لکھ دیا۔ ورنہ اب کون ان باتوں کو جانتا ہے۔ خیر یہ بھی آپ کی ایک عمدہ یادگار رہے گی۔ فقط

درگا پرشاد نادرؔ

رسید بطور ریویو نگاشتہ قلم صداقت رقم جناب مولوی عبد الحق صاحب بی اے سکرٹری  انجمن ترقی اردو، انسپکٹر مدارس اورنگ آباد، علاقہ حیدرآباد دکن۔ کیمپ سوجنی 5 اپریل 1916؁ء

مخدومِ بندہ تسلیم۔ آپ کا رسالہ نذر آصف یعنی مرقع زبان و بیان دہلی وصول ہوا جس کا تہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آپ نے اس میں زبان کے متعلق جو نکات بیان فرمائے ہیں وہ آپ ہی کا حصہ ہے۔ یہ باتیں بس آپ ہی کے دم تک ہیں۔ خدا آپ کی عمر و ہمت میں برکت دے۔

نیازمند عبد الحق بی۔اے

خلاصہ تقریظ از رسالہ مخزن بابت اپریل 1916؁ء

رسالہ نذر آصف یعنی مرقع زبان و بیان دہلی

اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالی نے ہمارے دوست (خان صاحب) سید احمد صاحب مصنف فرہنگ آصفیہ و ارمغان دہلی وغیرہ وغیرہ کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ زبان اردو کو نہ فقط زندہ کریں، بلکہ اس کو بنا سنوار کر زبانوں کی مجلس میں لابٹھا دیں۔ایک ایسی حالت میں جبکہ بے کس اردو کا کوئی والی وارث نہیں رہا تھا۔ آپ نے اول ایک ضخیم کتاب ارمغان دہلی لکھی:

لغاتِ ارمغاں لکھتے ہی اردو ہوگئی زندہیہ سید کی بزرگی کا اثر ہے جو رہی زندہ

جس میں اردو کے لغات اور محاوروں اور ضرب المثلوں کا خزانہ بھردیا ہے۔ اس وقت چونکہ اردو کی لغات عمدہ طور پر لکھی نہ  گئی تھی۔آپ کی کتاب مذکور دیکھ کر زبان دانِ تعلیم یافتہ باغ باغ ہوگئے اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس کتاب سے اردو کی جان میں جان آگئی تھی ۔یا تو بے سری اردو تھی یا اب مستقل اردو قرار پا گئی۔ اردو کے جس لفظ کے معنی دیکھنے کا جس نے ارادہ کیا، لغت سے دیکھ کر اپنی تسلی کر لی اور دوسری زبانوں نے جان لیا کہ اردو کی لغات تیار ہونے لگی ۔یہ بھاگنے والی اور فنا ہونے والی نہیں ہے۔ ہم نے مدتوں  امید لگائی کہ صاحب موصوف کی طرح کوئی اور صاحب بھی اس مشن میں حصہ لیں۔ لیکن کسی کو کیا پروا تھی، سب  اپنے دھندوں میں لگے رہے اور کسی نے آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا کہ بیچاری اردو، کم عمر اردو،بے کس اردو پر کیا بیت رہی ہے ۔کیونکہ یہ دہلی  کے  قلعہ معلیٰ میں پلی تھی۔ اب اس کو پالنے والا کوئی نہ رہا تھا۔

