ڈھونڈنے اس کو چلا ہوں جسے پا بھی نہ سکوں

تحت اللفظ

اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں
ڈھونڈنے اس کو چلا ہوں جسے پا بھی نہ سکوں

ڈال کے خاک مرے خون پہ قاتل نے کہا
کچھ یہ مہندی نہیں میری کہ چھپا بھی نہ سکوں

ضبط کمبخت نے یاں آ کے گلا گھونٹا ہے
کہ اسے حال سناؤں تو سنا بھی نہ سکوں

نقشِ پا دیکھ تو لوں لاکھ کروں گا سجدے
سر مرا عرش نہیں ہے جو جھکا بھی نہ سکوں

بے وفا لکھتے ہیں وہ اپنے قلم سے مجھ کو
یہ وہ قسمت کا لکھا ہے جو مٹا بھی نہ سکوں

اس طرح سوئے ہیں سر رکھ کے مرے زانو پر
اپنی سوئی ہوئی قسمت کو جگا بھی نہ سکوں

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!