نہ سنائیے غمِ دل کہ غم آشنا ہے کوئی

اردو شاعری

نہ سنائیے غمِ دل کہ غم آشنا ہے کوئی
ابھی لب ہلے نہیں ہیں کہ تڑپ اٹھا ہے کوئی

مرے بولنے سے پہلے مجھے جانتا ہے کوئی
ابھی بات کی نہیں ہے کہ سمجھ گیا ہے کوئی

نہ سکوت ہے نہ نغمہ نہ سخن سرا ہے کوئی
مری دھڑکنوں کی دھن میں مجھے سن رہا ہے کوئی

اسے زندگی نہ سمجھو یہ فسانہ سا ہے کوئی
کہیں ہنس پڑا ہے کوئی کہیں رو دیا ہے کوئی

کبھی پا کے کھو دیا ہے مجھے بےنیازیوں نے
کبھی کھو کے دوسروں میں مجھے ڈھونڈتا ہے کوئی

مجھے روکیے نہ یا شیخ مجھے مسجدوں سے کیا کام
مجھے یہ خبر ملی تھی کہ یہاں خدا ہے کوئی

وہی ایک سب کا وارث وہی ایک سب کا والی
نہ کسی کو ہم ملے ہیں نہ ہمیں ملا ہے کوئی

سبھی راہ کے ہیں رشتے سبھی رابطے سفر کے
تری بزم میں پہنچ کے کسے پوچھتا ہے کوئی

میں چھپا رہا ہوں جو کچھ میں بتا رہا ہوں جو کچھ
نہ چھپا سکا ہے کوئی نہ بتا سکا ہے کوئی

متشککانہ دیکھا وہ جہاں بھی میں نے راحیلؔ
کہ جہاں نہ میں کوئی ہوں نہ مرے سوا ہے کوئی

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