تم جو کہو مناسب، تم جو بتاؤ سو ہو

20 جنوری 2017 ء

تم جو کہو مناسب، تم جو بتاؤ سو ہو
اب عشق ہو گیا ہے، میری بلا سے جو ہو

سنتے تھے عاشقی میں خطرہ ہے جان کا بھی
نیت ملاحظہ ہو، ہم نے کہا "چلو، ہو!”

نازک تھا آبگینہ پر کھیل کھیل ہی میں
چوٹ ایسی پڑ گئی ہے پتھر تڑخ کے دو ہو

ڈھے جائے گی کسی دن دل کی عمارت آخر
کچھ گھر پہ بھی توجہ، اے گھر کے باسیو! ہو

مدت کے بعد ان سے باتیں ہوئیں بھی تو کیا
ہم بے وفا تھے؟ اچھا! تم با وفا تھے؟ اوہو!

کوچے میں جو بظاہر فریاد ہے گدا کی
شاید وہ سب سنانا مقصود آپ کو ہو

کرتے ہیں بات اس سے، کہتے ہیں حال تیرا
ٹک دم چھری تلے لے، راحیلؔ! صبح تو ہو

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!