ہم نے نج کے طور پر ان دنوں دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ صاحب موصوف برابر اپنے خیال  میں لگے ہوئے ہیں اور اردو کی بابت  تصنیف جاری ہے۔ آپ نے انھی دنوں میں ایک عورتوں کی زبان کا اخبار جاری کیا تھا جس کو دیکھ کر زبانداں ششدر ہو گئے تھے۔ اس لیے کہ اُس میں فصیح اردو کے دریا بہائے جاتے تھے۔ پھر آپ نے اپنی عمر کا بڑا حصہ خرچ کرکے فرہنگ آصفیہ ایک ضخیم کتاب لکھی جس کی کئی جلدیں ہیں۔ ان میں اردو کے نکات ایسے لکھے گئے ہیں کہ اگر کوئی ان کو  بالالتزام دیکھے، تو وہ نامی زبان داں ہو سکتا ہے۔ چونکہ اردو زبان میں سررشتہ تعلیم کی کتابیں ہیں۔ان کی تحقیق الفاظی اس فرہنگ سے ہو رہی ہے۔اس کے علاوہ کروڑوں آدمی اردو بولتے ہیں اور ہزاروں آدمی اس زبان میں کتابیں لکھتے ہیں۔ ان کے لیے یہی فرہنگ آصفیہ    خضر و استاد ہے۔ ہم نے اس کتاب کو دیکھا ہے۔ آپ نے بڑی تحقیق کے ساتھ لکھی ہے اور حضرت مولانا حالی مرحوم نے بھی آپ کی اس تحقیق کی داد دی ہے۔ غرضیکہ جو کام بڑے بڑے نامی شعرا سے نہ ہو سکا، وہ آپ نے انجام دیا۔ پس تعلیم یافتوں  بلکہ سب کے نزدیک آپ ہی اردو کے لیڈر ہیں:

تم نے دیکھا ہی نہیں تم میں جو دیکھا ہم نےاجی  ہم تم کو بھی اب تم سے چھپا رکھتے ہیں

ہم دیکھتے ہیں کہ دن بدن زبان اردو بگڑتی جاتی ہے۔ تعلیم یافتوں کو چاہیے کہ آپ نے اس ضخیم کتاب میں جو لاکھوں لفظ لکھے ہیں، وہ مستند ہیں۔ وہ اور طرف توجہ نہ کریں، کیونکہ آپ نے سند کے طور پر یہ لکھے ہیں۔ اگر تعلیم یافتہ اور پبلک ہماری نصیحت پر عمل کرے تو پھر کبھی اردو زبان بگڑ نہیں سکتی اور یہ دیدہ کی دلیری لوگوں کی ہے کہ اس لغت کے خلاف لغت گھڑنے لگے ہیں جو بالکل غلط اور غیر فصیح ہیں۔

اس عظیم الشان کام کے بعد بھی آپ خالی نہیں بیٹھتے۔ ایک کتاب “مرقع زبان و بیان دہلی” لکھی ہے جو اس وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اگرچہ ہم زبان دان مشہور ہیں، لیکن اس میں چند محاورے اور لغات فصیح و  افصح ایسے دیکھے گئے جو ہم بھول گئے تھے۔ اور ہم ثابت کر دیں گے کہ اس کتاب میں جن امور پر زبان اردو کے متعلق بحث کی ہے، ہر زبان داں اور ہر تعلیم یافتہ اور تمام ملک کے لوگوں کا فرض ہے کہ اس کتاب کو دیکھیں اور فائدہ اٹھائیں۔ لائق  مصنف نے اول سابقہ فصیح اردوئے دہلی کا فوٹو کھینچا ہے اور اب جو اردو کی گت بن رہی ہے اور آئندہ جو بننے والی ہے اس کا اظہار زور شور کے ساتھ کیا ہے۔ شروع شروع میں جو فصیح محاورے اور قلعہ معلیٰ کی خاتونان کی گفتگوئیں  لکھی ہیں، وہ دیکھنے کیا یاد رکھنے کے قابل ہیں۔ ہما را دل چاہتا ہے کہ عورتوں کی اصطلاحیں اور الفاظ جو آپ نے لکھے ہیں، ان میں سے چند کی نقل ذیل میں درج کریں (اصل کتاب میں دیکھو)۔

