مری جاں چاہنے والا بڑی مشکل سے ملتا ہے

تحت اللفظ

ملاتے ہو اسی کو خاک میں جو دل سے ملتا ہے
مری جاں چاہنے والا بڑی مشکل سے ملتا ہے

کہیں ہے عید کی شادی کہیں ماتم ہے مقتل میں
کوئی قاتل سے ملتا ہے کوئی بسمل سے ملتا ہے

پسِ پردہ بھی لیلیٰ ہاتھ رکھ لیتی ہے آنکھوں پر
غبارِ ناتوانِ قیس جب محمل سے ملتا ہے

بھرے ہیں تجھ میں وہ لاکھوں ہنر اے مجمعِ خوبی
ملاقاتی ترا گویا بھری محفل سے ملتا ہے

مجھے آتا ہے کیا کیا رشک وقتِ ذبح اس سے بھی
گلا جس دم لپٹ کر خنجرِ قاتل سے ملتا ہے

بظاہر با ادب یوں حضرتِ ناصح سے ملتا ہوں
مریدِ خاص جیسے مرشدِ کامل سے ملتا ہے

مثالِ گنجِ قاروں اہلِ حاجت سے نہیں چھپتا
جو ہوتا ہے سخی خود ڈھونڈ کر سائل سے ملتا ہے

جواب اس بات کا اس شوخ کو کیا دے سکے کوئی
جو دل لے کر کہے کم بخت تو کس دل سے ملتا ہے

چھپائے سے کوئی چھپتی ہے اپنے دل کی بیتابی
کہ ہر تارِ نفس اپنا رگِ بسمل سے ملتا ہے

عدم کی جو حقیقت ہے وہ پوچھو اہلِ ہستی سے
مسافر کو تو منزل کا پتا منزل سے ملتا ہے

غضب ہے داغؔ کے دل سے تمھارا دل نہیں ملتا
تمھارا چاند سا چہرہ مہِ کامل سے ملتا ہے

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!