پہنچ سکا نہ مری گرد کو گمان مرا

پہنچ سکا نہ مری گرد کو گمان مرا
خود اپنی سوچ سے آگے ہے کاروان مرا

ہوا تو ایک ہوا دشمن آسمان مرا
کسے پڑی ہے کہ لے ورنہ امتحان مرا

ادھر درازئ گیسو ادھر بیان مرا
سنو کوئی کہ فسانہ ہے داستان مرا

شمار کر کے ذرا اپنی دھڑکنیں دیکھو
تمھارے پاس بھی ہے ایک ترجمان مرا

مری اڑائی ہوئی دھول بیٹھنے کی نہیں
زمانے ڈھونڈتے رہ جائیں گے نشان مرا

سنا ہے گھر پہ کوئی ملنے والے آئے تھے
مکان بھول گئے ہوں گے مہربان مرا

مجھے یہ خدشہ کہ وہ داستاں سنیں نہ سنیں
انھیں یہ ڈر کہ نہ ہو ذکر درمیان مرا

کہوں تو کہہ نہ سکوں چپ رہوں تو رہ نہ سکوں
غزل زبان مری عشق بےزبان مرا

لبوں کے قفل میں راحیلؔ ہے قیامت بند
سہار پائیں گے محشر نہ دو جہان مرا

راحیلؔ فاروق

راحیلؔ فاروق

راحیلؔ فاروق پاکستانی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر ہیں۔

فہرستِ کلام
یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

آپ کیا فرماتے ہیں بیچ اس مراسلے کے؟