آگے چل کر آپ نے زبان اردو کے متعلق بہت سے نادر حالات ارقام فرمائے ہیں جو دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں اور بادشاہوں کے زمانے میں جو یہ اردو پل کر پروان چڑھی،اس کے حالات بھی تحریر ہیں۔ بعد میں اردو جو بگڑ رہی ہے، اس کے حالات سے مطلع کیا ہے۔ ہمارے دوست مرزا عبدالغنی صاحب ارشدؔ نے آپ کی تصانیف پر تقریظ لکھی تھی،اس کا خلاصہ آپ نے درج فرمایا ہے جس کا لکھنا ہم کو بھی ضروری ہے اور جس سے اردو اور اس کی آئندہ حالت کا پتہ لگتا ہے (یہ بھی سارا اس رسالے میں موجود ہے۔ نقل کی ضرورت نہیں)۔ ہم نے چند مقامات کی نقل اس بے نظیر تصنیف کی کر دی ہے جس سے لائق  لوگوں کو پتہ لگ گیا ہوگا کہ کیسی بے نظیر تصنیف ہے۔ ہیڈ ماسٹروں، مدرسوں  کے ٹیچروں اور شاعروں اور دیگر اہل زبان کو اس کتاب کا بطور سند اپنے پاس رکھنا ضروری ہے۔ کیونکہ اس سے زبانِ نفیس، زبانِ فصیح آتی ہے۔ باوجود ان خوبیوں کے اس کی قیمت فی جلد 9؍ علاوہ محصول ڈاک ہے۔ فقط

اسسٹنٹ اڈیٹر رسالہ مخزن

تمام شد

١۔ ١٧٩٤؁ء سے اس کالج کی بنیاد سمجھی جاتی ہےمگر اس وقت صرف عربی، فارسی، دیسی طریق پر اجمیری دروازہ کے باہر پڑھائی جاتی تھی۔ لیکن 1829؁ء سے گورنمنٹ کالج بن کر انگریزی تعلیم بھی شروع ہو گئی۔ مسٹر ٹیلر پرمٹ کے کلکٹر نے اسے سرکاری کالج بنوا دیا جن کے فرزند مسٹر بٹلر، کاربل صاحب پرنسپل کے بعد اس عہدہ پر مقرر ہوئے اور غدر  57؁ء میں کسی حق نا شناس ماتحت کی کج ادائی سے مارے گئے جس سے یہ کالج برباد ہو گیا اور آخر کار وہ حق نا شناس اپنے کیے کے پاس بیٹھا۔ (سید احمد)

٢۔ گارساں دتاسی مراد ہیں۔ (Yethrosh)

[1]۔ دھول دھپّے کی اردو

[2]۔ روزانہ پیسہ اخبار مطبوعہ 23؍ اپریل 1915؁ء میں درج ہے کہ نیو شیل کے متعلق وہاں کے آمدہ سپاہیوں میں سے ایک زندہ دل سپاہی نے اپنی نج کی چٹھی میں یہ پھڑکا دینے والی دلچسپ خبر لکھی ہے کہ جس وقت ہم لوگ جرمن خندقوں میں بے جگری سے بے دھڑک داخل ہوئے تو جرمنوں نے اپنی بندوقیں ہمارے آگے ڈال دیں اور ہاتھ جوڑ کر رام رام کرنے لگے۔ اتنے میں انگریزی سپاہی آ دھمکے اور انھیں قید کر کے صدر چھاؤنی میں لے گئے۔ ان میں سے کسی برطانی افسر نے مسلمان سپاہی سے پوچھا کہ جرمن لوگ گرفتاری کے موقع پر تم سے رام رام کیوں کرتے ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ یہ لوگ لفظ رام رام کا ٹھیک مفہوم نہیں سمجھتے۔ ان کا خیال ہے کہ ہندوستانی سپاہی اپنے ملک کے اس لفظ کو سن کر ہماری جان بچا دیں گے، اس سبب سے جب ہمارے ملک کے سپاہیوں کو دیکھتے ہیں تو رام رام کی توبہ دھاڑ مچاتے ہیں، جن سے ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہمیں جان سے نہ مارو ۔ ہم ہاہا کھاتے، منہ میں تنکا لیتے اور تمھاری سرن میں آتے ہیں۔ اب ہماری جان بخشی تمھارے ہاتھ ہے۔

لو اب ہم سے از روئے لغت و اصطلاح اس کے معنی سنو۔ اگر چہ یہ لفظ کثیر المعانی ہے مگر یہاں جن جن معانی سے تعلق ہے ہم صرف انھیں کو دکھاتے ہیں۔ لفظ رام رام عام طور پر “باہمی سلام” اور کبھی کبھی صاحب سلامت کے معنی میں آتا ہے مگر اس جگہ توبہ توبہ کے معنی ہیں اور رام دُہائی کا ثبوت دیتا ہے۔ رحم دلانے کے موقع پر اکثر بولا جاتا ہے، یعنی اس رحیم کریم کا خیال کر کے اور اپنے شہنشاہ کا واسطہ مان کر ہمارے اوپر دَیا کرو۔ دیاونت بنو۔ جیسا تمھارا بادشاہ رحم دل اور بے کسوں کا ہمدرد ہے، تم بھی اس وقت ویسے ہی خدا ترس اور درد مند بن جاؤ۔ چونکہ مسلمان سپاہی ہندی اور فارسی زبان سے پورا واقف نہ تھا اور جرمن لوگ فارسی کیا ہندی نیز سنسکرت تک سے خواہ تجارت کے باعث، خواہ علمی مذاق کے سبب کچھ نہ کچھ واقفیت رکھتے ہیں۔ اس (بقیہ حاشیہ صفحہ ١٤) وجہ سے فارسی اور ہندی دونوں زبانوں کے معنی اس سے پوری پوری مناسبت ظاہر کرتے ہیں۔ ہندی کے معنی ہم اوپر بیان کر چکے ہیں۔ اب ذرا فارسی کے معنی سے جو لگاؤ ہے اسے بھی ملاحظہ فرمائیے۔ فارسی زبان میں لفظ رام کے معنی مطیع ، حکم بردار، تابعدار، فرمانبردار اور اطاعت پذیر ہیں، یعنی  ہم آپ کی اطاعت قبول کرتے ہیں ایسی صورت میں کہ ہم بے دست و پا کے برابر ہیں۔ ہمارے اوپر آپ جیسے بہادروں کو رحم کرنا چاہیے۔ ہم آپ کی غلامی میں آگئے۔ ہماری جان بخشی اب آپ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ آپ ماریں یا جِلائیں ہم تو اب آپ کے ہو لیے۔ رام رام کی تکرار یعنی مکرر آنے سے اطاعت پر اور زور پڑ گیا۔ یعنی غلام در غلام، مطیع در مطیع ہیں۔ ہمارے نزدیک اس رام رام کے جواب میں ان مردہ دلوں کے واسطے رام رام ست ہے کہہ دینا زیادہ موزوں تھا۔ جائے شکر ہے کہ ہماری انگریزی افواج کے گرفتاروں کی زبان سے حالت اسیری میں بھی اپنی جان بچانے کے واسطے ایسے عاجزانہ کلمے سرزد نہیں ہوئے۔ کجا کہ گڑگڑانا اور ہاہا کھانا۔ ہماری فوج کا اس شعر پر عمل رہا ہے:

مردوں کا نہیں کام ہے آزار سے مرنابیروں(1) کی بڑی شان ہے تلوار سے مرنا

 

1۔ بہادروں، سور بیروں۔

٥۔ عربی  ہے

٦۔ ہندی ہے

٧۔ ترکی ہے

٨۔ انگریزی ہے

٩۔ بیگماتی ہندی ہے

١٠۔ صفاتی ہندی ہے جس کے معنی ذائقہ لینے والا عضو ہیں

١١۔ اس کی بڑی بھاری بحث ہم اپنے رسالہ “محاکمہ مرکزِ اردو” میں چھاپ چکے ہیں۔ (سید احمد دہلوی)

١٢۔ یہاں ٹوپی والے نادر شاہی سرخ کلاہ پوش سفاک قزلباش سپاہیوں سے تشبیہ دی ہے۔

١٣۔ یہ کھیل کٹار نما ٹیڑھی چھریوں سے بیٹھ کر یا لیٹ کر کھیلا جاتا ہے۔ بانک کھیلنے کے ہتھیار خنجر، کٹار، چھری، کھوکری، بُجالی وغیرہ تھے۔

١٤۔ جس میں پھری اور ڈھال وغیرہ سے کام نہیں لیا جاتا۔ اس لیے اس کا نام بِن اوٹ رکھا گیا تھا جس کا الف گر کر بنوٹ ہو گیا۔

١٥۔ فن چوب بازی، پٹا بازی،لکڑی بازی یہ کھیل پھری گنگوں سے کھیلے جاتے ہیں۔

١٦۔ بیدانہ جامن، رائے جامن، بھدّو دان جامن، گلاب جامن اس کی قسمیں ہیں۔

١٧۔ صحیح رنگترہ جسے حرف گاف گرا کر رنترہ کر لیا ہے۔

١٨۔ یہ غدر سے دو مہینے پیشتر ایک فقیر صدا لگاتا ہوا آیا تھا اور غدر کے ہو جانے اور اب دار السلطنت بن جانے سے یہ پیشین گوئی سچ ہو گئی۔

١٩۔ بگھیلا ایک مخلوط النسل درندے کا نام ہے جسے فارسی میں پلنگ، ہندی میں لکڑ بھگاّ، باگھ اور تیندوا کہتے ہیں۔ یہ کتوں کو پکڑ کر لے جاتا ہے اور انھیں اپنا کھاجا بناتا ہے۔ اسی وجہ سے اس کا جبڑا سگ گزیدہ کے واسطے اکسیر کا حکم رکھتا ہے اور ہمارا بذات خود آزمودہ ہے۔

نسخہ سگ گزیدہ: مثالاً ایک تازہ نظیر دیتے ہیں۔ ہمارے کاتب کے نوجوان ہونہار لڑکے کو باؤلے کتّے نے کاٹ کھایا۔ وہ اسے کسولی لے گیا، وہاں سے آکر برس روز تک اچھا رہا ۔ برس روز کے بعد پھر ہڑک اٹھی، اس نے کسولی کے اسپتال کو پھر لکھا۔ وہاں سے جواب آیا کہ جگہ خالی نہیں ہے۔ لڑکے نے کھانا پینا چھوڑ دیا۔ پانی سے ڈرنے اور سگ گزیدہ کی سی حرکتیں کرنے لگا۔ وہ غریب اس پریشانی کے سبب غیر حاضر ہو گیا۔ جب دریافت کیا تو یہ سبب بتایا۔ ہم نے کہا کہ خدا کے حکم سے آج ہی اچھا بچھا ہو جائے تو کتنے بھوکوں کو کھانا کھلاؤگے۔ اس نے جواب دیا کہ اپنی توفیق سے زیادہ یتیموں اور مسکینوں کو کھلاؤں گا۔پسں ہم نے پتا بتا کر اس سے تیندوے کا جبڑا منگوایا۔ جب لے آیا تو کہا کہ اس کے دانت گھس گھس کر تین چار مرتبہ پلاؤ اور مقدار میں چائے کا ایک ایک چمچہ کافی ہے۔ وہ خوش اعتقاد اپنے گھر گیا اور یہی عمل کیا۔ خدا کی عنایت سے دو ہی دفعہ پلانے میں اس نے پانی سے ڈرنا اور اس کا نہ پینا چھوڑ دیا۔ بلکہ غٹ غٹ کر کے پی گیا۔ دوسرے روز پانی سے نہلا دیا اور اس کا باپ اس تندرست کو اپنے ساتھ لکھنؤ لے گیا۔ سید ظہور الحسن صاحب اس کے باپ کا نام ہے۔ اب کتابوں کی تجارت کرتے ہیں۔ غالباً مولوی عبد الحلیم صاحب شرر بھی اس واقعہ سے بخوبی واقف ہوں گے۔ کیونکہ انھیں دنوں میں ان کے ایک مولوی دوست جو سید ظہور الحسن صاحب کے بھائی ہیں، اس جگہ موجود تھے۔ خدا کے فضل سے لڑکا زندہ سلامت اسکول میں پڑھ رہا ہے۔ یہ نسخہ خیر خواہان و دعا گویانِ حضور نظام خلد اللہ اور ملکہ کے واسطے عام خلائق کی نذر کیا جاتا ہے۔ جن کو آرام ہو وہ حضور کی دوام سلطنت و قیام عمر و دولت کے واسطے دعا مانگیں۔ اگر خطا کرے تو ہم ذمہ دار ہیں۔(سید احمد)

٢٠۔ ساتھ کبوتر بازوں کی اصطلاح میں کبوتروں کی ٹکڑی کو کہتے ہیں۔

٢١۔ کبوتر بازوں کی اصطلاح میں پٹیت اس کبوتر کو کہتے ہیں جس کے گلے میں طوق اور باقی رنگ یکساں ہوتا ہے۔

٢٢۔ بھڑیاں وہ ہیں کہ کبوتروں کو “کو” کہہ کر اڑایا اور فوراً “آ” کہہ کر بٹھا لیا۔

٢٣۔ تاوا وہ  ہے کہ ٹکڑی کو ہنکایا اور ٹکڑی نے اپنے مکان کا چکر لگا کر آگے بڑھنا چاہا مگر کھلاڑی نے اسی جگہ سے بلا لیا۔

٢٤۔ ساتھ کو دور تک جانے دینا اور پھر بلا لینا۔

٢٥۔ زفیلنا بمعنی سیٹی دینا، سیٹی بجانا ہے۔ زفیل عربی میں زفیر تھا۔ فارسی میں سپیل جس کا معرب صفیر ہو گیا۔ اردو والوں نے زفیر کو زفیل کر لیا۔

٢٦۔ ایران کے ایک شہر کا نام جہاں کے اولیاء اللہ مشہور ہیں۔ چنانچہ شمس الدین سبزوار جن کا مزار ملتان میں ہے، وہیں کے رہنے والے ہیں۔ محمد عماد حسن بن سلطان علی سبزواری نے ہی  1014؁ھ   میں حضرت امیر خسرو کے مزار مبارک کا گنبد تعمیر کرایا تھا۔

٢٧۔ بادشاہ کا تکیہ کلام جیسے میاں یا پیارے وغیرہ اولاد کو کہہ کر بات چیت کرتے ہیں۔ بادشاہ امّا کہہ کے خطاب کیا کرتے تھے۔ در اصل ارے میاں کا مخفف ہے۔ سید احمد

٢٨۔ ان کی عالی شان کوٹھی طامس صاحب کی کوٹھی کے نام سے مشہور تھی، مگر اب مٹکاف ہوس کہتے ہیں۔

٢٩۔ بعض لوگ اس کو الور کا بتاتے ہیں۔

٣٠۔ گیو بہ یائے مجہول گودرز ایرانی پہلوان کے بیٹے کا نام ہے جو خود بڑا پہلوان تھا۔

٣١۔ دلاور، پہلوان۔

٣٢۔ یعنی بُھنگا

ختم شد

یہ کتاب اردو گاہ اور مجلسِ برقی اشاعتِ ادبیاتِ عالیہ کے تعاون سے پیش کی گئی ہے۔
یہ کتاب اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